وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے جموریت کے نام پر برسر اقتدار آنے والے حکمرانوں کا عوام سے احتجاج کا آئینی حق چھیننا اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے۔پاکستانی قوم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ پاکستان میں جمہوری نظام ہے یا کہ شخصی آمریت کے بل بوتے پر اقتدار پر قابض رہنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں سعودی بادشاہت سے متاثر ہیں اور پاکستان میں بھی اسی طرز حکمرانی کے خواہاں ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں پُرامن احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے پورے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دینا سیاسی بصیرت سے عاری اقدام ہے۔ملک کے مختلف شہروں میں پُرامن شہریوں پر آنسو گیس کا استعمال اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں نہ صرف جمہوری اقدار کی پامالی ہے بلکہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون و انصاف کی بجائے طاقت کی حکمرانی کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عوام اور اداروں کو ایک دوسرے کے مدمقابل لا کر ایک طرف عوام کے بنیادی حقوق کو سلب کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اداروں کی ساکھ بھی تباہ کی جا رہی ہے۔۔وطن عزیز کو سالمیت و بقا کے لیے ایسے حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے جو قومی خزانے کی لوٹ مار سمیت وطن عزیز کے مفادات کے منافی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔حقیقی جمہوریت کی پاسداری اور کرپشن کے خاتمے کے لیے تمام محب وطن سیاسی قوتوں کو مشترکہ طور پر میدان عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔جب تک ذاتی مفادات پر ملک و قوم کو ترجیح نہیں دی جائے گی تب تک ملک اسی طرح بحرانوں کا شکار رہے گا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری سید ناصر شیرازی نے کہا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں جائز مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج جماعتوں اور کارکنان کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ اسے روکنے کے لیے اختیارات کو طاقت کے طور پراستعمال کرنا غیر آئینی اور جمہوری روایات کے منافی ہے۔حکومتی اداروں اور عوام میں تصادم کی راہ ہموار کر کے اداروں کے احترام کو پامال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پانامہ لیکس کے حوالے سے اپنے آپ کو شفاف احتساب کے لیے پیش کر دیتی ہے تو آج اسے اس طرح کے بحرانوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔حکمرانوں کی غیردانشمندانہ حکمت عملی اور ناکام پالیسیوں کے نتائج آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔امور خارجہ عدم دلچسپی کا شکار ہیں۔پڑوسی ممالک سے ہمارے تعلقات بہتر ہونے کی بجائے خرابی کی طرف چل نکلے ہیں اورپاکستانی سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔حکمرانوں کی تمام تر توجہ ذاتی مفادات کی تکمیل اور انتقامی سیاست پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔اسی صورتحال نے پوری قوم کو سڑکوں کی طرف آنے پر مجبور کر دیا ہے۔حکومت کے پاس ابھی بھی وقت ہے۔پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا واحد رستہ جمہوری اقدار کی بالادستی ہے۔ معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ تیسری قوت کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کرنی پڑے۔پرویز رشید سے وزارت اطلاعات کا قلمدان واپس لیے جانے کا فیصلہ خوش آئندہے لیکن جب تک مذکورہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی اور قوم کوحقائق سے آگاہ نہیں کیا جاتاتب تک اس فیصلے کو ادھورا اورغیر تسلی بخش سمجھا جائے گا۔ا

انہوں نے عوامی مسلم لیگ کے کارکنوں اورتحریک انصاف کی خواتین پر تشدد اور ہراساں کیے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کے نام پر جمہوری اقدار کی بدترین پامالی کا سہرہ بھی مسلم لیگ نون کے سر ہے۔ اس سے قبل سانحہ ماڈل ٹاؤن میں جو طاقت کا جو وحشیانہ استعمال کیا گیا ہے اس کی کسی بھی جمہوری معاشرے میں مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ یہاں قانون و انصاف کی بجائے اختیارات اور طاقت کی حکمرانی ہے۔وفاقی داراالحکومت میں ایک طرف دفعہ 144 لگا کرسیاسی و مذہبی جماعتوں سے احتجاج کا آئینی و قانونی حق چھینا جاتا ہے اور دوسری طرف عین اسی لمحے کالعدم جماعتیں حکومتی اداروں کی چھتری تلے سرعام اپنی تقاریب منعقد کرتی ہیں۔ ملک میں جاری دہشت گردی سمیت ہر لاقانونیت کا واحد سبب یہی دوہرا معیار اور حکومت کا منافقانہ طرزعمل ہے

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار احمد امامی نے کہا ہے کہ کراچی میں مٹھی بھر تکفیری دہشتگرد عناصر کی جانب سے عزاداران نواسہ رسولؐ پر بڑھتے ہوئے حملے اور اسکے نتیجے میں ہونی والی شہادتوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ریاستی اداروں کے فول پروف سیکیورٹی کے دعوؤں اور نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں بکھیردی ہیں، پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت دہشتگردوں کے خلاف جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کی کامیابی اور سب اچھا ہے کے دعوے کی رٹ لگانے کے بجائے کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیموں اور انکے مذہبی و سیاسی سہولت کاروں، سرپرستوں و دہشتگرد ساز نام نہاد مدارس کے خلاف فی الفور آپریشن کا آغاز کرے، جو محرم الحرام میں کراچی شہر کی پُرامن فضا کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلستان جوہر میں منصور صادق زیدی کے قتل اور گلشن اقبال میں مجلس عزاء کے دوران فائرنگ کے نتیجہ میں دو شیعہ افراد کے ذخمی ہونے دہشتگردی کے خلاف نشترپارک تا نمائش چورنگی نکالے گئی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنما میثم عابدی، علامہ مبشر حسن، ناصر حسینی، کاظم عباس بھی موجود تھے۔ احتجاجی ماتمی جلوس میں شریک عزاداران نواسہ رسولؐ سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مختار امامی نے مزید کہا کہ ایک طرف تو کراچی سمیت ملک بھر میں کالعدم تکفیری دہشتگرد تنظیمیں آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تو دوسری جانب تکفیری دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کو شہری و حکومتی اجلاسوں میں مدعو کیا جا رہا ہے، جس کا لازمی نتیجہ کراچی سمیت ملک بھر میں محب وطن اہل تشیع مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ و نسل کشی کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔ مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم کا کہنا تھا کہ ملک دشمن تکفیری دہشتگرد اور کالعدم جماعتیں مملکت خداداد پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے مسلسل سازشیں کر رہی ہیں، تکفیری یزیدی قوتیں ملکی سالمیت سے کھیل رہی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت و ریاستی اداروں کی صفوں میں ضیا باقیات کی صورت میں تکفیری دہشتگرد عناصر کے سہولت کار موجود ہیں، جونیشنل ایکشن پلان کو منحرف اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو ناکامیوں میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں، لہٰذا ملک میں دہشتگردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کیلئے حکومتی و ریاستی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کا صفایا کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنی شیعہ عزاداران امام حسین ؑ ملک بھر میں تکفیری دہشتگرد عناصر کی تمام تر سازشوں کو ماضی کی طرح اب بھی ناکام بناتے ہوئے عزاداری سید الشہداء کو پوری قوت اور طاقت کے ساتھ جاری و ساری رکھیں گے، عزاداری کو بزدلانہ دہشتگرد حملوں سمیت کسی بھی سازش کا شکار نہیں ہونے دینگے اور نہ ہی ان دہشتگردانہ کارروائیوں سے عزاداروں کے حوصلوں میں رتی برابر بھی کمی واقع نہیں ہوگی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) پاکستان عوامی تحریک شعبہ خواتین اسلام آباد کے زیر اہتمام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے خلاف ایک احتجاج ہوا جس میں مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین راولپنڈی کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی گئی. سیکرٹری جنرل راولپنڈی سیدہ قندیل زہرا کی زیر قیادت کثیر تعداد خواتین نے احتجاج میں شرکت کی. احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے قندیل زہرا نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا جانا قانون و انصاف کی بجائے اختیارات کی حکمرانی پر دلالت کرتا ہے.انصاف کے حصول تک ہم اسی پرعزم انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے. انہوں نے کہا کہ حق و باطل کی جنگ میں باطل کے خلاف ڈٹ جانے کا درس ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھرانے سے ملتا ہے. مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت مجلس وحدت مسلمین کی اولین ترجیح اور منشور کا حصہ ہے. مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس کی ہر آواز پر ہم لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں موجود رہیں گی. احتجاج میں سیکرٹری جنرل قندیل زہرا کے علاوہ ڈپٹی سیکرٹری جنرل سیدہ راضیہ, رابطہ سیکرٹری ثمینہ نقوی, سکاوٹس انچارج نساء رضوی, ردا کلثوم, راحیما فاطمہ اور محدثہ فاطمہ کے علاوہ دیگر خواتین نے بھی شرکت کی.

Page 12 of 42

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree