ادلب اور امریکہ کا واویلا

وحدت نیوز (آرٹیکل)  شام اورعراق میں جیسے جیسے داعش اور ان جیسے دیگر دہشت گرد گروہوں کو شکست ہو رہی  ہےان کی پشت پناہی کرنے والے ممالک میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اس وقت عالمی میڈیا پر شام کے شہر ادلب کے حوالے سے ہر روز کوئی نہ کوئی نئی خبر سامنے آرہی ہے اور سب سے زیادہ واویلا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے سامنے آرہا ہے۔

شامی شہر ادلب کو دہشت گردوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے جو ۲۰۱۱ سے ہی دہشت گردوں کی مضبوط پناہ گاہ کے طور پر سامنے رہا ہے۔ یہاں پر مختلف دہشتگرد تنظیموں کا کنٹرول رہا ہے اور اس وقت الحرار الشام نامی القاعدہ سے مربوط دہشتگرد تنظیم کا گھڑ ہے۔ ادلب وہ شہر ہے جہاں سے شامی حکومت کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا اور آج بھی شام میں ادلب کو دہشتگردوں کی آخری پناہ گاہ تصور کیا جاتا ہے۔

شامی حکومت اپنے اتحادیوں روس، ایران، حزب اللہ کے ساتھ مل کر ادلب سے دہشتگردوں کا صفایا کرنا چاہتا ہے جس کے لئے حکومتی تیاریاں جاری ہے۔ جب سےاسد حکومت نے ادلب آپریشن کا اعلان کیا ہے امریکہ، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی چیخیں نکل رہی ہیں، امریکہ صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بشاراسد کو ادلب پر حملہ نہیں کرنا چاہیے، روسی اور ایرانیوں کو انسانی اورتاریخی غلطی کا سامنا کرنا ہوگا، سینکڑوں، ہزاروں لوگ مارے جائینگے اور ایسا ہونے نہیں دینگے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ شامی حکومت چاہتی ہے وہاں محصور شہریوں کو دہشتگردوں کی چنگل سے آزاد کیا جائے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو تباہ کیا جائے۔ دہشتگردوں کے حوالے سے ہم سب جانتے ہیں کہ وہ بچے، خواتین، جوانوں سب کو اپنی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور کسی پر کسی بھی قسم کا کوئی رحم نہیں کھاتے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہاں دہشتگرد ہے تو امریکہ کو کیوں مشکل ہو رہی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ امریکی مشکلات کے بہت سے پہلو ہیں ان میں سے کچھ یہ ہے کہ:

۱۔ امریکہ نہیں چاہتا شام سے دہشتگردوں کا خآتمہ ہوں کیونکہ دہشتگرد خود امریکہ کی پیداوار ہے اور جس جس ملک میں امریکہ نے دہشتگردی کےخلاف جنگ کی ہے اُن ملکوں میں امن کے بجائے تشدد اور دہشتگردی میں اضافہ ہوا ہے اور دیشتگرد پہلے سے زیادہ طاقت ور اور بھیانک ہو کر اُبھرے ہیں، افغانستان اور عراق کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہے جہاں پر امریکیوں کے آنے کے بعد داعش جیسے تکفیری وجود میں آئے۔

۲۔ امریکہ کا دوسرے ملکوں پرحملہ کرنے اور ان کے قدرتی ذخائر پر قبضہ کرنے کا بہترین بہانہ دہشتگردی کے خلاف جھوٹا جنگ ہے۔

۳۔ دہشتگردی کا اگر خاتمہ ہوجائے تو غاصب امریکیوں کو دوسرے ملکوں میں بیٹھنے کا موقع نہیں ملے گا، یعنی دہشتگردی اور دہشتگردوں کے خلاف جنگ دوسرے ملکوں میں ناجائز قبضے جمائے رکھنے کا زریعہ ہے۔

۴۔ امریکی اقتصاد کا ایک ستون اسلحوں کی فروخت پر قائم ہے، امریکہ، کینڈا اور دوسرے مغربی ممالک جو اپنے آپ کو انسانی حقوق اور عالمی تحفظ کا علمبردار مانتے ہیں دنیا میں جنگ، نامنیت اور غربت کے پیچھے انہی قوتوں کا ہاتھ ہے، یہی ممالک ہیں جو میڈیا پر جمہوریت اور انسانی حقوق کی بتاتیں کرتے ہیں اور پس پشت کمزور ممالک میں خانہ جنگی اور دہشتگردوں کی پرورش، منشیات اور اسلحوں کی خرید و فروخت کے دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ جس دن دنیا میں امن ہوگا ان کے بنائے ہوئے اسلحے کسی کام کے نہیں رہنگے۔

۵۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ کوئی ملک سر اٹھآ کر جیئے وہ چاہتا ہے کہ ہر ملک اس کا محتاج بنے رہے۔۶۔ مشرق وسطی کے قددرتی ذخائر پر قبضہ۔ ۷۔ مشرق وسطی میں امریکیوں کے رہنے کی ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے ناجائز وجود کی دفاع کر سکیں۔۔۔۔

لہذٰاا امریکیوں کا شور مچانا بے جا نہیں، وہ اقوام متحدہ کے زریعے بھی شامی حکومت پر دباو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں فوجی کاروائی کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادلب میں وسیع فوجی آپریشن بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضایع اور خون خرابے کا موجب بن سکتا ہے۔ دوسری طرف روس کی طرف سے بھی امریکہ کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشتگردوں کو مالی و سلاحی  کمک روک دیں اور خطے کو مزید خون خرابے کی طرف نہ لے جائیں۔

امریکہ شام میں موجود فلاحی تنظیم وائٹ ہیلمیٹ اور دیگر این جی اوز کے زریعے دہشتگردوں کی مدد کر رہا ہے۔ بلکہ کچھ میڈا رپورٹز میں امریکی تیار کردہ ڈرامہ "اسد حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال" کا بھانڈا پھوٹ دیا گیا۔ ادلب میں دہشت گردوں نے ابھی سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شوٹنگ شروع کی ہے جس کی صداقت صرف کیمرہ کی حد تک ہے اس مقصد کے لئے انہوں نے شام کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں بچوں کو بھی اغواء کیا۔ اس سے پہلے بھی شام میں کیمائی اسلحلوں کی استعمال کا ڈرامہ رچایا جا چکا ہے جس میں پہلے سے تیار کردہ فیک اور جعلی تصاویریں اور ویڈیوز کو پبلک کیا گیا تھا اور اس کی حقیقت بھی سامنے آگئی تھی۔

ہمیں ان حالات میں امریکہ اور نیٹو کا منافقانہ اور مکارانہ چہرہ بھی نظر آرہا  ہے، دیکھیں ۹/۱۱ کے واقعہ کے بعد جس القاعدہ کو دنیا بھر میں دہشت گرد بناکر افغانستان پر حملہ کیا گیا آج اسی القاعدہ کے دہشت گردوں کو بچانے کے لئے شام میں سر توڑ کوششیں کی جارہی ہے۔ امریکی خود اعتراف کرتے ہیں کی شام کے شہر ادلب القاعدہ کی پناہ گاہ ہے۔ ٹرمپ کے خصوصی صدارتی سفیر برٹ میک گروک کا کہنا تھا کہ" ۹/۱۱ کے بعد القاعدہ کا سب سے بڑا پناہ گاہ شامی شہر ادلب ہے"۔ اسی طرح وہاں موجود دشگردوں نے بھی کئی دفعہ اس بات کا اقرار کیا ہے کہ امریکہ و نیٹو ہماری طرف ہے اور ہمیں تیسری پارٹی کے زریعے اسلحلے و دیگر ضروریات کی چیزیں مہیا کرتا ہے۔

لہذا امریکی جانب سے ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا شور شرابہ بلکل ویسے ہی ہے جیسے عراق پر حملے کے وقت کیا گیا تھا اور ہوسکتا ہے  یہ واویلا بھی کسی بڑے سانحے کے لئے زمینہ سازی ہو۔

لہذٰا ہمیں بیداری اور ہوشیاری کے ساتھ دشمنوں کے حربوں اور سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے کے اکثر افراد و نوجوان عالمی حالات اور ولڈ پولیٹکس سے بے خبر ہیں، اور ساری چیزوں کو ظاہری اور جذباتی طور پر لیتے ہیں خصوصا سوشل میڈا استعمال کرنے والے اس طرح کی خبروں کا فوری شکار بن جاتا ہے اور وہ اصل اور جعلی خبروں کی تمیز نہیں کر پاتے ہیں ایسے حالات میں ہمیں صرف سوشل میڈا پر ہی نہیں بلکہ جب بھی جہاں بھی کوئی حادثہ رونما ہو تو پہلے اس کے حقیقت کی تصدیق کریں پھر اقدام کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جانے انجانے میں دشمنوں کی سازشوں کا حصہ بن جائے۔

تحریر: ناصر رینگچن

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree