The Latest

وحدت نیوز (ٹنڈو محمد خان ) پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان میں تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات پر حضرت رسول خدا (ص) اور حضرت بی بی زینب (س) کی شان میں گستاخانہ وال چاکنگ اور پوسٹرز لگا دیئے گئے، انتظامیہ خاموش تماشائی، عاشقان مصطفیٰ کا ٹنڈو محمد خان تھانے کا گھیراؤ۔ تفصیلات کے مطابق تکفیری دہشت گردوں نے ٹنڈو محمد خان کی مسجد علی (ع) کے باہر حضرت رسول اللہ (ص) اور حضرت بی بی زینب (س) کی شان میں گستاخانہ وال چاکنگ کی گئی اور پوسٹرز چسپاں کئے گئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد علاقے کے شیعہ و سنی عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔

اس ساری صورتحال کے بعد علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بھی کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے ہیں جبکہ کسی بھی وقت بڑے تصادم کا خدشہ ہے۔ اس موقع پر وحدت میڈیا سیل سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع ٹنڈو محمد خان کے سیکریٹری جنرل محب علی بھٹو نے کہا ہے کہ تکفیری دہشت گردوں نے دنیا بھر میں شعائر اسلامی کی توہین کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، کبھی شام میں نواسی رسول بی بی زینب (س) اور اصحاب رسول (رض) کے مزارات پر حملے کئے جارہے ہیں تو کبھی پاکستان میں حضرت رسول اللہ (ص) اور حضرت بی بی زینب (س) کی شان میں گستاخانہ چاکنگ کی جارہی ہے۔

محب بھٹو نے کہا کہ اس ساری صورتحال پر ہم نے مجلس وحدت مسلمین، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، شیعہ علماء کونسل اور اصغریہ آرگنائزیشن کا مشترکہ اجلاس بلایا جس میں تمام تنظیموں نے انتظامیہ کو دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دینے اور کل بروز جمعہ شہر بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی انشاء اللہ برادران اہلسنت سے بھی رابطہ کرکے انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف اپنی آواز حق کو مزید طاقت بخشیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی رحیم یار خان میں کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کے بیٹے ملک اویس نے تکفیری شعار تحریر کئے تھے اور یہ سلسلہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت وقت اپنی وطن اور اسلام دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے رسول اللہ (ص) اور حضرت بی بی زینب (س) کی شان میں گستاخی کرنے والے دہشتگردوں کے خلاف ملک گیر فوجی آپریشن کرے تاکہ وطن عزیز کو فرقہ وارایت پھیلانے والے عناصر سے پاک کیا جاسکے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)وطن عزیز پاکستان اس وقت کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی، بدامنی و بے امنی، توانائی کی قلت، مس مینجمنٹ، اداروں کی زبوں حالی اور اندرونی و بیرونی دہشت گردی جیسی مشکلات کا شکار ہے اورخاکم بدہن ریاستی ڈھانچہ ’’کو لیپس‘‘ کرتا نظر آ رہا ہے۔میاں صاحب نے جس منشور اور ’’مینی فیسٹو‘‘پر الیکشن جیتا ویسا کہیں ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ حکومت کے پہلے سو دنوں میں سو دھماکے ہو چکے جس نے اور کچھ نہیں تو کم از کم حکومتی عہدیداروں کی اہلیت اور اصلیت کا پول کھول دیا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب کی حکومت زرداری صاحب کی حکومت کا تسلسل ہی نہیں دوسرا جنم بھی ہے۔ صورتحال ماضی سے بھی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔دونوں کا ہدف اور دونوں کی منزل ایک ہے بلکہ انجام بھی ایک جیسا ہی ہو گا۔ ان خیالات کو اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نائب سربراہ علامہ امین شہیدی نے مرکزی سیکریٹریٹ العارف ہائوس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر تے ہو ئے کیا ، اس موقع پر علامہ اعجاز بہشتی ، علامہ اصغر عسکری ، علامہ علی شیر انصاری اور علامہ علی انور جعفری بھی موجود تھے ۔

علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ  8 ستمبر کا عوامی اجتماع ملک کو درپیش چیلنجز اور داخلی و خارجی مسائل کے حل میں ممدومعاون ثابت ہو گا۔ وطن عزیز میں دنیا بھر سے دہشت گردی کو امپورٹ کیا جا رہا ہے ۔ وہ ممالک کہ جنہوں نے اس میں دامے درہمے سخنے بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا ان میں عرب ریاستیں بالخصوص سعودی عرب سرفہرست ہے۔سلفی تکفیری فکر کے نتیجے میں اسلام کے جہاد ایسے مقدس شعار کا چہرہ مسخ کیا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان سے اب دہشت گرد ایکسپورٹ ہونا بھی شروع ہو گئے ہیں۔اس سارے کھیل میں پاکستانی حکومت اور’’اداروں‘‘نے امریکی کٹھ پتلی کا کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے نہ صرف مستقبل کے حوالے سے کوتاہ اندیشی کا ثبوت دیا بلکہ ہماری ریاستی پالیسیوں میں کج فہمی کا عنصر بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔بدقسمتی سے ہم دہشت گردوں کو اپنا’’سٹریٹیجک ایسٹ‘‘ تصور کرنے لگ گئے۔ پاکستان میں جو آج کشت وخون کا بازار گرم ہے یہ فرقہ واریت نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ جب تک حکومت اپنی ’’ول‘‘ کا اظہار نہیں کرتی اور پوری دلجمعی اور قوت کے ساتھ اس کے خاتمے کے لیے میدان عمل میں نہیں اترتی۔ دہشت گردوں کا قلع قمع ممکن نہیں ہے ۔ جب تک تمام ادارے قومی مفاد میں ’’اچھے برے طالبان‘‘کی تمیز کیے بغیر ریاست کے آئین کو بالا دست اور قانون کی حکمرانی کو یقینی نہیں بناتے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نہیں نمٹتے اس وقت تک اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں۔ قومی سلامتی کے لیے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک پچ پر آنا ہو گا۔ اگر ہم سب مٹھی بھر شرپسندوں کے خلاف متحد ہو جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ امن کا خواب ادھورا رہ جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی کوششوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر سے پچاس ہزار سے زائد دہشت گردوں کو بشار الاسد حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا گیا ہے جو نہ صرف قابل افسوس بلکہ انتہائی قابل مذمت ہے۔بشار الاسد کو فقط اسرائیل دشمنی اور مقبوضہ بیت المقدس کی تحریک آزادی کی ہر طرح کی حمایت کی سزا دی جا رہی ہے۔کیونکہ عرب دنیا میں شام ہی وہ واحد ریاست ہے کہ جو اسرائیل کے ناپاک وجود کی بقاء اور مذموم عزائم کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں عوامی بغاوت ، کیمیائی ہتھیاروں کا حکومت کی طرف سے استعمال دروغ گوئی کے سوا کچھ نہیں۔ وہاں پر دو طاقتیں باہم نبرد آزما ہیں ایک طرف وہ ہیں کہ جو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور اسرائیل کا تحفظ کر رہی ہیں جب کہ دوسری طرف وہ ہیں کہ جو مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اورمقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کے متوالوں کی حامی ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ دنیا بھر میں القاعدہ کا تعاقب کرنے والا امریکہ شام میں سعودی عرب اور القاعدہ کے ساتھ مل کر عوامی حمایت یافتہ حکومت کو گرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ کیا اس سے ثابت نہیں ہوجاتا کہ سعودی عرب، امریکہ اور القاعدہ اتحادی ہیں؟؟؟ کل کو یہی جنگ شام کے بعد پاکستان لائی جائے گی۔ امریکہ، اسرائیل ، سعودی عرب اور القاعدہ کے دہشت گردوں کو گذشتہ عرصے میں معلوم ہوچکا ہے کہ شامی عوام اور شامی فوج کو زیر کرناان کے بس کی بات نہیں۔ لبنان کی جنگ کی طرح اسرائیل اور اس کے حامیوں کو یہاں پر بھی شکست کا سامنا ہے۔ امریکہ نے یہاں پر وہی الزام دہرایا ہے کہ جس کو جواز بنا کر اس نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر عراق پر چڑھائی کی تھی۔انسانی حقوق اور انسانی جانوں کے ضیاع کی بات کرنے والاامریکہ ہیروشیما، ناگا ساکی سمیت متعدد جگہوں پر معصوم انسانوں پر کیمیائی و ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے والی دنیا کی واحد ریاست ہے۔ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی شام پر کسی بھی قسم کی جارحیت مسلط کرتے ہیں تو جنگ کی اس آگ کا دائرہ بہرحال شام تک محدود نہیں رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ  مجلس وحدت مسلمین ہر سال اتحاد و یکجہتی کے فروغ کے لیے مختلف اجتماعات کا انعقاد کرتی ہے۔ اتحاد بین المسلمین کے عظیم علمبردار شہید عارف حسین الحسینی کی برسی کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ملک بھر سے ایک لاکھ سے زائد افراد شریک ہوں گے۔انشاء اللہ یہ پروگرام وطن عزیز سے دہشت گردی،فرقہ واریت، پاکستان کے داخلی و خارجی معاملات میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت، جنوبی ایشیاء سمیت دنیا بھر میں امریکی عزائم کی نابودی اور راتحاد بین المسلمین کے فروغ میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے پروگرام کو پریڈ گراؤنڈ میں منعقد کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔
 
 ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کے انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے ۔شرکاء کے قافلے ہفتے کی رات ہی اسلام آباد پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔مجلس وحدت مسلمین کے چار ہزار رضا کار کہ جس میں خواتین بھی شامل ہوں گی شرکاء کی حفاظت پر مامور ہوں گے۔ اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے دی جانے والی سکیورٹی اس کے علاوہ ہے۔انشاء اللہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ پروگرام اپنے اہداف و مقاصد کے حصول میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

وحدت نیو ز ( کوئٹہ ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چار رکنی اعلیٰ سطحی وفد نے کوئٹہ کا تین روزہ تنظیمی دورہ کیا ، وفد سے ایم پی اے سید محمد رضا ، علامہ مقصود ڈومکی اور علامہ ہاشم موسوی نے ملاقات کی اور کوئٹہ کی داخلی اور تنظیمی صورت حال پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور سیکریٹری امور خارجہ علامہ شفقت حسین شیرازی ، مرکزی سیکریٹری مالیات علامہ مبارک علی موسوی ، رکن شوریٰ عالی آغا علی اور مرکزی سیکریٹری اطلاعات سید مہدی شاہ پیر کو تین روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے ، اپنے دورے کے دوران وفد نے ایم ڈبلیو ایم کے رکن بلوچستان اسمبلی آغا سید محمد رضا رضوی ، صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی ، رکن شوریٰ عالی علامہ ہاشم موسوی سمیت ایم ڈبلیو ایم صوبہ بلوچستان کے اراکین کابینہ اور ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ کے اراکین کابینہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں ۔
صوبائی وحدت سیکریٹریٹ کوئٹہ میں منعقدہ اجلاس کے دوران ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنماؤں نے مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کو ڈویژنل حیثیت دینے کا اعلان بھی کیا۔

وحدت نیوز ( کوئٹہ ) مجلس وحدت مسلمین کو کو ئٹہ میں ڈویژنل حیثیت دے دی گئی ہے ، اور باہمی مشاورت کے بعد مولانا سید محمد عباس موسوی کو ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ ڈویژن کا پہلا ڈویژنل سیکریٹری جنرل اور مولانا ولایت جعفری کو ایم ڈبلیو ایم کوئٹہ ڈویژن کا ڈپٹی سیکریٹری جنرل نامزد کر دیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی شوریٰ عالی اور مرکزی کابینہ کے چار رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے دورے کے دوران جس کی قیادت مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ شفقت شیرازی کر رہے تھے کوئٹہ میں ڈویژنل اسٹرکچر کے قیام کا اعلان کیا ۔

مقامی رہنماؤں نے کوئٹہ میں ایم ڈبلیو ایم کو ڈویژنل حیثیت دینے کے مرکزی فیصلے کو سراہا ہے ، اور امید ظاہر کی ہے اس اقدام سے کوئٹہ میں تنظیمی فعالیت میں بہتری آئے گی ،اور تشیع کو مضبوطی حاصل ہو گی ۔ا س سے قبل مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کا تنظیمی ڈھانچہ فقط ایک ضلع پر مشتمل تھا ، کوئٹہ میں مجلس وحدت مسلمین کی ازسر نو تنظیم سازی کا مرحلہ نامزد ڈویژنل عہدیداران جلد مکمل کر یں گے اور جن اضلاع میں بھی تنظیم سازی کا عمل مکمل ہو جائے گا وہ ڈویژن کے ماتحت ہوں گے ۔

وحدت نیوز (راولپنڈی)  مجلس وحدت مسلمن پنجاب کے ترجمان علامہ اصغر عسکری نے کہا ہے کہ دفاع وطن کنونشن میں ایک لاکھ سے زائد فرزندان اسلام کی شرکت متوقع ہے۔ انشاءاللہ یہ اجتماع شام میں امریکہ اور اس کے ہمنوا عرب ممالک کی جارحیت کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا۔ ملت اسلامیہ کے اس عظیم اجتماع کے دوران عوام کو وطن عزیز کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے اور بحرانوں سے نکالنے کا راہ حل دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفاع وطن کنونشن کے حوالے سے راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں رابطہ مہم اور کارنر میٹنگ کے اجتماعات سے گفتگو کرتے ہوے کیا۔ علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی پچیسوں برسی کی مناسبت سے ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے8 ستمبر کو سرزمین اسلام آباد پر منعقد ہونے والے دفاع وطن کنونشن کے اجتماع میں ملک کے طول و عرض سے ایک لاکھ سے زائد فرزاندان اسلام کی شرکت ہوگی جو ملکی دفاع کے حقیقی پاسبان ہوںگے۔

وحدت نیوز (کوئٹہ )مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سربراہ علامہ مقصود علی ڈومکی نے سردار اختر مینگل کی رہائشگاہ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بی این پی کے مرکزی رہنما سابق رکن بلوچستان اسمبلی میر اکبر مینگل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کے حقوق کے لئے سردار اختر مینگل نے قابل قدر جدوجہد کی ہے۔ ان کی رہائشگاہ پر حملہ افسوسناک ہے۔ حملے کا مقصد صوبے کی ہر دلعزیز سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے کی سازش ہے۔ بی این پی مینگل نے مذہبی رواداری اور اقوام کے درمیان بھائی چارے کے فروغ کے لئے جدوجہد کی ہے۔ اس موقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے بی این پی کے مرکزی رہنما میر اکبر مینگل نے کہا کہ سردار اختر مینگل کی رہائشگاہ پر حملہ انہیں حراساں کرنے کی سازش ہے۔ مگر ہمارے عزم اور حوصلے بلند ہیں۔ ہم نے ہمیشہ مظلوموں کی حمایت کی ہے اور صوبے میں بے گناہ انسانوں کے قتل عام پر صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ بی این پی مینگل کو حق گوئی کی سزا دی جا رہی ہے۔

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین نے جماعت اسلامی اور تحریک منہاج القرآن کے ساتھ حجاب کے فروغ کے لئے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔ لاہور میں حجاب سے متعلق تصویری نمائش کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی صدر خانم سکینہ مہدوی نے کہا کہ حجاب نے عورت کو وقار عطا کیا ہے۔ دنیا میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ کوئی خاتون پردے کے بغیر گھر سے نہ نکلے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم جماعت اسلامی اور تحریک منہاج القرآن کے ساتھ مل کر سرکاری دفاتر میں حجاب کے لئے قانون سازی کے لئے جدوجہد کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حجاب صرف عورت کے سرچھپانے کا ہی نام نہیں، مردوں کی نظروں کا بھی حجاب ضروری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں خانم ذکیہ نقوی نے کہا کہ چہرے کو کھلا رکھ کر حجاب کرنا فتوٰی ہے جبکہ اسے مکمل ڈھانپ لینا تقوٰی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورتوں ہی نہیں مردوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو حجاب کروائیں۔ خانم ہما تقوی نے کہا کہ عورت نے زیب و زینت کی ہو تو اسے نامحرم نظروں سے چھپانا واجب ہے۔ اس موقع پر حجاب کے حوالے تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا، جسے بڑی تعداد میں خواتین اور مردوں نے دیکھا۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پاکستان کی دفاعی جنگ لڑے اور ایسا نہیں کرسکتی تو مستعفی ہوجائے۔ پاک محرم ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی وفاقی کابینہ کی کراچی میں موجودگی کے دوران تین شیعہ مسلمانو ں کو ہدف بنا کر قتل کیا جاچکا ہے۔ بے گناہ اور پرامن پاکستانی شیعوں کی نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں جاری دہشت گردی اور بے قصور پاکستانیوں کا قتل عام نواز لیگ حکومت کی ناکام انسداد دہشت گردی پالیسی کا شاخسانہ ہے کیونکہ نواز حکومت نے اپنے قیام کے وقت سے اب تک ملک دشمن، آئین دشمن، جمہوریت دشمن اور انسانیت دشمن تکفیری دہشت گردوں سے مذاکرات کرکے انہیں منانے کی پالیسی بنائی۔ یہ مذاکرات کرکے لبھانے کی کوششوں پر مبنی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی اور ان کی کابینہ کی شہر میں موجودگی کے باوجود تین پرامن شیعہ شہریوں کو دہشت گردوں نے با آسانی قتل کردیا۔

 

انہوں نے کہا کہ بارہ گھنٹوں میں تین پرامن شیعہ افراد کے قتل کی براہ راست ذمہ داری ناکام وزیراعظم اور ناکام کابینہ پر عائد ہوتی ہے۔ جن دہشت گردوں نے بقول حکومت کے چالیس ہزار پاکستانیوں کا قتل عام کیا ہے، کیا ان کو معافی دی جاسکتی ہے؟ مجلس وحدت مسلمین کا اصولی اور منطقی موقف ہے کہ نواز شریف کی حکومت اخلاقی اور شرعی طور پر یہ اختیار نہیں رکھتی کہ چالیس ہزار پاکستانی شہداء کے قاتلوں کو معاف کرے۔ ان شہداء کی جانیں پاکستان پر قربان ہوئی ہیں اور ان کے قاتلوں سے قصاص لینا حکومت پر لازم ہے۔ دہشت گردوں کو جہنم رسید کرنے کے بجائے ان سے مذاکرات کرنا ان شہدائے پاکستان کے مقدس لہو سے غداری کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی یہ تعداد چالیس ہزار وزیر اعظم کی بیان کردہ ہے ورنہ ستر ہزار پاکستانی دہشت گردی کی وجہ سے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔

 

علامہ حسن ظفر نقوی نے مزید کہا کہ ستم ظریفی تو دیکھئے کہ نواز شریف کی حکومت ان خبیث دہشت گردوں سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے جن کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ دہشت گردوں کے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں نواز لیگ کی دو بڑی اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ کیا یہ دھمکی اعلان جنگ نہیں۔ کیا نواز حکومت دہشت گردوں کی دھمکی سے ڈر گئی ہے؟ جو دہشت گرد بری افواج کے ہیڈ کوارٹر، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کی اہم حساس تنصیبات، آئی ایس آئی کے ہیڈکوارٹر، بری سرکار، عبدللہ شاہ غازی، بابا فرید شکر گنج سمیت کئی اولیائے خدا کے مزارات اور شیعہ و سنی علمائے کرام تک کو دہشت گردی کانشانہ بنا چکے ہیں، ان سے کس خیر کی توقع کی جارہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے حملوں، دھمکیوں اور بلیک میلنگ کو پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ اعلان جنگ تصور کیا جائے۔ ان تمام کالعدم یزیدی تکفیری دہشت گردوں کے خلاف کراچی سمیت ملک بھر میں فوری فوجی آپریشن کیا جائے اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک پاکستان کی دفاعی جنگ جاری رکھی جائے۔

 

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے ن لیگ کی حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر بے لگام دہشت گردوں کو معاف کرنے کی پالیسی پر عمل کیا گیا اور انہیں ختم نہیں کیا گیا تو ملک بھر میں شیعہ عمائدین سمیت ہر پاکستانی کی شہادت کا براہ راست ذمہ دار نواز شریف اور ان کی حکومت کو قرار دیا جائے گا اورآخری اقدام کے طور پر مقتولین کے ورثاء مقدمات میں بھی نواز شریف اور ان کی کابینہ کو براہ راست نامزد کرنے پر مجبور ہوں گے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ وہ اس جنگ میں پاکستانی قوم کی نمائندگی کریں نہ کہ دہشت گردوں کی طرف داری اور اگر وہ پاکستان کی دفاعی جنگ نہیں لڑ سکتے تو اقتدار سے دست بردار ہوجائیں۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی رہنما یعقوب حسینی، ڈویژنل رہنما علامہ دیدار جلبانی،اور علی حسین نقوی بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز (قم المقدسہ)  مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم المقدسہ کا اجلاس سیکرٹری جنرل علامہ غلام محمد فخرالدین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں قم المقدسہ کے علمائےکرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین قم المقدسہ کی کابینہ کا اعلان کیا گیا۔ نئی کابینہ میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا حسن مہدی کاظمی اور مولانا حسن باقری، مسئول معاونت تعلیم و تربیت مولانا سجاد حسین آہیر، مسئول معاونت سیاسی مولانا شبیر سعیدی، مسئول معاونت میڈیا مولانا میثم عباس ہمدانی، مسئول معاونت تنظیم سازی مولانا عادل علوی، مسئول معاونت اجتماعی مولانا ذوالفقار حسین حیدری، مسئول معاونت فرہنگی مولانا میرزا حسن شیرازی اور مسئول معاونت مالیات و آفس مولانا اسد عباس آہیر شامل ہیں۔

وحدت نیوز (کراچی )بزرگ عالم دین حجت الاسلام والمسلمین شیخ علی مدبر نجفی کی  نماز جنازہ علامہ شیخ محسن علی نجفی کی زیر اقتداء مسجد معصومین دستگیر سوسائٹی میں ادا کر دی گئی ، نماز جنازہ میں مجلس وحدت  مسلمین  پاکستان کی شوریٰ عالی کے سربراہ علامہ شیخ حسن صلاح الدین اور کراچی ڈویژن کےڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ دیدار علی جلبانی سمیت مختلف علمائے کرام نے شرکت کی اور مرحوم  شیخ علی مدبر نجفی کے اہل  خانہ سے تعذیت کا اظہار کیا ۔

اس موقع پرنجف اشرف سے علمائے کرام کےایک نمائندہ وفد سمیت  علامہ رضی جعفر نقوی ، علامہ غلام علی وزیری ، علامہ شیخ نوروز ، علامہ شیخ فیاض ، علامہ عون نقوی ،علامہ شہنشاہ نقوی اور دیگر  شخصیات بھی موجود تھیں ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree