The Latest

سعودی عرب میں شاہی مملکت کے مفتی کے اس فتوئے کے بعد کہ جس میں گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج کو غیر اسلامی کہاگیا تھا ایک ایسے عالم دین کو جیل جانا پڑا جو جمعہ کی نماز کے بعد اس گستاخانہ فلم کے خلاف ایک پرامن احتجاج کررہا تھا ابھی ان کا احتجاج شروع ہی ہوا تھا کہ پولیس کی متعدد گاڑیوں نے انہیں گھیر لیا اور انہیں گرفتار کیا گیا
سعودی عرب میں کسی بھی مسئلے پر احتجاج کرنا ایک جرم تصور کیا جاتا ہے اور اسے حاکم شاہی خاندان اپنے لئے خطرے سمجھتے ہیں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عرب دنیا میں بڑھتی ہوئی جمہوری سوچ سے وہ تمام عرب سلطنتیں پریشان ہیں جہاں کئی دہائیوں سے موروثی بادشاہت حاکم ہے

rehbar origرہبر مسلمین  حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح  بروز (پیر ) حج کے اعلی حکام اور اہلکاروں سے ملاقات میں  پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں توہین اور ان کے دوستوں اور دشمنوں کی نگاہوں میں ان کی عظمت و جلالت کو گذشتہ سالوں کی نسبت اس سال کے حج کی خاص خصوصیت و اہمیت قراردیتے ہوئے فرمایا: خاتم الانبیاء (ص) کے وجود مقدس کی برکت سے امت اسلامی میں عظیم اتحاد اوردنیا کے تمام مسلمانوں کی سامراجی محاذ سے گہری نفرت کا سلسلہ حج کے دوران بھی جاری رہنا چاہیے کیونکہ حج کے موقع پر پورےعالم اسلام سے مسلمان جمع ہوتے ہیں اور حج کے موقع پر سامراجی محاذ سے نفرت کا اظہار درحقیقت مشرکین سے برائت کا بہترین طریقہ ہے۔

رہبر مسلمین نے سامراجی اور استکباری عناصر کی جانب سے پیغمبر رحمت و عزت و کرامت (ص) کی توہین درحقیقت اسلام اور پیغمبر اسلام (ص) کےساتھ دشمنوں کی حقیقی دشمنی، بغض، کینہ  اور عداوت کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: مغربی سیاستدانوں نے اس عظیم توہین کے بارے میں جو مؤقف اختیار کیا ہے وہ واضح طورپر دشمنی پر مبنی ہے۔

رہبر مسلمین نے فرمایا: پیغمبر عظیم الشان (ص)کی توہین کا مسئلہ اور سامراجی محاذ کے رہنماؤں کے مؤقف سے ان کا حقیقی چہرہ اور حق و باطل محاذ کے مابین مقابلہ حقیقت میں آشکار اور نمایاں ہوگیا ہےاور یہ بات سامنے آگئی ہے کہ سامراجی محاذ کو اسلام اور پیغمبر اسلام (ص) کے ساتھ خاص دشمنی ہے۔

رہبر مسلمین نے اس عظیم توہین کے مقابلے میں  اسلامی ممالک حتی یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں اورغیرمسلمانوں کے زبردست احتجاج اور ان کے جوش و ولولے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عالم اسلام میں پیغمبر اسلام (ص)کی نسبت جوش و جذبہ سے سرشارعظیم عقیدت اور ان کے دشمنوں سے گہری نفرت کا اظہار بہت ہی بے مثال اور اہم واقعہ ہے جوامت مسلمہ کی بیداری اور تحرک کا شاندار مظہر ہے۔

رہبر مسلمین نے پیغمبر اسلام(ص) کی ذات کو مختلف فرقوں اور مذہب کے اکٹھا اور جمع ہونے کا نقطہ قراردیتے ہوئے فرمایا: پیغمبر اسلام (ص) کا دفاع کرنے کے لئے تمام شیعہ و سنی ، اعتدال پسند اور انتہا پسند سب اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کرمیدان میں آگئے کیونکہ پیغمبر اسلام (ص) اسلامی و الہی عقائد کے قطب اور اساس و بنیاد ہیں۔

رہبر مسلمین نے حج کےدوران نبی کریم (ص)کی شخصیت کے محور پر اتحاد اور ان کےدشمنوں سے نفرت و بیزاری کےاظہار کو جاری رکھنےپر تاکید کرتےہوئے فرمایا: مشرکین سے برائت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مسلمان یہ احساس کریں کہ وہ ایک دشمن کے مد مقابل ہیں اور دل کی گہرائی سے نبی  کریم (ص) کے دشمن سے برائت و بیزاری کا اظہار کریں۔

رہبر مسلمین نے پیغمبر اسلام (ص) کے عظیم اور بلند و بالا مقام  اوران پر اللہ تعالی اور ملائکہ کے خاص درود و سلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلمانوں کو چاہیے کہ اسلام، توحید اور قرآن کے بارے میں پیغمبر اسلام (ص)کی بات پر عمل کریں اور حج کو آنحضور (ص)کےساتھ محبت و عشق کے اظہار کا مظہر قراردیں۔

رہبر مسلمین نے امت مسلمہ کو دشمنوں کی تفرقہ انگیز سازشوں کے بارے میں آگاہ اور بیدار رہنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: دشمن جان لیں کہ امت مسلمہ مختلف مذاہب اور عقیدوں کے باوجود اسلام اورپیغمبر اسلام (ص) کا دفاع کرنے کے لئے متحد اور متفق ہیں۔

رہبر مسلمین نے فرمایا: دشمن کو امت مسلمہ کےغیظ و غضب سے بچنے کے لئے اختلاف ڈالنےکی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

گستاخانہ فلم کے بعد کی صورت حال پر امریکہ نے اپنی جانب سے ایک ملک کے بڑے بڑے نجی ٹی وی چینلز اور ایف ریڈیوز پر باراک اوباما اور ہیلری کے پیغامات پر مشتمل اشتہارات چلائے کہا جاتا ہے کہ اس اشتہار کی مد میں ان چینلوں کو سترہزار ڈالر دیے گئے ،لیکن خود امریکی اردو سرویس کی ویب سائیڈ یہ اعتراف کرتی ہے کہ یہ مہم ناکام ہوئی اور گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج امریکہ مخالف احتجاج میں بدل گیا ذیل میں امریکی اردو سرویس کی اس خبر کے خلاصے کو ملاحضہ کیجئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک وکیل نے عدالتِ عظمی سے مقامی ٹی وی چینلز پر امریکی صدر براک اوباما اور وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کے ان بیانات پر مشتمل ویڈیوز نشر کیے جانے کا نوٹس لینے کی درخواست کی ہے جن کا بظاہر مقصد امریکہ میں بننے والی ایک اسلام مخالف فلم پر مسلمانوں کے اشتعال کو دور کرنا ہے۔
پاکستان کے ایک معروف وکیل حشمت حبیب ایڈوکیٹ نے عدالتِ عظمیٰ سے اس امریکی اشتہاری مہم پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کی ہے جو ان کے بقول پیغمبرِ اسلام کی توہین پر مبنی فلم سے متعلق امریکی پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔
فلم کے خلاف پاکستان میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں اب تک لگ بھگ 30 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور عوام میں امریکہ مخالف جذبات اپنے عروج پر ہیں۔
مذکورہ اشتہاری مہم امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے شروع کی گئی ہے جس کا مقصد اس فلم کے مسئلے پر امریکی موقف کو اجاگر کرنا ہے۔
گستاخانہ فلم کے خلاف امریکی صدر اوباما اور سیکریٹری کلنٹن کے مذمتی بیانات پر مشتمل یہ ویڈیوز اردو 'سب ٹائٹلز' یا 'ڈبنگ' کے ساتھ پاکستان کے صفِ اول کے نیوز چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز پر 'پرائم ٹائم' میں نشر کی جارہی ہیں۔
تاہم اس ابلاغی مہم کو عدالت میں چیلنج کرنے والے حشمت حبیب ایڈوکیٹ اس سے سخت نالاں ہیں اور انہوں نے اس مہم کی اجازت دینے پر پاکستان کی حکومت اور ذرائع ابلاغ پہ کڑی تنقید کی ہے۔
اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے مالی تعاون سے چلنے والی اس اشتہاری مہم کو پاکستان کے ریڈیو نیٹ ورکس پر چار روز اور ٹی وی چینلز پر پانچ روز تک جاری رہنا تھا۔
تاہم مبصرین اور تجزیہ کاروں کی اکثریت کے خیال میں یہ اشتہاری مہم اپنے مقاصد پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں جاری فلم مخالف احتجاج ۔ جو درحقیقت امریکہ مخالف احتجاج میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔(خبر ماخوز از وائس آف امریکہ اردو سائیٹ)

jumultimirzaکراچی (اسٹاف رپورٹر)پورے پاکستان میں اہل تشیع کی نسل کشی کی جا رہی ہے، کراچی کے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں سن سے زیادہ اہل تشیع افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی اور ان کے قاتل آج تک گرفتار نہیں کئے گئے،ایس ایس پی سینٹرل کیپٹن عاصم قائم خانی بلیک واٹر کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی محرک علامہ مرزا یوسف حسین نے خراسان روڈ پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ متحدہ بین المسلمین فورم کے رہنما علامہ علی کرار نقوی اور معروف شیعہ رہنما علی اوسط بھی موجود تھے۔مولانا مرزا یوسف حسین نے کہا کہ جب سے ایس ایس پی سینٹرل کیپٹن عاصم قائم خانی ٹریننگ کے نام پر امریکہ سے ہوکر آئے ہیں جب سے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں اہل تشیع افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ہے، ان کی آمد کے بعد ہی شیعہ افراد کی بلاجواز گرفتاریاں شروع ہوئیں ہیں اور گرفتاریوں سے قبل پولیس تھانوں میں موجود شیعہ افراد کو فارغ کردیا گیا ہے۔ رینجرزا اور پولیس افسران بلیک واٹر کے ہاتھوں بک چکے ہیں۔

مرزا یوسف حسین نے مزید کہا کہ رینجرزا اور پولیس کے متعصب افراد نے دہشت گردوں کو ملت جعفریہ کے قتل عام کا کھلا لائسنس دے دیا جبکہ ستم بالائے ستم یہ کہ شیعہ افراد کو بلاجواز جھوٹے قتل کے کیسوں میں فٹ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رینجرز اور پولیس کے شیعہ دشمن عملہ نے مشترکہ تفتیش میں بے گناہ گرفتار افراد پر پریشر ڈالا کہ وہ علامہ راجہ ناصر عباس ، علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ حسن ظفر نقوی اور علامہ عباس کمیلی کا نام لیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ متعصب پولیس اہلکاروں نے گزشتہ رات جامع مسجد نور ایمان کا تقدس پامال کیا اور آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے دفتر میں تھوڑ پھوڑ کی اور ساتھ ہی ساتھ کراچی بھر کے مختلف علاقوں سے چالیس سے زائد شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کیا۔

علامہ مرزا یوسف حسین کا مزید کہنا تھا کہ آج صبح چار بجے کے قریب کراچی کے مختلف علاقوں میں جن میں ناطم آباد، گلبہار، ناگن چورنگی نگر ہاسٹل،منگھوپیر اور گلشن معمار شامل ہیں سے چالیس سے زائد بیگناہ افراد کو بلاجواز گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی بلیک واٹر کے اشارے پر کراچی میں موجود رینجرز اور پولیس کے متعصب افسران شہر قائد میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازش میں مصروف ہیں مگر ہم ان افسران کی اس سازش کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور پاکستان اور بالخصوص کراچی میں امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں پولیس افسران کی فرقہ واریت کی سازش کو اپنی اتحاد کی پالیسی سے ناکام بنائیں گے۔

آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی محرک نے کہا کہ حکومت ہمیں تنگ آمد بہ جنگ آمد کی پالیسی پر عمل کرنے پر مجبور نہ کرے۔کیونکہ اگر ایسا ہوا تو حکومت سے ہر طرح کے تعاون کو ختم کردیں گے۔علامہ مرزا یوسف حسین نے گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، سی سی پی او سے مطالبہ کیا کراچی کو فرقہ واریت کی گ میں جھونکنے اور امریکی بلیک واٹر سے ساز باز کرکے ملکی سلامتی کو خطرات میں ڈالنے کے جرم میں ایس ایس پی سینٹرل عاصم قائم خانی اور دیگر رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیا جائے اور محب وطن افسران پر مشتمل انکوائری کمیشن قائم کیا جائے تاکہ پاکستان کو امریکی اور اسرائیلی ایماء پر فرقہ واریت کی سازش سے بچایا جا سکے۔

masjidکراچی میں پولیس کی متعصبانی کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جس سلسلہ میں گذشتہ شب آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے دفاتر پر چھاپہ مار کر متعدد بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ہمارے نمایندے کی رپورٹ کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب میں متعصب پولیس انتظامیہ نے کراچی بھر میں آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے دفاتر اور جامعہ مسجد نور ایمان ناظم آباد میں چھاپے مار کر متعدد شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو بغیر کسی جرم اور ثبوت کے گرفتار کر لیا ہے۔
ناظم آباد میں جامعہ مسجد نور ایمان اور اس کے عقب میں واقع العارف اپارٹمنٹ پر پولیس کی بھاری نفری نے رات گئے چھاپے مار کرمتعدد بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے جبکہ شیعہ ایکشن کمیٹی کے دفتر سے شیعہ نوجوان حسن کو حراست میں لیا گیا ہے۔
متعصب پولیس انتظامیہ نے جامعہ مسجد نور ایمان کے ایک محافظ فخر عباس کو بھی بغیر کسی جرم اور ثبوت کے حراست میں لے کر نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے ۔
دوسری جانب آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی نے شہر بھر میں تنظیم کے دفاتر پر پولیس کی متعصبانہ کاروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام کارکنوں کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیاہے ،تنظیم کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ایک طرف تو دہشت گرد شیعہ نوجوانوں کو ٹارگٹ کلنگ میں قتل عام کا نشانہ بنا کر ملت جعفریہ کی نسل کشی میں مصروف ہیں تو دوسری طرف متعصب پولیس انتظامیہ کالعدم دہشت گرد گروہوں کی مدد کا کام کرتے ہوئے شیعہ نوجوانوں کو ہی گرفتار کر کے کالعدم دہشت گرد ٹولوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہے ،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر گرفتار کئے گئے شیعہ بے گناہ نوجوان فی الفور رہا نہ کئے گئے تو حالات کی سنگینی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔

mwmkpkمجلس وحدت کے پی کے کی صوبائی اور ضلع پیشاور کی کابینہ کا کی ایک اہم میٹنگ مرکزی وفد کے ساتھ ہوئی جس میں کے پی کے میں مجلس وحدت مسلمین کے تنظیمی ڈھانچے کی بہتری اور کارکردگی سمیت متعدد علاقائی اور قومی موضوعات زیر بحث آئے
مرکزی وفد کی قیادت مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی کررہے تھے جبکہ وفد میں رکن شوری ٰ عالی و ممبر مرکزی کابینہ علامہ اقبال بہشتی،مرکزی آفس سیکرٹری اقرارحسین اور صوبہ پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اصغر عسکری شامل تھے جبکہ کے پی کے سے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ سبیل الحسن ،ڈپٹی سیکرٹری علامہ سید عبدالحسین سمیت کابینہ کا اراکین شامل تھے نیز ضلع پیشار کے سیکرٹری جنرل کربلائی اپنی کابینہ کے ہمراہ تھے ۔
وفد نے کے پی کے میں تنظیمی فعالیات کے حوالے سے گفت و شنید کی اور ہنگو شاہوخیل میں شدت پسندوں کی دہشت گردی کے سبب ہجرت کرنے والے مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا

ایک نیا ہدف۔۔۔۔

karachi-bohraکراچی پر پہلے سے ہی خوف کا راج تھا جب منگل کے روز نارتھ ناظم آباد کے ایک داؤدی بوہرہ برادری کی آبادی والے محلے میںیکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔شہر ایک اسلام مخالف فلم کے خلاف ہونے والے احتجاجوں کی گرفت میں  تھا اور ٹارگٹ کلنگ بنا کسی رکاوٹ کے جاری تھی۔دوسری جانب، بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک کاربم دھماکے نے ایران سے واپس آرہے شیعہ زائرین کی بس کو نشانہ بنایا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں پچھلے سال زائرین کو بس سے اتار کر قتل کردیا گیا تھا۔

البتہ کراچی کے واقعے میں غالباً پہلی بار مجرموں نے بوہر ہ برادری کو نشانہ بنایا جو ایک پر امن، جفاکش اور کاروباری برادری ہے۔مجرموں کا معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں: دھماکوں کی جگہ شہر کی مرکزی بوہرہ مسجد سے نزدیک ہے جہاں برادری کے لوگ عمومی طور پر مغر ب کی نماز کے بعد اس سرگرم رہائشی و کاروباری علاقے میں جمع ہوتے ہیں اور ایسے ہی وقت میںیہ دھماکے ہوئے۔یہ دھماکے موجودہ بوہر ہ پیر کے صاحبزادے اور متعین شدہ جانشین مفدل بھائی صاحب کی شہر آمد کے ایک روز بعد ہی پیش آئے۔پچھلے ماہ اسی جگہ پر ایک بم دریافت ہوا جسے اسی وقت ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔

ان دھماکوں نے غیر سیاسی بوہرہ برادری کو تشدد کے بھنور میں کھینچ کر خونریزی کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔حکام کو یہ تصدیق کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا دھماکے خالصتاً فرقہ ورانہ تھے یا ان کا مقصد برادری سے بھتہ وصول کرناہے۔تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

تاہم،دھماکوں نے یہ ثابت کردیاکہ کراچی میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ اگر بوہرہ برادری جیسی پرامن برادری کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے توسبھی غیر محفوظ ہیں۔خوف پھیلانے کے ساتھ ساتھ ایسے حملے شہر کی معیشت کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ بوہرہ برادری کو کراچی کا قدیم ترین اور معاشی طور پر مضبوط قرار دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اگرلوگوں کی زندگیاں،جائیداد اور کاروبارہی دہشت گردوں کے شر سے محفوظ نہ ہوں تو کراچی میں سرمایہ کاری کون کریگا؟

ان دھماکوں کے دیگراسباب کی تفتیش بھی کی جانی چاہئے مگر پولیس نے لشکرِ جھنگوی کے ایک دھڑے کی ممکنہ طور پر ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جو کراچی میں سب سے زیادہ سرگرم دہشت گرد گروہوں میں سے ایک مانا جا تا ہے جبکہ بلوچستان میں اسکی دہشت گردی پہلے ہی تسلیم کی جا چکی ہے۔اسی لئے حملوں کی تفتیش کے بے دلی سے دعوے کرنے کے بجائے ریاست کی جانب سے لشکر جھنگوی کو کچلنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ تنظیم بہت تیزی سے ملک میں دہشت گردی کا سب سے بڑا زریعہ بنتی جا رہی ہے۔

تمام دہشت گرد گروہوں کیخلاف ایسی ہی کاروائی درکارہے کیونکہ کراچی میں اسلام کے بقیہ چھوٹے فرقوں کے ارکان کیخلاف دھمکیوں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ابھی تک دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن اقدام نہ لیکرحفاظتی اداروں نے محض قاتلوں کی مدد کی ہے۔جب تک انتہا پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم نہیں کیا جاتااور انکی کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور انہیں پایہء تکمیل تک پہنچانے والوں پر مقدمات چلا کرانہیں سزا نہیں دی جاتی، خونریزی میں کمی کا امکان بہت کم ہے..شکریہ ڈان نیوز وین سائیٹ اردو سکشن۔

بھارت کے صنعتی شہر ممبئی کی ہائی کورٹ میں امریکہ میں بننے والی پیغمبر اسلام کے خلاف متنازعہ فلم کے تعلق سے یوٹیوب پر مقدمہ درج کیا گيا ہے۔

ممبئی کے ایک مقامی وکیل اعجاز نقوی نے پیر کو اس فلم کے پروڈیوسر اور یوٹیوب پر فلم کے ٹریلر ڈالنے کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس کیس کی سماعت ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کھن ولکر کریں گے۔
یہ مقدمہ کانگریس پارٹی کے ایک رکن امین مصطفی ادریسی کے نام سے اعجاز نقومی نامی ممبئی کے وکیل نے دائر کیا ہے۔

مسٹر ادریسی نے فلم کے ٹریلر نشر کرنے پر گوگل کے چیف ایگزکٹیو لیری پیج کے خلاف کاررائی کا مطالبہ کیا ہے اور گوگل اور یوٹیوب پر مقدمہ چلانے کی بات کہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یوٹیوب پر فلم کے آنے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ وکیل اعجاز نقوی کے مطابق مقدمہ پیر کو دائر کیا گیا ہے اور اسی روز اس پر سماعت کی توقع ہے۔

بھارت میں متنازع فلم کے ٹریلر اور اس کے جزوی حصے اب بھی یوٹیوب کی سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں اور عرضی گزار کا کہنا ہے اگر انہیں نا ہٹایا گیا تو اس سے حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں

mwmm02مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹریٹ میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا کہ ملت تشیع کی تمام تنظیمیں، مدارس اور آئمہ مساجد کے ساتھ مل کر ایک عظیم الشان کانفرنس "لبیک یارسول اللہ کانفرنس" کے نام سے پاکستان کے تاریخی شہر لاہور میں 7 اکتوبر کو منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری امریکہ کے خلاف تحریک کا اب آغاز ہوا ہے، جو مجرموں کے انجام تک جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم سرزمین پاکستان سے امریکی ناپاک وجود اور اس کے اثر و رسوخ کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ علامہ اسدی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے مسلم امہ کے خلاف صلیبی جنگ کا آغاز کر دیا ہے، اگر مسلم امہ اور مسلم ممالک کے سربراہان متحد ہو کر جواب نہ دیں تو امریکہ اسلامی اقدار کو مزید پامال کرکے دنیا میں اسلام کے خلاف نفرتوں میں اضافہ کر دے گا۔

علامہ عبدالخالق اسدی نے پنجاب بھر کے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ اس عظیم مشن کے لئے سرگرم عمل ہو جائیں اور تمام مکاتب فکر تک یہ پیغام پہنچائیں کہ آئیں سب مل کر نظام مصطفٰی (ص) اور حرمت محمد عربی (ص) کے لئے اس کانفرنس میں شامل ہوں اور دشمن کو بتا دیں کہ ہم سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں، لیکن حرمت رسول (ص) پر آنچ برداشت نہیں کرسکتے۔ اجلاس میں ڈویژنل سیکرٹری جنرل علامہ حسن ہمدانی، ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ محمد اقبال کامرانی، رائے ناصر علی، رانا ماجد، اسد عباس نقوی، سید حسین زیدی، مظاہر شگری، عمران شیخ، سید مسرت کاظمی اور سید اخلاق الحسن شیرازی شریک تھے۔

امریکہ میں گستاخانہ فلم ،کے ایک ہفتے بعد ہی فرانس کے میگزین نے گستاخانہ خاکے شائع کئے تو اب جرمن میگزین ٹائٹانک ایک ایسی ہی گستاخانہ جسارت کی تیاری کرہا ہے جس میں جس میں جرمنی کت سابق صدر کی بیوی اس گستاخانہ حرکت کا حصہ بنے جاری ہے
سوال یہ ہے کہ پے در پے امریکہ سے یورپ تک اس قسم کی گستاخانہ حرکتوں کا مقصد کیا ہوسکتا ہے
اگر عالمی میڈیا کو کوئی شخص واچ کررہا ہوتو یہ بات آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ وہ ادیان کی مقدس ترین ہستیوں کے تقدس کو عام آدمی بشمول اس ادیان کے ماننے والوں کے ذہن سے محوکرنا چاہتے ہیں
وہ چاہتے ہیں کہ آسمانی مقدس کتابیں اور رسولوں کا تقدس ختم ہوجائے ظاہر ہے کہ جب تقدس نہ ہوگا تو پھر ان کی تعلیمات پر عمل در آمد بھی نہیں رہے گا ۔
دوسری چیز یورپ بشمول امریکہ ،عرب ممالک میں تازہ ترین بدلتے ہوئے حالات سے بھی خوفزدہ ہیں کیونکہ جہاں یہ تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں وہاں پر نہ صرف دینداری فروغ پا رہی ہے بلکہ عام سیاسی معاملات میں بھی خاص طور پر امریکہ اسرائیل اور یورپ کے حوالے سے پالیسی میں بھی بڑی تبدیلی رونما ہورہی ہے جیسے پہلے ان ملکوں کی پالیسیاں ڈیکٹیشن پر مبنی ہوتیں تھیں اب جبکہ ایسا آسان نہیں رہا ۔
تیسری چیز وہ تمام مسلم اور عرب مسلم ممالک جہاں کوئی تبدیلی تو رونما نہیں ہوئی لیکن دیگر ممالک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے ان ممالک کی بادشاہتوں کو بھی خوفزدہ ضرورکیا ہے تو دوسری جانب عوام کو جرات بخشی ہے کہ وہ حکومتی معاملات میں پہلے کی طرح خاموش نہ رہیں اس لئے اب ان ممالک کے حکمرانوں کے لئے بھی پہلے کی طرح کھلے عام سامراج نوازی آسان نہیں رہی ہے
چوتھی چیز یورپ میں بڑھتی ہوئی اسلامی لہر ہے روحانیت اور معنویت سے خالی یورپ کا انسان ان آخری چند دہائیوں میں بڑی تیزی کے ساتھ اسلام کی جانب متوجہ ہوچکا ہے ۔
ان تمام باتوں کے علاوہ بھی ایسے عوامل ہیں جو اس قسم کی گستاخیوں میں کارفرماہیں جیسے بعض سامراجی آلہ کار مسلمانوں کی جانب سے اسلام کی غلط تصویر پیش کرنا ،یورپ کے بہت سے انٹیلیکچولز کی اسلامی تعلیمات تک درست رسائی نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں
اس وقت ان تازہ گستاخانہ حرکتوں کے پیچھے بغیر کسی شک وشبے کے عالمی شدت پسند یہودی یا صیہونیزم کا ہاتھ نظر آتا ہے
ان حالات میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ عوامی و حکومتی دونوں سطح پر برابر ردعمل ظاہر کریں جو مقامی سطح سے لیکر عالمی فورمز تک مسلسل و معقول جدوجہدسے ہی ممکن ہے
عوام کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو آسانی کے ساتھ نظر انداز نہ کریں بلکہ معقول اور سنجیدہ اقدامات جیسے پرامن ایسااحتجاج کریں کہ حکومتیں مضبوط اور نتیجہ خیز قدم اٹھانے پر مجبور ہوں ۔
عالمی سطح پر مسلم امت کے حکمران اسی وقت ہی قدم اٹھاینگے جب مسلم امہ کی عوام مضبوط و معقول آواز اٹھائے ۔
حکمران عالمی فورمز میں بات کو بے نتیجہ دیکھنے کے بعد مشترکہ بائیکاٹ اور روابط کو ختم کرنے جیسے اقدامات کرسکتے ہیں تو دوسری جانب اپنی باہمی وحدت کو بھی اس موقع پر فروغ دے سکتے ہیں ۔
اگر مسلم حکمرانوں نے اس کاکوئی موثر و معقول حل تلاش نہ کیاتو پھر اس کے ممکنہ نتائج بہت سے مسلم ممالک میں خانہ جنگی ،بدامنی یہاں تک کہ حکومتوں کی تبدیلی جبکہ عالمی سطح پر حالات کی کشیدگی پر منتج ہوسکتے ہیں تو دوسری جانب شدت پسند گروہوں کو تقویت ملنے کے ساتھ ساتھ مزید شدت پسند گروہ بھی وجود میں آسکتے ہیں ۔ تحریر ایم ڈبلیوایم میڈیا سیل

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree