The Latest

myc.karachiملی یکجہتی کونسل صوبائی سطح کا اجلاس کراچی کے مقامی ہوٹل میں 12 ستمبر کو منعقد کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ میزبانی کے فرائض انجام دے گا۔ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے پروگرام کے انتظامات کے لئے مرکزی شوریٰ نظارت کے رکن مولانا مرزا یوسف حسین کو کو آرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے جبکہ ان کے ہمراہ کراچی ڈویژن کے رہنما مولانا مختار امامی، مولانا صادق رضا تقوی، مولانا علی انور جعفری اور اصغر عباس زیدی خدمات انجام دیں گے۔ اس سلسلے میں دعوت ناموں کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے مختلف وفود نے جماعت الدعوۃ کراچی کے امیر انجینئر محمد نوید، جامعہ بنوریہ العالمیہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم، جماعت اسلامی سندھ کے امیر اسد اللہ بھٹو، محمد حسین محنتی، جمعیت علمائے پاکستان سندھ کے جنرل سیکریٹری عقیل انجم اور تحریک منہاج القرآن کراچی کے امیر ظفر قادری سمیت مختلف مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں کا دعوت نامہ پہنچا دیا ہے۔

9e2da3b69f12c2eed78f14bf191f9223 XLکل جماعتی کنونشن کے دوسرے روز پہلی نشست میں صوبائی رپوٹس پیش کرتے ہوئے علامہ مقصودی علی ڈومکی سیکرٹری بلوچستان نے کہا بلوچستان اور خاص کر کوئٹہ شہرگذشتہ پندرہ سالوں سے دہشت گردی کی زد میں ہے اور ان پندرہ سالوں میں کسی ایک مجرم کو بھی نہیں پکڑا گیا بلوچستان میںیوں محسوس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے
انہوں نے اس بات پر تشویس کا اظہا کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں اور کالعدم جماعتوں کی جانب سے تشہیراتی مہم اور مقامی بعض اخبارات میں بیانات ان شدت پسندوں کے دوبارہ فعال ہونے پر دلالت کرتی ہے
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں یہ کالعدم گروہ دوبارہ فعال ہو رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت کے عظیم اجتماع میں ناصرملت نے یہ اعلان کیا تھا کہ شیعہ کشی نہ رکی تو پھر لانگ مارچ کیا جائے گا لہذا اس دفعہ ہمارا لانگ ریاستی ان اداروں کی جانب ہونا چاہیے جو اصل میں اس ملک کے حاکم ہیں
انہوں نے کہا کہ عام اہل تشیع میں یہ احساس مضبوط ہوتا جارہا ہے شیعہ کشی کے پیچھے ریاستی اداروں کا ہاتھ ہے اگر ایسا ہے تو پھر قوم کو کھل کر آگاہ کیا جائے
انہوں نے کہا کہ مستونگ میں دو عالم دین کا سرکاٹ کر قتل کیا گیا جبکہ اسی مستونگ میں ہی چند اہل تشیع کو کو قتل کے بعد بے غسل و کفن دفن کیا گیا عجیب بات ہے کہ دہشت گرد قتل عام کی ووڈیوز جاری کرتے ہیں لیکن خفیہ ایجنسیوں کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا دہشت گرد کوئٹہ میں ہر اس پولیس آفسیر تک پہنچ جاتے ہیں جو ان کے خلاف تحقیقات کرتا ہے پھر اسے قتل کرتے ہیں لیکن خفیہ ایجنسیوں کو پتہ نہیں چلتا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دال میں کچھ کالاہے

modal.conventionمجلس وحدت کے جماعتی کنونشن میں اضلاع کے درمیان کارکردگی کی کی جانچ پڑتال کے بعد ملک بھر کے کچھ اضلاع کو ماڈل اضلاع کے طور پر پہچنوایا گیا ماڈل اضلاع کی پہچان کا معیار ان اضلاع کی مختلف حوالوں سے بہتر کارکردگی کو قرار دیا گیا تھا ماڈل اضلاع کا اعلان کرتے ہوئے 

ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم پنجاب علامہ اصغر عسکری نے کہا کہ پنجاب کے 37 اضلاع میں سے کارکردگی اور فعالیت کی بنیاد پر پنجاب کے پانچ اضلاع ملتان، بھکر، جھنگ، چنیوٹ اور اوکاڑہ کو ماڈل اضلاع قرار دیا گیا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح سندھ سے بدین، خیرپور اور ضلع ملیر کو ماڈل ضلع قرار دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، صوبہ خیبرپختونخوا، صوبہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے تمام اضلاع کے نمائندگان نے اجلاس میں شرکت کی ہے، اجلاس میں مرکزی سیکرٹری اُمور خارجہ سید شفقت شیرازی، ایم ڈبلیو ایم قم کے سیکرٹری جنرل سید تقی شیرازی، صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ عبدالخالق اسدی، صوبائی سیکرٹری جنرل سندھ علامہ مختار امامی، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل خیبر پختونخوا علامہ سید عبدالحسین، صوبائی سیکرٹری جنرل بلوچستان علامہ مقصود علی ڈومکی، رُکن شوریٰ عالی علامہ حیدر علی جوادی، علامہ ہاشم علی موسوی، علامہ سید شبیر بخاری، علامہ سید مظہر کاظمی، ناصر عباس شیرازی، یافث نوید ہاشمی، نثار علی فیضی سمیت دیگر مرکزی و صوبائی رہنمائوں نے شرکت ہیں

shora ehtijajٹارگٹ کلنگ کے خلاف کل ملک بھر سے آئے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے عہدہ دار احتجاج کرینگے
ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کل شام چار بج کر تیس منٹ پر ملک بھر سے آئے ہوئے مجلس وحدت کے عہدہ داراحتجاجی ریلی نکالیں گے یہ احتجاجی ریلی پریس کلب اسلام آباد کے سامنے پچھلے ایک ہفتہ سے لگے ہوئے احتجاجی کیمپ پر پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیار کرے گی جہاں اہم شخصیات خطاب کرینگی
واضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے خلاف گذشتہ ایک ہفتے سے احتجاجی کیمپ لگایا ہوا ہے اس کیمپ کا مقصد شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کرنا اور اپنی مظلومیت کو ریاستی ذمہ داروں اور عوام کے سامنے اجاگر کرنا ہے

 مجلس وحدت کے سالانہ جماعتی دوسرے کنونشن کی دوسری نشست jawadi.haider

دوسری نشست سے ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ نظارت کے رکن علامہ حیدر علی جوادی نے کہا کہ اگر تم مظلوم کی مدد نہیں کرتے تو تمہیں حسینی کہلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ، حسین ع اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لیے میدان عمل میں آئے تھے اس لئے ہماری مجالس اور ماتم اصلاح امت کے لیے ہونی چاہیں ، انہوں نے کہا کہ علی ع نمازی بھی تھے ، غریبوں کے ہمدرد بھی تھے ، تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے سوکھی روٹی کھا لی لیکن کسی ظالم کے در سے تر نوالہ نہیں لیا ، علی ع ہر فیلڈ میں مرد میدان تھے ، انہوں نے کہا کہ آپ نے وحدت کا علم بلند کر رکھا ہے جب تم قد بڑھاتے ہو ہو تم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، اور ذمہ داری عائد ہونے کے بعد تم انسان کی انسانیت سازی میں مدد کرو ، انہوں نے مزید کہا کہ مومن کی علامت عہدو پیمان پر کھڑا ہونا ہے ، جب یہ جماعت نہیں بنائی گئی تھی تو تم پر کسی کا کوئی حق نہیں تھا ، لیکن اب پوری بشریت کا تم پر حق ہے کہ انسانوں کو اخلاق حسنہ سے مزین کرو ، انہیں فکری بیدار ی دو اور انہیں دشمن اور دوست کی پہچان کراؤ،۔
کنونشن کی دوسری نشست میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ، ڈپٹی سیکرٹڑی جنرل علامہ محمد امین شہیدی ، سیکرٹری امور خارجہ علامہ شفقت شیرازی، سیکرٹری نظیم سازی علامہ شبیر بخاری ، سیکرٹری امور جوانان علامہ اعجاز بہشتی، سیکرٹری سیاسیات سید علی اوسط رضوی بھی موجود تھے، نظامت کے فرائض مولانا صادق تقوی آف کراچی نے سرانجام دیئے ، اس موقع پر ماڈل قرار دیئے جانیوالے اضلاع جھل مگسی، گنداخہ۔ ملیر کراچی،بدین ،جھنگ،بھکر ، چنیوٹ اور اکوڑاہ کے ضلع مسؤلین نے اپنے اپنے اضلاع کی کارکردگی رپورٹس پیش کیں، کنونشن میں بلوچستان کے نو اضلاع کے 72،آزاد کشمیر کے تین اضلاع کے دس،خیبر پختون خواہ کے پانچ اضلاع کے34، سندھ کے بائیس اضلاع کے 217، اور پنجاب کے پچیس اضلاع کے 134افراد شریک ہی

convention02پریس ریلیز

اسلام آباد  ( پ ر ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا سالانہ دو روزہ تنظیمی و تربیتی کنونشن جامع الصادق اسلام آباد میں شروع ہو گیا ، کنونشن کی صدارت مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کی کنونشن کے پہلے روز مرکزی و صوبائی کابینہ اراکین ضلعی مسئولین سمیت پاکستان کے54اضلاع کے سات سو سے زائد نمائندگان شریک تھے ،  افتتاحی نسشت سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ ہمارے ازلی دشمن امریکہ کی سازش ہے کہ ہمیں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے ہمارے مخالفین کے ساتھ  الجھا دے تاکہ اسے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے میدان خالی ملے ، ان حالات میں ہماری ذمہ داریں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں ہم پر لازم ہے کہ اپنی طاقت کو تسلیم کرائیں ، انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین اپنی موثر حکمت عملی کے ذریعے اپنی طاقت تسلیم کرا رہی ہے  لیکن جو ں جوں ایم ڈبلیو ایم کی تحریک کو تقویت مل رہی ہے  دشمن اور زیادہ بیدار اور متحرک ہو رہا ہے ، ہمیں ایسی حمؤکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے کہ دشمن ہنم سے پیچھے رہے ، آج کراچی کوئٹہ ، بلوچستان، پارا چنار ، گلگت ،  بلتستان سمیت ہر علاقہ میں ہمیں کمزور کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں ہم نے کسی  فرد کا نہیں قوم مکے سرپرست کا کردار ادا کرنا ہے اس ضمن میں ہمیں ایم ڈبلیو ایم کو مرکز سے لے کر یونٹ کی سطح تک تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہو گا ، اس لیے ہمیں شعبہ تنظیم سازی کو فعال بنانے کی ضرورت ہے، یونٹس کی تشکیل کے بعد کارکنوں اور ذمہ داران کی تربیت پر توجہ دینی ہو گی ، انہوں نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے شعبوں بالخصوص شعبہ جوان اور شعبہ میڈیا کو انتہائی موثر اور فعال بنانے پر توجہ دینا ہو گی،  سالانہ تنظیمی کنونشن کی دوسری نسشت میں خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ نظارت کے رکن علامہ حیدر علی جوادی نے کہا کہ اگر تم مظلوم کی مدد نہیں کرتے  تو تمہیں حسینی کہلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ، حسین اپنے جد کی امت کی اصلاح کے لیے میدان عمل میں آئے تھے اس لیے ہماری مجالس اور ماتم اصلاح امت کے لیے ہونی چاہیں ،  انہوں نے کہا کہ علی نمازی بھی تھے ، غریبوں کے ہمدرد بھی تھے ، تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے سوکھی روٹی کھا لی لیکن کسی ظالم کے در سے تر نوالہ نہیں لیا ، علی ہر فیلڈ میں مرد میدان تھے ، انہوں نے کہا کہ آپ نے وحدت کا علم بلند کر رکھا ہے جب تم قد بڑھاتے ہو ہو تم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، اور ذمہ داری عائد ہونے کے بعد تم انسان کی انسانیت سازی میں مدد کرو ، انہوں نے مزید کہا کہ مومن کی علامت عہدو پیمان پر کھڑا ہونا ہے ، جب یہ تنظیم نہیں بنائی گئی تھی تو تم پر کسی کا کوئی حق نہیں تھا ، لیکن اب پوری بشریت کا تم پر حق ہے کہ انسانوں کو اخلاق حسنہ سے مزین کرو ، انہیں فکری بیدار ی دو  اور انہیں دشمن اور دوست کی پہچان کرائو، کنونشن کی پہلی دو نسشتوں میں نظامت کے فرائض ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ اسگر عسکری اور  اوکاڑہ  کے ضلعی مسئولین نے اپنے اپنے اضلاع کی کارکردگی رپورٹس پیش کیں،

conventionایم ڈبلیو ایم کا کل جماعتی دو روزہ کنونشن دارالحکومت میں اس وقت جاری ہے جو کل شام گئے تک جاری رہے گا کنونشن میں ملک بھر سے نمایندے موجود ہیں
کنونشن کی پہلی نشست صبح دس بجے تلاوت کلام پاک اور نعت و قصیدے کے ساتھ شروع ہوئی جس کے بعد شرکاء کو اجلاس کے قواعد و ضوابط سے آگاہ کیا گیا
ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم علامہ امین شہیدی شرکاء اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملک بھر سے آئے ہوئے نمایندوں کو خوش آمدید کہا اور ملکی وبین الاقوامی مسائل نیز امت مسلمہ کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہمارا ازلی دشمن ہمیں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں الجھاکر اپنے لئے میدان خالی کرانا چاہتا ہے
اس وقت ہمارا پہلا کام اپنی جماعت کے سٹریکچر کو مضبوط کرنا ہے
شعبہ تنظیم سازی کو فعال تر بنانا اس وقت اہم ضرورت ہے ،شعبہ جاتی مسؤلین کی بہتر کارکردگی کے لئے تربیتی پروگرامز تشکیل دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ میڈیا اور شعبہ جوان ہمارے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں لہذا ن دو شعبوں پر بھی خاص توجہ کی ضرور ت ہے
انہوں نے کہا دستور کا مکمل مطالعہ رکھنا تمام افراد کے لئے انتہائی ضروری ہے کیونکہ ہماری تمام تر کارکردگی اور درست سمت میں سفر دستور پر پابندی اور اس کے نفاذ سے ہی ممکن ہے
ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے خطاب کے بعد اس وقت ماڈل اضلاع اپنی کارکردہ گی رپورٹ پیش کر رہے ہیں

کنونشن ہال کی کچھ جھلکیاں (۱)

mwmlogo0012ایم ڈبلیوایم کی جانب سے دو روزہ کل جماعتی کنونشن ہال شرکاء سے کچھاکچھ بھرا ہوا ہے ہلال کی شکل میں کرسیاں لگائی گئیں ہیں جس کے باکل فرنٹ پر سٹیج بنایا ہوا ہے
کنونشن ہال کی جانب جب آپ روانہ ہونا چاہیں تو آپ کو سیکوریٹی بیریر سے گذرنے کے فورا بعد استقبالیہ کیمپ کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں ایم ڈبلیوایم کے جوان آپ کے استقبال کے لئے تیار نظر آینگے استقبالیہ کیمپ کے ساتھ ہیں آپ کو مختلف صوبوں اور اضلاع کے ایسے بینرز بھی ملے گے جس میں مختلف اہم پیغامات کے ساتھ ساتھ اہم فعالیات بھی تحریر ہیں مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہیں آپ کو پھر شعبہ جوان کے بااخلاق جوان ہاتھوں ہاتھ لینگے جو کنونشن ہال میں آپ کی نشست تک آپ کی رہنمائی کرینگے
کنونشن ہال کے بیگ سائیڈ پر ایم ڈبلیوایم میڈیا سیل کی ٹیم کنونشن کی کوریج ڈسک لگی ہوئی ہے جبکہ شعبہ جوان کے افراد بھی کوریج کرتے نظر آینگے
کنونشن کے انتظامی امور کے لئے مرکزی آفس کی ایک ٹیم آپ کو ہر جگہ پیش پیش نظر آئے گی کنونشن ہال میں اس وقت نعروں کی گونج سنائی دی جب مرکزی سیکرٹری جنرل تشریف لائے شرکاء اجلاس نے مرکزی سیکرٹری جنرل کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ مختلف اضلاع کی میڈیا ٹیم کے رضاکار اورشرکا اجلاس کی ایک بڑی تعداد تصویر اور فوٹیج کے لئے سٹیج کی جانب بڑھے ۔
کنونشن کا پہلا سیشن اختتام پذیر ہوا ،پہلے سیشن میں شرکاء کی دلچسپی اس قدر زیادہ تھی کہ یوں لگ رہا تھا کہ گویا وہ دنیا و مافیھا سے کٹ چکے ہیں اور ان کی توجہ صرف کنونشن ہال میں مرکوز ہے
اجلاس کا دوسرا سیشن نماز ظہرین کے بعد ٹھیک دو بجے شروع ہوگا اس سیشن میں بھی ماڈل اضلاع اور صوبائی رپورٹس پیش کی جاینگی جبکہ نشست کے آخر میں اخلاقی لیکچر ہوگا
اجلاس دو دن جاری رہے گا جس میں ملک بھر مجلس وحدت مسلمین کی جماعتی کارکردگی سمیت متعدد اہم موضوعات پر گفتگو شنید اور تنقید ی جائزہ لیا جائے گا نیز اس اجلاس میں مختلف قسم کے دیگر پروگرام بھی ہونگے

ameen.protest campڈپٹی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم علامہ محمد امین شہیدی نے اسلام آباد میں ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کی جانب سے دہشت گردی اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف نکالی جانے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جب احتجاج کرتے ہیں تو ہمیں دھمکیاں دی جاتیں ہیں تمہیں ماردیا جائے گا اہل تشیع کی مظلومیت کا یہ عالم ہے کہ اب تک کے ہزاروں شہیدوں میں سے کسی ایک کے بھی قاتل نہیں کو سزا نہیں ملی جو پکڑاجاتا ہے اسے عدلیہ چھڑالیتی ہے ، یا پھر اسے کوئی ریاستی ادارہ چھوڑوالیتا ہے
ہم جب اپنے مقتول افراد کے قاتلوں کی تلاش کرتے ہیں تو ہمیں خون کے چھینٹے ریاستی اداروں میں نظر آتے ہیں ،ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم محب وطن ہیں ،ہماراجرم یہ ہے کہ ہم امت مسلمہ کے درمیان وحدت چاہتے ہیں ،ہم پرامن لوگ ہیں ،ہم نے لشکر کشیاں نہیں کیں ،ہم نے لشکر نہیں بنائے ،ہم کہتے ہیں امریکہ مردہ باد ،ہم اسرائیل کے وجود کو نہیں مانتے ،ہم بیرونی دشمنوں کے آلہ کار نہیں بنتے ۔۔۔بس ہمارا جرم یہی ہے ،اس لئے ہمارا قتل عام کیا جارہا ہے
احتجاجی کیمپ کے سامنے خواتین کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ظلم پر خاموش نہیں رہے گے اور نہ ہی کسی سازش کا شکار ہونگے دہشت گرد چاہتے ہیں کہ ہمیں دیوار سے لگا کر قائد اعظم کے پاکستان پر اپنا راج رچالیں تو یہ ان کی بھول ہے ،انہوں نے کہا یہاں کوئی فرقہ واریت نہیں ہے یہ قاتل شیعہ اور سنی دونوں کاقتل کر رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی ادارے ہماری دادرسی نہ کریں اور ہماری مظلومیت پر اسی طرح خاموش رہیں تو پھر ہمیں مجبورا عالمی اداروں کے پاس بھی جانا پڑے گا ہم مجبورا اقوام متحدہ سے بھی رجوع کرینگے
(علامہ امین شہیدی صاحب کے خطاب کا متن اور ووڈیو عنقریب لود کی جائے گی)

woman protest shiakllingایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کی جانب سے اسلام آباد کوئٹہ اور کراچی میںشیعہ ٹارگٹ کلنگ اور بے گناہ افراد کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کیا اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں علامہ امین شہیدی،علامہ اصغر عسکری،علامہ اعجاز بہشتی،علامہ فخر علوی سمیت سندھ سے آئے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے عہدہ دار بھی شریک تھے 
ایم ڈبلیو ایم اسلام آباد / راولپنڈی (شعبہ خواتین)کی سیکرٹری جنرل سیدہ رباب زیدی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن قوتیں بد امنی اور انتشار کے ذریعے عوام کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل کر پاکستان کی بنیادیں کمزور کرنا چاہتی ہیں، انہوں نے کہا کہ حالات ایسا رخ اختیار کر گئے ہیں کہ خواتین اور بچوں کو بھی گھروں سے باہر نکلنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں میدان میں حاضر رہ کر صبر واستقلال کی طاقت سے ان سازشوں کو ناکام بنا نا ہو گا، صبر وا ستقلال ایسی طاقت ہے جس سے تمام اقسام کے بحرانوں کا رخ موڑا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کستان کی سرزمین پر ہم اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والے ہیں، ہم بھی امتحانات سے گزر رہے ہیں۔ اگر ہم نے ان امتحانات پر غلبہ پا لیا تو ہم کامیاب ہو جائیں گے۔ جب بھی انسان کسی مشکل پر غلبہ پاتا ہے تو وہ طاقتور ہو جاتا ہے۔ مجلس وحدت مسلمین راولپنڈی / اسلام آباد (شعبہ خواتین)  شکریال یونٹ کی سیکرٹری جنرل ثمینہ بتول نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم ہونا جرم نہیں مظلوم بن کر رہنا جرم ہے، اس وقت پورا پاکستان لہو لہو ہے ، کوئٹہ ، کراچی اور گلگت بلتستان سمیت کوئی  علاقہ نہیں جہا ں شیعیان علی  کو تحفظ حاصل ہو ، ہر روز لاشوں پر لاشیں گر رہی ہیں ، حکومت اور حکومتی ادارے خاموش ہیں اور ظالموں کے ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں۔ امامیہ آرگنائزیشن کی مرکزی رہنماء تاثیر فاطمہ نے کہا ہمیں اپنے معاشرے کے اندر بیداری پیدا کرنی ہے تاکہ عوام ظلم کے خلاف اٹھیں اور معاشرے کے تمام طبقات کو اس میدان میں لے آئیں اور انہیں شعور دیں۔ ریلی کے شرکاء سے شعبہ خواتین کی دیگر عہدیداران نے بھی خطاب کیا۔ ریلی نیشنل پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جنہوں نے ہاتھوں میں بینرز، پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ جن پر دہشت گردی مردہ باد، امریکہ مردہ باد، نااہل حکومت مردہ باد کے نعرے درج تھے۔

ایم ڈبلیو ایم کراچی۔

شہر کراچی میں خواتین کی احتجاجی ریلی کا آغاز نمائش چورنگی سے ہو کر کراچی پریس کلب پر اختتام ہوا احتجاجی ریلی کے شرکاء نے  تکفیری دہشت گردوں کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ملک بھر میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ کراچی میں نکالی جانے والی احتجاجی ریلی میں ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے شیعہ عمائیدن کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی ،جبکہ گذشتہ دنوں کوئٹہ میں شہید ہونے والے سیشن جج شہید ذوالفقار نقوی کی والدہ بھی ریلی میں شریک تھیں اور انہوں نے امریکہ مردہ باد اور اسرائیل نا منظور سمیت دہشت گردوں کے خلاف شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔
کراچی میں منعقدہ احتجاجی ریلی میں شریک ایک کمسن بچے نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر درج تھا کہ صدر پاکستان،چیف جسٹس اور چیف آف آرمی اسٹاف آخر کب آپ دہشت گردوں کو جنہوں نے ہمارے والد کو قتل کیا ہے ،گرفتار کریں گے؟
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کی سیکرٹری جنرل خانم زہرا نجفی نے کہا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری،چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری اور چیف آف آرمی اسٹاف اشفاق پرویز کیانی دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے موثر کردار ادا کریں اور ملک میں جاری شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ایکشن لیں۔
ان کاکہنا تھا کہ ریاستی اداروں کو اب پاکستان یا دہشت گردوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف دہشت گرد شیعہ عمائدین کا قتل عام کر رہے ہیں اور دوسری طرف پولیس اور رینجرز انتظامیہ شیعہ نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہے۔
خانم نجفی کاکہنا تھا کہ دہشت گرد گروہ ملت جعفریہ کا قتل عام کر کے اپنے غیر ملکی آقائوں امریکہ اور اسرائیل کی خوشنودی میں مصروف عمل ہیں جبکہ پولیس اور رینجرز جیسے اداروں میں بھی ایسی کالی بھیڑیں موجود ہیں جن کے تانے بانے دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر سے ملتے ہیں انہوں شدید غصے سے کہا کہ شیعہ نوجوانوں کو من گھڑت کیسوں میں ملوث کرنا شہدائے ملت جعفریہ کی توہین ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
احتجاجی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شہید جج ذوالفقار نقوی کی والدہ کاکہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی شہادت پر چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس آف بلوچستان سمیت کسی سرکاری افسر نے تعزیت نہیں کی اور نہ حکومت نے شہید کی میت کو کوئٹہ سے کراچی لانے میں کسی قسم کا تعاون کیا۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان خواتین ونگ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ شیعہ نسل کشی پر از خود نوٹس لیتے ہوئے شیعہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزا دیں ۔

کوئٹہ:
مجلس وحدت مسلمین بلوچستان شعبہ خواتین کے زیر اہتمام کوئٹہ گلگت اور ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ نچاری امام بارگاہ سے بہشت زینب (ع) ہزارہ قبرستان تک سینکڑوں خواتین نے دہشت گردی اور شیعہ نسل کشی کے خلاف فلک شگاف نعرے لگاۓ۔ اس موقعہ پر مزار شہداء پر منعقدہ مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کی صوبائی آفس سیکریٹری خواہر نرجس بتول نے کہا کہ ہم پیروان زینب (ع) کربلائے عصر میں شہداء کا پیغام عام کرتے ہوئے ظالم یزیدیوں کو رسوا کریں گی۔ احتجاجی اجتماع سے ایم ڈبلیو ایم بلوچستان کی سیکریٹری محترمہ کوثر جعفری اور سیکریٹری امور جوانان سیدہ وجیہہ نے خطاب کیا۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree