شاید دیدا رنصیب ہو جائے!

وحدت نیوز(آرٹیکل) سینکڑوں برس ہوچلے ہیں کروڑوں انسان اس آرزو کو لیئے منتظر پھر رہے ہیں کہ آپؑ تشریف لے آئیں۔ باپ بیٹوں کو ان کی آمد کا مژدہ سناتے چلے گئے،مائیں آج بھی بچوں کو ان کے انتظار کی گھٹی پلا کر جوان کرتی ہیں ،خواتین، مرد، بچے ،بوڑھے ،جوان ہر مذہب، مسلک ،مکتب اور خطہء ارضی وسماوی کی مخلوقات اور آدم زاد ان کی آمد کی حسرت دل میں لیئے زندگی کے سفر کو طے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔پھول ،کلیاں،گلستان، خوشبو بکھیرتے ہیں ،شمع آپؑ کے فراق کو برداشت نہیں کرپاتی اور لاکھوں اشک بہاکر آپؑ سے التفات کا اظہار کرتی ہیں ،بُلبل اپنی زبان میں آپؑ کی تڑپ میں غزل سرا رہتا ہے ،عاشقان خون کے آنسو بہا کر آپؑ کی یاد میں مارے مارے پھرتے ہیں ،ہر ایک آپؑ کے دیدار کامشتاق ہے، ہر ایک آپؑ سے ارتباط کا خواہش مند ہے، ہر ایک آپؑ کی زیارت کیلئے تڑپتا ہے۔۔۔۔۔یہ تڑپ ،یہ بے قراری، یہ آرزوئے ملاقات، یہ خواہش دیدار۔۔۔۔۔وقت گذرنے کے ساتھ مایوسی نہیں پھیلاتے بلکہ ۔۔۔۔۔آتش عشق و آرزوئے وصال میں شدت پیدا کر رہے ہیں لہٰذا دعائیں کی جاتی ہیں کہ دیدار نصیب ہو ۔۔۔۔۔مناجات و ورد کیا جاتا ہے کہ آپؑ کی زیارت ہو،آنسو بہائے جاتے ہیں کہ مولاؑ تشریف لے آئیں اور دنیا کو ظالموں سے آزاد کروائیں ،کیسی کیسی اُمیدیں ہیں جو آپ ؑ کے ظہورتک موقوف ہیں ۔۔۔۔۔کتنے فیصلے ہیں جو صرف آپؑ کی آمد کے اعلان کے ساتھ مربوط ہیں۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ! وہ لوگ جو انتظار کر رہے ہیں ،جنہیں آپؑ کا منتظر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جو آپؑ کے فراق میں تڑپتے ہیں اور وصال کیلئے آتش عشق کو جلائے ہوئے ہیں اس دنیا کے خوش نصیب ترین لوگ ہیں ۔۔۔۔۔15 شعبان المعظم آپ ؑ کے میلاد پاک کا مبارک دن ہے ،اس روز پوری دنیا میں عاشقان مہدی ؑ، آپؑ کی یاد سے محافل گرماتے ہیں، آپؑ کے ذکر سے لذت دیدار و تڑپ ،انتظار کے لطف اُٹھاتے ہیں ،حقیقت تو یہ ہے کہ سچے اور کھرے عاشقان ہر دم و ہر لحظہ اسی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں  سچے اور کھرے عشق کا تقاضا بھی یہی ہے۔

 آپ کا فرمان ہے کہ " میں خاتم الاوصیاء ہوں، اللہ عزوجل میرے وسیلہ سے میرے خاندان اور میرے شیعوں کے مصائب ومشکلات ٹال دے گا" اور آپؑ کا یہ فرمانا کس قدر خوبصورت ہے کہ " میری غیبت کے زمانہ میں مجھ سے عوام کو اس طرح فائدہ پہنچے گا جس طرح سورج بادلوں کی اوٹ میں چلا جائے تو اس کے فوائد زمین والوں کو حاصل ہورہے ہوتے ہیں"۔

آج ہم پوری دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص جن مشکلات سے دوچار ہیں ان کو سوچ اور سمجھ کر کئی ایک بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بڑی تباہی آنے والی ہے اور ناگہانی آفات گھیرنے والی ہیں،مشکلات اور مصائب پہاڑ بن کر سامنے آجاتے ہیں اور نکلنے کی کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی ہوتی کہ ۔۔۔۔۔یکایک مشکلات ٹل جاتی ہیں ،مصائب اور پریشانیاں کافور ہوجاتی ہیں ،غالب دکھائی دینے والا دشمن مغلوب ہوجاتا ہے ،کسی کے وہم و گمان اور سوچ و فکر میں بھی نہیں ہوتا کہ یوں مشکلات سے جان چھوٹ جائے گی مگر ایسا ہوتا ہے اور ایک بار نہیں بار بار ہوتا ہے ۔۔۔۔۔یہی وہ فائدہ ہوتا ہے جو بادلوں کی اوٹ سے سورج پہنچا رہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اور اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ ہم (اہل تشیع) بغیر صاحبؑ( سرپرست وولی ) کے نہیں ہیں ۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ ہم اس کا ادراک کریں یا نہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہم ایسے الطاف و کرم پر آپؑ کی طرف متوجہ ہوں یا نہ ہوں ۔۔۔۔ان کا لطف و کرم جاری رہتا ہے،ان کے کرم کے سایہ کی چھت ہمیشہ تنی رہتی ہے۔۔

دوستان و عاشقان حضرت صاحب الامر والزمان ؑ کی صف میں شمار ہونا یقینا ایسی سعادت و عبادت ہے جس کا شاید کوئی تقابل نہ ہو مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس مقام و مرتبہ کو پانے کیلئے جس پاکیزگی قلب ،طہارت روح و نظر انسانیت سے محبت ،درد مند دل، اور تقویٰ و پرہیز گاری کی ضرورت ہے وہ ہم میں بدرجہ اتم موجود ہے۔۔۔۔۔ہمیں اس روز (15 شعبان ) کو اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ،اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ،اپنے روز مرہ معمولات پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم اپنا احتساب کررہے ہوں تو حقیقی منتظر کہلانے کے حق دار ہونگے۔

دوستان و خواہران محترم ! آج کے دن اس بات کا جائزہ ضرور لیں کہ ہم جس امام ؑ کا انتظار کر رہے ہیں ان کی آمد کے بعد معاشرے میں کونسی تبدیلیاں پیدا ہونگی، اگر ہم ان تبدیلیوں کیلئے آج سے ہی کوشش شروع کردیں تو یہ زمینہ سازی آپؑ کی خوشنودی کا باعث بن جائے گی ۔۔۔۔۔اگر امامؑ کی آمد پر مستضعفین مستکبروں پر غالب آنے والے ہیں اور کمزور قرار دیئے گئے ،لوگ غالب قرار پائیں گے ،عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا تو اس کا م کیلئے آج ہی سے کوششیں کیوں نہ شروع کی جائیں ۔ دردمندوں اور زخم خوردوں کیلئے مرہم کیوں نہ فراہم کیا جائے،اگر ہمارے دل مظلوموں و ستم رسیدوں کیلئے تڑپنے سے قاصر رہتے ہیں،ہماری نگاہیں اپنے سامنے ظلمہوتا دیکھتی ہیں اور لا تعلق ہو جاتی ہیں تو معاملہ درست نہیں ہے،اگر ہمارے آس پاس،ہماریے شہروں،ہمارے دیہاتوں اور ہمارے محلوں میں ظلم ہو رہا ہو،اسے روکنے کی جرات نا کی جائے اور مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی جائے یا لاتعلقی کا مظاہرہ کیا جائے تو کیسے امامؑ کی ہمرکابی میں ظالموں کے خلاف میدان سجایا جائے گا ۔ عدل کی حکومت تمام عالم پر قائم کرنے کیلئے آج سے ہی تبدیلی کی تحریک کیوں نہ شروع کی جائے ۔یاد رکھیں معاشرے میں تبدیلی ذات میں تبدیلی سے مشروط ہے ۔ معاشرہ سازی کا عمل خود سازی کے راستہ سے ہوکر گذرتا ہے۔

حدیث پاک ہے کہ " جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا"

امام العصرؑ کی معرفت کے زینے طے کرنے کیلئے میدان عمل میں رہنا ضروری ہے او ر جو دوست و خواہران میدان عمل میں رہتے ہیں انہیںخود احتسابی کی عادت ضرور ڈالنی چاہیئے ۔ ہر عمل کا جائزہ لیں کہ یہ خدا کی طرف پرواز اور قربت کا باعث ہے یا دشمنان خدا سے تعلق کی مضبوطی کا ذریعہ ہے اگر سفر بہ خدا ہے تو یقینا ہم زما نے کے امام ؑ کی خوشنودی حاصل کر نے میں کامیاب ہوں گے۔ یوم میلاد امام زمانہؑ کے دن خود احتسابی و جائزہ اعمال کے طور پر منائیں۔ اُمید ہے کہ اگر ہم نے احتساب و جائزہ اعمال کیا تو ،ہماری بے قراری ،ہماری دعائیں ،ہماری مناجات، ہماری خواہش دیدار و ملاقات اور آرزوئے وصال معرفت امامؑ کا ذریعہ بن سکتے ہیں اور ہم حقیقی منتظر کہلا سکیں گے۔

ایک دوست نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ امام حکم ربی سے غائب ہیں اور امر ربی سے ہی ظہور فرمائیں گے،اس صورت میں ہمیں دعائیں مانگنے،گڑگڑانے اور آنسوئوں کیساتھ مناجات اور ظہور کی دعائیں کرنے کی کیا ضرورت ہے وہ امر ربی سے ظاہر ہونگے ،ہماری دعائیں انہیں کیسے ظہور پر مجبور کر سکتی ہیں،،بندہ حقیر نے عرض کیا کوئی شک نہیںکہ امام کی غیبت امر ربی سے ہوئی،اور ان کا ظہور بھی امر ربی سے ہی ہو گا،اس لیئے کہ امر ربی کے سامنے کسی کو بھی سرتابی کی جرات نہیں ،چاہے کوئی بھی ہو،اس لیئے آپ کا ظہور پر نور امر ربی سے ہو گا اللہ جب چاہے گا انہیں ظہور کا اذن فرمائیں گے،مگر بقیۃ اللہ اعظم خود انتظار فرما رہے ہیں اپنے ظہور کا اسی لیئے آپ متظِر بھی ہیں اور منتظر بھی،جب وہ بھی منتظِر ہیں کہ ظاہر ہو کر ظلم کا خاتمہ کر دیں تو ان کا بیقراری میں فرمانا ہے کہ میرے جلد ظہور کی دعا کرو،یہ بہت بڑی عبادت کہی گئی ہے،آپ کی غیبت بلا شک و شبہ ایک الہی راز اور سر ہے ،اس راز سے آئمہ طاہرین نے بھی پردہ نہیں اٹھایا ،ہم بھی نہیں اٹھاتے بس انتظار کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اپنی آخری حجت کو جلد اذن ظہور دے ،ہمارا جلد ظہور کی دعا کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ہم مایوس نہیں ،ہم ان سے امید لگائے بیٹھے ہیں،ہم ان سے محبت اور عشق و عقیدت رکھتے ہیں ،ہم تیاری کر رہے ہیں کہ ظالموں کو نابود کر دیں اور اس راہ کو ہموار کر رہے ہیں ،زمینہ سازی کر رہے ہیں،زمینہ سازی یعنی ظہور کی راہیں ہموار کرنا،اس میں طہارت و پاکیزگی نفس سب سے پہلے ہے،تہذیب نفس سے ہی معاشرہ سازی کی طرف قدم اٹھائے جاتے ہیں،ہمیں اس مقصد کیلئے دو رنگی کو چھوڑناہو گا،دورنگی امام کے سپاہیوں میں نہیں چلتی،یہ کیسے ممکن ہے کہ لشکر حسین میں شامل ہوں اور عملی طور پر شمر ،خولی،یزید،عمر ابن العاص،امیر شام کے کردار و عمل کے نمونے پیش کرو جبکہ امام کے سپاہیوں کو ابوذر،عمار،مالک اشتر،میثم تمار بننا ہو گا،اب دیکھیں کہ کون کتنے پانی میں ہے ،آیا ہم اس قابل ہیں کہ خود کو ان مثالی لوگوں سپاہیان امام کے ساتھ کھڑا کر سکنے کی جرا ت کریں؟ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت نے گھر کیا ہو اور ہم امام کے سپاہی بن جائیں یہ ممکن نہیں،کوئی اس دھوکہ و فریب میں نا رہے کہ وہ سچی بیقراری کے بغیر امام کا سپاہی بن جائے گا اور امام کی قربت اسے حاصل ہوجائے گی،ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اس سے پہلے کہ کوئی عدل نافذ کر دے اور ہم آمادہ و تیار ہی نا ہوں۔ذرا جائزہ لیںکہ ہماری محبت اور تڑپ علی ابن مہزیار جتنی ہے،جس نے کتنے ہی حج اس امید اور تڑپ کے ساتھ انجام دیئے کہ دیدا ر نصیب ہوجائے،اور بالآخر اسے یہ سعادت نصیب ہو گئی ،ملاقات ہو گئی،محفل یاران میں بیٹھے کا اذن نصیب ہوا۔ہمیں جائزہ لینا ہے،ہمیں احتساب کرنا ہے ،ہمیں دنیا کی آلائشوں اور فساد سے خود کو دور رکھنا ہوگا۔

تحریر ۔۔۔۔ارشادحسین ناصر

وحدت نیوز(آرٹیکل) 13مئی سے اسلام آبادپریس کلب کے سامنے شروع ہونے والی بھوک ہڑتال اس وقت ایک بڑی احتجاجی تحریک کی شکل میں سامنے آ چکی ہے،22 جولائی کو اس قومی پلیٹ فارم سے ملک بھر میں بیشتر شہروں میں کامیاب احتجاجی دھرنوں کے باوقار پروگرام سے ایک سنگ میل طے کیا ہے ،مجلس وحدت مسلمین کے ذمہ داران کو ان دھرنوں کے حوالے سے توقع تھی کہ ستر کے قریب مقامات پر یہ منعقد ہو سکیں گے مگر میڈیا ذرائع نے یہ خبر دی ہے کہ 103مقامات پر روڈ بلاک دھرنے بڑی خوش اسلوبی اور پر امن طور پر دیئے گئے،ضلع قصور اور اوکاڑہ کے مشترکہ دھرنے پر ڈی پی او کی طرف سے خصوصی ذاتی دلچسپی کے باعث نامزد ایف آئی آر کاٹی گئی اور کئی ذمہ داران کو گرفتار بھی کیا گیا ،جو یقینی طور پر پنجاب حکومت اور اس میں شامل تکفیری عناصر کو خوش کرنے کی بھونڈی کوشش ہے،ایک احتجاجی تحریک جس کا دائرہ پورا ملک ہے جو بالکل پر امن ہے ایک پتا بھی نہیں ہلایا گیا،کسی سرکاری یا نجی املاک کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا اور شہریوں کیلئے ایمرجنسی راستے بھی کھول کے رکھے گئے ہیں اس پر امن تحریک کو مشتعل کرنے کی سازش ہے تاکہ تشدد شامل ہو اور عوامی رائے خلاف ہو جائے بہرحال مجلس کی قیادت نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے اسیران سے فوری ملاقاتیں کیں اور ان کی ضمانتوں کا اہتمام کیا ،ان کے ورثا و لواحقین سے بھی ملاقاتیں کی گئیں اور انہیں حوصلہ دیا گیا،کراچی سے لیکر گلگت بلتستان اور کوئٹہ سے لیکر ڈیرہ اسماعیل خان تک شہر شہر میں ہونے والے احتجاجی دھرنوں نے بہت سوں کی آنکھیں کھول دی ہیں ،مجلس وحدت نے ثابت کی اہے کہ اس کے پاس سٹریٹ پاور ہے،جسے وہ کسی بھی محاذ پر استعمال کر سکتے ہیں،سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ احتجاج کوئی لاش سامنے رکھ کے نہیں ہو رہا تھا یہ ایک سلجھے ہوئے لوگوں کا شعوری احتجاج تھا جس کے شرکا ء اس ہدف و مقصد سے ہم آہنگ تھے جو قیادت کی طرف سے بیان کیا گیا تھا،22 جولائی کے احتجاج سے قبل 17جولائی کو اس احتجاجی تحریک نے پورے پاکستان میں کامیابی سیخواتین کی ریلیاں نکال کے اپنی طاقت کا لوہا منوایا،پہلے سے طے شدہ خواتین کا احتجاج بلا شبہ ایک کامیاب اور پر شکوہ سلسلہ تھا جس کیلئے یقیناًمجلس کی قیادت اور اس کے ذمہ دران بالخصوص شعبہ خواتین تحسین کے مستحق ہیں،تمام تر نامساعد حالات،وسائل کی عدم دستیابی اور مجموعی طور پر قوم کی تقسیم و تفریق کے باوجود پاکستان بھر میں بلاشبہ جو احتجاج شعبہ خواتین کی طرف سے ہوا ہے اس نے بہت سو کی آنکھیں کھول دی ہیں کہ یہ جماعت خواتین کا اتنا بڑا سیٹ اپ رکھتی ہے کہ ایک ہی وقت میں اتنے شہروں میں تظاہرات اور ریلیاں نکال لیں۔میرا خیال ہے ان احتجاجی ریلیوں اور دھرنوں سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال تحریک کو مزید پذیرائی اور تقویت حاصل ہو ئی اور مقاصد کو حاصل کرنے میں کافی مدد ملے گی۔

پاکستان میں تشیع کے حقوق کی پائمالی،مکتب کے پیروان پر آنے والی آفات اور حکمرانوں کی متعصبانہ پالیسیوں،سیکیورٹی اداروں کی مجرمانہ غفلت ،آئے روز شیعان علی ؑ کا قتل،قاتلوں کو کھلی آزادی اور مظلوموں کی بے بسی کا المناک منظر گذشتہ تین دہائیوں سے مسلسل دیکھا جا رہا ہے ،اس منظر میں کچھ تبدیل نہیں ہو رہا ،یہ ایک جیسا منظر ہے،ایک جیسے واقعات جو مختلف انداز میں مختلف ایریاز میں ،مختلف ناموں سے واقع ہوتے ہیں ،ان کا سب سے نمایاں پہلو یہ رہا ہے کہ اس کے متاثرین اہل تشیع ہیں،یا کچھ عرصہ سے محبان اہلبیت سنی برادران بھی اس کا شکار ہوئے ہیں،پہلے صرف اہل تشیع کے جلوسوں پر حملے ہوتے تھے اب میلاد النبی کے جلوسوں اور محافل کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے،پہلے صرف مجالس اما م حسین ؑ اور امام بارگاہیں نشانہ بنتی تھیں اب مساجد و دربار بھی نشانہ بنتے ہیں،پہلے صرف ذاکرین و شیعہ علما ٹارگٹ ہوتے تھے اب پیر،نعت خوان اور سنی علما کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے،ایک بات جو قابل دقت و غور ہے وہ یہ ہے کہ دونوں(شیعہ و سنی) کو مارنے والے ایک ہی فکر و مکتب کے پیرو ہیں،جن کی نظر میں یہ دونوں فرقے گمراہ اور بدعتی ہیں اور اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ،اس وقت ملک پر حکمرانی کرنے وال اخاندان اور اس کے قریبی و بااعتماد لوگ ان ممالک کے ساتھ وابستگی نبھا رہے ہیں جن کے ان پر ذاتی احسانات ہیں اور وہ اس ملک میں عالمی استعمار کے بنائے گئے نقشہ کے مطابق حالات کا رخ موڑنے کی سازش پر عمل پیرا ہیں،شیعہ سنی کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھنا اگرچہ استعمار کا منصوبہ ہی ہے مگر اس کیلئے جو ہاتھ استعمال ہو رہے ہیں وہ مقامی ہیں جنہیں حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں کی مبینہ مدد اور حمایت حاصل ہے،قرائن یہی بتاتے ہیں کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں میں تعصب اور متشدد نظریات و سوچ کے حاملان کا غلبہ ہے جو جب چاہتے ہیں یہ آگ بھڑکا دیتے ہیں ،فرقہ پرست اشاروں کے منتظر ہوتے ہیں،ادھر سے اشارہ ملا ادھر آگ و خون کا مکروہ کھیل شروع اور ملک مخلص،ذہین،خدمت گار،سرمایہ ملت افراد سے خالی ہونا شروع ہو جاتا ہے،یہ سلسلہ چل رہا ہے اور اسے چلانے والے ہاتھ ہی اس ملک کی سلامتی کے ذمہ دار ہیں پھر کیسے تسلیم کر لیا جائے کہ ملک درست سمت میں جا رہا ہے،ہم گذشتہ پینتیس برس سے مسلسل ا س ہشت گردی کا شکار چلے آ رہے ہیں اور چیخ چیخ کے حکمرانوں اور ذمہ دار اداروں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم ظلم کا شکار ہیں،ہم بے گناہ مارے جارہے ہیں،یہ آگ جو ہمارے اوپر مسلط کی گئی ہے یہ اس ملک و ملت کیلئے بھی سم قاتل کا درجہ رکھتی ہے،یہ آگ اگر آج ہمیں جلا رہی ہے تو کل اس کا شکار وہ بھی ہونگے جو اس کو لگانے والے ہیںیا ان کی پشتبانی کرر ہے ہیں یا جو اسے بجھانے کے ذمہ دار ہیں مگرحکمران اس سب کو شائد تماشا سمجھ کے دیکھتے رہے ہیں،ایک آتا ہے اور پھر دوسرا اپنی باری کیلئے جت جاتا ہے بس یہی کچھ ہے،جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو ہمارے یہ مطالبات انہیں بہت بھلے محسوس ہوتے ہیں ان سے یکجہتی کا اظہار کیا جاتا مگر اقتدار کی سیڑھی پر چڑھتے ہی یہ سب کچھ انہیں کسی اور اینگل سے دکھتا ہے پھر ہم جو دکھانا چاہتے ہیں وہ نہیں دکھتاا ور ہمارے دن پھر ویسے ہی گذرتے ہیں،ہمارا ماتم و نوحہ یونہی چلتا ہے ہمارے بین اسی شد ومد سے جاری رہتے ہیں۔
ہم صلیبوں پہ چڑھے!

آپ دیکھیں کہ ایک گروہ بلکہ ایک مائند سیٹ کی طرف سے پاکستان کے قیمتی اثاثوں کو جلا کے راکھ بنا دیا گیا،دنیا کے سامنے ہم جن سیکیورٹی اداروں کی اہلیت پر فخر کرر ہے تھے ان سیکیورٹی اداروں کی اہلیت سوالیہ نشان بن گئی،یہاں تک کہ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت زیر سوال آ گئی،ہمارے چیخنے چلانے کا اثر ہوا یا نہیں یہ ضرور ہوا کہ عارضی ہی سہی کچھ وقت کیلئے ،کسی نا کسی مخصوص ایریا میں ان ملک دشمنوں کے خلاف کچھ اقدامات بھی سامنے آئے،پھر بات بڑھتی گئی اور جیلوں سے دہشت گردوں کو چھڑوایاگیا اور انہیں ملک بھر میں پھیلا یاگیا انہوں نے ایک بار پھرا س ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ہم تو ہر دور میں اس ظلم کا شکار ہوئے، ہمارے قیمتی ترین افراد ہم سے چھین لیئے گئے،ہمیں بسوں سے اتار کے شناختی کارڈ چیک کر کے گولیوں سے بھون دیا گیا، ہمیں چاروں صوبوں میں نشانہ بنایاگیا،ہمیں بلوچستان میں ہجرتوں پر مجبور کر دیا گیا،ہمیں سرحدکے پی کے میں گھر بار چھوڑنے اور خاندانی جائیدادوں کو اونے پونے داموں8 فروخت کرنے پر مجبور کر دیا گیا،ہمیں کراچی اور اندرون سندھ میں ٹارگٹ کیا گیا،ہمیں پنجاب میں چن چن کے مارا گیا،ہمیں گلگت بلتستان میں اس سرزمین پاک سے وفاداری کی سزا دی گئی ،ہمیں مسجدوں میں قتل کیا گیا،ہماری مسجدیں اور امام بارگاہیں اللہ کے مہمانوں کے خون سے رنگین ہوتی رہیں، ہم عبادت کیلئے گھر سے نکلتے تو ہماری لاشیں واپس آ تیں،ہم کاروبار کیلئے بازار کا رخ کرتے تو ہمیں راستے میں گولیوں سے بھون دیا جاتا،ہم کار پیغمبری کرنے کالج،اسکول،یونیورسٹیز جاتے تو ہمیں دن دیہاڑے خون میں لت پت کر دیا جاتا،ہم لوگوں کی مسیحائی کیلئے اسپتال پہنچتے تو سفاک گروہ ہمیں ادھر ہی مسیحائی کر نے کی سزا دیتے پہنچ جاتے ہم مسیحائی کرتے مارے جاتے رہے،ہم علم کی خیرات بانٹتے مارے گئے ،ہم ملکی سرحدوں کا دفاع کرتے مارے گئے ،ہم مارشلا ؤں میں ظلم کا شکار ہوتے رہے،ہمیں جمہوریت کے دعویداروں نے ایک ووت کے بدلے میں سولیوں پر لٹکوایا،ہمیں ذبح کیا گیا،ہمیں جلایا گیا ، ہمیں خون میں نہلایا گیا،ہمیں جیلوں میں مروایا گیا،ہم نے ہتھیار نہیں اٹھائے،ہم نے ریاست کے سامنے نہیںآئے،ہم نے فورسز پر اسلحہ نہیں تانا،ہم نے ملک کے خلاف کوئی سازش نہیں کی،ہم استحکام پاکستان اور پاک وطن کی سلامتی کے پیامبر بنے رہے،ہم امن کے گیت گاتے رہے،ہم سلامتی کے بیج اگاتے رہے،ہم محبت کے چراغ جلاتے رہے اورخوشبوؤں کے سفیر بناتے رہے مگر ہمیں نفرتوں کا شکار کیا گیا،ہمیں تعصب کی بدبو سے جواب دیا گیا،ہماری وطن سے محبت کو مشکوک دیکھا گیا،ہماری امن کی کواہش کو کمزوری سمجھا گیا،ہماری اتحاد و وحدت کی پالیسی کو مجبوری گردانا گیا ،ہم کیا کرتے،کسی ملک دشمن کے ہاتھ لگ جاتے،کسی دوسرے کے ایجنڈے پر چل پڑتے،کسی کی لگائی آگ میں کھیل کا حصہ بن جاتے ،نہیں ہم نے ایسا نہیں کیا،ہم نے لاشوں کے درمیاں کھڑے ہو کے بھی ملک کا پتہ تک نہیں توڑا،ہم نے ایک سگنل تک کو نقصان نہیں پہنچایا،ہم نے امنکا راستہ اختیار کیا اور 13 مئی کو اسلام آباد پریس کلب کے سامنے آ کر بیٹھ گئے،ہم نے کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی اور خاموشی سے ایک طرف آ کے بیٹھ گئے اپنے مطالبات اور اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کا شکوہ کیا،ہم نے متعلقین کو آگاہ کیا،ہم نے اسٹیک ہولڈرز تک اپنی پر امن تحریک کا مقصد پہنچایا مگر ہماری بات نہیں سنی گئی،ہمیں نظر انداز کیا گیا،ہم نے دیکھا حکمران بے حس ہیں،سیکیورٹی ادارء تعصب اور تنگ نظری کا شکار ہیں،ہم نے اپنی آواز پہنچائی،اپنا نوحہ سنایا،اپنے طالبات کی فہرست پیش کی مگرکسی کے کان پہ جوں تک نا رینگی۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال!
بد قسمتی سے جب ہم نے یہ احتجاجی تحریک شروع کی اس وقت سے پاکستان عجیب صورتحال سے دوچارچلا آ رہا تھا ،ایک طرف دنیا بھر میں پانامہ لیکس کا چرچا اور اس میں شامل حکمران و سیاستدانوں پر سب کی نگاہیں جمی ہوئی تھیں اورہمارے حکمران،اپوزیشن،اور آج کے دور کا سب سے موثر ہتھیار میڈیا بھی اس کو فوکس کیئے ہوے تھا،دوسری طرف وزیر اعظم کی بیماری کے چرچے اور پھر لندن روانگی کے بعد تمام ملکی معاملات لندن سے چلائے جا رہے تھے ۔ملک پر حکمران خاندان کے افراد اپنے سٹاف سمیت لندن میں وزیر اعظم کی ہمراہی میں پہنچے ہوئے تھے اعتماد کا یہ عالم کہ حکومت کوتین سال سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود وزیر خارجہ کی جگہ مشیر خارجہ سے کام چلایا جا رہا تھا۔ایسے میں شیعہ نسل کشی پر حکومتی بے حسی اور انصاف کے حصول کیلئے جاری بھوک ہڑتال تحریک تقریباً اتنے زیادہ دن گذر جانے کے باوجودحکمرانوں اور مقتدر حلقوں کی بے حسی کا شکار رہی ،یاد رہے کہ علامہ راجہ ناصر عباس نے 13مئی کو پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے بے گناہ شیعہ قتل عام اور سیکیورٹی اداروں کی زیادتیوں و حکومتی بے حسی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی جس کا پاکستان بھر میں دنیا بھر میں اثر ہوا، یہ احتجاج پاکستان کی سرحدوں سے باہر نکل کے امریکہ،یورپ،انگلینڈ اور مغربی ممالک تک جا پہنچا ہے،پاکستانی میڈیا اس طویل ترین بھوک ہڑتال کو نظر انداز کیئے ہوئے ہے ،یہ بھوک ہڑتال اب ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے جہان روزانہ ان بھوک ہڑتالی کیمپوں میں مختلف قسم کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں،بھوک ہڑتال کیمپس میں نماز پنجگانہ باجماعت ادا کی جاتی ہے،یہاں درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا ہے،ان بھوک ہڑتالی کیمپس میں رمضان المبارک میں سحر و افطار کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے، یہاں دعائیں اور مناجات اور عزاداری کے پروگرام ہوتے ہیں،اسلام آباد کے علاوہ پریس کلب لاہور،ملتان،کراچی،حیدر آباد،سکردو،گلگت،کوئٹہ،اور بیسیوں چھوٹے بڑے شہروں میں بھوک ہڑتال کیمپوں اور جلوسوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ان بھوک ہڑتالی کیمپوں میں شہدا کی فیملیز بھی تشریف لاتی ہیں جن کے آنے سے لوگوں کے جذبات و احساسات قابل دیدنی ہو جاتے ہیں۔

یہ بھوک ہڑتال اب ایک بڑی قومی احتجاجی تحریک کی شکل میں سامنے آ چکی ہے اس کا اگلا مرحلہ شروع ہو چکا ہے ،جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ذمہ دار اداروں اورحکمرانوں کو اس اہم مسئلہ کی جانب متوجہ کیاہے،اور بعض اطلاعات کیمطابق مطالبات منوانے کیلئے شائد کچھ چینل فعال ہو چکے ہیں۔یاد رہے کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے چوبیس شیعہ جماعتوں اور بعد میں ذاکرین کی ایک ملک گیر کانفرنس میں مطالبات کی منظوری کیلئے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جسے قومی حلقوں نے بڑی شد و مد سے خوش آمدید کہا سوشل میڈیا پر قوم کے جوانوں میں اس لانگ مارچ کے حوالے سے خاصا جوش و خروش پایا جاتا ہے جس کا علان علامہ راجہ ناصر عباس نے کر رکھا ہے اور وہ اس کو کامیاب بنانے کیلئے ابھی سے آمادہ و تیار نظر آتے ہیں۔17 جولائی کو ملک بھر میں خواتین کے احتجاج کی کامیابی کے بعد اگلا مرحلہ ملک کی اہم شاہراہیں 22جولائی کو بند کر نے کا امتحان کامیابی ہمکنار ہوا ہے اگلا مرحلہ اور راؤنڈ میں اسلام آبادمیں 7اگست کو برسی شہید حسینی کے عنوان سے ہونے والا ملک گیر اجتماع ہوگا جو ان تمام مرحلوں میں عوامی شرکت کا پہلا پروگرام ہو گا۔
عالمی سطح پر بازگشت!

شیعہ نسل کشی اور پاکستانی ریاستی اداروں کی مجرمانہ خاموشی و غفلت کیخلاف علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی حمایت و یکجہتی میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرکے سامنے المصطفی فاؤنڈیشن کے تحت مولانا سید ظہیر الحسن نقوی کی زیر قیادت تین روزہ علامتی بھوک ہڑتال کی گئی۔اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے بھوک ہڑتال میں امریکہ کی تنظیمیں الخوئی فاؤنڈیشن، جعفریہ کونسل یو ایس اے ۔المہدی فاؤنڈیشن،جے۔اے۔این۔اے،مسلم کانگریس،البقیع،خاتون جنت عزاداری،غلامان مہدی بھی شریک بھی شریک ہوئیں مومنین کی بڑی تعداد بھوک ہڑتال میں شریک رہی۔یو این ہیڈ کوارٹرکے سامنے بھوک ہڑتال کرنے والے مومنین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مکتب تشیع کے ساتھ ظلم و زیادتیوں کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ،حکمرانوں کو اقتدار کے علاوہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں،ریاستی ادارے بھی اس مکتب کے پیروکاران کو تحفظ دینے میں ناکام نظر آتے ہیں بلکہ ان کی طرف سے ایسے عناصر کی سرپرستی کی دل دکھا دینے والی خبریں مل رہی ہیں جس کا مطلب واضح ہے کہ بے حس حکمرانوں اور متعصبانہ کردار کے حامل ریاستی اداروں کے خلاف عالمی برادری کے سامنے احتجاج سے اپنی آواز کو پہنچایا جائے۔یاد رہے کہ قبل ازیں کچھ لوگ اس سے پہلیاقوام متحدہ کے دفتر جنیوامیں بھی احتجاج کر چکے تھے،جبکہ کویت میں پاکستانی سفیر سے کمیونٹی ممبران نے اپنی طرف سے علامہ راجہ ناصر کے مطالبات منظور کیئے جانے کے حوالے سے یاد داشت پیش کی ۔تہران میں مقیم پاکستانی سفیر کو بھی مجلس قم کے ذمہ داران اور خارجہ امور کے مسؤلین نے ملاقات کی اور بھوک ہڑتال کے حوالے سے حکومتی رویہ پر احتجاج کیا اور ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے ،انصاف فراہم نہ کرنے کے خلاف یاد داشت پیش کی اور اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا۔انگلینڈ میں میاں نواز شریف کے مشہور زمانہ فلیٹس رہائش گاہ کے سامنے لنڈن میں مقیم مومنین نے علامہ علی رضا رضوی کی قیادت میں ایک مظاہرہ بھی کیا جس کا مقصد حکمرانوں پر واضح کرنا تھا کہ علامہ راجہ ناصر اکیلے نہیں بلکہ اس کاز کیلئے پوری قوم ان کیساتھ ہے اور اس کے بھی یہی مطالبات ہیں۔ایک اور بات جو پاکستان میں اہل تشیع کی کسی بھی تحریک میں پہلی بار ہم نے دیکھے ہیں وہ مراجع عظام اور نمائندگان ولی فقیہ و بزرگ علماء کا اس بھوک ہڑتال کی حمایت میں سامنے آنا اور پاکستان کے ذمہ دار اداروں وحکمرانوں کو تاکید کرنا ہے کہ اس پر امن تحریک کے مطالبات کو تسلیم کریں اور تکفیریت کے آسیب سے ملک و ملت کو محفوظ رکھیں۔

ہمارے ملک میں حکمران کتنے آزاد ہوتے ہیں اس کا اہل پاکستان کو خوب اندازہ ہے بالخصوص سیکورٹی معاملات،خارجہ پالیسی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کے حوالے سے بہت سے ایشوز سلامتی کے ضامن ادارو ں کے پاس ہی رہتے ہیں ،ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کئی مواقع پر واضح طور پہ سامنے آنے والی اسٹیبلشمنٹ اور ذمہ داران ہمارے ساتھ وہی سلوک روا رکھے ہوئے ہے جو کسی زمانہ میں بہت معمولی باتوں پر از خود نوٹس لینے والے افتخار چوہدھری آئے روز سینکڑوں شیعیان حیدر کرار کی بے گناہ شہادتوں پر آنکھوں پہ کالی پٹی اور کانوں میں روئی ٹھونسے ہوئے تھا،اسے کچھ نظر نہیں آتا تھا اور نا ہی سنائی دیتا تھا جبکہ طالبان اور شدت پسندوں کے حقوق پر اس کا قلم بہت جلد چل جاتا تھا بلکہ اس نے شدت پسندوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کیلئے افواج پاکستان کے سربراہان کو عدالت اور پارلیمنٹ میں بھی بلوایا اور انہیں یہ احساس کروایا کہ وہ جواب دہ ہیں،آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک شخص کو کچھ مطالبات کے ساتھ بھوک ہڑتال کیئے ستر دن ہوگئے ہیں مگر ان کو ابھی ایک بیان دینے کی بھی توفیق نہیں ہوئی،کم ا ز کم شفاف انکوائری کا حکم تو دے سکتے تھے مگر ایسا نہیں ہوا،جبکہ اخبارات میں یہ بیان نشر ہو رہے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے،لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ جن کی کمر توڑی گئی ہے ان کا ایکسرے تو دکھائیں،ٹوٹی کمر کیساتھ دہشت گرد ہم سے خرم ذکی چھین لیتے ہیں،ٹوٹی کمر کیساتھ دہشت گرد ہم سے امجد صابری لے جاتے ہیں،ٹوٹی کمر والے دہشت گردوں کا اتنا رعب و دبدبہ ہے کہ بلوچستان میں ان کے ڈر سے زائرین کو کئی کئی دن رسوا کرتے ہیں اور جگہ جگہ ذلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،رشوت کا ایک بازار گرم ہے،کمائی کا ایک ذریعہ بنا لیا گیا ہے،ایسا نہیں کہ عوام لا علم ہیں ہر ایک جانتا ہے کہ اس صوبے میں سیکیورٹی اداروں کی اجازت بنا پتا بھی حرکت نہیں کرتا پھر کس طرح کالعدم گروہ کے سرغنے ملکی سلامتی کے ذمہ داروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور شہر کے چوراہوں میں آ کر آئین پاکستان کی نفی کرتے ہیں ،نیشنل ایکشن پلان کا مذاق اڑاتے ہیں اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں۔انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ بے گناہ اور پر امن لوگوں کو شیڈول فورتھ میں ڈال کے ان سے آذادی کا حق چھینا جاتا ہے۔مجالس و عزاداری پر ناجائز و ناقابل قبول قدغن لگائی جاتی ہیں۔
بھوک ہڑتال ،قومی احتجای تحریک؛

13 مئی سے اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال جسے انہوں نے مطالبات کی منظوری اور عمل درآمد تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہوا ہے آج جب ستر دن ہوگئے ہیں ابھی تک جاری ہے اور اس بھوک ہڑتال کیمپ میں ملک کے تما م اہم سیاسی رہنما دینی قائدین بشمول اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ صاحب ،کرسچئین کمیونٹی،ہندو اور سکھ برادری،، پارلیمنٹیرینز،ملی یکجہتی کونسل ،اہل سنت برادران کی نامور شخصیات،مشائخ و علما ء اور جماعتیں،تشیع سے تعلق رکھنے والی تمام اہم قیادتیں ،ذاکرین،ماتمی انجمنیں ،طلبا ء،الغرض ہر ایک اپنی حمایت کا یقین دلا چکے ہیں اور راجہ صاحب کے پیش کردہ دس نکاتی مطالبات کو جائز تسلیم کرتے ہوئے ان پر عملی اقدامات کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں،اب یہ بات واضح ہو چکی کہ ان مطالبات میں سے کوئی ایک مطالبہ بھی غیر جمہوری،غیر آئینی اور غیر قانونی نہیں،یہوہی مطالبات ہیں جن کی آڑ میں پارلیمنٹ نے آڑ لے کر نیشنل ایکشن پلان منظور کیا ہے اور اس ملک اور یہاں بسنے والے شہریان کا حق ہے مگر یہ کیا کہ ان جائز مطالبات کو منظور کروانے کیلئے اتنے دن کی بھوک ہڑتال بھی ناکافی ثابت ہو رہی ہے ،راجہ صاحب کو یقیناًاس کا اندازہ ہو گا اسی لیئے بعض احباب نے بتایا کہ راجہ صاحب پورے سو دن کی بھوک ہڑتال کا پروگرام بنا کے بیٹھے تھے ویسے بھی اس سے پہلے شہدا ماڈل ٹاؤن کے چودہ قتلوں کی FIRکٹوانے کیلئے ایک لمبے عرصے کا لانگ مارچ اور دھرنا دینا پڑا تھا اور ملکی افواج کے سپہ سالار کو معاملے میں دخیل ہونا پڑا تھا،جہاں حکمران بے حس ،گونگے ،بہرے ہوں ،سیکیورٹی ادارے تعصب ذدہ ہوں اور ملک کی مقتدر قوتوں کو ملک دشمنوں سے پیار ہو وہاں اپنے حقوق کے حصول کیلئے بھوک ہڑتال اور لانگ مارچ لرنے لازم ہو جاتے ہیں،انصاف کے طلبگاروں کو قربانیاں دینا پڑتی ہیں،راجہ ناصر عباس جعفری نے بھی اپنی احتجاجی تحریک میں تمام آپشن استعمال کرنے اور ہر جائز و آئینی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے ،انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس امر کا اعلان کیا کہ حکمران بے حس ہیں،پاکستانی قوم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ان پر حکمرانی کرنے والے بے حس ہیں، یہ اندھے اور بہرے ہیں انہیں اس چیز سے غرض نہیں کہ آپ بھوکے ہیں،لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ ہے،رہنے کو گھر ہے یا نہیں ،مجھے یہاں اسلام آباد میں بیٹھے اتنے دن ہو گئے ان کو کوئی فکر نہیں ،ہم سمجھتے ہیں کہ ہم چونکہ پر امن طور پر احتجاج کر رہے ہیں ،ہم نے ایک پتابھی نہیں توڑا،ہم نے ٹریفک کو نہیں روکا،ہم نے کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی ،حکمران اور مقتدر قوتیں چاہتی ہیں کہ ہم امن کا راستہ چھوڑ کے تشدد کا راستہ اختیار کریں،انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان ہمارا وطن ہے اس کی ہر ایک چیز ہماری ہے ہم اس کی توڑ پھوڑ او تخریب کا سوچ بھی نہیں سکتے مگر ہمیں جان بوجھ کی اس طرف دھکیلا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ ہم پر امن احتجاج جاری رکھیں گے، احتجاجی تحریک بھوک ہڑتال سے شروع ہوئی اب اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے،مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس میں کئی ایک مشکلات بھی سامنے آئیں گی،سب سے اہم مشکل تو یہ سامنے آ رہی ہے کہ یہ جدوجہد خالص اپنے مطالبات سے متعلق شروع کی گئی ہے اس کا مقصد کسی کو گرانا یا کرسی پہ بٹھانا نہیں مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتیں بھی تحریک چلانے کیلئے پر تول رہی ہیں،مجلس وحدت مسلمین کیساتھ سیاسی و دینی جماعتوں کے تعلقات بالخصوص ان جماعتوں سے جن کا ارادہ تحریک چلانے کا ہے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں،مجلس وحدت کے مطالبات خالصتاً اہل تشیع سے متعلق ہیں اور ان کا تعلق آئندہ آنے والے محرم سے بھی ہے جس کے آغاز سے پہلے ہی عزاداری پر پابندیاں لگنا شروع ہو جاتی ہیں،علما و ذاکرین پر ضلع بندیاں اور زبان بندیوں کے سلسلے چل پڑتے ہیں ،اسیطرح ملک بھر میں ہونے والے قتل و غارت کے سلسلے اور فرقہ پرستوں کے متجاوز اقدامات،کالعدم گروہوں کی کھلی سرگرمیاں اور پاکستان کے اہم ایریاز میں شیعہ آبادیوں کے تناسب کو خراب کرنے کی سازش اور شیعہ ملکیتی زمینوں پر قبضے ،یہ سب جائز مطالبات ہیں مجلس کی قیادت انہی مطالبات کو لیکر عوام کو میدان میں اتار رہی ہے جبکہ سیاسی لوگوں کے اپنے مقاصد ہیں جہاں بڑی پارٹیاں ویسے ہی چھوٹے گروہوں کو ہڑپ کر جاتے ہیں اور فائدہ اٹھا کر مڑ کے اپنے اتحادیوں کو دیکھتے بھی نہیں ،ظاہر ہے راجہ صاحب کی بھوک ہڑتال اور احتجاجی تحریک کا تعلق اس صوبے سے بھی ہے جہاں اہل تشیع کو مسلسل ظلم کا شکار کیا جا رہاہے، ایک اور مشکل یہ ہے کہ اسٹیبلشمنت کے اشاروں پر ناچنے والے بعض مداری ڈگڈگی بجنے کے منتظر تھے انہیں بھی اشارہ مل چکا ہے ،یہ لوگ ایک بار پھر دفاع پاکستان کونسل کے نام کو استعمال کرتے ہوئے جلسے جلوس اور ریلیاں نکال رہے ہیں ،ان کے ساتھ ملک کے دشمن تکفیری گروہ کثیر تعداد میں موجود ہیں ان کی ڈوریاں پاکستان کے ایک برادر اسلامی ملک سے ہلائی جا رہی ہیں ،بہ ظاہر ان کو میدان میں لانا مجلس وحدت کی تحریک کو سبوتاژ کرنا ہی لگتا ہے ورنہ ان کے پاس کوئی نیا ایشو نہیں ہے،اس کے باوجود یہ لوگ ایک ڈرون حملے کی آڑ میں جلسے کر رہے ہیں ،بعض حضرات اس کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ مجلس کی فعالیت سے شیعہ مخالف بلاک یا ایران مخالف لابی بھی فعال ہو گئی ہے اور انہیں میدان
میں اتارا گیاہے تاکہ ان کے ذریعے یہ تاثر دیا جا سکے کہ فرقہ واریت کا جن بوتل سے باہر آ رہا ہے،یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں جب کبھی شیعہ پلیت فارم کسی بڑے کام میں سامنے آیا اور اس نے عمومی عوام میں پذیرائی کا کوئی کام کیا تو ایک پالیسی کے طور پر فرقہ پرستوں اور تکفیری گروہوں کی رسیاں ڈھیلی کر دی گئیں ،اور انتظامیہ نے بھی ہمیشہ حکمرانوں اور مقتدر قوتوں کے اشاروں پر بیلنس پالیسی کو ہی اختیار کیا ،یعنی قاتل اور مقتول کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا گیا،اگر کسی شہر میں ایک شیعہ راہنما قتل ہو گیا تو اس شہر میں قاتل گروہ کی گرفتاریاں بھی ہوئیں اور مقتول گروہ کے لوگ بھی زیر حراست آئے،یہ ظلم اب بھی ہونے کا اندیشہ ہے،بعض ایریاز میں ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جہاں مجلس وحدت کے فعال اراکین اور تنظیمی افراد کو بلاوجہ تنگ کیا جا رہا ہے ،بعض شرفا ء کو فورتھ شیڈول جیسے ظالمانہ قانون کی ذد میں لایا گیا ہے،بھوک ہڑتال تحریک اور لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکمرانوں بالخصوص پنجاب کے حکمرانوں کی جانب سے بہت زیادہ سختیاں سامنے آنے کا اندیشہ ہے،اس کیلئے مجلس کے کارکنان کو تیار رہنا ہو گا،یہ سختیاں بہرحال انہیں برداشت کرنا ہونگی ،کچھ سختیاں اپنوں کی طرف سے بھی ممکن ہیں،ایسے مواقع کیلئے ہر قوم میں مفاد پرست اور موقعہ پرست موجود ہوتے ہیں جنہیں اس طرح کے تحریکوں کو ناکام کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے،یہ موقعہ پرست وہ گدھیں ہوتی ہیں جو اس طرح کے حالات کیلئے انتظار کرتی ہیں،اگرچہ مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ ملت کے تمام طبقات نے خود ادھر جا کے اظہار یکجہتی کیا ہے اور اس کاز کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے مگر اس کے باوجود یہ خطرہ بہرحال موجود ہے، ڈیرہ اسماعیل خان میں عید کے ایام میں شہید ہونے والے سید شاہد شیرازی ایڈووکیٹ کی نماز جنازہ پر پیش آنے والے بعض واقعات اسی جانب اشارہ ہیں کہ مفاد پرست موقعہ کو تلاش کر کے آپ کی تحریک جس میں کامیابیاں ہی کامیابیاں ہیں کو ناکام و نامراد ٹھہرایا جائے مجلس وحدت اگرچہ تشیع کی سب سے فعال اور ہر دم تیار قومی تنظیم اور پلیٹ فارم ہے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اس کی تنظیمی وسعت اس قدر نہیں جس قدر ضرورت ہے یا جہاں جہاں تشیع اپنا وجود رکھتی ہے اور انہیں بے شمار مسائل بھی در پیش ہیں،اس کے یونٹس کو بہت فعالیت دکھانا ہوگی،بالخصوص ان ایریاز مین جہاں شیعہ آبادیوں کی کثرت ہے وہاں سے عوام کو تحریک کیلئے باہر نکالنا ہوگا ،ان مقامی انجمنوں اور قائدین کو بھی رابطے میں لانا ہوگا جنہیں کسی بھی وجہ سے ساتھ نہیں ملایا جا سکا۔سب سے بڑا چیلنج داخلی ہے اگر ہم داخلی محاذ پر کامیاب ہو گئے اور داخلی مسائل پر قابو پالیا تو بیرونی و خارجی محاذ ہمارے لیئے بڑی رکاوٹ ثابت نہیں ہو سکے گا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مجلس کے پیش کردہ مطالبات میں سے بیشتر کا تعلق اس ملک کی سلامتی سے ہے اور ان کے حل کا اختیاربھی ہماری حکومت کو کم اور سلامتی کے ضامن اداروں و مقتدر قوتوں کو زیادہ ہے،اس عنوان سے یہ کہنا خاصا مشکل نظر آتا ہے کہ سیکیورٹی کے ذمہ دار ادارے ان مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی ظاہر کریں گے ،اس لحاظ سے اس تحریک کی کامیابی کا عنوان ان مطالبات کی منظوری اور ان پر عمل درآمد نہیں سمجھنا چاہیئے ،یہ ایک آئیڈیل صورت کہی جائیگی اگر ایسا ہو جائے بصورت دیگر میری نگاہ میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وہ کام کر دکھایا ہے جو آج تک نہیں ہو سکا یہ احتجاجی تحریک ایک عزم ،ایک استقلال،ایک استقامت ،ایک تعہد کی بہترین مثال ہے ،ایک مخلص دردمند شخص نے ایثار و قربانی کا مظاہرہ کر کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے ،انہیں احساس دلایا ہے،انہیں گھروں سے باہر نکالا ہے،انہیں متوجہ کیا ہے،انہیں بیدار کیا ہے،انہیں میدان میں کھڑے ہو کے پکارا ہے،ان کے اعتماد پر پورا اترا ہے ، انہیں مایوسیوں کے گھیرے سے نکالا ہے ،انہیں منزل کا رستہ دکھایا ہے یہ بہت بڑی کامیابی سمجھی جائیگی،تاریخ تشیع پاکستان میں اس کی مثال کم ہی ملے گی،ہماری قیادتوں نے گذشتہ دو اڑھائی عشروں میں وہ کام نہیں کیا جو چند برسوں میں مجلس وحدت مسلمین نے کیئے ہیں، اس لیئے کامیابی کا معیار اور مثال یہی فعالیت اور تحرک ہے،گھروں سے باہر آنا ہے،میدان میں خود کو حاضر کرنا ہے ۔انشا اللہ یہ امید خداوند کریم و مہربان سے ہی ہے کہ وہ اس تحریک اور اس سے مخلص احباب کو مزید کامیابیوں سے نوازے اور ان مطالبات کو منوانے اور عمل کروانے کی ہمت و طاقت عطا فرمائے ،انشا اللہ دنیا کے بیشتر ممالک عراق،شام،یمن لبنان کی طرح یہاں بھی تشیع ہی سرخرو ہو گی اور فتح مند ہو کے شکر کے نوافل پڑھے گی ، نا جانے کیوں میرے کانوں میں یہ آواز آ رہی ہے کہ وہ وقت قریب آن پہنچا ہے۔۔!

تحریر۔۔۔۔۔۔۔ارشاد حسین ناصر

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree