وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے شہید رہنما علامہ دیدار علی جلبانی اور ان کے جانثار محافظ سرفراز بنگش کی چوتھی برسی کا اجتماع جامع مسجد الحسینی ایوب گوٹھ میں منعقد ہوا جس سے خصوصی خطاب قائد وحدت  ناصر ملت مرکزی سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کیا جبکہ دیگر مقررین میں مرکزی ترجمان ایم ڈبلیوایم علامہ مختارامامی اور مولانا رجب علی بنگش بھی شامل تھے، مجلس ترحیم میں ایم ڈبلیوایم کے رہنماوں علی حسین نقوی، علامہ مبشر حسن، سجاد اکبر، میثم عابدی، علامہ علی انور ، زکی ہاشمی سمیت اہل خانہ ، عزیز اقارب کی بڑی تعداد موجود تھی، مقررین نے شہید جلبانی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور ساتھ ہی ان کے باوفا محافظ کی فداکاری کو بھی خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہا کہ  شہید دیدار جلبانی ملی درد رکھنے والے نڈر عالم دین تھے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) مجلس وحدت مسلمین پاکستان ر اولپنڈی و اسلام آباد میں مقیم تمام مرکزی صوبائی و ضلعی عہدیداران و کارکنان کی خواہش پر قائدوحدت علامہ ناصر عباس جعفری نےمرکزی سیکریٹریٹ میں حالات حاضرہ ــ’’ پاکستان کا سیاسی کلچر اور ہمارا کردار‘‘کےعنوان سے 15 روزہ دوسرا خصوصی لیکچرسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دنیا میں حق بھی ہے اور باطل بھی لیکن آخرت (جنت) میں صرف حق ہو باطل اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اس کائنات میں ایک ولایت حقیقی ہے اور اس کے مقابلے میں طاغوت کی ولایت ہے ۔ولایت حقیقی جس کاآغازاللہ تعالیٰ سے ہوا انبیاٗ ء اوصیاء اور ائمہ ھدیٰ سے ہوتی ہوولی امر مسلمین حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای تک پہنچی ہے ۔اور یہ تسلسل جاری ہے تا ظہور امام مھدیؑ ،اس ولایت کا کیا فائدہ ہے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے : اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ قال اللہ تبارک و تعالیٰ و قولہ الحق۔ اللہ ولیُّ الذین آمنوا یخرجہم من الظلمٰات الی النور۔ والذین کفروا اولیآئھم الطاغوت یخرجونہم من النور الی الظلمٰات اولآئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون۔ جو صاحب ایمان ہیں ، جو مؤمن ہیں اُن کا ولی اللہ ہے کیونکہ اُنہوں نے اللہ کی ولایت کو قبول کرلیا ہے اب اُس کے مقابلہ میں کافر ہے ، والَّذین کفروا، اور جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے ، اولیآئھم الطاغوت، اُن کا سرپرست اور ولی طاغوت ہے ۔ یعنی مراد یہ ہے کہ مؤمنین نے اللہ کو اپنا سرپرست بنایا ہے  اور کفار نے طاغوت کو اپنا سرپرست بنایا ہے ۔ اب اللہ کے مقابلے میں طاغوت ہے ، نظامِ خدا کے مقابلے میں نظامِ طاغوت ہے ، خدا کی سرپرستی کے مقابلے میں طاغوت کی سرپرستی ہے ، رحمٰن کی سرپرستی کے مقابلے میں شیطان کی سرپرستی ہے ،مجموعی طور پر دو ولایتوں کا تذکرہ ہے ، ایک ولایتِ اللہ ، اور ایک ولایتِ طاغوت۔ جو مؤمن ہے اللہ ولیُّ الذین آمنوا، صاحبانِ ایمان  کا ولی و سرپرست اللہ ہے ۔

وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو اپنا ولی قرار دیا ہے تو اللہ کا کام کیا ہے، اُس عظیم ولی کا کام کیا ہے ،  اللہ ولی الذین آمنوا یخرجھم من الظلمٰات الی النور۔ اس کا کام مؤمنین کو ظلمات سے ، تاریکی سے ، گمراہی سے نکال کر ہدایت اور نور کے شاہراہ پر گامزن کرنا ہے۔ جو گمراہی میں ہیں اُنہیں ہدایت دینا ہے، جو ظلمات میں ہیں اُنہیں روشنی دیتا ہے ، جو بدبختی میں ہیں اُنھیں نیک بخت بنا دیتا ہے ، جو فسق و فجور میں غلطاں ہیں اُنہیں بندگی، عبادت، تقویٰ اور عبودیت کی منزل تک پہچاتا ہے۔ لیکن جنہوں نے شیطان کو ، طاغوت کو ، نظام فسق و فجور کو اپنا سرپرست بنایا ہے ، والَّذین کفروا اولیآئھم الطاغوت، جو لوگ کافر ہوچکے ہیں ، خدا کےمنکر ہوچکے ہیں  اُن کے اولیاء طاغوت ہیں۔ یخرجھم من النور الی الظلمٰات۔ جو اُنھیں نور سے نکال کر ظلمات اور گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں ، ہدایت سے نکال کر گمراہی کے راستے پر ڈال دیتے ہیں ۔

جبکہ طاغوت کی ولایت شیطان سے چلتے چلتے ڈونلڈ ٹرمپ تک آپہنچی ہے ۔آج کا شیطان اکبر ڈونلڈ ترمپ ہے اور جو اس کا ساتھ دے وہ ایسا جیسے نور(ایمان ) سے نکل کر طاغوت سےجا ملا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں طاغوتی نظام کے خلاف ڈٹ جانے کا حکم دیا ہے قرآن نے الہی نظام قائم کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یا داؤد انا جعلنٰک خلیفۃً فی الارض فاحکم بین الناس بالعدل۔ اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین پر خدا کا خلیفہ بنادیا ہے پس آپ لوگوں کے درمیان عدالت کے ساتھ حکم کریں۔لوگوں کے درمیان عدالت کے ساتھ حکم کون کر سکتا ہے ؟ جس کے ہاتھ میں حکومت ہو۔ جس کے ہاتھ میں حکومت ہی نہ ہوتو کیا  وہ لوگوں کے درمیان عدالت کے ساتھ حکم کرسکتا ہے ؟ بھائی جب حکومت ہی نہ ہو تو بات مانے گاکون ؟ و لقد بعثنا فی کل امۃٍ و رسولاًانِ اعبدوا اللہ واجتبوا الطاغوت۔ ہر امت میں خدا نے کوئی نہ کوئی پیغمبر بھیجا ہے ، انبیاء کا کام کیا ہے ؟ انِ اعبدوا اللہ ، لوگوں کو خدا کی عبادت کی جانب دعوت دیں ، واجتنبوا الطاغوت، اور لوگوں کو طاغوت سے دور رکھیں ۔ لوگوں کو طاغوت سے دور رکھنے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو طاغوت کے مقابلے میں کھڑا کریں۔ لوگ طاغوت کےمقابلے میں ڈٹ جائیں ، لوگ طاغوتی نظام کے خلاف بغاوت کریں ، لوگ طاغوتی نظام کو ٹھکرائیں ، طاغوتی نظام کو ٹھکرانا کافی نہیں ہے بلکہ طاغوتی نظام کو سرنگون کرکے ، طاغوتی نظام کو نابود کرکے طاغوتی نظام کو برباد کرکے پھر اس کے مقابلے میں ایک الٰہی نظام کا کنسپٹ جب تک نہ ہو تب تک جد و جہد کرتے رہیں ۔ تو خدا یہ چاہتا ہے کہ طاغوتی نظام کو گرا کر آپ پھر بیٹھ جائیں ؟ اسی نظام کو بدلنے کا اسی نظام کو گرانے کا کسی سسٹم کو ختم کرنے کا مفہوم و معنیٰ یہ ہے کہ اس نظام کے مقابلے میں کوئی بہترین نظام لے کر آئیں ۔ جب طاغوتی نظام کو توڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے ، جب طاغوتی نظام کے ساتھ مقابلہ کرنے کا خدا نے حکم دیا ہےجب طاغوتی نظام کے ساتھ لڑنے کا خدا نے حکم دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طاغوتی نظام کے ساتھ ساتھ ایک الٰہی نظام ایک خدائی نظام قائم ہو۔اور ایک ایسا  خدائی نظام کا کنسپٹ اسلام میں پایا جاتا ہے ۔

طاغوتی نظام ، فاسق نظام، فاجر نظام ، جابر نظام ، شیطانی نظام غیرِ الٰہی نظام کے مقابلے میں جس نظامِ حکومت اور جس نظام سیاست کا اسلام نے نظریہ پیش کیا ہے وہ عصرِ غیبت کبریٰ میں نظام ولایتِ فقیہ ہے ، فقیہ کی حکومت۔ اب فقیہ کی حکومت کیوں نہ ہو ؟ ایک عادل وکیل کی حکومت کیوں نہ ہو؟ ایک عادل سیاستمدار کی حکومت کیوں نہ ہو؟ ایک عادل جج کی حکومت کیوں نہ ہو ؟

فقیہ کی حکومت، اگر چہ وہ امام معصومؑ تو نہیں ہیں لیکن ہم اس شخص کی حکومت کو مانتے ہیں جو دوسروں کی بہ نسبت امام معصومؑ سے زیادہ قریب ہیں ، کس چیز میں قریب ؟ علم میں ، تقویٰ میں ، بصیرت میں ، آگاہی میں ، پس فقیہ کی حکومت یا فقہاء کی حکومت وہی اسلامی نظام ہے ۔ قرآن نے کلیات کو بیان کیا ہے کہ طاغوتی  نظام کے مقابلے میں اسلامی نظام کو قائم کرنا ہمارے اوپر واجب ہے ۔ اب عقل کی رو سے آیات کی رو سے روایات کی رو سے سیرت کی رو سے اور انسانی بصیرت کی رو سے اگر ہم اس مصداق کو تلاش کرنا چاہیں اور ڈھونڈنا چاہیں کہ جب تک امام عصر ؑ ظہور نہیں فرمائیں گے اسلام کےلئے جس نظام کا اعلان کیا ہے اور جس سسٹم کا اعلان کیا ہے اُس نظام اور سسٹم کا نام ہے ولایتِ فقیہ۔

  اگر آپ روایات میں جائیں تو ایک کلی مسئلہ آپ حضرات کی خدمت میں ہم پیش کرتے ہیں کہ ائمہ معصومینؑ کے حضور میں اُ ن کی موجودگی میں اس ظاہری دنیا میں امام معصومؑ ہر جگہ نہیں جاسکتے تھے تو کیا مختلف شہروں میں اور مختلف ملکوں میں امام اپنے نمائندئے نہیں بھیجتے تھے ؟ آپ قم جائیں حضرت معصومہ کے حرم کے اس طرف ایک مسجد ہے جس کا نام مسجدِ امام حسن عسکریؑ  ہے، اور جناب اسحق قمی کے فرمان کے مطابق اس مسجد کو تعمیر کرایا گیا تھا۔ اُس زمانے میں جناب اسحاق قمی قم کی سرزمین پر امام حسن عسکریؑ کا نمائندہ ہوا کرتے تھے ۔ کیا امیر المؤمنین ؑ نے اپنے دور حکومت میں مختلف شہروں اور ملکوں میں آپنے نمائیدہ نہیں بھیجتے تھے ؟ کیا امام صادقؑ کے نمائیدے مختلف ملکوں اور شہروں میں نہیں تھے ؟ کیا امام رضاؑ کے دور میں دنیا کے مختلف شہروں میں جہاں شیعہ رہتے تھے کیا وہاں پہ امام ؑ کے نمائیدہ نہیں تھے ؟ جب امام صادق  ایک جگہ پر جناب زرازہ کو بھیجا ؑ نے ۔تو کیا لوگوں سے نہیں کہا کہ آپ لوگ زرارہ کی طرف رجوع کریں ، جو زرارہ کہے گا وہی ہمارا حکم ہے ،جو محمد ابن مسلم کہے گاوہی ہمارا حکم ہے ، جو ابوحمزہ ثمالی کہے گا  وہ ہمارا حکم ہے ۔

امام معصومؑ اپنی زندگی میں اپنی حیات میں جہاں پر امامؑ خود بنفس نفیس نہیں جاسکتے تھے وہاں پرکیا اپنا نمائندہ نہیں بھیجتے تھے ؟ کیا اُن کو امام معصومؑ کی طرف سے ولایت حاصل نہیں تھی ؟ اگر کوئی امامؑ کے نمائیدے کی مخالفت کرے تو کیا اسے امام معصومؑ کی مخالفت نہیں سمجھا جائے گا ؟ اب عقل سے پوچھے جب امامؑ کےہوتے ہوئے جن شہروں میں امامؑ تشریف نہیں لے جا سکتے تھے وہاں پر امامؑ کے نمائندے کی ضرورت ہے تو اس زمانے میں امام ؑ غیبت میں ہیں ، امامؑ ہمارے درمیان (ظاہری طور پر)موجود نہیں ہیں ، تو کیا ہمارے درمیان امامؑ کا نمائندہ نہیں ہونا چاہئے ؟  جو امامؑ کی نیابت میں حکومت کرے ، جو امامؑ کی نیابت میں اس نظام کو چلائے ، جو امامؑ کی نیابت میں اس سسٹم کو آگے لے جائے جو امامؑ کی نیابت میں اسلامی معاشرے کی مدیریت کرے ، اب عقل سے پوچھے کہ امام معصومؑ کے ہوتے ہوئے جہاں امامؑ جن مقامات میں جن ملکوں میں جن شہروں میں نہیں جاسکتے تھے وہاں پر امامؑ کے نائب کی ضرورت ہے تو کیا عصر غیبت میں امامؑ تک جب ہماری رسائی نہیں ہے ،امامؑ کو ہم دیکھ نہیں سکتے ہیں امامؑ کے پاس ہم جا نہیں سکتے ہیں تو اس دور میں جہاں پر ہماری رسائی امامؑ تک نہیں ہیں وہاں پر امامؑ کی نیابت میں امامؑ کا ایک نمائندہ نہیں ہونا چاہئے ؟ ہونا چاہئے ! اسی کا نام ہے نظامِ ولایت فقیہ ۔

فلسفئہ اسلام، حکومت ہے امام خمینیؒ نے فرمایا: کہ اگر ہم حکومتِ اسلامی کا نعرہ بلند نہ کریں ،اگر ہم ولایتِ فقیہ کا نعرہ بلند نہ کریں اگر ہم طاغوتی نظام کے خلاف اپنا احتجاج بلند نہ کریں تو سمجھ لیجئے کہ ہم نے اسلام کو نہیں سمجھا ہے ۔ ایسا انسان فلسفئہ حقیقت اسلام سے آگاہ نہیں ہے ۔ہمیں اگر کوئی یہ کہے کہ آپ ولایتِ فقیہ کو قرآن سے ثابت کریں اسی لفظ کے ساتھ تو آپ اُن سے سوال کریں کہ بارہ امامؑ کےنام ہمیں قرآن میں دکھا دیں ۔ ایک بھی امام کا نام قرآن میں نہیں ہے۔ ائمہؑ کا نام قرآن میں آنا ضروری نہیں ہے؛ قرآن مجید میں اگر صرف ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے نام ہی آجائیں تو اس قرآن کے دس برابر ہوجائے ۔ قرآن میں کلیات بیان ہوئے ہے ۔ اب تمام مسلمانوں کا ایمان ہے یا نہیں ہے ۔ ہم اور  اہل سنت برادران آپس میں بھائی بھائی کی طرح ہیں ہمیں اس دور میں اس ماحول میں جہاں طاغوتی نظام اسلام کو شکست دینے کے درپےہیں ہمیں شیعہ سنی برادران کو ملاکر طاغوتی نظام کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے؛ انتہائی محبت کے ساتھ اور دشمن یہی چاہتا ہے کہ شیعہ سنی آپس میں لڑیں۔پاکستان میں ہم کیوں کہتے ہیں ہمیں قائداعظم ؒ کا پاکستان چاہیئے اب تو آرمی چیف نے بھی ہمارے موقف کی تائید کرت ہوئے کہا ہے کہ قائد اعظم ؒ کا پاکستان ہی وطن عزیز کی نجات کا ذریعہ ہے ۔

ہم ہمیشہ سے کہہ رہے ہیں کہ امریکی بلاک سے باہر آئو! امریکہ آپ کا نجات دہندہ نہیں ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ آپ کوبحرانوں سے نہیں نکالے گا بلکہ اس کی کوشش ہو گی کہ آپ اقتصادی ،معاشی اور ثقافتی طور پر بحرانوں میں گھیرے رہیں ۔آپ کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی ۔ آپ چین ،روس ،ترکی اورایران سے ملکر ان سارے بحرانوں سے باہر آسکتے ہیں ۔ آپ کو دہشت گردی ،انتہا پسندی ، فرقہ واریت،کرپشن اور ناامنی میںامریکہ نے پہنچایا ہے ۔آپ نے آج تک امریکہ کاساتھ دیا اور آپ یہاں تک آ پہنچے ہیں ۔ اب اسے سے کنارہ کر دیکھ لیں ۔ جن ممالک نے امریکہ سے دوری اختیار کی ہے وہ خوشحال ہیں ۔آزاد ہیں ۔ ہم سب کو وطن عزیز سے محبت ہے اور ہم میںسے ایک ایک اس پا ک سرزمین کا نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا سپاہی ہے ۔جب بھی وطن عزیز کو ہماری ضرورت پیش آئی ہم بلاتردد اس وطن پر جان بھی قربان کردیں گے ۔ مگر اس کو تکفیریت جیسی دشمن قوت ہاتھ نہیں جانے دیں گے ۔ ان شاءاللہ۔   

وحدت نیوز (اسلام آباد) قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے حکم پر اسلام آباد میں جمعتہ المبارک کو نکالے جانے والی حمایت مظلومین ریلی کے حوالے سے ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں نے اہم شخصیات اور اداروں کو شرکت کی دعوت دی۔ مرکزی سیکرٹری روابط ملک اقرار حسین اور مرکزی ڈپٹی سیکرٹری تنظیم سازی علامہ اصغر عسکری نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری عارف اور ڈسٹرکٹ بار کونسل کے صدر ملک نوید سے تفصیلی ملاقات اور باہمی دلچسپی کے امور پہ بات چیت کی گئی، ہائیکورٹ بار کے صدر نے مجلس وحدت مسلمین کی ملی و قومی خدمات کو سراہتے ہوئے ریلی میں شرکت کی یقین دھانی کرائی، اس موقع پر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ بار آصف ممتاز ملک بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام شہید قائد حضرت علامہ سید عارف حسین الحسینی ؒکی 29ویں برسی کےموقع پر  مرکزی اجتماع  بعنوان’’مہدی برحق کانفرنس‘‘6اگست 2017 بروز اتوار کو اسلام آباد میں منعقدہوگا،جس میں ملک کے طول وعرض سے ہزاروں عاشقان اور پیروان شہید قائد ؒ شریک ہوں گے ، جبکہ مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین کی شرکت بھی متوقع ہے، اس بات کا اعلان مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں سربراہ ایم ڈبلیوایم علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی زیر صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں کیا گیا،اس موقع پر کنونشن کے انتظامی امور کی تکمیل کے حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل   دی گئیں ، علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مرکزی سیکریٹری امور تعلیم نثار علی فیضی کو چیئرمین کنونشن نامزد کیا ہے جو اجتماع کے تمام امور کی نگرانی کریں گے، اجلاس میں مرکزی سیکریٹری یوتھ ڈاکٹرعلامہ محمد یونس ،مرکزی معاون سیکریٹری امور تنظیم سازی  علامہ اصغر عسکری ،ضلعی سیکریٹری اسلام آباد علامہ محمد حسین شیرازی سمیت ضلع راولپنڈی اسلام آبادکےاہم تنظیمی ذمہ داران بھی موجود تھے ۔جنہوں نے شہید قائد کی برسی کے موقع پر عظیم الشان اجتماع کے انعقاد کا عزم کیا اور کہا کہ انشاءاللہ خدا وند متعال سے امید ہے کہ اس برس مہدی عج برحق کانفرنس میں رکارڈ عوامی شرکت ہو گی ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) سانحہ پارہ چنار کے خلاف پریس کلب اسلام آباد کے سامنے دھرنے کے چوتھے روز پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نیئر بخاری ،سابق وزیر داخلہ سینٹر رحمن ملک ،فرحت اللہ بابر،تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینئر سیاستدان میاں  افتخار حسین، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا،اقلیتی برادری کے نمائندے،سپریم کورٹ بار کے وکلاء اور ہیومن رائٹس کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے کیمپ میں آکر اظہار یکجہتی اور شرکاء سے خطاب کیا۔

اس موقعہ پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ارض پاک کو دانستہ طور پر سانحات کا ملک بنا جا رہا ہے جہاں روز نیا زخم ملتا ہے۔عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس اور لاقانونیت نے حکمرانوں کی نالائقی کو ثابت کر دیا ہے۔اپنی اس نالائقی کو چھپانے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے۔پارہ چنار میں احتجاج کا آئینی حق استعمال کرنے والوں پر ریاستی اداروں کی طرف سے گولیاں چلانا کہاں کا انصاف ہے۔ہم اس ظلم کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ہمارے اس جدوجہد میں دن بدن شدت آتی جائے گی جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم وقت کے ساتھ ساتھ تھک جائیں گے وہ نادان ہیں۔ہمارا جدوجہد تکفیریت کے خلاف ہے جو اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ ملکی یکجہتی کونسل اور سنی اتحاد کونسل کی طرف سے ہماری تائید اس امر کی دلیل ہے کہ ہم پاکستان میں شیعہ سنی کوئی جھگڑا نہیں۔ شیعہ سنی کا اگر جھگڑا ہے تو وہ ان تکفیری قوتوں سے ہے جو ملک دشمنوں کے پے رول پر ہیں اور ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں۔پارہ چنار کے لوگ باہمت اور ثابت قدم ہیں۔ان کے مطالبات ہر لحاظ سے اصولی اور جائز ہیں جن کا فائدہ پاکستان کے امن و امان کے لیے ہے۔حکومت تکفیریت کی سرپرستی چھوڑ کر اس ملک کی بقا و سالمیت کے لیے اقدامات کرے۔ ریاست کی طاقت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔پاکستان کے دشمن وہ لوگ ہیں جن کے اجداد نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی۔شیعہ سنی اتحاد ہمارا جبکہ تکفیریت کا خاتمہ حکومت کا کام ہے۔پارا چنارا وطن کے دفاع کی فرنٹ لائن ہے پاکستان کی حفاظت کے لیے اسے مضبوط کیا جائے۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنمانیئر بخاری نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ پارا چنار دھرنے کے شرکاء کے مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاراچنار میں ریاستی ادارے تحفظ کی فراہمی میں ناکام ہو چکے ہیں فوج کی نگرانی میں کرم ملیشیاء کو پاراچنا ر واپس لایا جائے تاکہ حفاظتی انتظامات مضبوط ہوں۔ آرمی چیف کو پارا چنار جا کر متاثرین کے مطالبات کی منظوری دینی چاہئے۔سنیٹر رحمان ملک و سابقہ وزیر داخلہ نے کہاکہ مجھے پارا چنار جانے سے روک دیا گیا ہے۔ جو ظلم کی انتہا ہے اس سلسلے میں میں ایوان بالا میں قرار داد پیش کروں گامیرا حکومت سے مطالبہ ہے کہ پارا چنار مظاہرین کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نعیم الحق نے سانحہ پارا چنار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں حائل مصلحت کی جڑ تک جانے کی ضرورت ہے۔نفرتیں پھیلانے والے عناصر کی نشاندہی کرنا ہو گی۔کوئٹہ اور کراچی میں ڈاکٹر ز،انجینئرز اور اعلی صلاحیت یافتہ شخصیات کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے بعد پارہ چنار میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ کون سے عناصر ہے جو بھائی کو بھائی سے لڑا رہے ہیں۔ہم لوگ پارا چنار کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے مطالبہ کیا کہ ایک کمیشن بنایا جائے جو یہ جائزہ لے کہ نیشنل ایکشن پلان کو ناکام بنانے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔تما م لشکروں کے اور کالعدم مذہبی جماعتوں کے سربراہان اور نواز شریف ایک دوسرے کے حامی ہیں۔نیپ ان شخصیات کو شیڈول فور میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے جو حکومت کے منفی اقدامات کے خلاف کھل کر بولتی ہیں۔عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی میں حکومت ناکام ہو چکی ہے۔شیعہ سنی اتحاد سے پاکستان کے دشمنوں کو شکست دیں گے۔ارض پاک کو یمن ،لبیا یا شام نہیں بننے دیا جائے گا۔پارا چنار کے سانحے پر سنی اتحاد کونسل مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ کھڑی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ پارا چنار میں یہ واقعہ پہلا نہیں۔حکومت اگر بروقت اقدامات کرتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا مگر افسوس کہ حکومت نے اپنی پالیساں درست کرنے کی بجائے الزام تراشی کو شعار بنا رکھا ہے۔اس واقعہ کے بعد وزیر اعظم ،وزیر داخلہ اور آرمی چیف کو پارا چنار جانا چاہیے تھا۔سیکورٹی میں ہمارے ملیشیا کی ڈیوٹی اس لیے نہیں لگائی جا رہی تاکہ ہم لوگ نہتے رہیں اور دہشت گردوں کو کھل کر کاروائیوں کا موقعہ مل سکے۔معاوضوں کی جب بات ہوتی تو بھی ہمارے خون کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔وزیر اعظم کو بہاولپور اور پارہ چنار کے لوگ میں فرق نہیں کرنا چاہیے تھا۔پاکستان کی سالمیت کے لیے موجودہ پالیسیوں کو بدلنا ازحد ضروری ہے۔ہم نے پالیسی نہ امریکہ کے لیے بنانی ہے اور نہ سعودیہ کے لیے ہم۔نے پاکستان کے لیے پالیسیاں بنانی ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے تحت منعقدہ القدس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری، تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ خٹک، ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ثاقب اکبر، فلسطین فاونڈیشن کے ترجمان صابر کربلائی، سنی اتحاد کونسل کے رہنما جواد کاظمی،تاجر رہنما اجمل بلوچ اورکاشف اقبال سمیت دیگر نے کہا کہ پاکستان کے عوام فلسطین کاز کے ساتھ ہیں اور فلسطینیوں کے ساتھ کسی قسم کی نا انصافی نہیں ہونے دیں گے، انہوں نے اپیل کی کہ پاکستان کے عوام رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس منائیں اور حکومت یوم القدس کی تقریبات کو سرکاری سطح پو مناتے ہوئے یوم القدس کو سرکاری دن منانے کا اعلان کرے،  عالمی سامراجی قوتیں مسئلہ فلسطین کو فراموش کرنے کے لئے مسلم دنیا کو دہشت گردی سمیت معاشی مسائل میں الجھا رہی ہیں تا کہ اسرائیل کو تحفظ فراہم ہو سکے انکاکہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین صرف عرب دنیا کا ہی نہیں بلکہ پوری مسلم امہ اور انسانیت کا اولین مسئلہ ہے اور اس کے منصفانہ حل کے بغیر خطے سمیت عالمی امن قائم نہیں ہو سکتا ہے،  فلسطین میں قبلہ اول پر صیہونی غاصبانہ تسلط کا خاتمہ صرف اور صرف مسلمانوں کے اتحاد سے ہی ممکن ہے مقررین  نے مظلوم فلسطینیوں پر صیہونی مظالم کے نہ رکنے والے ستر سالہ سلسلہ کی بھی شدید مذمت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کاکہنا تھا کہ عالمی سامراجی قوتوں نے مسلمان حکمرانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے جس کے نتیجہ میں اسرائیل کے ناپاک عزائم بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، ان کاکہنا تھا کہ اسرائیلی جعلی ریاست کے ناپاک عزائم کا راستہ روکنے کے لئے مسلم دنیا کو چاہئیے کہ عالمی دہشت گرد امریکا کا سہارا لینے کی بجائے آپس میں اتحاد و اتفاق کا عملی مظاہرہ کرے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور عرب ممالک کے مشترکہ اجلاس میں فلسطین کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا پردہ فاش ہو چکا ہے جس پر مسلم دنیا کے عوام میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے، مقررین کاکہنا تھا کہ آج دنیا بھر میں دہشت گردوں کی مدد کرنے والا امریکی سامراج فلسطینیوں کی اپنے حقوق کے دفاع کے لئے کی جانے والی مزاحمت کو دہشت گرد قرا ر دے رہا ہے اور مسلم دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، القدس کانفرنس ے شرکاء نے فلسطینی مزاحمتی تحریکوں حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی اور پاپولر فرنٹ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔اس موقع پر شرکائے کانفرنس میں سول سوسائٹی اراکین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندگان سمیت طلباء برادری اور تاجر رہنما سمیت صحافی حضرات موجود تھے۔

Page 1 of 96

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree