وحدت نیوز (انٹرویو) جی بی کے معروف عالم دین اور نامور عوامی لیڈر آغا علی رضوی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ عالمی سطح پر نئی صف بندی ہوچکی ہے۔ اس نئی عالمی معاشی اور سیاسی صف بندی میں پاکستان کو سوچ سمجھ کر کردار ادا کرنیکی ضرورت ہے۔ معاشی طور پر ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان بلوغت کیطرف جا رہا ہے اور اس نے عالمی استکباری طاقتوں کے چنگل سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم سیاسی طور پر بھی ان نام نہاد اتحادی ممالک سے الگ ہونیکی ضرورت ہے جنہوں نے ستر سالوں میں پاکستان میں ناامنی اور قرضے کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ پاکستان کی معیشت کو سود کی دلدل میں دھکیل دیا، پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں جھلسا دیا، پاکستان کو بدنام کرکے رکھ دیا۔ اب ان آقاوں سے نجات حاصل کرنیکی کوشش ہے اور مقدسات کے نام پر بھی پاکستان نے بڑے نقصان اٹھائے ہیں۔ افغان وار اور طالبان مقدسات کے ہاتھوں یرغمال ہونیکا نتیجہ ہے۔ ریاستی اداروں کو اب پاکستان کے مفادات کیمطابق سابقہ تجربات کی روشنی میں واضح خارجہ پالیسی بنانے اور اس پر عمل کرنیکی ضرورت ہے۔
 
حجت الاسلام آغا سید علی رضوی کا تعلق اسکردو نیورنگاہ سے ہے۔ وہ حوزہ علمیہ قم اور مشہد کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ گلگت بلتستان میں انقلابی تحریکوں کے سرخیل رہے ہیں۔ انجمن امامیہ بلتستان میں تبلیغات کے مسئول کے طور بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انقلابی فکر کے حامل جوانوں اور عوام میں ان کی مقبولیت غیر معمولی ہے۔ انہیں پورے خطے میں مقاومت و شجاعت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تمام ملی اور قومی بحرانوں میں عوام کی نطریں ان پر ہوتی ہیں۔ سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں وہ گرفتار بھی ہوئے، تاہم حکومت عوامی ردعمل کے سبب فوری طور پر رہا کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ جی بی میں گندم سبسڈی کے خاتمے کیخلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک میں بنیادی اور مرکزی شخصیت انکی ذات تھی اور انہوں نے حکومت کو عوامی تائید سے بارہ روزہ تاریخی دھرنے کے بعد سبسڈی بحال کرنے پر مجبور کیا۔ حالیہ دنوں میں انجمن تاجران کیجانب سے غیر قانونی ٹیکس کے خلاف سولہ روزہ دھرنے میں بھی وہ صف اول کا کردار ادا کرتے رہے اور اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ عوامی حقوق کیلئے ہمہ وقت اور ہر حال میں میدان میں رہنے کے سبب خطے کے عوام انکے معترف ہیں۔ اسوقت عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان سمیت مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کی مسئولیت بھی انکے کندھوں پر ہے۔ مقبول عوامی لیڈر آغا علی رضوی سے غیر ملکی خبررساں ادارےنے ملکی اور علاقائی صورتحال پر ایک اہم انٹرویو کیا ہے، جو اپنے محترم قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

سوال: سب سے پہلے دسمبر اور جنوری کی سخت ترین سردی میں ٹیکس کیخلاف 16 روزہ تحریک کی کامیابی پر آپکو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور جاننا چاہتا ہوں کہ اس کامیابی کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
آغا علی رضوی: آپ کا شکریہ، میں سمجھتا ہوں کہ اس تحریک کی کامیابی پر مبارکباد کے مستحق انجمن تاجران کے سربراہ غلام حسین اطہر اور عوامی ایکشن کمیٹی جی بی کے سربراہ مولانا سلطان رئیس ہیں۔ انکی شجاعت، بہادری، حکمت عملی اور جہد مسلسل کے نتیجے میں یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ان کے بعد گلگت بلتستان کے عوام مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے علاقائیت، لسانیت، فرقہ واریت اور دیگر حکومتی سازشوں کا مقابلہ کرکے اسے کامیاب کیا۔ جہاں تک اس تحریک کی کامیابی کا سوال ہے تو ٹیکس کی معطلی کو میں جزوی کامیابی قرار دیتا ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور منسوخی کو معطلی بنا دیا۔ ساتھ ہی حکومت کے ساتھ تین نکاتی ایجنڈے پہ معاہدہ ہونے کے بعد لانگ مارچ کو ختم کیا تھا۔ اس میں سے ایک نکتہ آئندہ جی بی کے عوام پر کسی قسم کا ٹیکس نہ لگانے کی حامی بھرنے کے ساتھ ساتھ نیشنل اور انٹرنیشنل کمپنیوں پر ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات کو جی بی اسمبلی کو دینا طے پایا تھا، لیکن حکومت اس میں سنجیدہ نہیں لگتی۔

سوال: ذرائع کیمطابق حکومت نئے ٹیکس ایکٹ کے تحت گلگت بلتستان کے عوام پر ٹیکس لگانیکی کوششوں میں ہے، آپکا کیا لائحہ عمل ہوگا۔؟
آغا علی رضوی: وفاقی حکومت کی کوشش ہوگی کہ جی بی کے حقوق سے محروم غریب عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈالے، لیکن ہم عوامی طاقت سے ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں اربوں روپے جی بی کے عوام پہلے ہی وفاق کو دے رہے ہیں، ستر سالہ محرومی کے بعد ٹیکس کا نفاذ بہت بڑا ظلم ہے۔ یہاں پر موجود عوام کا معیار زندگی انتہائی پست ہے اور وہ خط غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں۔ ایسے میں عوام ٹیکس کیسے برداشت کرے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ پورے گلگت بلتستان میں ایک معیاری ہسپتال نہیں، ایک بین الاقوامی معیار کے مطابق یونیورسٹی نہیں، ایک میڈیکل کالج نہیں، ایک انجینئرنگ کالج نہیں، انفرا اسٹریکچر تباہ حال ہے، سڑکیں خستہ حال ہیں، جس خطے میں ایک لاکھ میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کے مواقع ہوں، وہاں لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ اس جنت نظیر وسائل سے بھرپور خطے کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کے ایماء پر بھرتیوں میں من مانیاں اور ٹھیکوں میں بندر بانٹ یہاں تک کہ منصوبوں کی تقسیم میں نا انصافیاں ہو رہی ہیں۔ ایسے میں آپ عوام سے کس طرح ٹیکس لینے کی بات کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے کونسے بڑے عوامی منصوبے تیار کئے ہیں، جو عوام کا معیار زندگی بلند ہونے میں ممد و معاون ثابت ہوئے ہوں۔ وفاقی جماعتوں کا کام دھونس اور دھاندلی کے ذریعے ریاستی طاقت استعمال کرکے الیکشن کو ہائی جیک کرنا اور بعد میں ریاستی طاقت و فورتھ شیڈول کے ذریعے مخالف جماعتوں کو دیوار سے لگانے کے علاوہ کیا رہ گیا ہے۔ ستر سالوں میں اس خطے کے عوام کو اپنے پاوں پہ کھڑا کرنے کے لئے کونسا کام کیا گیا ہے۔

سوال: آپ مسلم لیگ نون کی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہیں جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے بلتستان یونیورسٹی دی اور گلگت اسکردو روڈ دیا، کیا یہ بڑے کام نہیں۔؟
آغا علی رضوی: دیکھیں! مسلم لیگ نون کی ہم مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتے۔ یہ چیز واضح کر دوں کہ کسی بھی جماعت سے مخالفت کرنا ہمارا جمہوری حق ہے اور دشمنی کسی سے نہیں، اگر وہ ریاست کے دشمن نہ ہوں۔ یہ الگ بات کہ مسلم لیگ نون کی حکومت ہمارے ساتھ دشمنوں سے بدتر سلوک کرتی ہے۔ اس جماعت سے اختلافات نظریاتی اور عملی دونوں بنیادوں پر ہے۔ نظریاتی طور پر آپ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کی تربیت ایسے آمر نے کی، جس نے ملک میں فرقہ واریت کا آغاز کیا، جس نے طالبان جیسے ناسور کی بنیاد رکھی، جس نے پاکستان آرمی کے اسٹریٹیجی کو تبدیل کرکے امریکہ کی نیاتی جنگ افغانستان میں لڑی، جس کے نتائج آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔ یہی نواز شریف اس وقت غالباً پنجاب کا وزیر قانون اور بعد میں ضیاءالحق کے دست راست کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ اسی دور میں فرقہ واریت کو ہوا ملی اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوا، جو آج تک جاری ہے۔ اس فرقہ واریت کی لعنت میں وطن عزیز کے کتنے سرمایہ کار، کتنے ڈاکٹرز، کتنے پروفیسرز، کتنے جج جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، آپ جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ جانتے ہیں کہ اس جماعت کے رہنماوں کے ساتھ انڈیا کے براہ راست رابطے ہیں۔ یہ الزام دوسروں پہ لگاتے ہیں جبکہ یہ خود انڈیا کے تجارتی شراکت دار ہیں۔ ان کی ملوں میں انڈیا کے ملازمین ہیں، مودی کو گھروں میں بلانے والے ہیں۔ گویا پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے یہ امین نہیں رہے۔ پانامہ کی کہانیاں الگ سے ہیں، ملک پہ قرضوں کا بوجھ الگ کہانی ہے۔

جی بی کے حوالے سے خصوصی طور پر مجھے جو دکھ ہے، وہ یہ ہے کہ معرکہ کرگل میں ہمارے شیر دل جوان ان سرحدوں کو واپس لائے، جو 71ء کی جنگ میں ہم نے گنوا دیئے تھے، اس کے علاوہ کرگل کے ٹائیگر ہل اور کافر پہاڑ تک سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ دوسرے الفاظ میں کرگل پر بھی قبضہ جمایا تھا اور دشمن فوج کو دھول چٹا دی تھی۔ اچانک اسی نواز شریف کے ساتھ انڈیا کے سربراہ کے مذاکرات ہوتے ہیں اور یہ ہماری فورسز کو واپس بلانے پر راضی ہو جاتا ہے۔ میں آج بھی جاننے سے قاصر ہوں کہ معرکہ کرگل کے جوانوں کا خون کس قیمت پہ بیچ دیا گیا۔ ہمیں بتایا جائے کہ ان مذاکرات میں کیا معاملات طے پائے تھے۔ دل خون کے آنسو روتا ہے، جب اس عظیم فتح کے نتائج کچھ نظر نہیں آتے۔ یہ وہ بنیادی وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے اس جماعت سے اختلافات ہیں اور یہ بھی عرض کردوں کی انکے سیاسی آقا کے دور میں ہی جی بی میں باقاعدہ لشکر کشی ہوئی، ادارے تماشائی بن کر بیٹھے رہے، جسے سانحہ 88 کہا جاتا ہے، اس لشکر کشی پر آج تک ایف آئی آر نہیں ہوسکی۔ ذمہ داران کا تعین نہیں ہوسکا۔ قوم کو بتایا جانا ضروری ہے کہ اس دن سے حالیہ دنوں تک شاہراہ قراقرم بے گناہوں کے خون سے رنگین ہوتی رہی۔ یہاں پر فرقہ واریت کو ترویج ملی، جبکہ جی بی میں تمام مسالک ایک دوسرے سے محبت کرتے اور صدیوں سے محبت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

جہاں تک گلگت بلتستان کا تعلق ہے تو آپ مجھے بتا دیجئے کیا سابقہ الیکشن میں گلگت اسکردو روڈ اور بلتستان یونیورسٹی انکے الیکشن کے منشور میں تھی کہ نہیں۔ دوسرے الفاظ میں عوامی مینڈیٹ ہی انہی منصوبوں کے ذریعے حاصل کیا تھا۔ عوام نے انہیں جتوایا ہی اسی منشور کے سبب تھا تو ان کا کون سا احسان ہے۔ اقتدار پہ پہنچایا ہی اسی کام کے لئے تھا تو کرنا انکی مجبوری تھی۔ رہی بات گلگت اسکردو روڈ پر بھی تحفظات اپنی جگہ قائم ہے۔ اس کے لئے تخمینہ شدہ بجٹ میں کئی ارب روپے کم کئے گئے، میری اطلاعات کے مطابق اس پرانے نقشے کو بھی تبدیل کیا گیا ہے۔ اس بات کی تصدیق کسی حکمران جماعت کے رکن اسمبلی نے برملا کی ہے۔ اس وقت صوبائی حکومت خود گلگت اسکردو روڈ کی جزوی تفصیلات بتانے سے قاصر ہے، اسکا معیار کیا ہوگا اور تکمیل کب ہوگی، یہ الگ سوال ہے۔ دوسری بات آپ یونیورسٹی کے حوالے سے پوچھ رہے تھے تو میں عرض کروں کہ کہاں کی یونیورسٹی کی بات کر رہے ہیں آپ۔ قراقرم یونیورسٹی کے کیمپس کا نام تبدیل کرنا کونسا بڑا کارنامہ ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کے آئی یو کا کیمپس قائم رہتے اور نئے سرے سے ایک معیاری یونیورسٹی قائم کرتے، مگر اس میں بھی خطے کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
 
سوال: ایک معاملہ اٹھا تھا کہ حکمران جماعت اور اراکین اسمبلی کی طرف سے آپ کو مختلف نمبرز سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، کیا وہ نمبرز ٹریس ہوئے کہ نہیں۔؟
آغا علی رضوی: (مسکراتے ہوئے) یہ چیزیں عوامی تحریک کا حصہ ہے اور ان چیزوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ ہم اپنی توانائیاں ان چیزوں پر صرف نہیں کرسکتے۔ ہمیں کرنے کے بہت کام نہیں۔ جی بی کے عوام کے ساتھ بڑے مسائل ہیں۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں، اسے میں آسانی سے نمٹ سکتا ہوں۔ اور یقیناً حکومت کی طرف سے کوششیں ضرور ہوتی ہیں۔ وہ بھی نون لیگ جیسی حکومت ہو جسکے پاس کوئی اقدار نہیں ہوتا۔ یہ بات تو واضح ہے کہ جب عوامی حقوق کے لیے نکلے ہیں تو ظالموں سے مقابلہ کسی بھی صورت ہونا ہے۔ ظالم قوتیں اپنی پوری کوشش کریں گی کہ انکی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ آئے لیکن جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے ہیں جب تک زندگی رہے گی ہر چھوٹے سے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ظلم کے سامنے ڈٹتا رہوں گا۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمیں عوامی جدوجہد اور انصاف کی بالادستی کے لیے کوشش کرنے سے نہیں روک سکتی۔ البتہ جن نمبروں سے مسیجز موصول ہوئے ہیں ان کی نقاب کشائی کی جائے گی، خطے کے امن اور میرے دوست احباب کے جذبات کے پیش نظر ظاہر ہے معاملات کو بہتر انداز میں حل کرنا ہوگا۔ میں اداروں تک بھی تفصیلات پہنچا دوں گا اور اس سلسلے میں واضح ہو رہا ہے کہ کون کون مزموم عزائم رکھتے ہیں۔
 
سوال:کیا یہ بات درست ہے کہ آپ کی جماعت کو سی پیک پر تحفظات ہے۔؟
آغا علی رضوی: سی پیک پاکستان کے معاشی استحکام کا ضامن ہے۔ اس کی تعمیر کسی بھی قیمت پر ہونا ضروری ہے، البتہ پاکستان کے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے۔ ہمیں سی پیک پر کسی قسم کے تحفظات نہیں۔ اسے پاکستان کے لیے ناگزیر سجھتے ہیں تاہم اس کی تقسیم میں حکومتوں نے بڑی خیانتیں کی ہیں۔ ہمیں تحفظات ہیں تو اس بڑے منصوبے کو خراب کرنے اور اس کے ثمرات کو عوام تک نہ پہنچانے کے سلسلے میں موجود رکاوٹوں پر تحفظات ہیں۔ دیکھیں! سی پیک جیسا بڑا منصوبہ یہاں سے گزرتا ہے لیکن اس میں جی بی کی تعمیر و ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ سی پیک میں جی بی کو بڑا حصہ ہے، لیکن منصوبے کے نقشوں اور تفصیلات جو میرے پاس ہیں کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ کاغذات سے ہٹ کر بھی اگر کام ہوتا ہو تو کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس سلسلے میں حکمرانون سے بھی پوچھا گیا تو ان کے پاس بھی کوئی تفصیلات نہیں ہیں۔ صرف یہی کہتے ہیں کہ جی بی کو حصہ ہے۔ اس معاملے پر جب آواز بلند کی جاتی ہے تو فوری طور پر اس آواز کو سی پیک کی راہ میں رکاوٹ بنا کر پیش کرنے کی خیانت کی جاتی ہے۔

وہ تمام منصوبے جو پاکستان کے معاشی استحکام کا باعث ہو ہم ان میں مددگار ہیں۔ لیکن یہ کوئی منطق نہیں کہ پنجاب میں اربوں کے منصوبے اسی پیک کے ذریعے ہو جیسے اورینج ٹرین منصوبے پر عمل ہو اور جی بی میں کچھ بھی نہ ہو۔ میرا مطالبہ ہے کہ سی پیک میں تمام صوبوں کو برابر حصہ دیا جائے اور جو صوبے زیادہ مستضعف ہو ان کو دوسروں سے فوقیت دی جائے۔ یہ کسی صورت انصاف نہیں کہ سارے منصوبے تخت لاہور میں انڈیل دیں۔ اصل میں پاکستان کا استحکام ہی اسی میں ہے تمام خطے مستحکم ہوں اور کسی بھی خطے میں احساس محرومی پیدا نہ ہو۔ مشرقی پاکستان کی علحیدگی ہی نااہل حکمرانوں کی غلط پالیسی اور احساس محرومی کا نتیجہ تھا۔ اس سلسلے میں عوامی مہم بھی چلائیں گے اور مقتدر حلقوں سے بھی گزارش کریں گے۔ ساتھ ہم ساری جماعتوں کو اعتماد میں لے کر سی پیک اور دیگر علاقائی حوالے سے آرمی چیف کے نام ایک کھلا خط بھی بھیج دیں گے۔ اس میں واضح طور پر لکھ دیں گے کہ وطن کے حقیقی محبین کو معتصب قوتین کس طرح غدار بناکر پیش کر رہی ہیں اور ہمارے ساتھ کس طرح کے ناروا سلوک جاری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر سی پیک کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو ان قوتوں سے پہنچ سکتا ہے جو اپنے اقتدار کی خاطر اس خطے میں بے چینی پھیلا رہی ہیں اور عوام جو کہ خطے کا محافظ ہے، کو غیروں کا ایجنٹ بنا کر پیش کر رہی ہیں۔
 
 
سوال:گندم سبسڈی تحریک کے بعد حالیہ ٹیکس مخالف تحریک میں آپ نے کیا کھویا اور کیا پایا۔؟
آغا علی رضوی: حالیہ ٹیکس مخالف تحریک سخت ترین موسم میں شروع کی گئی تھی۔ موسمی حالات کے پیش نظر میں ذاتی طور پر فکر مند بھی تھا کہ منفی پندرہ سینٹی گریڈ کی سردی میں عوام کو کیسے گھروں سے نکالیں۔ اس کا آغاز انجمن تاجران نے کیا تھا اور انکے ساتھ میدان میں عوامی ایکشن کمیٹی سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں موجود تھیں۔ جب عوام پر جاری ظلم کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا تو عوام نے جس طرح کی استقامت کا مظاہرہ کیا اس کی مثال ستر سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس ٹہٹھرتی سردی میں جس طرح عوام کا سمندر امڈ آیا ناقابل یقین تھا۔ میں اپنے عوام کو داد دیتا ہوں اور سلام پیش کرتا ہوں۔ لانگ مارچ کا فیصلہ ہوا تو اس دوران ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ڈیزل اور پیٹرول پمپس بھی بند کر دئیے تھے، اس کے باجود عوام کا سمندر آیا، ساری ساری رات جاگ کے گزارے، اس سخت سردی میں کھلی گاڑیوں کی چھت پر بیٹھ کر سفر کیے۔ میں جب جوانوں کے جذبات اور جذبہ فداکاری دیکھتا ہوں تو شرمندہ ہوتا ہوں۔ اس تحریک میں کھویا کچھ بھی نہیں البتہ بہت کچھ پایا۔ لوگوں میں قربانی کا جذبہ پیدا ہوا، شعور پیدا ہوا، لوگوں نے فرقہ واریت کی بت کو توڑ دیا، عوام نے علاقائیت کے طوق کو گردن سے اتارا، لوگوں نے محبت عام کی۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ عوام نے یہ بات تسلیم کرلی کہ اگر عوام متحد ہو کر میدان میں آجائے تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔
 
سوال:گلگت بلتستان کے وہ کونسے مسائل ہیں جو سب سے اہم ہیں اور آپ کسی بھی قیمت پر خاموش نہیں رہ سکتے۔؟
آغا علی رضوی: دیکھیں! میں نے پہلے عرض کیا کہ ہم کسی بھی ظلم پہ خاموش نہیں رہ سکتے۔ یہ ہمارے جماعت کے لیے طرہ امتیاز ہے کہ ہم ہر ظلم کے خلاف میدان میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ چاہے وہ ظلم چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہم ہر مظلوم کے حامی اور ظالم کے مخالف ہیں۔ اگر جی بی کی بات کی جائے تو گندم سبسڈی، ٹیکس کے علاوہ خالصہ سرکار کے نام پر عوامی اراضی پر قبضہ بڑا ظلم ہے۔ یہاں کے وسائل کو لوٹنا ظلم ہے۔ یہاں پر میرٹ کی دھجیاں اڑانا ظلم ہے۔ سب سے بڑا ظلم اور دہشتگردی تو تعلیمی اداروں کو خراب کرنا، معیار تعلیم کو گرانا ہے۔ ان تمام مظالم پر ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی بھی سطح تک جا سکتے ہیں اور جائیں گے۔
 
سوال: دفاعی اہمیت کے حامل خطہ ہونے کے ناطے آرمی کی جی بی میں فعالیت کو آپ جمہوری اقدار کی راہ میں رکاوٹ نہیں تسلیم کرتے اور یہ کہ آپ اپنے خطاب کے دوران اکثر آرمی سے مطالبہ کرتے ہیں اس طرح آپ اپنی مشکلات میں اضافہ نہیں کرتے ۔؟
آغا علی رضوی: میری خواہش ہے کہ ریاست کے تمام ادارے مضبوط ہوں۔ عدلیہ انصاف کی بالادستی کسی قیمت پر قائم رکھے، مقننہ اپنی سرگرمیاں مثبت انداز میں سرانجام دیں، اسی طرح مجریہ بھی اپنے دائرے میں کام کرے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مقننہ میں قومی مفاد کو فرد کے مفادات پر قربان کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی حکومتوں نے اثر نفوذ قائم کر کے ریاستی اداروں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ انتظامیہ ریاست سے زیادہ حکومت کی وفاداریاں نبھاتی ہیں۔ پولیس حکومت کی فورس بن جاتی ہے۔ اس میں واحد آرمی ہے جو حکومتی فورس نہیں بلکہ ریاست کی فورس ہے اور ہونی چاہے۔ اگرچہ آرمی سے بھی مختلف موضوعات پہ شکایت ہوسکتی ہے اور ہے۔ ماضی کے کچھ فیصلوں پر اعتراض ہو سکتا ہے لیکن اسوقت آپ دیکھتے ہیں کہ وہ فورس جس نے آپ کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنی تھی آج آپ کی سڑکوں کی حفاظت کے لیے بھی پہنچی ہوئی ہے۔ سیلاب آئے تو فوج، زلزلہ آئے تو فوج، دھرنا کنٹرول کرنا ہو تو فوج یعنی آپ ہر جگہ اپنی نالائقی چھپانے کے لیے فو ج کو استعمال کرتی ہے اور بعد میں جمہوریت کا رونا بھی روتے ہیں باوجودیکہ نامساعد حالات میں آپ کا آئین ان چیزوں کی اجازت دے دیتا ہے۔

جہاں تک گلگت بلتستان کا تعلق ہے تو آپ جانتے ہیں کہ یہاں پر اگر کوئی معیاری تعلیمی ادارہ ہے تو فوج کا، ہسپتال ہے تو فوج کا، کوئی اہم کالج ہے تو فوج کا گویا، اکلوتی یونیورسٹی فوجی حکمران کے دور میں بنی، سدپارہ ڈیم فوجی حکمران کا منصوبہ، ابھی گلگت اسکردو روڈ کی تعمیر فوج کے پاس، گویا انکی فعالیت ہر میدان میں سب سے زیادہ ہے۔ میں جمہوری اقدار اور حکومت پر یقین رکھتا ہوں لیکن بتائیں اس خطے کو آپ کے جمہوری حکمرانوں نے کیا دیا۔ جب تک فوج کردار ادا نہ کرے آپ کے جمہوری حکمران عوام سے مذاکرات کے لیے ٹیبل پر آنے کو تیار نہیں ہوتا ہے۔ یہ ہے آپکی جمہوریت کا رویہ اور انداز۔ لہٰذا اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ جی بی کی تعمیر و ترقی میں پاک فو ج کا بنیادی کردار رہا ہے۔ اور امید ہے آئندہ بھی اس سے بڑھ کر کرار ادا کرے گی۔ ان سے مطالبات کے بارے میں آپ نے پوچھا ہے تو ظاہر ہے سب سے زیادہ بااختیار اور موثر ادارہ فوج ہی ہے۔ ان سے مطالبات کرنا کوئی جرم نہیں۔ حکومتوں سے مطالبات کرنا موجودہ حالات میں حماقت کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ جی بی کی حکومت کے اپنے ہاتھ میں کچھ نہ ہو اور وفاقی آقاوں سے سامنے ہاتھ ملتے رہنے اور انکی تعریف کرنے کے علاوہ کوئی اختیار نہ ہو تو آپ ان سے کیا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ رہی فوج سے مطالبات کرنے کے نتیجے میں مشکلات کا ذکر تو کبھی ہم نے ذاتی مفادات کے حوالے سے مطالبہ نہیں کیا۔ ہم نے خطے کی تعمیر و ترقی، خطے کے استحکام، خطے میں امن و امان کی بالادستی، خطے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے آواز بلند کی ہے اور کرتا رہوں گا۔ یہ خطہ، یہ عوام اور اسکی ترقی و خوشحالی ہی تو پاکستان کی خوشحالی ہے۔
 
سوال:اس وقت عالمی حالات میں کیا تبدیلیاں آرہی ہے اور اس کا پاکستان بلخصوص گلگت بلتستان پر اثرات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس میں آپ کیا کردار ادا کریں گے۔؟
آغا علی رضوی: دیکھیں! بہت اہم سوال آپ نے کیا۔ عالمی طور پر سماجی، اقتصادی اور سیاسی سطح پر بہت بڑی مثبت تبدیلیاں رونماء ہو رہی ہیں۔ اگر سماجی طور پر دیکھیں تو اقوام عالم کے افکار کو غلط رخ دینے کی جو کوششیں کی گئی ہیں وہ ختم ہوتی جارہی ہیں۔ بلخصوص اسلام جو کہ دین فطرت ہے اسکے آفاقی اور کامل ہونے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، تاہم جن ادیان کو اسلام سے خطرہ تھا انہوں نے کئی عشروں پر محیط کوششوں کے بعد اسلام کی غلط تعبیر کی کوشش کی۔ اس کے لیے اسلامی مکاتب فکر کے اختلافات کو ہوا دینا، دہشتگرد جماعتوں کو بنانا، اسلامی ممالک میں اثر نفوذ پیدا کرکے اس کے اقدار کو ختم کرنا اور فساد پھیلانا شامل ہے۔ لیکن اقوام عالم جان چکی ہیں کہ اسلام کی اصل تعلیمات کیا ہیں، اسلام کیسا معاشرہ چاہتا ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں کے سرمایے اب ضائع ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اور سخت کوشش ہوگی، بلخصوص پاکستان کے معاشرہ میں موجود اقدار و تہذیب کو خراب کرنے کی کوشش ہوگی۔ اس کے علاوہ اقتصادی اور سیاسی طور پر دیکھیں تو دنیا نئے سیاسی عمل میں داخل ہوچکی ہے۔ یک قطبی یا دو قطبی طاقت زمانہ گزر چکا ہے۔ دنیا کے جو سپر طاقتیں تھیں معاشی و سیاسی طاقتیں تھیں اور دنیا میں ایک پتہ بھی انکی مرضی سے نہیں ہلتا تھا اب چھوٹے سے چھوٹا ملک جیسے کیوبا ہے کوریا ہے انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگا ہے۔

عالمی سطح پر نئی صف بندی ہو چکی ہے۔ اس عالمی نئی معاشی اور سیاسی صف بندی میں پاکستان کو سوچ سمجھ کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشی طور پر ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان بلوغت کی طرف جا رہا ہے اور عالمی استکباری طاقتوں کے چنگل سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تاہم سیاسی طور پر بھی ان نام نہاد اتحادی ممالک سے الگ ہونے کی ضرورت ہے جنہوں نے ستر سالوں میں پاکستان میں ناامنی اور قرضے کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ پاکستان کی معیشت کو سود کی دلدل میں دھکیل دیا، پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں جھلسا دیا، پاکستان کو بدنام کر کے رکھ دیا۔ اب ان آقاوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش ہے اور مقدسات کے نام پر بھی پاکستان نے بڑے نقصان اٹھائے ہیں۔ افغان وار اور طالبان مقدسات کے ہاتھوں یرغمال ہونے کا نتیجہ ہے۔ ریاستی اداروں کو اب پاکستان کے مفادات کے مطابق سابقہ تجربات کی روشنی میں واضح خارجہ پالیسی بنانے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

مختصر طور پر گلگت بلتستان کے حوالے سے عرض کروں تو میں سمجھتا ہوں کہ جی بی اس وقت دنیا کا حساس ترین علاقہ بن چکا ہے۔ سماجی طور پر بھی یہاں پر تبدیلی لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں یہاں اثر نفوذ بڑھا چکی ہیں۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے حساس ادارے خواب خرگوش سو رہے ہیں اور امریکہ ہر گھر میں داخل ہو چکا ہے۔ پیسوں کی وسیع تر سرمایہ گزاری ہو چکی ہے اور میں ثبوت بھی پیش کر سکتا ہوں کہ آپ کے قانون ساز اداروں تک انہوں نے غیر معمولی جگہ بنالی ہے اور عوام میں بھی اثر نفوذ پیدا کر لیے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو نجات دہندہ بشیرت ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر واقعی وہ پاکستان کا دوست ہے تو ستر سالہ دوستی کے نتیجے میں پاکستان پہلے سے کمزور کیوں ہوا انکی مدد سے طاقتور ہونا چاہیے تھا۔ ان کے علاوہ یورپی طاقتوں کی سرگرمیاں بھی یہاں تیز ہو گئی ہیں۔ میری اطلاعات کے مطابق یہاں دہشتگرد جماعتوں کو منظم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کیونکہ جی بی اس وقت اکنامکل ہب بننے جا رہا ہے۔ پاکستان کے معاشی مستقبل اس خطے کے امن و امان پر منحصر ہے۔ اس سلسلے میں گلگت بلتستان میں امن و امان کی فضا قائم کرنے کے لیے، بھائی چارگی اور اخوت کی فضاء قائم کرنے کے لیے ہم پہلے سے میدان میں ہے اور اب بھی رہیں گے۔

سی پیک کے حوالے سے جیسا کہ عرض کیا گیا جی بی کو برابر حقوق نہیں ملے ہیں، میں نے جب اس سلسلے میں مشاہد حسین سید سے بات کی تو انہوں نے بھی کہا کہ آپ کے وزیراعلٰی کو بولنا چاہیے۔ چنانچہ ہم مقتدر حلقوں سے مطالبہ کرتے ہیں اس منصوبے کے گزرنے کے بعد جہاں پاکستان کو معاشی استحکام ملے ایسے منصوبے شامل کریں جس سے اس حساس اور پاکستان کے لیے قابل فخر خطے کے غریب و محروم عوام کی خوشحالی کا باعث ہو۔ اگر سی پیک میں بلتستان کی اہم شاہراہ، تمام اضلاع کے ہسپتال، ہائیڈرل پاور پراجیکٹس اور چند تعلیمی ادارے شامل کیا جائے تو اس خطے کے عوام پر بڑا احسان ہوگا۔ ایک اہم بات آپ کو یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ سی پیک منصوبے کے بعد امریکہ، انڈیا سمیت یورپی ممالک کی نگاہیں جی بی پر جم گئی ہیں۔ اس سلسلے میں عوام کو بھی ہشیار رہنے کی ضرورت ہے اور اداروں کو چاہیے کہ منفی طاقتوں کو پنپنے کا موقع نہ دیں۔ اس خطے میں ناامنی پھیلنے کا موقع نہ دیں۔ منفی طاقتیں ہی مسائل کی وجہ سے جنم لیتی ہے۔ اگر سیاسی جدوجہد کو غداری کا نام دے، ایکشن پلان کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے، مخالفت جماعت کو دیوار سے لگانے کے لیے ریاستی طاقت کا استعمال کرے یا خطے میں عوام دشمن پالیساں بنائیں، سکیورٹی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق بلخصوص آزادی رائے سلب کرے تو یہ سب دشمن کے عزائم کو تقویت پہنچانے کا باعث ہوگا۔ عوام کو انکے حقوق دیں، شفاف سیاسی عمل جاری رکھیں، جمہوری اقدام کی پاسداری کریں، مخالف جماعتوں کو برداشت کریں، عوامی حقوق سلب نہ کریں، قومی سرمایے کا غلط استعمال نہ کرے، میرٹ کو بحال کرے تو سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں جس معاشرے میں انصاف ختم ہو جائے وہاں کا معاشرہ متزلزل ہونا فطری امر ہے اور اس معاشرے کو ٹھیک طاقت اور جیلوں کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف کی بالادستی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے ریاستی ادارے ان باتوں کو گہرائی میں لیں گے اور حقوق سے محروم اس عوام کی خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
 
سوال: آپ گلگت بلتستان کے عوام کو مختصر طور کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
آغا علی رضوی: میں عوام سے گزارش کروں گا کہ اتحاد کو قائم و دائم رکھیں، باشعور رہیں، قربانی کا جذبہ پیدا کریں، ظلم کے خلاف اٹھنے کی ہمت پیدا کریں، وفاقی حکومتوں کے دلاسوں پر یقین کیے بغیر خود انحصاری کے طرف بڑھیں، تعلیم پر خصوصی توجہ دیں، لسانیت اور فرقہ واریت کے بت کو پاش پاش کریں، وطن عزیز پاکستان کے استحکام و سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں، کسی بھی شر پسند کو اس خطے کے امن کو خراب کرنے نہ دیں۔ متحد رہ کر جدوجہد جاری رکھیں تو وہ دن دور نہیں ہوگا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا مضبوط ترین اور مستحکم ترین خطہ بنے گا۔

وحدت نیوز (انٹرویو) علامہ ناصر عباس جعفری مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں، انہوں نے بہت ہی کم عرصہ میں قیام کرکے پاکستان میں ملت تشیع کے حقوق کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اور عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ علمی حوالے سے بہت مضبوط ہیں، اسکے علاوہ حالات حاضرہ کا بہت ہی زبردست تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں۔ ایران کی سرزمین قم المقدس میں دینی تعلیم حاصل کی، اتحاد بین المسلمین کیلئے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں، یہی وجہ ہے کہ مجلس کے مرکزی پروگراموں میں اہل سنت جماعتوں کے قائدین موجود ہوتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے  نے علامہ ناصر عباس جعفری سے موجودہ ملکی صورتحال اور مشرق وسطٰی کے حالات پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

سوال: سپریم کورٹ کا فیصلہ اور پاکستان کے سیاسی حالات پر کیا کہتے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میرا خیال ہے کہ پاکستان میں سیاسی بحران بڑھتا جا رہا ہے، جس کا کوئی حل سامنے نہیں آرہا، پاکستان کے دشمن ایک ہوچکے ہیں، نواز شریف اور لیگی حکومت کے اقدامات اس مادر وطن کو اور بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، اس وقت حکومت کون کر رہے ہیں اور کیسے چل رہی ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں، پوری حکومت کی توجہ فقط نواز شریف کو بچانے پر صرف ہو رہی ہے، ایک کرپٹ وزیراعظم کو اتنے مواقع دیئے جا رہے ہیں کہ وہ جو ملک کیخلاف کرسکتا ہے اور بول سکتا ہے، اسے بولنے دیا جا رہا ہے، کیا آج سے پہلے ایسے تھا؟، اس ملک کی قسمت کا فیصلہ کہاں ہو رہا ہے، کسی کو معلوم نہیں۔ اس بحران کو اتنا طول دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف سی پیک مکمل کرنا چاہتے ہیں، دوسری جانب یہ بحران بھی چل رہے ہیں۔

سوال: پاکستان کے حالات پر کیا کہتے ہیں، دہشتگردی ختم ہونیکا نام ہی نہیں لے رہی، ملک کو بحرانوں سے کیسے نکالا جائے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میرے خیال میں آج تک جو کچھ بھی ہوا وہ ہمارے خلاف ہوا، دہشتگردی کی وجہ سے پاکستان میں اسی ہزار پاکستانی شہید ہوئے ہیں، جس میں بیس ہزار صرف شیعہ شہید ہیں، جتنی بھی نسل کُشی ہوئی، اس میں اندرونی اور بیرونی سازش کار ایک پیج پر تھے اور ہیں، ان کے نشانے پر پاکستانی ہیں، یہ بھی مار کر پاکستان کو ہی کمزور کرنا چاہتے تھے، انڈیا کی مداخلت پاکستان میں سب کے سامنے ہے، خاص طور پر بلوچستان کے حالات سب پر واضح اور عیاں ہیں، بلوچستان ہر طرف سے حملوں میں گھرا ہوا ہے، دنیا بھر کی ایجنسیاں وہاں پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے اندر شیعہ اور سنی جیتنا آج قریب ہیں پہلے نہیں تھے، ہم جتنا قریب ہوں گے، اتنا ہی دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرسکیں گے، ہم اس وطن کو خوبصورت بنائیں گے اور اس کو آگے لے کر جائیں گے، بحرانوں سے نکالیں گے۔ یہ ہماری مادر وطن ہے، اس کو ہم نے بنایا تھا اور ہم ہی بچائیں گے۔

سوال: حکومت پاکستان سے کیا مطالبہ کرتے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میں تو یہ چاہتا ہوں پاکستان کے اندر یہ جو مسائل دن بہ دن آگے بڑھ رہے ہیں، چاہے وہ سیاسی ہوں، اخلاقی ہوں، سوشل ہوں یا سکیورٹی سے مربوط مسائل ہیں، یہ پاکستان کیلئے نہایت ہی خطرناک ہیں، میں پاکستان کی حکومت اور پاکستان سے محبت کرنے والوں سے عرض کرتا ہوں کہ پاکستان کو بچائیں اور جن لوگوں نے پاکستان پر حکومت کی اور جن کے پاکستان سے باہر بینک بیلنس ہیں، وہ خدارا پاکستان کو مسائل اور بحران سے نکالیں۔ بہت ہوگیا اب اس مادر وطن کو ترقی کے راستے پر ڈالیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم تو ڈوبے تمہیں بھی لیکر ڈوبیں گے۔ کچھ قوتیں پاکستان کے دشمنوں سے ملکر ملک کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔

سوال: پاک ایران تعلقات پر کیا کہتے ہیں، خاص طور پر آرمی چیف کے حالیہ دورہ ایران کی تناظر میں کیا دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں، پاکستان کو ایک سازش کے تحت کوشش کی گی تھی کہ اس کو اپنے ہمسایہ ممالک سے الگ کیا جائے، اس کے مشرقی اور مغربی سرحدوں پر مسائل ہوں اور اسے ایران سے دور رکھا جائے، یہ دشمن کا پلان تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو کمزور کرنے اور اپنی مرضی کے فیصلے پاکستان سے کرانے کیلئے سازش بنی گئی، دراصل یہ پاکستان کے دشمن طاقتوں کی کوشش تھی، آرمی چیف نے ایران کا دورہ کیا ہے، جو بہت زبردست بات ہے اور اب حالات بہتری کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں، ابھی آپ دیکھیں کہ جب ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کا افتتاح ہوا تو اس میں پاکستان کے وزیر (حاصل بزنجو) کو بھی ساتھ کھڑا کیا گیا، اس سے دشمن کو پیغام گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اب پاکستان ترقی کی طرف جا رہا ہے، اگر ہماری سمت درست ہوگئی تو ہمیں اس راستے سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان، چین، ترکی، روس، عراق اور ایران ایک بلاک بن جائے تو افغانستان میں موجود فورسز کا بھی مقابلہ کیا جاسکتا ہے، اس سے پاکستان کی مشرقی سرحد کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے، اسی طرح پاکستان کا چین پر انحصار بھی ختم ہو جائے گا، پاکستان پر جو عالمی پریشر ہے، وہ بھی ختم ہو جائے گا اور یوں پاکستان بحران سے نکل جائے گا۔

پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات کسی اور ملک کے ساتھ کمپرومائز نہیں کرنے چاہئیں، پاکستان کو اپنا قومی مفاد لیکر چلنا چاہیئے، اس کو سامنے رکھ کر اپنی قومی پالیسی ترتیب دینی چاہیئے، ابھی ایران کی طرف سے گیس پائپ لائن پاکستان کے بارڈر تک آئی ہوئی ہے، اگر یہ گیس پاکستان میں آجاتی ہے تو ہمارے توانائی کے مسائل حل ہو جائیں گے، پاکستان میں سستی گیس آجائے گی اور ہماری فیکٹریاں چل پڑیں گی۔ سی پیک پاکستان میں آرہا ہے، اگر پاکستان نے اپنا گھر ٹھیک نہ کیا تو بہت مشکلات سے دوچار ہو جائیگا، میرے خیال میں ایران پاکستان تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں، توانائی شعبہ میں اہم پیشرفت ہوسکتی ہے، پاکستان سے چین تک گیس پائپ لائن جا سکتی ہے، جس سے پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا، یاد رکھیں کہ پاکستان پانچ ارب لوگوں کو آپس میں ملاتا ہے، پاکستان اگر اچھے تعلقات بناتا ہے تو ایشیاء کو طاقتور بنائے گا اور خود بھی طاقتور ہوگا۔

سوال: آپ نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کی اور مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، مجلس کیا کرنے جا رہی ہے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں ہمارا اصولی موقف شروع دن سے واضح ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ ظلم ہوا ہے، ان کے چودہ افراد کا خون بہایا گیا ہے، خواتین کے منہ میں گالیاں ماری گئی ہیں، ان کو انصاف نہیں ملا، انہیں انصاف ملنا چاہیئے۔ اس معاملے پر ہم ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیا کسی اور ملک میں قاتل شخص وزیراعلٰی رہ سکتا تھا؟، جس وزیر قانون کے حکم پر یہ ہوا، وہ آج بھی صوبائی وزیر قانون ہے۔ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ نامزد ہوچکے ہیں۔ اب انہیں سزا ہونا باقی ہے۔ انہیں مظلوموں کی آہ لے جائیگی۔ اس وقت تمام اپوزیشن جماعتیں ماڈل ٹاون کے معاملے پر ہم آواز ہیں اور مجلس کی آواز بھی ساتھ ہے۔

سوال: ٹرمپ کے بیت المقدس سے متعلق بیان کے بعد کیا اتحاد بین المسلمین کو مزید فروغ دیکر قبلہ اول کے مسئلے کو مزید بہتر انداز میں اجاگر نہیں کیا جا سکتا، اس حوالے سے کیا کوششیں کی جاسکتی ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میرے خیال میں ہم اگر آج اکٹھے نہیں ہوئے تو قبلہ اول مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا، مسلمانوں کو پوری دنیا میں اکٹھا ہونا چاہیے، امت مسلمہ اگر یکجا ہو جائے تو مسلم حکومتوں کو اپنی سمت درست رکھنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، یہ اتحاد خود امت مسلمہ کی عزت و وقار کے لئے لازم ہے اور امت کو جو خطرات لاحق ہیں، اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن نے ہمیں کہا ہے کہ ہم اتفاق اور اتحاد سے رہیں۔ وحدت اور اتحاد حکم قرآنی ہے، جس پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔

سوال: ٹرمپ کے اقدام کے بعد مشرق وسطٰی کی کیا تصویر بنے گی۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: اللہ نے ہمارے دشمنوں کو احمق قرار دیا ہے، قرآن میں ہے کہ انہوں نے بھی چال چلی اور اللہ نے بھی اپنی چلی، بہتر چال اللہ ہی چلنے والا ہے، اللہ کی طرف سے جو چالیں چلی جاتی ہیں، وہ مومنین کی طرف سے چلی جاتی ہیں، خدا نے ٹرمپ اور اس کے ساتھیوں کو رسوا کر دیا ہے اور پچھلے کئی سالوں کی انویسمنٹ پر پانی پھر دیا ہے، وہ کوشش کر رہے تھے کہ عرب کی اسرائیل سے توجہ ہٹا کر ایران کی جانب کر دی جائے اور ایران کو دشمن بنا دیا جائے، عرب ممالک کیلئے ایران کو اسرائیل سے بھی بڑا تھریٹ بنا دیا جائے، اسرائیل ایران دشمنی کو شیعہ سنی میں تبدیل کر دیا جائے، انہوں نے کوشش کی کہ فلسطین کے ایشو کو ہٹا کر ایران عرب کا ایشو بنا دیا جائے۔ یہی وجہ بنی کہ انہوں نے شام کو ڈسٹرب کیا، عراق کو تباہ کیا، داعش کو لایا ہی اسی کام کیلئے گیا تھا۔ یمن پر حملہ کرایا گیا۔ اسی طرح لبنان کے حالات خراب کئے گئے، سعد حریری سے استعفٰی دلوایا گیا، ایران کے ترکی سے اور ترکی کے ایران سے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ٹرمپ کے ایک عمل نے سب کچھ الٹ کر دیا، اب امت مسلمہ کا دوبارہ ترجیحی ایشو فلسطین بن گیا ہے، تمام ممالک اسرائیل کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔ دشمن نے اپنی چال چلی اور اللہ نے اپنی چال۔

وحدت نیوز(انٹرویو) سید ناصر عباس شیرازی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس سے قبل مرکزی سیکرٹری سیاسیات کی ذمہ داری انکے پاس تھی۔ ناصر شیرازی آئی ایس او پاکستان کے بھی مرکزی صدر رہے ہیں جبکہ متحدہ طلباء محاذ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اپنی سیاسی دانست کی بدولت بہت قلیل عرصے میں ایم ڈبلیو ایم کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہ صرف متعارف کروایا بلکہ شہرت کی بلندیوں  پر بھی پہنچایا۔ ناصر شیرازی پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ حلیم طبیعت کے مالک ہیں۔ شیعہ سنی اتحاد اور پاکستان میں قیام امن کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھی تحریک کے روح رواں ہیں۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی رٹ پٹیشن بھی دائر کرنے کے بعد اس کی پیروی کر رہے تھے کہ اغواء کر لئے گئے۔ ایک ماہ کی قید کے بعد بازیاب ہوئے تو سب سے پہلے "ایک بین الاقوامی  خبر رساں ادارے " نے ان کیساتھ گفتگو کی، جو قارئین کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔

سوال : سب سے پہلے تو آپکو اور آپکے اہلخانہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ آپ خیر و عافیت سے گھر واپس پہنچ گئے، یہ بتایئے کہ وہ کون لوگ تھے، جنہوں نے آپکو اغواء کیا اور انکے مقاصد کیا تھے۔؟
ناصر عباس شیرازی: مجھے اغواء کرنیوالے لوگ کسی سکیورٹی ادارے کے اہلکار ہی تھے، وہ کس ادارے کے تھے یہ مجھے علم نہیں۔ واپڈا ٹاؤن سے یکم نومبر کو مجھے اس وقت اغواء کیا گیا، جب میں اپنی اہلیہ اور بچوں کیساتھ خریداری کے بعد واپس گھر جا رہا تھا، مجھے 2 ماہ اور 2 سال کے بچوں کے سامنے گھسیٹ کر گاڑی سے نکالا گیا اور 2 سے 3 گاڑیاں تھیں، جن میں وہ لوگ سوار تھے۔ انہوں نے وہاں سے مجھے اغواء کیا اور کسی نامعلوم جگہ پر جا کر بند کر دیا۔ کچھ عرصہ وہاں رکھا گیا، اس کے بعد مجھے ایک اور جگہ پر منتقل کر دیا گیا۔ اس دوسری جگہ کا بھی مجھے علم نہیں کہ وہ کون سی جگہ تھی۔ بہرحال اغواء کاروں نے ملک کے آئین کو پامال کیا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا اور مجھے، جو ایک سیاسی جماعت کا کارکن ہوں، اغواء کیا گیا۔ جہاں تک ان کے مقاصد کی بات ہے تو مجھے نہیں معلوم انہوں نے مجھے کیوں اغواء کیا، وہ کیا چاہتے تھے، یا ان کے پیچھے کون تھا۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ مجھے اغواء کرنیوالوں کے مقاصد کیا تھے۔

سوال : آپکی جماعت تو اسکا ذمہ دار پنجاب حکومت اور رانا ثناء اللہ کو ہی ٹھہراتی رہی اور مسلسل احتجاج میں پنجاب حکومت کو ہی نشانہ بنایا جاتا رہا۔؟
ناصر عباس شیرازی: ویسے دیکھا جائے تو بحیثیت صوبے کے وزیر قانون کے طور پر شہریوں کے تحفظ ذمہ داری رانا ثناء اللہ پر ہی عائد ہوتی ہے، لاہور جیسے شہر سے ایک بندہ اغواء ہو رہا ہے اور لاہور پولیس اور پنجاب حکومت کو پتہ ہی نہیں چلتا؟ جس ادارے نے بھی اغواء کیا تھا، وہ فرشتے آسمان سے تو نہیں اترے تھے، یہیں سے ہیں نا، لیکن پنجاب حکومت ایک ماہ میں میرا سراغ نہیں لگا سکی، میں مسلسل ایک ماہ جبری قید میں رہا، پنجاب حکومت نے میری بازیابی کیلئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس اغواء میں رانا ثناء ہی ملوث دکھائی دیتا ہے۔ پولیس مسلسل عدالت میں ٹال مٹول سے کام لیتی رہی، یہ سب پولیس کی غفلت کا نتیجہ اور صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔

سوال : دوران حراست اغواء کار آپ سے کس قسم کے سوالات کرتے رہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: ان کے سوالات بے مقصد تھے، بے تکے سوالات کرتے رہے، یہ کہ مجلس وحدت مسلمین کی قریبی جماعتیں کون سی ہیں، کن کن جماعتوں کیساتھ آپ کے تعلقات بہت اچھے ہیں، کون سی جماعت آپ سے دور ہے، کس جماعت کیساتھ آپ کی نہیں بنتی، گلگت بلتستان میں مجلس وحدت مسلمین کی پوزیشن مضبوط کیوں ہے۔ آپ وہاں الیکشن میں کیوں حصہ لے رہے ہیں۔ آپ لوگوں کی جماعت کے مقاصد کیا ہیں۔ وغیرہ وغیرہ، یہ وہ سوالات تھے، جو عام سے بھی سادہ ہیں۔ یہ سب باتیں تو عام ہیں، بچہ بچہ جانتا ہے ایم ڈبلیو ایم کا منشور کیا ہے، ہم سیاست میں کن جماعتوں کے ہم خیال ہیں، لیکن حیرت ہے کہ وہ اس قسم کے بے تکے سوالات کرکے پتہ نہیں کیا جاننا چاہتے تھے۔

سوال : لیکن رانا ثناء اللہ کو آپکی جماعت خصوصی طور پر ہدفِ تنقید کیوں بنا رہی ہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: رانا ثناء اللہ وہ وزیر قانون ہیں، جنہوں نے خود قانون اور آئین کو پامال کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے پاکستان کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے لاہور ہائیکورٹ میں رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ ہر فرد ریاست میں قانون اور آئین کے سامنے جوابدہ ہے، پھر رانا ثناء اللہ کیوں نہیں، میرے اغواء میں رانا ثناء اللہ ہی ملوث ہے، مجھے میرے اڑھائی سال کے بیٹے کے سامنے اغواء کیا گیا۔ کیا کوئی قانون، آئین یا اخلاقیات اس حرکت کی اجازت دیتے ہیں؟ مجھے اغواء کرنیوالوں نے قانون شکنی کی۔ انہوں نے اپنے ہی ملک کا آئین پامال کر دیا، جس کی حفاظت کا انہوں نے حلف اٹھا رکھا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔

سوال : آپکو جس جگہ پر رکھا گیا، وہ کیسی تھی؟ کوئی حوالات تھی یا کوئی گھر تھا۔؟
ناصر عباس شیرازی: مجھے ایک تنگ و تاریک جگہ پر رکھا گیا تھا، میرے اغواء سے صرف یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جس کی لاٹھی ہے، بھینس اسی کی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر کی بات نہیں کی جا سکتی، یہاں تو پھر طاقتور منہ زور ہو جائے گا، جس کے پاس 4 بندے ہوں گے، وہ منہ زور ہو جائے گا۔ جب معاشرے میں قانون و انصاف کی حکمرانی نہ رہے تو معاشرے بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں اور پاکستان کو بھی اسی بگاڑ کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں امن قائم ہو، یہاں قانون کی عملداری ہو، یہاں وحدت کو فروغ ملے، میرا جرم کیا تھا؟ یہی کہ میں وحدت کی بات کر رہا تھا، میں نے شیعہ اور سنی کو متحد کیا، میں نے تکفیریوں کو بے نقاب کیا، میں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اور اس کے جواب میں مجھے اغواء کر لیا گیا۔

سوال : سکیورٹی ادارے جب بھی کسی کو اغواء کرتے ہیں، کوئی جرم ہوتا ہے تو اٹھاتے ہیں۔؟
ناصر عباس شیرازی: میرا کوئی جرم ہے تو عدالتیں موجود ہیں، وہاں میرے خلاف رٹ دائر کریں، میرا جرم ثابت کریں، میرا کوئی جرم ثابت ہوتا ہے تو میں سزا کیلئے تیار ہوں، لیکن یہ کون سا قانون ہے کہ بے جرم و خطا آپ کسی شہری کو اٹھائیں، بلکہ معصوم بچوں کے سامنے اٹھائیں اور ایک ماہ تک اسے جبری قید میں رکھیں، عدالت میں ٹرائل ہو تو پیش نہ کریں۔ یہ کونسا قانون ہے، یہ تو جنگل کا قانون ہوا، پاکستان میں تو باقاعدہ ایک آئین موجود ہے، قانون ہے، عدالتیں ہیں، ان سب کی موجودگی میں اگر کوئی اس قسم کی حرکت کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کی مخالفت کر رہا ہے، وہ کوئی ثبوت رکھتے ہیں تو عدالت میں پیش کریں۔ ایسے اغواء کرکے تو وہ اپنا کیس کمزور کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو ایسے کلچر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں کو آئین کی سربلندی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔ ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھے۔

سوال : ایک وزیر قانون کیسے قانون شکنی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: پنجاب سے اغواء ہوا ہوں تو ذمہ دار پنجاب حکومت ہے، جس نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ صوبے میں جنگل کا قانون ہے۔ شریف برادران نے ہمیشہ انتقامی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ یہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو دوسروں کو انسان نہیں سمجھتے۔ یہ ملک کو اپنی جاگیر سمجھ لیتے ہیں، پھر انہیں ایسے دو چار وزیر بھی مل جاتے ہیں، جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں، وہ بھی ان کی ہر ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں، یہی اصل میں ان کو بھی گمراہ کرتے ہیں، ان کی گردن کا سریا اصل میں یہی وزیر ہوتے ہیں، جیسے رانا ثناء اللہ نے پنجاب کے وزیراعلٰی کو مٹھی میں لے رکھا ہے، پنجاب کا پورا کنٹرول وزیر قانون کے ہاتھ میں ہے۔ وہی سکیورٹی فورسز کی بھی نگرانی کرتا ہے، وہی کابینہ کمیٹی برائے امن و امان سمیت صوبے کے دیگر معاملات چلاتا ہے۔ اجلاسوں کی صدارت کرتا ہے، سب کچھ ایک وزیر کے ہاتھ میں دیدیا گیا ہے، اب اگر کوئی بقول چودھری شیر علی مجرمانہ ذہنیت کا مالک ہو اور اس کے ہاتھ میں اقتدار آجائے تو انجام یہی ہوگا کہ کوئی ملک میں آزادانہ گھوم پھر نہیں سکے گا۔ رانا ثناء اللہ کے کارنامے میڈیا والے جانتے ہیں، شائع یا نشر اس لئے نہیں کرسکتے کہ وہ اقتدار میں ہے، جس دن رانا ثناء اللہ کا اقتدارختم ہوگیا، وہ بے نقاب ہو جائے گا۔ میڈیا اس کی اصلیت بے نقاب کرے گا۔ اس کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو چودھری شیر علی سے پوچھیں، جنہیں شہباز شریف نے خاموش رہنے کا کہا ہے۔ ورنہ ماضی قریب میں جب چودھری شیر علی نے رانا ثناء اللہ کا کچا چٹھہ کھولا تھا تو لیگی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی اور پارٹی ٹوٹنے کے قریب تھی، لیکن شہباز شریف نے دونوں کو بیان بازی سے روک دیا اور معاملہ سرد پڑ گیا۔ کچھ عرصے بعد یہ معاملہ پھر گرم ہوگا اور دونوں بیچ چوراہے ایک دوسرے کی ہنڈیا پھوڑیں گے، وہ وقت قریب ہے۔

سوال : آپکا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔؟
ناصر عباس شیرازی: آئندہ کا لائحہ عمل میری سیاسی جدوجہد ہے، جسے جاری رکھوں گا، جلد ہی اعلٰی قیادت سے ملاقات کروں گا۔ ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ہم نے آئندہ 2018ء کے الیکشن میں بھی بھرپور طریقے سے حصہ لینا ہے، اس کی حکمت عملی طے کی جائے گی اور میں نے رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی جو رٹ پٹشین دائر کی ہوئی ہے، اس کی بڑھ چڑھ کر پیروی کروں گا۔ ہم ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ہر شہری کو وہ حقوق ملیں، جو اسے آئین دیتا ہے۔ ہم ملک میں جنگل کا قانون نہیں چاہتے، ہم پرامن پاکستان کے قیام کیلئے سرگرم ہیں اور ان شاء اللہ ہم پاکستان کو قائد کا حقیقی پاکستان بنائیں گے۔ ہم آمروں کی پیداوار سے ملک کو نجات دلائیں گے، کرپشن اور انتہا پسندی کا خاتمہ کریں گے۔ ہمارے سیاسی جدوجہد کا مقصد پرامن اور خوشحال پاکستان ہے، جس میں تمام مکاتب فکر اور مذاہب کو مکمل مذہبی آزادی ہوگی۔ ہم پہلے بھی اسی کاز کیلئے جدوجہد کر رہے تھے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ یہ اغواء اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہمیں ہمارے مشن سے نہیں روک سکتے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم جہاں شیعہ سنی کو ایک دوسرے کے قریب لائے ہیں وہاں دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی قریب لائیں اور پاکستان میں ایسا امن قائم کریں کہ دنیا مثال دے۔ امن کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، ہم تکفیریوں کے روز اول سے مخالف تھے اور اب بھی ان ملک دشمنوں اور اسلام دشمنوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔

سوال : جن جن سیاسی و مذہبی جماعتوں نے آپکی بازیابی کیلئے ایم ڈبلیو ایم کا ساتھ دیا، انکے حوالے سے کچھ کہیں گے۔؟
ناصر عباس شیرازی: جی بالکل، میں مجلس وحدت مسلمین، تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ق، ملی یکجہتی کونسل ، سنی اتحاد کونسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پاکستان عوامی تحریک، جماعت اسلامی، امامیہ آرگنائزیشن سمیت دیگر سیاسی، سماجی رہنماؤں اور صحافی دوستوں کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے میری بازیابی کیلئے اپنے اپنے طور پر کوشش کی اور ایم ڈبلیو ایم کا ساتھ دیا۔ یقیناً میری حمایت ایک سیاسی جماعت کے کاز کی حمایت تھی، جن دوستوں نے میرے اہل خانہ کی بھی ڈھارس بندھائی، بالخصوص اپنے وکلاء دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں۔ جن دوستوں نے پاکستان میں اور جنہوں نے کربلا میں میری بازیابی کیلئے دعائیں کیں، ان بہنوں، ماؤں اور بھائیوں اور بزرگوں کا ممنون ہوں اور دعاگو ہوں، اللہ تعالٰی ان تمام احباب کی توفیقات خیر میں اضافہ فرمائے۔

 

بشکریہ اسلام ٹائمز

وحدت نیوز(انٹرویو)محترم نثار فیضی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تعلیم ہیں، بنیادی تعلق بلتستان ہے اور کافی عرصہ سے راولپنڈی شہر میں مقیم ہیں، اس سے پہلے دو مرتبہ ایم ڈبلیو ایم کے ہی شعبہ فلاح و بہود کے انچارج بھی رہے ہیں اور مرکزی سیکرٹری روابط کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں آئی ایس او راولپنڈی ڈویژن کے صدر اور مرکزی کابینہ کے رکن بھی رہے ہیں۔ اسکے علاوہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے نام پر قائم فلاحی ادارہ ماوا کے بھی بانی اراکین میں شمار ہوتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کیجانب سے قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی انتیسویں برسی کے سلسلہ میں نثار فیضی کو مرکزی چیئرمین کنونشن بنایا گیا ہے، اس بار برسی کی خاص بات یہ ہے کہ جگہ تبدیل کرکے پریڈ گراونڈ کر دی گئی ہے، جہاں پاک فوج کی سالانہ پریڈ ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ایک بین الاقوای خبر رساں ادارےاسلام ٹائمز نے محترم نثار فیضی سے خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

سوال: برسی شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے پروگرام کے حوالے سے کیا تیاریاں ہیں، اس بار کتنے احباب جمع کر رہے ہیں۔؟
نثار فیضی: سب سے پہلے تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اسلام ٹائمز اور اس کی انتظامیہ کے بہت ہی مشکور ہیں، جنہوں نے ہمیشہ اہم موقوں پر اس طرح کے موضوعات پر خود سے توجہ دی اور قوم کے جذبات کی درست ترجمانی کی اور آگاہی پھیلانے میں معاون ثابت ہوئے۔ پانچ اگست بالخصوص ملت تشیع اور باالعموم ملت پاکستان کی تاریخ کا وہ اہم ترین دن ہے، جب اس سرزمین پر فرزند سیدالشہداء اور خدمت گزار محرومین پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی کا لہو بہایا گیا، اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ایک ایسی شخصیت اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کرکے گئی کہ جن کی شہادت پر خود رہبر کبیر سید روح اللہ خمینی نے ملت پاکستان کے نام پیغام بھیجا اور کہا کہ آج میں اپنے حقیقی فرزند سے محروم ہوگیا ہوں، امام راحل نے ملت پاکستان کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سید عارف حسین الحسینی کے افکار کو زندہ رکھیں۔ دیکھیں ملت پاکستان اور ملت تشیع پاکستان کی اجتماعی جدوجہد کا جو راستہ ہے، اس سفر میں سید عارف الحسینی کی شہادت کا دن بہت ہی اہم ہے، ان کے یوم شہادت کو انتہائی شایان شان طریقے سے منانا ہے، اس دن ان کی روح کے سے تجدید عہد کرنا، ان کے افکار کو اگلی نسل تک منتقل کرنا اور ان کی خدمت کو بیان کرنا ہماری جدوجہد کا خاص ترین پہلو رہا ہے اور ان شاء اللہ اس عمل کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ جہاں تک تیاری اور شرکت کے بارے میں سوال ہے تو اتنا عرض کروں کہ اس بار ہم نے اپنا مقام تبدیل کر دیا ہے۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ ملت تشیع اپنے قائد کی برسی پر جوق در جوق شامل ہوکر اپنا واضح پیغام دے گی کہ ہم اپنے شہید قائد کو نہیں بھولے ہیں۔ ان کی یاد زندہ ہے، ان کے افکار زندہ ہیں، ان کا راستہ موجود ہے، ان کی جدوجہد موجود ہے۔ اس لئے کوئی فرار کا راستہ موجود نہیں ہے۔

سوال: اس بار برسی کا مقام کیوں تبدیل کیا گیا ہے۔؟
نثار فیضی: جی اس لئے تبدیل کیا ہے کہ پریڈ گراونڈ کی حیثیت اہم پروگراموں کے حوالے سے بہت ہی اہم ہے، پہلے 23 مارچ کی پریڈ پرانے گراونڈ جو پارلیمنٹ کے سامنے ہے، وہاں ہوا کرتی تھی، لیکن سکیورٹی صورتحال اور میٹرو بس کی وجہ سے یہ تبدیل ہوگیا، اسی طرح اسلام آباد میں تعمیراتی کاموں کی وجہ سے بھی کئی مشکلات ہیں۔ اس کے علاوہ پریڈ گراونڈ بہت کھلی جگہ ہے، جہاں آپ آرام سے ایک بہترین پروگرام کر سکتے ہیں۔ اب تمام اہم تقاریب اسی پریڈ گراونڈ میں ہوتی ہیں، تئیس مارچ کا پروگرام یعنی فوجی پریڈ بھی اسی جگہ پر ہوتی ہے۔ اس جگہ پر پروگرام کرنا ہمارے لئے ایک چیلنج ہے اور امید کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے فضل اور امام زمانہ کی تائید و نصرت سے ایک اہم اور تاریخی پروگرام کے انعقاد میں کامیاب ہو پائیں گے۔ ان شاء اللہ

سوال: برسی کی مناسبت سے کیا خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں اور کونسی اہم شخصیات کی آمد متوقع ہے۔؟
نثار فیضی: خود اس گراونڈ کا انتخاب اس پروگرام کو بہتر کرنے کا ہی ایک پہلو ہے، ان شاء اللہ اس میں ہر سال کی طرح ملی شخصیات، طلبہ و طالبات، بچے، جوان، خواتین اور اکابرین ملت سمیت ذاکرین عظام کو خصوصی شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ یہ دعوتی عمل جاری ہے، اس بار خاص بات یہ ہے کہ ہم اس پروگرام میں اہل سنت کی مذہبی شخصیات کو بھی مدعو کر رہے ہیں۔ ایسی جماعتوں کو مدعو کر رہے ہیں، جن کا پاکستان میں اتحاد و وحدت کے حوالے سے اہم کردار ہے، وہ شخصیات مدعو ہوں گی اور پروگرام میں ان کے خطابات بھی ہوں گے۔

سوال: فکر شہید حسینی کو اجاگر کرنیکے حوالے سے اس بار کیا خاص ہوگا۔؟
نثار فیضی: فکر شہید حسینی کے پرچار کے حوالے سے جہاں ہمارے مقررین ان کی خدمات، افکار اور بصیرت کے حوالے سے پرمغز گفتگو کریں گے، وہیں قائد شہید کی شخصیت کے حوالے سے قائد وحدت علامہ ناصر عباس کا خصوصی خطاب ہوگا۔ اس خطاب میں علامہ راجہ ناصر عباس عباس جعفری قائد شہید کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے آئندے کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کریں گے۔ ان روایتی طریقوں کے علاوہ شہید کے حوالے سے خصوصی ترانے، خصوصی کلپس بھی سوشل میڈیا پر نشر کئے جائیں گے اور پروگرام کا بھی حصہ بنیں گے۔ اس کے علاوہ اس پروگرام میں شہداء کے خانوادوں کی بھی خصوصی نمائندگی ہوگی۔ اس کے علاوہ شہید کی شخصیت کے حوالے سے خصوصی اسٹال بھی لگائے جائیں گے اور ایک بھرپور ماحول آپ کو دیکھنے کو ملے گا۔

سوال: برسی کے حوالے کوئی پیغام دینا چاہیں۔؟
نثار فیضی: شہید کی یاد واقعاً ہمارے لئے بہت اہم ہے، آپ کو یاد ہے کہ 2008ء میں جب پاراچنار میں حالات انتہائی مخدوش تھے، اس وقت شہید کی یاد منانے کا آغاز کرکے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، جو الحمد اللہ جاری و ساری ہے، برسی شہید پر جب ہماری قوم اکٹھی ہوتی ہے تو اس موقع پر جہاں ہم فکر شہید سے نئی روح لیکر روانہ ہوتے ہیں، وہی اپنے طاقت کا بھی اظہار کرتے ہیں، دشمن کی آنکھوں میں ہیبت ڈالتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ قائد شہید کا وجود ہمیں اپنے منزل کی جانب لیکر جا رہا تھا تو انہیں شہید کرا دیا گیا، لیکن ہم انہیں نہیں بھولے، ان کی یاد زندہ ہے، ان کے افکار زندہ ہیں، ان کی راہ زندہ ہے، ان کے ساتھی زندہ ہیں، جو اس فکر کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں، یہ دن مظلوموں کی طاقت کا دن ہے، اس لئے ملت کے سب طبقات نکلیں اور شہید کے ساتھ تجدید عہد کریں۔ ان شاء اللہ 6 اگست کو ہم ملت کی راہ تک رہے ہوں گے۔ ہم ان کی خدمت کیلئے پریڈ گراونڈ میں موجود ہوں گے۔ اس بار اس کانفرنس کا نام مہدی ؑ برحق رکھا گیا ہے۔ آئیں اس مہدی برحق کو ان کے فرزند کی شہادت پر پرسہ دیں اور عہد کریں کہ اے ہمارے آقا و مولا ہم آپ کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کیلئے ہمہ وقت مصروف عمل ہیں۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) فرقہ وارانہ دہشتگردی کیخلاف اور ملی حقوق کی بازیابی کیلئے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے 87 روز تک بھوک ہڑتال کرکے پاکستان کی سطح پر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ عدم تشدد پر مبنی اس تحریک نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو متاثر کیا، یہی وجہ بنی کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھوک ہڑتال کیمپ میں آکر علامہ ناصر عباس سے اظہار یکجہتی کیا اور مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے  نے بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل سے پہلا خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

سوال: دہشتگردی نے ملک میں عام افراد کا جینا دوبھر کر دیا ہے، آپ نے اس پر تاریخی بھوک ہڑتال بھی کی، اصل مسئلہ کہاں نظر آرہا ہے، ریاست سنجیدہ نہیں ہے یا کوئی اور مسئلہ نظر آرہا ہے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: پاکستان میں گذشتہ تین دہائیوں سے ایسی پالیسیاں بنائی گئیں جو پاکستان کے قومی مفاد اور پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کے خلاف تھیں، جن میں سے ایک پاکستان کے اندر جہادی گروہ بنانا، لشکر بنانا یا تکفیریوں کو منظم کرنا تھا۔ ایسی پالیسی ترتیب دی گئی جس کا مقصد پاکستان کے عوام کو لسانی، علاقائی، قومی، مذہبی اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنا اور ان کے درمیان نفرت پیدا کرنا تھا۔ یہ ایسی پالیساں تھیں، جن کے نتیجے میں پاکستان میں حالات خراب ہونا شروع ہوگئے، جس کے باعث پاکستان کے قومی مفاد کو نقصان پہنچا اور نیشنل سکیورٹی داو پر لگی۔ یہی وجہ بنی کہ پاکستان کے شیعہ سنی اور اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوئیں، دہشتگردی اور انتہا پسندی پر ریاستی ادارے تماشا دیکھتے رہے، گلگت بلتستان سے لیکر بلوچستان اور کراچی تک تکفیری دندناتے پھرتے رہے، لیکن یہ لوگ تماشا دیکھتے رہے، مقصد یہ تھا کہ پاکستان کو سعودی عرب کی طرح، جیسے وہاں کے بادشاہوں اور انتہا پسند مذہبی حلقے میں اتحاد قائم ہوا، جس کے نتیجے میں وہاں پر سو سال پہلے ایک حکومت قائم ہوئی، جس نے پورے علاقے میں ظلم و ستم کیا اور عالمی استکباری قوتوں کیلئے کام کیا اور اسرائیل کیلئے رول ادا کیا۔ اسی انداز میں ضیاء کے زمانے میں اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے انتہا پسند ملاوں اور متشدد لوگوں کو جمع کیا، اس طرح ان کے درمیان اتحاد وجود میں آیا، تاکہ پاکستان کو بھی ایک خاص مسلک والا ملک بنایا جائے، جس میں فوجی اسٹیبلمشنٹ اور ان کے درمیان اتحاد ہو، یہ طاقتور ہوں، ان کے ذریعے افغانستان اور سنٹرل ایشیا کو اسٹریٹیجک ڈبیتھ بنایا جاسکے، یوں اس ریجن کے ذریعے عالمی استکباری قوتوں کے ایجنڈے کو عمل شکل دی جاسکے۔

یہ بڑا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے روس کو شکست دی ہے، یعنی افغانستان میں انہی جہادیوں کے ذریعے سے روس کی شکست دی گئی، آپ کی تو ذمہ داری بنتی تھی کہ آپ سب سے پہلے کشمیر کو آزاد کراتے، آپ امریکہ، سعودی عرب سمیت دیگر عرب شیخوں کو ساتھ ملا کر کشمیر کو آزاد کراتے، ان کو حقوق دلاتے، جو آج تک ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، پس معلوم ہوا کہ جہاد افغان پاکستان کا ایجنڈا نہیں تھا، افغانستان کا جہاد عالمی استکباری قوتوں کا ایجنڈا تھا، جس میں پاکستان استعمال ہوا۔ ان کے ایجنڈے میں پاکستان نے عمل کیا، ان کا ایجنڈا تھا کہ اہل تشیع اور اہل سنت کو کمزور کیا جائے۔ اسی بنیاد پر پاکستان میں تکفیری قوتیں نام نہاد جہادی قومی اثاثہ ٹھہرے۔ آپ دیکھیں کہ اسی بنیاد پر ان نام نہاد تکفیریوں کو پاکستان کے ریاستی اداروں جن میں فوج اور نیوی شامل ہے، میں بھرتی کیا گیا۔ پاکستان میں آئیڈیالوجیکل تبدیلی کیلئے باقاعدہ کام کیا گیا، پاکستان کے اندر تمام ڈیفنس ہاوسز اتھارٹی کی مساجد میں انہیں تکفیری نظریہ رکھنے والے ملاوں کو بھرتی کیا گیا۔ انہیں مسجدیں دی گئیں۔ عملی طور پر ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ نتیجتاً پاکستان کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کا کام شروع کر دیا گیا۔ پاکستان کی سب سے بڑی آبادی اہل سنت کی تھی، دوسری آبادی تشیع کی تھی، اسی طرح آپ دیکھیں کہ جب پاکستان بنا تو 25فیصد اقلیتیں تھیں، آج پانچ فیصد رہ گئی ہیں، وہ لوگ جنہوں نے اپنے انتخاب سے پاکستان کو چنا تھا، جنہوں نے بھارت جانے کے بجائے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی تھی انہیں تکفیری دہشتگردوں نے مار مار کر بھگا دیا۔ اہل سنت بریلوی کی آئیڈلوجی تبدیل کی جا رہی ہے، ان کی مساجد پر قبضے کئے گئے۔ اہل تشیع کی یہ آئیڈلوجی تبدیل نہیں کرسکتے تھے، اس لئے انہیں مارنا شروع کر دیا اور ان کی تکفیر شروع کر دی، البتہ تکفیر فقط اہل تشیع کی ہی نہیں بلکہ انہوں نے اہل سنت کی بھی تکفیر کی۔ انہوں نے امام بارگاہوں پر حملے کئے، شخصیات کو شہید کیا، یہ چاہتے تھے کہ قادیانیوں کی طرح تشیع کو بھی منفور کر دیا جائے۔ یوں یہ ملک پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کیلئے جہنم بنا دیا گیا۔ ناامن بنا دیا گیا۔

سوال: بھوک ہڑتال کی ضرورت کیوں محسوس کی اور اسکے نتائج سے مطمئن ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں! ان حالات میں تشیع کے پاس چند راستے تھے، اس ملک کو چھوڑ کر بھاگ جاتے، سر جھکا لیں، انہیں تسلیم کرلیں یا عوامی جدوجہد کے ذریعے اپنی وطنی، انسانی، دینی اور شرعی ذمہ داریوں کو پورا کریں، ہم بھاگنے والے نہیں تھے اور نہ ہیں، سر جھکانے والے، اسلحہ اٹھانے والے بھی نہیں ہیں، کیونکہ اسلحہ اٹھانے سے خانہ جنگی ہوگی اور ملک برباد ہوگا۔ ہمارے پاس چوتھا راستہ تھا کہ ہم عوامی جدوجہد کے ذریعے اپنی آواز کو بلند کریں، کیونکہ ہم نے دھرنے دیئے، احتجاجات کئے، لانگ مارچ کیا، پریس کانفرنسز کے ذریعے اپنے نکتہ نظر کو سامنے رکھا، اپنے تحفظات کا اظہار کیا، لیکن انہوں نے ہماری نہیں سنی۔ یہ جو کہتے ہیں کہ ہم نے دہشتگردی کے خلاف آپریشن شروع کیا، دراصل جب دہشتگردی کی آگ ان تک پہنچی، تب انہیں ہوش آیا، اس سے پہلے یہ ہماری لاشوں پر نظارہ گر تھے، تماشا دیکھتے تھے، سینکڑوں لوگ مارے جاتے تھے، ہلتے تک نہیں تھے۔ اب جب یہ دہشتگردی کی آگ ان کے بچوں تک پہنچی تو انہوں نے ہوش لیا۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ دہشتگرد تو خطرناک ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے پہلے کہا کہ نہیں دہشتگردوں سے مذاکرات ہونے چاہیئے۔ ہم نے اس کی بھی مخالفت کی تھی، ہم نے کہا کہ تھا کہ یہ بدعت ہے، جو تم کرنے جا رہے ہو، یہ مفسد فی العرض ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔ یہ وطن کے باغی ہیں، قاتل ہیں، ان کے ساتھ مذاکرات ایک بدعت بن جائیگی۔ انہوں نے اپنی ڈاکٹرائن میں تبدیلی کی، آپریشن شروع کیا، نیشنل ایکشن پلان بنا، ہم نے سب کو خوش آمدید کہا، ہم انہیں احتمال دیتے تھے کہ اب یہ کارروائی کریں گے۔ نیشنل ایکشن پلان کے بعد مظلوموں کی امید ہو چلی تھی کہ اب انہیں سکھ کا سانس ملے گا، اب انہیں ریلیف ملے گا، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

نیشنل ایکشن پلان کو تبدیل کر دیا گیا، ضرب عضب کی پشت پر خنجر مار دیا گیا، اہل تشیع اور اہل سنت سمیت عدم تحفظ کا شکار اقلتیوں پر دباو بڑھا دیا گیا، انہوں نے وہی پالیسی دوبارہ اپنا لی کہ اہل تشیع کو ریلیف نہیں دینا۔ انہیں پریشان رکھنا ہے، حتٰی اقلیتیں اور اہل سنت کو بھی ریلیف نہیں دیا گیا۔ آپ نے سوال کیا کہ بھوک ہڑتال کیوں کی، تو گذارش ہے کہ تازہ صورتحال ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ، کراچی، پاراچنار، گلگت بلتستان سمیت دیگر علاقوں میں ہونے والے واقعات پر حکومت توجہ نہیں دے رہی تھی، اس پر ہم نے سوچا اس پر آواز اٹھانی چاہیے، گرمیاں شدید تھیں، اس لئے سوچا کہ عوام کو مشکلات میں ڈالنے کے بجائے اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالتے ہیں، ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہیں، اس حوالے سے بھوک ہڑتال کا سوچا گیا اور کابینہ کے فیصلے کے مطابق بھوک ہڑتال شروع کی گئی، تاکہ ظلم کے خلاف میدان میں آجایا، آواز بلند کی جائے، ظالموں کو رسوا کیا جائے، مایوسی کا خاتمہ کیا جائے، منافقت کو آشکار کیا جائے۔ پاکستان میں اس وقت منافقت ہو رہی ہے کہ جس طرح کشمیر میں ہو رہا ہے۔ ہم کشمیر کے حوالے سے کہتے ہیں کہ No liberation with Occupation, اسی طرح پاکستان حوالے سے کہیں گے کہ No war against terrorists while considering The Takferis as a strigic assests, dividing them between good and bad terrorist.۔ یہ لوگ دہشتگردوں کو مینیج کرنا چاہتے ہیں، یہ دھوکہ ہے، یہ دہشتگردی کا خاتمہ نہیں چاہتے، جو ان پر حملے کرتے ہیں، ان کو مارنا چاہتے ہیں یا انہیں مینج کرنا چاہتے ہیں۔

آپ نے پوچھا کہ اس تحریک سے کیا حاصل کیا تو عرض خدمت ہے کہ ہم نے اپنی تحریک سے سماجی رابطوں کو بڑھایا ہے۔ معاشرے کے تمام طبقات ہماری طرف آئے ہیں، تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں ہمارے پاس آئی ہیں، ہمارے ساتھ ہمارے مطالبات کی حمایت کی ہے، ہماری مظلومیت میں ہمارا ساتھ دیا ہے، یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے شہداء اور ان کی مظلومیت کو تکفیریت کے کفن میں دفن کر دیں، یا ایران سعودی پراکسی کا نام دیکر دفن کر دیں۔ ہم نے ایسے نہیں ہونے دیا۔ ہم نے خاموشی اختیار نہیں کی، ہم نے اپنی آواز کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا ہے۔ دشمن اپنے مکر و فریب کے ذریعے چاہتا ہے کہ مظلوموں کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔ ہم نے اپنی مظلومیت کے تقدس پر داغ اور دھبہ نہیں لگنے دیا۔ یہ ہماری جدوجہد کا سرمایہ ہے۔ یہ ہماری میراث ہے۔ ہمیں اپنے شہیدوں کو فراموش نہیں ہونے دینا چاہیئے، ہم نے عزاداری سیدالشہداء مولا حسین علیہ السلام کے ذریعے تمام آئمہ کی شہادتوں کو زندہ رکھا ہے، ان کی مظلومیت کو فراموش نہیں ہونے دیا ہے، ان کے تقدس پر حرف نہیں آنے دیا ہے، ہماری جدوجہد بے سرمایہ نہیں رہ سکتی۔ لہٰذا ہم نے پُرامن دھرنے دیکر، پُرامن لانگ مارچ کرکے، پرامن احتجاجی بھوک ہڑتال کرکے ہم نے اپنی مظلومیت کے تقدس کو باقی رکھا، دشمن ہمیں تنہا کرنے کی سازشیں کر رہا تھا، جسے ہم نے ناکام بنایا، دنیا نے دیکھا کہ ہمارا دشمن کتنا پریشان تھا، سوشل میڈیا پر تکفیریوں کا پروپیگنڈا ان کی پریشانی کا منہ بولتا ثبوت تھا، لیکن الحمدللہ ہم نے اپنی کامیاب اور خوبصورت حکمت عملی کے ذریعے تکفیریوں کو شکست فاش دی، البتہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے کچھ اپنے بھی غیروں کے پروپیگنڈا کا شکار ہوئے، کچھ اپنوں کی آواز بھی تکفیریوں کی آوازوں سے ملتی جلتی تھی، امید ہے کہ ہمارے اپنے ہوش کے ناخن لیں گے۔

سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس تحریک سے قوم کی بھی کوئی تربیت ہوئی ہے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: پاکستان کی قوم بیدار ہو چکی ہے، عوام آگاہ و بیدار ہیں، وہ یہ جانتے ہیں کہ کون قوم و ملت کیلئے قربانیاں دینے والا ہے، قوم جانتی ہے کہ کون ان کیلئے مر مٹنے والا ہے، کون ان کیلئے میدان میں حاضر رہتا ہے، کون ان کیلئے دلسوز ہے اور کون قوم کو بے وقوف بنا کر، دھوکہ دیکر ذاتی فائدہ اٹھانے والا ہے۔ لہٰذا میں ان اپنوں سے کہتا ہوں کہ قوم دھوکہ کھانے والی نہیں ہے، قوم کو اب دھوکہ نہیں دیا جا سکتا، لہٰذا یہ ہوش کے ناخن لیں اور ایسے کام نہ کریں کہ جس سے قوم آپ سے نفرت کرنے لگے، اگر کوئی کام آپ کو پسند نہیں ہے تو چپ رہیں، یہ خاموشی اور چپ رہنا تمہارے حق میں بہتر ہے، ہم شہید قائد کے معنوی فرزند ہیں، شہید کی عظیم میراث کے وارث ہیں، ہم نے وہی پرچم اٹھایا ہوا ہے، جو شہید قائد کے ہاتھوں میں تھا، ہم خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے، لیکن پیچھے نہیں ہٹیں گے، میدان میں ثابت قدم رہیں گے، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں میدان سے باہر نہیں نکال سکتی، ہم اپنی قوم و ملت و وطن پر فدا ہو جائیں گے، لیکن پیچھے ہرگز نہیں ہٹیں گے۔

سوال: آپ نے اسلام آباد میں شہید قائد کی برسی کے مرکزی اجتماع پر تحریک کو ایک نئی جہت دی ہے، اس حوالے سے کیا بیان کرنا چاہیں گے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: پاکستان کے بارے میں آجکل یہ بات بہت مشہور ہے کہ ہمارا بیانیہ (narrative) کیا ہے، ہمیں ایک بیانیے (narrative) کی ضرورت ہے، کوئی کہتا ہے کہ ہمیں نیا پاکستان چاہیئے، کوئی کچھ اور کہتا ہے، ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں قائد اعظم کا پاکستان چاہیئے، قائد اعظم کی تقاریر، بیانات، فرامین ہمارے سامنے موجود ہیں، ہمیں وہ پاکستان چاہیئے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا، علامہ اقبال کے اشعار میں سارے حقائق موجود ہیں، ہمیں سبز ہلالی پرچم والا پاکستان چاہیئے، ہمیں انتہا پسندی کا حامل مسلکی پاکستان نہیں چاہیئے، امتیازی سلوک والا پاکستان نہیں چاہیئے، ہمیں ایسا پاکستان چاہیئے کہ جہاں عیسائی بھی چرچ میں بغیر کسی خوف و ڈر کے اپنی عبادات سکون و آسانی کے ساتھ انجام دے سکیں، سکھ اپنے گوردوارے میں، ہندوں اپنے مندر میں بلاخوف و خطر جائے، تمام مسلمان مساجد، امام بارگاہوں، درگاہوں، مزارات میں بلاخوف و خطر جائیں، پاکستان میں کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے نظریات دوسروں پر جبری طور پر مسلط کرے اور پاکستان کو ایک انتہا پسند مسلکی پاکستان بنائے، ہم تشیع اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، ہم پاکستان کو ایک خاص سوچ رکھنے والا تکفیری مسلکی پاکستان نہیں بننے دینگے، اس کا راستہ روکنے کیلئے ہمیں ملک کو قائد و اقبال و سبز ہلالی پرچم والا پاکستان بنانا ہوگا، اس کیلئے ہم اپنی احتجاجی تحریک کو پورے پاکستان میں پھیلائیں گے۔ پاکستان کے جوانوں کو، بوڑھوں کو، مرد و زن کو سب کو اپنا پیغام پہنچائیں گے، انہیں اپنے ساتھ شامل کرینگے، ہماری تحریک کسی مسلک و مکتب کی جدوجہد نہیں ہے بلکہ یہ محب وطن پاکستانیوں کی جہدوجہد ہے، جس کا الحمدللہ آغاز ہوچکا ہے، دنیا نے دیکھا کہ جب ہم نے بھوک ہڑتالی کیمپ سے قائد و اقبال کے پاکستان کی باتیں شروع کیں، تو اس بیانیے (narrative) کو میڈیا نے بھی دہرانا شروع کر دیا، سیاسی شخصیات نے بھی اسے اپنی تقاریر میں کہنا شروع کر دیا، ہم نے پاکستان مارچ کی باتیں کیں، تو اب بہت سی سیاسی جماعتوں نے پاکستان مارچ کے بھی اعلانات کرنا شروع کر دیئے ہیں، ہمیں نیا پاکستان نہیں بلکہ ہمیں قائداعظم و علامہ اقبال والا پاکستان چاہیئے، یہی ہمارا بیانیہ (narrative) ہے، قائد و اقبال و سبز ہلالی پرچم والے پاکستان کے ذریعے ہی تکفیریت کو شکست دی جاسکتی ہے۔

سوال: 2 ستمبر کو مجلس وحدت مسلمین کی حکمت عملی کیا ہوگی۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: پاکستان میں ظلم کے خلاف ہماری لمبی اور طولانی لڑائی ہے، احتجاجی دھرنے ایک معرکہ تھا، لانگ مارچ ایک معرکہ تھا، بھوک ہڑتال ایک معرکہ تھا، اس کے بعد کئی معرکے آتے رہیں گے، دشمن میدان میں ہے، کام کر رہا ہے، دشمن نے پاکستان کے اہم اداروں میں نفوذ کر رکھا ہے، پاکستان کے فیصلہ ساز حلقوں میں دشمن کا نفوذ ہے، دشمن کا سیاسی نفوذ ہے، اسکا عسکری اسٹیبلشمنٹ میں نفوذ ہے، اسکا ثقافتی نفوذ ہے، اسکا میڈیا میں نفوذ ہے، لہٰذا یہ ایک دو دن کی نہیں بلکہ ایک طولانی لڑائی ہے، اپنے حقوق کیلئے بھی اور وطن کیلئے بھی، ان شاء اللہ ہم 2 ستمبر کو لاہور میں ایک انتہائی موثر اور باوقار دھرنا دینگے، فقط چند مطالبات کیلئے ہماری جدوجہد نہیں ہے، جب تک ہم ملک کو قائد و اقبال کا پاکستان نہیں بنا لیتے، ہم میدان میں حاضر رہینگے، ہماری جہدوجہد جاری رہے گی۔

سوال: پاکستان کا قومی مفاد کیا ہے اور اسکی حفاظت کیسے ممکن ہے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: قومی مفاد کی بہت ساری تعریفیں (definitions) بیان کی جاتی ہیں، میں آپ کو ایک تعریف بیان کرتا ہوں، جس کے اندر تقریباً ساری تعریفیں آجاتی ہیں: "the protection of physical, political and cultural identity against encroachments by other nation-states”. یعنی قومی مفاد کا معنی یہ ہیں کہ اہم جزو (vital component) ایک ملک کی physical, political and cultural identity ہیں، جن کا ہم تحفظ کرینگے، دوسرے ممالک کی جانب سے ہونے والے تجاوزات و مداخلت کے خلاف۔ فزیکل میں ہماری سرحدیں آجاتی ہیں، انکی حفاظت ہمارا قومی مفاد ہے، ملکی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ہمارا قوم مفاد ہے، جس نظریئے کی بنیاد پر ہمارا پاکستان قائم ہوا، وہ ہمارا قومی مفاد ہے، اسی طرح ملک مین سیاسی نظام کو محفوظ و طاقتور رکھنا بھی قوم مفاد ہے، اسی طرح ملکی ثقافت کا تحفظ بھی قومی مفاد ہے۔ ملکی صورتحال سب کے سامنے ہے، ہماری سرحدوں کی کیا صورتحال ہے، دشمن جنگ ہمارے ملک کے اندر لے کر آگیا ہے، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، فاٹا، سندھ کی صورتحال آپ کے سامنے ہے، جنگ ہو رہی ہے، پاکستان کے قومی مفاد خطرات سے دوچار ہیں، حملوں کی زد میں ہیں، یہ کس کا نتیجہ ہے، جن کی ذمہ داری تھی قومی مفاد کا تحفظ، انہوں نے اپنی ذمہ داری انجام نہیں دی ہے، انہوں نے پاکستان میں یہ جو دہشتگرد پالے ہیں، تکفیری پالے ہیں۔ ان سب کا بیس کیمپ بھارت میں ہے، یہ عجیب بات ہے، ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور دوسری طرف جن کا بیس کیمپ بھارت میں ہے، انہی کے لشکر اور ٹولے پاکستان کے اندر بنائے ہوئے ہیں۔

آج بھارت انہیں استعمال کر رہا ہے، پاکستان کے خلاف، بھارت انہی دہشتگرد لشکروں اور ٹولوں کے ذریعے جنگ پاکستان کے اندر لیکر آ رہا ہے، بھارت شیعوں، اہل سنت بریلویوں کے ذریعے پاکستان میں جنگ نہیں کر رہا ہے، بلکہ بھارت ان کے ذریعے پاکستان کے اندر جنگ کر رہا ہے، جن کے مسلح لشکر، مسلح گروہ، مسلح جتھے ملک کے اندر ہمارے ریاستی اداروں اور عسکری اداروں نے بنائے ہیں۔ سیاسی نظام کو بھی جان بوجھ کر انتہائی کمزور کر دیا گیا ہے، جبکہ مضبوط سیاسی نظام ملکی قومی مفاد میں سے ہوتا ہے، سیاسی نظام، سیاسی ادارے، اسکی پوزیشن، اسکی جماعتیں سب۔ اسی طرح سے ثقافتی طور پر دیکھ لیں، ثقافتی طور پر ہمارے ملک کے اندر غیر اسلامی ثقافتی یلغار ہے، بھارتی فلمیں، ڈرامے، گانے، بھارتی ثقافت، غیر ملکی و غیر اسلامی و مغربی ثقافت، ایک یلغار ہے، کوئی ہے اسکا مقابلہ کرنے والا، اسے روکنے والا، یہ پیمرا نام ادارہ جو انہوں نے بنایا ہوا ہے، وہ بھی اس لئے کہ کوئی حکومت کے خلاف بات نہ کرے۔ ہمارے حکمرانوں کو صرف اور صرف یہ فکر لاحق ہے کہ ان کے خلاف کوئی بیان نہ دے، یہ سائبر کرائم بل بھی انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کیلئے بنایا ہوا ہے، اس میں حزب اقتدار اور اپوزیشن دونوں شریک ہیں، کیونکہ جو بھی اپوزیشن ہے، وہ کہیں نہ کہیں حکومت بھی کر رہا ہے، کوئی خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہا ہے، کوئی سندھ میں، کوئی بلوچستان میں تو کوئی پنجاب میں، کوئی مرکز میں، یہ سارے حکمران ہیں، اس ملک میں اپوزیشن نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ہماری جغرافیائی و نظریاتی سرحدیں، ہماری سیاسی و ثقافتی شناخت خطرات سے دوچار ہیں، ان پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے، اس میں تمام ریاستی اداروں کی نالائقی، نااہلی، مجرمانہ غفلت اور خیانتیں شامل ہیں۔

سوال: ترکی، روس اور ایران کی قربتیں بڑھنے کا امکان نظر آ رہا ہے، ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوگان روس کے بعد اب وہ پہلے اسلامی ملک کا دورہ کر رہے ہیں تو وہ جمہوری اسلامی ایران ہے، آپ اس منظر نامے کو کس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دنیا کے Hot points میں گلف (Gulf) ایک انتہائی اہمیت کا حامل ہے، لہٰذا 1947ء کے بعد سے ہی عرب اسرائیل تنازعہ گلف کے اندر مشہور و جاری ہے، سوویت یونین (موجودہ روس) کے بحیثیت سپر پاور ختم ہونے کے بعد امریکہ دنیا تنہا رہ گیا، پھر اس سے قبل 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب برپا ہوچکا تھا، جس سے پورے خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک مزاحمت وجود میں آچکی تھی، جس کے بعد عرب اسرائیل تنازعہ تبدیل ہو گیا، اب سعودی یہ کردار ادا کررہے ہیں کہ عرب اسرائیل تنازعہ، ایران عرب تنازعہ میں تبدیل ہوجائے، اسرائیل اور مزاحمت بلاک کے درمیان جنگ میں، عرب منافقوں کے چہروں سے نقاب الٹ گیا تھا کہ یہ اسرائیل کے ایجنٹ ہے، اسرائیل سے رابطے میں ہیں، اسرائیل کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ انقلاب اسلامی ایران کے بعد جب مقاومتی مزاحمتی بلاک اور اسرائیل آمنے سامنے آگئے تو اس کے نتیجے میں خطے میں امریکہ کا بنایا ہوا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا، سوویت یونین ( موجودہ روس) کے بکھرنے کے بعد امریکہ نے دنیا کو آرڈر دینے کی مختلف کوششیں کیں کہ نئی دنیا بنائی جائے جس میں امریکہ تنہا سپر پاور ہو۔ سلسلہ بڑھتا رہا، لہٰذا اب دنیا ایک عبوری دور (transitional period) سے گزر رہی ہے، دنیا re-shape ہو رہی ہے، نیا نظم دنیا میں آ رہا ہے، دنیا میں مختلف طاقتیں ابھر کر سامنے آرہی ہیں، وجود میں آ رہی ہیں، امریکہ نے کوشش کی کہ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق شکل میں ڈھالیں، 2006ء کی حزب اللہ اسرائیل جنگ بھی اسی وجہ سے ہوئی، جس میں اسرائیل کی حزب اللہ کے ہاتھوں رسوا کن شکست کے بعد شام کے اندر دہشتگردی و خانہ جنگی شروع کی گئی، کیونکہ شام مقاومتی و مزاحمتی بلاک کا اہم ستون ہے، اگر خدانخواستہ یہ ٹوٹ جاتا ہے تو سمجھ لیں کہ امریکہ کی مرضی کا دنیا کو آرڈر مل جائیگا۔

یہ جو hot point ہے نا یہ۔۔ یہاں مقاومت کا بلاک بھی آگیا ہے، امریکہ ایک طرف روس کو بھی پیچھے دھکیل رہا تھا، کیونکہ امریکہ نے لیبیا میں روس کو پیچھے دھکیلا، امریکی کی کوشش تھی کہ روس کو اپنی سرحدوں کے اندر محدود کر دیا جائے، لہٰذا مقاومت کے بلاک نے مقابلہ شروع کیا تو روس نے بھی ساتھ دیا۔ یوں اس ریجن مین باقاعدہ پنجہ آزمائی شروع ہوگئی۔ اب چائنہ بھی ساتھ کھڑا ہو گیا، چین نے سیکیورٹی کونسل میں وویٹو کیا، امریکی بلاک میں اہم ممالک ترکی، اردن، قطر اور سعودی ساتھ تھے، پیسہ بھی دے رہا تھا اور بیس کیمپ بھی بنے ہوئے تھے۔ جیسے پاکستان بیس کیمپ بنا تھا روس کے خلاف، اسی طرح ترکی بھی شام کے خلاف بیس کیمپ بنا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ جنگ بیس دن اور ایک ماہ میں ختم ہوجائیگی، لیکن ایسا نہیں ہوسکا، آج پانچ سال ہوگئے، اپنی تمام طاقت اکٹھی کرلی ہے، لیکن بشار کو نہیں ہٹا سکے۔ امریکہ کے اپنے مفادات ہوتے ہیں، اس نے دیکھا کہ ترکی کو احساس ہوگیا کہ وہ آئندہ بڑی مشکلات کا شکار ہونے والے ہیں تو انہوں نے اپنے خارجہ تعلقات میں تبدیلی لانا شروع کر دی، ان کے بیانات سامنے آنا شروع ہو گئے۔ امریکیوں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ ترکی کوئی باقاعدہ اسٹینڈ لے لے تو انہوں نے فوجی بغاوت کرا دی۔ آپ ذہن میں رکھ لیں کہ امریکیوں نے مقاومتی بلاک کو کہاں سے مصروف رکھا ہوا ہے، افغانستان، عراق، شام، یمن، بحرین، لبنان اور یمن تک مصروف رکھا ہوا ہے۔ تاکہ ان کی توانائیاں بکھری رہیں۔ انہوں نے ترکی کے ساتھ خیانت کی، لیکن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اس کے نتیجے میں ایک بڑا شفٹ آرہا ہے، اردوگان روس گیا، ایران کا وزیر خارجہ ترکی گیا، ایوان صدر میں نماز جمعہ ادا کی، ترکی ہم منصب نے ایرانی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ جلد ترک صدر ایران آرہا ہے۔ یہ بڑی تبدیلی سامنے آرہی ہے۔ گویا اب دنیا ٹرانشنل پیریڈ مکمل کرنے والی ہے، دنیا اب ایک نئی شکل میں سامنے آنے والی ہے۔ مختلف طاقتیں سامنے آرہی ہے، اب امریکہ تنہا دنیا کو نئی شیپ نہیں دے سکتا، اس میں جتنی طاقتیں دنیا کو ری شیپ دینے میں سامنے آئیں گی، دنیا اتنی بہتر ہوتی چلی جائے گی۔

ترکی کا ایران اور روس کے ساتھ کھڑا ہونا امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی شکست ہے، ان ممالک کے لئے خطرناک ہے، جب ترکی کا بارڈر بند ہوگا تو دہشتگردوں کو شکست یقینی ہوگی، میں آل سعود، امریکہ اور اسرائیل کی شکست اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ یمن میں ہونے والے دو روز قبل کے مظاہرے حقیقت میں ملین مارچ تھے، لاکھوں نے شرکت کی۔ سیاسی شخصیت نے کہا کہ یہ چار عرب ممالک ہم پر حملہ آور ہیں، ان کی کل آبادی سے زیادہ لوگ اس وقت ان کے خلاف یہاں جمع ہیں۔ آج ریفرنڈم تھا۔ سیاسی کونسل کے حق میں اور سعودیوں اور ان کے حامیوں کے خلاف عوام کا ریفرنڈم تھا۔ اس سے پوری دنیا بدلے گی۔ دنیا ری شپ ہو رہی ہے۔ آپ دیکھیں کہ اس وقت حلب میں چائینہ کے لوگ لڑ رہے ہیں سنکیانگ سے گئے ہوئے ہیں، کیوں امریکیوں کی سازش تھی کہ افغانستان کے بعد ان جہادیوں کو چائنہ اور روس کے خلاف لڑایا جائیگا۔ یہاں اب عقل مند ہوکر فیصلے کرنا ہوگا، پاکستان اگر ابھی بھی سعودی بلاک میں کھڑا رہے گا تو بہت بڑا نقصان اٹھائے گا۔ سعودیوں کی کوشش تھی کہ ایران اسرائیل تنازعہ کو عرب ایران تنازعے میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس کیلئے 34 ممالک کا اتحاد بنایا گیا، او آئی سی اور عرب لیگ کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب عالمی صیہونیوں کی سازش کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، اگر پاکستان وہاں جاکر کھڑا ہوتا ہے اور جنگی مشقیں کرتا ہے اسرائیلوں کے ساتھ تو قائد اعظم کے اصولوں کے خلاف ہے، پاکستانی کبھی معاف نہیں کریں گے کہ اس کی فوج اسرائیلوں کے ساتھ جنگی مشقیں کرے، پاکستان کے عوام یہ برادشت نہیں کرتے کہ وہ فرقہ وارانہ اتحاد میں شامل ہو۔ جس کی سوچ فرقہ وارانہ ہو۔ پاکستان کے عوام کبھی برداشت نہیں کریں گے کہ ان قوتوں کو کمزور کیا جائے جو اسرائیل کے خلاف لڑ رہی ہیں، جو قبلہ اول کی آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) علامہ سید حسن ظفر نقوی کا تعلق شہر قائد کراچی سے ہے۔ وہ ایران کی مقدس سرزمین قم المقدس کے فارغ التحصیل ہیں، دنیا بھر میں انقلابی مجالس پڑھنے کے حوالے سے مشہور ہیں، کراچی سے خصوصی طور پر علامہ ناصر عباس جعفری کا ساتھ دینے کیلئے اسلام آباد میں لگائے گئے ہڑتالی کیمپ میں تقریباً 70دن تک موجود رہے، تاہم عارضہ قلب کی تکلیف ہونے کے باعث تین دن اسلام آباد کے مقامی اسپتال میں زیرعلاج رہے، جہاں ان کی انجیوگرافی کی گئی اور بعد میں انہیں ڈاکٹرز کی ہدایت پر کراچی منتقل کر دیا گیا۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے 70 دن تک مظلومین کی آواز بلند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسلام ٹائمز نے ان سے بھوک ہڑتالی کیمپ اور کشمیر کے معاملے پر ایک اہم انٹرویو کیا، جو پیش خدمت ہے۔ ادارہ

 

سوال: 13 مئی سے شروع ہونیوالی اس بھوک ہڑتال سے ابتک کیا اہداف حاصل ہوئے ہیں۔؟

علامہ سید حسن ظفر نقوی: مختصراً یہ بتاتا ہوں کہ ہمیں یہ کامیابی ضرور ملی ہے کہ لوہے کے کانوں پر لوہے برسانہ شروع کر دیئے ہیں، پوری دنیا میں ہماری جدوجہد کی بات ہو رہی ہے، عالمی سطح پر اس معاملے کو پذیرائی ملی ہے، مظلوموں کی بات کو اب سنا جا رہا ہے، یہ اسی طویل جدوجہد کا نتیجہ ہے، ابھی نامعلوم کہ کتنے دن اور بیٹھنا پڑے، یہ صبر آزما تحریک ہوتی ہے، دیکھئے کہ کامیابی کے رمز کیا ہیں۔؟ جب سیلاب آتا ہے تو بڑی بڑی چیزیں بہا کر ساتھ لے جاتا ہے، لیکن پتھر اپنے مقام پر باقی رہتا ہے، لیکن جب اسی بڑے پتھر پر مسلسل تین چار مہینے پانی کا قطرہ ایک مقام پر گرتا رہے تو اس جگہ پر ایک سوراخ بن جاتا ہے۔ یہ پھوک ہڑتال بھی اس قطرے کی ماند ہے، سمندر کا پانی تو ایک بار آکر چلے جائیگا، لیکن اس بڑے پتھر کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، لیکن قطرہ اس پر ضرور اثر ڈالے گا، یہ بھوک ہڑتال کا خیمہ بھی اس قطرے کی ماند ہے، اس پتھر میں سوراخ پڑ چکا ہے، ان کے اندر دو حصے ہوگئے ہیں، یہ دو دھڑوں میں تقسیم ہوچکے ہیں، ان کی نیندیں اڑ چکی ہیں، ہم پوری دنیا میں اپنی مظلومیت منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

جیسے گلگت بلتستان میں زمینوں کا مسئلہ تھا وہ رک گیا ہے، اسی طرح پارا چنار کا مسئلہ تھا، وہ 90 فیصد حل ہوگیا ہے، جیسے پاراچنار کے مومنین چاہتے تھے ویسے ہی حل ہوا ہے۔ مومنین خود کہہ رہے ہیں کہ ہم مطمئن ہیں، جس طرح ہم چاہتے تھے اسی طرح جرگہ بیٹھا ہے اور مسئلہ حل کیا ہے۔ ان کی تفصیلات جلد قوم کو بتائیں گے۔ باقی جگہوں پر نوٹیفیکیشن جلد جاری ہوں گے، کامیابی اور ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ ہم اپنی استقامت کے ساتھ مطمئن ہیں۔ ہماری تحریک سے قوم مضبوط ہوئی ہے، اس سے اتحاد پیدا ہوا ہے، ہم جو دنیا کو عدم تشدد کی تحریک پیش کرنا چاہتے تھے، اس میں 100 فیصد کامیاب ہوئے ہیں۔ ہم نے باور کرایا ہے کہ تشدد کے ذریعہ تشدد کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ کربلا نے بھی ہمیں یہی سکھایا ہے، تلوار کے اوپر خون کی فتح تھی، ہاں دفاع واجب ہے۔ جہاں پر دشمن حملہ آور ہو جائے، اس کا دفاع کریں۔ سید سجاد اور حضرت زینیب کی تحریک نے یزیدیت کو گالی بنا دیا۔ یہ خیمہ ان ظالموں پر قطرے کی ماند سوراخ کرتا رہے گا۔ ابراھہ کے لشکر کو ابابیل کی کنکیریوں نے ختم کیا تھا، اس حکومت کو مظلموم وہ سبق سکھائیں گے کہ یہ یاد رکھیں گے۔

سوال: علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا ہے کہ اب شہداء کے ورثاء بیٹھیں گے، کیا کوئی حکمت عملی میں تبدیلی لائی جا رہی ہے۔؟

علامہ سید حسن ظفر نقوی: دیکھیں! حکمت عملی پہلے نہیں بتائی جاتی، پہلے سے طے کردہ چیزیں ایک ایک کرکے سامنے آ رہی ہیں، اب دوسری حکمت عملی سامنے آئی ہے، میں آپ کو بتاتا چلوں کہ شہداء کے خانوادوں کی طرف سے بہت دباو ہے۔ آپ کے سامنے ہے کہ سینکڑوں شہداء کے ورثاء یہاں اظہار یکجہتی کیلئے آچکے ہیں۔ یہ شہداء کے خانوادوں کی طرف سے دباو آیا ہے کہ اب ایک ہی بندہ فقط بھوک ہڑتال پر نہیں بیٹھے گا، اب شہداء کے ورثاء ایک ایک کرکے بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔ ابھی پاکستان مارچ سمیت کئی آپشن موجود ہیں۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔

سوال: حکومت کیساتھ رابطوں کی کیا صورتحال ہے۔؟

علامہ سید حسن ظفر نقوی: جی دیکھیں رابطے کیوں نہیں ہوئے، رابطے تو ہوئے ہیں اور مسلسل ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں، اسی طرح ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سے ملاقات ہوئی ہے، اس کے علاوہ ہوم سیکرٹریز، چیف سیکرٹری سب آتے ہیں اور رابطے میں ہیں، لیکن مسئلہ وہیں اٹکا ہوا ہے کہ ہم آپ کے مطالبات تسلیم کرتے ہیں، بس آپ بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔ بھائی مسئلہ ماننے یا تسلیم کرنے کا تھوڑا ہی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ عملی طور پر کچھ چیزیں تو جاری کریں نا۔ کوئی چیز لکھنے میں سامنے تو آئیں ناں، کوئی نوٹیفکیشن جاری ہوئے۔ کچھ تو عملی ہو۔ ہم کوئی ضد پر تھوڑا اڑے ہوئے ہیں، بھائی آپ خود کہتے ہیں کہ آپ کے مطالبات آئینی اور قانونی ہیں، بس اس پر عمل کریں۔ اتنی سی بات ہے۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ کسی حکومت گرانے کی تحریک کا حصہ نہیں بن رہے۔ اس کو ہم نے بار بار کہا ہے اور زور دیکر کہا ہے۔ ہماری تحریک فقط اہل تشیع کے حقوق کیلئے ہے۔ اس کو مان لو، ہم اٹھ کر چلے جائیں گے۔ ہم صاف کہہ رہے ہیں کہ ہم کسی ایجنڈے کے تحت نہیں بیٹھے ہیں۔

سوال: اہم مطالبات کیا ہیں، جن پر عمل درآمد شروع ہوجائے تو آپ لوگ اٹھ جائیں گے۔؟

علامہ سید حسن ظفر نقوی: پنجاب اور کے پی کے میں اور بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن ہونا چاہیے۔ بلآخر کراچی میں آپریشن ہوا یا نہیں۔ آخر فاٹا میں آپریشن ہوا یا نہیں ہوا، چھوٹو گینگ کو پکڑنے کیلئے آرمی جاتی ہے یا نہیں۔؟ ہمارا سوال یہی ہے کہ جب فاٹا میں آپریشن ہوسکتا ہے تو ڈیرہ میں کیوں آپریشن نہیں کیا جاتا، وہاں آرمی کو کیوں نہیں اختیارات دیئے جاتے۔ ایپکس کمیٹی کا اجلاس تو وزیراعلٰی نے بلانا ہوتا ہے، ابتک اجلاس کیوں نہیں بلایا جاتا۔ پنجاب میں ہزاروں عزاداروں کے خلاف ایف آرز درج ہیں، ان کو واپس لیا جائے۔ گلگت بلتستان کی زمینیوں پر کیوں قبضہ کیا جا رہا ہے؟، سی پیک پر کام کرو گے تو کیا زمینوں پر قبضے کرو گے، جن لوگوں نے اپنے زور بازو سے ڈوگرا راج سے خطے کو آزاد کرایا اور اپنے آپ کو پاکستان کے حوالے کر دیا، تم ان کی زمینیں چھین رہے ہو، بالش خیل کی زمینیں چھین رہے ہو، جنہوں نے طالبان کے خلاف جنگ لڑی۔ آج تم انہی دہشتگردوں کو لاکر آباد کر رہے ہو۔ جو لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں، ان کے دلوں میں نفرت ڈال رہے ہو۔ ہمارے سیدھے سیدھے مطالبات ہیں، ان عمل کرو، ہم چلے جائیں گے۔ دو تین مطالبات مان لئے ہیں، باقی بھی مان لو، ہم چلے جائیں گے۔

سوال: کشمیر کے معاملے پر ملت جعفریہ کا کیا موقف ہے۔ عجب ہے کہ تشیع کشمیر کے معاملے پر وہ جذبہ جو قدس کے معاملے پر دکھاتی ہے وہ نہیں دکھاتی، جبکہ دیوبند اور اہل سنت حضرات جتنا جذبہ کشمیر کے معاملے پر دکھاتے ہیں، وہ قدس کیلئے نہیں دکھاتے، جبکہ دونوں اطراف میں مر مسلمان ہی رہے ہیں۔ اسکی وجہ بھی بیان فرما دیں۔؟

علامہ سید حسن ظفر نقوی: ہمارا کشمیر پر اٹل فیصلہ ہے۔ بدقسمتی سے معاملہ کو شیعہ سنی بنا دیا گیا ہے اور تفریق ڈال دی گئی ہے، 65ء کی جنگ کے بعد سے پوری ملت جس میں بلاتخصیص مذہب و فرقہ سب نے کشمیر کے معاملے پر ایک ہی موقف اپنایا ہے۔ ہم مسلمانوں ہونے کے ناطے اور پاکستانی ہونے کے ناطے کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین اپنی ذاتی حیثیت میں کشمیریوں کے معاملے پر جو کرسکتی تھی وہ کیا ہے، ہم نے مظاہرے بھی کئے ہیں، مشعل بردار ریلیاں بھی نکالی ہیں۔ تیسری بات کہ ہمیں حکمت کے ساتھ چلنا پڑتا ہے، گذشتہ کچھ عرصے سے جس طرح ملک کو شدت پسندی کی طرف لے جایا گیا، کشمیر افغانستان کے معاملے پر ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے جوان اس میں اس طرح شامل ہوں اور ان کی لسٹیں عالمی سطح پر جائیں۔ بدقسمتی کے ساتھ اس طرح ماضی میں رہا ہے۔ بعد میں وہی جہادی دہشتگرد بن گئے۔

جن لوگوں نے افغانستان اور دیگر جگہوں پر جہاد کیا، اس پر ان کو بھی، ان کے خاندان کو بھی بھگتنا پڑا ہے۔ مسئلہ ملت کا نہیں ہے، پوری ملت کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، مسئلہ حکومت کا ہے کہ جس کی پالیسیاں صبح شام قلابازیاں کھاتی ہیں، اس کا مسئلہ ہے۔ ہم ان قلابازیوں کی وجہ سے اس ایکسٹریم لیول پر نہیں جانا چاہتے۔ کل ان کی پالیسی بدلے گی، یہ ان کے ساتھ تجارت شروع کر دیں گے۔ یہ وہ حکمران ہیں، جو کہتے ہیں کہ ایک لکیر کھچ گئی ورنہ ہم تو ایک ہیں۔ اب آپ بتائیں کہ ہم ان سے کشمیر کے حوالے سے کیا توقع رکھیں، یہ کیا آواز اٹھائیں گے۔ جس کے حکمران بھارت میں جاکر کہتے ہوں کہ یہ ایک لکھیر کھچ گئی تھی، ورنہ تو ہم تو ایک ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ کمزوری شیعہ سنی میں نہیں ہے بلکہ یہ کمزوری حکمرانوں میں ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پوری ملت کی آواز سب کو سنائی دیتی ہے، لیکن حکمرانوں کی آواز اتنی نحیف پڑ چکی ہے کہ کسی کو سنائی ہی نہیں دیتی۔

سوال : پاکستان 34 ملکی اتحاد کا حصہ بنا، ساتھ کھڑا ہوگیا لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ ان ممالک میں سے کسی ایک نے بھی کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے موقف کی تائید نہیں کیا۔ یہ خارجہ پالیسی کی ایک اور ناکامی نہیں ہے۔؟

علامہ سید حسن ظفر نقوی: اس وقت بھی ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آپ جو یہ معاہدے کر رہے ہیں، فلاں ملک پر حملہ ہوا تو آپ جائیں گے، فلاں ملک پر یہ ہوا تو ہم یہ کر دیں گے، کیا کسی ایک معاہدے کی شق میں یہ بات ڈلوائی ہے کہ اگر ہندوستان پاکستان پر حملہ آور ہوا تو یہ آپ کا ساتھ دیں گے۔ کشمیر کے معاملے پر ہمارے ساتھ جنگ ہوئی تو کوئی ہماری امداد کو آئیگا؟، ابھی جو کشمیر میں ہوا ہے اور ہو رہا ہے کہ ان 34 ملکوں میں سے کسی ایک ملک کا نام لے لیں اور بتائیں کہ کسی ایک ملک نے آپ کی حمایت کی ہو اور بھارت کی مذمت کی ہو۔ کوئی ایک ملک بھی آپ کے ساتھ نہیں کھڑا ہوا ہے۔ ان کی خارجہ پالیسی کا کچھ پتہ نہیں، ہمیں نہیں پتہ کہ کب یہ کہاں پھینک دیں۔ اس لئے ہمیں تدبر سے کام لینا پڑتا ہے۔ ہم دانشمندی کے ساتھ آگے چلتے ہیں۔ پاکستان کی پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، حکمرانوں کا کچھ پتہ نہیں کہ کب اپنی پالیسی تبدیل کر دیں۔ جس طرح ان کی سشما سوراج اور دیگر بیان دیتے ہیں، ان کا جواب تک یہ لوگ نہیں دیتے۔ یہاں تک وہ کہہ گئے ہیں کہ ہم پاکستان پر بمباری کریں گے، کیا یہاں سے کوئی جواب دیا گیا۔ کیا سارا ملبہ پاکستان پر ہی ڈالنا ہے۔ اگر فوج نے ہی سب کچھ کرنا ہے تو پھر آپ اپنا بوریا بستر اٹھائیں اور چلے جائیں۔ نہ خارجہ پالیسی ہے اور نہ داخلہ پالیسی ہے، کشمیر کے معاملے پر حکومت کی کوئی پالیسی ہی واضح نہیں ہے۔ قوم کو پتہ نہی نہں کہ پالیسی ہے کیا۔

Page 1 of 3

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree