وحدت نیوز(گلگت) گلگت بلتستان کے یوم آزادی کے موقع پر اس خطہ بے آئین میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان نے ملک عزیز پاکستان کو لاحق بین الاقوامی سازشوں اور خطرات کو محسوس کرتے ہوئے نیز 67 سالوں سے آزادی کی اصل روح و حقوق سے محروم گلگت بلتستان کے مظلوم عوام کو ان کے جائز حقوق دلوانے اورجنگ آزادی گلگت بلتستان کے شہداء، غازیوں اور مجاہدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے دفاع وطن کنونشن کا انعقاد کیا۔ہمارے ان محسنوں نے ڈوگروں کی غلامی سے آزادی کیلئے قرآن پر قسم کھاکر ڈوگروں کے آخری چشم و چراغ بریگیڈیر گھنسار سنگھ کو گرفتار کرکے ایک آزاد اسلامی ریاست " اسلامی جمہوریہ گلگت بلتستان " کا قیام عمل میں لایاجس کے پہلے صدر جناب شاہ رئیس خان بنے۔سرزمین گلگت بلتستان جسے اس خطے کے غیور اور محب وطن سپوتوں نے یکم نومبر 1947 کو 73 سالہ ڈوگرہ راج کی غلامی سے آزاد کرایااور 48 ہزار مربع میل کا دنیا کا اہم ترین خطہ16 نومبر1947 کو بلا مشروط پاکستان کے حوالے کیا۔ گلگت سکاؤٹس کی نیم فوجی تنظیم جس کی قیادت یہاں کے محب وطن آفیسر کررہے تھے ،نے جس جرات ، بہادری ،شجاعت اور وطن پرستی سے اس علاقے کو آزاد کرایا وہ اسلام اور پاکستان سے والہانہ محبت کی انمول داستان ہے۔ لیکن یہ سرفروش اب گمنام سپاہی بن گئے ہیں اور ان کی تمام تر خدمات اور قربانیاں نقش بر آب ثابت ہوئیں۔نہ صرف یہ کہ ان کی قربانیوں کو چھپایا گیابلکہ ان قومی ہیروز کو متنازعہ بناکر ان کی وفاداری کو مشکوک بنانے کی ناکام کوششیں کی گئیں جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت فعل ہے۔

جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل اس خطے کو اپنی مدد آپ کے تحت ڈوگرہ راج سے آزاد کراکر بلامشروط پاکستان کے حوالے کرناپاکستان سے والہانہ محبت کا بیّن ثبوت ہے اور اس ارض بے آئین پر زندگی کے انتہائی تلخ دن کاٹنے والے محب وطن عوام کو 66 سالوں سے آئینی حقوق سے محروم رکھنا پاکستان کے ساتھ غداری کے مترادف ہے کیونکہ یہ حساس خطہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کیلئے انتہائی اہمیت رکھتاہے۔اس کی شمال مغربی سرحد چین اور وسط ایشیائی ممالک سے ملتی ہے اور جنوب مشرقی سرحدیں ہندوستان کے زیر کنٹرول کشمیر اور پاکستان سے جا ملتی ہیں۔ماضی میں یہ خطہ تین عظیم سلطنتوں کا مقام اتصال بھی رہا ہے۔شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے بعد پاکستان کا اس خطے کے ذریعے چین اور وسط ایشیائی ممالک سے زمینی راستہ استوار ہوگیا ہے۔

بلاشبہ گلگت بلتستان پاکستان کی شہ رگ حیات ہے لیکن پاکستان کے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے بغیر کسی قربانی اور جدوجہد کے مفت میں حاصل ہونے والے اس خطے کی حدود اربعہ کی حفاظت کرنا بھی ناگوار سمجھااور اس خطے کے کچھ حصوں کو علاقے کی دوسری حکومتوں کو تحفے میں پیش کردیا اوریوں اس خطے کا رقبہ سمٹ کر 28 ہزار مربع میل رہ گیا۔اس خطے کے عوام کی پاکستان کے ساتھ وفاداری اور محبت اس ملک کے دوسرے صوبوں میں رہنے والوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ہماری اس محبت اور وفاداری کو پس پشت ڈال کر ہمیں بے آئین اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا جنگ آزادی گلگت بلتستان میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور مجاہدین کی قربانیوں کی توہین ہے۔

دفاع وطن کنونشن کے عنوان سے منعقد ہونے والا یہ عظیم الشان اجتماع ارض گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ ہونے والی اس ظلم اور زیادتی پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مندرجہ ذیل معروضات پر فوری عمل درآمد پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضمانت سمجھتا ہے۔

۱۔ یہ اجتماع حکومت پاکستان پر یہ بھی واضح کرتا ہے کہ یہ علاقے ہمیں کسی خیرات کے نتیجے میں نہیں ملے کہ جب چاہیں اپنی مرضی کے فیصلے ہم پر مسلط کریں۔کبھی FCR جیسے کالے قوانین ، کبھی لیگل فریم ورک آرڈر، کبھی ایڈوائزری کونسل تو کبھی گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر 2009 جیسے بے اختیار اداروں کے قیام کے ذریعے یہاں کے عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔نیز گلگت بلتستان کونسل کو ختم کیا جائے اور تمام تر اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل کیا جائے کیونکہ اس کونسل کے ذریعے وفاقی حکومت نے یہاں کے قدرتی وسائل کو اپنے کنٹرول میں لیا ہے جس سے عوام میں سخت بے چینی پھیل رہی ہے۔

۲۔ لہٰذامزید وقت ضائع کئے بغیر اس خطے کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے آئین میں ضروری ترامیم کی جائیں اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا مکمل صوبے کا درجہ دیا جائے تاکہ 67 سالہ محرومیوں کا ازالہ ہوجائے۔ یا کم از کم آزاد کشمیر میں رائج طرز حکومت کی طرح پارلیمانی نظام حکومت دیا جائے جس میں منافع بخش شعبے ،قدرتی وسائل پر قانون سازی کا اختیار مقامی قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہو نیز یہ اجتماع گلگت بلتستان کے وکلاء کنونشن کے اعلامیہ کا بھرپور تائید کرتا ہے۔

۳۔ کشمیر سے متعلق کسی بھی قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں گلگت بلتستان کو مکمل نمائندگی دی جائے تاکہ کسی منطقی انجام تک پہنچا جاسکے۔

۴۔ گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر گلگت بلتستان سے متعلق کوئی بھی قومی یا بین الاقوامی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا۔

۵۔ یہ اجتماع پاکستان میں شیعہ سنی مسالک کے مابین اتحاد و یکجہتی اور ہم آہنگی کے فروغ کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور شیعہ سنی مسالک کے مابین اختلاف کو پروان چڑھانے والوں کو استعماری ایجنٹ قرار دیتا ہے۔

۶۔ یہ عظیم الشان اجتماع دنیا کے تمام مظلومین کی بلا تفریق مذہب ہ مسلک مکمل حمایت اور ظالمین سے اظہار نفرت و بیزاری کا اعلان کرتا ہے۔

۷۔ یہ عظیم الشان اجتماع بیرونی آقاؤں اور زرخرید دہشت گردوں کے ہاتھوں ملک عزیز کے بہادر فوجیوں ، وفادار شہریوں اور ملک کے قیمتی اثاثوں خاصکر GHQ ، مہران ائر بیس، کامرہ ائیر بیس پر حملوں کو پاکستان کی سالمیت پر حملہ سمجھتا ہے۔ دہشت گردوں کی غیر انسانی قتل و غارت گری کو مملکت پاکستان کے خلاف بغاوت سمجھتے ہوئے ان کے خلاف حکومت رٹ قائم کرنے کو ضروری سمجھتا ہے ۔

۸۔ یہ اجتماع طالبان سے مذاکرات سے متعلق سیاسی پارٹیوں کے فیصلے کو بے سود، غیر منطقی ،شہداء کے وارثین کے ساتھ ناانصافی اور حکومتی کمزوری سے تعبیر کرتے ہوئے ان ملک دشمن عناصر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔

۹۔ یہ اجتماع گلگت بلتستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پرنہ صرف مقامی لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا بلکہ ہمارا دیرینہ عظیم دوست ملک چائنہ کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے جسے حکومتی اداروں کی نااہلی قرار دیتے ہوئیاسے ملک عزیز پاکستان اور خاص طور پر گلگت بلتستان کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ان کے خلاف فوجی آپریشن کرکے علاقے سے ان کے وجود کا خاتمہ کیا جائے اور ان ذمہ دار اداروں کے نا اہل عہدہ داروں کوبرطرف کرکے ایماندار، اہل اور محب وطن آفیسروں کو تعینات کیا جائے۔

۱۰۔ 1970 کی دھائی سے جاری" لڑاؤ اور حکومت کرو" کی پالیسی کو فی الفور ترک کرکے اقتدار صحیح معنوں میں اس خطے کے عوام کو منتقل کیا جائے تاکہ اس خطے کے محب وطن عوام اپنی سرحدوں کی حفاظت اور بیرونی مداخلت کے ذریعے فرقہ واریت اور دہشت گردی کی آگ بھڑکانے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ سکیں۔

۱۱۔ یہ اجتماع جنگ آزادی گلگت بلتستان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے گلگت سکاؤٹس کے آفیسروں، جوانوں اور سویلین جانثاروں کے خانوادگان کو ان کا جائز مقام دینے کی سفارش کے ساتھ مفت تعلیم، صحت اور حصول روزگار کے سلسلے میں ترجیح دینے کا مطالبہ کرتا ہے نیز گلگت بلتستان کے قومی اثاثوں کو ملیا میٹ کرنے اور جنگ آزادی کے آثار کو مٹانے کی بھر پور مذمت کی جاتی ہے۔ گلگت سکاؤٹس کے سابقہ اثاثہ جات کو GB سکاؤٹس کے حوالہ کیا جائے۔

۱۲۔ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع تاریخی کارگل لداخ روڈ کو کھولنے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ بارڈر کے آر پار مقیم رشتہ دار ایک دوسروں سے ملاقات کرسکیں اور باہمی تجارت کو فروغ دے سکیں۔نیز غذر تاجکستان روڈ جسے مشرف دور حکومت میں کھولنے کا باقاعدہ فیصلہ ہوا تھا ، سابقہ حکومت نے اپنی مصلحت پسندی کی بنا ء پر کے پی کے حکومت کی بلیک میلنگ میں آکر اس منصوبے پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ہمسایہ ملک تاجکستان کے ساتھ باہمی روابط کو بڑھانے اور تجارت کو فروغ دینے کیلئے اس روڈ کو مکمل کرکے جلد از جلد تجارت کیلئے کھول دیا جائے بصورت دیگر گلگت بلتستان کے عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ حکومت پاکستان کا اس خطے کے عوام کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں اور ان مظلوم عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھتی ہے۔

۱۳۔ یہ اجتماع گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دئیے بغیر کسی بھی قسم کے ٹیکس کے نفاذ کوبین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے حکومتی بھتہ خوری سے تشبیہ دیتا ہے اور ہر قسم کے ٹیکس کلیکشن کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔

۱۴۔ یہ اجتماع سانحہ کوہستان، سانحہ چلاس اور سانحہ لالوسر میں ملوث دہشت گرد قاتلوں کی تا حال عدم گرفتاری پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات میں ملوث دہشت گردوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتا ہے بصورت دیگر ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ حکومت ہی ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی ہے اور یہاں کے مظلوم عوام کے قتل و غارت گری پر مامور کئے ہوئے ہیں۔

۱۵۔ یہ اجتماع پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ عالمی سطح پر امریکی بلاک سے نکل کر چین اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا جائے تاکہ پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہواور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہو۔

۱۶۔ یہ عظیم الشان اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ مجوزہ بونجی پاور پراجیکٹ کا نام فوری طور پر تبدیل کردیا جائے اور روندو ہراموش بونجی (RHB) رکھا جائے تاکہ علاقے میں کوئی نیا تنازعہ پیدا نہ ہو اور یہ پراجیکٹ کسی تعطل کا شکا ر نہ ہو۔

۱۷۔ یہ اجتماع علاقہ ہنزہ نگر کے مومنین کی امن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہ جس میں 34 بے گناہ افراد کو بحفاظت حکومت کے حوالہ کیا گیا،مقامی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ اس سلسلے میں اسیر بے گناہ افراد کے جھوٹے مقدمات کو ختم کرکے فوری رہائی عمل میں لائی جائے تاکہ علاقے میں پائی جانیوالی بے چینی ختم ہو۔

۱۸۔ گلگت بلتستان کے مختلف جیلوں میں مقید تمام بے گناہ افراد جن کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا گیا ہے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

۱۹۔ گلگت بلتستان میں میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز کے قیام اور خواتین کیلئے الگ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔

۲۰۔ DHQ گلگت ہسپتال جو کہ جدید ترین سہولتوں سے محروم ہے کو جدید سہولتوں سے مزین کیا جائے تاکہ مریضوں کو کسی قسم کی کوئی پریشانی نہ ہو اور گلگت بلتستان کے تمام مریضوں کی صحت کی بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔

۲۱۔ یہ اجتماع گلگت بلتستان کے مختلف قومی اداروں میں جاری کرپشن کی پر زور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ تمام سرکاری اداروں سے کرپٹ عناصر کو کیفر کردار تک پہنچاکر میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

۲۲۔ یہ عظیم الشان اجتماع حکومت پاکستان اور مقامی حکومت سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ سکردو روڈ کی توسیعی منصوبے کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ علاقہ بلتستان کے عوام کا گلگت اور پاکستان کے دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ مضبوط اور مستحکم ہو۔

۲۳۔ یہ اجتماع حکومت سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ ماضی میں وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان کے عوام کے مابین جتے معاہدے ہوئے ہیں ان پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے عوام کے مابین پائی جانے والی بے چینیوں کا ازالہ کیا جائے۔

۲۴۔ یہ عظیم الشان اجتماع گلگت بلتستان میں تمام مسالک کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے اور اس خطے میں امن و امان کے قیام کیلئے سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ عوام کے مابین نفاق کا بیج بونے والے اور ملک دشمن عناصرکو پنپنے کا موقع فراہم نہ ہو۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree