وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین سنٹرل پنجاب کے پولیٹیکل کونسل کا اجلاس صوبائی سیکرٹریٹ میں مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی کی زیر صدارت منعقد ہوا،اجلاس میں سیکرٹری جنرل سنٹرل پنجاب علامہ مبارک موسوی ،سید حسن کاظمی،سید حسین زیدی،آصف رضا ایڈوکیٹ،سید محسن شہریار،رانا ماجد علی رائے ناصر علی سمیت دیگر اراکین شریک ہوئے،اجلاس میں الیکشن 2018 میں بھر پور حصہ لینے کا اعلان کیا گیا،سینٹرل پنجاب سے امیدواروں کے ناموں پر غور اور امیدواروں کو ٹکٹ کی اجرا ءکے اختیارات مرکزی پولیٹیکل کونسل کے سپرد کیئے گئے ہیں ،اجلاس میں سیٹ ایڈجسمنٹ سمیت کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد کے اختیارات بھی مرکزی کونسل کے سپرد کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسدعباس نقوی نے کہا کہ انشااللہ سنٹرل پنجاب میں جلد ہی الیکشن کے حوالے سے عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے،سنٹرل پنجاب میں امیدواروں کا اعلان جنرل ورکرز اجلاس میں کیا جائے گا،مرکزی پولیٹیکل کونسل سنٹرل پنجاب کے امیدواروں کے کوائف کا جائزہ لے کا حتمی ناموں کا اعلان ورکرز اجلاس میں کرینگے،ہم سیاسی میدان کو خالی نہیں چھوڑیں گے،مخلتف سیاسی جماعتوں سے رابطے ہیں تاہم ابھی تک کسی سے کوئی اتحاد یا سیٹ ایڈجسمنٹ کا اعلان نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی پولیٹیکل کونسل صوبائی و ضلعی پولیٹیکل کونسلز سے مل کر تمام حلقوں سے متعلق جلدجامع حکمت عملی کا اعلان کرینگے،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مبارک موسوی سیکرٹری جنرل سنٹرل پنجاب نے کہا کہ سنٹرل پنجاب میں انشااللہ الیکشن کو ایک چیلنج سمجھ کر لڑیں گے،مخالفین کی انتقامی کاروائیوں کے باوجود کارکن پرعزم ہیں اور 2018 کے الیکشن میں انشااللہ بہترین نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے صوبائی سیکرٹریٹ لاہور میں ملت جعفریہ کی مختلف تنظیموں اور عمائدین کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملت تشیع کے گمشدہ افراد کی عدم بازیابی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ مبارک موسوی، سابق چئیرمین امامیہ آرگنائزیشن افسر حسین خان، سابق مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان اطہر عمران، نجم الحسن، علامہ حسن ہمدانی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ مبارک موسوی نے کہا کہ کراچی سے ملت جعفریہ اور گمشدہ شیعہ افراد کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے جو تحریک شروع کی ہے، اب یہ تحریک بین اانٹر نیشنل  موومنٹ میں بدل چکی ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر لندن، امریکہ، آسٹریلیا سمیت یورپی ممالک میں لوگ اس غیر انسانی اور غیر قانونی حکومتی عمل کیخلاف سراپا احتجاج ہیں، مجلس وحدت مسلمین پنجاب اسیران کے لواحقین کی اس تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتی ہے، اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان میں کوئی مجرم ہیں، انہیں عدالتوں میں پیش کرکے قرار واقعی سزا دی جائے، ہم ایک آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں، ہم نے 24 ہزار سے زائد اپنے پیاروں کے جنازے اُٹھائے، لیکن ملکی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کو کبھی چیلنج نہیں کیا، الحمدللہ ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں، ہمارے ہاتھ سے کوئی ایسا کام سرزد نہیں ہوا جو ملکی سلامتی کیخلاف ہو، ظالم اور مظلوم کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کا عمل مزید مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا، حکمران ہوش کے ناخن لیں اور مظلوموں پر ظلم بند کریں، ہم پاکستان کو بنانا ریپبلک نہیں بننے دینگے، ہمارے لاپتہ افراد کا جرم کیا ہے، ہمیں بتایا جائے، کیا انہوں نے کس فوجی تنصیباب پر حملہ کیا؟ کیا کسی پولیس سنٹر پر حملہ کیا؟ کیا یہ لاپتہ افراد کسی خود کش حملے میں ملوث تھے؟ خدارا پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں پر رحم کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسیروں کے لواحقین کے اس تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں،اور وقت آنے پر ہر قسم کی قانونی آئینی جدوجہد کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران یہ بات یاد رکھیں کہ حکومت کفر سے تو باقی رہ سکتی ہے ظلم سے نہیں۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں مجلس وحدت مسلمین کے ضلعی  دفتر میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر عثمان خان کاکڑ پارٹی قائدین کے ہمراہ تشریف لائے۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا اور علامہ ولایت حسین جعفری سمیت دیگر رہنماء موجود تھے۔ ملاقات کے دوران پشتونخوامیپ کے رہنماء سینیٹر عثمان خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ پشتونخوامیپ ہمیشہ سے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں رہنے والی تمام اقوام کی نمائندگی کر رہی ہے۔ ہمارا مقصد بلا تفریق رنگ و نسل بلوچستانی عوام کی خدمت کرنا ہے۔ آئندہ آنے والے الیکشن میں اگر ہماری جماعت کامیاب ہوئی تو شیعہ ہزارہ قوم کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرینگے۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا کیجانب سے 15 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں این اے 260 پر پشتونخوامیپ کے امیدوار جمال ترکئی کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا۔

وحدت نیوز(کراچی) دنیا بھر کے مسلمان حضرت امام خمینی ؒ کے فرمان کے مطابق قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کیلئے ’’عالمی یوم القدس‘‘ مناتے ہیں ۔بیت المقدس وہ مقام ہے کہ جہاں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کے قدم مبارک تشریف لائے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج یہی مقام یعنی قبلہ اول بیت المقدس مسلسل صیہونی شکنجہ میں جکڑا ہوا ہے، فلسطین پر امریکی و برطانوی سامراج کی سرپرستی میں سنہ1948ء میں ناجائز اور جعلی ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا سنہ1967ء میں قبلہ او کو صیہونیوں نے اپنے شکنجہ میں لیا اور یہاں تک کہ سنہ1969ء میں اسی بیت المقدس کو صیہونیوں نے نذرآتش کرنے کی گھناؤنی کوشش کی جس کے نتیجہ میں بیت المقدس کو شدید نقصان پہنچا ۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں علامہ باقرعباس زیدی ،مولانا صادق جعفری،علی حسین نقوی،علامہ مبشر حسن،میر تقی ظفر،آصف صفوی سمیت دیگر رہنماوں نے کراچی پریس کلب میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں کیا۔

علامہ باقر عباس زیدی کا کہنا تھا کہ صیہونیوں کے مظالم کی تاریخ ستر سال سے بھی زائد کی ہے آج پوری دنیامیں مسلمان اس دن یعنی جمعۃ الوداع کو یوم القدس مناتے ہیں اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے قبلہ اول کی آزادی کی جد وجہد میں شامل ہوتے ہیں۔قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی اورغاصب و جعلی ریاست اسرائیل کے جرائم کے خلاف اس سال جمعۃ الوداع یوم القدس ستائیس رمضان کو منایا جائے گا اور ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد مقامات پر القدس ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ مرکزی القدس ریلی کراچی اور اسلام آباد میں نکالی جائے گی۔ہم پاکستان کی سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ فلسطین اور قبلہ اول بیت المقدس پر صیہونی غاصبانی تسلط کے خلاف موقف پیش کریں اور فلسطین کاز کی حمایت کا اعلان کریں، ہم حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ یوم القدس کی تقریبات کو سرکاری سطح پر منعقد کیا جائے اور ملک بھر میں جمعۃ الوداع یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے، موجودہ دور میں امریکی سرپرستی میں عرب دنیا کے حکمران فلسطین کاز کا سودا کرنے میں سرگرم عمل ہیں جس کی واضح مثال مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکا کی دعوت اور پھر فلسطینیوں کی آزادی کی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دینا واضح طور پر اشارہ ہے کہ عرب حکمرانوں نے امریکی ایماء پر فلسطین کا زکو فراموش کرنے کی گھناؤنی سازش تیار کر لی ہے ، تاہم ایسے حالات میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے افکار و نظریات کے مطابق مسئلہ فلسطین پر اپنا موقف پیش کرے اور فلسطین کاز کی بھرپور حمایت کا کھل کر اعلان کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان بھر کے عوام، سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں سے ابھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ یوم القدس کے اجتماعات میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں، پاکستان بھر کے تمام آئمہ جمعہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ جمعۃ الوداع کو نماز جمعہ کے اجتماعات میں قبلہ اول پر صیہونی غاصبانہ تسلط کے خلاف آواز بلند کریں اور بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینیوں کی آزادی کی تحریکوں کی کھل کر حمایت کا اعلان کریں۔ہم صحافی برادری اور کالم نگاروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے زور قلم سے مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور پاکستان کے عوام تک حقائق پہنچائیں کہ کس طرح آج عالمی سامراجی قوتیں مسئلہ فلسطین کو فراموش کرنے کے لئے مسلم امہ کے درمیان تفریق اور نفرت کو ایجاد کر رہی ہیں جس کی ایک واضح مثال عرب ممالک کے قطر کے خلاف کئے گئے اقدامات ہیں ، امریکی ایماء پر عرب ممالک نے قطر کا اس لئے بائیکاٹ کیا ہے کہ قطر نے فلسطین کاز کے لئے سرگرم عمل آزادی کی مزاحمتی تحریک حماس کی حمایت کی ہے جبکہ امریکا اور اس کے دیگر عرب دوست ممالک فلسطینیوں کی مزاحمتی اسلامی تحریکوں بشمول حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی کو دہشت گرد قرا ر دے کر مسئلہ فلسطین سے پوری دنیا کی توجہ ہٹا نا چاہتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حماس سمیت حزب اللہ اور جہاد اسلامی روز اول سے ہی غاصب صیہونی جعلی ریاست اسرائیل کے خلاف نبردآزما ہیں اور مظلوم اور نہتے فلسطینیوں اور قبلہ اول کا دفاع کر رہے ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مشترکہ یوم القدس کے انعقاد اور ملی وحدت وانسجام کی خاطر سوشل میڈیا پر آن لائن پٹیشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جاری اپنے آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں یتیمان آل محمد ﷺ کے حقوق کی جدوجہد کیلئے ، دشمن کامقابلہ کرنے کیلئے، مظلوموں کی حمایت کرنے کیلئے اور بین الاقوامی سطح کے اوپرمقاومت کو سپورٹ کرنے کیلئےپاکستا ن کے اہل تشیعو میں اندرونی  انسجام  انتہائی لازم اور ضروری ہے، داخلی وحدت کی  بہت زیادہ ضرورت ہے ،کوئی بھی ذی شعور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتاجن دوستوں نے مشترکہ یوم القدس اور اتحاد بین المومنین  کے حوالے سے آن لائن پٹیشن کا آغاز کیا ہے اس کی  مکمل حمایت کرتا ہوں یہ وقت کی ضرورت ہے اور مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے اس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتا ہوں یونٹی اور انسجام کیلئےمجھے جہاں جس وقت بلایا جائے گا میں آوں گا بغیر کسی شرط کے، انہوں نے کہاکہ ابھی گذشتہ ماہ ملی یکجہتی کونسل کے سربراہی اجلاس میں نے رائے دی تھی کے موجودہ عالمی اور مقامی حالات کے پیش نظر وقت کا تقاضہ ہے کہ شیعہ سنی جماعتیں ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے مل کراسلام آبادمیں  یوم القدس منائیں اس حوالے سے تمام امور طے پا چکے تھے، کمیٹی بن گئی ہم نے مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا، لیکن آخری وقت  میں ہمارے بعض رفقاء اس سے علیحدہ ہو گئے اور اتحاد اور وحدت کی جانب یہ اہم قدم ثبوتاژ ہو گیا، ایسے وقت میں کے جب عربوں نے مسئلہ فلسطین کو بیچ ڈالاہے ضروری تھا کہ پاکستان کے شیعہ اور سنی مل کر یوم القدس شایان شان انداز میں مناتے اور عالمی صیہونزم او ر عالمی استعمار کو یہ پیغام دیتے کہ پاکستان کے شیعہ سنی عوام اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کو نہیں بھولے،لہذٰا میں ملی وحدت کیلئے اس آل لائن پٹیشن کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتا ہوں مجھے جب جہاں بلائیں گے میں حاضر ہو جاوں گا۔

وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین نے اتحاد بین المومنین کی خاطر ایک مرتبہ پھر ایک بڑی قربانی دے دی ، گلگت حلقہ نگر 4کے ضمنی انتخاب میں مجلس وحدت مسلمین کے نامزد امیدوار ڈاکٹرعلی محمد اسلامی تحریک پاکستان کے نامزد امیدوار شیخ محمد باقر کے حق میں دستبردار، تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل علامہ سید علی رضوی نے اسلامی تحریک(شیعہ علماءکونسل) کی دعوت پر شیخ ہائوس میں پر یس کانفرنس کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے امیدوار برائے حلقہ نگر 4ڈاکٹر علی محمد کی اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار شیخ محمد باقر کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد علی نوری ، ڈاکٹرعلی گوہر، الیاس صدیقی ودیگر سمیت اسلامی تحریک پاکستان کے صوبائی رہنما علامہ شیخ مرزاعلی ، دیدار علی اور دیگر رہنما موجود تھے ۔

علامہ سید علی رضوی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ خطہ گلگت بلتستان کے عوام کو ہر ادوار میں اقتدار پر براجمان حکمرانوں نے مختلف حیلے بہانوں اور جھوٹے نعروں کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہے ۔عوامی حقوق کے حصول کیلئے جب بھی کوئی موثر آواز اٹھائی گئی اسے دبانے کی بھرپور کوشش کی گئی اور اپنے من پسند افراد کو اقتدار تک پہنچانے کیلئے ہر حربہ آزمایا گیا۔سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اپنے ایجنڈے اور منشور کو لیکر عوامی عدالت میں پیش ہوتے آئے ہیں اور گزشتہ جنرل الیکشن 2015 میں مسلم لیگ نواز کو بھاری مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار تک پہنچایا گیا۔بہت سارے اسباب و علل کے علاوہ مسلم لیگ نواز کی جیت میں ایک اہم سبب مذہبی جماعتوں کی آپس میں چپقلش کو قرار دیا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے بد ترین شکست سے دوچار ہوئی لیکن ان کے رہنمائوں نے مسلم لیگ نواز کی جیت کا ملبہ مذہبی جماعتوں کے سرتھونپ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الحمد للہ ملی خواہشات کے مطابق آج ملت تشیع کی دو نمائندہ جماعتیں قومی و ملی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کے عزم کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیںجو کہ ملت تشیع کیلئے ایک خوشخبری ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف حلقہ 4 نگر کے انتخابات کے حوالے سے ہے بلکہ تمام ملی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے عنوان سے ہے۔انشاء اللہ اس اتحاد کے ذریعے ملت تشیع کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں نے اپنے دور حکومت میں محض جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت کا جائزہ لیں تو ان کے دور حکومت میں لاشوں کے تحفے دیئے گئے،شاہراہ قراقرم پر درجنوں افراد کو شناخت کرکے قتل کردئیے گئے اور ستم ظریفی یہ کہ ان بزدل حکمرانوں نے کسی ایک واقعہ میں ملوچ قاتلوں کو گرفتار تک نہیں کیا بلکہ تشیع کو ہی مظالم کا نشانہ بناتے ہوئے شہداء کے لاشوں پر رونے کے جرم میں شیعہ اکابرین کو 16 ایم پی او کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا اور ملت تشیع کے وہ ادارے جو کہ پاکستان بننے سے اب تک سماجی کاموں میں مصروف تھے ان پر پابندیاں لگادی گئیں ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہگلگت بلتستان کے دیرینہ مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ سکردو روڈ ہے جو کہ تاحال وفاقی حکمران جماعتوں کی سیاست کی نذر ہے ۔سکردو کے عوام اور مسافر اس خونی سڑک پر سینکڑوں جانیں گنوانے کے باوجود عرصہ دراز سے ان پارٹیوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ستم بالائے ستم سابق حکمران جماعت پیپلز پاڑی کا سی ایم سکردو سے تعلق ہونے اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود سکردو کے عوام کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیااور اس دفعہ وفاقی بجٹ میں سکردو روڈ کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ بالآخر شیخ محمد حسن جعفری امام جمعہ والجماعت نے بلتستان ریجن کے ممبران اسمبلی سے اجتماعی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جس کی ہم بھرپور تائید کرتے ہیں۔

آغا علی رضوی نےمذید کہاکہ  مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور اسلامی تحریک پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کی تھی لیکن ساتھ ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کیاتھا کہ سیاسی بنیادوں پر اس قانون کا استعمال کرکے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا جائیگا اور آج وقت نے ہمارے خدشات کو ثابت کیا اور معروف علمائے کرام اور ملت کے اکابرین کو آج  دہشت گردوں کی صف میں کھڑا کیا گیا ہے جو کہ اس ملت کے ساتھ انتہائی مذاق ہے۔مجلس وحد ت مسلمین کے رہنما اور امام جمعہ والجماعت نومل اس وقت جیل میں ہیں اور دیگر علمائے کرام شیخ مرزا علی امام جمعہ والجماعت دنیور، شیخ شبیر حکیمی، عابد حسین و دیگر کو شیڈول فور میں رکھنا اس پرامن ملت کیساتھ انتہائی ظلم ہے جس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ہماراحکمرانوں سے سوال ہے کہ کالعدم جماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی کو ضلع دیامر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرنے کی اجازت کس نے دی جبکہ اسی لدھیانوی پر گلگت سٹی تھانے میں ایف آئی آر نمبر  29/15درج ہے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے اس کے باوجود صوبائی حکومت نے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے لدھیانوی کو ضلع دیامر کے حدود میں جلسہ کرنے کی اجازت دیکر نیشنل ایکشن پلان کی روح کو تڑپادیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شیعہ نشین علاقوں میں زمینوں کو حکومتی تحویل میں دیا گیا اور آج وہی لوگ عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے حق ملکیت کے نعرے لگارہے ہیں ۔اگر یہ لوگ واقعی اپنے ان نعروں میں سچے ہیں تو سینٹ میں پیپلز پارتی کی اکثریت ہے وہاں پر بل کیوں پیش نہیں کیا جاتا ۔اپنے دور اقتدار میں یوسف رضا گیلانی کے چلاس دورے کے موقع پر چلاس کے عوام کو مالکانہ حقوق دلوادیئے اور یہی آرڈر گلگت بلتستان بھر کے لئے کیوں نہیں کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کو جب بھی پذیرائی ملی ہے گلگت اور بلتستان ریجن سے ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا آئینی حقوق کا مسئلہ تاحال تعطل کا شکار ہے ائور یہ جماعتیں جب اقتدار میں ہوتی ہیں تو ان کو یاد نہیں رہتا  اور جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو پھر نعرے لگانا شروع کردیتے ہیں۔سی پیک گلگت بلتستان کا معاشی موت اور زندگی کا مسئلہ ہے اگر ہم مصلحت پسندی کا مظاہرہ کریں اوراس اہم منصوبے کے ثمرات اور سی پیک میں گلگت بلتستان کا حصہ حاصل نہ کرسکے تو آنے والی نسلیں ہمیں ہرگز معاف نہیں کرینگی۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان سی کے گیٹ وے پر ہونے کے باوجود اب تک کوئی بھی پراجیکٹ شامل نہیں ۔ہم صوبائی حکومت کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ اقتدار کے نشے میں سی پیک میں گلگت بلتستان کے مفادات کا سودا کیا تو تاریخ میں غدار قرار پائینگے اور حکومت پاکستا ن کو بھی بتادینا چاہتے ہیں کہ سی پیک میں کسی صورت گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ پاکستان کے وفادر رہے ہیں اور مشکل گھڑی میں یہاں کے بہادر جوانوں نے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں۔دیامر بھاشا ڈیم ، بونجی ڈیم جو کہ پاکستان میں انرجی کرائسس کے حل کا ضامن منصوبے ہیں ۔دیامر بھاشا ڈیم میں ضلع دیامر کی پوری آبادی لپیٹ میں آنے کے باوجود علاقے کے عوام پاکستان کیلئے قربانی دے رہے ہیں جبکہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کی ترقی کا ضامن منصوبہ ہے لیکن اس کے باوجود دیگر صوبوں کے پریشر میں آکر حکومتیں اس منصوبے کی تعمیر پر تیار نہیں۔حکومت کو چاہئے کہ گلگت بلتستان کے خلوص اور شرافت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔

ا ن کاکہنا تھا کہ ہمیں تعجب ہے کہ پیپلز پارٹی نگر کو اپنا گڑھ کیسے سمجھ رہی ہے اور نگر کے غیور عوام ان کو کیوں ووٹ دیں ۔کیا اس لئے ووٹ دیں کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں تاریخی کرپشن کی ہے اور ملازمتوں کو بیچا اور کیا اس لئے ووٹ دیں کہ محکمہ ایجوکیشن میں 500 سے زائد لوگ تین تین لاکھ روپے دیکراب بھی نوکری سے محروم ہیں۔کیا اس لئے ووٹ دیں کہ نگر کے ہر ایک گائوں میں ایک شہید آیا اور آج بھی ان کے قاتل نہ صرف گرفتار نہیں بلکہ ان قاتلوں کے ساتھ جنرل الیکشن میں ساز باز کی گئی۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ حلقہ 4 نگر میں دونوں مجلس وحدت مسلمین اور اسلامی تحریک پاکستان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کرتے ہیں اور محمد باقر تحریک اسلامی اور وحدت مسلمین کا مشترکہ امیدوار ہوگا اور عوام سے اپیل ہے کہ بھاری اکثریت سے ووٹ دیکر محمد باقر کو کامیاب کریں۔مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں سے اپیل ہے کہ وہ صف اول کا کردار ادا کرکے ملی بیداری کا ثبوت دیں ۔انشاء اللہ حلقہ 4 نگر میں ہونے والی اس اتحاد کے ثمرات نہ صرف گلگت بلتستان ہونگے بلکہ پورے پاکستان میں اس اتحاد کے دور رس نتائج حاصل ہونگے۔

واضح رہے کہ حلقہ نگر 4 میں آئندہ چند روز میں منعقدہ ضمنی انتخاب میں سیاسی جوڑ توڑ نے اس وقت دم توڑ دیا جب مجلس وحدت مسلمین نے قومی وملی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے امیدوار کو اسلامی تحریک کے امیدوار کے حق میں دستبردار کروانے کا اعلان کیا ، اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری ودیگر قائدین نے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سےملاقات میں نگر الیکشن میںاسلامی تحریک کے مقابل سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی آفر دی تھی اور ساتھ ہی پرکشش مراعات سمیت آئندہ قومی انتخابات میں ملک بھر میں سیاسی اتحاد کا عندیہ بھی دیا تھا ، جبکہ اسلامی تحریک پاکستان (شیعہ علماءکونسل )کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر علامہ عارف حسین واحدی نے بھی علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سےگذشتہ ہفتے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات میں ایم ڈبلیوایم کے امیدوارکی اسلامی تحریک کے حق میں دستبرداری کی اپیل کی تھی جس پر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مقامی تنظیمی عہدیداران کو اعتماد میں لینے کاوقت مانگا جبکہ دو رو ز قبل اسلامی تحریک کا صوبائی سطح کا وفد سابق وزیر پانی وبجلی دیدار علی کی سربراہی میں وحدت ہائوس گلگت تشریف لایا اور ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ آغاسید علی رضوی سے ملاقات میں باضابطہ طور پر نگر انتخاب میں اپنے امیدوار کی حمایت کی اپیل کی اور بعد ازاں پی پی پی کی تمام تر آفرزکو ٹھکراتے ہوئے ایم ڈبلیوایم نے اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا ، یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ایم ڈبلیوایم اور اس کی مرکزی قیادت جہاں وطن عزیز میں اتحاد بین المسلمین کے لئے ہمہ وقت کوشاں نظر آتی ہے اتحاد بین المومنین کیلئے بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ، اس سے قبل سولجر بازار کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھی ایم ڈبلیوایم نے اپنے دو نامزد اور ایک آزاد امیدوار کو اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار علی رضا لالجی کے حق میں دستبردار کروائے تھے۔

Page 1 of 9

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree