وحدت نیوز (میونخ، جرمنی /مانیٹرنگ ڈیسک)  پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کیمپوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ افغان مہاجرین باعزت طریقے سے اپنے ملک واپس چلے جائیں۔جرمنی کے شہر میونخ میں جاری تین روزہ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں پاکستان کےآرمی چیف نے کہا کہ سرحد کے ساتھ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں جہاں سے پاکستان پر حملے ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ ’پاکستان وہی کاٹ رہا ہے جو 40 سال پہلے بویا گیا تھا جب بڑی تعداد میں لوگوں کو مسلح کیا گیا اور نظریاتی طور پر انتہا پسند بنایا گیا اب انھیں وہ پسند نہیں ہیں تو اسے فوری طور ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اسے ختم کرنے میں وقت درکار ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردی اب عالمی مسئلہ ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے بھی عالمی سطح پر جدوجہد کرنا ہو گی۔پاکستان کی فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں خود مختار ملک ہیں اور دونوں کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔انھوں نے پاکستان میں مقیم 27 لاکھ افغان پناہ گزین کی افغانستان واپسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے مابین سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو گی۔’خراب تعلقات کے ذمہ دار پاکستان اور افغانستان دونوں ہیں‘آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نہیں ہیں تاہم مختلف شکلوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک اور تحریکِ طالبان پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کیمپوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وہاں سے لوگوں کو بھرتی کیا جاتا ہے اور وہاں پناہ لی جاتی ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ افغان مہاجرین باعزت طریقے سے اپنے ملک وآپس چلے جائیں۔‘آرمی چیف نے جماعت الاحرار، تحریک طالبان پاکستان اور دولت اسلامیہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ اپنے ٹھکانے بنائے ہوئے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔

انھوں نے پاکستان میں دہشت گردی اور جہاد کے حوالے سے مغرب میں پائی جانے والی غلط فہمیوں پر روشنی ڈالی اور پاکستان کا موقف پیش کیا۔انھوں نے کہا کہ جہاد کا حکم دینے کا اختیار صرف ریاست کوہے اور خود پر قابو رکھنا بہترین جہاد ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ جہاد کو انتہا پسندی کے پرچار کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، جو جہاد نہیں بلکہ انتہا پسندی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں اور ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے نہ صرف آپریشن کیا جا رہا ہے بلکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ شدید نقصان کےباوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان صف اول میں کھڑا ہے اور دہشت گردی ختم کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل پیرا ہے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) افغانستان میں عالمی دہشتگردتنظیم داعش کا بڑھتا ہو ا اثر و رسوخ ایشیا کے امن کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ان خیالات کا اظہار سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے ایک بیان میں کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی دنیا بھر میں آزاد ریاستوں پر عالمی قوانین کے بر خلاف اقدامات نے دنیا کا امن برباد کر رکھا ہے ۔اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے دہشتگر د گروہوں کی پرورش کرنااور پھر ان سے لڑنے کا ڈھونگ رچا کر آزاد ریاستوں میں فوجی مداخلت کرنا اس کا وطیر ہ بن چکاہے ۔ مشرق وسطی میں داعش کی شکست کے بعد امریکہ اپنے بچے کھچے ہوئے دہشگردوں کے لئے نئے محاذ ڈھونڈ رہا ہے ۔ایشیا کو غیر مستحکم رکھنا امریکہ کے مفاد میں ہے جس کے لئے ایک مرتبہ پھر کمزور ملک افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا جار ہے ۔

انہوں نے مزید کہاکہ کابل حکومت کی افغانستان کے بشتر حصوں میں رٹ عملا ختم ہو چکی ہے ۔غیر مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کی فضا دونوں ممالک کے لئے نقصان دہ ہے ۔پاکستان نے دہشتگردی کی جنگ میں اپنی استطاعت سے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔دہشتگرد داعش تنظیم کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف خطے کے ممالک کو مل کر سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گئی۔افغانستان سے امریکہ کے مکمل انخلاکے بغیر قیام امن ممکن نہیں۔خطے کی مثبت قوتیں پاکستان ،چین ،روس ،ایران کو مستقبل قریب میں دہشتگردی کے عفریت سے نمٹنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہو گا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں خودکش حملے کے نتیجے میں پچانوے سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے ان واقعات کے پیچھے پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمنوں کا ہاتھ ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت خطے کے مسلم ممالک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے اپنی سازشوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔ قومی و ملکی سلامتی جیسے حساس امور میں ہمیں مشترکہ جدوجہد کرنا ہوں گی۔ دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو کر ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے ان عناصر کا تعاقب کرنا زیادہ ضروری ہے، جو دوستی کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے دشمن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش عراق و شام سے فرار ہونے کے بعد افغانستان میں پناہ گاہیں ڈھونڈ رہی ہے۔ اسے افغانستان میں قدم جمانے کا موقع دینے کا مقصد اس خطے پر عالمی قوتوں کو لشکر کشی کے لئے جواز فراہم کرنا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کو مل کر ایسے عناصر کے خلاف مربوط و منظم پالیسی طے کرنا ہوگی۔ دونوں ممالک کی سالمیت و بقاء باہمی اتحاد میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے مسلم ممالک کا اتحاد ان عالمی قوتوں کی شکست تصور ہوگی، جو ہمیں دست و گریباں دیکھنے کی خواہاں ہیں۔ پاکستان کو گذشتہ تین دہائیوں سے بدترین دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائی بھی انہیں قوتوں کی کارستانی ہے۔ انہوں نے شہداء کی بلندی درجات اور ان کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے افغانستان دارالحکومت کابل میں ثقافتی مرکز پر خودکش حملے میں شیعہ ہزارہ شہریوں کے بہیمانہ قتل کے خلاف مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے مذمتی بیان میں کہاکہ طالبان کے بعد افغانستان کو داعش کے سفاکیت کا سامنا کرناپڑرہا ہے، مشرق وسطیٰ کےشکست خوردہ داعشی درندے افغانستان میں شیعہ ہزارہ نسل کشی میں ملوث ہیں ،شیعہ ثقافتی مرکز پر حملے میں40طلباءکی شہادت انتہائی قابل مذمت ہے ،  اقوام متحدہ اور  عالمی برادری امریکی واسرائیلی پشت پناہی میں داعش کی افغانستان میں فعالیت اور درندگی  کا سختی سے نوٹس لے، شام اور عراق میں اپنے ناپاک عزائم میں ناکامی کے بعد عالمی استعماری قوتوں نےایک مرتبہ پھر افغانستان کو تختہ مشق بنایا ہے اور اس مرتبہ بھی ان کا نشانہ افغانستان کے شیعہ شہری ہیں گذشتہ چند برسوں میں افغانستان میں شیعہ ہزارہ شہریوں پر خودکش حملوں میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیاہے ،جس کا مقصد داعش کی خودساختہ خلافت کے لئے افغانستان میں جواز پیداکرنا ہے ، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی دہشتگرد کاروائیاں پاکستان کیلئے بھی سنگین خطرے کا باعث ہیں اطلاعات کے مطابق پاک افغان سرحدی علاقے میں داعش کے لئے بھرتیاں تیزی دے جاری ہیں جس کی روک تھام کیلئے حکومت اور پاک فوج کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے افغانستان اور سعودی عرب میں شیعہ نسل کشی کے دل دھلادینے والے سانحات پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش اور العوامیہ میں سعودی افواج کے ہاتھوں شیعہ نسل کشی پر عالمی قوتوں کی خاموشی قابل مذمت ہے،افغانستان کے علاقے میرزا اولنگ میں داعشیوں کے ہاتھوں شیعہ ہزارہ شہریوں کا بہیمانہ قتل عام انسانیت کی تذلیل ہے، نہتے شیعہ شہریوں کو گولیوں سے بھونا گیا، انہیں دروں سے نیچے پھینکا گیا ان کی خواتین کو اغواء کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ افغانستان اور سعودیہ میں جاری انسانیت سوز مظالم نا قابل بیان ہیں ، کیایہ سب ظالمانہ اقدامات عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی نہیں، افغانستان میں جاری شیعہ نسل کے اصل ذمہ دار وہاں کی حکومت، انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور دہشت گردی کے نام نہاد مخالف امریکہ اور اس کے حواری ہیں۔ میرزا اولنگ کے والی نے مرکزی حکومت کو پیشگی آگاہ کیا تھا کہ یہاں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہ پنپ رہے ہیں فوری اقدامات کیئے جائیں لیکن کابل حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی اور ایک انسانی المیئے نےجنم لیا ۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے العوامیہ میں آل سعود کی جارح افواج کے ہاتھوں بے گناہ شیعہ شہریوں کے قتل اورمساجد وامام بارگاہوں کی توہین کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور انہوں نے کہا کہ آل سعود مظلوم عوام کا کشت وخون کرکےقہر الہیٰ کو دعوت دے رہے ہیں ، انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی جانب سے افغانستان ، سعودیہ، یمن، بحرین ، کشمیر اور دیگر علاقوں میں انسانیت سوز مظالم پر مجرمانہ خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان تمام ملکوں کے مظلوم عوام کے ساتھ ہیں اور ان پر ہونے والے مظالم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔وہ وقت دو رنہیں کے جب ان بے گناہ شہداءکو پاکیزہ لہو رنگ لائے گا اور آل سعود کے ناپاک اقتدار کے زوال کا باعث بنے گا اور یہ ظالم خدا کے قہر اور انتقام کا شکار ہوں گے ۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج وطن دشمنوں نے پھر ہمارے پاک وطن کے محافظوں پر وار کرکے ہمارے دلوں کو زخمی کر دیا ہے ،بلوچستان میں پاکستان کے اقتصادی ترقی کے دشمن کالعدم شدت پسندوں کے زیر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے در پے ہیں ،ہم چمن میں ملک دشمن دہشتگردوں کی بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں ،شہید ڈی پی او اور دیگرشہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں انشاء اللہ ہمارے ان شہداء کے پاکیزہ لہو وطن سے دہشتگردوں کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا ،ہم شہدا ء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ،بلوچستان حکومت امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں،دہشتگردوں کے نرسری کالعدم شدت پسند گروہ کو بلوچستان میں مکمل آزادی دینا دہشتگردی کیخلاف جنگ کو ناکام بنانے کی سازش ہے، ان دہشتگردوں گروہوں نے نام بدل کر پورے پاکستان کو یرغمال بنایا ہوا ہے ،ضیاء دور کے باقیات اب بھی قتل و غارت گری کے بازی گرم کئے ملکی سلامتی کیخلاف را ،اور موساد کے کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ہمیں مصلحت پسندی چھوڑ کر ملکی سلامتی کیلئے متحد ہوکر ان ملک دشمنوں کے چہروں سے نقاب اتارنا ہوگا۔اس موقع پر مرکزی رہنما و امام جمعہ کو ئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی، سیکرٹری جنرل صوبہ بوچستان علامہ برکت مطہری، ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ ظفر عباس شمسی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل کیپٹن حسرت اللہ چنگیزی اور ڈویژنل ڈپٹی سیکرٹری جنرل کونسلر کربلائی رجب علی بھی موجود تھے۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے کہا کہ اقتصادی راہ داری کے دشمنوں کیلئے سہولت کاری کا کام یہی کالعدم شدت پسند گروہ سر انجام دے رہے ہیں بلوچستان کی سر زمین ان کالعدم شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال ہے، بلوچستان حکومت ان شر پسندوں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے ،ضیاء دور کی پالیسیوں کا خیمازہ پاکستا ن کی مظلوم عوام برسوںسے بھگت رہے ہیں ،اغیار کے اس جنگ میں ملک کو دھکیلنے کے سبب ہم اب تک اسی ہزار سے زائد اپنے پیاروں کی قربانی دے چکے ہیں ، اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ،ہم افغان جہاد کے قرض چکانے میں مصروف ہیں ایسے میں ان نااہل حکمرانوں نے ملک کو مشرق وسطی کے دلدل میں بھی پھنسا دیا ہے ،34ملکی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت اور راحیل شریف کا سربراہی قبول کرنا پاکستان کی سلامتی کیخلاف سازش کا حصہ ہے،دشمن ہمیں تقسیم کرکے ملک کو کمزورکرنا چاہتاہے،اب بھی وقت ہے کہ پاکستان بدنام زمانہ امریکن بلاک سے نکل کر روس اور چائنا کیساتھ اپنی تعلقات مضبوط کرے ایشیا ء مستقبل میں عالمی قوت بن کر ابھر رہا ہے،ہم نے ہمیشہ ناکام خارجہ پالیسی کے سبب ملک کو مشکلات سے دوچار کیا،اقتصادی راہداری ہماری لائف لائن ہے اور یہی امریکن بلاک اس منصوبے کا حقیقی دشمن ہے۔

انہوں ے کہاکہ پاناماکیس میں سپریم کورٹ کو جلد فیصلہ سنا دینا چاہے تاکہ پاکستانی عوام کی بے چینی دورہو اور ملکی خزانوں اور عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ڈاکہ ڈالنے والے بے نقاب ہوسکیں ،ن لیگی وزراء ملک میں خانہ جنگی کرانے کے در پے ہیں سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کو بدنام کرنے کا ایجنڈا کیا ان کو ان کے دوست مودی نے دیا ہے ؟ہم ان شرپسندوں کے ملکی سلامتی کیخلاف ہر سازش کی راہ میں محب وطن قوتوں سے ملکر دیوار بنیں گے ،ہمارے حکمران ملک سے زیادہ اپنے مفادات کی تحفظ کیلئے سرگرداں ہیں ،ملک سے کرپشن کے خاتمے کے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ،پاناماکیس میں حکمران جماعت کی بوکھلاہٹ اس بات کی غمازی ہے کہ ن لیگ دھونس دھاندلی کیساتھ سپریم کورٹ کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہی ہے ،جسے کوئی بھی محب وطن برداشت نہیں کریگا ،سپریم کورٹ پر حملہ آمریت کی گود میں پرورش پانے والوں کا وطیرہ ہے،ضیاء کے روحانی اولاد قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کو دشنام دینے سے باز رہے،موجودہ حکمران ملک میں مسلکی تقسیم کے ذریعے نفرتیں پھیلانے کی سازش کر رہے ہیں ،عوام غربت کے ہاتھوں خود کشی کرنے پر مجبور ہیں ،دہشتگردوں کیساتھ ن لیگ کے وزراء کے قریبی مراسم ہیں ،دہشتگردوں کے یہ سیاسی سرپرست پاناماکی آڑ میں دہشتگردی کیخلاف ملکی سلامتی کے خاطر جان دینے والے قومی سلامتی کے اوروں کیخلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہے،یہ ایک منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہے ،انشاء اللہ ہم ان ملک دشمنوں کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں اور انکے مذموم مقاصد کو کھبی کامیاب نہیں ہونے دینگے ،خدا پاکستان کو سلامت رکھے اور ہمارا حامی و ناصر ہوں۔

Page 1 of 6

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree