وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے روہنگیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے درد ناک مظالم پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برمی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی اس بربریت پر اقوام عالم کی خاموشی افسوس ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت سوز سلوک کے روح فرسا مناظر درندگی کی بدترین تاریخ رقم کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ،انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور مسلمانوں کے حقوق کے ٹھکیدار ممالک کی طرف سے روہنگی مسلمانوں کے مسائل سے عدم دلچسپی کا اظہار اس امر کا عکاس ہے کہ ان ممالک کے اہداف اور مقاصد مختلف ہیں۔یورپی ممالک میں چند افراد کی ہلاکت پر پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا جاتا ہے اس کے برعکس دنیا کے مختلف ممالک میں بے گناہ مسلمانوں کا بہتا ہوں خون سے دانستہ چشم پوشی کی جا رہی ہے۔یہود و نصاری کا یہ متعصبانہ طرز عمل امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کے دفاع کے لیے تشکیل دیے جانے والے اسلامی فوجی اتحاد کی روہنگیا کے معاملے پر خاموش شرمناک ہے۔کیا مسلمانوں کے انتالیس ممالک مل کر بھی ان مٹھی بھر اسلام دشمنوں کو ان کے غیر انسانی اقدام سے باز رکھنے کی جرات نہیں رکھتے۔اگر اس اتحاد کا مقصد سعودی حکمرانوں کے مفادات کا تحفظ ہے تو پھر اس کا نام اسلامی فوجی اتحاد کی بجائے اپنے مقصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔مسلمان ممالک برما کی حکومت کو مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیں بصورت دیگر برما سے سفارتی روابط منقطع کیے جائیں۔ برما کی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث شر پسندوں کو لگام دینے میں حیل حجت کا مظاہرے کرے تو پھرمسلمان خاندانوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اسلامی ممالک کی طرف سے طاقت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ برما کے سفارت کار کو طلب کر کے سخت لب و لہجہ میں احتجاج کیا جائے۔انہوں نے کہا مجلس وحدت مسلمین اس سفاکیت کے خلاف ہر سطح پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے افغانستان اور سعودی عرب میں شیعہ نسل کشی کے دل دھلادینے والے سانحات پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش اور العوامیہ میں سعودی افواج کے ہاتھوں شیعہ نسل کشی پر عالمی قوتوں کی خاموشی قابل مذمت ہے،افغانستان کے علاقے میرزا اولنگ میں داعشیوں کے ہاتھوں شیعہ ہزارہ شہریوں کا بہیمانہ قتل عام انسانیت کی تذلیل ہے، نہتے شیعہ شہریوں کو گولیوں سے بھونا گیا، انہیں دروں سے نیچے پھینکا گیا ان کی خواتین کو اغواء کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ افغانستان اور سعودیہ میں جاری انسانیت سوز مظالم نا قابل بیان ہیں ، کیایہ سب ظالمانہ اقدامات عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی نہیں، افغانستان میں جاری شیعہ نسل کے اصل ذمہ دار وہاں کی حکومت، انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور دہشت گردی کے نام نہاد مخالف امریکہ اور اس کے حواری ہیں۔ میرزا اولنگ کے والی نے مرکزی حکومت کو پیشگی آگاہ کیا تھا کہ یہاں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہ پنپ رہے ہیں فوری اقدامات کیئے جائیں لیکن کابل حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی اور ایک انسانی المیئے نےجنم لیا ۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے العوامیہ میں آل سعود کی جارح افواج کے ہاتھوں بے گناہ شیعہ شہریوں کے قتل اورمساجد وامام بارگاہوں کی توہین کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور انہوں نے کہا کہ آل سعود مظلوم عوام کا کشت وخون کرکےقہر الہیٰ کو دعوت دے رہے ہیں ، انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی جانب سے افغانستان ، سعودیہ، یمن، بحرین ، کشمیر اور دیگر علاقوں میں انسانیت سوز مظالم پر مجرمانہ خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان تمام ملکوں کے مظلوم عوام کے ساتھ ہیں اور ان پر ہونے والے مظالم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔وہ وقت دو رنہیں کے جب ان بے گناہ شہداءکو پاکیزہ لہو رنگ لائے گا اور آل سعود کے ناپاک اقتدار کے زوال کا باعث بنے گا اور یہ ظالم خدا کے قہر اور انتقام کا شکار ہوں گے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بھارتی افواج کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا یہ جارحانہ طرز عمل پورے خطے کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہو سکتاہے۔اقوام متحدہ مبصرین کی گاڑی پر بھارتی فائرنگ کا اقوام متحدہ سختی سے نوٹس لے۔بھارتی افواج کی مسلسل گولہ باری سے اب تک متعدد پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں۔جو بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کے داخلی حالات کو اپنے لیے سازگار سمجھتے ہوئے بھارت افواج کی طرف سے کسی بھی طرح کی در اندازی بھارت کی بقا و سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گی۔ افواج پاکستان اور قوم ملک میں دہشت گردی کے مقابلے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی بیرونی جارحیت سے نبردآزما ہونے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت کسی مغالطے میں نہ رہے ۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اپنے دفاع کے لیے ہر قسم کے ہتھیاروں کے استعمال کرنے میں مکمل طور پر با اختیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں بھارت کے اس رویے کا نوٹس لیں جو اپنے غیر مدبرانہ اور جارحانہ رویے سے پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالنا چاہتا ہے۔پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور کبھی بھی جنگ کا حامی نہیں رہا لیکن تاریخ شاید ہے کہ جب بھی اس پر جنگ مسلط کی گئی اس نے میدان جنگ کو دشمن کے قبرستان میں بدل کراپنی طاقت کے جوہر کو عالمی سطح پر منوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن ایک جاسوس ہے۔ اس کے جرم کی سزا موت ہے جو اسے ہر حال میں مل کر رہے گی۔ اس کے دفاع میں بھارت کا موقف کمزور ہے۔پاکستانی ذرائع ابلاغ کو کسی سازش کا شکار ہونے کی بجائے کلبھوشن اور بھارت کی اصلیت سے دنیا کو آگاہ کرنا ہو گا۔

وحدت نیوز (ٹنڈومحمد خان) مجلس و حدت مسلمین ضلع ٹنڈو محمد خان کے تحت یوم کشمیر کے موقع پریکجہتی کشمیر و مظلومین جہان سیمینار کا انعقادکیا گیا،جامع مسجد علی ؑ میں منعقدہ اس سیمینار کے مہمان خصوصی مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ترجمان علامہ مختارامامی تھے،جبکہ دیگر مقررین میں صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل یعقوب حسینی ،سیکریٹری فلاح و بہبود عالم کربلائی اور ضلعی سیکریٹری جنرل محمود الحسن  شامل تھے، اس موقع پر مقررین نے گذشتہ چھ دہائیوں سے جاری مقبوضہ کشمیر کے عوام کی تحریک آزادی کے نشیب وفراز اور اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی ،علامہ مختارامامی نے کہاکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نہتے کشمیری عوام پر مظالم کی تمام حدیں پار کردی ہیں  ، ممنوعہ ہتھیاروں سے بے گناہ شہریوں پر مظالم روز کا معلوم بن چکے ہیں عالمی برادری بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے ،یوم یکجہتی کشمیر اس عزم کے اعادہ کرنے کا دن ہے کہ پاکستانی عوام مظلوم کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی حمایت کسی صورت ترک نہیں کریں گے اور اس وقت تک یہ حمایت جاری رکھیں گے جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقعہ پر ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی میڈیا سیل سے جاری بیان میں کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے بڑھتے ہوئے مظالم پر اقوام عالم کی خاموشی اس حقیقت کی عکاس کہ مسلمانوں کے مسائل سے ان نام نہاد انسانی حقوق کے ٹھکیداروں کو کوئی غرض نہیں۔بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور پاکستانی سرحدوں کی مسلسل خلاف ورزی بھارتی فوج کی بربریت سے دنیا کی نظریں ہٹانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کے لیے عالمی قوتوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔جب تک مسئلہ کشمیر کا پرامن اور کشمیر ی عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں نکلتا تب تک پورے خطے کی سلامتی کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہے گا ۔ہندوستانی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبرکے ذریعے حق خود ارادیت کی آواز کو دبانا کی کوششوں میں مصروف ہے۔بنیادی حقوق کے اس استحصال پر اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ مخفی قوتیں گلگت بلتستان اور کشمیر کے حوالے سے شکوک شبہات پیدا کر کے ہمیں داخلی انتشار کا شکار بنانا چاہتی ہیں ۔ہم ان بیرونی طاقتوں سے ہوشیار رہنا ہو گا۔ گلگت بلتستان اور کشمیر پاکستان کے عضوِ بدن ہیں جنہیں کبھی جسم سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندد مودی کی رگوں میں پاکستان دشمنی سرایت کر چکی ہے۔پاکستان کے خلاف لغوا ور بے بنیاد پروپیگنڈہ کے ذریعے اقوام عالم کو گمراہ کرنے کی خواہش وہ کبھی پوری نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے جس پرکسی بھی ملک کو اس پر ہاتھ ڈالنے کی قطعاََ اجازت نہیں۔پاکستان کے خلاف کسی بھی بیرونی جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پربھرپور انداز سے اٹھایا جائے اور کشمیریوں کی آواز کو ان تک پہنچایا جائے۔

وحدت نیوز (مظفرآباد) اس وقت بھارت کی سات لاکھ سے زیادہ فوج مقبوضہ کشمیر میں موجود ہے۔ بھارتی افواج نے ظلم وجبر کا ایسا کوئی ہتھکنڈہ نہیں چھوڑا جو بے گناہ اور بے سروسامان کشمیری عوام پر آزمایا نہ گیا ہو لیکن کشمیری عوام جرات، پامردگی اور حوصلے سے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے اپنے نصب العین کونہیں چھوڑا۔ وہ کسی بھی صورت میں اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہونگے۔5 فروری کو پاکستان اور آزادکشمیر میں یوم یکجہتی کشمیر اس عہد کی تجدید ہے کہ کشمیر ی عوام اپنی آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ساری ریاست کا آزاد ہو کر پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں ہو جاتا۔کشمیری مسلمانوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا۔ ہمیں اس تاریخی فیصلے پر فخر ہے کیونکہ اہل پاکستان نے آزمائش اور مشکل کے ہر لمحے میں کشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ زلزلہ ہو یا سیلاب، بھارتی جارحیت ہو یا کوئی اور آفت سماوی پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ جس محبت اخوت، ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کرتے ہیں اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ 1947ء کو الحاق پاکستان کا فیصلہ ایک احسن قدم تھاان خیالات کااظہار سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزادکشمیر سیدتصورحسین نقوی جوادی نے یوم یکجہتی کے کشمیر کے حوالے سے ریاستی دفتر میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا. ریاستی سیکرٹری جنرل کاکہناتھاکہ8جولائی 2016کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی نے نئی کروٹ لی ہے۔ برہان مظفر وانی شہید کے مشن کو لے کر نوجوان نسل سر بکف ہو گئی ہے۔ اس تحریک میں مقبوضہ کشمیر کے عوام نے 6 ماہ کے طویل کرفیو کا سامنا کیا۔ پندرہ سو کے لگ بھگ نوجوان شہید، 20 ہزار زخمی اور ایک ہزار تک نوجوان کلی یا جزوی طور پر بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔ لیکن ان کے عزم و حوصلے کمزور نہیں ہوئے۔ کشمیری عوام کے دل و دماغ سے موت کا خوف ختم ہو چکا ہے۔

سیدتصورحسین نقوی جوادی کاکہناتھا کہ ہم بھارت پر واضح کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کے بنیادی حق،حق خودارادیت میں رکاوٹ نہ بنے بلکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرے۔کشمیری عوام گزشتہ 70برس سے جاری آزادی کی تحریک اور حق خودارادیت کے حصول کیلئے بے پناہ قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں۔کشمیری قوم اسلام کی سربلندی، پاکستان کی سلامتی، استحکام اور تکمیل پاکستان کیلئے اپنی جد و جہدجاری رکھے گی۔پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی امداد سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔مسئلہ کشمیر پر کشمیر ی عوام کا موقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے جس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔کشمیری عوام ریاست جموں و کشمیر کو ناقابل تقسیم وحدت سمجھتے ہیں۔

انہوں نے  کہا  ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام کیلئے وہی حل قابل قبول ہو گا جو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحد ہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا اور یہی اس کادیر پا اور پائیدار حل ہو گا اہل پاکستان کی طرف سے اہل کشمیر کے ساتھ ہر سال5فروری کو یوم یکجہتی کا اظہار پوری قوم کے لیے ایک ایسا اثاثہ ہے جوکشمیر ی عوام کو بھارت کے تسلط کے خلاف اور اپنے عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کی جدوجہد میں نیا جوش وولولہ اور نئی تقویت دیتا ہے۔ پاکستان کے عوام اور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کا تعلق کسی لالچ اور کاروبار کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ ایسا روحانی اور مذہبی تعلق ہے جس کی پائیداری کو کوئی بھی ملک یا طاقت چیلنج نہیں کر سکتی۔اسی وجہ سے تقسیم برصغیر کے نتیجہ میں پاکستان 14اگست 1947کو معرض وجود میں آیا مگر کشمیری عوام نے 19جولائی 1947کو قرارداد الحاق پاکستان منظور کر کے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر لیا اور جب پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہو گیا تو جموں وکشمیر سے لاکھوں کی تعداد میں کشمیریوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی اور اپنے اس سفر میں تین لاکھ سے زائد کشمیریوں کو پاکستان سے محبت کے اظہار پر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

Page 1 of 5

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree