وحدت نیوز (اسلام آباد) عمران خان عوام کی امیدوں کا مرکز ہیں ،حکومت کے مثبت کاموں پر ان کی بھرپورحمایت و مدد کریں گے، وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے پر عمران خان اور تحریک انصاف کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، عمران خان کی جدوجہدپاکستانی سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، ہم حقیقی تبدیلی کی فضا کو محسوس کررہے ہیں ،ایوان صدرکی جانب سے خصوصی دعوت پر سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی عمران خان کی بطور وزیراعظم حلف برداری تقریب میں شرکت جہاں انہوں نے اہم سیاسی و سماجی رہنماوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں سے ملاقات میں کہا کہ عمران خان عوام کی امیدوں کا مرکز ہیں، امید کرتے ہیں وزیر اعظم عمران خان عوام سے کئے اپنے وعدوں کو پورا کریں گے ۔ حکومت کے لئے غربت ، دہشتگردی انتہاپسندی ، اقتصادی بحران ،تعلیم و صحت سمیت ملکی وقار کی بحالی اہم چیلنجز ہیں سماجی انصاف کی فوری فراہمی اور قانون کی بلادستی کو قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت ہونے کے ناطے جہاں حکومت کے مثبت کاموں پر ان کی بھرپورحمایت و مدد کرے گی وہاں خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کرنا بھی ضروری سمجھتی ہے جو جماعتیں بھی عدالت اور پارلیمنٹ کے علاوہ کسی اور پلیٹ فارم پر حکومت کے خلاف احتجاج کرنا چاہتی ہیں  پہلے وہ قانونی و آئینی طریقے سے اپنی شکایات کو حل کرنے کی کوشش کریں اگر وہاں سے ان کی شنوائی نہیں ہوتی تو ان کے لئے عوامی جدوجہد کارستہ کھلا ہو ا ہے،اپوزیشن کا رویہ غیر جمہوری غیر اخلاقی اور غیر قانونی نہیں ہونا چاہیئے،پاکستان کی سلامتی و بقا کے لئے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمرا ن خان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کو 22واں وزیر اعظم منتخب ہونے پر اپنی اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے دلی مبارک باد پیش کی ہے، مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری تہنیتی پیغام میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کا سادہ اکثریت سے قائد ایوان منتخب ہونا ملک کے لئے نیک شگون ہے، امید کرتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے قوم سے کیئے گئے اپنے وعدوں کو عملی جامع پہنائیں گے، ملک کو درپیش چیلنجزخصوصاًدہشت گردی،کرپشن، مہنگائی ، بے روزگاری اور توانائی اور پانی کے بحران کے حل کیلئے فوری توجہ دیں گے، کسی بھی قسم کے دبائوسے آزادخارجہ وداخلہ پالیسی کی تشکیل وطن عزیزکی سلامتی و استحکام کیلئے ناگزیر ہے ، جس کیلئے نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کو گٹھن فیصلے کرنا ہوں گے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) افکار شہید حسینی کو زندہ رکھیں (امام خمینی)1980 کا سال تشیع پاکستان کی طاقت کا مظہر تھا ، اس سال کو اسلام آباد  میں  ملت تشیع پاکستان نے ایک عظیم کنونشن  کا انعقاد کیا۔ یہ کنونشن ہی تشیع پاکستان کی جدید تاریخ کا سنگِ بنیاد ثابت ہوا۔یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب  ہماری قوم اندرونی اختلافات کے باوجود ایک ہی قیادت کے زیر سایہ متحد تھی. چنانچہ  قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین کے حکیمانہ وجراتمندانہ اقدامات سےاس  ملت کو ایک عظیم کامیابی نصیب ہوئی . آج ہمیں ضرورت ہے کہ اس عظیم تاریخی کنونشن کے پسِ منظر کو جانیں اور موجودہ حالات میں اس سے رہنمائی حاصل کریں۔اس دور میں پاکستان کی متشدد مذہبی جماعتوں کے تعاون سے فوجی انقلاب کامیاب ہوچکا تھا اور جنرل ضیاءالحق جوکہ خود بھی فکری لحاظ سے ایک متشدد مذہبی خیالات کا حامل تھا اس نے قائد اعظم اور اقبال کی فکر  کی مخالف جماعتوں اور تنظیموں مثلا  جمعیت علماء اسلام ( سابقہ جمعیت علماء ھند ) اور جماعت اسلامی  کو سرکاری سرپرستی سےخوب نوازا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پاکستان جس کو اسلامی جذبے کے تحت شیعہ اور سنی مسلمانوں نے ملکر بنایا تھا اس کو رسمی طور پر ایک خاص مذھب ومسلک کا پاکستان بنانے کی کوشش کی گئی جسے وہ شیعہ قیادت کے بر وقت اقدام کی وجہ سے رسمی شکل تو نہ دے سکے لیکن عملی طور پر انکے اقتدار میں نفوذ کی وجہ سے کچھ ایسی ہی صورتحال بن گئی.پس یہ جان لیجئے کہ  یہ قیام اس سوچ اور فکر کے خلاف تھا. جس کی سربراہی اس وقت کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے پاس تھی.پھر علامہ مفتی جعفر حسین کی وفات کے بعد جب قیادت علامہ سید عارف حسین الحسینی نے سنبھالی تو قوم عملی طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی. اور ایک دھڑا علامہ سید حامد علی موسوی صاحب کی قیادت کا اعلان کر چکا تھا اور دوسرے دھڑے نے بطور قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی قیادت پر اتفاق کیا تھا. قائد شہید نے اپنے اخلاص وتقوی ، حکمت وبصیرت اور جرتمندانہ اقدامات سے قوم میں ایک نئی روح پھونکی اور ملت کے اندر قومی شعور ، جوش و  ولولہ اور سیاسی بصیرت کو  اجاگر کیا. دوسری طرف باہمی اختلافات کو ختم کرنے کے لئے ملت کی ہر بااثر شخصیت کے پاس بھی گئےاور بارہا علامہ سید حامد علی موسوی صاحب سے ملاقات کرنے کی کوشش بھی کی نیز باہمی اختلافات کے خاتمے کے لئے ہر قسم کی قربانی  کا عندیہ بھی دیا. ان کی اس معتدل روش ، اخلاق وکردار اور شجاعانہ وجراتمندانہ اقدامات سے ملت کی اکثر تنظیمیں اور ادراے انکی قیادت کے زیر سایہ آ گئے۔

 انھوں نے تشیع پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملت کے اپنے مستقل سیاسی تشخّص کی بات کی  اور انہیں سیاسی طور پر مضبوط اور طاقتور کرنے کا عہد کیا اور بھر پور انداز سے سیاسی عمل میں شمولیت پر زور دیا. انہوں نے اپنی  ہم وطن سیاسی قوتوں کے ھمراہ ایوانوں میں اپنے ترجمان ونمائندگان بھیجنے اور وزارتیں حاصل کرنے کی ترغیب دی ۔ یوں سیاسی طور پر سرزمین پاکستان پر ایک ایسا سیاسی نظام لانے کا اعلان کیا جو شیعہ اور سنی سب مسلمانوں کے لئے قابل قبول ہواور ضیاء الحق کی اتحادی جماعتوں  یعنی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے نظرئیے کو مسترد کیا. پہی شہید کے  وہ افکار ونظریات تھے جنہیں زندہ رکھنے کی امام خمینی نے اپنے تعزیتی بیان میں پاکستانی قوم کو تاکید کی تھی اور یہی انکی روش تھی کہ آج تیس سال گزر جانے کے باوجود ملت کا ہر فرد انہیں یاد کرتا ہے.یقیناً  اگر انہیں شہید نہ کیا جاتا تو آج پاکستان کا سیاسی نقشہ کچھ اور ہوتا اور آج   کسی بھی مسلک اور مذھب کو محرومی کا احساس نہ ہوتااور پاکستان دنیا کے نقشے پر اتحاد بین المسلمین اور مکتب تشیع کے مابین وحدت کا ایک قابل تقلید مظھر اور بہترین نمونہ ہوتا.گذشتہ تقریباً دس سال سے شہید قائد کے معنوی فرزند ملک بھر سے اور بیرون ملک بھی مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں۔

شہید قائد کے یہ معنوی فرزند  ملت کو ہر لحاظ سے طاقتور بنانے اور وطن عزیز کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے مخلص و بابصیرت اور بہادر وشجاع عالم باعمل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں میدان عمل میں کوشاں ہیں اور حکمرانوں کے پریشر اور شکنجوں مقابلہ کر رہے ہیں نیز تکفیریوں کے تیروں اور حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں. قائدشہید کے وارث ان مخلص اور نڈر افراد کو اس وقت قوم کی حمایت کی ضرورت ہے۔قوم ضرور غوروفکر کرے کہ 25 جولائی 2018 کو ووٹ کسے دینا ہے!؟ہماری قوم کے ہر باشعور شخص سے اپیل ہے کہ وہ مندرجہ زیل امور پر خاص توجہ دے:1- گھر سے نکل کر موثر انداز  میں الیکشن میں حصہ لیں اور اپنا قیمتی ووٹ ضرور کاسٹ کریں. چونکہ یہہماری قومی تاریخ کا تسلسل اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔2- مہر لگاتے وقت ذاتی وعلاقائی اور مذھبی تعصب کی بنا پر نہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر مقادات کو مد نظر رکھیں۔

کسی پاکستان دشمن قوت کے ایجنٹ اور وطن کے خائن اور چور کو ووٹ نہ دیں خواہ اس پارٹی کا آپکے علاقے میں الیکشن کا امیدوار خود قدرے بہتر ہی کیوں نہ ہو. یہ کل پارلیمنٹ میں انکی بالا دستی کا سبب بن سکتا ہے.3 - کرپشن وتکفیریت مافیا سے نجات حاصل کرنے کے لئے اور ان  پر پارلیمنٹ کا راستہ تنگ کرنے کے لئے پاکستان بھر میں بالعموم انتخابی نشان (( بلہ ))پر مھر لگائیں.4 - اپنے پارٹی کے تشخّص کی حفاظت اور اپنی آواز کو پارلیمنٹ ہاؤسسز میں پہنچانے کے لئے اور ملت کو سیاسی طور پر طاقتور بنانے کیلئے اپنے انتخابی نشان ((خیمہ)) پر مہر لگائیں5- تکفیریت کا راستہ روکنے کے لئے اور محب وطن قوتوں کو پارلیمنٹ تک پہنچانے کے لئے جس جس علاقے میں آزاد امیدواروں اور مختلف اتحادیوں نے ہماری با بصیرت لیڈرشپ سے  انتخابی الائنس کا اعلان کیا ہے وہاں پر (( گھڑا ، گھوڑا )) یا جو بھی انتخابی نشان ہے اس پر مہر لگائیں.


 پاکستان زندہ باد              وطن عزیز پائندہ باد

تحریر:  ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

وحدت نیوز(لاہور) قومی انتخابات 2018کے بعد پنجاب اسمبلی کا پہلا باظابطہ اجلاس منعقد ہواگیا جس میں پنجاب اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے حلف اٹھا لیاہے، مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی رہنما ، شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒکی دختر محترمہ سیدہ زہرا نقوی نے بھی پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کی مخصوص نشست پر حلف اٹھالیاہے، تفصیلات کے مطابق ایم ڈبلیوایم اور پی ٹی آئی کے درمیان حالیہ قومی انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں ایم ڈبلیوایم شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری جنرل محترمہ سیدہ زہرانقوی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر خواتین کی مخصوص نشست پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوگئی ہیں، پنجاب اسمبلی کے پہلے اجلاس میں محترمہ سیدہ زہرانقوی نے بھی اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے، واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی کل 66مخصوص نشستیں ہیں جس میں نے 33پاکستان تحریک انصاف نے حاصل کی ہیں ۔

اس موقع پرمحترمہ سیدہ زہرانقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہاکہ میراہدف خواتین کے حقوق کے لئے ایوان میں آواز بلند کرنا ہے،پاکستان کو قائد واقبال کے خوابوں کے مطابق اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے قانون سازی میں اپنا کرادر اداکرنا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ خواتین تیاری بہترین ملبوسات زیب تن کرنا اور میچنگ کو قراردیتی ہیں لیکن میں نے تیاری آئین پاکستان اور خواتین کے حقوق کے لئے تاریخی جدوجہد کے مطالعے کو قرار دیا، انشاءاللہ خواتین کے حقوق کیلئے آئین پاکستان کے مطابق قوانین کے نفاذ کیلئے اپنا کراداکروں گی۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کو عملی انداز میں انجام تک پہنچایا،پی ٹی آئی کے نامزد امیدواروں کی کامیابی میں ایم ڈبلیوایم نے مخلصانہ کردار اداکیا، پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیوایم کے درمیان تعلقات وقتی نہیں دیر پا ہیں ، مستقبل میں بھی کراچی کی تعمیر وترقی میں ایم ڈبلیوایم کا تعاون چاہتے ہیں، ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور حلقہ پی ایس 111 سے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی عمران اسماعیل نے مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مبشر حسن سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

عمران اسماعیل نے مزیدکہا کہپی ٹی آئی کی کامیابی میں ایم ڈبلیوایم کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایم ڈبلیوایم نے نا فقط حالیہ قومی انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد میں بھرپور کرداراداکیا بلکہ گذشتہ این اے 246کے ضمنی انتخاب میں بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر میری بھرپور حمایت کی تھی اور انتخابی مہم میں بھی عملی کردار اداکیا تھا جسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا ، اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ مبشر حسن نے عمران اسماعیل کو سندھ اسمبلی کی نشست پر شاندار کامیابی پر مبارک باد پیش کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایم ڈبلیوایم اور پی ٹی آئی آئندہ بھی ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی کیلئے ملک کر جدوجہد کریں گے ۔

وحدت نیوز(گلگت) پاکستان تحریک انصاف کو انتخابات میں بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔امید ہے عوامی امنگوں کے مطابق ملک کو کرپٹ مافیا سے نجات دلواکر ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے۔پیپلز پارٹی ،نواز لیگ اور دیگر جماعتوں کا اتحاد ملکی استحکام کو کمزور کرنے کیلئے تشکیل پایا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما شیخ نیئر عباس مصطفوی نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت سے امید کی کرن نمودار ہوئی ہے۔چاروں صوبوں کے عوام نے بطور نجات دہندہ تحریک انصاف کا انتخاب کیا ہے اور عوامی مینڈیٹ حاصل ہونے کے بعد ان کی ذمہ داریاں بڑھ گئیں ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے وعدوں پر کس حد تک قائم رہتی ہے۔مرکز میں نواز ،زرداری اتحاد سے ثابت ہورہا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں جو اقتدار میں ہوتے ہیں تو لوٹ مار کرتے ہیں اور اپوزیشن میں ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہیں۔چونکہ ان کے مفادات ایک ہیں لہٰذا جب عوام نے ان کے اقتدار کے خواب چکناچور کردیے تو یہ دونوں جماعتیں ساتھ مل گئیں ہیں۔

انہوں نے چھلمس داس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نومل کے عوام کے ساتھ دشمنی پر اتر آئی ہے چھلمس داس پر حکومت بدنیتی کا مظاہرہ کرکے نومل کے عوام کو چھلمس داس سے دور رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ماضی میں حکومت کی خواہش پر عمائدین نومل اور سرکار کے مابین ایک معاہدے کے تحت سولہ سو کنال اراضی قراقرم یونیورسٹی کیلئے مختص کیا گیا لیکن تاحال اس معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی کا کام رکا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ چھلمس داس نومل کے عوام کی ملکیت ہے  اور حکومت کو چھلمس داس کی بندربانٹ کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔



Page 1 of 9

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree