وحدت نیوز (اسلام آباد) محرم الحرام کا چاند نظرآتے ہی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے ملک بھر میں قائم عزاداری سیل نے عزاداری ، عزاداراور عزاخانوں کی خدمت کیلئےکمر کس لی، مرکزی عزاداری سیل اور تمام صوبائی اور ضلعی عزاداری سیل میں شامل رہنماشب وروز کوشاں رہے، وحدت یوتھ کے رضا کارپورے ملک میں عشرہ محرم الحرام خصوصاًروز عاشوراجلوس ہائے عزا میں سکیورٹی کے فرائض انجام دیتے رہے، ایم ڈبلیوایم کے فلاحی شعبے خیر العمل ویلفیئر اینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کی جانب سے ملک کے مختلف شہرو ں میں سبیلوں کا اہتمام کیا گیا اور عزاداروں میں نیاز تقسیم کی گئی، جبکہ عزاداروں اور ماتم داروں کو ابتدائی طبی امداد دینے کیلئے میڈیکل کیمپس کا بھی اہتمام کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے قائم کردہ عزاداری سیل نے علامہ عبدالخالق اسدی کی سربراہی میں ملک بھر میں جلوس ہائے عزا اور مجالس میں انتظامی وسکیورٹی امور میں معاونت کیلئے تمام صوبوں میں بھرپور فعالیت انجام دی، سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایم ڈبلیوایم کے اراکین عزاداری سیل نے ضلعی سطح تک سول اور عسکری انتظامیہ سے مضبوط روابط کے زریعے عزاداری سید الشہداء میں درپیش مشکلات اور رکاوٹوں کوبروقت دور کرنے میں موثر کردار ادا کیا۔

کراچی میں علی حسین نقوی نے پولیس، رینجرز اور سندھ حکومت کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھ کر مختلف اضلاع میں بلدیاتی اور سکیورٹی مسائل کی نشاندہی کی انتظامیہ نے فوری ردعمل دکھایا۔وحدت یوتھ کے رضاکاروں نے ملک کے مختلف شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں محدود وسائل کے باوجود بہترین خدمات انجام دیں، وحدت یوتھ کے رضاکاروں نے مرکزی مجالس اور جلوس ہائے عزا میں سکیورٹی کے بہترین انتظامات کیئے اور پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی مکمل معاونت کی، مرکزی سیکریٹری وحدت یوتھ ڈاکٹر یونس حیدری کے مطابق ملک بھر میں پانچ ہزار سے زائد یوتھ نے عزاداری کے اجتماعات میں سکیورٹی کے فرائض انجام دیئے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے فلاحی شعبے خیر العمل ویلفیئر اینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ نے بھی عشرہ محرم الحرام اور عاشورہ کے موقع پر عزاداروں کی بھرپور خدمت جاری رکھی، کراچی ، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، گلگت بلتستان، مظفرآباد سمیت مختلف شہروں میں شربت او ر پانی کی سبیلیں لگائی گئیں اور نیاز امام حسین ؑ کثیرتعداد میں عزاداروں میں تقسیم کی گئی، ساتھ ہی عزاداروں اور ماتم داروں کو فوری ابتدائی طبی امداد دینے کیلئے خیر العمل ویلفیئر اینڈ ڈیولپمنٹ ٹرسٹ کی جانب سے مختلف شہروں کے مرکزی جلوسوں میں میڈیکل اور فرسٹ ایڈ کیمپس کا بھی انتظام کیا گیا، کراچی میں برآمد ہونے والے نو اور دس محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں خیر العمل ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ایک بڑی سبیل کا اہتمام کیا گیا تھا جہاں سےہزاروں  عزاداروں میں نیاز بھی تقسیم کی گئی۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ عزاداری کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ محرم الحرام کے دوران عزاداری اور عزاداروں کو مکمل سیکورٹی کی فراہمی کے لئے تمام تر انتظامات مکمل کرائے جائے گئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وحدت ہاو¿س کراچی میں اپنی زیر صدارت منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میںمحرم الحرام کے دوران کراچی میں منعقد ہونے والے عزاداری، مجالس اور جلوسوں کے پروگرامز کو حتمی شکل دے دی گئی اور ایک عزاداری سیل بھی قائم کردیا گیا ہے، جس کے انچارج علی حسین نقوی کو نامزد کیا گیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اس سال کراچی میں ہونے والی تمام مجالس، عزاداری اور جلوسوں کو مکمل سیکورٹی کی فراہمی کے لئے مجلس وحدت المسلمین نے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے اس کے علاوہ محرم الحرام کے دوران صفائی ستھرائی اور دیگر تمام انتطامات کو بھی مکمل کریا جائے گا۔ انہوں نے عزاداری سیل کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ علی حسین نقوی کی قیادت میں بننے والے سیل میں میر تقی ظفر ،علامہ مبشر حسن میثم عابدی ،زین رضا کو بحثیت ارکان شامل کیا گیا ہے۔ یہ سیل محرم الحرام کے دوران شہر میں ہونے والی تمام مجالس، جلوس اور عزاداریوں کی سیکورٹی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کی صفائی اور دیگر انتطامات کو مکمل کریں گے اور درپیش مشکلات کا ازالہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری کے خلاف کسی بھی سازش کو اب اس شہر کے شیعہ اور سنی بھائی مل کر ناکام بنائیں گے ۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) ہر منصف مزاج انسان نے امام حسینؑ کی تعریف و تمجید کی ہے، آپ کے قیام  کوانسانیت کی بہترین خدمت قرار دیا ہے،آپ کے حق پر ہونے کی سبھی نے تائید کی ہے۔ہم یہاں صرف غیر مسلم دانشوروں اور تاریخ نویسوں کے اقوال کو نقل کرنے پر اکتفاء کریں گے: (Urgel Babry) کا کہنا ہے: واقعہ کربلا نےحسینؑ اور علیؑ کے حامیوں کے دلوں میں خوف طاری کرنے کی بجائے ان کے شیعوں کی شجاعت میں اضافہ کیا اوروہ ان کے خون کا انتقام لینے پر تلے آئے۔

جرمن مستشرق (Brockelmann, Carl) کا کہنا ہے: حسینؑ کی شہادت سیاسی اثرات کے علاوہ مکتب تشیع کی مضبوطی اور ترویج کا بھی سبب بنی، یوں  یہ مذہب عرب کے ہونے کے  بجائے ان کے خلاف ایک مرکز بن کر ابھرے۔

برطانوی مورخ اور دانشور (Brown, Edward) کا کہنا ہے: میری نظر میں واقعہ کربلا سے پہلے شیعوں یا  علیؑ کے طرفداروں کے درمیان اتنی  شجاعت اور ایثار پایا نہیں جاتا تھا، لیکن واقعہ کربلا کے بعد حالت بالکل بدل گئی، سرزمین  کربلا کا تذکرہ، جسے فرزند پیغمبر کے خون سے رنگین کیا گیا، ساتھ ہی  فرزند پیغمبر  کی پیاس کی شدت کی یاد اور صحرائے کربلا میں بکھرے پڑے ان کے اصحاب و اقرباء کی لاشوں کی یاد  ایک بےحس شخص کے اندر بھی ولولہ  پیدا کرنے، مردہ ضمیروں  کو  جھنجوڑنے،  اس کے بعد ہر قسم کی مشکلات اور خطرات کو مول لینے اور جان  کی بازی لگانے کے لیے آمادہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

(Tvndvl, Bvrshv Tamdas)کا کہنا ہے: حسینؑ کی شہادت نے بچپنے میں ہی مجھ پر عمیق اثرات مرتب کئے اور مجھے محزون کیا۔ میں اس عظیم تاریخی سانحے کے واقع ہونے کی اہمیت سے واقف ہوں، دنیا میں امام حسینؑ جیسوں کی فداکاریوں نے انسانیت کو فروغ بخشا ہے، ایسے سانحوں کی یاد ہر وقت زندہ رہنا چاہیئے اور اس کی یاد ہمیں تازہ کرتے رہنا چاہیئے۔

برطانوی فلاسفر اور مورخ (Toynbee, Arnold Joseph) کا کہنا ہے: معاویہ کا تعلق قریش کے ایک مقتدر خاندان سے تھا، حضرت علیؑ اس کی ریاکارانہ سیاست سے مقابلہ نہ کرسکے، درنتیجہ آپ اور آپ  کے صاحبزادے اور رسول کے نواسے کو مظلومانہ شہید کیا گیا۔ انقلاب ہندوستان کے عظیم لیڈر مہاتما گاندھی کا کہنا ہے، میں نے اسلام کے عظیم شہید امام حسینؑ کی زندگی کا گہرا مطالعہ کیا ہے، میں نے کتاب کربلا کے مختلف صفحات پر غور کیا تو میں مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اگر ہندوستان کو ایک فاتح ملک بنانا ہے تو ہمیں امام حسینؑ کو اپنے لیے نمونہ عمل  قرار دینا ہوگا۔

فرانس سے تعلق رکھنے والے انیسویں قرن کے دائرۃ المعارف کےمؤلف (Madame, English) کا کہنا ہے: امام حسینؑ کی مظلومیت پر مسلمانوں کی سب سے بڑی دلیل آپؑ کا اپنے دودھ پیتے بچوں کو قربان کرنا ہے، تاریخ میں ایسی مثال  کہیں نہیں ملتی کہ کوئی شخص دودھ پیتے بچے کو پانی پلانے لایاہو اور سرکش قوم نے اسے پانی کی جگہ تیر سے سیراب کیا ہو، دشمن کے اس کام نے حسینؑ کی مظلومیت کو ثابت کیا، آپ نے اسی مظلومیت کی طاقت سے،  طاقت سے لیس بنی امیہ کی عزت کو خاک میں ملاکر انھیں بدنام زمانہ بنا دیا۔ آپ ؑ اور آپ کی اہل بیت ؑ کی عظیم قربانی نے دین محمدی میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اگرچہ ہمارے پادری بھی حضرت مسیح کے مصائب کا تذکرہ کرکے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، لیکن جو جوش و خروش حسینؑ کے پیروکاروں میں پایا جاتا ہے مسیحؑ کے پیروکاروں میں نہیں پایا جائے گا، کیونکہ مسیحؑ کے مصائب حسینؑ کے مصائب کے مقابلے میں بہت بڑے پہاڑ کے مقابلے میں ایک تنکے کے برابر ہے۔

مشہور انگریز تاریخ نویس (Gibbon) کا کہنا ہے: واقعہ کربلا کو رونما ہوئے کافی وقت گزرچکا، ساتھ ہی ہم نہ  ان کے ہم وطن ہیں، اس کے باوجود وہ مشکلات اور مشقتیں کہ  جن کو حضرت حسینؑ نے تحمل کیا، یہ سنگ دل قاری کے احساسات کو بھی ابھارتا ہے اور آپؑ سے ایک خاص قسم کی محبت اور ہمدردی ان کے دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے۔

(Pvrshv Tamlas Tvndvn) کا کہنا ہے: میں اس عظیم تاریخی واقعے کے واقع ہونے کی اہمیت سے واقف ہوں، امام حسینؑ کی فداکاری اور شہادت نے انسانی افکار کو ارتقاء بخشا ہے، اس واقعے کو ہمیشہ زندہ رہنا چاہیئے اور اس کی یاد آوری بھی ہوتی رہنی چاہیئے۔

جرمن سے تعلق رکھنے والے(Marbin) کا کہنا ہے: عقل و خرد  رکھنے والے افراد اگر عمیق نظر سے اس دور کی وضعیت و احوال ،  بنی امیہ کے اہداف،  ان کی حکومت کی حالت اور حق و حقیقت سے ان کی دشمنی پر نظر دوڑائیں تو خود بخود وہ تصدیق کریں گے  کہ حسینؑ نے اپنے عزیز ترین افراد کو قربان کرکے اوراپنی مظلومیت اور حقانیت کو ثابت کرکے دنیا والوں کو فداکاری اور شجاعت سکھادیا ہے۔ ساتھ ہی آپ نے  اسلام اور مسلمانوں کے نام ایک نئی تاریخ رقم کرکے  انھیں ایک عالمی شہرت عطا کردی ہے۔

مشہور برطانوی مستشرق (Browne) کا کہنا ہے: کیا کسی ایسے دل کا پانا ممکن ہے کہ جس کے سامنے واقعہ کربلا کا تذکرہ ہو لیکن اس کے باوجود وہ دل غم سے نڈھال نہ ہو، اس اسلامی جنگ نے جو روح کو پاکیزگی عطا کی ہے اس سے  غیر مسلم بھی انکار نہیں کرسکتے۔

(Fryshlr) کا کہنا ہے: حسینؑ کی شہادت بھی دوسرے حوادث میں مرنے والوں کی مانند تھا لیکن یہ حادثہ ایک استثنائی حادثہ تھا، چودہ قرن گزرنے کے باوجود بھی ایک غیرجانبدار مورخ اس حادثے کو ایک طویل و عریض پہاڑ کی مانند دیکھتا ہے، اس کے مقابلے میں دوسرے حوادث اور جنگیں ایسی دبی ہیں کہ آنکھیں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔

امریکی مورخ (Ironic Wshington) قیام امام حسینؑ کے حوالے سے رقمطراز ہیں: امام حسینؑ یزید کے سامنے سرتسلیم خم ہوکر اپنے آپ کو نجات دلا سکتے تھے، لیکن اسلام کے پیشوا  ہونے کے ناطے یہ ذمہ داری آپ کو اجازت نہیں دیتی تھی کہ آپ یزید کو خلیفہ کے طور پر قبول کریں۔ آپ نے اسلام کو بنی امیہ کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ہر قسم کی سختیوں اور مشکلات کو سینے سے لگالیا۔ عرب کے خاردار ریتلے صحرا میں تیز دھوپ کے سائے میں حسینؑ کی روح لازوال ہو گئی۔

جرمن دانشور(Monsieur Marbin) کا کہنا ہے: حسینؑ وہ منفرد شخصیت ہیں جنہوں نے 14 قرن پہلے ظالم و جابر حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ وہ مورد جسے ہم نادیدہ قرار نہیں دے سکتے یہ ہے کہ حسینؑ وہ سب سے پہلی شخصیت ہیں کہ جن کی مانند آج تک کوئی ایسی مؤثر ترین سیاست انجام نہ دے سکے۔ ہم دعوے کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ بشریت میں کوئی بھی آپ جیسی فداکاری کا نہ آج تک مظاہرہ کرسکا ہے اور نہ کبھی  کرسکے گا۔ ابھی اسراء حسینی دربار یزید پہنچنے بھی نہیں پائے تھےکہ اتنے میں  انتقام خون حسین کی تحریک شروع ہوگئی،  آہستہ آہستہ یزید کے خلاف  اس تحریک میں شدت آتی گئی،  یوں یہ ایک بہت بڑی تحریک کی صورت اختیار کرگئی، جس سے حسینؑ کی مظلومیت اور آپ کی حقانیت سب پر ثابت ہوگئی، ساتھ ہی اس سے  یزید اور بنو امیہ کی باطنی خباثت اور ان کی جنایتوں  کا پردہ چاک ہوگیا۔(Thomas Carlyle) کا کہنا ہے: سانحہ کربلا سے جو بہترین درس لے سکتا ہے وہ یہ ہے کہ حسینؑ اور آپ کے اصحاب خدا پر مضبوط ایمان رکھتے تھے،آپ لوگوں نے اپنے عمل سے اس حقیقت  کو ثابت کردیا کہ حق و باطل کے معرکے میں افراد کی تعداد اہمیت کے حامل نہیں، حسینؑ نے اپنے کم اصحاب کے ذریعے جو کامیابی حاصل کی وہ میرے لیے حیرت کا باعث ہے۔مشہور تاریخ دان (Gibbon) کا کہنا ہے: آنے والی صدیوں میں مختلف ممالک میں واقعہ کربلا کی منظر کشی اورحسینؑ کی شہادت کی وضاحت سنگ دل ترین قارئین کے دلوں کو موم بنانے کا سبب بنےگی۔(Frederick James) کا کہنا ہے: امام حسین اور ہر پہلوان شہید کا بشریت کے لیے پیغام یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ باقی رہنے والی عدالت، رحم وکرم، محبت و سخاوت جیسے ناقابل تغییر اصول موجود ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ جب بھی کوئی ان ابدی اصولوں کے لیے مقاومت دکھائے اور استقامت کا مظاہرہ کرے تب ایسے اصول ہمیشہ دنیا میں باقی رہیں گے اور ان میں پائیداری آجائے گی" آج بھی دنیا کی موجودہ یزیدیت کو سرنگون کرنے کے لیے کردار حسینی کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی تمام مشکلات کا بنیادی سبب پیغام حسینی سے دوری اختیار کرکے یزید صفت استعماری طاقتوں کے سائے میں پناہ لینا ہے۔حسینی کردار کے حامل افراد اگر پیدا ہوجائیں تو معاشرے میں موجود تمام یزیدی افکار کو سرنگون کرکے حسینی افکار کو زندہ کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ امام حسینؑ کا بنیادی ہدف معاشرے میں امربہ معروف اور نہی از منکر کو عام کرنا، اپنے جدامجد کی امت کی اصلاح کرنااور ظالموں سے مقابلہ کرکے مظلوموں کو ان کا حق دلانا ہے۔آپ نے ظالموں کے ساتھ زندہ رہنے کو اپنےلیے ننگ و عار اوران کو سرکوب کرنے کی راہ میں شہادت پانے کو اپنے لیے سعادت قرار دیا۔ یوں آپ نے ہر قسم کی طاقتوں سے آراستہ یزیدیت کو کربلا کی سرزمین میں دفن کرکے حسینیت کو تاقیام قیامت دوام بخشا۔ساتھ ہی حق و باطل کے درمیان آپ نے ایسی دیوار کھڑی کردی جسے ہزاروں یزیدی صفت افراد بھی آج تک نہ گراسکے ہیں  اور نہ ہی قیامت تک گراسکیں گے۔ یہ سب کچھ کربلا کی لق دق صحرا میں آپ کی بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
حوالہ جات:
1.    asps.19-post/com.blogfa.ahmogiss
2.    50774/fa/article/jamhornews.com/doc
3.    ir.post erfind.mind-royal
 

تحریر۔۔۔۔۔سید محمد علی شاہ حسینی

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تبلیغات علامہ اعجاز حسین بہشتی نے کہا ہے کہ کربلا سمجھنے سے پہلے نبی اکرم کی پہچان ضروری ہے، حسین شناسی سے پہلے نبی کی پہچان ضروری ہے مقصد امام حسین اور مقصد کربلا وہی سمجھ سکتا ہے جو نبی کا فرماں بردار اور اُنہیں پہچانتا ہو۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے بہائوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں آئی ایس او کے زیراہتمام منعقدہ یوم حسین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ اعجاز بہشتی کا مزید کہنا تھا کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں انبیاء کے میثاق کو پورا کیا، آج جو مسلمان حضرت ابراہیم واسماعیل کی یاد بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں وہ سید الشہداء کی یاد کیوں نہیں مناتے۔ حضرت اسماعیل اپنے امتحان میں کامیاب ہوئے اور سلامت رہے لیکن کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے خانوادے، اصحاب وانصار کی قربانی دی اُن کی یاد سے روکنا دراصل انبیاء کی نہضت سے انحراف ہے۔ آج دنیا میں تفرقے، مشکلات، دہشت گردی اور دیگر مسائل کی وجہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام سے دوری کا نتیجہ ہے۔ امام حسین ع سے عشق و محبت صرف اہل اسلام اور پیروان اہلبیت تک محدود نہیں بلکہ باضمیراور آزادی و حریت کے عاشق نیز ظلم و نا انصافی کے خلاف آواز بلند کرنے والے بھی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک (وحدت نیوز)  دنیا کی کوئی طاقت ہمیں عزاداری امام حسین (ع) سے نہیں روک سکتی، شہادت کا جذبہ یہ عشق یہ عزاداری سب کچھ اسی طرح جاری رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے شب عاشور کی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید حسن نصر اللہ نے مجلس سے اپنے خطاب کا آغاز زیارت امام حسین (ع) کے چند جملوں اور السلام علیک یا اباعبداللہ الحسین سے کیا۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں عزادار قائد مقاومت کا خطاب سننے کیلئے موجود تھی۔ اپنے خطاب میں سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ہمارا عاشورہ کا دن گذشتہ تمام عاشورہ کے دنوں سے مختلف ہوگا، میں واضح کردوں کہ شدید خطرات موجود ہیں لیکن ہمیں کوئی بھی کسی بھی قسم کے خطرات، کسی بھی قسم کے دھماکے، کوئی بارود سے بھری گاڑی بھی ہم میں اور ہمارے مولا حسین (ع) کے درمیان روکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ قائد مقاومت کا کہنا تھا کہ میں یہ کہہ دوں اے میرے مولاحسین (ع) وہ زندگی زندگی ہی نہیں جو تیرے لئے نہ ہو، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں تیری عزداری سے نہیں روک سکتی، ہم آپ پر ہزار بار فدا ہوں قربان ہوں اے میرے مولا و آقا حسین (ع)۔

 

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ عراق میں مسلسل جلوس پر حملے ہورہے ہیں لیکن کیا یہ حملے ان جلوسوں کو روک سکے ہیں؟ پاکستان سے لے کر افغانستان تک اور پوری دنیا میں حسینیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن دنیا جان لے کہ کوئی چیز ہم میں اور عشق حسین (ع) میں روکاوٹ نہیں بن سکتی، یہ شہادت کا جذبہ یہ عشق یہ عزاداری سب کچھ اسی طرح جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں ان تمام لوگوں کو جو اس وقت اس انتظار میں ہیں کہ شام میں شدت پسند جیت جائیں گے تو پھر ہم یہ کرینگے وہ کرینگے بتانا چاہتا ہوں کہ یاد رکھو شام میں شدت پسند کبھی بھی نہیں جیت سکتے۔

khushi rajanasirوحدت نیوز (اسلام آباد) سید شہداءحضرت امام حسین(ع) وہ ہستی ہیں جو وجہ تخلیق کائنات ہیں ، امام حسین (ع) خداوند متعال کی آرزو¿ ں کی تکمیل کا نام ہے ، امام حسین (ع) خدا کی عبادتوں کی بقاءکا نام ہے ، اورابولفضل العباس(ع)امام حسین(ع) کے سچے اور با وفا پیرو کا،مطیع و فرمانبردار کا نام ہے،آج دین مبین اسلام تقاضہ کر تا ہے کہ کوئی اٹھے اوراس دین کی بقاءاورسلامتی کے لیئے اپنا حسینی کردارادا کرے ۔ ان خیالات کا اظہارمجلس و حدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ماہ انوار شعبان اور یوم ولادت امام حسین(ع) اورمولا ابولفضل العباس(ع) کی مناسبت سے وحد ت ہاﺅس اسلام آباد سے جاری اپنے تہنیتی پیغام میں کیا ۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ماہ شعبان خدا کی جانب بلانے والا مہینہ ہے ،مخصوص عبادات و مناجات اس ماہ کا خاصہ ہیں ، اس ماہ میں پرودگار عالم نے عالم بشریت کے لئے انمول نعمتیں آئمہ معصومین (ع)کی صورت میں عطا کیں ، اہل بیت (ع) کی مقدس ہستیوں کی ولادت نے اس ماہ کے ہر دن کو باعث برکت بنا دیا ۔ غرض اس ماہ کا آغاز ہو یا انجام سراپا رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ امام حسین (ع )اورفقیہ زمان شہنشاہ وفا مولا عباس (ع) کی ولادت کے خوبصورت ایام بھی پر وردگا رعالم نے ہمیں اسی ماہ مبارک میں عطا کیئے ہیں ، ہمیں چاہیئے کہ ان ایام میں امام حسین (ع ) اور حضرت عباس علمدار(ع )کی سیرت کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو استور کر نے کی کوشش کریں ، اور اس عزم کا اعادہ کریں کہ جب بھی کبھی اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھوں دین مبین خطرے میں پڑے اور کوئی مثل حسین ابن علی ع ہمیں آواز استغاثہ دے تو ہم شہنشاہ وفا حضرت ابوالفضل العباس ع کی طرح میدان استقامت میں ڈٹ جائیں یہاں تک کے ہمارے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جا ئیں اور ہمارے جسم کی راکھ بنا کر ہوا میں ہی کیوں نہ اڑا دی جائے ، لیکن اپنے امام کو تنہا نہ چھوڑیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آ ج بھی عالم کفرو نفاق عالم اسلام کے قلب میں خنجر اتارنے کے درپہ ہے ، سیرت امام حسین ومولا عباس ہم سے تقاضہ کرتی ہے کہ ایمانی قوت اور تقویٰ الہیٰ کو اختیار کر تے ہو ئے ہم میدان شجاعت وشہادت میں قدم رکھیں ، اخلاص نیت اوراخلاص عمل ہمارے پیش نگاہ ہو پھر یہ ممکن ہی نہیں کہ خدا اور اس کے مقرب ملائکہ ہماری مدد اور نصرت کے لئے حاضر نا ہوں ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree