وحدت نیوز(بیروت) حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے امریکہ اور اور سعودی عرب کو داعش کا بانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کا مکمل خاتمہ قریب ہے۔ جنوبی بیروت میں اربعین حسینی کے موقع پر عزاداروں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب نے داعش کو بنایا تھا، تاہم اسلامی انسانی اقدار کے خلاف اتنی بڑی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شام میں داعش کی مکمل نابودی نزدیک ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ سعودی عرب نے سعد حریری کو ریاض بلا کر یرغمال بنا رکھا ہے اور انہیں استعفٰی دینے پر مجبور کیا گیا ہے اور یہ لبنان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے سعد حریری سے زبردستی استعفٰی دلوا کر نہ صرف لبنانی وزیراعظم بلکہ پوری لبنانی قومی کی توہین کی ہے۔

سید حسن نصراللہ نے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ سعودی عرب، اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لئے اکسا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سعودی عرب نے لبنان پر حملے کے عوض اسرائیل کو اربوں ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے صراحت کے ساتھ کہا کہ سن دو ہزار چھے میں بھی سعودی عرب کے کہنے پر اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ لبنان کی موجودہ صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نے اسی طرح اربعین مارچ کو بے مثال واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات قابل غور ہے کہ اس سال بھی کروڑوں افراد چہلم کے موقع پر کربلا آئے، جن میں ہر ملک اور ہر قوم سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

دیگر ذرائع کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے سعودی عرب پر لبنانی وزیرِاعظم سعد حریری کی گرفتاری اور اسرائیل کو حملہ کرنے پر اکسانے کا الزام عائد کر دیا۔

سید حسن نصر اللہ نے سعد حریری کے حوالے سے ان کے وزارت عظمٰی سے استعفٰی دینے کے فیصلے پر دوسرا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے وزیرِاعظم کو سعودی عرب نے قید کر رکھا ہے اور انہیں اب تک لبنان واپس جانے کی اجازت نہیں ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعد حریری کی صورتحال اب تک واضح نہیں، لیکن ان کو موصول ہونے والی ٹیلی فون کالز جن میں ان کے سیاسی مخالفین کی کالز بھی شامل ہیں، سے واضح ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے سبکدوش لبنانی وزیرِاعظم کی آزادانہ نقل و حمل پر پابندی ہے۔ لبنان کے 47 سالہ سعد حریری نے اچانک 4 نومبر کو لبنانی وزارتِ عظمٰی کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اتفاق سے اسی دوران سعودی عرب میں اعلٰی شخصیات کی گرفتاریوں کی مہم کا آغاز ہوگیا تھا، تاہم اب تک سعد حریری نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب سعودی عرب واپس لبنان پہنچیں گے، جہاں صدر میشال نعیم عون ان کا رسمی طور پر استعفٰی قبول کریں گے۔

گذشتہ روز (10 نومبر کو) لبنان میں موجود سعودی سفیر ولید بخاری سے ملاقات کے بعد لبنانی صدر میشال نعیم عون کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ سعد حریری کو لبنان واپس آنا چاہیے، لیکن انہوں نے لبنان کے وزیراعظم کی ریاض میں موجودہ حالت کا ذکر نہیں کیا۔ صدر میشال نعیم عون نے سعودی سفارت کار ولید بخاری سے ملاقات کے دوران ان حالات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا تھا کہ جن کی وجہ سے سعد حریری کا استعفٰی قابلِ قبول نہیں۔ لبنانی صدر جن کی سیاسی حمایتی جماعت حزب اللہ جو سعودی عرب کی شدید مخالت ہے، سعد حریری کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور سعودی حکومت سے ان کے حوالے سے وضاحت بھی طلب کی۔ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلر سن نے سعد حریری کو اپنا ساتھی قرار دیتے ہوئے لبنان کے اندرونی اور بیرونی حلقوں کو لبنان کی سرزمین کو پراکسی وار کے طور پر استعمال نہ کرنے کے لئے خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، لبنان کی خود مختاری، آزادی اور سیاسی اداروں کی مکمل حمایت کرتا ہے جبکہ لبنانی کی خود مختادی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی عمل کی مخالفت کرتا ہے۔

لبنان اور سعودی عرب سے گہرے تعلقات رکھنے والے فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے 9 نومبر کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا اچانک دورہ کیا۔ فرانس کی وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی ریڈیو پر بتایا کہ انہیں لگتا ہے کہ سعد حریری کی نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں، تاہم اس حوالے سے لبنانی سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ انہیں نظر سعودی عرب میں نظر بند کر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سعد حریری فرانسییسی صدر کے دورہ یو اے ای سے قبل ابوظہبی میں موجود تھے، جس سے ہمیں لگتا ہے کو وہ آزاد ہیں۔ سعودی عرب سے موصول ہونے والی مبینہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو لبنان پر حملے کے لئے اکسانا انتہائی خطر ناک عمل ہے۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے لبنان میں دوسری عالمی علماء کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں غاصب صیہونی حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزاحمتی تحریک کی عالمی علماء یونین کے سربراہ شیخ ماہر حمود کے نام اپنے پیغام میں اسرائیل کے خلاف جدوجہد اور جہاد پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی آزادی اور نجات کے مقدس جہاد کے سلسلے میں اللہ تعالٰی کا وعدہ قطعی اور یقینی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ فلسطین کی آزادی اور نجات کے سلسلے میں اسلامی ممالک کے علماء، دانشوروں اور سیاستدانوں پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس مقدس جہاد میں اسلام اور مسلمانوں کی فتح یقینی ہے اور آج علماء اور دانشوروں کی کانفرنس اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ لبنان میں دوسری عالمی علماء کانفرنس بیروت میں فلسطین کے عنوان سے آج شروع ہوئی، جو کل تک جاری رہے گی۔ شیخ ماہر حمود نے کہا ہے کہ مزاحمتی تحریک کی عالمی علماء یونین کی کانفرنس بالفور اعلامیے کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر منعقد ہو رہی ہے اور اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ فلسطین علاقے کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ واضح رہے کہ بالفور اعلامیہ یا ڈکلیریشن  1917ء میں اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ آرٹر جیمز بالفور نے صیہونی سیاستدان اور برطانوی رکن پارلیمنٹ والٹرروٹشیلڈ کو خطاب کرتے ہوئے جاری کیا تھا۔ جس میں سرزمین فلسطین میں اسرائیلیوں کو بسانے کی بات کی گئی تھی اور یہ اعلامیہ قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کی تشکیل کا نقطہ آغاز شمار ہوتا ہے۔

وحدت نیوز(ہری پور)مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقبال بہشتی نے کہاہے کہ ایٹمی قوت ہونے اور مخصوص جغرافیائی محل وقوع کے پیش نظر عالمی صیہونی طاقتیں پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیںاگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو دشمن ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھائے گا مجلس وحدت مسلمین کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بطور احتجاج کراچی سے جیل بھرو تحریک کا آغاز کردیا گیاہے جسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اس میں ہمیں دیگر جماعتوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے ان خیالات کا اظہار انھوںنے گذشتہ روز ہر ی پورکے مقامی ہوٹل میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ وحید عباس کاظمی ضلعی جنرل سیکرٹری محمد اسحاق حیدری و دیگر قائدین بھی موجود تھے اقبال بہشتی نے کہا کہ قیام پاکستان میں شیعہ سنی دونوں کی قربانیاں اور خون شامل ہے لیکن ستر یا اسی کی دہائی میں حالات تبدیل ہوئے اور ہماری اپنی ہی حکومتیں ملکی سلامتی کے مفاد کے خلاف عالمی قوتوںخصوصا امریکہ کی آلہ کار بن گئیں جس سے فرقہ واریت مذہبی انتہا پسندی اور کشیدگی نے جنم لیا اور اس موقع سے دشمنوں نے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا ہم تو شروع دن سے اس کا رونا روتے رہے ہیں لیکن ہماری بات کسی نے نہ سنی اور آج پوری دنیا تسلیم کرچکی ہے کہ نوے کی دہائی میں طالبان ،2000ء میں القاعدہ 2010میں داعش کی تشکیل میں عالمی دہشت گرد امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے پہلے ان دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے عراق ایران افغانستان یمن کے امن وامان کو تہس نہس کیاگیا اب دشمن کی نظریںبیس کروڑ مسلمانوں کے ملک ایٹمی قوت پاکستان پر ہیں اسی مقصد کے لیے افغانستان کے علاقہ تورا بورا کو داعش کا گڑھ بنا کر جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان تک ہر طرح کا سامان پہنچایا جارہاہے وہاں طالبان کو تباہ کرنا بھی داعش کے لیے راہ ہموار کرنا ہے موجودہ صورت حال میں ہمیں شدید خطرات لاحق ہیں اس تناظر میں شیعہ سنی مسئلہ نہیں بلکہ ملک میں ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضا ء کی ضرورت ہے لیکن ہماری مقتدر قوتیں اور چھپی کالی بھیڑیں اپنے متعصبانہ اور جانبدارانہ رویہ کی وجہ سے حالات مزید خراب کرنے میں مصروف ہیں اور شیعہ سنی کے مسئلے پید اکیے جارہے ہیں ملکی وحدت کی علامت سمجھی جانے والی مجلس وحدت مسلمین کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے اور اس کے مقابلے میں ایک ایسی کالعدم تنظیم جس کابیس کیمپ انڈیا میں موجود ہے اور وہاں پاکستان کے پرچم نظر آتش کرنے کے واقعات ہوچکے ہیں اورا س تنظیم کے داعش سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطوں کے علاوہ دہشت گردی کے متعد د واقعات حتی کہ صحابہ کے مزارات پر حملوں اور سوات میں مردوں کو قبروں سے نکال کر انھیں پھانسی دینے جیسے شرمناک اقدامات بھی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں اور دوسری طرف ہم سنی اتحاد کونسل امت مصطفی اور امن کی داعی دیگر جماعتوں کے تعاون سے نہ صرف اتحاد و اتفاق کا نعرہ بلند کررہے ہیں بلکہ قائداعظم اور علامہ محمد اقبال کے پاکستان کے لیے عملی جہدوجہد کررہے ہیں اس کے باوجود ہمارے بعض عاقبت نااندیشن توازن برقرار رکھتے ہوئے ہمارے لوگوں کوغیر قانونی طورپر گھروں سے اٹھا رہے ہیں جن پر کوئی مقدمہ ایف آئی آر یا کوئی جرم بھی نہیںابھی تک پورے ملک سے ہمارے ایک سو تیس لوگ غائب ہیں جن کا کوئی پتہ نہیںان کے گھر ماتم کدے بنے ہوئے ہیں ہمارے رابطے کرنے ،احتجاج ،بھوک ہڑتال کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو پھر ہم نے دیگر جماعتوں کے تعاون سے بطور احتجاج کراچی سے جیل بھرو تحریک کا آغاز کردیا ہے ہر جمعہ کو ہمارے علماء اور کارکن خود جاکر رضاکارانہ طورپر گرفتاری پیش کرتے ہیں اور یہ سلسلہ ہمارے خلاف جاری مساویانہ سلوک کے خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی تک جاری رہے گا اور اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو اس تحریک کا دائرہ پورے ملک تک بڑھائیں گے ۔

وحدت نیوز(قم المقدسہ) مرکزی سیکرٹری امور خارجہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے ایم ڈبلیوایم قم سیکریٹریٹ سے بیرون ممالک مقیم مجلس وحدت مسلمین کے کارکنان، ذمہ داران، سپوٹرزاور ملت جعفریہ کے تمام طبقات سے تعلق رکھنےوالے افراد کے نام پیغام میں کہاہے کہ گذشتہ چند سالوں سے حکومت پاکستان کے امنیتی اداروں نے بیلنس پالیسی کے تحت ماورائے آئین و عدالت مذھب اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاروں کے لئے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور اس وقت ہماری ملت کے درجنوں بیگناہ افراد لا پتہ اور گرفتار ہیں،مجاہد ملت علامہ سید حسن ظفر نقوی حفظہ اللہ نے اپنی ملت کے ان افراد کی رھائی کے لئے اپنی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے جراتمندانہ اقدام کیا ہے.  اور مظلوموں کے حق اور  اسیر و لاپتہ افراد کی رھائی اور بازیابی کی تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز اپنی گرفتاری کے اعلان کے ساتھ کیا ہے، ہم انکے خلوص وشجاعت ودلیری کو سلام پیش کرتے ہیں،اب ملت کے ہر غیرتمند فرد کی ذمہ داری ہے اور اس پر واجب ہے کہ وہ اس تحریک کی  کامیابی اور اسیران ملت کی رھائی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔

انہوں نے مزید کہا  کہ جیسے ماضی میں ملت پر آنے والے ہر مشکل وقت میں بیرون ملک مقیم ہماری غیرتمند ملت کے علماء کرام اور  ہر طبقہ کے خواتین وحضرات بالخصوص نوجوان میدان عمل میں حاضر نظر آئے اور اپنے موثر احتجاجی اقدامات سے بین الاقوامی اور پاکستانی میڈیا کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ظلم وناانصافی پر مبنی پالیسیوں اور فیصلوں  کو تبدیل کرنے کے لئے حکومت وقت پر پریشر ڈالا،  مظلوموں کے حق کی حمایت کی،ان شاء اللہ تعالیٰ اس مرحلے پر بھی بھر پورکردار ادا کریں،تاکہ یہ بیگناہ ہمارے بھائی جلد از جلد آزاد ہوں اور آپ ان گمشدہ اور بیگناہ گرفتار کئے جانے والے افراد کی دکھی اور غمزدہ ماؤں ،بہنوں اور بے سہارا بیوی بچوں کا سہارا بن کر انکی دعائیں حاصل کر سکیں،اور دنیا پر ثابت کریں کہ ہماری ملت کے یہ سپوت تنہا نہیں ، ہم وہ قوم ہیں جو اپنے بیگناہ افراد پر ظلم وزیادتی برداشت نہیں کرتے اور انہیں زندانوں میں نہیں رہنے دیں گے،امید ہے کہ آپ اپنی توانائی اور وسعت کے مطابق حسب سابق اس تحریک کی کامیابی میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔

وحدت نیوز(نصیر آباد) پچھپئی کھنیاں کی سڑک کا کام رکوانے پر پی ڈبلیو ڈی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، ناقص تعمیرات پر سڑک کا کام رکوانا احسن اقدام ہے،ا ن خیالات کا اظہار ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر مولانا سید طالب حسین ہمدانی نے پچھپئی کے ایک وفد سے ملاقات میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پچھپئی کھنیاں سڑک پر ٹھیکیدار ناقص میٹریل کے ساتھ ناقص تعمیرات کر رہا ہے تھا، عوام علاقہ کے مطالبے پر پی ڈبلیو ڈی نے کام رکوایا ، ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ عوامی مفاد کے لیے اسی طرح کے کام اداروں کی نیک نامی کا باعث بنتے ہیں ، ضروری امر ہے کہ ادارے اپنا کام اسی طریقے سے انجام دیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب کام کی نگرا نی کرتے ہوئے بہترین کام کروایا جائے ، سڑک کو عمدہ بناتے ہوئے عوام علاقہ کی سہولت مدنظر رکھتے ہوئے ناقص کام کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے، نئے ٹھیکیداران بہتر کام کریں ، عوام علاقہ بھی ان کا ساتھ دے گی ۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) آئی ایس ریلی پر آنسو گیس اور شیلنگ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ امریکہ مخالف ریلی تھی نہ سندھ حکومت کے خلاف کسی قسم کا احتجاج، امریکہ مردہ باد کہنے والوں کو مارنے والے امریکہ نواز ہو سکتے ہیں پاکستانی نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ترجمان مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر سید حمید نقوی نے اپنے ایک بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین سندھ حکومت کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ ہر ملک اور ہر شہر یہ شہری حق ہے کہ وہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں مگر سندھ حکومت نے پرامن شہریوں پر لاٹھی چارج کر کے تشدد کی بدترین مثال قائم کی ہے۔ ہر اس فعل کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ حکومت اپنے اس قدم پر پاکستان اور پاکستانی قوم سے معافی مانگیں ، اس لیے کہ پاکستان کے حق اور امریکہ خلاف مظاہرہ کیا گیا تھا نہ کہ زرداری، بلاول یا مراد علی شاہ کے خلاف۔

Page 1 of 18

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree