وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے  کوئٹہ میں سیکورٹی اہلکاروں پر حملے کی  پرزور مذمت اور6 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور 25سے زائد کے زخمی ہونے پر شدید افسوس کا اظہارکیا ہے ، مرکزی سیکریٹریٹ سے میڈیا کو جاری اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جانوں کے نقصان پر دلی رنجیدگی ہوئی ہے،پاکستان میں بد امنی پھیلانے والے عناصر قومی سلامتی اور سالمیت کے لیے مستقل خطرہ ہیں،کوئٹہ جیسے حساس شہر سے دہشت گردوں کی کمین گاہوں کا تدارک کرنے میں حکومتی ناکامی سوالیہ نشان ہے۔

ان کامذید کہنا تھاکہ کالعدم مذہبی جماعتوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف آپریشن کے بغیر ملک میں امن کی امید محض خواب ثابت ہو گی،بلوچستان میں موجود شر پسندوں کے تانے بانے ہمارے ازلی دشمن بھارت،امریکہ اور خلیجی ریاستوں سے ملتے ہیں،دہشت گردوں کی بزدلانہ کاروائیوں سے اس قوم کے عزم و حوصلوں کو پسپا نہیں کیا جا سکتا،استعماری قوتیں ہمیں خطے میں کمزور کرنے کے درپے ہیں،پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش دراصل پاک چائنا اکنامک کوریڈور کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام صاحبزادہ ابولخیرمحمد زبیر کی زیر صدارت منعقدہ   آزادی قدس قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین صوبہ خبیر پختونخواکے سیکریٹری جنرل علامہ محمد اقبال بہشتی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے بارے میں آگاہی کی ضرورت ہے، ہمیں جاننا چاہیے کہ وہ کون سے ممالک ہیں، جوبیت المقدس کیلئے فقط سیاسی بیان بازی کر رہے ہیں، درحقیقت ان کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں، انہوں نے کہا کہ قبلہ اول اور فلسطینی مظلوم عوام گذشتہ ستر سالوں سےصیہونی مظالم اور  عربوں  کی منافقت کا سامنا کررہے ہیں ۔ ہم مظلوم کی حمایت تو کرتے ہیں لیکن ظالم کا نام لینے سے ڈرتے ہیں۔ جب برطانیہ نے مسلمانوں کے سینے میں یہ خنجر گھونپا تو اس میں کچھ مسلمان بھی اس کے ساتھ تھے،اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ علی شیر انصاری، علامہ محمد حسین شیرازی بھی موجود تھے جبکہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زہیر ، علامہ عارف واحدی حافظ عبدالرحمن مکی، پروفیسر محمد ابراہیم ، میاں محمد اسلم ، سید ثاقب اکبر،پیر عبدالرحیم نقش بندی، قاضی نیاز حسین نقوی، علامہ ابتسام الہی ظہیر، مولانا سعید یوسف ،رضیت باللہ، راجا اصغر، نذیر جنجوعہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

وحدت نیوز(راولپنڈی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے خلاف راولپنڈی میں مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن راولپنڈی ڈویژن کے زیراہتمام کمرشل مارکیٹ سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے مری روڈ پر پہنچی، اس موقع پر شرکاء کی جانب سے امریکہ اوراسرائیل کیخلاف شدید احتجاج کیا گیا اور امریکی صدر کے اس فیصلے کو مسترد کیا گیا، احتجاجی ریلی سے مجلس وحدت مسلمین ضلع اسلام آباد کے سیکریٹری جنرل مولاناسید حسین شیرازی اور آئی ایس اوکے ڈویژنل صدر برادر طاہرنے خطاب کیا۔

مظاہرین سے خطاب میں رہنماوں کا کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا کہ امریکہ شیطان بزرگ ہے جو کسی اصول، ضابطے اور قانون کو تسلیم نہیں کرتا، بیت المقدس فلسطینیوں کا ہے اور فلسطین عالم اسلام کے دل میں رہتا ہے، امریکہ کے ناجائز بچے کا وقت ہر گزرتے دن کے ساتھ ہی کم ہورہا ہے اور یہ جعلی ریاست ایک دن اپنے انجام کو پہنچے گی۔ رہنماوں کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنا فیصلہ واپس لے ورنہ اسے عالم اسلام کی مزید نفرت لینا ہوگی۔

وحدت نیوز (ٹنڈو جام) ٹنڈو جام ضلع حیدر آباد میں جشن میلاد صادقین ؑ سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا ہے کہ سیدالانبیاء ﷺ نے انقلابی جدوجہد کے ذریعے عصر جاہلیت کے طاغوتی نظام کو بدلا، آپ ﷺنے قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں جو نظام قائم کیا وہ ہر دور کی انسانیت کے لئے اسوہ اور آئیڈیل ہے۔ اسلام کی انقلابی تعلیمات آج بھی عالم انسانیت کے جملہ مسائل کا حل ہیں ۔ امت مسلمہ، اسلامی تعلیمات سے دوری کے باعث زوال کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ عصر حاضر کا فرعون ہے، امریکہ اور اس کے حواری عالم انسانیت کے مجرم ہیں، جنہوں نے داعش سمیت تمام دھشت گرد گروہوں کو تشکیل دیا اور ان کی سرپرستی کی۔ پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سامراج اور ان کے ایجنٹوں کی لگائی گئی دھشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے، ہزاروں شہری، بہادر سپاہی اورپاک فوج کے جوان دھشت گردوں سے لڑتے ہوئے شہید ہورہے ہیں۔ امریکہ کے حالیہ فیصلے سے امریکہ کا اسلام دشمن کردارایک دفعہ پھر انتہائی کھل کر سامنے آگیا۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ فلسطین اور بیت المقدس کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی ہے، کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں پر جاری مظالم ناقابل برداشت ہیں۔ تقریب جشن میں ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکریٹری نشرواشاعت آغا ندیم جعفری، ضلعی سیکریٹری جنرل حیدر آباد رحمان رضا ایڈوکیٹ، ضلعی رہنما غلام رسول لاشاری، مولانا ادیب علی ، برادر رضی حیدرو دیگر شریک ہوئے۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) فلسطینی زرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ بعض عرب ممالک(سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،بحرین اور مصر) اب فلسطینی مسئلے کو وہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں جو سن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں دے رہے تھے اور نہ ہی ان ممالک کے لئے اسرائیل ایک غیر قانونی غاصب وجود رہا ہے بلکہ یہ ممالک اسرائیل کی جانب ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ جس کے ساتھ تعاون ہوسکتا ہے اور جس سے تعاون لیا جاسکتا ہے ۔

ان ممالک کا خیال ہے کہ انہیں اسرائیل کے حوالے سے مزید عملی (Pragmatic)اور حقیقت پسندانہ انداز سے سوچنا چاہیے ۔

انکا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی یہ حقیقت پسندی عرب رائے عامہ اور عربوں کی مجموعی سوچ کے دائرے کو پھلانگنا نہیں چاہتی اور زیادہ سے زیادہ وہ اس وقت اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے میں غیر جانب دارانہ کردار اپنانے کی کوشش کرے گی ۔

ظاہر ہے کہ عرب رائے عامہ کو پھلانگنے کا مطلب حکمرانوں کیخلاف عرب عوام کا ردعمل ہوگا جو ان کے اقتدار کے لئے خطرے کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔
ان عرب ممالک نے اسی نام نہاد حقیقت پسندانہ سوچ کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو نارملائزکرنے کی جانب قدم اٹھانا شروع کردیا ہے لیکن یہ ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو رائے عامہ کی ہمواری تک پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں جیسے کہ کسی برے عمل کی انجام دہی کے بعد اسے چھپانے کی کوشش کی جارہی ہوتی ہے یا پھر جیسے کہ ہر برا کام خفیہ و پوشیدہ انداز سے انجام دیا جاتا ہے ۔

 اسی سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے ’’مسئلہ فلسطین ‘‘کی رائج اصطلاح کی جگہ ’’اسرائیل عرب تنازعہ ‘‘کی اصطلاح کا استعمال کیا اور یہ اصطلاح تیزی کے ساتھ عرب مخصوص زرائع ابلاغ میں عام ہونے لگی یہاں تک کہ الحیات جیسے اخبار نے دس اکتوبر کو اپنے ایک مضمون میں ایک گام آگے جاتے ہوئے ’’اسرائیلی فلسطینی موضوع‘‘کی اصطلاح کا استعمال کیا ۔

اس مضمون سے بات واضح تھی کہ وہ اس سارے مسئلے کو دو اطراف کے درمیان جاری کشمکش اور جنگ و جدال کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں ۔

سات اکتوبر کو الشرق الاوسط اخبار میں ایک سعودی رائٹر نے 1973کی جنگ کے حوالے سے لکھا کہ ’’اس جنگ کے بعد اسرائیل نے مزید کسی قسم کی توسیع پسند جنگ نہیں کی ۔۔۔اسرائیل نے اس کے بعد جو بھی جنگیں کیں ہیں وہ سب دفاعی نوعیت کی تھیں خواہ وہ لبنان میں ہو جیسا کہ فلسطینی جماعت پی ایل او کیخلاف یا پھر حزب اللہ کیخلاف ۔۔‘‘ مضمون نگار نے بڑے ظالمانہ انداز سے یہ بھی لکھا کہ ’’جو کچھ اسرائیل نے غزہ میں کیا وہ صرف چند آپریشنز تھے ۔

عرب حکمران شروع سے ہی فلسطین کے مسئلے میں اس قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں انکے سیاسی بیانات اور ان کے عمل میں موجود تضاد واضح ہے۔

حال ہی میں استنبول میں ہونے والی ہنگامی اسلامی سربراہی کانفرنس کے پہلے ہی سیشن میں اکثر اہم عرب ممالک کے سربراہ غائب تھے شائد وہ قبلہ اول سے مطلق اس حساس نوعیت کے مسئلے کو اس قدر اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اب بھی چاہتے ہیں زبانی کلامی بیانات پر اکتفا کریں ،عرب اور مسلم عوام کی بھر پور خواہش تھی کہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس کچھ عملی اقدامات کے بارے میں اعلان کرے جیسے فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا خاتمہ ،پہلے گام کے طور پرامریکی سفیروں کو بلاکر احتجاج ریکارڈ کرانا اور روابط کے خاتمے کی دھمکی دیناتاکہ ٹرمپ اپنا اعلان واپس لے ،اقتصادی و تجارتی بائیکاٹ کا اعلان کرنا اور فلسطینی انتفاضہ کی مکمل حمایت کا اعلان کرنا ۔۔۔

لیکن اگر بغور اوآئی سی کے اعلامیے کو پڑھا جائے تو یہ اعلامیہ ماسوائے خالی بیانات اور تشہیرات کے کچھ بھی اپنے اندر ٹھوس چیز نہیں رکھتا ۔

استنبول میں ہونے والے اس اجلاس میں سب سے سخت لب و لہجہ اردگان کا تھا لہذا مسلم امہ اور فلسطینی عوام کے ساتھ دنیا بھر کے حریت پسند انسان اردگان سے یہ توقع رکھ رہے تھے کہ وہ اس اجلاس ترکی میں اسرائیلی سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان تو کرے گا لیکن اردگان نے سوائے جذباتی گفتگو کے عملی طور پر نہ تو سفارتخانہ بند کرنے کی بات کی اور نہ ہی اسرائیل کے ساتھ جاری تجارت اور میگا پروجیکٹس سے پچھے ہٹنے کی بات کی ۔

فلسطین صدر محمود عباس کی طویل اور تکراری گفتگو میں ایک بھی بار ’’مزاحمت اور انتفاضہ ‘‘کا تذکرہ نہیں ہوا وہ بھی اردگان کی مانند صرف بار بار جذباتی الفاظ کو دہرانے کے علاوہ کچھ بھی ایسا نہ کہہ سکا جیسے عملی اقدام کہا جاسکے ۔

اسرائیلی تجزیہ کار سچ کہا کرتے تھے کہ عرب کچھ دن خوب شور مچاینگے لیکن سچائی وہ بھی جانتے ہیں ،نیتن یاہو نے بھی سچ کہا تھا کہ ہمارا مسئلہ عرب حکمران نہیں ہیں بلکہ وہ رائے عامہ ہے جو عرب و مسلم ممالک کی سڑکوں پر موجود ہے ‘‘

لہذا دنیا بھر کے حریت پسندوں کو چاہیے کہ وہ اس ظلم اور ناانصافی کیخلاف آواز اٹھاتے رہیں مسلم و عرب عوام کو چاہیے کہ وہ آواز اٹھاتے رہیں اور فلسطین میں موجود انتفاضہ کی پیٹھ گرماتے رہیں یہاں تک حکمران مجبور ہوں کہ زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کریں ۔


تحریر۔۔۔۔حسین عابد

وحدت نیوز(مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے ترجمان سید حمید حسین نقوی نے کہا کہ ا مریکی اقدام نے امت مسلمہ کے دل میں خنجر پیوست کر دیا ہے۔امریکہ کو عالمی قوانین کی ہرگز پرواہ نہیں اور نا ہی دنیا کے امن سے کچھ مطلب اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے اس نے دنیا بھر میں انسانوں کا قتل عام کیا ہے۔بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔اور پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے پر فوری طورپر امریکہ سفیرکو وزات خارجہ میں طلب کیا جائے۔حکومت پاکستان اس مسئلے اپنے موقف کو واضع طور پر پیش کرئے۔

ان کا مذید کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین اس مسئلے پر ہرگز خاموش نہیں بیٹھے گی قبلہ اول مسلمانان عالم کا دل ہے،اس کیخلاف امریکہ اور اسرائیل کی سازش کو ہم کبھی کامیاب ہونے نہیں دینگے، اسرائیل انشااللہ دنیا کے نقشے سے جلد مٹ جائیگا،اسرائیل کے خاتمے کا کاونٹ ڈاون شروع ہو چکا،عالم اسلام کا بچہ بچہ غاصب انسانیت دشمن صہیونی ریاست کیخلاف لڑنے اور بیت المقدس کی آزادی کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ کہاں ہے تمام اسلامی ممالک کو مل کر اس ناسور کا خاتمہ کرنا ہو گا اگر ایسا بروقت نہ ہوا تو پوری دنیا کا وجود بلعموم اورملت اسلامیہ بالخصوص خطرے میں ہے نیز اگر 41ممالک کا اسلامی اتحا د القدس کی آزادی کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تو اس کے قیام پر سوالیہ نشان ہے،انشاء اللہ ظالموں جابروں کے خاتمے کا وقت آ پہنچا ہے،وہ وقت دور نہیں جب اسرائیل اور اسکے سرپرست امریکہ کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائینگے،مسلمان متحد ہو کر امریکہ اسرائیل اور اسکے اتحادی پٹھوں کیخلاف ہر سطح پر آواز بلند کریں،یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے اسے ہم سرانجام دیتے رہیں گے۔

Page 1 of 19

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree