وحدت نیوز(بیروت) فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بیروت کے علاقے الضاحیہ میں سید الشہداء امام بارگاہ میں دس محرم شہادت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے منعقدہ مجلس عزاداری میں شرکت کی اور عزداران حسینی سے خطاب کیا۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کے آغاز میں ایسے تمام شہداء کے اہلخانہ کو تسلیت عرض کی، جنہوں نے دینی اقدار اور مقدسات کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر دی ہیں۔ انہوں نے کابل اور بغداد میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں شہید ہونے والے عزاداران حسینی کیلئے بھی اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔ سید حسن نصراللہ نے کہا: "اس سال مجالس عزاداری امام حسین علیہ السلام کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو ہر میدان میں مجاہدین کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کامیابیوں نے تکفیری دہشت گردوں کو کمزور اور عاجز کر ڈالا ہے۔"

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے یمن کے خلاف سعودی جارحانہ اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "آج ہم یمن کے بارے میں بات کریں گے اور ہم نے تاکید کی ہے کہ ضاحیہ، صور، بعلبک اور الھرمل سے مغربی البقاع تک منعقد ہونے والی مجالس عزاداری میں یمن کے عوام، یمن کی فوج اور رضاکار فورس سے ہمدردی کا اظہار کیا جائے۔ ہر سیاسی ماہر اور تجزیہ کار کیلئے یہ حقیقت انتہائی واضح ہے کہ یمن کے خلاف سعودی جنگ سیاسی اہداف کی خاطر نہیں بلکہ اس دشمنی اور کینہ توزی کا نتیجہ ہے جو سعودی حکومت کے دل میں یمنی عوام کی نسبت پایا جاتا ہے۔ سعودی حکومت جس انداز میں یمن میں عام اور بیگناہ انسانوں کا قتل عام کر رہی ہے، اس کے اہداف ہرگز سیاسی نہیں ہوسکتے بلکہ یہ اقدامات وہابیت کی دشمنی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس جنگ کا مقصد یمنی عوام کی قوت ارادی کو ختم کرنا ہے، کیونکہ وہ خود مختاری اور عزت کے خواہاں ہیں۔"

سید حسن نصراللہ نے کہا: "آج یمن میں بھی کربلا کی طرح بیگناہ انسانوں کا قتل اور ٹکڑے ہوئے لاشیں دکھائی دیتی ہیں۔ صنعا اور یمن کے دیگر شہروں میں غم انگیز مناظر نظر آتے ہیں جبکہ یمنی عوام انتہائی شجاعت اور استقامت سے امریکی اور سعودی قتل و غارت اور بربریت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمنی عوام ہرگز جارح قوتوں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے، ان کے دشمنانہ اقدامات کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں گے اور ہم بہت جلد امام خامنہ ای کی اس پیشین گوئی کو حقیقت کا رنگ اختیار کرتا دیکھیں گے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آل سعود کی ناک مٹی پر رگڑی جائے گی۔ سید حسن نصراللہ نے یمنی عوام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: "میں اپنے یمنی بھائیوں کو اپنے ذاتی تجربے اور ایمان کی روشنی میں کہتا ہوں کہ خداوند متعال پر بھروسہ کریں اور وہ آپ کو وحشی دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔"

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے مسئلہ فلسطین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ یہ کہنا شروع ہوگئے تھے کہ فلسطینی انتفاضہ شکست کا شکار ہو کر ختم ہوچکی ہے، لیکن حال ہی میں انجام پانے والے شہادت طلبانہ اقدام نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ انتفاضہ فلسطینی جوانوں کے دلوں، عقل اور ضمیر کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "غاصب اسرائیلی بہت جلد اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ فلسطین کی سرزمین ان کی موت، شکست اور ان کا خون جاری ہونے کی سرزمین ہے۔ اسرائیلیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ وہیں لوٹ جائیں، جہاں سے نقل مکانی کرکے یہاں آئے تھے اور فلسطینی مزاحمت کا بھی یہی پیغام ہے۔" سید حسن نصراللہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "اسرائیلی حکام کے سامنے خشوع و خضوع کا فلسطینیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسرائیل وہی ہے جو امریکہ سے بے تحاشہ اسلحہ وصول کرتا ہے اور غیر مشروط امریکی حمایت سے بھی برخوردار ہے۔ اس وقت ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن اسرائیل کی نامحدود حمایت کے اظہار میں ایکدوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے فلسطین کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا۔"

سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے عراق میں جاری داعش کے خلاف آپریشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراقی عوام کو خبردار کیا اور کہا: "امریکی موصل کے ذریعے شام کے مشرقی حصے میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور انہوں نے داعش کے تمام دہشت گرد عناصر کو شام کے مشرقی حصے میں جمع کر دیا ہے، تاکہ اس جگہ ان سے پورا فائدہ اٹھا سکیں۔ ایسی صورت میں داعش اپنی قوت بحال کرنے کے بعد دوبارہ عراق پر حملہ آور ہوسکے گی۔" سید حسن نصراللہ نے کہا: "یہ ایک امریکی سازش ہے، جس کا مقصد موصل میں عراقی عوام کی کامیابی کو ناکامی میں تبدیل کرنا ہے۔ لہذا عراق کی مسلح افواج اور رضاکار فورس کو چاہئے کہ وہ موصل میں موجود داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ کر ڈالیں اور ان کے کمانڈرز کو گرفتار کر لیں اور انہیں شام کی طرف بھاگنے کی اجازت نہ دیں، کیونکہ شام میں ان دہشت گرد عناصر کی موجودگی عراق کیلئے بڑا خطرہ ثابت ہوگی۔"

سید حسن نصراللہ نے بحرین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی عوام اپنے عظیم مقاصد کی راہ میں ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ اس استقامت اور شجاعت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحرینی عوام اپنے جائز حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہئے اور پوری دنیا تک اپنی آواز پہنچانی چاہئے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا: "ہم نے اسرائیل اور اسرائیل سے ملنے والی اپنی سرحدوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ ہم نے اسرائیل پر نظر رکھی ہوئی ہے اور اسلامی مزاحمت ہرگز اسرائیل کے خلاف میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ ہماری طاقت کا راز فوج، عوام اور اسلامی مزاحمت کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے۔ اسی طرح ہم نے لبنان کی شمالی سرحدوں پر بھی تکفیری دہشت گرد عناصر سے مقابلے کیلئے نظریں جما رکھی ہیں۔ ہم ملک کے دفاع کیلئے وہاں موجود رہیں گے۔" حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ بعض افراد یہ کہتے ہیں کہ مجاہدوں کی شہادت نے حزب اللہ کو کمزور کر دیا ہے، جبکہ بعض ہمارے شہداء کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ میں انہیں کہوں گا کہ ہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے۔ اسی طرح بعض یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ حزب اللہ لبنان مالی اعتبار سے کمزور ہوگئی ہے، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ میرا جواب ایک جملہ ہے کہ ہم نے نہ تو شکست کھائی ہے اور نہ ہی ہم تھکے ہیں۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کوئٹہ ڈویژن کے میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں رکن بلوچستان اسمبلی آغا سید محمد رضا نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی کمزور خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان آج تنہائی کا شکار ہے ۔ پاکستان کو ایک مستقل وزیر خارجہ کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر اوبامہ کا دورہ بھارت پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ہندوستان کے کردار کے حوالے سے شواہد فراہم کر دیے ہیں۔ پاکستان سے اچھے تعلقات رکھنا امریکہ کے لیے ضروری ہے کیونکہ افغانستان میں امن و استحکام اسلام آباد کے ذریعے جاتا ہے اس لیے امریکہ کا لب و لہجہ ماضی کے برعکس مختلف نظر آرہا ہے ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ناکامی کی وجہ مستقل وزیر خارجہ کا نہ ہونا ہے۔

 

ان کا مذید کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار بھی ہے اس کے باوجود اس کو ہم دنیا تک اپنا نقطہ نظرمثبت طور پر نہیں پہنچا رہے ہیں۔ صدر اوبامہ بھارت کا دورہ کمزوری کی صورتحال میں کر رہے ہیں وہ داخلی معاملات میں ناکام ہوچکے ہیں۔ اس لیے خارجہ پالیسی میں کوئی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ صدراوبامہ کا محور پاکستان اور چین دونوں ہیں۔ امریکہ بھارت کو چین کے مقابل لانے کے لیے تیار کررہا ہے۔ بھارت کے لیے نمبر ون مسئلہ ابھی بھی پاکستان ہے۔ بھارت ایک تنگ نظر ملک ہے وہ پاکستان کو خوشحال اور مستحکم ملک نہیں دیکھنا چاہتا۔ سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں پر اسلامی ریاستوں کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ بھارت اور اسرائیل کی دوستی اسلام دشمنی پر ہورہی ہے۔ بھارت سے کوئی بھی پڑوسی ملک محفوظ نہیں ہے۔ کشمیری ہندوستان کے ظلم کے سامنے ہمت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ افغانستان میں خرابی کا ذمہ دار امریکہ ہے اور اسے یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ امریکہ کی افغان جنگ کی حمایت کے نتیجے میں پاکستان غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے امریکہ اور بھارت میں بنائے ہیں۔ اب ہماری قوم اور ہماری فوج دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر موثر طریقے سے عمل در آمد کیا جائے ۔ اگر نیشنل ایکشن پلان کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کی گئی تو سانحہ پشاور سے بھی بڑا واقعہ رونما ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا دائرہ وسیع کیا جائے تاکہ کوئی بھی دہشت گرد نہ بچ سکے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) اسرائیلی رژیم نے گذشتہ چند روز میں 160سے زائد بے گناہ فلسطینی  بچوں ،خواتین اور جوانوں کو شہید کر دیا ، مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور دہشت گردی پھیلانا امریکی، اسرائیلی اور سعودی مشترکہ ایجنڈا ہے، فلسطین پر اسرائیلی اور عراق پر داعشی جارحیت کا ماسٹر مائنڈ امریکہ ہے،رہبر معظم امام سید علی خامنہ ای غزہ کی حساس صورتحال کو براہ راست ملاحظہ کر رہے ہیں، غزہ پر جاری اسرائیلی حملے اور عراق میں تکفیری داعش کی بربریت کے خلاف بروز جمعہ ملک بھر میں پر امن یوم احتجاج منا یا جائے گا، ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے وحدت ہاوس اسلام آباد سے جاری اپنے ایم بیان میں کیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سات دہائیوں سے امریکی پشت پناہی پر اسرائیل فلسطینوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، قبلہ اول پر ناجائز قبضےسمیت معصوم بچوں، جوانوں اور بزرگوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا، خواتین کے عصمت دری کی گئی، ایک اہم بات جو گذشتہ دو تین برس سے ملاحظہ کی جا رہی ہے کہ وہ یہ کہ اسرائیل ماہ رمضان المبارک کے آغاز پر غزہ پر بمباری شروع کر دیتا ہے،اس ایک خاص وجہ ماہ رمضان المبارک میں یوم القدس کا منایا جانا بھی ہو سکتا ہے،تاکہ امت مسلمہ کے قلوب کو مجروح کیا جا سکے، گذشتہ چند روز میں غزہ پر اسرائیلی جنگی جہازوں کی بمباری کے نتیجے میں  160سے زائد بے گناہ فلسطینی  بچے، خواتین اور جوان شہید کر دیئے گئے،افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ گذشتہ صبح سحری کے اوقات میں شدید بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں 30سے زائد بے گناہ روزہ دار معصوم بچے اور خواتین بربریت کا نشانہ بنے، امریکہ اپنے اسلحے کی برآمد کی خاطر پورے مشرق وسطیٰ کو آگ و خون میں جھونک رہا ہے،اس کےگاہک اسرائیل کی صورت میں فلسطین اور داعش کی صورت میں عراق و شام میں بے گناہ وعوام پر امریکی اسلحہ کا بھر پور استعمال کر رہے ہیں۔

 

ان کا مذید کہنا تھا کہ  پوری امت مسلمہ پر فرض ہے کہ وہ غزہ پر جاری اسرائیلی اور عراق پر جاری داعشی جارحیت کے خلاف پرزور صدائے احتجاج بلند کرے، رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام سید علی خامنہ ای  غزہ کی تازہ صورتحال کو براہ راست ملاحظہ کررہے ہیں ، انہوں نے اعلان کیا کہ ایم ڈبلیوایم بروز جمعہ ملک بھر میں غزہ پر اسرائیلی اور عراق پر داعشی دہشت گردی کے خلاف بھر پور یوم احتجاج منائے گی، اس حوالے سے بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرے کیئے جائیں گے اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ عراق کے شہرمو صل میں پیغمبر خدا، حضرت یو نس ؑ کے روضہ مبارک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انبیائے الھٰی،اھل بیت رسول ﷺاور صحابہ کرامؓ کے مقدس مزارات کی اہانت کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی ہے ۔سامراجی قوتیں لڑاؤ اور حکومت کرو ،کی پالیسی کے تحت امت مسلمہ کو آپس میں لڑانا چاہتی ہیں اور معصوم انسانوں کا خون بہانے والے دھشت گرد استعماری آلہء کار ہیں۔ جو سامراجی ایجنٹ بن کر دین مقدس اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ مسجدوں میں بم دہماکے کرکے نمازیوں کو خون میں نہلانے والے مسلمان نہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب ملک سے دھشت گردی کے خاتمے میں سنگ میل ثابت ہوگا ۔دھشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے شھید ہونے والے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں، اس وقت پوری قوم ملک سے دھشت گردوں کا خاتمہ چاہتی ہے اور پاک فوج کو عوام کی بھر پور حمایت حاصل ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس آپریشن کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے بلوچستان میں معصوم انسانوں کے قاتل دھشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ساتھی اور حمایتی بھی دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ جن لوگوں نے معصوم انسانوں کے قتل عام پر چپ کا روزہ رکھا ہوا تھا وہ اب دہشت گردوں کے خلاف کاروائی پر کیسے واویلا کر رہے ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) 11 مئی ملکی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے، جس دن جمہوریت کے نام پر موجودہ حکمران مینڈیٹ چرا کر اقتدار پر قابض ہوئے، نواز شریف نے ایک سال کے دور حکومت میں ملک کو مذاکرات کے نام پر طالبان کے حوالے کردیا ہے، وطن عزیز میں بڑھتی ہوئی امریکی و سعودی مداخلت نے ہماری قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، پاک فوج ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فی الفور آپریشن کا آغاز کرے۔ ان خیالات کا اظہارمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے 11 مئی کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے فیض آباد انٹر چینج پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کیا۔ مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی،علامہ اعجاز بہشتی ، ایم ڈبلیو ایم پنجاب کے ترجمان علامہ اصغر عسکری، علامہ اکبر کاظمی، ملک اقرار حسین ، نثار فیضی ، راحت کاظمی سمیت دیگر نے بھی مرکزی مظاہرے سے خطاب کیا۔ رہنماؤں نے طالبان سے مذاکرات اور امریکی و سعودی مداخلت کو ملک کی عوام کے لئے زہر قاتل قرار دیا۔ اپنے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا موجودہ حکومت انتظامی امور کے ہر شعبے میں ناکام ہے، موجودہ حکمران توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے نعرے کو بنیاد بنا کر اقتدار میں آئے تھے لیکن آج توانائی کا بحران بدترین سطح پر پہنچ گیا ہے، ستم بالائے ستم یہ کہ توانائی بحران کے حل کی واحد اْمید پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو بھی ملک دشمن عالمی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

 

مقررین نے کہا کہ طالبان دہشت گردوں سے مذاکرات کے نام پر پورے ملک کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، لاقانونیت عروج پر پہنچ گئی ہے، تاریخ میں پہلی بار پاکستانی شہریوں پر عالمی سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اْن کا کہنا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی دہشت گردوں کی جنت بن چکا ہے، امریکہ اور سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ملکوں کی دہشت گردانہ خارجہ پالیسی کی بےجا حمایت کی وجہ سے پاکستان عالمی سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا ہے، اداروں کے درمیان تصادم کی فضا ہے جبکہ خود حکومتی صفوں میں گروہ بندی عروج پر ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ملک کے محروم علاقے بدترین تنہائی کا شکار ہیں جبکہ ریاستی کنٹرول ملک میں کہیں نظر نہیں آتا، اقتدار ایک گھر کے اندر تقسیم کر دیا گیا ہے، جبکہ لیپ ٹاپ سکیم اور یوتھ فیسٹول کے نام پر کرپشن اور سیاسی رشوت کا بازار گرم ہے۔

 

مقررین کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف کے دور حکومت میں شیعہ نسل کشی میں اضافہ اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ میاں صاحبان نے کالعدم جماعتوں کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے، پاک فوج ملکی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فی الفور آپریشن کا آغاز کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں خودکشیوں کی شرح بلند ترین سطح پر ہے، جو عوام کی ناگفتہ بہ حالت کی عکاس ہے، ایسے حالات میں کوئی بھی محب وطن خاموش نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا حکمرانوں نے ایک سال میں سوائے دلاسوں اور جھوٹے وعدوں کے کچھ نہیں دیا، ایسے حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں، جو مظاہرے اور دھرنے کے سوا کوئی اور زبان سمجھتے ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنا حق لینے کے لئے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حکمران نااہل ہیں، انہیں فوری طور پر اقتدار چھوڑ دینا چاہیئے۔ مظاہرے میں خواتین و بچوں سمیت کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن اور نواز حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے جنرل سیکرٹری عبدالخالق اسدی نے ملک میں جاری دہشت گردی اور ڈرؤن حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملے اور طالبان کی دہشت گردی دونوں ہی پاکستان کی سالمیت کیلئے اہم خطرہ ہیں، آئین پاکستان تسلیم نہ کرنے والوں سے مذاکرات ختم کئے جائیں، مذاکرات کی بجائے ڈرون طیاروں کو گرایا جائے، ہم مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم سے پوری دنیا میں جاری دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ محرم الحرام میں حکومت کی طرف سے مختلف قسم کی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں ہم انہیں یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم پر امن لوگ ہیں اور کسی قسم کا انتشار نہیں چاہتے اس لئے اہل تشیع کی مجالس میں کوئی رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں، خطے میں امریکی اور سعودی برانڈ دہشت گردی دم توڑ رہی ہے اور امریکی سرمایہ سے پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں لپیٹنے والے شیعہ سنی اتحاد دیکھ کر مایوس ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین ملک بھر کے مظلوموں کی نمائندہ جماعت ہے ،گلگت ؛بلتستان کے تمام مسالک اور برادیوں کے افراد کیلئے دہشت گردی کے خلاف ایک سایہ بنیں گے، ہم ایم ڈبلیوایم کے پلیٹ فارم سے اسماعیلی برادری، نوربخشی برادری سمیت تمام مسالک کے افراد کو امن کو پیغام دیتے ہیں، انشاء اللہ اپنے اتحاد سے وطن کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree