وحدت نیوز(آرٹیکل) وہ مہینہ جس میں سردی اپنے عروج پر ہوتی ہے اور انسان گرم لباس زیب تن کر نے کے باوجود گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ہزار بار سوچتا ہے اسے دسمبر کہا جاتا ہے۔ راستوں میں جمی ککر کی پھسلن، برف کے گرتے گالوں اورسرد ہواؤں کے سبب لوگ گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں اسکردو کا شمار سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں اکیس دسمبر کے بعد سردی اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ گھروں میں دیسی انگیٹھی میں لکڑی جلا کر اس کے گرد بوڑھے بچے جمع ہو کر آگ کی تمازت سے جینے کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ اسی موسم میں اس خوبصورت شہر سے خوش گلو پرندے بھی غائب ہو جاتے ہیں ، درختوں کے پردے مرجھا جاتے ہیں، سبزہ و گل غائب ہو جاتا ہے۔ کاروبار زندگی منجمداور یخ بستہ ہو جاتا ہے۔ اس دوران دن کی چادر بھی سمٹ جاتی ہے جبکہ رات کی وادی تاریک اور گہری ہو جاتی ہے۔ سورج بھی ہلال عید بن جاتا ہے۔ بادل اور برفباری کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ برف کی چادر اوڑھ کر اسکردو شہر سنساں ہو جاتا ہے اور ہو کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ صبح دس بجے تک شاہراہوں پر اکا دکا انسان نظر آتا ہے اور سڑکوں پر خاموشی کی سنسناہٹ رقص کرتی اور اعصاب شکن سردی راج کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ لیکن اب کی بار لگتا ہے یہ وہ بے جا ن اور منجمد دسمبر نہیں جس میں لوگ آگ کے گرد جمع ہو کر یا کمبل اوڑھ کر گزارا کرتے ہیں۔ میں نے جب ایک ریڑھی چلانے والے مزدور کا بدلا بدلا تیور دیکھا تو دیکھا کہ اس کے عزم کی گرمائش سے برف پگھل جا ئے گی ۔ مڑ کر دوسری طرف دیکھا تو ستر سال کا بوڑھاکانپتے ہاتھ، ہاتھ میں لاٹھی اٹھائے ہوئے ہے جنکی بے خواب آنکھوں میں غیض و غضب ہے یہاں کی برف پگھلانے کیلئے یہی کچھ کافی تھا۔ شاید اس دسمبر میں اس قوم نے کوئی اور تاریخ رقم کرنی ہے۔ اس تاریخی سردی میں قوم نے ٹھانی ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا جائے یہ دسمبر کی 25تاریخ ہے ۔ آج اسکردو شہر کے در و دیوار لرز رہے ہیں۔ میرے لیے یہ منظر انتہائی عجیب و غریب اور ناقابل یقین ہے۔

وہ دسمبر جس میں خاموشی کی سنسناہٹ گاتی ،رقص کرتی ،دھول اڑاتی، یخ بستہ ہوائیں راج کرتیں اورسخت سردی خون جمادیتی ہے اس میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندریہاں موجود ہے۔ سورج غروب ہونے سے قبل گھروں کو لوٹنے والے عوام شام ڈھلنے تک یہاں پر موجود ہیں۔ اس ٹھٹھرتی سردی میں لوگ مظلوموں اور محروموں کی فریاد کی جگہ یاد گار شہدا ء اسکردو کے گرد جمع ہیں۔ حقوق سے محروم عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے کی حکومتی کوشش پر اب خطے کا ہر فرد اٹھ کھڑا ہے۔ میں اسوقت یادگار شہداء سے کئی سو فٹ کے فاصلے پر بیٹھ کر عوامی ایکشن کمیٹی اور ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ آغا علی رضوی کی تقریر سن رہا ہوں۔ آغا علی رضوی وہی شخصیت جو میدان عمل کا شہسوار ہے ۔ جو وہ کہتا ہے کر گزرتا ہے۔ جو بھی ان کے دل میں منہ سے کہہ دیتا ہے۔ ان کی سخت گوئی پر مجھ سمیت بہت سوں کو شکایت ہونے کے باوجود دھرنے کو چھ دن گزر چکے ہیں اور ہر کسی کی نگاہیں اس مرد مجاہد کی طرف ہیں۔ ان کا خلوص اور استقامت ناقابل یقین حد تک ہے ۔ میں مسلک کے اعتبار سے ان سے الگ ہوں ،لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ ٹیکس کے خلاف جاری تحریک میں جان اس وقت ہی آئی جب یہ شخص زیارات سے واپس آگیا۔انہوں نے خود کربلا سے واپسی کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ کربلا سے امام عالی مقام سے عزم اور حوصلہ لے کر آیا ہوں اور ا س مظلوم قوم پر جاری مظالم کے خلاف لڑنے کا عزم کر کے آیا ہوں۔ٹیکس کے خلاف جاری تحریک کے روح رواں انجمن تاجران کے نڈر صدر غلام حسین اطہر کا لہجہ بھی پر اعتماد تھا وہ کہہ رہے تھے جب آغا علی رضوی نے ساتھ دینے کا کہا ہے تو کامیابی یقینی ہے، یہ شخص جان دے سکتا ہے لیکن عوامی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف حکومتی نمائندے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ عوام کو شیعہ سنی اور گلگتی بلتی کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جی بی میں ٹیکسز کا آغا ز پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا اور موجودہ ٹیکس کا فیصلہ بھی اسی دور میں ہوا تھا چنانچہ نون لیگ تمام تر ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈال کر خود بری ہونے اور عوامی لعن طعن کرنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی کوششوں کے ساتھ دھمکیوں اور الزاما ت بھی شروع کیے ہوئے ہیں۔ حفیظ الرحمان کے ارد گرد پھرنے والوں نے ٹیکس کے خلاف تحریک چلانے والوں کے تانے بانے کو انڈیا اور راء تک سے ملایا ہے۔ وزیر قانون گلگت بلتستان نے واضح پیغام میں کہا کہ حالیہ ٹیکس مخالف تحریک کے لیے را سے پیسے آرہے ہیں اور انکے اشارے پراحتجاج کر رہے ہیں۔ وزیراعلی گلگت بلتستان نے گزشتہ رات اپنے ویڈیو پیغام میں عوام کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کے خلاف ٹحریک غیرملکی ایجنڈا ہے جسے کامیاب ہونے نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ جو شرپسندی کر یں گے انکے ساتھ سختی سے نمٹیں گے۔

اس یخ بستہ ،دسمبر کی سردہواؤں کا راج کرتی اور خون جمادینے والی سرد شاموں میں، میں نے ہر چوک چوراہے سے عوام کو امڈ امڈ کے یادگار شہداء کی طرف ایک عزم کیساتھ بڑھتے دیکھا۔ ان حالات میں لوگوں کو کئی کئی کلومیٹر پید ل چل کر آتے دیکھا جبکہ ہڑتال کی وجہ سے تما م پیٹرول پمپس بند ہیں۔ صرف یہی نہیں پورے بلتستان میں آج چھٹا روز ہے تمام دکانیں مکمل طور پر بند ہیں جبکہ کسی بھی دکاندار پر جبری اور زبردستی نہیں ہے۔ عوام نے اس تحریک پر سو فی صد اعتما د کا اظہار کر دیا ہے۔ میں نے حکومت کی غیر لچکدار اور میں نہ مانوں کی پالیسی کے سبب پست ہوتے ہوئے حوصلے والے افراد کی زبانی سنا کہ آغا علی رضوی اس تحریک کو کامیاب بنا کر دم لے گا۔ ایک طرف حکومتی رویے اور دوسری طرف عوام کا اعتماد عجیب منظر تھا۔ عوام کے دم توڑتے حوصلوں میں نئی روح پھونکنے کے لیے ایک کالے رنگ کے عمامے والے شخص کی کرشماتی تقریر کافی تھی۔ وہ پست حوصلوں کو بلند کرتے، مرے ہوئے جذبات کو زندہ کرتے، دفن ہونے والے عزم کو قم کہہ کر اٹھاتے دیکھا ۔ میرے لیے یہ زندگی کا عجیب منظر تھا۔

وہ دسمبر جس میں خاموشی کی سنسناہٹ رقص کرتی تھی اس میں، میں نے دیکھا کہ عوامی قیادت کس چیز کا نام ہے۔ قائد اور رہبر وہ ہوتا ہے جو خود آگے بڑھتا ہے اور عوام سے کہتا ہے کہ میرے پیچھے آؤ۔ ہمارے ہاں رہبر اور لیڈر وہ ہوتے ہیں جو عوام کو آگے کرتے ہیں اور خود نرم و گداز صوفوں پر چائے کی چسکیاں لیتے ہیں اور کامیابی پر جشن مناتے ہیں ایسے لیڈر اصل میں گیڈر ہوتے ہیں لیڈر نہیں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو آگے بڑھ کر جان ہتھیلی پہ رکھ کر تمام تکالیف برداشت کرنے کے بعد کہتا ہے کہ میرے نام کے نعرے مت لگاؤ ہمار ا قائد غلام حسین اطہر ہے۔ ایسی بے لوث قیاد ت کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا جب لوگ آغا قدم بڑھاؤ کے نعرے لگا رہے تھے تو انہوں نے روک کر کہا کہ میں عوام کا خادم اور اس تحریک کا ادنی سا کارکن ہوں اور ہمارا قائد اطہر غلام ہے اگر وہ اٹھنے کو کہیں تو اٹھیں گے اور بیٹھنے کو کہیں تو بیٹھیں گے ۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ غلام حسین اطہر کی قیادت ہی اس کی کامیابی کی ضامن ہے۔ یعنی وہ ہر طرح کا کریڈٹ اپنے نام نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تمام انجمنوں اور سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے رہے۔اور تحریک کا چھٹا روز انتہائی منفرد دن تھا جب آغا علی رضوی نے اعلان کیا کہ اطہر غلام نے کورکمیٹی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ کل گلگت کی طرف لانگ مارچ کریں گے اور وہیں پر ٹیکس سمیت صوبائی حکومت کا تختہ الٹ کر واپس آئیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ایسا لگا عوام کو فتح کی نوید ملی عوام اٹھ اٹھ کر آغا تیرا ایک اشارہ حاضر حاضر لہو ہمارا کے نعرے بلند کرتے رہے۔آغا علی رضوی نے گلگت جانے کے لیے گرم لباس ، کمبل اور راستے میں کھانے کے لیے خشک سامان لے کر اگلے دن پہنچنے کا اعلان کر دیا۔

وہ دسمبر جس میں خاموشی کی سنسناہٹ رقص کرتی ، یخ بستہ ہوائیں راج کرتیں او سردی خون جمادیتی ہے اس ماحول میں میں نے دیکھا کہ یادگار شہداء اسکردو تحریر اسکوائر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑا اجتماع نہیں دیکھا تھا۔ چلو چلو گلگت چلو کی صداؤں سے اسکردو شہر کی فضاء گونج رہی تھی ۔اس تحریک میں شہر سے قافلہ علامہ شیخ ضامن اور شیخ طہٰ ٰ موسوی کی قیادت میں پہنچ گئے، کھرمنگ سے مجاہد عالم دین شیخ اکبر رجائی کی قیادت میں پہنچ گئے۔ خپلو سے عوام کی بڑی تعداد پہنچ گئی ۔ اس تحریک میں شیعہ ،سنی، نوربخشیہ ، اہل حدیث سب ایک ہو چکے تھے۔ قافلہ درود و سلام اور دعائیہ کلمات کے ساتھ یادگار شہدا ء سے آغا علی رضوی اور غلام اطہر کی قیادت میں نکلنا چاہتا تھا ۔ میں بھی ان میں موجود تھا اور یہ میرے لیے عجیب جذباتی منظر تھا جب عوام نے قافلے کو یعنی گاڑی والوں نے جانے نہیں دیا۔ لوگ بضد تھے کہ آغا کو تنہا جانے نہیں دیں گے حالانکہ ہزاروں افراد گاڑیوں میں قافلے کی صورت میں موجود تھے لیکن عوام تھے کہ سنبھل نہیں رہے تھے یہاں تک کہ عوام کا ایک بے قابو بپھرا ہو ا سمندر قافلے کے آگے نکل گیا اور پیدل مارچ شروع کر دیا ، قائدین نے مل کر منتیں کرتے ہوئے روکنے کی بھرپور کوششیں کیں ۔ لیکن عوام نے کسی کی نہیں سنی، پید ل اور گاڑیوں کا قافلہ نعروں کی گونج میں گلگت کی طرف چل پڑا۔ یہ قافلہ نہیں سمند ر تھا عوام کا۔

اس یخ بستہ سرد برفیلی رات میں، میں نے عزم و ہمت کے چٹان ، کے ٹو سے بلند حوصلہ رکھنے، نڈر بہادر اور شجاع عوام کے محبوب قائد آغا علی رضوی کو اس وقت رات کے وقت پھوٹ پھوٹ کے روتے دیکھا جب عوام چار گھنٹہ پیدل چل کر گمبہ پہنچ گئے۔ آغا علی رضوی نے انہیں گزارش کہ تیل کی قلت کی وجہ سے گاڑیاں کم ہیں اور جتنی ہیں اس تحریک کی کامیابی کے لیے کافی ہیں آپ لوگوں نے اس سردی میں یہاں تک پید ل سفر طے کیامزید آگے نہ جائیں۔ جب عوام نے دوبارہ کہا کہ ہم ایک لمحے کے لیے آپ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے تو آغا علی رضوی جلال میں آگئے وہ بھی عوام کے ساتھ پیدل چل نکلے۔ انہوں نے تاجران سے گزارش کہ فوری گاڑیوں کا انتظام کرو جب سب کے لیے گاڑی مل جائے اس وقت تک میں گاڑیوں میں نہیں بیٹھوں گا ۔ غلام حسین اطہر نے جتنی مزید گاڑیاں منگوائی جاسکتی تھی منگوائیں اور یہاں تک کہ کھلے چھت والی گاڑیوں پر اس ٹھنڈ میں لوگ بیٹھتے گئے ۔ اس کے باوجود گاڑیاں کم پڑ گئیں تو تحریک کے قائد نے آغاعلی رضوی سے گزارش کی کہ آپ مان جائیں اور عوام کو واپس بھیج دیں ۔ قائد تحریک کے حکم پر آغا علی رضوی نے لبیک کہا اور عوام سے دوبارہ خطاب کرکے پیادہ سفر کرنے والوں کو روکنے کو کہا۔ انکی تاکیدانہ لہجے کے باوجود عوام نے روتے ہوئے انکے پاؤں پکڑنا شروع کردئے کہ ہم آپ کو تنہا جانے نہیں دیں گے۔ چند جوانان کو جب یہ علم ہوا کہ انہیں واپس بھیجا جا رہا تو سر پیٹ کر رونے لگے۔ جب محبت ، خلوص اور فدا کاری کا یہ منظر دیکھا تو وہ خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔آغا علی رضوی کے سرخ گالوں سے آنسوؤں کے قطر ے موتی کی طرح گرنے لگے۔ یہ عجیب منظر تھا جب وہ رو پڑے تو کئی اور لوگوں نے مل کر رونا شروع کر دیا۔ یہ رونا ،یہ گریہ خوشی کا بھی تھا اور اعتماد کا بھی،اس میں عوام کی محبت کا عنصر بھی شامل تھا اور قیادت کا خلوص بھی کوٹ کوٹ کر بھرا تھا جو آنسوؤں کی صورت میں نکل رہا تھا۔یہی وہ موقع تھا جب عوام کو اپنی قیادت پر فخر محسوس ہوا ہوگا،اسی لیئے جب عوام نے اس ماحول میں آغا کے فیصلہ کو سنا تو اس کا فوری اثر ہوا اور عوام نے بات مان لی اور واپس جانے کیلئے تیار ہو گئے۔

دسمبر کی اس یخ بستہ برفیلی رات کے اس پہر میں بھی اپنے اہل تشیع دوستان کیساتھ روندو ڈمبوداس کے ایک امام بارگاہ میں دیگر جوانوں کے ساتھ موجود تھا۔ یہ رات کے بارہ بجے تھے۔ رات یہیں قیام کے بعد اگلے روز گلگت کے لیے روانہ ہونا تھا۔ اہلیان روندو جو کہ مہمان نوازی اور شجاعت کے حوالے سے یکتا اور یگانہ ہیں نے چھ سات گائے ذبح کرنے کے باوجود کھانا پڑ گیا تھا۔ او ر حسن اتفاق سے کچھ زیادہ جذبات میں آکر دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا البتہ بیگ میں کچھ خشک فروٹس تھے لیکن وہ سب کے سامنے کیسے کھائیں۔ باہر کسی دکان میں جا کر بسکٹ وغیر ہ سے پیٹ کی آگ بجھائی اور واپس امام بار گاہ میں پہنچ گئے تو اس تحریک کو رونق بخشنے والے حاجی پٹھان ماحول کو گرما رہے تھے۔ میں بھی کسی کونے میں دبک کے بیٹھ گیا صبح کی آذان ہوگئی لیکن نیند ندارد ۔ سخت ترین سردی اور شدید برفباری روندو میں ہمارے انتظار میں تھی۔ اس برف میں گاڑی چلانا بھی ایک عذاب سے کم نہ تھا ۔ صبح کی نماز مشکل سے ادا کرنے کے بعد دوبارہ سونے کی کوشش کی تو لانگ مارچ کے شرکاء کی خوش گپیاں بھاری ہوگئیںِ یہ تمام رات ٹھٹھرٹھٹھر کے گزار ی اور صبح کے ناشتے کے بعد دوبار ہ عازم سفر ہونے کو تھے کہ گلگت سے ایکشن کمیٹی کے سربراہ مولانا سلطان رئیس کی طرف سے پیغام آیا کہ دو بجے تک مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا دو دور بے نتیجہ ختم ہو ئے ہیں اس کے بعد لانگ مارچ کا فیصلہ دیں گے۔ اس موقع پر روندو کے عوام امڈ کے آئے اور احتجاجی جلسے بھی ہوئے۔دو بجے کے بعد مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے بعد حکم ہوا کہ قافلہ واپس جائے گا۔ لانگ مارچ کے خوف کی وجہ سے حکومت مذاکرات کی ٹیبل پر آگئی تھی ۔ دوسری طرف اس مذاکرات میں کامیابی میں پاکستان آرمی کا بھی غیر معمولی کردار سامنے آیاہے ۔ ایف سی این اے کمانڈر ہی کی ضامن پر انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کا سمجھنا تھا کہ حکومت پر کوئی اعتماد نہیں اور مذاکرات کے دھوکہ دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ اس پرگھٹن ماحول میں پاکستان آرمی نے ایک بار پھر پاکستان کو درپیش بحران سے نکالنے میں مثبت کردا ر ادا کیا۔

اس موسم میں رات کے نو بجے جب ہم واپسی پر اسکردو شہر میں داخل ہوگئے تو کچورا سے حسینی چوک تک ہزاروں مرد و زن استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہماری واپسی کی خبر پھیلتے ہی عوام گاڑیوں میں پیدل ہمارے انتظار میں تھے۔ مختصر یہ کہ رات گیارہ بجے قریب جب حسینی چوک انجمن تاجران کے آفس کے سامنے پہنچے تو عوام نے اپنے محبوب قائد غلام اطہر کو دائرے میں لے کر نعرے لگارہے تھے ۔ اس وقت جشن کا منظر تھا ،ابھی محبوب قائد آغا علی رضوی کا انتظار ہو رہا تھا اتنے میں فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ جگمگاتے جوانوں کے دائرے میں مجمع میں داخل ہوگئے ، انکی آمد کا اعلان سٹیج سے کیا گیا عوام ان کی طرف جھپٹ پڑے ان سے گلے ملے انکے عمامے چومے ، محبتوں کے اظہار کے ساتھ انہیں سٹیج پر پہنچایا گیااس دوران آغا آپ پے درود و سلام کے نعرے بلند ہوتے رہے۔اسٹیج پر احمد چو، راجہ جلال حسین مقپون، وزیر عدیل شگر کے علاوہ آغا علی رضوی اور غلام اطہر نے خطاب کرکے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ واپس کیا ہے کل سے احتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ٹیکس کے خاتمے کا نوٹیفیکیشن ہمارے ہاتھ میں نہیں آتا۔ ادھر گلگت میں مولانا سلطان رئیس کی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کے سبب ہر قسم کی علاقائی ، لسانی اور مسلکی تعصب کو ابھرنے نہ دیا۔ حکومتی مشینری یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ بلتستان والے شیعہ گلگت کے سنی وزیراعلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اس تحریک میں شیعہ ، سنی، دیوبندی، اہلحدیث، نوربخشیہ سب ایک ہو چکے تھے۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی دفن ہو گئی تھی۔ داریل ، تانگیر،چلاس، غذر، ہنزہ ،نگر،اور بلتستان کے تمام مسلم لیگ نون کے عوام دشمن فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگئے تھے۔ ابھی جی بی بھر میں احتجاج جاری ہے اور یہ نوٹیفکیسن ملنے تک جاری رہے گا بلتستان میں ہڑتال میں نرمی لائی گئی ہے۔ اس تحریک میں تمام سیاسی ،سماجی و مذہبی جماعتیں شریک تھیں۔

اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ اس یخ بستہ سرد موسم میں جب انسان اور جاندار تک سوکھ جاتے ہیں ہم نے اس بلند چوٹیوں کی بیچ محبت کے پھول کھلتے دیکھے ہیں ، قربانی کی کلیاں چٹکتی دیکھی، اتحاد کی خوشبو پھیلتی دیکھی،عزم و ارادے کا چمن مہکتے دیکھا، حوصلوں کا سورج طلوع ہوتے دیکھا، امید کی کرنیں پھوٹتی دیکھیں، خوشیوں کی بہار آتے دیکھی، فتح کا سہرا سجتے دیکھا، نفرت کی راتیں ڈھلتی دیکھیں،وفاداری کا کونپل پھوٹتے دیکھا، سیادت کا چہرہ دمکتے دیکھتا ،شجاعت کا موسم آتے دیکھا،پیار کی گھٹائیں چھاتی دیکھی،جیت کا نغمہ گاتے دیکھا، غریب کا آنسو تھمتے دیکھا، مظلوم کی فریاد سنتے دیکھی اور ظلم کا محل گرتے دیکھا،ناانصافی کے قدم ڈگماتے دیکھے،نفرت کی دیواریں گرتی دیکھی، غرور کا بت گرتے دیکھا، حکمرانی کا تخت لرزتے دیکھا،سازشوں کی کشتی ڈوبتے دیکھی، حاکم کا چہرہ بجھتے دیکھا،فرقہ پرستی کا تراشیدہ بت چٹخ کے زمیں بوس ہوتے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔سال رفتہ کا دسمبر تو کتنا مہربان تھا تو میری زندگی میں پھر پلٹ آئے گا۔ اے 2017کا دسمبر تیرا اس عوام پر بہت احسان ہے ۔ تیرا لطف بہت عجیب تو لوٹ کے آنا ، تو لوٹ کے آنا۔۔۔ آخر میں اس تحریک کی جان اور عوامی قائد آغا علی رضوی کی نذر چند اشعار کیساتھ اجازت چاہوں گا۔

یہ تیرا جمال کامل، یہ شباب کا زمانہ
دل دوستان سلامت، دل دشمناں نشانہ
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ


تحریر: عبداللہ گانچھے
بشکریہ: ماہانہ افکار العارف

وحدت نیوز (سکردو) انجمن تاجران اسکردو کا وفد اسلام آباد میں وفاقی حکومت سے کامیاب مذاکرات اور غیر قانونی ٹیکس کی معطلی کےبعد اسکردو پہنچنے پر انکا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ انجمن تاجران کے استقبال کے لیے سینکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل ہزاروں افراد کا سمندر امڈ آیا۔ ریلی میں صوبائی حکومت کے خلاف اور انجمن تاجران و عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ ریلی شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی یادگار شہداء اسکردو پہنچ کر ایک عظیم الشان عوامی جلسے کی شکل اختیار کرگئی۔ استقبالی ریلی اور جلسے میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں تاجر تنظیموں کے علاوہ بلتستان ڈویژن کے چاروں اضلاع کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے رہنماوں اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ یادگار چوک پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل اور عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے چیئرمین آغا علی رضوی نے کہا ہے کہ عوام نے ووٹ دیکر نمائندوں کو وفاق سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے منتخب کیا تھا نہ کی حقوق غصب کرنے کے لئے ایوانوں میں بھیجا ہے۔ ٹیکس نفاذ کے خلاف آواز اٹھانا جی بی کونسل اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کا کام تھا۔ ان کی بجائے یہ کام عوام نے کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے منتخب نمائندے عوام کے جائز حقوق کا تحفط کرتے اور ٹیکس کے خلاف آواز اٹھاتے۔ لیکن الٹا ٹیکس کے نفاذ کی حمایت کی۔ میں نمائندوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ٹیکس ایکٹ 2012ء ٹیکس ایڈپشن ایکٹ کی معطلی کے بعد 2018ء میں نئے ایکٹ لانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، کونسل اور اسمبلی ممبران کے پاس موقع ہے کہ وہ اب بھی اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے عوامی حقوق کے دفاع کے لئے سامنے آئیں اور جی بی میں کسی بھی قسم کے ٹیکس کو لگنے نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے خلاف آواز اٹھانے والے قائدین اور جوانوں کو شیڈول فور اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائی کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ حکمران اور اعلٰی انتظامی سربراہان کان کھول کر سن لیں، اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے والے کسی بھی رہنماء یا جوان کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی تو گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام خاموش نہیں رہیں گے۔

اس موقع پر انجمن تاجران اسکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں گلگت بلتستان میں ٹیکس نفاذ کی کوشش تو دور کی بات سوچنا بھی نہیں، ورنہ یہ حالات نہیں رہیں گے۔ اگر جی بی میں دوبارہ سے کسی بھی شکل میں ٹیکس لگانے کی کوشش کی گئی تو تمام 10 اضلاع کے ہر چوک چوراہے اور سڑک میں ایسے دھرنے دیں گے، نہ کسی کی گاڑی چلے گی اور نہ کوئی بھی شخص حرکت کر سکے گا۔ ہم نے واضح طور پر حکمرانوں کو بتا دیا ہے کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی شکل میں ٹیکس کا نفاذ قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں، ہم پاکستان کے عاشق ہیں، پاکستان ہم سے محبت کرے یا نہ کرے۔ ہم پاکستان سے محبت کرتے رہیں گے۔ بیوروکریسی کی خواہش تھی کہ انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کو تین ماہ تک جی بھی ہاوس میں بغیر کرائے کے رکھا جائے، لیکن ہم نے ان کی امیدوں پانی پھیر دیا۔ جی بی کونسل اور اسمبلی ممبران کی طرح عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے عیاشیاں کرنا ہم نہیں چاہتے۔ ان ممبران کونسل اور اسمبلی کو شرم آنی چاہیے جو ہم سے پوچھتے تھے کہ آپ کا مسئلہ کہاں پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن وزراء اور منتخب نمائندوں نے اس اہم عوامی ایشو کو حل کرنے کے لئے ہمارا ساتھ دیا اور بھرپور جدوجہد کی، ان کی کوششوں کو نہ سراہنا بھی زیادتی ہوگی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے غیر آئینی ٹیکس کے خاتمے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے گلگت بلتستان کے عوام کی اصولی موقف کی فتح قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اینٹی ٹیکس موومنٹ کی کامیابی کا سہرا عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے سربراہ مولانا سلطان رئیس، انجمن تاجران کے سربراہ غلا م حسین اطہر ، ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا سید علی رضوی،مذہبی و سیاسی رہنماؤں سمیت عوام کو جاتا ہے جنہوں نے حکومت کی جانب سے ٹیکس کی جبری وصولی کے خلاف موسم کی شدت کی پروا کئے بغیر جرات مندانہ آواز بلند کی۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے غیور عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ کوئی بھی دنیاوی طاقت ان کے اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹا سکتی ۔یہاں کے عوام کو ان کا آئینی حق دیے بغیر کسی بھی قسم کے ٹیکس کی وصولی کا کوئی جواز نہیں۔نڈر قیادت اور عوامی قوت نے یہ ثابت کیا ہے کہ حکومتی جبرعوامی استقامت کا سامنا کرنے کی جرات نہیں رکھتا۔انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے آئینی حقوق کے حصول کے لیے اسی ثابت قدمی کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ وہ جی بی کے عوام کے ہر آئینی اقدام کی حمایت کرتے ہوئے ہر میدان میں ان کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیرکے ڈپٹی سیکر یٹری جنرل مولانا غلام محمد فاضلی نے ضلعی سیکرٹریٹ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نہ صرف ٹیکس سے مثتثنیٰ  ہے بلکہ حکومت پابند ہے کہ وہاں 28 بنیادی ضرورت کی اشیاء پر عوام کو سبسڈی دے۔ اس وقت تک کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہ ہو جائے اور اس خطے کو کوئی آئنی حیثیت مل جائے، مگر افسوس کہ عوام گلگت بلتستان کی نہ صرف سبسڈیز ایک کے بعد ایک ختم کر دی گئیں بلکہ اُن کے اُوپر ٹیکسز کا بوجھ بھی ڈالناڈال دیاگیا، گلگت بلتستان کوجب حقوق دینے کی بات ہو تو اقوام متحدہ کی قراردادیں اور مسئلہ کشمیر آڑے آجاتی ہیں مگر حقوق غصب کرتے ہوئے انکو کوئی عار محسوس نہیں ہوتی،کئی دن سخت سردی میں احتجاج کے باوجود عوام گلگت بلتستان کی کوئی شنوائی نہ ہونا لمحۂ فکریہ ہے،مجلس وحدت مسلمین کاہر کارکن گلگت بلتستان کی عوام کےساتھ شانابشانہ کھڑا ہے، گلگت بلتستان میں پانچ روز سے جاری احتجاجی تحریک کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کی اینٹی ٹیکس موومنٹ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے تسلیم کیا جائے اورخطے کے عوام کے دیرینہ مطالبات پورے کیے جائیں۔گلگت بلتستان کے لوگوں کا سی پیک میں جو حق بنتا ہے اس میں کسی بھی قسم کی بد دیانتی ناقابل قبول ہے۔جو سازشی عناصر اس خطے میں بسنے والوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان اور فاٹا کے عوام کو آئینی حقوق سے دور رکھنا نا انصافی ہے۔ کسی بھی ملک میں بسنے والے افرادکو سیاسی و معاشرتی اعتبار سے یکساں حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔قبائلی علاقہ جات اور گلگت بلتستان کی عوام کا حصول پاکستان کے لئے جدوجہد میں اہم اور نمایاں کردار رہا ہے۔انہیں سیاسی دھارے سے دور رکھنے کی کوشش کرنے والے ملک و قوم کے خیرخواہ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں ایف سی آر کے کالے قانون سے چھٹکارا دلانے اور آئینی حقوق دینے کے لیے اصلاحات پر عمل درآمد میں تاخیر افسوس ناک ہے۔ملک کے محب وطن افراد میں مایوسی پیدا کی جا رہی ہے جو قومی وحدت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گی۔ اس اہم مسئلے کو پارلیمنٹ میں عوامی امنگوں کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ گلگت بلتستان کے مسئلے پر سیاست چمکانے کی بجائے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مثبت فیصلہ سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ملک دشمن طاقتیں عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ارض پاک میں چھوٹے چھوٹے ایشوز کو پہاڑ بنا کر پیش کر رہی ہیں تاکہ پاکستان کو ایک غیر مستحکم ریاست ثابت کیا جا سکے۔ایسی صورتحال میں مقتدر اداروں کو دانشمندی اور بصیرت کا ثبوت دینا ہو گا۔عوام کے مسائل اور مطالبات کودانستہ نظر انداز کرنے کا مطلب ان قوتوں کو خوش کرنا ہے جو گلگت بلتستان کے عوام کو اضطراب میں دیکھنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلگت کے عوام کا آئینی حق دیے بغیر ٹیکسز کے نفاذ پر احتجاج اصولی ہے۔معدنی ذخائر و دیگر اعتبار سے گلگت بلتستان میں بے پناہ وسائل موجود ہیں۔جن سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے گلگت بلتستان کی بھی حصہ داری ہونی چاہیے۔ دنیا بھر کی مختلف ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں ۔گلگت بلتستان دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جو گزشتہ ستر سالوں سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کر رہا ہے۔لیکن سیاسی حکومتیں اس الحاق کے لئے راہ ہموار کرنے کی بجائے مسلسل رکاوٹیں پیدا کرتی آئی ہیں۔جو سراسر زیادتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مطالبات کی منظوری ان کے حب الوطنی میں اضافے کا باعث ہو گی اور یہ پاکستان کے لیے دفاعی ،معاشرتی اور معاشی طور پر بھی نفع بخش ثابت ہو گا۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) گزشتہ پانچ دنوں سے میرا خطہ گلگت بلتستان ایک بار پھر احتجاجات اور ہڑتالوں کی زد میں ہیں اس سے قبل گزشتہ ماہ منتخب نمائندوں کے وعدے پر احتجاجات کے سلسلے کو روک دیا گیا تھالیکن پورے ایک مہینے کے قریب صبر کرنے اور بھرپور موقع فراہم کرنے کے باوجود وزیر اعظم پاکستان اور ان کے مقامی معتمدین اپنے وعدے وفا نہیں کر سکے۔

علاقہ ستر سالوں سے بنیادی شہری حقوق اور آئینی تحفظ کی ڈیمانڈ کرتی رہی ہےاور ہر بار عوام اسی لئے نمائندوں کو ووٹ دیکر منتخب کرتے ہیں کہ وہ ان کو انکے جائز حقوق دلانے کیلئے کوشش کریں. اہم مسئلہ کشمیر کا ہے جس کیساتھ نتھی کرکے اس خطے کو تا حال نہ تین میں نہ تیرہ میں رکھاگیا. کشمیر کے پاکستانی حصے کو تو نیم خودمختار حیثیت دے چکا, اور وہاں کے عوام اس کو بھی غنیمت سمجھتی ہے, لیکن ہم گلگت بلتستان والے نہ تو کسی صوبے کا حصہ ہے, نہ خودمختار. اور لاکھوں عوام کے کے پاس شناختی کارڈ ہونے, بلا روک ٹوک کے آنے جانے اور دیگر شہریوں کی طرح شناخت ہونے کے باوجود اس موجودہ سیٹ اپ کو کسی طرح سے آئینی تحفظ بھی حاصل نہیں ہے،اس طرح یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جو کسی قانون کے تحت کسی ملک کا باقاعدہ حصہ نہیں. پاکستان اور چائنہ کے درمیان اقتصادی راہداری(سی پیک) منصوبے کو یوں تو حکومت پاکستان اپنے لئے معجزہ سمجھتی ہےاور یہ راہداری منصوبہ آغاز ہی گلگت بلتستان سے ہوتا ہے جس کو اب تک پاکستانی آئین اپنا حصہ نہیں سمجھتی،ظاہرا گلگت بلتستان کے عوام نے بھی اسوقت تک اس اہم ترین ایشو پر کوئی تحریک چلائی نہ اس میں اپنا حصہ مانگا، بلکہ جو وفاقی حکومت چاہتی ہے وہی کچھ ہوتا رہا ہے اور شاید ایسا ہی ہوتا رہے. ان کو بخوبی معلوم ہیں اس خطے کے عوام شریف ہیں، ان کے اوپر یس سر کے عادی لوگوں کو حکمران بنوائے ہوئے ہیں جو کہ وفاقی سکریٹری تک سے کیوں کہنے کی جرات نہیں رکھتےایسے میں حکمران اشرافیہ کی بیوقوفی کہیں یا کچھ اوراس اہم ترین خطے کے عوام کو زیادہ سے زیادہ مراعات دیکر خوشحال بنانے کی بجائے گزشتہ حکومت کی جانب سے لایا ہوا ٹیکس ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012 کو بھی لاگو کرکے یہاں کے عوام کو تحریک چلانے پر مجبور کر دی۔

ہماری عوام کو بھی اس بات کا بخوبی علم ہے اور اگر نہیں تو ہونی چاہئے کہ اب تک کسی بھی سرکاری کاغذات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ سی پیک میں گلگت بلتستان کیلئے بھی کوئی منصوبہ رکھا ہو. بلکہ خبر ہے کہ پہلے سے موجود سوست پورٹ کو بھی یہاں سے اٹھا کر حویلیاں منتقل کی جارہی ہے. دوسری طرف اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو بھی دو لخت کرکے عوام کو لڑانے کی تیاریاں بھی اندرونی طور پر ہورہی ہیں. ان باتوں سے یہی سمجھ آتی ہے کہ چین کی طرف سے پاکستان کو معاشی مفادات ملنے سے جن قوتوں کے پیٹ میں مڑوڑ اٹھ رہی ہیں وہی قوتیں پاکستان کے اداروں میں بیٹھے اپنے ہمدوروں کو بہتر استعمال کر رہے ہیں. گلگت بلتستان میں افراتفری کے ممکنہ فائدے انہی قوتوں کو ہی ہوسکتے ہیں جو جنوبی ایشیا میں اپنی چوہدراہٹ قائم رکھنا چاہتی ہے۔

معاملہ اتنا گھمبیر نہ ہوتا اگر مقامی اسمبلی میں بیٹھے ایک سکریٹری کے اشاروں پر ناچنے والوں میں سے ایک دو ہی جرات کا مظاہرہ کرتے. انکے آقاوؤں سے کہتے کہ جی اس خطے کو امن و امان میں رکھنا نہ صرف ہماری سیٹوں اور حکومت کی بقا کیلئے ضروری ہے, بلکہ سی پیک سمیت پاکستان کو معاشی طور پر فایدہ ملنے والے منصوبوں کے دوام کیلئے بھی بے حد ضروری ہے۔۔۔۔۔۔لیکن جسطرح بیرونی اشاروں پر ناچنے والے وفاق کے کرتا دھرتا مفادات کیلئے یس سر کہنے سے نہیں چوکتے, انہی کو مچھلیاں اور خشک میوہ جات بھیجنے والے مقامی بھی ان کی خوشنودی کیلئے اپنی سیاسی موت کا سامان ثابت ہونیوالی بیوقوفیوں کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

اگر مقامی منتخب نمائندوں کے پاس عقل و شعور ہوتے تو ٹھٹھرتی سردی میں ہزاروں عوام کی مسلسل احتجاج, اور چار دنوں سے پہیہ جام شٹر ڈاون ہڑتال کے بعد کم از کم بلتستان کے نمائندے اپنی وزارتوں کی کرسی کو لات مار کر عوام کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوجاتے یقین کریں کم سے کم اگلے الیکشن میں سیٹ انکی پکی ہوجاتی, اور انکی نسلیں ان کے اوپر فخر کرتے۔۔۔۔لیکن اپنے ہی ووٹرز کو اپنی نا اہلیوں پر چیختے چلاتے اور مردہ باد کے نعرے لگاتے دیکھ کر بھی یہ طفل تسلیوں میں لگے ہوئے ہیں اور ایک نا اہل سے وفاداری اور اسکی نمک حلالی پر تلے ہوئے ہیں. ان کو گزشتہ حکومت کا حشر بھی یاد ہے, اپنے قائدین کی نا اہلی تو تازہ تازہ واقعہ ہے, جس سے پتہ کسی اندھے کو بھی پتہ چل جاتا ہے کہ کئی بار وزارت عظمیٰ پر رہنے کے باوجود بھی سڑکوں پر آکر اپنی نا اہلی کے خلاف رونا پیٹنا پڑجاتا ہے۔

 اس لئے ان لوگوں کو یاد دہانی کیلئے بقول شاعر۔۔۔۔
کرسی ہے تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

میں ان سطور کی توسط سے مقامی رہنماؤں کو بھی یہ بات باور کرانا چاہتا ہوں کہ ہمارا مسئلہ نہ پچھلی حکومت کیدور والا گندم کا ایشو تھا, نہ اب صرف ٹیکس ہے. گندم سبسڈی بھی ہمارا حق تھا اور ٹیکس کی مخالفت بھی ہمارا حق ہے, لیکن ان ایشوز کیساتھ حکومتیں آتی رہیں گی, ہم یوں ہی اپنے عوام کو لیکر نکلتے رہیں گے... لیکن اصل مسئلہ جو ہماری بنیادی شہری حقوق کا ہے, آئینی حیثیت یا خود مختار علاقے کے قیام کا, جب تک یہ طے نہ ہوجائے ہمیں بھینس کے آگے بینڈ بجاتے رہنا پڑیگا. ہماری آواز بہت زیادہ اٹھی تو وزیر اعلیٰ کی طرفسے سکریٹری اور سکریٹری کی طرف سے وعدے تک ٹلتا رہے گا اور بہت زیادہ بڑھ جائے تو شاید وزیر اعظم تک پہنچ جائے جو خود ایک نا اہل شدہ بندے کے اشاروں پر چلتا ہیاور اپنی کوئی حیثیت و شخصیت نہیں رکھتا،کم سے کم اس حالیہ تحریک سے جو نتیجہ نکلنا چاہئے وہ ٹیکس کے خاتمے کے ساتھ مقامی اسمبلی کے انتخابات کو وفاقی الیکشن کے ساتھ منعقد کرنے کو یقینی بنانے کی صورت میں نکلنا چاہئےتاکہ آئندہ کیلئے وفاقی حکومت کے زیر تسلط ہونیوالے الیکشن کے خمیازے سے بچ سکیں کیونکہ وفاق میں موجود حکومت کی وجہ سے ہی مقامی لوگ مفادات کیلئے ضمیر فروشی کرنے سے لیکر عوام کو سبز باغ دکھا کر ناجائز فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔


تحریر : شریف ولی کھرمنگی

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree