وحدت نیوز (آرٹیکل) اس بھیانک ناکام منصوبہ بندی کی تفصیل جس کے تحت علی عبد اللہ صالح نے انصار اللہ (حوثیوں) کے خلاف بغاوت کی تاکہ وہ دوبارہ سے یمن کا بلا شرکت غیرے حاکم بن جائیں، اور اپنے بیٹے کو جو اس وقت عرب امارات میں مقیم ہیں یمن کا صدر بنایا جائے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:۔ انصار اللہ کے خلاف بغاوت کی پلاننگ اب سے تقریبا 8مہینے پہلے ہوئی۔ اس پلاننگ میں محمد بن زاید(ابوظبی کا ولی عہد)، جنرل شاول موفاز(سابق اسرائیلی وزیر دفاع)، محمد دحلان کے علاوہ علی عبد اللہ صالح شریک تھے۔ ان سب کے علاوہ مقتول یمنی صدر صالح کے بیٹے احمد علی عبد اللہ صالح نے اس میٹنگ میں خصوصی شرکت کی۔۔

ساری پلاننگ ابوظبی میں ہوئی، جس میں بغاوت کی ساری تفصیلات محمد بن زاید کی طرف سے طے کی گئیں۔ اس کے بعد مزید میٹنگز کے لیے سقطری کے خوبصورت جزیرے کا انتخاب کیا گیا جسے سابق یمنی صدر عبد ربہ منصور نے اماراتیوں کو بیچا تھا۔ اس جزیرے میں لگ بھگ 9دفعہ ان کی میٹنگز ہوئیں، جن میں جنوبی یمن میں تعینات اماراتی آفیسرز کے علاوہ اسرائیلی آفیشلز نے بھی شرکت کی جن کے نام شاوول موفاز نے دئیے تھے۔

پلاننگ کے تحت علی عبد اللہ صالح کے قریبی 1200ساتھیوں کو عدن کے شہر میں موجود اماراتی فوجیوں کے اڈے میں خصوصی ٹریننگ دی گئی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کاصنعاکی بغاوت میں اہم کردار ہونا تھا اور ان کا تعلق علی عبد اللہ صالح کی پارٹی سے نہیں تھا۔ ان لوگوں کو سابق اسرائیلی فوجی آفیسرز نے بھی ٹریننگ دی۔۔ صنعا اور اس کے اطراف میں 6 ہزار لوگوں کو الگ سے ٹریننگ دینے کے لیے بجٹ منظور کیا گیا۔ محمد بن زاید کے کنٹرول روم نے فروری سے لے کر جون 2018تک، علی عبد اللہ صالح کے قریبی ساتھیوں کے ذریعے، تقریبا 290ملین ڈالرز عدن سے صنعا منتقل کئے۔یہ اس100 ملین ڈالرز کے علاوہ ہے جو اگست اور اکتوبر کے مہینے میں علی عبد اللہ صالح کو دئیے گئے۔۔

طے پایا کہ 24اگست 2017کوبغاوت کرنا ہے۔ لیکن اماراتی اور اسرائیلی آفیسرز نے بعد میں کاروائی کو آگے کی کسی تاریخ تک موخر کر دیا۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ عبد اللہ صالح کے لوگ ابھی مکمل تیار نہیں ہوئے تھے۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ انصار اللہ کے حوثیوں تک اس پلاننگ کی خبر پہنچ چکی تھی، لہذا انہوں نے دار الحکومت اور اس کے اطراف میں اپنا قبضہ مضبوط کر لیا تھا۔ جو آفیسرز اس پلاننگ میں شامل تھے اب انہوں نے فیصلہ کیا کہ دار الحکومت صنعا اور اطراف میں 8 ہزار لوگوں کو مسلح تربیت دی جائے ۔ اس مقصد کے لیے مقامی ٹرینرز کے علاوہ، داعش سے بھاگے ان16 افراد سے بھی مدد لینے کا فیصلہ ہوا جو اس وقت عدن میں موجود تھے جو جنگی امور اور امداد میں ماہر تھے۔ان سب کے علاوہ چار سابق اسرائیلی آفیسرز بھی تھے جو اماراتیوں کی مدد سے علاقے میں پہنچے تھے۔

دار الحکومت صنعا کے49 خفیہ مقامات پر اسلحہ چھپایا گیا تاکہ کاروائی کے وقت افراد کے درمیان ضرورت کے تحت تقسیم کیا جا سکے۔ کس وقت کاروائی کا آغاز ہو نا ہے وہ سب سے چھپا کررکھا گیا تاکہ انصار اللہ کو سرپرائز دیا جا سکے تا کہ مقابلے میں وہ لوگ فوری طور پر کوئی دفاعی قدم ن اٹھا سکیں۔ یہ پلاننگ انتہائی احتیاط کے ساتھ ، بہت زیادہ سوچ وبچار سے کی گئی ۔ فنی اور دفاعی حوالے سے یہ ایک مکمل منصوبہ تھا۔

یہی وجہ تھی کہ علی عبد اللہ صالح 3 دسمبر تک انصار اللہ کے سامنے لچک دکھانے کو تیار نہ تھے، چونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے پاس اسلحے کی اور لڑنے والوں کی کمی نہیں۔ اسے گمان تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ 6گھنٹے میں دار الحکومت پر قبضہ کرلیں گے۔ جب انصار اللہ کی قیادت کو یقین ہو گیا کہ اب بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں رہا، تو انہوں نے مذاکرات کرنے والوں سے کہا کہ وہ علی عبد اللہ صالح کو ملک سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کو تیار ہیںلیکن شرط یہ ہے کہ وہ ہمارے خلاف بغاوت سے باز آئیں۔

اگر اس بات کو نہیں مانتے تو ہم صنعا اور اس کے اطراف کو صرف 3گھنٹوں میں اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں۔ اور پھر 2 اور 3 دسمبر کو یہی کچھ ہوا۔ جب صنعا میں حالات علی عبد اللہ صالح کے بالکل خلاف ہوگئے ، وہ بھاگنے پر مجبور ہوا۔ اس حوالے سے اپنے بیٹے کے ذریعے متحدہ عرب امارات کے ساتھ پہلے سے ہم آہنگی کی گئی۔ جب علی عبد اللہ صالح کا قافلہ صنعا سے نکلا تو امارات کے جنگی جہاز ان کی فضائی نگرانی اور حفاظت پر مامور تھے۔

اس قافلے میں صالح کی بکتر بند گاڑی کے علاوہ تین بکتر بند گاڑیاں آگے اور تین پیچھے حفاظت پر مامور تھیں۔ ان کے علاوہ جدید اسلحے سے لیس مختلف ٹیوٹا پک اپس بھی ساتھ ساتھ حفاظت کی خاطر چل رہی تھیں۔سعودی اتحاد نے صنعا سے لے کر سنحان تک صالح کے راستے میں آنے والے انصار اللہ کے مختلف چیک پوسٹس پر فضائی حملے کئے۔صالح سنحان جا رہا تھا۔ سنحان پہنچنے سے پہلے ، مآرب کے راستے میں انصار اللہ اور قبائل کے مجاہدین کمین لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے قافلے پر ٹینک شکن میزائلوں کی بارش کر دی۔ اس کے علاوہ بھاری ہتھیاروں سے انتہائی قریب سے حملہ کیا گیا۔

ان کی کوشش تھی کہ علی عبد اللہ صالح کو زندہ گرفتار کر لیا جائے ۔ سعودی اتحاد کے طیاروں نے بھی اسی جگہ پر بمباری شروع کر دی تاکہ انصار اللہ کے مجاہدین کو عبد اللہ صالح کو گرفتار کرنے سے روکا جا سکے۔ چونکہ انہیں ڈر تھا اگر صالح گرفتار ہوا تو امارات، سعودی عرب اور اسرائیل کی اس سازش سے پردہ اٹھ جائے گا۔در حقیقت عبد اللہ صالح کو مارنے کا فیصلہ سعودی اتحاد کی طرف سے ہوا تاکہ اسرائیل کے ساتھ اپنے براہ راست عسکری تعاون پر پردہ پڑا رہے۔


تحریر: محمد صادق الحسینی
مترجم: عباس حسینی

وحدت نیوز(قم المقدسہ)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و سیکرٹری امور خارجہ ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی  نے حوزہ علمیہ قم کے مدرسہ رسول اعظم میں پاکستان طلاب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کی امید ہیں اور ملت پاکستان کی امیدیں اس وقت علماء سے وابستہ ہیں ۔ آپ لوگوں کو چاہیے کہ اپنے آپ کو انقلاب اسلامی و رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے ساتھ متمسک رکھیں اور نظام ولایت فقیہ کو نہ فقط سمجھیں بلکہ اس عالمی نہزت کا حصہ بنیں۔ انہوں نے یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سعودیہ نے فضائی حملے نہ روکے تو آئندہ چند دنوں میں حوثی انقلابی سعودیہ کے اندر تک پیش قدمی کر سکتے ہیں اور انصاراللہ اس خطے کے اندر حزب اللہ کے ہم پلہ طاقت ہے۔ علاوہ ازیں گلگت بلتستان الیکشن کے حوالے سے طلاب کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خطہ شیعان حیدر کرار کا خطہ ہے اور وہاں پر حکومت کا حق بھی شیعوں کو ہے ہم وہاں کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں ان کے آئینی حقوق دلانے کے لئے ہر ممکن حد تک جائیں گے۔ اور ہم پر امید ہیں کہ آئندہ الیکشن کے اندر موالیان حیدر کرار کی حکومت بنے گی۔ اس نشست میں مجلس وحدت مسلمین شعبہ قم کے قائمہ مسئول اور حجتہ الاسلام آقائے شیخ گلزار جعفری و دیگر اساتذہ کرام نے بھی شرکت کی۔

وحدت نیوز (اسکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان بلتستان ڈویڑن کے سیکریٹری جنرل آغا سید علی رضوی نے ڈویژنل سیکرٹریٹ میں یمن کی تشویشناک صورتحال پر ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سعودی عرب کی جانب سے یمن پر فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور چونکہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کررہا اس لیے پاکستان کو ہرگز یمن کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ سعودی عرب نے ماضی میں بھی اس روش پر عمل کی ہے اور مصری حکومت کے خاتمہ میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا، سعودی عرب ہی وہ ملک ہے جس نے امریکہ کے ساتھ مل کر شام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی، پاکستان، عراق، افغانستان، یمن سمیت دیگراسلامی ممالک کے نامساعد حالات کے ذمہ دار سعودی عرب ہے انہوں نے وطن عزیز پاکستان کو فرقہ واریت اور دہشتگردی میں دھکیل کے رکھ دیا ہے۔اس موقع پر ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مظاہر علی موسوی، سیکریٹری فلاح وبہبود علامہ احمد علی نوری ، فدا حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔

 

آغا علی رضوی نے مزید کہا کہ دفتر خارجہ کی ترجمان کے مطابق سعودی عرب نے یمن میں تحریک انصاراللہ کے خلاف لڑائی میں اتحاد کا حصہ بننے کے لئے پاکستان سے رابطہ کیا ہے، اس سلسلے میں ہم پاکستانی حکمرانوں کو باور کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو فرقہ واریت کی جنگوں میں ملوث نہیں ہونی چاہئے، اس سے نہ فقط پاکستان کا امیج خراب ہوگا، بلکہ داخلی طور پر دہشتگردی کا شکار ملک کو مزید مشکلات آئے گی۔پاکستان مقروض اور مجبور ملک ہے ،ہماری خارجہ پالیسی ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتی، پاکستانی فوج صرف پاکستان کے دفاع کے لئے ہے، اگر پاکستانی فوج یمن میں گراؤنڈ آپریشنز میں حصہ لیتا ہے تو پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ تناو میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاک فوج پاکستان کا ایک مضبوط ادارہ ہے ، یہ اسلام کا لشکر ہے اور اس وقت پا کستانی فوج دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ جو کی ملکی سا لمیت اوراستحکام کی حفاظت کی جنگ ہے۔ لہٰذا نواز شریف اپنے ذاتی احسانا ت کا بدلہ چکانے کی خاطر ملکی سلامتی کو داو پر نہ لگائے۔انہوں نے حکمرانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا رویہ بدلیں ورنہ ہم اپنی قیاد ت کے حکم کے منتظر ہیں اور اگر ہماری قیادت اجازت دے تو ہم ملک گیر احتجاج کریں گے اور ان حکمرانوں کی نیندیں حرام کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یمن کے اندر سعودی عرب کی جارحیت انسانی حقوق ،عالمی قوانین اور پڑوسی ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہے،سعودی عرب اسرائیل کے ایماء پر پاکستان کو اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے جو انتہائی خطرناک ہے،پاکستان کے غیرت مند اور شجاع افواج رینٹ این آرمی نہیں جو کوئی بھی پیسوں کے بل بوتے پر خرید سکے۔

 

آغاعلی رضوی نے مشرق وسطیٰ کے ممالک خصوصاً خلیجی تعاون کونسل کو خبردار کیا کہ عمان کی پیروی کرتے ہوئے سعودی عرب کے اس ظالمانہ کاروائی میں شریک نہ رہے اورانکے ساتھ عسکری و سیاسی تعاون بند کرے۔کیونکہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ یمن کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے شدید خوفزدہ ہے۔ یمن میں امریکی سفارتخانے کا بند کیا جانا اور اس سے اہم یہ کہ وہاں موجود تمام اسناد و مدارک کو جلا دیا جانا اور حتی امریکیوں کے زیر استعمال اسلحہ کو بھی نابود کر دیا جانا، امریکہ کے شدید خوف کی نشاندہی کرتا ہے۔ صنعا میں امریکہ کے اہم انٹیلی جنس مراکز کی بندش ایک طرح سے یمن کے سیاسی حالات پر امریکی گرفت کے کمزور ہونے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے سلسلے میں امریکہ کی مایوسی کو ثابت کرتی ہے۔لہذا امریکہ یمن میں بلاواسطہ فوجی مداخلت سے اظہار عجز کرنے کے بعد یمنی عوام کے خلاف بالواسطہ سکیورٹی اور فوجی مداخلت پر مبنی اقدامات انجام دے رہاہے۔سعودی سلفی افواج کا یمن پر حملہ دراصل یمنی عوام کے ارادے اور آزادی پر حملہ ہے ،جب کہ یمنی عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں اور خالصتا عوامی تحریک انصاراللہ اور یمنی افواج کا سعودی و اسرائیلی پٹھو ہادی عبد الرب منصور کے خلاف حریت پسند تحریک چلانا عوامی حق خود ارادیت ہے اور اس کو دبانے کے لئے سعودی عرب نے یمنی عوام کو ٹارگٹ کیا ہے اور کل رات یمنی علاقوں میں جو شب خون مارا گیا اس سے سعودی سفاکیت کا واضح چہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔

 

انہوں نے عالمی اداروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کو چاہیے کہ وہ سعودی اور عرب ممالک کی اس بے جا مداخلت اور شب خون مارنے کے خلاف کاروائی کریں کیونکہ یہ یمن کے تشخص پر حملہ ہے، ہم اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سعودی عرب کی اس بڑھتی ہوئی جارحیت کو لگام دے اور یمنی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا پورا حق دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا بہتر فیصلہ کر سکیں۔انہوں کا مزید کہا کہ حکومت پاکستان ملک کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے اپنی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو برولے کار لائیں اور دوسروں کی جنگ میں شرکت ہو کر ملکی سلامتی اور داخلی وحدت کو درو پر نہ لگائیں۔

وحدت نیوز (مشہد مقدس) مجلس وحدت مسلمین شعبہ مشہد مقدس کے سیکریٹری جنرل  حجۃ الاسلام عقیل حسین خان نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی تمام بدبختیوں کی وجہ سعودی حکمران ہیں،اس وقت  دنیائے اسلام میں   تفرقہ اور  فساد کی جڑ سعودی عرب کے فاسق و فاجر  اور امریکہ  اسرائیل کے پٹھو اور اسرائیل کی حمایت میں مسلمانوں سے برسرپیکار ہیں ۔کیونکہ انہوں نے آج تک مسلمانوں کو تکفیریت اور انتشار کے علاوہ کچھ نہیں دیا   ۔جبکہ امریکہ اسرائیل کی خوشنودی کے لئے شام عراق لبنان فلسطین یمن کے خلاف علی الاعلان محاذ کھول رکھے ہیں لیکن انہوں نے بیت المقدس کی آزادی کے لئے آج تک   کچھ نہیں کیا بلکہ اسکے برعکس اسرائیل سے ساز باز کے زریعے حزب اللہ ،شام ،لبنان ،حماس کو ہمیشہ کمزور کرنےکی کوشش کی ہے۔

 

انہوں  نے کہا کہ اب  دینائے اسلام کے سامنے سعودی حکمرانوں کا ابلیسی چہرہ واضح ہو چکا ہے کیونکہ کل انہوں نے مصر میں اخوان المسلمین کی عوامی حکومت کو گرانے کے لئے اربوں ڈالر ز خرچ کر کے ایک ڈکٹیٹر کو مسلط کیا،جبکہ عراق شام لبنان   کی عوامی حکومتوں کو گرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اب یمن کے مظلوم عوام پر بارود برسایا جا رہا ہے۔اور اسکا انجام بھی انشاءاللہ بہت جلد سعودی بادشاہت کا خاتمہ ہے کیونکہ ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

 

علامہ عقیل حسین خان نے پاکستانی حکمرانوں کو بھی متنبہ  کیا کہ کسی بھی صورت میں یمن کی  جنگ کا حصہ نہ بنیں کیونکہ یہ جنگ سعودیہ نے شروع کی ہے  اور خود وہی اسکا نتیجہ  بھی بھگتے گا،جبکہ افغانستان میں امریکی جنگ  کا ہم حصہ بنے جسکا خمیازہ ابھی تک  پاکستانی عوام بھگت رہی  ۔اور اب کسی صورت میں پاکستان کے غیور عوام پاکستانی حکومت کو یہ غلطی دہرانے کی ہرگز اجازت نہیں دینگے۔

وحدت نیوز (صنعاء) تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک حوثی نے کہا ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی جارحیت، امریکہ اور صیہونی مفادات کی تکمیل کے لیے ہے، ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق عبدالملک الحوثی نے جمعرات کی رات ایک بیان میں یمن پر سعودی عرب کی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور سعودی عرب کو ظالم ہمسایہ قرار دیا- تحریک انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے کہا کہ یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے اور اس سے ان کی جارحیت اور وحشتی پن ظاہر ہوتا ہے- انہوں نے کہا کہ یمن پر سعودی عرب کے حملے صیہونی مفادات کی تکمیل کے لیے ہیں کیونکہ سب سے پہلے صیہونی حکومت نے انقلاب یمن پر تشویش کا اظہار کیا تھا- انہوں نے کہا کہ یمن میں اب سعودی عرب اور صیہونی حکومت کے مشترکہ مفادات وجود میں آ چکے ہیں- انہوں نے کہا کہ یمن پر حملہ کرنے والے عرب ممالک مغرب کی کٹھ پتلیاں اور پٹھو حکومتیں ہیں جو یمن کی تباہی اور اسکی تقسیم اور یمن کی قوم میں تفرقہ پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں- عبدالملک حوثی نے کہا کہ ان ملکوں نے یمن میں اپنے ایجنٹوں کو برسر اقتدار لانے کےلئے اربوں ڈالرخرچ کئے ہیں لیکن جب انہیں مالی، سیاسی اور میڈیا کی سطح پر ناکامی ہوئی تو انہوں نے اپنے مکروہ چہرے سے نقاب ہٹا کر یمن پر جارحیت شروع کر دی- انہوں نے کہا کہ جارح ممالک یمن پر حملے کر کے اس کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں-

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے امام بارگاہ مدینتہ العلم میں مشرق وسطیٰ خصوصاًیمن پر سعودی جارحیت کے موضوع پر سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین پر لاکھوں جانیں قربان لیکن مسلمانوں کی قاتل بادشاہت کا دفاع حرام ہے، یمن ، عراق ، شام ، لبنان ، ایران اور بحرین کے خلاف گھڑے کھودنے والے خود اس میں گرنے کیلئے تیار رہیں ، پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی اثرورسوخ ختم ہوچکا ہے، یمن خطے میں اسٹریٹیجکل نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، احادیث کی روشنی میں اہل یمن کو صاحبان عقل وایمان کہا گیا ہے، جبکہ آل سعودونجدیوں کو شیطان کا سینگ کہا گیا ہے،یمن میں 50لاکھ حوثی سادات مقیم ہیں ، جو امام حسن وحسین علیہ السلام کی اولاد ہیں ، کل آبادی کا 60%زیدی فرقہ پر مشتمل ہے، جنہوں نے ایک ہزار برس یمن پر حکومت کی ، یمنی حوثی انقلابیوں کو باغی کہنا ان کی توہین ہے، حوثی یمن کی سیاسی حقیقت ہیں جو وہا ں سیاسی دہارے کا حصہ رہے ہیں ، معزول یمنی صدرعلی عبد اللہ صالح خود حوثی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے، یمن میں رہائش پزیر اثناعشری اور اسماعیلی تعداد میں کم ہیں ، اہل سنت آبادی شافعی مسلک کی پیروکارہے، جن کی اکثریت حوثی تحریک انصار اللہ میں شامل ہے،انصار اللہ کے یمن پر کنڑول کے بعد تاریخ ساز نماز جمعہ کے اجتماع میں تمام حوثیوں نے شافعی اہل سنت امام کی اقتداء میں ملین کی تعداد میں شرکت کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یمن میں کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں ، یمن میں موجود وہابی القاعدہ ، داعش، اخوان المسلمون اور سعودیہ کے حامی ہیں ، جو کہ یمن میں افراتفری اور انتشار کے خواہاں ہیں ، حوثی انقلابی تحریک انصار اللہ کسی صورت القاعدہ ، داعش یا بوکو حرام کی طرح دہشت گرد گروہ نہیں بلکہ عوامی جدوجہد سے مضبوط جمہوری حکومت کی تشکیل میں کوشاں ہے، جن کے نذدیک فقط یمن کی سلامتی ، استحکام اور بقاء اہمیت کی حامل ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ 31برس تک سعودی مداخلت سے تکفیری عناصرنے یمن میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کی ،مجالس و محافل پر حملے ہوئے، مقتدر مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، سعودیہ نے یمن سمیت دنیا بھر ہو غیر مستحکم کرنے اور اپنی شہنشاہیت کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے القاعدہ کا ہیڈ کوارٹر یمن میں قائم کیا ، یمنی دارالخلافہ صنعاء میں سعودیہ نے اسلامک یونیورسٹی قائم کی گئی جس کا چانسلر اسامہ بن لادن کے استاد کو بنایا گیا، سعودیہ عرب جو آج یمن میں اپنی سرحدی سالمیت کے خاطر حملہ آور ہے کبھی غزہ کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں اسرائیل پر ایک پتھر تک نہ مارا،سلطنت عثمانیہ کے تخت کو تاراج کرنے میں کسی صہیونی اور امریکی ریاست نے نہیں بلکہ اسی سعودی حکومت نے اپنا کردار ادا کیا، مصر کی منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سرمایہ کاری کرکے مرسی کے اقتدار کا خاتمہ کرنے آمرجنرل سیسی کو برسراقتدار کرنے کاسہرا بھی اسی سعودی حکومت کے سر ہے، حرمین شریفین کا تحفظ کسی ایک مسلک نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ پر فرض ہے لیکن بے گناہ مسلمانوں کے قاتل نام نہاد خادم حرمین کا دفاع کسی صورت واجب نہیں ،سعودی سرحدوں کی حفاظت کے ٹھیکیدار اپنی اصلاح کرلیں یمنی مجاہدین نے سعودیہ پر حملہ نہیں کیا بلکہ سعودی افواج نے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے یمن میں فضائی بمباری کی سینکڑوں بے گناہ خواتین اور شیر خوار بچوں اور شہریوں کو بے دردی سے خاک وخون میں غلطاں کیا ہے، سعودی عرب کی خیانتوں اور جنایت کاریوں نے ثابت کردیا کہ وہ عالم اسلام کا اسرائیل ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ سعودیہ عرب ، امریکہ اور اسرائیل ہماری سیاسی طاقت سے خوفزدہ ہیں ، جس قوم کی سیاسی قوت نہیں ہوتی ٹھوکریں اس قوم کو مقدر ہوتی ہیں ، اگر آپ پاور کوریڈورمیں نہ ہوں تو آپ کی مرضی کے خلاف فیصلے ہونگے، انہوں نے کہا کہسید حسن نصراللہ نے مجھے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کا اسلحہ اٹھانا شرعاًحرام ہے،کیوں کہ بحیثیت سیکریٹری جنرل اگر ناصرعباس سے سوال ہو تو آپ کے سینے پر بوجھ نہ ہو، سید نے کہا کہ پر امن عوامی جدوجہد ہی حقوق کے حصول کا واحد راستہ ہے، ہمیں جمہوری جدوجہدسے اپنی فوج پر دہشت گردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کیلئے پریشر ڈالنا ہے، انہیں تکفیریت کے ناسور کے خاتمے پر مجبور کرنا ہے،یمنی حوثی بھی بالکل اسی انداز میں ڈیموکریٹک موومنٹ لیکر چلے ہیں جس میں یمن کی 90%عوام بلا تفریق ان کے شانہ بشانہ ظالم اور کرپٹ نظام حکومت سے نجات کی جدوجہدمیں مصروف ہیں ، یمنی لیڈر شپ اپنے وطن سے مخلص ہے، وطن سے محبت انکا خاصہ ہے، اسی بناء پر عوام کی اکثریت اور مسلح افواج تحریک انصار اللہ کی جدوجہد کو سپورٹ کررہے ہیں اور سعودی جارحیت کا منہ توڑ جواب بھی دے رہے ہیں ۔

 

انہوں نے کہا کہ علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خاتمے کے بعد عبدالرب منصورہادی بر سراقتدار آیا لیکن استحصالی رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی ، عوامی مسائل جو کہ توں رہے، یمنی عوام نے نااہل حکومت کے خلاف قیام کیا، منصور ہادی کو فرار کے بعد سعودی عرب نے پناہ دی اور اب یمنی انقلابی تحریک سے خوفزدہ ہو کرجارحیت پر اتر آیا ہے، امریکی ایماء پر یمنی عوام کے خلاف اس سعودی جارحیت میں مزید نو ممالک بھی شامل ہیں ، مشہور مثل ہے کہ جو کسی کیلئے گڑھا کھودتا تھا ایک روز خود اس میں گرتا ہے، جبکہ خدا کے نذدیک مکافات عمل کا قانون بھی موجود ہے، لہذٰا یمن ، عراق ، شام ، لبنان ، ایران اور بحرین کے خلاف گھڑے کھودنے والے خود اس میں گرنے کیلئے تیار رہیں ، اگر ہماری پاکستانی افواج بھی اس ڈوبتی کشتی میں سوار ہونا چائیں گی تو سوائے بربادی کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا، جنرل راحیل خود کو جنرل ضیاء کی راہ پر چلنے سے بچائیں ،اگر پاک فوج نے یمن کے مظلوم عوام کے مقابل جارح سعودی حکومت کا ساتھ دیا تو دین اسلام کے ساتھ خیانت شمار ہوگی، ہم ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree