وحدت نیوز(لاہور) سید ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی میں پنجاب حکومت ملوث ہے،ملت جعفریہ کو پنجاب میں دہشتگردوں کیساتھ ساتھ پنجاب حکومت کی بربریت کا بھی سامنا ہے،جنازے بھی ہم اٹھائیں اور اسیر بھی ہم ہوں یہ کہاں کا انصاف ہے،چہلم کے بعد بھرپور احتجاجی تحریک چلائیں گے اور قوم کو ملک بھر میں سڑکوں پر نکالیں گے،ان خیالات کا اظہار امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر انصر مہدی  مجلس وحدت مسلمین اور آئی ایس او کے زیر اہتمام دوران مرکزی جلوس چہلم امام حسین ؑ میں ناصر شیرازی اور دیگر لاپتہ شیعہ جوانوں کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج سے  خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ ہم اس وطن کے باوفا بیٹے ہیں ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ اتحاد امت اور ملکی سلامتی کو مقدم رکھا،آج حکومت ہمیں اسی حب الوطنی کی سزا دے رہی ہے،جب ملک پر کرپٹ اور قاتل حکمران مسلط ہو تو مظلوم کس سے انصاف مانگیں،ہم ان ظالموں کے ظلم و بربریت کے آگے مرعوب نہیں ہونگے،انشااللہ اپنے بے گناہ گمشدہ رہنما سید ناصر شیرازی کی بازیابی کے لئے  آئینی و قانونی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،جلوس میں موجود عزاداران نے سید ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کیخلاف لبیک یاحسینؑ کے نعروں کیساتھ صدائے احتجاج بلند کئے،اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنما خرم نقوی،رانا ماجدمو دیگر بھی شریک تھے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین نے چہلم امام حسین ؑ کے بعد ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ تحریک کا اعلان ایم ڈبلیوایم پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ مبارک علی موسوی نے دیگر تنظیموں کے قائدین کے ہمراہ پنجاب کے صوبائی سیکرٹریٹ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے سربراہ سید نوبہار شاہ، آئی او پاکستان کے سابق چیئرمین افسر رضا خان، شیعہ شہریان پاکستان کے صدر وقارالحسنین نقوی، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر انصر مہدی سمیت دیگر رہنما اور علمائے کرام موجود تھے۔

علامہ مبارک موسوی نے کہا کہ ناصر شیرازی کو لاہور جیسے مصروف ترین شہرسے اغوا کیا گیا ہے، اور تاحال پولیس کوئی سراغ نہیں لگا سکی۔ انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے شیعہ سنی کو متحدکیا، تکفیریوں کو بے نقاب کیااور اتحاد کی فضا قائم کرنے میں کردار ادا کیا، اسی جرم کی پاداش میں پنجاب حکومت کے غنڈوں نے انہیں اغواء کر لیاہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہو رپولیس نے عدالت میں بھی آئیں بائیں شائیں کے سواکوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا، پولیس نے عدلیہ کیساتھ ساتھ قانون اور آئین کو بھی مذاق بنا رکھا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے سی سی پی او کو طلب کیا، لیکن ایک ڈی ایس پی لیول کا افسر عدالت میں پیش ہوگیا جس پر عدالت نے اس کی سرزنش کی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو دوبارہ طلب کیا جس پر سارے پولیس افسران عدالت پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں اب پولیس نے ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے کہ ایک ہفتے کے بعد ناصر شیرازی کو پیش کر دیا جائے گا۔

 انہوں نے کہا کہ ہم عزاداری کو عزت واحترام کے ساتھ مناتے ہیں، چہلم کے جلوسوں میں اہم پرامن احتجاج کریں گے، اگر ناصر شیرازی کو بازیاب نہ کرایا گیا تو چہلم کے بعد لاہور میں وزیراعلیٰ ہاوس کا گھیرا ؤ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چہلم کے بعد حکومت گراؤ تحریک چلے گی اورشہباز شریف سمیت اس کے سارے چیلوں کو گھر پہنچا کردم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی عام شہری نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کا مرکزی رہنما، ہائیکورٹ کا سینئر وکیل اور اتحاد بین المسلمین کا داعی ہے اور اسے اسی جرم کی سزاد ی جا رہی ہے جبکہ آئین اور قانون کے مجرم حکومت کی صفوں میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک اتنی بھرپورہوگی کہ پنچاب حکومت پچھتائے گی کہ اس نے کسی بندے کو اٹھانے کی غلطی کی ہے۔

آئی ایس او کے مرکزی صدر انصر مہدی کا کہنا تھا کہ ناصر شیرازی آئی ایس او کے سابق مرکزی صدر ہیں، ان کے اغواء سے طلباء برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ فوراً ناصر شیرازی کو رہا کرے بصورت دیگر ہمارا احتجاج حکومت ایوانوں کی بنیادیں ہلا دے گا۔ انہوں نے کہا کہ طریقہ واردات سے واضح ہوتا ہے کہ اس اغواء میں پنجاب حکومت خود ملوث ہے، اور ہمیں پتہ ہے کہ کہاں منصوبہ بنایا گیا اور اسے کن قوتوں کے پاس رکھا گیا ہے۔ ہم پر امن اندازمیں احتجاج کر رہے ہیں اگر ناصر شیرازی بازیاب نہ ہوئے تو اس احتجاج میں شدت آجائے گی جس کی ذمہ داری وزیر قانون راناثناء اللہ پر عائد ہوگی۔

پاکستان شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے سربراہ سید نوبہار شاہ نے کہا کہ کیا پاکستان میں شیعہ ہونا جرم ہے؟ رانا ثناٗ اللہ نے خود تعصب کا مظاہرہ کیا اور عدالت عالیہ کے دو ججز کو شیعہ جج کہہ کر تعصب کو ہوادی جس بذات خود جرم ہے، اس جرم کی سزا رانا ثناء اللہ کو دینے کے بجائے بے گناہ ناصر شیرازی کو اغوا کرلیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہندویا پارسی اقلیت نہیں ، پاکستان کی سب سے بڑی افرادی قوت ہیں، بدمعاش حکومت ہمیں تنہا نہ سمجھے۔ ہم بربریت پھیلانے والی حکومت کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ وہ یاد کریگی۔علامہ وقار الحسنین نقوی نے کہا ہم انیس صفر کو شیخوپورہ میں احتجاج کریں گے اورناصر شیرازی کی بازیابی کا مطالبہ کریں گے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کا سید ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کیخلاف ملک گیر مظاہرے،چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے و ریلیاں،لاہور میں مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاوس مال روڈ تک احتجاجی ریلی،ریلی میں بڑی تعداد میں مرد خواتین اور بچوں نے شرکت کی ریلی کے شرکاء نے 90 شاہرائے قائد اعظم پر دھرنا میں بھی دیا،ریلی سے مختلف سیاسی مذہبی جماعتوں کے نمائندہ وفود نے بھی خطاب کیا،سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے احتجاجی ریلی میں خصوصی شرکت کی،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ سید ناصر عباس شیرازی شریف النفس اور پرامن قومی لیڈر ہیں،پنجاب حکومت ظلم و بربریت کی انتہا کرکے قانون کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے،ہم ناصر شیرازی کے اغوا پر خاموش رہیں گے یہ حکمرانوں کی بھول ہے،انشااللہ ہم ہر قسم کی آئینی قانونی اور عوامی جدو جہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،رانا ثنااللہ اور حمزہ شہباز شریف ناصر شیرازی کے اغواء کے ذمہ دار ہیں،ہم ان ظالموں کے رسوا کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے،پنجاب میں ہمیں چن چن کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،پنجاب کے انسان دشمن حکمران سن لیں ہم نہ جھکنے والے ہیں نہ بکنے والے بلکہ ہم میدان میں سرکٹانے والے ہیں۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اگر ناصر شیرازی کو بازیاب نہ کیا تو اتوار کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے،اور اس بعد پنجاب کے ہر شہر سے تخت لاہور کی طرف مارچ ہوگا اور ہم اس مارچ میں وزیر اعلیٰ ہاوس کا گھیراو کریں گے،شرکا نے پنجاب حکومت،شہباز شریف،رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔مقررین نے کہا مجلس وحدت مسلمین ایک ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت ہے اورجماعت کے مرکزی سینئر رہنما ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کو اغوا کرکے حکومت پنجاب نے جس غنڈہ گردی اور سیاسی و مسلکی انتقام کا مظاہرہ کیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایم ڈبلیو ایم ایک پُرامن جماعت ہے جس کا ملکی استحکام، رواداری و بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔اس جماعت نے ہمیشہ ایسی قوتوں کی مخالفت کی ہے جو ملک میں نفاق کا بیج بو کر وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔رانا ثنا اللہ اپنے بیانات کے ذریعے عدلیہ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس کے خلاف ناصر شیرازی ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ میں پٹیشین دائر کررکھی     تھی جس پر انہیں انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے اغوا کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا ریاستی اداروں کو گھر کی لونڈی سمجھنے والے نا اہل حکمران اپنے انجام سے زیادہ دور نہیں ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی سابق وزیر اعظم کی رعونت کے عبرت ناک انجام سے سبق سیکھیں۔

مقررین نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ملک گیر مذہبی و سیاسی جماعت کے سینئر رہنما کے اغوا پرسوموٹو ایکشن لیتے ہوئے ذمہ دار اداروں کو طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا سیکورٹی اداروں کو دہشت کی علامت بنا کرعوام کو عدم تحفظ کا شکار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ملک میں قانون و آئین کی بجائے طاقت و اختیارات کی حکمرانی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پھر قانون کے نام پر قانون شکنی کرنے والے عناصر کے حوصلوں کو تقویت ملتی رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی پر کسی قسم کا کوئی مقدمہ یا الزام نہیں ہے،ان کی جبری گمشدگی پنجاب حکومت کی غنڈہ گردی اور انتقامی کاروائی ہے۔ وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ سے بھی مطالبہ کیا کہ ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے احکامات صادر کیے جائیں۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاستی اداروں کو آئین و قانون کے تابع ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے ادارے نا اہل حکمرانوں کی اطاعت میں پیش پیش ہیں۔ ملت تشیع کے سینکڑوں نوجوان کئی سالوں سے جبری گمشدہ ہیں۔انہیں نہ تو عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو ان کی خیریت سے آگاہ کیا جارہا ہے۔جو بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ملت تشیع کے لاپتا تمام نوجوانوں کو فوری بازیاب کیا جائے۔مظاہرے سے سید اسد عباس نقوی،علامہ ابوذر مہدوی،علامہ حسن ہمدانی،افسرحسین خاں،سید حسنین زیدی،علامہ ملازم نقوی،سمیت دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا بعدازآں شرکاء پرامن طور پر منتشر ہوئے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree