وحدت نیوز(انٹرویو) سید ناصر عباس شیرازی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس سے قبل مرکزی سیکرٹری سیاسیات کی ذمہ داری انکے پاس تھی۔ ناصر شیرازی آئی ایس او پاکستان کے بھی مرکزی صدر رہے ہیں جبکہ متحدہ طلباء محاذ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اپنی سیاسی دانست کی بدولت بہت قلیل عرصے میں ایم ڈبلیو ایم کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر نہ صرف متعارف کروایا بلکہ شہرت کی بلندیوں  پر بھی پہنچایا۔ ناصر شیرازی پیشہ کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ حلیم طبیعت کے مالک ہیں۔ شیعہ سنی اتحاد اور پاکستان میں قیام امن کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھی تحریک کے روح رواں ہیں۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی رٹ پٹیشن بھی دائر کرنے کے بعد اس کی پیروی کر رہے تھے کہ اغواء کر لئے گئے۔ ایک ماہ کی قید کے بعد بازیاب ہوئے تو سب سے پہلے "ایک بین الاقوامی  خبر رساں ادارے " نے ان کیساتھ گفتگو کی، جو قارئین کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔

سوال : سب سے پہلے تو آپکو اور آپکے اہلخانہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ آپ خیر و عافیت سے گھر واپس پہنچ گئے، یہ بتایئے کہ وہ کون لوگ تھے، جنہوں نے آپکو اغواء کیا اور انکے مقاصد کیا تھے۔؟
ناصر عباس شیرازی: مجھے اغواء کرنیوالے لوگ کسی سکیورٹی ادارے کے اہلکار ہی تھے، وہ کس ادارے کے تھے یہ مجھے علم نہیں۔ واپڈا ٹاؤن سے یکم نومبر کو مجھے اس وقت اغواء کیا گیا، جب میں اپنی اہلیہ اور بچوں کیساتھ خریداری کے بعد واپس گھر جا رہا تھا، مجھے 2 ماہ اور 2 سال کے بچوں کے سامنے گھسیٹ کر گاڑی سے نکالا گیا اور 2 سے 3 گاڑیاں تھیں، جن میں وہ لوگ سوار تھے۔ انہوں نے وہاں سے مجھے اغواء کیا اور کسی نامعلوم جگہ پر جا کر بند کر دیا۔ کچھ عرصہ وہاں رکھا گیا، اس کے بعد مجھے ایک اور جگہ پر منتقل کر دیا گیا۔ اس دوسری جگہ کا بھی مجھے علم نہیں کہ وہ کون سی جگہ تھی۔ بہرحال اغواء کاروں نے ملک کے آئین کو پامال کیا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا اور مجھے، جو ایک سیاسی جماعت کا کارکن ہوں، اغواء کیا گیا۔ جہاں تک ان کے مقاصد کی بات ہے تو مجھے نہیں معلوم انہوں نے مجھے کیوں اغواء کیا، وہ کیا چاہتے تھے، یا ان کے پیچھے کون تھا۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ مجھے اغواء کرنیوالوں کے مقاصد کیا تھے۔

سوال : آپکی جماعت تو اسکا ذمہ دار پنجاب حکومت اور رانا ثناء اللہ کو ہی ٹھہراتی رہی اور مسلسل احتجاج میں پنجاب حکومت کو ہی نشانہ بنایا جاتا رہا۔؟
ناصر عباس شیرازی: ویسے دیکھا جائے تو بحیثیت صوبے کے وزیر قانون کے طور پر شہریوں کے تحفظ ذمہ داری رانا ثناء اللہ پر ہی عائد ہوتی ہے، لاہور جیسے شہر سے ایک بندہ اغواء ہو رہا ہے اور لاہور پولیس اور پنجاب حکومت کو پتہ ہی نہیں چلتا؟ جس ادارے نے بھی اغواء کیا تھا، وہ فرشتے آسمان سے تو نہیں اترے تھے، یہیں سے ہیں نا، لیکن پنجاب حکومت ایک ماہ میں میرا سراغ نہیں لگا سکی، میں مسلسل ایک ماہ جبری قید میں رہا، پنجاب حکومت نے میری بازیابی کیلئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔؟ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس اغواء میں رانا ثناء ہی ملوث دکھائی دیتا ہے۔ پولیس مسلسل عدالت میں ٹال مٹول سے کام لیتی رہی، یہ سب پولیس کی غفلت کا نتیجہ اور صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔

سوال : دوران حراست اغواء کار آپ سے کس قسم کے سوالات کرتے رہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: ان کے سوالات بے مقصد تھے، بے تکے سوالات کرتے رہے، یہ کہ مجلس وحدت مسلمین کی قریبی جماعتیں کون سی ہیں، کن کن جماعتوں کیساتھ آپ کے تعلقات بہت اچھے ہیں، کون سی جماعت آپ سے دور ہے، کس جماعت کیساتھ آپ کی نہیں بنتی، گلگت بلتستان میں مجلس وحدت مسلمین کی پوزیشن مضبوط کیوں ہے۔ آپ وہاں الیکشن میں کیوں حصہ لے رہے ہیں۔ آپ لوگوں کی جماعت کے مقاصد کیا ہیں۔ وغیرہ وغیرہ، یہ وہ سوالات تھے، جو عام سے بھی سادہ ہیں۔ یہ سب باتیں تو عام ہیں، بچہ بچہ جانتا ہے ایم ڈبلیو ایم کا منشور کیا ہے، ہم سیاست میں کن جماعتوں کے ہم خیال ہیں، لیکن حیرت ہے کہ وہ اس قسم کے بے تکے سوالات کرکے پتہ نہیں کیا جاننا چاہتے تھے۔

سوال : لیکن رانا ثناء اللہ کو آپکی جماعت خصوصی طور پر ہدفِ تنقید کیوں بنا رہی ہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: رانا ثناء اللہ وہ وزیر قانون ہیں، جنہوں نے خود قانون اور آئین کو پامال کیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے پاکستان کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے لاہور ہائیکورٹ میں رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ ہر فرد ریاست میں قانون اور آئین کے سامنے جوابدہ ہے، پھر رانا ثناء اللہ کیوں نہیں، میرے اغواء میں رانا ثناء اللہ ہی ملوث ہے، مجھے میرے اڑھائی سال کے بیٹے کے سامنے اغواء کیا گیا۔ کیا کوئی قانون، آئین یا اخلاقیات اس حرکت کی اجازت دیتے ہیں؟ مجھے اغواء کرنیوالوں نے قانون شکنی کی۔ انہوں نے اپنے ہی ملک کا آئین پامال کر دیا، جس کی حفاظت کا انہوں نے حلف اٹھا رکھا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے عدلیہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔

سوال : آپکو جس جگہ پر رکھا گیا، وہ کیسی تھی؟ کوئی حوالات تھی یا کوئی گھر تھا۔؟
ناصر عباس شیرازی: مجھے ایک تنگ و تاریک جگہ پر رکھا گیا تھا، میرے اغواء سے صرف یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ جس کی لاٹھی ہے، بھینس اسی کی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر کی بات نہیں کی جا سکتی، یہاں تو پھر طاقتور منہ زور ہو جائے گا، جس کے پاس 4 بندے ہوں گے، وہ منہ زور ہو جائے گا۔ جب معاشرے میں قانون و انصاف کی حکمرانی نہ رہے تو معاشرے بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں اور پاکستان کو بھی اسی بگاڑ کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں امن قائم ہو، یہاں قانون کی عملداری ہو، یہاں وحدت کو فروغ ملے، میرا جرم کیا تھا؟ یہی کہ میں وحدت کی بات کر رہا تھا، میں نے شیعہ اور سنی کو متحد کیا، میں نے تکفیریوں کو بے نقاب کیا، میں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اور اس کے جواب میں مجھے اغواء کر لیا گیا۔

سوال : سکیورٹی ادارے جب بھی کسی کو اغواء کرتے ہیں، کوئی جرم ہوتا ہے تو اٹھاتے ہیں۔؟
ناصر عباس شیرازی: میرا کوئی جرم ہے تو عدالتیں موجود ہیں، وہاں میرے خلاف رٹ دائر کریں، میرا جرم ثابت کریں، میرا کوئی جرم ثابت ہوتا ہے تو میں سزا کیلئے تیار ہوں، لیکن یہ کون سا قانون ہے کہ بے جرم و خطا آپ کسی شہری کو اٹھائیں، بلکہ معصوم بچوں کے سامنے اٹھائیں اور ایک ماہ تک اسے جبری قید میں رکھیں، عدالت میں ٹرائل ہو تو پیش نہ کریں۔ یہ کونسا قانون ہے، یہ تو جنگل کا قانون ہوا، پاکستان میں تو باقاعدہ ایک آئین موجود ہے، قانون ہے، عدالتیں ہیں، ان سب کی موجودگی میں اگر کوئی اس قسم کی حرکت کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کی مخالفت کر رہا ہے، وہ کوئی ثبوت رکھتے ہیں تو عدالت میں پیش کریں۔ ایسے اغواء کرکے تو وہ اپنا کیس کمزور کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو ایسے کلچر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں کو آئین کی سربلندی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کریں۔ ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھے۔

سوال : ایک وزیر قانون کیسے قانون شکنی کا مرتکب ہوسکتا ہے۔؟
ناصر عباس شیرازی: پنجاب سے اغواء ہوا ہوں تو ذمہ دار پنجاب حکومت ہے، جس نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ صوبے میں جنگل کا قانون ہے۔ شریف برادران نے ہمیشہ انتقامی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ یہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو دوسروں کو انسان نہیں سمجھتے۔ یہ ملک کو اپنی جاگیر سمجھ لیتے ہیں، پھر انہیں ایسے دو چار وزیر بھی مل جاتے ہیں، جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں، وہ بھی ان کی ہر ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں، یہی اصل میں ان کو بھی گمراہ کرتے ہیں، ان کی گردن کا سریا اصل میں یہی وزیر ہوتے ہیں، جیسے رانا ثناء اللہ نے پنجاب کے وزیراعلٰی کو مٹھی میں لے رکھا ہے، پنجاب کا پورا کنٹرول وزیر قانون کے ہاتھ میں ہے۔ وہی سکیورٹی فورسز کی بھی نگرانی کرتا ہے، وہی کابینہ کمیٹی برائے امن و امان سمیت صوبے کے دیگر معاملات چلاتا ہے۔ اجلاسوں کی صدارت کرتا ہے، سب کچھ ایک وزیر کے ہاتھ میں دیدیا گیا ہے، اب اگر کوئی بقول چودھری شیر علی مجرمانہ ذہنیت کا مالک ہو اور اس کے ہاتھ میں اقتدار آجائے تو انجام یہی ہوگا کہ کوئی ملک میں آزادانہ گھوم پھر نہیں سکے گا۔ رانا ثناء اللہ کے کارنامے میڈیا والے جانتے ہیں، شائع یا نشر اس لئے نہیں کرسکتے کہ وہ اقتدار میں ہے، جس دن رانا ثناء اللہ کا اقتدارختم ہوگیا، وہ بے نقاب ہو جائے گا۔ میڈیا اس کی اصلیت بے نقاب کرے گا۔ اس کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو چودھری شیر علی سے پوچھیں، جنہیں شہباز شریف نے خاموش رہنے کا کہا ہے۔ ورنہ ماضی قریب میں جب چودھری شیر علی نے رانا ثناء اللہ کا کچا چٹھہ کھولا تھا تو لیگی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی اور پارٹی ٹوٹنے کے قریب تھی، لیکن شہباز شریف نے دونوں کو بیان بازی سے روک دیا اور معاملہ سرد پڑ گیا۔ کچھ عرصے بعد یہ معاملہ پھر گرم ہوگا اور دونوں بیچ چوراہے ایک دوسرے کی ہنڈیا پھوڑیں گے، وہ وقت قریب ہے۔

سوال : آپکا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔؟
ناصر عباس شیرازی: آئندہ کا لائحہ عمل میری سیاسی جدوجہد ہے، جسے جاری رکھوں گا، جلد ہی اعلٰی قیادت سے ملاقات کروں گا۔ ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ہم نے آئندہ 2018ء کے الیکشن میں بھی بھرپور طریقے سے حصہ لینا ہے، اس کی حکمت عملی طے کی جائے گی اور میں نے رانا ثناء اللہ کی نااہلی کی جو رٹ پٹشین دائر کی ہوئی ہے، اس کی بڑھ چڑھ کر پیروی کروں گا۔ ہم ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ہر شہری کو وہ حقوق ملیں، جو اسے آئین دیتا ہے۔ ہم ملک میں جنگل کا قانون نہیں چاہتے، ہم پرامن پاکستان کے قیام کیلئے سرگرم ہیں اور ان شاء اللہ ہم پاکستان کو قائد کا حقیقی پاکستان بنائیں گے۔ ہم آمروں کی پیداوار سے ملک کو نجات دلائیں گے، کرپشن اور انتہا پسندی کا خاتمہ کریں گے۔ ہمارے سیاسی جدوجہد کا مقصد پرامن اور خوشحال پاکستان ہے، جس میں تمام مکاتب فکر اور مذاہب کو مکمل مذہبی آزادی ہوگی۔ ہم پہلے بھی اسی کاز کیلئے جدوجہد کر رہے تھے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ یہ اغواء اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہمیں ہمارے مشن سے نہیں روک سکتے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم جہاں شیعہ سنی کو ایک دوسرے کے قریب لائے ہیں وہاں دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی قریب لائیں اور پاکستان میں ایسا امن قائم کریں کہ دنیا مثال دے۔ امن کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا، ہم تکفیریوں کے روز اول سے مخالف تھے اور اب بھی ان ملک دشمنوں اور اسلام دشمنوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔

سوال : جن جن سیاسی و مذہبی جماعتوں نے آپکی بازیابی کیلئے ایم ڈبلیو ایم کا ساتھ دیا، انکے حوالے سے کچھ کہیں گے۔؟
ناصر عباس شیرازی: جی بالکل، میں مجلس وحدت مسلمین، تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ق، ملی یکجہتی کونسل ، سنی اتحاد کونسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پاکستان عوامی تحریک، جماعت اسلامی، امامیہ آرگنائزیشن سمیت دیگر سیاسی، سماجی رہنماؤں اور صحافی دوستوں کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے میری بازیابی کیلئے اپنے اپنے طور پر کوشش کی اور ایم ڈبلیو ایم کا ساتھ دیا۔ یقیناً میری حمایت ایک سیاسی جماعت کے کاز کی حمایت تھی، جن دوستوں نے میرے اہل خانہ کی بھی ڈھارس بندھائی، بالخصوص اپنے وکلاء دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں۔ جن دوستوں نے پاکستان میں اور جنہوں نے کربلا میں میری بازیابی کیلئے دعائیں کیں، ان بہنوں، ماؤں اور بھائیوں اور بزرگوں کا ممنون ہوں اور دعاگو ہوں، اللہ تعالٰی ان تمام احباب کی توفیقات خیر میں اضافہ فرمائے۔

 

بشکریہ اسلام ٹائمز

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی نے بازیابی کے بعد’’ روزنامہ جنگ  لاہور‘‘کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میرا جرم جبری لاپتہ افراد کے حق میں آواز اٹھانا تھا، میں پاکستان کو قائد اعظم کا پاکستان بنانا اور اس ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ چاہتا تھا، اس لیے مجھے غیر قانونی طریقے سے اٹھا کر اذیت ناک جگہ رکھا گیا، 31دن سورج نہیں دیکھا، اگر میں اس ملک کے مفادات کے خلاف کوئی کام کررہاتھا تو میرا اوپن ٹرائل کیوں نہیں کیا گیا، جس ادارے نے مجھے اٹھایا اس نے یہ الزامات آج تک کسی بھی فورم پر کیوں پیش نہیں کیئے، مجھے 31دن غیر قانونی طریقے سے حراست میں رکھا گیا، اس دوران تین بار میری جگہ تبدیل کی گئ، مجھے لاہورکے ایک گنجان آباد علاقے سے میرے معصوم بچوں کے سامنے اٹھایا گیا، انہوں نے کہا کہ اس دوران میرے چہرے پر ماسک چڑھادیا گیااور دو بار گاڑیاں تندیل کرکے مجھے تین گھنٹے بعد ایک نا معلوم مقام پر ٹھہرایا گیا، آخری بار جہاں سے میری رہائی کے احکامات آئے میں فیصل آباد کے کسی حراستی مرکز میں تھا ، انہوں نے کہاکہ مجھے حراست میں لینے سے میری رہائی تک میرے چہرے پر کالے رنگ کا نقاب ہی رہا، نقاب اتارنے کی کوشش کرتا تو جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہوتا تھا، جس جگہ مجھے رکھا گیاوہاں دو، دو سال سے لوگوں کو رکھا ہواہے، میں ادارے کی ہی تحویل میں تھا، انہوں نے کہا کہ جس طرح مجھے اٹھایا گیا اس سے تو لگتا ہے کہ اس ملک میں جنگل کا قانون ہے، مجھ سمیت جن افراد کو وہاں رکھا گیا تھا اس کے ساتھ انسانوں سے بدتر سلوک ہوتا تھا اور مجھے ایک تفتیشی کمرے میں لے جاکرکسی آفیسر کے سامنے بٹھادیا جاتااور کہاجاتا کہ صاحب جو پوچھے اس کا درست جواب دوجس کے بعد مجھ سے پوچھا جاتا کہ میرے کیا سیاسی مقاصداور اہداف ہیں، میں کن کن لوگوں سے ملتا ہوں ، میری جماعت آگے کیا کرنا چاہتی ہے اور میں ہیومن رائٹس اور خصوصاًلاپتہ افراد کیلئے کیوں اور کس کے کہنے پر آواز اٹھاتا ہوں ، ناصرشیرازی نے بتایا کہ مجھے چھوڑنے سے پہلے مجھے یہ پیغام بھی دیاگیا کہ اگر میں آوازاٹھائی یا اپنی گمشدگی پر شور شرابا کیا تو نہ صرف دوبارہ اٹھالیا جائے گا بلکہ آئندہ جو سلوک کیا جائے اس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔

 

http://e.jang.com.pk/12-04-2017/lahore/pic.asp?picname=171.png

وحدت نیوز(انٹرویوبشکریہ روزنامہ اوصاف) باشعور لوگ جانتے ہیں کہ ہر وہ ملک جس میں قانون کی عمل داری نہ ہواور قوانین بھی جو بنتے ہیںان بنیادی اصول کے مطابق بنتے ہیں۔جو آئین کے اند ر ایک سوشل کنٹریکٹ کے تحت اس ملک کے تمام عوام اس کو قبول کرتے ہیں۔انہیں آرٹیکل کے تحت ہی تمام قانونی سازی کی جاتی ہے۔ادارے بنتے ہیں،سسٹمDevelop ہوتے ہیںاور دنیا میںجوایک سسٹم رائج ہے وہاںپر قوئہ مقننہ ،قوئہ عدلیہ ، قوئہ مجریہ ہوتی ہے۔ان تینوں قوئہ کا استدلال بہت اہم ہے۔کہ ایک دوسرے سے تصادم نہ کریں۔بلکہ اپنے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے اپنے کار پر عمل کرے۔پھر انہیں کے ذیل میں بعض ایسے ریاستی ادارے بھی وجود میں آتے ہیں۔جن کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت بھی ہے اور بعض انتظامی ادارے ہیں۔جن کاکام ملک کےاندر لوگوں کی جان ، مال، اور عزت کی حفاظت اور قانون کی عمل داری کرنا ہوتا ہے۔اب جب قانون کی عمل داری ہواور جتنے بھی ادارے ہیںوہ اپنے قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئےاپنی ذمہ داریوں کو انجام دیںتو میرے خیال میں مشکلا ت وجود میں نہیںآتی مسائل وہی جنم لیتے ہیںجہاں قانون شکنی شروع ہوتی ہے اور آئین اور قانون کو پائوں تلے روند دیا جاتا ہے،افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاںکبھی آئین کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں قانون کو بنانے والے اور نافذ کرنے والے ہی قانون کو پائوں تلے روند دیتے ہیں۔اس کی تحقیر اور مذمت کرتے ہیں۔اس کی حرمت اور تقدس کو پامال کرتے ہیںتو یہیں سے لوگوں کے اندر بھی جرأت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہےاور پھر یہاں سے کرپشن ، فساد اور قانون شکنی کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میںامن و امان ہوں کرپشن نہ ہو،فساد نہ ہو ،ترقی ہو پیش رفت ہو۔ہم civilizedہوں ہم Culturalہو جائیں ہم مہذب ہو جائیںتو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم قانون کی عمل داری اور آئین کی تعین کردہ حدود کے اندر رہ کر اقدامات کریں۔اگر ہم کوئی ایسا اقدام کریں گے جو آئین کی حدود سے بالاتر ہو گا جو کوئی بھی ہوگا مشکلات کو پیدا کرے گا۔مشکلا ت کو حل نہیں کرے گا۔وہ بحران کو اور زیادہ بڑھائے گا بحران کو حل نہیں کرے گا۔چاہئے وہ technocratہوں۔چاہئے کوئی بھی ہو۔ کوئی بھی عمل جو قانون اور آئین کے دائرہ کار سے باہر ہو گا۔ وہ درست نہیں ہے،وہ ہمارے ملک کے اندر نہیں ہونا چاہیے ۔ہم کئی تجربے گذشتہ  70 سال کے اندرچکے ہیں۔ ہم نے کتنی بار قانون اور آئین کو پائوں تلے روندا ہے۔ نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ آئیں ہیں۔کہ ہم یہ کر دیں گے ، ہم سب ٹھیک کر دیں گے۔بالآخر خرابی اور بربادی کے سوا ہمیںکچھ نہیں ملا۔


پس جو بھی قد م اُٹھایا جائے وہ قانون اور آئین کے دائرے کے اندر رہتے اُٹھایا جائےقانون اور آئین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے بحرانوں کے حل کے لئے ضروری ہے۔

    1۔  ایک ایسا الیکشن کمیشن بنایا جائے جو بااختیار ہویعنی اس کے اندر کرپٹ اشخاص نہیں ہوں،بائیومیٹرک الیکشن ہونے چاہیں،بائیو میٹرک سسٹم لانا چاہیے۔
    2۔ آئین کی عمل داری ہونی چاہئے
    
اگر ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کا اثر رسوخ افغانستان کے اندر کم کریں اور انڈیا کوCondemn کریں تو پاکستان ،چین روس،ایران،ترکی ان پر مشتمل ایک الائنس بن جائے۔جس کے نتیجے میں افغانستان میں امریکن اثر رسوخ کم ہو جائے گا اور انڈیا Condemnہوجائے گا اور پاکستان کا چائنا پر انحصار کرنا بھی کم ہو جائے گا۔ اب دنیا unipolar worldنہیں رہی بلکہ پاور کے اعتبار سےRe-shape ہو رہی ہے۔امریکن گلف میں آئے تھے۔دنیا کو Re-shape کرنے کیلئے وہاں یہ شکست کھا گے ہیںوہاں ان سے شام نہیں ٹوٹا، اگر شام ٹوٹتاتو شام ایشیاء کی بلڈنگ کی وہ اینٹ ہےجو اگر نکل جاتی توعراق ، ترکی ، ایران ، افغانستان، چائنا اور پاکستان نے بھی ٹوٹنا تھایعنی سنٹرل ایشیا ءپورے کا پورا تباہ و برباد ہو جاتاامریکن کو Western Asia میںResistance کے بلاک روس اور چائنا نے ملکر کائونٹر کیا۔UNO میںآٹھ ویٹو ہوئے ہیں جن میں سے چھ میں روس اور چائنہ اکٹھے ہیں ،اگر روس اکیلا بھی ویٹو کرتا تو بھی کافی تھا ۔لیکن چین بھی ساتھ ویٹو کر رہا تھا۔۔۔۔کیوں؟؟؟

چین کے سوریاکے اندر Economic Interests نہیں تھے۔Strategic Interestتھے۔چین کو پتہ تھا اگر سوریا ٹوٹا تو پھر بات چائنہ تک آئی گی۔لہذا چین بھی وہاں کھڑا ہو گیا اوUNOمیں ویٹو کرنا شروع ہو گیاجس کے نتیجے میں امریکن اور اسرائیل کو شکست ہو گی۔شکست کیسے کھائی ؟؟؟ ان کا خیال تھا کہ شام کی حکومت کو گرا کر ان ممالک کو توڑیں گے،سعودی عرب کو بھی توڑیں گےاور ان تمام اسلامی ممالک کو توڑ کر چھوٹے چھوٹے قطر اور کویت بنائیں گےجن میں اپنی مرضی کے حکمران لائیں گے۔ اور ان ممالک میں آپس میں اختلافات پیدا کریں گےکیونکہ مسلم ممالک کی پاور امریکہ اور اسرائیل کیلئے ایک بہت بڑاخطر ہ ہےجیسے کہ انہوں نے روس کوتوڑا او ر وہ روس کو اور مزیدتوڑنا چاہتے تھے،اسرائیل پر پہلے ہی بہت پریشر ہے۔وہ غزہ کے اندر فلسطینیوں کو کائونٹر نہیں کرپا رہاوہ حز ب اللہ کو کنٹرول نہیں کر پا رہا۔

 امریکہ اور اسرائیل نے جو داعش بنائی تھی سوریا کیلئے وہ اب منتقل کر رہے ہیں لیبیااور افغانستان میں تا کہ لیبیامیں افریقی ممالک مصر، الجزائر ،تیونس اوریمن کوDisturb کرے اور افغانستان میں داعشوں کے ذریعے افغانستان، چین، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کوDisturbکریں۔انہی داعشوں کے ذریعے یہ سی پیک کو بھی Disturbکرنا چاہ رہے ہیں۔

    Weldonal نے اپنی تاریخ تمدن میں لکھا ہےکہ پاور ہمیشہ یورپ اور ایشیاء میںمنتقل ہوتی رہی ہےاور امریکہ میں Extention ہے یورپ کی جبکہ اب پاور ایشیاء کی طرف منتقل ہورہی ہے، ایشیاء میں جو پاور کا منتقل ہونا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ
    1۔     آبادی کے لحاظ سے بہت بڑا براعظم
    2۔    ری سورسس (ذرائع)کے لحاظ سے بہت ریچ ہے۔
    3۔     منڈی بہت بڑی ہے۔
    4۔     سکیل مین پاوردنیا کی بیسٹ پاور ہے۔
    5۔    لیبر سستی ہے۔
    6۔    دنیا کے جتنے بھی بڑے مذاہب ہیں ان کی پیدائش کی جگہ ایشیاء ہے( مسیحیت،یہودیت،اسلام،بدھ مت،ہندو مت)
        
اب امریکی یہ چاہتے ہیں کہ کائونٹر کریںایشیاء کی طرفShift of Power کو، پہلے مرحلے میں اسکو (Slow) آہستہ کریںپھر روک دیں ۔۔۔کیسے ؟؟؟ ایشیاء کو عدم استحکام کا شکار کریںایشیاHeart Point کو ڈسٹرب کیا جائے۔جس طرح انسان کے جسم میںHeart Point ہوتے ہیں یعنی دل ڈسٹرب ہوجائے تو سارا جسم ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ایشیاء کے Heart Point کون سے ہونگے؟جہاں ذرا سی بھی ہل چل ہوگی تو ساری دنیا متاثرہو گی،ایکHeart Point ایشیاء کا ویسٹرن ایشیاء تھاجہاں آئل ہے، جہاں ساری دنیا آئی ہےوہاں ڈسٹرب کیا جائے،جنوبی ایشیاءHeart Point ہے۔جہاں ساری دنیا آئی گی ، امریکہ،چائنا ،روس آئے گا۔ افغانستا ن اور شمالی کوریا ، مغربی کوریا بھی ایسا ہی ہے۔اس کو بھی ڈسٹرب کیا جائے۔کیسے؟؟؟ بعض جگہ پر تکفیریت کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے جہاں ممکن ہے،ویسٹرن ایشیا ء میں ممکن ہے اور جہاں یہ ممکن نہیں ہے وہاں نسلی فساد پیدا کریں اور آزادی کی تحریکیں چلیںاور اس کے علاوہ ممالک کے آپس کے اختلافات پیدا کرناجیسے پاکستان انڈیا، چائناانڈیا، پاکستان ایران،ایران ترکی، ترکی عراق، سوریاایران، سعودیہ ایران،چائنا فلپائن، نارتھ کوریا سائوتھ کوریا،کے اختلافات کو ہوا دی جائے۔تاکہ ایشیا ء کو ڈسٹرب کیا جائے،اتنا ڈسٹرب کیا جائے کہ یہ اس قابل نہ ہو کہ یہ دنیا کو لیڈ کر سکے۔

اب اس سارے منصوبے کو کیسے کائونٹر کیا جا سکتا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیااب پاکستان ، چین ، روس ، ایران، ترکی اور عراق ملکر کر ایک الائنس بنالیں تو یہ کائونٹر ہو سکتا ہے۔ان ممالک کے فورم بننے چاہیں۔Asian Nation کے فورم بننے چاہئیں۔دانشوروں کے فورم بننے چائیں۔صحافیوںکے فورم بننے چائیں۔پارلیمنٹرینز کے فورم بننے چائیں۔ادیبوں کے فورم بننے چائیں۔شعراء کے فورم بننے چائیں۔ایشیاء لیول پر کوششیں ہونی چایئے، پاکستان ایشیاء کے اندر ہے پاکستان زبر دست جگہ پر ہے۔اللہ نے پاکستان کوGeo Political location دی ہے۔یہ وہ ملک ہے جو پانچ ارب انسانوں کو آپس میں ملاتا ہے۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کےEast اور North میں دنیا کی 40% فیصد آبادی ہے اور یہاں سے ہی روس اور ترکی کے راستے نکلتے ہیںجہاں پر آئل کے ذخائر موجود ہیں وغیرہ اب آپ خود ہی سوچیں جب یہ خطہ اتنا اہم ہے ۔تو آپ کو یاد ہو گاکہ برصغیر جب تقسیم نہیں تھا تو سکندر اعظم اُٹھتا ہے اور مکدونیہ سے یہاں آتا ہے۔مغل وہاں سے آئے،برطانیہ سے انگریز یہاں آئے۔ کیوں؟؟؟؟

برصغیر بہتRich تھا،دنیا کے بلند و بالا پہاڑ یہاں،عظیم دریا یہاں،سرسبز و شاداب زمینیں یہاںیہ خطہ بہتRich تھا لوگ یہاں آ کرقبضہ کرتے تھے لوٹتے تھے ۔انگریز کیو ں یہاں آئے تھے،اسی طرح پاکستان بہت اہم جگہ پر واقع ہے، اب اگر پاکستان مضبوط ہوتا ہے اور امریکن بلاک سے نکلتا ہے تو اس پورے ایشیا ء کو فائدہ ہےاور اگر پاکستان کمزور ہوتا ہے تو امریکہ کا National Interest اسی کامتقاضی ہے،جسطر ح روس کی ex-worldگوادراینڈHot Waterمیںا مریکن اورEuropean National Interest کوThreatsکرتی تھی،اسطرح چائنا کی ریچ ورلڈ گوادریہ بھی امریکن اورEuropean National Interest  کوThreatsکر تی ہے،اس کو کائونٹر کرنا چاہتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کمزور ہو وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیںتاکہ پورا ایشیاء ہلتا رہے ڈاواں ڈول رہےیہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی فیصلہ ہو تا ہے چاہئے غلط ہو یا ٹھیک ہو اس میں امریکہ کا عمل دخل ہوتا ہے، کیونکہ ہمارے سیاستدانوں، بیوروکریٹ اور ٹیکنو کریٹس میں اتنا زیادہ امریکن اثر رسوخ ہے کہ جسکو کائونٹر کرنے کے لئے ہماری قوم کےاندر کوئی یک سوئی نہیں کہ ہم اس کو کائونٹر کر سکیں۔اب تو دشمن کی بھی شناخت اور پہچان ہمارے ملک کے اند ر نہیں ہے۔کوئی کہتا ہے انڈیا ہمارا دشمن ہے کوئی کہتا ہے انڈیا دشمن نہیں ہے مودی دشمن ہے،جو قوم اپنے دشمن کے مقابلے میں کنفیوژہو وہ اس کا کیسے مقابلہ کر سکتی ہےوہ تو شکست کھاتی ہےوہ تو سائے سے لڑتی رہتی ہے،کون دشمن ہے ہمارا انڈین اسٹیبلشمنٹ دشمن ہے یا مودی دشمن ہے؟ امریکہ دشمن ہے یا اسرائیل دشمن ہے،کون دشمن ہے ہمارا؟؟؟ اتنا زیادہ امریکن اثر رسوخ پایا جاتا ہے کہ اپنے دشمن کی پہچان کرنا مشکل ہے۔

سوال:سوریامیں امریکہ و اسرائیل کیسے ناکام ہوا؟

علامہ راجہ ناصرعباس: اصل ناکامی اس کو کہتے ہیں کہ جو وہ اہداف لے کر آیا تھا اس میں وہ اس میں ناکام ہواآپ دیکھ لیں پاکستان میں مسلکی لڑائی نہیں ہے،افغانستان میں مسلکی لڑائی نہیں ہےاگر یہاں مسلکی لڑائی ہوتی تو گلی گلی ، کوچہ کوچہ لڑائی ہوتی،امریکن نے اس پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی لیکن وہ ناکام ہوئے ہیں۔

سوال:آئندہ الیکشن میں آپ کی جماعت کا کیا رول ہوگا ؟

علامہ راجہ ناصرعباس :میں پاکستان کے آئین پر یقین رکھتا ہوںاور پاکستان کے آئین کی روشنی میں جو جمہوری جدوجہد ہے وہ ہمارے لئے ایک درست راستہ ہے۔لہذا ہم الیکشن سے تو کبھی بھی ہم اپنے آپ کو باہر نہیں کریں گے،اب الیکشن کے اندر اب جو بہترین صورت حال ہے وہ الائنس ہے۔عموماً پارٹیاں الائنس کرتی ہیں اگر الائنس نہ بھی ہوتا تو پھر بھی ہم الیکشن میں جائیں گے۔ہمارا مقصد ہے کہ پاکستان علامہ اقبال اور قائد اعظم والا پاکستان ہو،جہاں آئین اور قانون کی عملداری ہو، Discrimination کے خلاف اسٹینڈ لینے والے ہوںDiscrimination کو سپورٹ نہ کریں،پاکستان کو ایک مسلم پاکستان بنائیںاس کو انتہا پسند پاکستان نہ بنائیںجہاں تعلیم ،صحت اور ترقی کی راہیں کھلتی ہوںپاکستان میں مسلک کے نام پر کبھی بھی جماعتیں نہیں بننی چاہیں تھیں ہم مجبور ہوئے ہیں جماعت بنانے پرجب بسوں سے اُتار کر شناختی کارڈ چیک کر کے قتل کیا گیامساجد اور امام بارگاہوں میں بم بلاسٹ کیے گئےہمارے لوگوں کو پاراچنار میں محصور کیا گیااس وقت ہماری بات کوئی سننے کیلئے بھی تیار نہیں ہوتا تھامیڈیا میں کوئی ہماری خبر تک نہیں دیتا تھاکاش ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرتی تو آج اس ملک میں مسلکی بنیادوں پر جماعتیں کبھی نہیں بنتی۔

جیسے پاکستان مسلم لیگ کوئی مسلکی جماعت نہیں تھی اور جو مسلک کی بنیادوں پر جماعتیں تھی وہ پاکستان بننے کے خلاف تھیں،پاکستان مسلم لیگ برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کر رہی تھی، اس میں تمام مسلمان شریک تھے حتیٰ غیرمسلم بھی اس میں شامل تھےاور جو جماعتیں برصغیر میں مسلکی بنیادوں پر بنی تھیں وہ تو پاکستان بننے کی مخالفت کر رہی تھیں، کاش ایسا نہ ہوتا ہمارے ملک کے اندر اور ہم نے جیسے پاکستان بنایا تھا ویسے ہی اسے آگے بڑھانے کی سیاسی جدوجہد کرتے ، ہم نے اس ملک کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، قومی ، مذہبی، لسانی بنیادوں پر ہم نے جماعتیں بنا کر پاکستان کو تقسیم کر دیا ، ریاست کہاں گئی، اس طرح کی جماعتوں اور گروہوں نے وہ جذبہ ختم کر دیا، کاش ہم دوبارہ وہ جذبہ اور ولولہ حاصل کر لیں جس کے تحت پاکستان بنا تھا، موجود ہ مسلم لیگ اس نہج پر نہیں ہے، اس کے سربراہ کو سپریم کورٹ نااہل قرار دیتی ہےاور پانچ ججز نے اتفاق رائے سے فیصلہ دیا اور آپ ان پر چڑھ دوڑے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ قانون جدوجہد کرتے، بھٹو کو پھانسی دی گئی تو اس کی بیٹی نے سیاسی جدوجہد کی، جن کا قانون پر ایمان ہوتا ہے وہ سختیاں جھیلتے ہیں، وہ قانون کو پاوں تلے نہیں روندتے ، مثال کے طور پر امام حسین علیہ السلام جب مکہ سے کربلا کی طرف جارہے تھے تو راستے میں انہیں حر کا لشکر ملا، امام حسین علیہ السلام نے انہیں پانی دیا، ان کے جانوروں کو بھی سیراب کیا، جینے کا حق ہر کسی کو ہے یہ ہے بنیادی انسانی حقوق پر عمل ،لیڈرشپ کارویہ یہ ہوتا ہے، یہ لوگ معاشرے کو لیکر آگے بڑھتے ہیں، اب ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان آنا ہی نہیں ہے،  یہ کیسے حکمران ہیں، باپ حکمرانی کرنے آئے گا، بیٹے آتے ہی نہیں ہیں، ہمارے عوام سادہ لوح ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ مالدار ہو گئے ہیں۔ حکومتی اسٹیل مل کمزور ہو گئی ہے ان کی طاقتو ر ہو گئی ہے۔ کتنا ظلم ہے کہ ستر سالوں میں ہمیں قوم نہیں بننے دیا گیا، حالانکہ ہم میں اس کی صلاحیت موجود ہے، کشمیر میں زلزلہ آیا تو لوگ کیسے نکل کھڑے ہوئے تھے ، لیکن ہمیں فوجی اور سیاسی حکمرانوں نے قوم نہیں بننے دیا۔

ہم مسلکی بنیادوں پر سیاست کے مخالف ہیں، ہم نے اہل سنت کے ساتھ قربتیں پیدا کیں، شیعہ سنی جھگڑے کو ختم کیا، ہم سیاست بھی ایسی نہیں کریں گے جو مسلکی ہو، کاش قائداعظم کی مسلم لیگ دوبارہ بن جائے۔ جب سے مجلس وحدت مسلمین بنی ہے ہم نے دھرنا دیا ہے، پتھر نہیں مارا۔  جب ہمارے لوگ زیادہ مر رہے تھے تو ایک امکان تھا کہ ملک میں عسکریت پسندی جنم لے گی،  ایم ڈبلیو ایم جب بنی تو ہم نے پہلے کہا کہ ہم نے ملک کے اندر اسلحہ نہیں اٹھانا اور اہم نے اس کی قیمت دی ہے، آئین اور قانون کی حکمرانی میں رہتے ہوئے کام کیا ہےاسلحہ اٹھانے سے بربادی ہوتی ہے۔

ہم اگر انتہا پسند ہوتے تو صاحبزادہ حامد رضا اور ڈاکٹر طاہر القادری کا ساتھ نہ دیتے، ضیاءاللہ بخاری شاہ صاحب اچھے دوستوںمیں سے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ۔۔۔
وطن سے محبت کی انتہا نہیں بھول سکتا ، جس دن پاکستان دو لخت ہوا، میرے والد ریڈیو کمنٹری سنتے تھے، اٹھتے تھے بیٹھتے تھے، دکھ کا اظہار کیا اور انہیں ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ میں تو اس دن یتیم ہو گیا تھا، جس دن پاکستان ٹوٹا۔
مسلک دین سمجھنے کا ذریعہ ہے نہ کہ انسان دین کے نام پر دوسروں کے گلے کاٹے۔

امام خمینی اسلحہ کے زور پر نہیں بلکہ عوامی طاقت کے بل بوتے پر انقلاب لیکر آئے۔

پارا چنار چار سال محاصرے میںرہا، چاروں طرف سے حملہ کیا جاتا تھا، ان کی ناموس محاصرے میں تھی، یہ مجلس وحدت مسلمین وہیں سے بنی،  اس تمام معاملے پر اخبار میں خبر نہیں چھپتی تھی اور صوبائی حکومت بھی بات نہیں سنتی تھی، وہ کہتے تھے پارا چنار چھوڑ دو کہیں اور پناہ لے لو،اب ایسی صورتحال میں کہ جب چار اطراف سے حملہ ہوگا آپ دفاع نہیں کریں گے،پاراچنار کے لوگ محب وطن اور پڑھے لکھے ہیں، پارا چنار کا لٹریسی ریٹ اسلام آباد کے برابر ہے، وہاں ہیروئن کی فیکٹریاں نہیں ہیں، یہ ایک ایسی ایجنسی ہے جہاں پاکستان کا جھنڈا لہراتا ہے، پاکستان کے خلاف کوئی کام نہیں ہوتا۔ فوج پر حملہ نہیں ہوتا، تذویراتی حوالوں سے بھی بہت اہم ہے تین اطراف میں افغانستا ن ہے، یہ علاقہ افغانستان کے اندر گھسا ہوا ہے،اس لئے طالبان اس علاقے کے باسیوں کو مار رہے تھے۔  اس علاقے کے لوگوں کا 1500 بندہ مارا گیا ہے۔

آج کی فرقہ واریت ضیاالحق کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے،  جمہوریت کے خلاف اقدام اٹھایا گیا، ایک خاص سوچ کے لوگوں کو پروان چڑھایا گیا۔ امریکہ نے پیسہ لگایا اور پاکستان کو تختہ مشق بنایا گیا۔ ملک میں علمائے کرام کو بے گناہ قتل کیا گیا ، یہ عالمی سازش اور ان کی Investmentہے۔

ٓٓٓانگریز نے مسلمانوں کی طاقت توڑنے کے لئے انہیں تقسیم کیا مسلم لیگ میں سنی اور شیعہ اکٹھے تھے توپاکستان بن گیا اسی وجہ سے انہیں آپس میں لڑوا دیا گیا تاکہ یہ طاقت نہ بن جائیں۔

پاکستان مسلم امہ میں ایک فعال ملک ہوا کرتا تھالیکن اسے اب مسائل میں الجھا دیا گیا ہے۔

سعودیہ کے ساتھ اگر ہمارے تعلقات اچھے ہوں گے تو ا س ریجن کافائدہ ہے، پاکستان اکیس کروڑ عوام کا ایک ایٹمی ملک ہے،  اس کے تعلقات کسی بھی ملک کے ساتھ خراب نہیں ہونے چائیں ۔

 سوال:کالعدم جماعتوں کا بڑا شوشا ہے ان کو الیکشن میں آنا چاہے یا نہیں؟
جواب: میں کہتا ہوں پاکستان کے آئین اور دستور پر عمل ہونا چاہے مثال کے طور پر ایک آدمی کو قتل کر دیا جاتا ہے جو شادی شدہ نہیں تھا
جس نے قتل کیا وہ شادی شدہ تھا اب اسلام نے کیا کہا اسکو سزا دو  پھانسی کی اب قاتل کے بیوی بچے بھی ہیںاگر اسکو پھانسی دی جائے تو اس کے بچے یتم ہو جائیں گے اور گھر اجڑ جائے گا اب اسلام جزوی چیزوں کو نہیں دیکھتا اسلام  As a whole دیکھتا ہے اسلام ہر بات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتا ہے اور قانون بنتا ہے ممکن ہے کسی ایک کو نقصا ن ہو لیکن As a whole پوری سوسائٹی کو فائدہ ہے قانون اور آئین کے مطابق عمل ہونا چاہئے نہ انصافیاں جرائم کو جنم دیتی ہیں۔

سوال: یہ فرقہ وارنہ جنگ کیوں ہوئی پاکستان میں اور دونوں طرف سے لٹریچر چھپا؟
علامہ راجہ ناصرعباس: پاکستان میںکبھی فرقہ ورانہ جنگ نہیں ہوئی البتہ فرقہ وارت ہوئی ہے اور اس کی بنیادضیاءالحق نے رکھی یہ پاکستان کی ڈیموکریسی کے خلاف ہوئی یہ افغان پالیسی کا رزلٹ ہے، انہوں نے مخصوص لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کیا ان کے لشکر بنائے پلان امریکہ کا تھا پیسہ دوسرے ملکوں کا تھا اور اجرا پاکستان نے کیا بر صغیر میں جب بر طانیہ آیا توحکومت مسلمانوںسے چھینی تھی جو مسلمانوں کا حق ہے اور مسلمانوں کو تقسیم کیا گیا اور یہ لٹریچربھی اس وقت چھپنا شروع ہوا ایک طرف کہتے تھے کہ فلاں کتاب لکھو ابھی کتاب پرنٹ نہیں ہوتی تھی اس کا مسودہ شیعہ دے دیا جاتا تھا کہ یہ آپکے خلاف لکھا جا رہا ہے جیسے ہی کتاب پرنٹ ہوتی تھی اس کا جواب بھی آجاتا تھا اہلسنت اور شیعہ کو تقسیم کر کے توڑا گیا مسلم لیگ میں شیعہ سنی ایک ساتھ تھے اسی وجہ سے مسلمانوں کو توڑا گیا اور فرقہ وانہ کتابیں برطانیہ کے آنے کے بعد پرنٹ ہوئی اورمجیب الرحمٰن شامی صاحب نے اپنے ایک پرگرام میں کہا یہ کتابیں انڈیا سے پرنٹ ہوتی ہیں اور ان پر ایڈریس کسی اور ملک کا ہوتا ہے ، پاکستان کے سعودیہ کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے چاہے اس سے خطے کو فائدہ ہو گا اگر کہیں حالت خراب بھی ہوئے تو پاکستان ٹھیک کر سکتا ہے پس پاکستان اکیس کروڑ عوام کا ملک ہے اور ایٹمی ملک ہے اس کا کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات کسی دوسرے ملک کے تعلقات کے ساتھ کمپرومیز نہیں ہونا چاہیے ایک سمجھ دار حکومت کی طرح سلوک کرنا چاہیے اور ان کو سیکھنا چاہے کون سی چیز میڈیا پر لانی ہے اور کون سی نہیں  ہزاروںمسائل ہوتے ہیں آپس میں حکومتوں کے۔

انٹرویو بشکریہ روزنامہ اوصاف اسلام آباد

وحدت نیوز(انٹرویو)محترم نثار فیضی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تعلیم ہیں، بنیادی تعلق بلتستان ہے اور کافی عرصہ سے راولپنڈی شہر میں مقیم ہیں، اس سے پہلے دو مرتبہ ایم ڈبلیو ایم کے ہی شعبہ فلاح و بہود کے انچارج بھی رہے ہیں اور مرکزی سیکرٹری روابط کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ زمانہ طالب علمی میں آئی ایس او راولپنڈی ڈویژن کے صدر اور مرکزی کابینہ کے رکن بھی رہے ہیں۔ اسکے علاوہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے نام پر قائم فلاحی ادارہ ماوا کے بھی بانی اراکین میں شمار ہوتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین کیجانب سے قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی انتیسویں برسی کے سلسلہ میں نثار فیضی کو مرکزی چیئرمین کنونشن بنایا گیا ہے، اس بار برسی کی خاص بات یہ ہے کہ جگہ تبدیل کرکے پریڈ گراونڈ کر دی گئی ہے، جہاں پاک فوج کی سالانہ پریڈ ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ایک بین الاقوای خبر رساں ادارےاسلام ٹائمز نے محترم نثار فیضی سے خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

سوال: برسی شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے پروگرام کے حوالے سے کیا تیاریاں ہیں، اس بار کتنے احباب جمع کر رہے ہیں۔؟
نثار فیضی: سب سے پہلے تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اسلام ٹائمز اور اس کی انتظامیہ کے بہت ہی مشکور ہیں، جنہوں نے ہمیشہ اہم موقوں پر اس طرح کے موضوعات پر خود سے توجہ دی اور قوم کے جذبات کی درست ترجمانی کی اور آگاہی پھیلانے میں معاون ثابت ہوئے۔ پانچ اگست بالخصوص ملت تشیع اور باالعموم ملت پاکستان کی تاریخ کا وہ اہم ترین دن ہے، جب اس سرزمین پر فرزند سیدالشہداء اور خدمت گزار محرومین پاکستان علامہ سید عارف حسین الحسینی کا لہو بہایا گیا، اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ایک ایسی شخصیت اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کرکے گئی کہ جن کی شہادت پر خود رہبر کبیر سید روح اللہ خمینی نے ملت پاکستان کے نام پیغام بھیجا اور کہا کہ آج میں اپنے حقیقی فرزند سے محروم ہوگیا ہوں، امام راحل نے ملت پاکستان کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سید عارف حسین الحسینی کے افکار کو زندہ رکھیں۔ دیکھیں ملت پاکستان اور ملت تشیع پاکستان کی اجتماعی جدوجہد کا جو راستہ ہے، اس سفر میں سید عارف الحسینی کی شہادت کا دن بہت ہی اہم ہے، ان کے یوم شہادت کو انتہائی شایان شان طریقے سے منانا ہے، اس دن ان کی روح کے سے تجدید عہد کرنا، ان کے افکار کو اگلی نسل تک منتقل کرنا اور ان کی خدمت کو بیان کرنا ہماری جدوجہد کا خاص ترین پہلو رہا ہے اور ان شاء اللہ اس عمل کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ جہاں تک تیاری اور شرکت کے بارے میں سوال ہے تو اتنا عرض کروں کہ اس بار ہم نے اپنا مقام تبدیل کر دیا ہے۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ ملت تشیع اپنے قائد کی برسی پر جوق در جوق شامل ہوکر اپنا واضح پیغام دے گی کہ ہم اپنے شہید قائد کو نہیں بھولے ہیں۔ ان کی یاد زندہ ہے، ان کے افکار زندہ ہیں، ان کا راستہ موجود ہے، ان کی جدوجہد موجود ہے۔ اس لئے کوئی فرار کا راستہ موجود نہیں ہے۔

سوال: اس بار برسی کا مقام کیوں تبدیل کیا گیا ہے۔؟
نثار فیضی: جی اس لئے تبدیل کیا ہے کہ پریڈ گراونڈ کی حیثیت اہم پروگراموں کے حوالے سے بہت ہی اہم ہے، پہلے 23 مارچ کی پریڈ پرانے گراونڈ جو پارلیمنٹ کے سامنے ہے، وہاں ہوا کرتی تھی، لیکن سکیورٹی صورتحال اور میٹرو بس کی وجہ سے یہ تبدیل ہوگیا، اسی طرح اسلام آباد میں تعمیراتی کاموں کی وجہ سے بھی کئی مشکلات ہیں۔ اس کے علاوہ پریڈ گراونڈ بہت کھلی جگہ ہے، جہاں آپ آرام سے ایک بہترین پروگرام کر سکتے ہیں۔ اب تمام اہم تقاریب اسی پریڈ گراونڈ میں ہوتی ہیں، تئیس مارچ کا پروگرام یعنی فوجی پریڈ بھی اسی جگہ پر ہوتی ہے۔ اس جگہ پر پروگرام کرنا ہمارے لئے ایک چیلنج ہے اور امید کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے فضل اور امام زمانہ کی تائید و نصرت سے ایک اہم اور تاریخی پروگرام کے انعقاد میں کامیاب ہو پائیں گے۔ ان شاء اللہ

سوال: برسی کی مناسبت سے کیا خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں اور کونسی اہم شخصیات کی آمد متوقع ہے۔؟
نثار فیضی: خود اس گراونڈ کا انتخاب اس پروگرام کو بہتر کرنے کا ہی ایک پہلو ہے، ان شاء اللہ اس میں ہر سال کی طرح ملی شخصیات، طلبہ و طالبات، بچے، جوان، خواتین اور اکابرین ملت سمیت ذاکرین عظام کو خصوصی شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔ یہ دعوتی عمل جاری ہے، اس بار خاص بات یہ ہے کہ ہم اس پروگرام میں اہل سنت کی مذہبی شخصیات کو بھی مدعو کر رہے ہیں۔ ایسی جماعتوں کو مدعو کر رہے ہیں، جن کا پاکستان میں اتحاد و وحدت کے حوالے سے اہم کردار ہے، وہ شخصیات مدعو ہوں گی اور پروگرام میں ان کے خطابات بھی ہوں گے۔

سوال: فکر شہید حسینی کو اجاگر کرنیکے حوالے سے اس بار کیا خاص ہوگا۔؟
نثار فیضی: فکر شہید حسینی کے پرچار کے حوالے سے جہاں ہمارے مقررین ان کی خدمات، افکار اور بصیرت کے حوالے سے پرمغز گفتگو کریں گے، وہیں قائد شہید کی شخصیت کے حوالے سے قائد وحدت علامہ ناصر عباس کا خصوصی خطاب ہوگا۔ اس خطاب میں علامہ راجہ ناصر عباس عباس جعفری قائد شہید کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے آئندے کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کریں گے۔ ان روایتی طریقوں کے علاوہ شہید کے حوالے سے خصوصی ترانے، خصوصی کلپس بھی سوشل میڈیا پر نشر کئے جائیں گے اور پروگرام کا بھی حصہ بنیں گے۔ اس کے علاوہ اس پروگرام میں شہداء کے خانوادوں کی بھی خصوصی نمائندگی ہوگی۔ اس کے علاوہ شہید کی شخصیت کے حوالے سے خصوصی اسٹال بھی لگائے جائیں گے اور ایک بھرپور ماحول آپ کو دیکھنے کو ملے گا۔

سوال: برسی کے حوالے کوئی پیغام دینا چاہیں۔؟
نثار فیضی: شہید کی یاد واقعاً ہمارے لئے بہت اہم ہے، آپ کو یاد ہے کہ 2008ء میں جب پاراچنار میں حالات انتہائی مخدوش تھے، اس وقت شہید کی یاد منانے کا آغاز کرکے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، جو الحمد اللہ جاری و ساری ہے، برسی شہید پر جب ہماری قوم اکٹھی ہوتی ہے تو اس موقع پر جہاں ہم فکر شہید سے نئی روح لیکر روانہ ہوتے ہیں، وہی اپنے طاقت کا بھی اظہار کرتے ہیں، دشمن کی آنکھوں میں ہیبت ڈالتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ قائد شہید کا وجود ہمیں اپنے منزل کی جانب لیکر جا رہا تھا تو انہیں شہید کرا دیا گیا، لیکن ہم انہیں نہیں بھولے، ان کی یاد زندہ ہے، ان کے افکار زندہ ہیں، ان کی راہ زندہ ہے، ان کے ساتھی زندہ ہیں، جو اس فکر کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں، یہ دن مظلوموں کی طاقت کا دن ہے، اس لئے ملت کے سب طبقات نکلیں اور شہید کے ساتھ تجدید عہد کریں۔ ان شاء اللہ 6 اگست کو ہم ملت کی راہ تک رہے ہوں گے۔ ہم ان کی خدمت کیلئے پریڈ گراونڈ میں موجود ہوں گے۔ اس بار اس کانفرنس کا نام مہدی ؑ برحق رکھا گیا ہے۔ آئیں اس مہدی برحق کو ان کے فرزند کی شہادت پر پرسہ دیں اور عہد کریں کہ اے ہمارے آقا و مولا ہم آپ کے ظہور کی راہ ہموار کرنے کیلئے ہمہ وقت مصروف عمل ہیں۔

وحدت نیوز(انٹرویو) ڈی آئی خان میں احتجاجی ریلی کی قیادت کے بعد اسلام ٹائمز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقبال بہشتی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں، جو یہاں موجود ہیں، بنیادی طور پر یہ ذمہ داری موجود لوگوں کی تھی کہ وہ کسی کو بھی اس اراضی پر ایک اینٹ بھی نہ رکھنے دیتے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ ابھی بھی مختلف لوگوں کو محکمہ اوقاف اور سرکار کیجانب سے مختلف پیش کش ہو رہی ہیں۔ انہیں ایک آفر یہ بھی ہوئی ہے کہ ایک سو چالیس کنال ہم آپ کے نام پر انتقال کرتے ہیں، باقی اراضی آپ چھوڑ دیں۔ مگر ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ 327 کنال 9 مرلے میں سے ہم ایک مرلے سے بھی دستبردار نہیں ہونگے۔ کوٹلی امام حسین (ع) اراضی تشیع غیرت اور ناموس کا مسئلہ ہے۔ افسوس ہے سانپ سونگھے ان مردہ ضمیروں پر، جو بہت سارے اہم قومی یا ملکی مسائل میں اپنی سستی، خوف اور حکومت پرستی کو حکمت و مصلحت کا نام دیکر اپنی خاموشی سے ظالموں کیلئے تقویت کا باعث بنتے ہیں اور عام حالات میں گفتار کے غازی بنکر سوشل میڈیا کی حد تک عوام کے وارث بننے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
علامہ محمد اقبال بہشتی مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ خیبر پختونخوا کے موجودہ سیکرٹری جنرل ہیں، انکا تعلق ضلع کوہاٹ کے علاقہ بنگش سے ہے، انکے والد آرمی میں تھے اور 1965ء کی پاکستان اور بھارت جنگ میں شہید ہوئے۔ انہوں نے 1983ء میں بنوں سے ایف ایس سی کی اور آرمی میں آئی ایس ایس بی کا ٹیسٹ کلیئر کیا، انہی دنوں میں انکی ملاقات قائد شہید عارف حسین الحسینی سے ہوئی اور یہ ملاقات انکے لئے انقلاب سے آشنائی کا باعث بنی، جس سے انکا رجحان دین کیطرف ہوگیا اور انہوں نے 1984ء میں باقاعدہ طور پر پاراچنار کے دینی مدرسہ جعفریہ میں تعلیم کا حصول شروع کیا۔ 1992ء تک قم ایران میں پڑھتے رہے اور سال کے آخر میں پاکستان آگئے۔ 1992ء سے لے کر 2010ء تک اورکزئی ایجنسی کے مدرسے کا چارج سنبھالا، جسکی بنیاد شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی نے رکھی تھی۔ 2010ء کے آخر میں انہوں نے مجلس وحدت مسلمین میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کی۔ کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی کے مسئلہ پر انہوں نے ڈی آئی خان کا دورہ کیا اور احتجاجی ریلی و مظاہرے کی قیادت کی۔ خیبر پختونخوا میں تشیع املاک پہ ناجائز قبضے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اسلام ٹائمز نے انکے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیا، جسکا احوال انٹرویو کی صورت میں پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: کیا وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں تشیع املاک پر ناجائز قبضے اور عزاداری کیلئے وقف املاک کی قانونی حیثیت میں بوگس تبدیلی کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں، کیا یہ کوئی حکومتی پالیسی ہے، یا تشیع کی کمزوری۔؟
علامہ اقبال بہشتی: خیبر پختونخوا بشمول فاٹا میں زیادہ تشیع آبادی والے علاقے چند ہیں۔ جیسا کہ پارا چنار جہاں ساڑھے چار لاکھ سے زائد شیعہ، ہنگو، کوہاٹ، اورکزئی میں ساڑھے تین لاکھ، ڈی آئی خان میں اڑھائی لاکھ سے زائد شیعہ آبادی ہے۔ چونکہ یہ شیعہ اکثریتی علاقے ہیں تو یہاں پر تشیع جائیدادیں، زمینیں، املاک نجی و قومی (دونوں) زیادہ ہیں۔ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ شیعہ اکثریتی علاقوں کو ڈسٹرب کرے۔ اسی کا تسلسل ہے کہ ہماری املاک پر قبضے بھی ہو رہے ہیں اور ان کی قانونی حیثیت بھی تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کوششوں میں صوبائی حکومت باقاعدہ شریک ہے۔ اورکزئی ایجنسی، پاراچنار میں ہماری تقریباً بارہ ہزار کنال زمین کو ہڑپ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس زمین پر ترقیاتی کام کرکے یعنی بجلی، روڈ و دیگر سہولیات فراہم کرنے کے بعد وہاں طالبانی فکر کے لوگوں کو آباد کیا جا رہا ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہیں ہم سنی بھی نہیں کہہ سکتے۔ خوارج ہیں، دہشت گرد ہیں۔ ان لوگوں کو زمین دی جا رہی ہے۔ پاراچنار، اورکزئی صوبائی حکومت کے زیرانتظام نہیں ہیں، مگر کوہاٹ اور ڈی آئی خان تو ہیں۔ اورکزئی میں پولیٹیکل ایجنٹ اور دیگر افسران لاکھوں روپے رشوت لیکر ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

دوسرا اہم مسئلہ جو ضلع کوہاٹ کا دیرینہ مسئلہ ہے، وہ کچئی میں ضلع اور علاقہ غیر کی حدبندی اور ہماری زمین پر مخالفین (طالبانی فکر) کے قبضے کا ہے۔ یہاں بھی زمین سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کنال ہے۔ کچئی باقاعدہ ضلع ہے۔ یہاں کی ہزاروں کنال زمین باقاعدہ ہمارے پاس انتقال شدہ ہے۔ ہمارے پاس اس کے نقشے ہیں، کاغذات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ضلع اور علاقہ غیر کے مابین باؤنڈری کو تازہ کیا جائے۔ چونکہ اس علاقے میں اربوں کا قیمتی کوئلہ موجود ہے، لہذا افسران رشوتیں لیکر اس معاملے کو سلجھانے کے بجائے زیادہ الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور قانونی طریقے سے اسے حل کرنے کی حوصلہ افزائی کے بجائے علاقائی سطح پر جرگے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ اس کا رزلٹ آدھا تم لو اور آدھا تم والا معاملہ ہو جائے۔ تیسرا اہم ترین مسئلہ ڈیرہ اسماعیل خان میں کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی کا ہے۔ کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی مرکزی سرکلر روڈ کے دونوں جانب لب پر واقع ہے۔ یہ کل 327 کنال اور 9 مرلے اراضی ہے، جو کہ 1837ء میں ایک ہندو مادھو لعل (جو کہ امام حسین (ع) سے انتہائی عقیدت و محبت رکھتا تھا) نے امام حسین (ع) کے نام پر وقف کی تھی۔ 1837ء سے لیکر 2013ء تک اس اراضی کی قانونی حیثیت وقف امام حسین (ع) ہی رہی۔ 2013ء میں انتخابات کی گہما گہمی کے اندر اور غل غپاڑے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محکمہ اوقاف نے اس اراضی کا انتقال اپنے نام پر کر لیا۔ اول تو یہ انتقال ہی بوگس اور جعلی ہے، کیونکہ منتقلی کیلئے صاحب جائیداد کی موجودگی، دستخط ضروری ہیں۔ اس مسئلہ کو بھی ایم ڈبلیو ایم نے ہی اٹھایا ہے۔ اس جعلی انتقال کے خلاف ہمارا احتجاج جاری ہے۔ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ کوٹلی امام حسین (ع) کی پرانی حیثیت کو بحال کیا جائے اور دوبارہ وقف امام حسین (ع) کی جائے نہ کہ محکمہ اوقاف کے نام پر منتقل۔

اسلام ٹائمز: کوٹلی کے مسئلہ پر کافی دنوں سے احتجاج جاری ہے، حکومت یا انتظامیہ کوئی نوٹس لینے پر تیار نہیں ، تو آپکا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا۔؟
علامہ اقبال بہشتی: جی ہمیں بھی اندازہ ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے، مگر تشیع قوت کوئی اتنی لاغر یا کمزور نہیں ہے کہ وقف امام حسین (ع) اراضی کی حفاظت نہ کر پائے اور اغیار اسے یوں ہتھیا لے جائیں۔ احتجاج کا سلسلہ شروع ہے۔ لوگوں میں بیداری آرہی ہے، انہیں اپنے حقوق کا اندازہ ہے اور اب انہیں اپنے حقوق لینے کا طریقہ بھی آنا چاہیئے۔ قومی غیرت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ عوامی، پرامن جدوجہد کے ذریعے حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ کوٹلی امام حسین (ع) کی پرانی حیثیت کو بحال کرے۔ ہم اپنے عوامی احتجاج کا سلسلہ دراز کر دیں گے۔ اس کے علاوہ ہم دونوں راستے استعمال کریں گے۔ قانونی راستہ بھی اپنائیں گے کہ اس جعلی انتقال کو منسوخ کیا جائے اور عوامی جدوجہد کا راستہ بھی اپنائیں گے۔ کچھ بھی ہو، ہم کوٹلی امام حسین (ع) کی پرانی قانونی حیثیت کی بحالی سے کم پر راضی نہیں ہوں گے اور نہ ہی ایک مرلہ زمین چھوڑیں گے۔

اسلام ٹائمز: کوٹلی امام حسین (ع) کا مسئلہ پرانا ہے، صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ مسئلہ وفاق کے اینڈ پر ہے، ایم ڈبلو ایم ملک گیر تنظیم ہے، تو مرکزی سطح پر یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا جاتا، وفاقی حکومت کے سامنے۔؟
علامہ اقبال بہشتی: کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی کا مسئلہ ہو یا خیبر پختونخوا میں دیگر قومی و تشیع املاک کا، یہ ڈیڈ مسائل تھے جنہیں مجلس وحدت مسلمین نے مرکزی سطح سے دوبارہ زندہ کیا ہے اور ان پر بات کی ہے۔ یہ مختلف مسائل تھے کہ جن کے حل کیلئے علامہ راجہ ناصر عباس طویل ترین بھوک ہڑتال پر گئے۔ ابھی چونکہ ہم املاک والے موضوع پر ہی بات کر رہے ہیں تو مرکزی سطح سے جو جدوجہد شروع ہوئی، اسی کے تسلسل میں ہم صوبائی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ راجہ صاحب سے عمران خان نے ملاقات کی، وزیراعلٰی پرویز خٹک نے ملاقات کی۔ اس کے بعد سے ہمارے وفود وزیراعلٰی اور صوبائی وزراء سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بہرحال یہ مسائل مرکز سے بھی اٹھا رہے ہیں اور یہاں سے بھی۔ مجلس وحدت مسلمین تشیع کے دفاع، تشیع املاک کے دفاع میں پوری طرح متحرک ہے۔ کوٹلی کی پرانی قانونی حیثیت کی بحالی تک ہمارا احتجاج تو جاری رہیگا۔

اسلام ٹائمز: کوٹلی امام حسین (ع) کے اندر جو شیعہ قومی جماعت طویل عرصہ سے موجود ہے، وہ کوٹلی بچاؤ تحریک میں شامل نہیں اور نہ ہی اس معاملے پر آپکے ساتھ کوئی ہم آہنگی دیکھائی دیتی ہے۔؟
علامہ اقبال بہشتی: یہی ہماری غفلتیں ہیں، لاپرواہی ہے کہ جس کی وجہ سے آج یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ذمہ داری وہاں موجود لوگوں کی تھی کہ وہ کسی کو بھی اس اراضی پر ایک اینٹ بھی نہ رکھنے دیتے، تاہم ایسا نہیں ہوا۔ ابھی بھی مختلف لوگوں کو محکمہ اوقاف اور سرکار کی جانب سے مختلف پیش کش ہو رہی ہیں۔انہیں ایک آفر یہ بھی ہوئی ہے کہ ایک سو چالیس کنال ہم آپ کے نام پر انتقال کرتے ہیں، باقی اراضی آپ چھوڑ دیں۔ مگر ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ 327 کنال 9 مرلے میں سے ہم ایک مرلے سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ تشیع غیرت اور ناموس کا مسئلہ ہے۔ البتہ افسوس ہے سانپ سونگھے ان مردہ ضمیروں پر، جو بہت سارے اہم قومی یا ملکی مسائل میں اپنی سستی، خوف اور حکومت پرستی کو حکمت و مصلحت کا نام دیکر اپنی خاموشی سے ظالموں کیلئے تقویت کا باعث بنتے ہیں اور عام حالات میں گفتار کے غازی بنکر سوشل میڈیا کی حد تک عوام کے وارث بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: ڈی آئی خان شہداء کی سرزمین ہے، کیا یہاں کوئی تبدیلی بھی محسوس کرتے ہیں۔؟
علامہ اقبال بہشتی: ڈیرہ اسماعیل خان شہداء کی سرزمین ہے، بہادروں تعلیم یافتہ، صاحب زیرک شجاع نوجوانوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کے نوجوان، خواتین دینی، تعلیمی میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہاں کی گلی کوچوں میں تشیع کا بیدردی سے خون بہایا گیا۔ ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اٹھے۔ بے گناہ معصوم تشیع نوجوان عرصہ دراز سے لاپتہ ہیں۔ سرکاری سرپرستی میں یہاں پر ظلم و جور کا بازار گرم کیا گیا۔ یہاں تک کہ جیلوں کے اندر تک بے گناہ نوجوانوں کے گلے کاٹے گئے۔ ہمارا سلام ہے ان ماؤں بہنوں کو کہ جنہیں اپنے بچوں کی، بھائیوں کی اعضاء بریدہ، لاشیں تو ملی مگر انصاف نہیں ملا۔ یہاں تشیع پر زندگی کے دروازے بند ہوئے، کاروبار ختم کئے گئے۔ چنیدہ افراد کا اہدافی قتل کیا گیا۔ خودکش حملے ہوئے، دھماکے ہوئے مگر اس کے باوجود ان کے پایہ استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ اس سرزمین کے جوانوں، بہادروں کو ہمارا سلام کہ عصر یزیدیت میں حسینیت کی مالا جپھ رہے ہیں۔ یہاں کے نوجوانوں کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اصلاح اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ یہاں فلاحی کاموں کی ضرورت ہے۔ تعلیمی، تنظیمی حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر صحیح معنوں میں یہاں کام کیا جائے تو
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اسلام ٹائمز: آخری سوال، یہ چند دنوں سے پاراچنار شہر کے گرد خندق کی کھدائی کا ذکر عام ہے، کیا سچ ہے۔؟
علامہ اقبال بہشتی: اس حوالے سے مستند رائے دینا تو شائد میرے لئے ممکن نہ ہو، البتہ ماہرین فن اور اس فیلڈ سے متعلقہ افراد ہی اس کا بہتر جواب دے سکتے ہیں۔ اس کے باوجود انسانی ذہن میں یہ سوال تو اٹھتے ہیں کہ کیا خندق کی کھدائی سے دہشت گردوں کا راستہ بند ہو جائیگا اور وہ پارا چنار میں داخل نہیں ہو پائیں گے۔ آیا اس طرح کے اقدامات سے دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوں گے یا عوام کے۔ خندق کے اندر موجود علاقہ، افراد محدود ہو جاتے ہیں، تو کیا خندق سے ایسا نہیں ہوگا کہ اہل شہر مقید اور دہشت گرد آزاد۔؟ اس کے علاوہ اگر یہ عمدہ نسخہ اتنا ہی کارگر ہے تو صرف پارا چنار میں ہی کیوں اپنایا جا رہا ہے۔ کیا خندقیں دھماکے، گولیاں روک سکتی ہیں۔ کیا خندق کی کھدائی سے شہر اور آس پاس کے دیہاتوں میں فاصلہ نہیں بڑھ جائے گا، اور فاصلہ بڑھنے کی وجہ سے کیا لوگ ایک دوسرے کی مدد کیلئے بروقت پہنچ پائیں گے۔؟ لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ واسطہ توڑ کر، آمدروفت میں خلل ڈال کر کیا فوج اور پولیٹیکل انتظامیہ پاراچنار کے شہریوں کیلئے مخلصانہ اقدام اٹھا رہی ہے۔ بات یہ ہے کہ پاراچنار آل سعود کی آنکھ میں کانٹا بن کر چبھ رہا ہے۔ پاکستانی حکمران غاصبین حرمین کی آنکھ کے علاج پر مامور بھی ہیں اور مجبور بھی۔

وحدت نیوز(گلگت )  محکمہ ہیلتھ میں لوئر پوسٹوں پر انٹرویو کے نتائج کو غیر ضروری تاخیر کا شکار کیا جارہا ہے۔سیاسی مداخلت سے روزانہ کی بنیاد پر نتائج تبدیل کئے جانے کی خبریں مل رہی ہیں۔سابقہ تقرریوں میں بھی بے ضابطگیاں ہوئیں جس سے ادارے کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کرپشن کا گڑھ بنتا جارہا ہے جہاں ٹھیکے اور ملازمتیں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر تقسیم کی جارہی ہیں۔غریب اور حق دار امیدواروں کو کھڑے لائن لگادیا گیا ہے اور من پسند امیدواروں کو تعینات کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔سیاسی مخالفین کیلئے سرکاری ملازمتوں کا راستہ بالکل ہی بند کردیا گیا ہے جس سے معاشرے میں شدید تحفظات پیدا ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرٹ نام کی کوئی چیز اداروں میں نظر نہیں آرہی ہے بلکہ سفارش اور رشوت کے کلچر کو پہلے سے زیادہ فروغ دیا جارہا ہے حکمران صرف اخباری بیانات کی حد تک میرٹ کو فالو کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خطے کے مستحق اور ہونہار امیدوار صرف اس وجہ سے نوکری پر نہیں لگ جاتے ہیں کیونکہ انہوں نے مسلم لیگ ن کا ساتھ نہیں دیا۔اس طرح کی طرز حکمرانی کسی صورت قابل قبول نہیں اس حکمرانوں کی اس روش کی وجہ سے علاقے کے عوام حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں۔انہوں نے چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ ہیلتھ کا قبلہ درست کرے اور تقرریوں میں میرٹ کو یقینی بنائے۔

Page 1 of 5

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree