وحدت نیوز(مظفرآباد) عزاداری کے لیے ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ، یہ ریاست ہماری ہے ، ہم اس ریاست کے باشندے ہیں ، یہ ہمارا مذہبی ، آئینی ، قانونی ، شرعی و شہری حق ہے کہ ہم مذہبی عبادات کو آزادانہ انجام دیں ، آئی جی آزاد کشمیر اپنا بیان واپس لیں ، ہم ان کے اس بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ، ان خیالات کا اظہار ترجمان و ممبر مرکزی عزاداری سیل مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر مولانا سید حمید حسین نقوی نے آئی جی آزاد کشمیر کے نئی مجالس کے انعقاد پر پابندی کے حوالے سے بیان پر اپنے ردعمل میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عزادری سید الشہداء ؑ ہماری شہ رگ حیات ہے، مر تو سکتے ہیں لیکن اس سے دستبردار نہیں ہو سکتے ، ہم انڈیا سے الگ ہوئے ہی اسی لیے تھے کہ اپنی مذہبی عبادات کو آزادی سے سرانجام دیں سکیں ۔ ہم اس ریاست کے پرامن و محب وطن شہری ہیں ، اس کے اندر ہمیں مذہبی طور پر آزادی ہے ، آئی جی آزاد کشمیر نئے ہیں یہاں کے زمینی حقائق بارے انہیں علم نہیں ، یہاں شیعہ سنی باہم اتحاد و اتفاق سے رہتے ہیں ، محرم الحرام ہو یا ربیع الاول ملکر مناتے ہیں ، ہر شہری اور ہر مسلک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مذہبی عبادات کو بھرپور طریقے سے سرانجام دے ۔

 انہوں نے مزید کہا کہ آئی جی آزاد کشمیر اس معاملے پر مستعدی دکھانے کے بجائے علامہ تصور نقوی پر حملہ کرنے والے مجرمان کی گرفتاری کے لیے بات کریں ، اپنی پولیس کو بلائیں ، پوچھیں ! کہ آٹھ ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا ، چھوٹی سی جگہ سے حملہ آور فرار ہوگئے ، پولیس ہاتھ پر ہاتھ رکھے دیکھتی رہی اور آج تک حیلے بہانوں سے ٹرخائے جا رہی ہے کیوں ؟ آئی جی صاحب پولیس کو پیشہ ورانہ امور کی جانب متوجہ کریں اور ریاستی شہریوں پر دباؤ نہ ڈالیں ۔ مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیرنے تمام شیعہ تنظیمات سے رابطوں کا آغاز کر دیا ہے ، کہ آئی جی آزاد کشمیر کے اس بیان نے ملت جعفریہ کی دل آزاری کی ہے ، آزاد کشمیر کے اندر امن و امان کی صورتحال مخدوش ہو چکی ہے، ایک نہتے آدمی کو دن دیہاڑے شاہرائے عام پر گولیاں مار دی جاتی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ، ان امور کی جانب توجہ کرنے کے بجائے انتہائی غیر ذمہ درانہ بیان ناقابل قبول ہے، ہم صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر سے کہتے ہیں کہ وہ آئی جی پی کو درست سمت موڑیں ، بصورت دیگر ملت جعفریہ اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائے گی۔ مولانا حمید نقوی نے کہا کہ ہم آئی آزاد کشمیر کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا بیان واپس لیں۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) ملت جعفریہ کا نمائندہ اجلاس، علامہ سید تصور نقوی اور ان کی اہلیہ پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں کی عدم گرفتاری پر ایک بار پھر اظہار تشویش، انتظامیہ و حکومت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شدید تنقید، مجرمان کو جلد از جلد سلاخوں کے پیچھے چاہتے ہیں ورنہ آئندہ اجلاس میں احتجاج سمیت ہر آپشن پر غور کرتے ہوئے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، اعلامیہ۔ تفصیلات کے مطابق ملت جعفریہ کی جانب سے علامہ تصور نقوی کے کیس کے حوالے بنائی گئی نمائندہ کمیٹی کا اجلاس، اجلاس علامہ مفتی سید کفایت حسین نقوی کی رہائش گاہ پر ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی و جعفریہ سپریم کونسل سید شبیر حسین بخاری نے کی، جبکہ سینئر ممبر اسلامی نظریاتی کونسل آزاد کشمیر علامہ مفتی سید کفایت حسین نقوی، کوآرڈینیٹر کمیٹی و ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر مولانا سید طالب حسین ہمدانی، وائس چیئرمین جعفریہ سپریم کونسل آزاد کشمیر علامہ سید فرید عباس نقوی، صدر حسینی فاؤنڈیشن سید عار ف حسین بخاری، کوآرڈینیٹر انسداد دہشت گردی پبلک ایکشن کمیٹی سید شجاعت علی کاظمی، جنرل سیکرٹری انسداد دہشت گردی ایکشن کمیٹی سید تصور عباس موسوی، سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ضلع مظفرآباد سید غفران علی کاظمی، علامہ تصور نقوی کے ورثاء و کمیٹی کے دیگر اراکین نے اجلاس میں شرکت کی۔ اعلامیے کے مطابق علامہ سید تصور نقوی اور ان کی اہلیہ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے مجرمان کی عدم گرفتاری پر ایک بار پھر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انتظامیہ و حکومت پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اس کیس کے حوالے سے کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ مجرمان کو جلد از کٹہرے میں لایا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو آئندہ اجلاس میں احتجاج سمیت ہر آپشن پر غور کرتے ہوئے سخت لائحہ عمل دیا جائے گا۔مشرکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر ایک پرامن خطہ ہے اس کے امن کو تہہ و بالا کرنے والوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ملت جعفریہ ریاستی امن کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہے مگر ملت کے اتنے اہم آدمی کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی گئی اور کئی ماہ گرز جانے کے باوجود مجرمان کا بے نقاب نہ ہونا اداروں کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ ان کی کارکردگی سے ہم کسی طور پر بھی مطمئن نہیں۔ ہمارے مجرمان کو سلاخوں کے پیچھے نہ لایا گیا تو جلد سخت ردعمل دیں گے۔

 وحدت نیوز(اسلام آباد) الحاق پاکستان کشمیریوں کے ایمان کا حصہ ہے، اپنے اس مشن سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ پرامن، مضبوط، خوشحال اور کرپشن سے پاک پاکستان ہماری منزل ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر مولانا سید طالب حسین ہمدانی نے پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام علامہ شہید عارف حسین الحسینیؒ کے 29ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ مہدی ؑ برحق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا بیان ان کا ذاتی ہے۔ ان کا بیان کسی طور پر بھی کشمیری قوم کا ترجمان نہیں ہو سکتا۔ ہم وزیراعظم آزاد کشمیر کے بیان کی مذمت کرتے ہیں اور دنیا کو بتانے آئے ہیں کہ الحاق پاکستان ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اس الحاق کے عملی جدوجہد سے ہم کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ پرامن، مستحکم، خوشحال اور کرپشن فری پاکستان چاہتے ہیں، قائداعظم و علامہ اقبال کا پاکستان چاہتے ہیں۔ اگر نواز شریف کو ملک اعلیٰ عدلیہ نے کرپشن کی بنیاد پر نااہل کیا ہے تو اس کو مملکت خداداد پاکستان کے نیک شگون سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنے پارٹی سربراہ کے نااہل ہونے پر صدمے میں آکر بیان دیا ہے ہم اس بیان کو کسی طور پر بھی کشمیری قوم کا بیان نہیں سمجھتے اور اس بیان کی آڑ میں پوری کشمیری قوم کی تضحیک و توہین کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ مولانا طالب ہمدانی نے کہا کہ ہم شیعہ سنی ملکر پاکستان کا دفاع کریں گے یہی ہمارے قائد علامہ عارف حسین الحسینی کا مشن تھا۔ تاریخ گواہ ہے کراچی سے لیکر کشمیر تک ہم نے اتحاد بین المسلمین کے لیے کام کیا۔ کشمیر میں ہمارے ہر دلعزیز رہنماء کو اسی وجہ سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ہم اسلام آباد سے یہ پیغام دیتے ہیں کہ علامہ تصور نقوی پر حملہ کرنے والوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے ۔ ریاستی ادارے مستعدی دکھائیں، سستی و کاہلی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) قائم مقام سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر مولانا سید طالب حسین ہمدانی نے کہا ہے کہ علامہ تصور جوادی پر حملہ کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے ، مجرمان کی گرفتاری آزاد کشمیر کے امن کے لیے انتہائی ضروری ہے، علامہ تصور جوادی پر حملہ امن کی فضا کو خراب کرنے کی بڑی سازش ہے۔ کشمیر کے باسی پرامن اور محب وطن ہیں ، یہاں کوئی شیعہ سنی تفریق ہے نہ ہونے دیں گے ۔ ہم اتحاد بین المسلمین کے لیے کام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ علامہ تصور جوادی کا مشن و مقصد ہی یہی تھا ، کہ امت مسلمہ ایک پیج پر ہو ، اغیار کی سازشوں کو بھانپتے ہوئے انہیں اپنی صفحوں میں نہ گھسنے دے۔ شہر مظفرآباد امن کی علامت کے طور پر سمجھا جاتا تھا ، مگر ایک شریف النفس درویش صفت انسان کو گولیوں کا نشانہ بنا کر دن دیہاڑے فرار ہو جانا انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے، پر زور مطالبہ ہے کہ جلد از جلد دہشت گردوں کو گرفتا ر کر کے سامنے لایا جائے ، عدم تحفظ کی فضا کو ختم کیا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے دفتر میں آئے ہوئے مختلف وفود سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ ہم حسینی قوم ہیں ، میدان میں نکلنا جانتے ہیں ، حکومت فوری طور پر سراغ لگائے ورنہ جب یہ قوم میدان میں نکل جائے تو پھر اسے کوئی نہیں بھگا سکتا ۔ مولانا طالب ہمدانی نے کہا کہ ایکشن کمیٹی نے پانچ دن کی ڈیڈ لائن دی تین روز گزرنے کو ہیں تا حال کوئی پیش رفت نہیں ، اس ڈیڈ لائن کے گزر جانے کے بعد راست اقدام اٹھائیں گے ، مجلس وحدت مسلمین پرامن جمہوری جماعت ہے ، مگراپنے محبوب رہنما کا خون رائیگان نہیں جانے دے گی ۔ مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے ہر کارکن کے اندر شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے معاملے کا فوری حل نکالا جائے بصورت دیگر ہم سڑکوں پر آئیں گے پھر اس وقت تک واپس گھروں کو نہیں لوٹیں گے جب تک علامہ تصور جوادی پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت میں نہ ہوں ۔ ہم انتظامیہ کے ساتھ ہیں ، مکمل تعاون کے لیے آمادہ ہیں ، مگر حکومتی بے بسی پر حیران کن ہیں ، اتنا بڑا سانحہ ہوجانے کے باوجود ایک وزیر ایک رکن نے بھی تعزیت و تسلیت کی زحمت گوارہ نہیں کی ۔ مولانا طالب حسین ہمدانی نے کہا کہ علامہ تصور حسین نقوی الجوادی صحت بہتری کی جانب گامزن ہے ، مگر قوم سے اپیل ہے دعاؤں کا سلسلہ جاری رکھے ۔ انشاء اللہ وہ وقت دور نہیں کہ جب پھر ہمارا ہر دلعزیز رہنما ہمارے درمیان ہو گا ۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل علامہ سید تصور حسین نقوی الجوادی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزمان چھ روز گزرنے کے باوجود گرفتار نہ ہونے پرتمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قائم’’ انسداد دہشت گردی پبلک ایکشن کمیٹی مظفرآباد ڈویژن‘‘ نے حکومت کو ملزمان کی گرفتاری کیلئے پانچ دن کی ڈیڈ لائن دے دی ۔ ملزمان گرفتا رنہ ہوئے تو دما دم مست قلندر ہوگا،یو این و مبصر مشن تک لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہونگے ۔

گزشتہ روز مرکزی ایوان صحافت میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں ،تاجروں کے ذمہ داران ،سول سوسائٹی،طلباء تنظیموں ،سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان مجلس وحدت مسلمین کے رہنماطالب ہمدانی ، سید شجاعت کاظمی، علامہ فرید عباس نقوی ، مولانا عبدالعزیز علوی، شوکت نواز میر ، راجہ ثاقب مجید ، سید نذیر حسین شاہ ،  عبدالرزاق خان، قاضی محمد فہد چشتی ،اصغر نثار میر ،سید تصور عباس موسوی، حافظ کفایت نقوی ، نصیر ہمدانی ،کامران بیگ،سید تبریز کاظمی، سید قلب عباس ،سید مجاز شاہ ، علامہ تصور جوادی کے لواحقین و دیگرنے کہا کہ مظفرآباد شہر امن و رواداری کا شہر ہے جس پر حملہ کیا گیا ، اس دھرتی کو دہشت گردوں کے حوالے کسی بھی صورت نہیں کر سکتے ۔تخریب کاروں کے نا پاک عزائم کو اس دھرتی کے باشعور عوام نے ناکام بنا دیا ۔دکھ کی اس گھڑی میں حکمران جماعت کی طرف سے کسی وزیر یا ایم ایل اے نے متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدردی تک نہیں کیا ،اور نہ ہی اس حوالہ سے کوئی سنجیدہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا وہاں سے ملزمان کا گاڑی سمیت فرار ہونا پولیس انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا رہا ہے ۔شہریان مظفرآباد نے اپنے حصے کا بھر پور کردار ادا کیا لیکن حکومت کی جانب سے مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا ۔

انہوں نے کہا کہ اگر پانچ دن میں ہمارے مطالبات منطور نہیں کیے جاتے تو ہم راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے ۔احتجاجی تحریک کا آغاز کرینگے ، دھرنے دیئے جائیں گے ، جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔شٹر ڈاؤن ،پہیہ جام کرنے کے ساتھ ساتھ UNOکے مبصر مشن تک مارچ کرینگے اگر ضرورت محسوس ہوئی تو  ہم مظفرآباد اور اسلام آباد کے پارلیمنٹ کی جانب لانگ مارچ کرنے اور دھرنا دینے کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر بھر کی سیکیورٹی سخت کی جائے تمام انٹری پوائنٹس خفیہ کیمروں کی تنصیب کے ساتھ چیکنگ کا نظام بہتر کیا جائے ، تمام مزارات اور خانقاہوں پر پولیس نفری تعینات کی جائے ۔

انہوں نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کا دائرہ کار آزادکشمیر تک بڑھاتے ہوئے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ علامہ تصور جوادی پر ہونے والے حملہ کی وفاقی سطح پر تحقیقات کی جائیں۔ آخر پر انہوں نے لاہور ،سہون شریف ،پشاور،چارسدہ سمیت ملک بھر میں جاری دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) درگاہ لال شہباز قلندر ،پارا چنار، لاہور، پشاور میں ہونے والے خود کش حملوں اور ایم ڈبلیو ایم آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل علامہ تصور جوادی پر قاتلانہ حملے کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام جمعہ کے روز ملک بھر میں ’’یوم احتجاج‘‘ منایا گیا۔اس سلسلے میں سندھ ، پنجاب، بلوچستان،گلگت بلتستان ، آزادجموں وکشمیراور خیبرپختونخواکے تمام چھوٹے بڑے شہروں بالخصوص راولپنڈی،اسلام آباد،کراچی،لاہور،کوئٹہ ،پشاور،سکردو،فیصل آباد، بہاولپور، لیّہ،مظفرگڑھ،ملتان ،ساہیوال، منڈی بہاوالدین، سرگودھا، قصور، حیدرآباد، نوابشاہ، بدین، سجاول، ٹنڈومحمد خان، مٹیاری، دولت پور،خیر پور، سکھر،گھوٹکی،شہدادکوٹ، قنبر،سانگڑھ،جیکب آباد ،شکارپور، میرپور خاص، لاڑکانہ،عمرکوٹ،کندھ کوٹ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔جن میں مرکزی، صوبائی اور ضلعی رہنماؤں کے علاوہ بڑی تعداد میں تنظیمی کارکنان اور شیعہ سنی افراد نے شرکت کی۔شرکا نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر کالعدم جماعتوں کے خلاف فوجی آپریشن اور سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کاروائی کے مطالبات درج تھے۔احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دہشت گردی ملک و قوم کی سالمیت اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔پانچ دنوں میں دہشت گردی کے 9 واقعات قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی فعالیت پر سوالیہ نشان ہیں۔ قانو ن کی بالادستی،امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے حکومتی دعوے شرمناک ہیں ۔حکمرانوں کی سیاسی ضرورتیں کالعدم مذہبی جماعتوں کے خلاف کاروائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔موجودہ حکمران اچھے اور بُرے طالبان کے نام پر دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرتے آئے ہیں جن کا خمیازہ اب پوری قوم بھگت رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شام سے فرار ہونے والے داعشی دہشت گردوں کو افغانستان میں پناہ دی گئی ہے تاکہ پاکستان میں کاروائیاں کرنے میں انہیں زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اسلام دشمن عالمی قوتیں داعش کو پاکستان میں دھکیل کر اپنا اگلا ہدف واحد اسلامی طاقت پاکستان کو بنانا چاہتے ہیں۔پوری حکومتی مشینری موجودہ حکومت کی کرپشن پر پردہ ڈالنے میں مصروف ہے۔ملک کی سالمیت و بقا سے انہیں کوئی غرض نہیں۔عالمی دہشت گرد تنظیم داعش سے فکری مطابقت رکھنے والے نام نہاد علما اور اداروں کے خلاف بھرپور کاروائی حالات کا اولین تقاضہ ہے۔اس میں غفلت کا مظاہرہ پاکستان دشمن طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل میں معاونت کے مترادف سمجھا جائے گا ۔تکفیری فکر کے فروغ میں سرگرم ادارے دہشت گرد ساز نرسریاں ہیں۔وطن عزیز کی بقا و سالمیت ان اداروں کی بیخ کنی سے مشروط ہے۔دہشت گردوں سے لچک کا مظاہرہ ان عناصر کے حوصلوں کی تقویت کا باعث بنا ہواہے۔اس وقت ملک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔عوام میں عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کا خاتمہ حکومت کی سنجیدہ کوششوں کے بغیر ممکن نہیں۔عوامی طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں آنے والی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفط فراہم کرے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ کالعدم مذہبی جماعتوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے ان جماعتوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے جو نام بدل کر اپنی مذموم سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔کالعدم جماعتوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ رکھنے پر حکومتی و سیاسی شخصیات کو پابند کیا جائے ۔پنجاب میں لشکر جھنگوی اور دیگر دہشت گروہوں کی کمین گاہوں کا تدارک کیا جائے۔نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کیا جائے۔محض کوائف فراہم نہ کرنے والے کرایہ داروں کی گرفتاری کو نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔درگاہ شہباز قلندر، لاہور، پارہ چنار ،پشاور اور مظفرآباد میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ داران کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔فوجی عدالتوں کی طرف سے دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں پر فوری عمل درآمد کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے عفریت سے نکالنے کے لیے حکومت ، عسکری اداروں اورتمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ایک ہی سمت میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

Page 1 of 6

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree