وحدت نیوز(مظفرآباد) آئی ایس پی آر کے ترجمان کی پریس کانفرنس نے ثابت کر دیا کہ ملک میں کوئی شیعہ سنی تفریق نہیں ۔ ہم پاک فوج کو سلام پیش کرتے ہیں ، شیعہ سنی باہم متحد ہیں لیکن تکفیری طالبان و سہولت کار ملک کے لیے زہر قاتل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر مولانا سید طالب حسین ہمدانی نے آئی ایس پی آر کے ترجمان کی پریس کانفرنس کے بعداپنی گفتگو میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ترجمان کی تحقیقات پر مبنی پریس کانفرنس نے واضح کر دیا ہے کہ ملک میں کوئی شیعہ سنی فساد نہیں ، 2013میں راجہ بازار میں ہونے والا واقعہ شیعہ سنی کو آپس میں لڑانے کی واضح اور کھلی سازش تھی ۔ وہ واقعہ مملکت خداد پاکستان و آزاد کشمیر میں افراتفری پھیلانے کا ایک ذریعہ بنایا جارہا تھا۔ مکتب تشیع پر الزام لگایا جا رہا تھا کہ انہوں نے مسجد کو آگ لگائی لوگوں کے گلے کاٹے ۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ مکتب تشیع پرامن و محب وطن مکتب ہے۔

 انہوں نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد پنجاب حکومت نے منافقانہ کردار ادا کیا۔ ہمارے جوانوں کو پابند سلاسل کیا ۔ لوگوں کو مجالس منعقد کرنے پر دھمکایا گیا ۔ کالعدم جماعتوں کا آلہ کار رانا ثناء اللہ اس میں پیش پیش تھا۔ پنجاب حکومت نے ملت تشیع کو دیوار سے لگانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا ۔ مگر سلام ہو پاک فوج پر جس نے سارے معاملے کا پر پردہ چاک کرتے ہوئے ناقدین اور جلوسوں اور عزاداری کو ختم کرنے کی باتیں کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سلام پیش کرتے ہیں اپنے قائد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو کہ جنہوں نے شیعہ سنی علماء و اکابرین کو اکٹھا کرتے ہوئے تکفیریوں کی اس سازش کو اسی وقت بے نقاب کر دیا تھا۔ وہ سنی علمائے کرام جو اس وقت ہمارے ساتھ کھڑے تھے ہم انہیں ان کی حق گوئی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

مولانا طالب حسین ہمدانی نے کہا ملک میں اب کالعدم تنظیموں کو واقعاً کالعدم کردینا چاہیے۔ علامہ تصور حسین نقوی الجوادی پر حملہ بھی انہی واقعات کی ایک کڑی ہے۔ یہاں پر بھی مذموم کوشش کی گئی مگر شیعہ سنی عوام و قائدین نے ملکر ناکام بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ سے کہتے ہیں کہ اگر وہ اس کیس کو حل نہیں کر سکتی تو پاک فوج سے مدد طلب کر ے تا کہ یہاں پر شیعہ سنی تفریق پیدا کرنے والوں کو قوم جان سکے۔ پتہ چلے کہ ریاست کے امن کو کس نے تار تار کرنے کی ایک کوشش کی تھی ۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک اعلیٰ عدالتی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے راجہ بازار سمیت تمام واقعا کی تحقیقات کروائی جائیں ۔ حکومتوں میں بیٹھے ان کالی بھیڑوں بھی بے نقاب کیا جائے جو ان واقعات کی بنیاد پر اپنی سیاست کرتے ہیں ۔ آزاد کشمیر کے اندر علامہ تصور حسین نقوی کے کیس کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے تا کہ ریاستی امن کو تہہ و بالا کرنے والوں کو شیعہ سنی عوام پہچان سکے۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) پانامہ لیکس کےتاریخ ساز فیصلےپر عدلیہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ کسی بڑے کا احتساب ہو تو چھوٹے خود بخود کرپشن کرنے سے ڈرنے لگیں گے۔ میاں نواز شریف طاقت اور اقتدار کے نشے میں عوام کو بھول گئے تھے، ماڈل ٹاؤن کے شہداء سے لیکر ملک کے چپے چپے پر بہنے والا خون آج رنگ لے آیا۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر مولانا سید طالب حسین ہمدانی نے پانامہ فیصلے کے بعد ریاستی کابینہ کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء، کراچی کے شہداء ، کوئٹہ کے شہداء اور مملکت خداداد پاکستان کے شہداء کا خون رنگ لے آیا ، نواز شریف وزیراعظم ہوتے ہوئے اگر ان شہداء کے خون سے غداری نہ کرتے تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ راجہ فاروق حیدر خان بھی دیکھ لیں ، کشمیر میں بھی ہمارا خون گرایا گیا ، مگر تا حال ہماری کوئی داد رسی نہیں ہوئی۔ علامہ سید تصور نقوی اور ان کی اہلیہ کو دن دیہاڑے سڑک پر گولیاں ماری گئیں ۔ مگر آزاد کشمیر حکومت نے اس معاملے کو کسی طور پر بھی سنجیدہ نہیں لیا۔ اگر اتنا اہم بندہ محفوظ نہیں تو عام آدمی کیسے محفوظ ہے۔ راجہ فاروق حیدر اپنے قائد کا انجام دیکھتے ہوئے اب بھی اس جانب توجہ دیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہو گا۔ مولانا طالب ہمدانی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین عدلیہ کو تاریخی فیصلہ پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ اگر بڑے مگر مچھوں یوں پکڑا جائے تو چھوٹے مگر مچھ خود قابو میں آ جائیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ مملکت خداداد پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

وحدت نیوز(مظفرآباد) دنیا بھر کے مسلمان حضرت امام خمینی ؒ کے فرمان کے مطابق قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی کیلئے ’’عالمی یوم القدس‘‘ مناتے ہیں۔بیت المقدس وہ مقام ہے کہ جہاں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کے قدم مبارک تشریف لائے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج یہی مقام یعنی قبلہ اول بیت المقدس مسلسل صیہونی شکنجہ میں جکڑا ہوا ہے، فلسطین پر امریکی و برطانوی سامراج کی سرپرستی میں سنہ1948ء میں ناجائز اور جعلی ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا سنہ1967ء میں قبلہ او کو صیہونیوں نے اپنے شکنجہ میں لیا اور یہاں تک کہ سنہ1969ء میں اسی بیت المقدس کو صیہونیوں نے نذرآتش کرنے کی گھناؤنی کوشش کی جس کے نتیجہ میں بیت المقدس کو شدید نقصان پہنچا۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے رہنماوں طالب حسین ہمدانی،مولانا زاہد حسین کاظمی،حمید نقوی،عابد قریشی،عاطف ہمدانی،عمران سبزواری سمیت دیگر رہنماوں نے وحدت ہائوس مظفرآباد سے جاری بیان میں کیا۔


ان کا کہنا تھا کہ صیہونیوں کے مظالم کی تاریخ ستر سال سے بھی زائد کی ہے آج پوری دنیامیں مسلمان اس دن یعنی جمعۃ الوداع کو یوم القدس مناتے ہیں اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے قبلہ اول کی آزادی کی جد وجہد میں شامل ہوتے ہیں۔قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی اورغاصب و جعلی ریاست اسرائیل کے جرائم کے خلاف اس سال جمعۃ الوداع یوم القدس ستائیس رمضان کو منایا جائے گا اور ریاست بھر میں القدس ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ مرکزی القدس ریلیمظفرآباد میں مرکزی امام بارگاہ سے عزیز چوک تک نکالی جائے گی۔ہم ریاست کی سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ فلسطین اور قبلہ اول بیت المقدس پر صیہونی غاصبانی تسلط کے خلاف موقف پیش کریں اور فلسطین کاز کی حمایت کا اعلان کریں، ہم حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ یوم القدس کی تقریبات کو سرکاری سطح پر منعقد کیا جائے اورریاستبھر میں جمعۃ الوداع یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے، موجودہ دور میں امریکی سرپرستی میں عرب دنیا کے حکمران فلسطین کاز کا سودا کرنے میں سرگرم عمل ہیں جس کی واضح مثال مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکا کی دعوت اور پھر فلسطینیوں کی آزادی کی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دینا واضح طور پر اشارہ ہے کہ عرب حکمرانوں نے امریکی ایماء پر فلسطین کا زکو فراموش کرنے کی گھناؤنی سازش تیار کر لی ہے، تاہم ایسے حالات میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے افکار و نظریات کے مطابق مسئلہ فلسطین پر اپنا موقف پیش کرے اور فلسطین کاز کی بھرپور حمایت کا کھل کر اعلان کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان بھر کے عوام، سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں سے ابھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ یوم القدس کے اجتماعات میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں، ریاست بھر کے تمام آئمہ جمعہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ جمعۃ الوداع کو نماز جمعہ کے اجتماعات میں قبلہ اول پر صیہونی غاصبانہ تسلط کے خلاف آواز بلند کریں اور بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینیوں کی آزادی کی تحریکوں کی کھل کر حمایت کا اعلان کریں۔ہم صحافی برادری اور کالم نگاروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے زور قلم سے مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور پاکستان کے عوام تک حقائق پہنچائیں کہ کس طرح آج عالمی سامراجی قوتیں مسئلہ فلسطین کو فراموش کرنے کے لئے مسلم امہ کے درمیان تفریق اور نفرت کو ایجاد کر رہی ہیں جس کی ایک واضح مثال عرب ممالک کے قطر کے خلاف کئے گئے اقدامات ہیں، امریکی ایماء پر عرب ممالک نے قطر کا اس لئے بائیکاٹ کیا ہے کہ قطر نے فلسطین کاز کے لئے سرگرم عمل آزادی کی مزاحمتی تحریک حماس کی حمایت کی ہے جبکہ امریکا اور اس کے دیگر عرsب دوست ممالک فلسطینیوں کی مزاحمتی اسلامی تحریکوں بشمول حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی کو دہشت گرد قرا ر دے کر مسئلہ فلسطین سے پوری دنیا کی توجہ ہٹا نا چاہتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حماس سمیت حزب اللہ اور جہاد اسلامی روز اول سے ہی غاصب صیہونی جعلی ریاست اسرائیل کے خلاف نبردآزما ہیں اور مظلوم اور نہتے فلسطینیوں اور قبلہ اول کا دفاع کر رہے ہیں۔

وحدت نیوز (مظفرآباد) مجلس وحدت مسلمین آزاد کشمیر کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس بعنوان "پرامن کشمیر کانفرنس "مظفرآبادکے  مقامی ہوٹل  میں منعقد ہوئی ۔اس آل پارٹیز کانفرنس میں آزاد کشمیر کی تمام سیاسی ،مذہبی وسماجی شخصیات نے شرکت کی جن میں  مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما ملک اقرار حسین سمیت شاہ غلام قادر سپیکر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیراور رہنما مسلم لیگ ن ،چوہدری لطیف اکبر  و جاوید ایوب  سابق وزراء آزادکشمیر ورہنما پاکستان پیپلز پارٹی،خواجہ فاروق احمد(سابق وزیر ) و عبدالماجد خان ممبر قانون ساز اسمبلی رہنما پاکستان تحریک انصاف،پیر سید مرتضیٰ علی گیلانی سابق وزیر آزاد کشمیرو راجہ ثاقب مجید رہنماآل جموں کشمیر مسلم کانفرنس،شیخ عقیل الرحمٰن  نائب امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر، سید شبیر حسین بخاری  و مولانا فرید عباس نقوی رہنما  جعفریہ سپریم کونسل آزاد کشمیر،سید وقار حسین کاظمی صدر پیپلز نیشنل پارٹی کشمیر،جاوید مغل مرکزی کوآرڈینیٹر آل پاکستان مسلم لیگ،میر افضال سہلریا رہنماکشمیر نیشنل پارٹی،قاضی منظور الحسن رہنماجمعیت علمائے اسلام ،سید اسحاق حسین نقوی  کوآرڈینیٹر مرکزی جماعت اہلسنت آزاد کشمیر،اجمل مغل رہنماجموں کشمیر پیپلز پارٹی،عبدالرزاق مغل رہنماتاجر جوائنٹ ایکشن کمیٹی،مولانااحمدعلی سعیدی رہنما حسینی فاونڈیشن آزاد کشمیر، سید ذاکر حسین سبزواری رہنما آئی۔او آزاد کشمیر،ضیاءاحمد چغتائی ریاستی سربراہ پاکستان عوامی تحریک شامل تھے ۔

مرکزی رہنما مجلس وحدت مسلمین پاکستان  ملک اقرار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاست آزاد کشمیر انتہائی سٹریٹیجک پوزیشن رکھتی ہے اور مظفرآباد تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے۔ لہٰذا اس جگہ پر دہشت گردی کے پےدرپے واقعات حکومت وقت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں ۔ اگر حکومت جلد سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم آزاد کشمیر علامہ تصور جوادی اور ان کی اہلیہ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزمان کو گرفتار نہ کر سکی تو پھر نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورا پاکستان سڑکوں پر نکلے گا۔ دیگر مقررین نے بھی علامہ تصور جوادی  اور ان کی اہلیہ پر حملے کی شدید الفاظ پر مذمت کی اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا ،آخرمیں  کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

وحدت نیوز (مظفرآباد) مزمت ، بیرونی ہاتھ، را، انڈیا ملوث اور سازشوں جیسے راگ بہت الاپے جا چکے۔ بے گناہوں کا خون مسلسل بہہ رہا ہے، کوئٹہ سانحے کی جس قدر مزمت کی جائے کم ہے، ارباب اقتدار و اختیار کو مزمت نہیں مرمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان آزاد کشمیر علامہ سید تصور حسین نقوی نے سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے صدر ، وزیراعظم سے لیکر قانون نافذ کرنے والے اداروںتک صرف بیانات کی تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ ہمیشہ ایک ہی راگ الاپا جاتا ہے کہ ہم مزمت کرتے ہیں ، بیرونی ہاتھ ملوث ہیں ، انڈیا یا را ملوث ہیں ۔ کوئی عملی قدم نظر نہیں آتا ۔بیرونی و ملک دشمن ہاتھوں کے ملوث ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ مگر بیرونی ہاتھ کس ذریعے سے اپنے مشن پر عمل پیرا ہیں اس کو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ کالعدم تنظیمیں اور تکفیری دہشت گرد اس ملک کے لیے ناسور ہیں ۔ انہیں بے لگام چھوڑنا کسی طور پر بھی خطرے سے خالی نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ محب وطن علماء کو شیڈول فور میں ڈالا جا رہا جبکہ دہشت گرد آزادانہ اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان اگر درست سمت چلنے دیا جاتا تو کوئٹہ سانحے جیسے واقعات نہ ہوتے۔ ملک کے کونے کونے سے دہشت گردوں کو ڈھونڈ کر نشان عبرت بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ جب تک دہشگردوں کو منظم نکیل نہیں ڈالی جائے گی تب تک وہ ایسی کاروائیاں کرتے رہیں گے ۔ فیصلہ کن کاروائی کے سوا چارہ نہیں ۔ دہشت گرد بھارت ، امریکہ و اسرائیل کے ایجنٹ بن کر داخلی طور پر ہمیں کمزور کر رہے ہیں ۔ اس وقت تحریک آزادی کشمیر آگے بڑھ رہی ہے اس طرح کے واقعات سے توجہ دوسری جانب مبذول کرنے کی سازش کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ۔ علامہ سید تصور نقوی نے کہا کہ ہم شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی بلندی درجات اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لیے دعا گو ہیں۔جبکہ عسکری و سیاسی قیادت سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر بلا تفریق ملک گیر آپریشن کے ذریعے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کو بھی کالعدم کیا جائے۔ نیشنل ایکشن پلان کی ایک ایک شق پر سو فیصد عملدرآمد کیا جائے ۔ دہشت گردوں اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جائے۔ انہیں عبرت ناک انجام سے دوچار کیا جائے۔تاکہ مملکت خداداد پاکستان میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

وحدت نیوز(باغ) مجلس وحدت مسلمین آزاد جموں و کشمیر کے سیکرٹری جنرل علامہ سید تصور حسین نقوی نے کہا ہے کہ 24اکتوبر یوم تاسیس آزاد ریاست جموں و کشمیر ، وہ تاریخی دن ہے کہ جس دن آزاد خطہ کے مسلمانوں نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی۔ اپنی آزادانہ و انقلابی حکومت کی بنیاد رکھی۔ 22اکتوبر اہلیان مظفرآباد کے لیے اہمیت کی حامل،قبائلی مجاہدین کے ساتھ ملکر ڈوگرہ راج کو اس شہر سے نکال باہر کیا گیا۔آزادی پاکستان کے بعدوہاں سے بھاگ کر خطے میں پناہ لینے والے ہندؤں نے مسلمانوں کی قتل و غارت کا پروگرام بنا رکھا تھا ۔ جس کو مظفرآباد کے عمائدین نے تدبر و فہم سے ناکام بنایا ۔ ڈوگرہ حکومت کی درپردہ مدد کے ذریعے عید کے اجتماعات کو نشانہ بنانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی، دوسرے کے لیے کھودے جانے والے گڑھے میں خود گرے۔ اس تاریخی دن کی مناسبت سے اہلیان کشمیر کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان آزاد کشمیر نے ضلع باغ کے دورے کے موقع پر ضلعی تنظیمی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا ۔

 انہوں نے کہا کہ یقینا آزادی ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کے لیے انسان کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتا ۔ آزادی کی قدر و قیمت وہی جان سکتا ہے جس نے غلامی کو دیکھا ہو ۔ 24اکتوبر کو ایک حصہ بھارتی چنگل سے آزاد ہوا۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں نہ مذہبی آزادی ہے نہ سیاسی، وہاں شہریوں کی زندگی تک محفوظ نہیں ۔ بھارت نے اپنے اس مکروہ افعال کی تکمیل کے لیے 8لاکھ افواج نہتے کشمیریوں پر جھونک رکھی ہے۔ جو آئے روز بے گناہ نہتے کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی افواج کو یہ علم نہیں کہ وہ آگ سے کھیل رہی ہے اور اس آگ کی چنگاری حال ہی میں برہاں مظفروانی کی صورت میں سامنے آئی ۔ جس نے تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونک دی اور اس چنگاری نے پلک جپکتے ہی بھارت کے سیکولرازم کے جھوٹے دعوؤں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے آزادی حاصل کر لی ، اس نعمت عظمیٰ پر خدا وند منان کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ اس آزادی کوچار چاند لگانے، حقیقی آزادی بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے ۔تعلیم ، صحت ،روزگار ، سڑکوں کی زبوں حالی اور اس طرح کے بیسیوں مسائل ایسے ہیں کہ جن کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ تعلیم سب حق مگر غریب کی پہنچ سے دور کیوں ؟ صحت سب کے لیے مگر سرکاری ہسپتالوں میں سرنج تک دستیاب نہیں ؟ روزگار بنیادی مسئلہ مگر ہر دوسرا آدمی بے روزگار؟ سڑکوں کی حالت ایسی کہ جیسے ڈوگرہ راج کے وقت بنی ہوں؟ صفائی کے انتظامات ایسے کہ ڈینگی جیسی وبا نے بھی اس خطے کا رخ کر لیا؟ کرپشن ، اقربا پروری اور لالچ نے خطے کو دیوالیہ بنا رکھا ہے؟ ارباب اختیار صرف انجوائے منٹ اور فوٹو سیشن تک محدود ۔ کیا ہمیں اس خطہ کو ماڈل خطہ نہیں بنانا چاہیے۔ یقینی طور پر آزاد کشمیر کو ایک ماڈل سٹیٹ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیئے جانے کی ضرورت ہے تا کہ بتایا جا سکے کہ اس خطے نے آزادی حاصل کر کے کیا پایا ہے؟ موجودہ حکومت نے بھی تین ماہ گزار لیے مگر اس وقت تک کوئی عملی قدم نظر نہیں آرہا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کی ترقی کے لیے ، میرٹ اور گوڈ گورننس کے لیے حقیقی معنوں میں کام کیا جائے ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ہر شہری ہر فرد اپنے حصے کا کردار ادا کرے تا کہ ہمارے اسلاف نے جو اس خطے کو بنانے کے لیے قربانیاں دی تھیں ان مقاصد کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

Page 1 of 7

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree