وحدت نیوز (سکردو) ٹیکس مخالف تحریک کی کامیابی کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی و انجمن تاجران کے رہنماوں کی قیادت، استقامت اور شجاعت کے تذکرے گلگت بلتستان کے چوک، چوراہوں اور محفل و مجالس کی زینت بننے لگے۔ ہر جگہ انجمن تاجران بلتستان کے سربراہ غلام حسین اطہر، ایکشن کمیٹی کے سربراہ مولانا سلطان رئیس اور مجلس وحدت مسلمین جی بی کے سربراہ آغا علی رضوی کی قربانیوں پر تبصرے ہونے لگے اور سال 2017ء کے آخر جبکہ سال 2018ء کے آغاز میں ہی عوام کے محبوب قائدین میں ان کا شمار ہونے لگے۔ ٹیکس مخالف تحریک میں حکمران جماعت کے علاوہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، طلباء تنظیموں اور سماجی تنظیموں نے بھی کردار ادا کیا، تاہم اس تحریک کو بام عروج تک پہنچانے میں مذکورہ شخصیات کی خلوص نیت، قائدانہ صلاحیت، استقامت اور جذبہ فدا کاری کے سب معترف ہیں۔ 2014ء میں گندم سبسڈی تحریک کے دوران بھی آغا علی رضوی اور مولانا سلطان رئیس نے کلیدی کردار ادا کرکے عوام کے دل جیت لیے تھے، اب کہ بار غلام حسین اطہر نے بھی اپنی قائدانہ صلاحیت کا لوہا منوایا۔ انکی عوام میں غیر معمولی مقبولیت حکمرانوں کے لیے مشکل کا باعث بننے کے پیش نظر ان کی کردار کشی کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ نہایت اہم ذرائع کے مطابق ان تینوں شخصیات میں دوریاں پیدا کرنے، اختلافات کو جنم دینے اور عوامی مقبولیت کو کم کرنے کے لیے مختلف افراد پر ذمہ داریاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان شخصیات کا اتحاد عوام دشمن پالیسوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتی ہے، چنانچہ خطے میں من پسند قوانین نافذ کرنے کے لیے ان عوامی قیادتوں کو کمزور کر کے یا مختلف مسائل میں گھیر کر حکمران اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اب ان شخصیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام سازشوں کو بھانپ لیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی امنگوں کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کرتے رہیں۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) وہ مہینہ جس میں سردی اپنے عروج پر ہوتی ہے اور انسان گرم لباس زیب تن کر نے کے باوجود گھروں سے باہر نکلتے ہوئے ہزار بار سوچتا ہے اسے دسمبر کہا جاتا ہے۔ راستوں میں جمی ککر کی پھسلن، برف کے گرتے گالوں اورسرد ہواؤں کے سبب لوگ گھروں میں محصور ہو جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں اسکردو کا شمار سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں اکیس دسمبر کے بعد سردی اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ گھروں میں دیسی انگیٹھی میں لکڑی جلا کر اس کے گرد بوڑھے بچے جمع ہو کر آگ کی تمازت سے جینے کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ اسی موسم میں اس خوبصورت شہر سے خوش گلو پرندے بھی غائب ہو جاتے ہیں ، درختوں کے پردے مرجھا جاتے ہیں، سبزہ و گل غائب ہو جاتا ہے۔ کاروبار زندگی منجمداور یخ بستہ ہو جاتا ہے۔ اس دوران دن کی چادر بھی سمٹ جاتی ہے جبکہ رات کی وادی تاریک اور گہری ہو جاتی ہے۔ سورج بھی ہلال عید بن جاتا ہے۔ بادل اور برفباری کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ برف کی چادر اوڑھ کر اسکردو شہر سنساں ہو جاتا ہے اور ہو کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ صبح دس بجے تک شاہراہوں پر اکا دکا انسان نظر آتا ہے اور سڑکوں پر خاموشی کی سنسناہٹ رقص کرتی اور اعصاب شکن سردی راج کرتی دکھائی دیتی ہے ۔ لیکن اب کی بار لگتا ہے یہ وہ بے جا ن اور منجمد دسمبر نہیں جس میں لوگ آگ کے گرد جمع ہو کر یا کمبل اوڑھ کر گزارا کرتے ہیں۔ میں نے جب ایک ریڑھی چلانے والے مزدور کا بدلا بدلا تیور دیکھا تو دیکھا کہ اس کے عزم کی گرمائش سے برف پگھل جا ئے گی ۔ مڑ کر دوسری طرف دیکھا تو ستر سال کا بوڑھاکانپتے ہاتھ، ہاتھ میں لاٹھی اٹھائے ہوئے ہے جنکی بے خواب آنکھوں میں غیض و غضب ہے یہاں کی برف پگھلانے کیلئے یہی کچھ کافی تھا۔ شاید اس دسمبر میں اس قوم نے کوئی اور تاریخ رقم کرنی ہے۔ اس تاریخی سردی میں قوم نے ٹھانی ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا جائے یہ دسمبر کی 25تاریخ ہے ۔ آج اسکردو شہر کے در و دیوار لرز رہے ہیں۔ میرے لیے یہ منظر انتہائی عجیب و غریب اور ناقابل یقین ہے۔

وہ دسمبر جس میں خاموشی کی سنسناہٹ گاتی ،رقص کرتی ،دھول اڑاتی، یخ بستہ ہوائیں راج کرتیں اورسخت سردی خون جمادیتی ہے اس میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندریہاں موجود ہے۔ سورج غروب ہونے سے قبل گھروں کو لوٹنے والے عوام شام ڈھلنے تک یہاں پر موجود ہیں۔ اس ٹھٹھرتی سردی میں لوگ مظلوموں اور محروموں کی فریاد کی جگہ یاد گار شہدا ء اسکردو کے گرد جمع ہیں۔ حقوق سے محروم عوام کے منہ سے نوالہ چھیننے کی حکومتی کوشش پر اب خطے کا ہر فرد اٹھ کھڑا ہے۔ میں اسوقت یادگار شہداء سے کئی سو فٹ کے فاصلے پر بیٹھ کر عوامی ایکشن کمیٹی اور ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ آغا علی رضوی کی تقریر سن رہا ہوں۔ آغا علی رضوی وہی شخصیت جو میدان عمل کا شہسوار ہے ۔ جو وہ کہتا ہے کر گزرتا ہے۔ جو بھی ان کے دل میں منہ سے کہہ دیتا ہے۔ ان کی سخت گوئی پر مجھ سمیت بہت سوں کو شکایت ہونے کے باوجود دھرنے کو چھ دن گزر چکے ہیں اور ہر کسی کی نگاہیں اس مرد مجاہد کی طرف ہیں۔ ان کا خلوص اور استقامت ناقابل یقین حد تک ہے ۔ میں مسلک کے اعتبار سے ان سے الگ ہوں ،لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ ٹیکس کے خلاف جاری تحریک میں جان اس وقت ہی آئی جب یہ شخص زیارات سے واپس آگیا۔انہوں نے خود کربلا سے واپسی کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ کربلا سے امام عالی مقام سے عزم اور حوصلہ لے کر آیا ہوں اور ا س مظلوم قوم پر جاری مظالم کے خلاف لڑنے کا عزم کر کے آیا ہوں۔ٹیکس کے خلاف جاری تحریک کے روح رواں انجمن تاجران کے نڈر صدر غلام حسین اطہر کا لہجہ بھی پر اعتماد تھا وہ کہہ رہے تھے جب آغا علی رضوی نے ساتھ دینے کا کہا ہے تو کامیابی یقینی ہے، یہ شخص جان دے سکتا ہے لیکن عوامی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف حکومتی نمائندے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے میں مصروف ہیں۔ عوام کو شیعہ سنی اور گلگتی بلتی کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جی بی میں ٹیکسز کا آغا ز پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا اور موجودہ ٹیکس کا فیصلہ بھی اسی دور میں ہوا تھا چنانچہ نون لیگ تمام تر ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈال کر خود بری ہونے اور عوامی لعن طعن کرنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی کوششوں کے ساتھ دھمکیوں اور الزاما ت بھی شروع کیے ہوئے ہیں۔ حفیظ الرحمان کے ارد گرد پھرنے والوں نے ٹیکس کے خلاف تحریک چلانے والوں کے تانے بانے کو انڈیا اور راء تک سے ملایا ہے۔ وزیر قانون گلگت بلتستان نے واضح پیغام میں کہا کہ حالیہ ٹیکس مخالف تحریک کے لیے را سے پیسے آرہے ہیں اور انکے اشارے پراحتجاج کر رہے ہیں۔ وزیراعلی گلگت بلتستان نے گزشتہ رات اپنے ویڈیو پیغام میں عوام کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کے خلاف ٹحریک غیرملکی ایجنڈا ہے جسے کامیاب ہونے نہیں دیں گے انہوں نے کہا کہ جو شرپسندی کر یں گے انکے ساتھ سختی سے نمٹیں گے۔

اس یخ بستہ ،دسمبر کی سردہواؤں کا راج کرتی اور خون جمادینے والی سرد شاموں میں، میں نے ہر چوک چوراہے سے عوام کو امڈ امڈ کے یادگار شہداء کی طرف ایک عزم کیساتھ بڑھتے دیکھا۔ ان حالات میں لوگوں کو کئی کئی کلومیٹر پید ل چل کر آتے دیکھا جبکہ ہڑتال کی وجہ سے تما م پیٹرول پمپس بند ہیں۔ صرف یہی نہیں پورے بلتستان میں آج چھٹا روز ہے تمام دکانیں مکمل طور پر بند ہیں جبکہ کسی بھی دکاندار پر جبری اور زبردستی نہیں ہے۔ عوام نے اس تحریک پر سو فی صد اعتما د کا اظہار کر دیا ہے۔ میں نے حکومت کی غیر لچکدار اور میں نہ مانوں کی پالیسی کے سبب پست ہوتے ہوئے حوصلے والے افراد کی زبانی سنا کہ آغا علی رضوی اس تحریک کو کامیاب بنا کر دم لے گا۔ ایک طرف حکومتی رویے اور دوسری طرف عوام کا اعتماد عجیب منظر تھا۔ عوام کے دم توڑتے حوصلوں میں نئی روح پھونکنے کے لیے ایک کالے رنگ کے عمامے والے شخص کی کرشماتی تقریر کافی تھی۔ وہ پست حوصلوں کو بلند کرتے، مرے ہوئے جذبات کو زندہ کرتے، دفن ہونے والے عزم کو قم کہہ کر اٹھاتے دیکھا ۔ میرے لیے یہ زندگی کا عجیب منظر تھا۔

وہ دسمبر جس میں خاموشی کی سنسناہٹ رقص کرتی تھی اس میں، میں نے دیکھا کہ عوامی قیادت کس چیز کا نام ہے۔ قائد اور رہبر وہ ہوتا ہے جو خود آگے بڑھتا ہے اور عوام سے کہتا ہے کہ میرے پیچھے آؤ۔ ہمارے ہاں رہبر اور لیڈر وہ ہوتے ہیں جو عوام کو آگے کرتے ہیں اور خود نرم و گداز صوفوں پر چائے کی چسکیاں لیتے ہیں اور کامیابی پر جشن مناتے ہیں ایسے لیڈر اصل میں گیڈر ہوتے ہیں لیڈر نہیں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو آگے بڑھ کر جان ہتھیلی پہ رکھ کر تمام تکالیف برداشت کرنے کے بعد کہتا ہے کہ میرے نام کے نعرے مت لگاؤ ہمار ا قائد غلام حسین اطہر ہے۔ ایسی بے لوث قیاد ت کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا جب لوگ آغا قدم بڑھاؤ کے نعرے لگا رہے تھے تو انہوں نے روک کر کہا کہ میں عوام کا خادم اور اس تحریک کا ادنی سا کارکن ہوں اور ہمارا قائد اطہر غلام ہے اگر وہ اٹھنے کو کہیں تو اٹھیں گے اور بیٹھنے کو کہیں تو بیٹھیں گے ۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ غلام حسین اطہر کی قیادت ہی اس کی کامیابی کی ضامن ہے۔ یعنی وہ ہر طرح کا کریڈٹ اپنے نام نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تمام انجمنوں اور سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے رہے۔اور تحریک کا چھٹا روز انتہائی منفرد دن تھا جب آغا علی رضوی نے اعلان کیا کہ اطہر غلام نے کورکمیٹی سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ کل گلگت کی طرف لانگ مارچ کریں گے اور وہیں پر ٹیکس سمیت صوبائی حکومت کا تختہ الٹ کر واپس آئیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ایسا لگا عوام کو فتح کی نوید ملی عوام اٹھ اٹھ کر آغا تیرا ایک اشارہ حاضر حاضر لہو ہمارا کے نعرے بلند کرتے رہے۔آغا علی رضوی نے گلگت جانے کے لیے گرم لباس ، کمبل اور راستے میں کھانے کے لیے خشک سامان لے کر اگلے دن پہنچنے کا اعلان کر دیا۔

وہ دسمبر جس میں خاموشی کی سنسناہٹ رقص کرتی ، یخ بستہ ہوائیں راج کرتیں او سردی خون جمادیتی ہے اس ماحول میں میں نے دیکھا کہ یادگار شہداء اسکردو تحریر اسکوائر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑا اجتماع نہیں دیکھا تھا۔ چلو چلو گلگت چلو کی صداؤں سے اسکردو شہر کی فضاء گونج رہی تھی ۔اس تحریک میں شہر سے قافلہ علامہ شیخ ضامن اور شیخ طہٰ ٰ موسوی کی قیادت میں پہنچ گئے، کھرمنگ سے مجاہد عالم دین شیخ اکبر رجائی کی قیادت میں پہنچ گئے۔ خپلو سے عوام کی بڑی تعداد پہنچ گئی ۔ اس تحریک میں شیعہ ،سنی، نوربخشیہ ، اہل حدیث سب ایک ہو چکے تھے۔ قافلہ درود و سلام اور دعائیہ کلمات کے ساتھ یادگار شہدا ء سے آغا علی رضوی اور غلام اطہر کی قیادت میں نکلنا چاہتا تھا ۔ میں بھی ان میں موجود تھا اور یہ میرے لیے عجیب جذباتی منظر تھا جب عوام نے قافلے کو یعنی گاڑی والوں نے جانے نہیں دیا۔ لوگ بضد تھے کہ آغا کو تنہا جانے نہیں دیں گے حالانکہ ہزاروں افراد گاڑیوں میں قافلے کی صورت میں موجود تھے لیکن عوام تھے کہ سنبھل نہیں رہے تھے یہاں تک کہ عوام کا ایک بے قابو بپھرا ہو ا سمندر قافلے کے آگے نکل گیا اور پیدل مارچ شروع کر دیا ، قائدین نے مل کر منتیں کرتے ہوئے روکنے کی بھرپور کوششیں کیں ۔ لیکن عوام نے کسی کی نہیں سنی، پید ل اور گاڑیوں کا قافلہ نعروں کی گونج میں گلگت کی طرف چل پڑا۔ یہ قافلہ نہیں سمند ر تھا عوام کا۔

اس یخ بستہ سرد برفیلی رات میں، میں نے عزم و ہمت کے چٹان ، کے ٹو سے بلند حوصلہ رکھنے، نڈر بہادر اور شجاع عوام کے محبوب قائد آغا علی رضوی کو اس وقت رات کے وقت پھوٹ پھوٹ کے روتے دیکھا جب عوام چار گھنٹہ پیدل چل کر گمبہ پہنچ گئے۔ آغا علی رضوی نے انہیں گزارش کہ تیل کی قلت کی وجہ سے گاڑیاں کم ہیں اور جتنی ہیں اس تحریک کی کامیابی کے لیے کافی ہیں آپ لوگوں نے اس سردی میں یہاں تک پید ل سفر طے کیامزید آگے نہ جائیں۔ جب عوام نے دوبارہ کہا کہ ہم ایک لمحے کے لیے آپ کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے تو آغا علی رضوی جلال میں آگئے وہ بھی عوام کے ساتھ پیدل چل نکلے۔ انہوں نے تاجران سے گزارش کہ فوری گاڑیوں کا انتظام کرو جب سب کے لیے گاڑی مل جائے اس وقت تک میں گاڑیوں میں نہیں بیٹھوں گا ۔ غلام حسین اطہر نے جتنی مزید گاڑیاں منگوائی جاسکتی تھی منگوائیں اور یہاں تک کہ کھلے چھت والی گاڑیوں پر اس ٹھنڈ میں لوگ بیٹھتے گئے ۔ اس کے باوجود گاڑیاں کم پڑ گئیں تو تحریک کے قائد نے آغاعلی رضوی سے گزارش کی کہ آپ مان جائیں اور عوام کو واپس بھیج دیں ۔ قائد تحریک کے حکم پر آغا علی رضوی نے لبیک کہا اور عوام سے دوبارہ خطاب کرکے پیادہ سفر کرنے والوں کو روکنے کو کہا۔ انکی تاکیدانہ لہجے کے باوجود عوام نے روتے ہوئے انکے پاؤں پکڑنا شروع کردئے کہ ہم آپ کو تنہا جانے نہیں دیں گے۔ چند جوانان کو جب یہ علم ہوا کہ انہیں واپس بھیجا جا رہا تو سر پیٹ کر رونے لگے۔ جب محبت ، خلوص اور فدا کاری کا یہ منظر دیکھا تو وہ خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔آغا علی رضوی کے سرخ گالوں سے آنسوؤں کے قطر ے موتی کی طرح گرنے لگے۔ یہ عجیب منظر تھا جب وہ رو پڑے تو کئی اور لوگوں نے مل کر رونا شروع کر دیا۔ یہ رونا ،یہ گریہ خوشی کا بھی تھا اور اعتماد کا بھی،اس میں عوام کی محبت کا عنصر بھی شامل تھا اور قیادت کا خلوص بھی کوٹ کوٹ کر بھرا تھا جو آنسوؤں کی صورت میں نکل رہا تھا۔یہی وہ موقع تھا جب عوام کو اپنی قیادت پر فخر محسوس ہوا ہوگا،اسی لیئے جب عوام نے اس ماحول میں آغا کے فیصلہ کو سنا تو اس کا فوری اثر ہوا اور عوام نے بات مان لی اور واپس جانے کیلئے تیار ہو گئے۔

دسمبر کی اس یخ بستہ برفیلی رات کے اس پہر میں بھی اپنے اہل تشیع دوستان کیساتھ روندو ڈمبوداس کے ایک امام بارگاہ میں دیگر جوانوں کے ساتھ موجود تھا۔ یہ رات کے بارہ بجے تھے۔ رات یہیں قیام کے بعد اگلے روز گلگت کے لیے روانہ ہونا تھا۔ اہلیان روندو جو کہ مہمان نوازی اور شجاعت کے حوالے سے یکتا اور یگانہ ہیں نے چھ سات گائے ذبح کرنے کے باوجود کھانا پڑ گیا تھا۔ او ر حسن اتفاق سے کچھ زیادہ جذبات میں آکر دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا البتہ بیگ میں کچھ خشک فروٹس تھے لیکن وہ سب کے سامنے کیسے کھائیں۔ باہر کسی دکان میں جا کر بسکٹ وغیر ہ سے پیٹ کی آگ بجھائی اور واپس امام بار گاہ میں پہنچ گئے تو اس تحریک کو رونق بخشنے والے حاجی پٹھان ماحول کو گرما رہے تھے۔ میں بھی کسی کونے میں دبک کے بیٹھ گیا صبح کی آذان ہوگئی لیکن نیند ندارد ۔ سخت ترین سردی اور شدید برفباری روندو میں ہمارے انتظار میں تھی۔ اس برف میں گاڑی چلانا بھی ایک عذاب سے کم نہ تھا ۔ صبح کی نماز مشکل سے ادا کرنے کے بعد دوبارہ سونے کی کوشش کی تو لانگ مارچ کے شرکاء کی خوش گپیاں بھاری ہوگئیںِ یہ تمام رات ٹھٹھرٹھٹھر کے گزار ی اور صبح کے ناشتے کے بعد دوبار ہ عازم سفر ہونے کو تھے کہ گلگت سے ایکشن کمیٹی کے سربراہ مولانا سلطان رئیس کی طرف سے پیغام آیا کہ دو بجے تک مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا دو دور بے نتیجہ ختم ہو ئے ہیں اس کے بعد لانگ مارچ کا فیصلہ دیں گے۔ اس موقع پر روندو کے عوام امڈ کے آئے اور احتجاجی جلسے بھی ہوئے۔دو بجے کے بعد مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے بعد حکم ہوا کہ قافلہ واپس جائے گا۔ لانگ مارچ کے خوف کی وجہ سے حکومت مذاکرات کی ٹیبل پر آگئی تھی ۔ دوسری طرف اس مذاکرات میں کامیابی میں پاکستان آرمی کا بھی غیر معمولی کردار سامنے آیاہے ۔ ایف سی این اے کمانڈر ہی کی ضامن پر انجمن تاجران اور ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کا سمجھنا تھا کہ حکومت پر کوئی اعتماد نہیں اور مذاکرات کے دھوکہ دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ اس پرگھٹن ماحول میں پاکستان آرمی نے ایک بار پھر پاکستان کو درپیش بحران سے نکالنے میں مثبت کردا ر ادا کیا۔

اس موسم میں رات کے نو بجے جب ہم واپسی پر اسکردو شہر میں داخل ہوگئے تو کچورا سے حسینی چوک تک ہزاروں مرد و زن استقبال کے لیے موجود تھے۔ ہماری واپسی کی خبر پھیلتے ہی عوام گاڑیوں میں پیدل ہمارے انتظار میں تھے۔ مختصر یہ کہ رات گیارہ بجے قریب جب حسینی چوک انجمن تاجران کے آفس کے سامنے پہنچے تو عوام نے اپنے محبوب قائد غلام اطہر کو دائرے میں لے کر نعرے لگارہے تھے ۔ اس وقت جشن کا منظر تھا ،ابھی محبوب قائد آغا علی رضوی کا انتظار ہو رہا تھا اتنے میں فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ جگمگاتے جوانوں کے دائرے میں مجمع میں داخل ہوگئے ، انکی آمد کا اعلان سٹیج سے کیا گیا عوام ان کی طرف جھپٹ پڑے ان سے گلے ملے انکے عمامے چومے ، محبتوں کے اظہار کے ساتھ انہیں سٹیج پر پہنچایا گیااس دوران آغا آپ پے درود و سلام کے نعرے بلند ہوتے رہے۔اسٹیج پر احمد چو، راجہ جلال حسین مقپون، وزیر عدیل شگر کے علاوہ آغا علی رضوی اور غلام اطہر نے خطاب کرکے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ واپس کیا ہے کل سے احتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ٹیکس کے خاتمے کا نوٹیفیکیشن ہمارے ہاتھ میں نہیں آتا۔ ادھر گلگت میں مولانا سلطان رئیس کی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کے سبب ہر قسم کی علاقائی ، لسانی اور مسلکی تعصب کو ابھرنے نہ دیا۔ حکومتی مشینری یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی تھی کہ بلتستان والے شیعہ گلگت کے سنی وزیراعلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اس تحریک میں شیعہ ، سنی، دیوبندی، اہلحدیث، نوربخشیہ سب ایک ہو چکے تھے۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی دفن ہو گئی تھی۔ داریل ، تانگیر،چلاس، غذر، ہنزہ ،نگر،اور بلتستان کے تمام مسلم لیگ نون کے عوام دشمن فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگئے تھے۔ ابھی جی بی بھر میں احتجاج جاری ہے اور یہ نوٹیفکیسن ملنے تک جاری رہے گا بلتستان میں ہڑتال میں نرمی لائی گئی ہے۔ اس تحریک میں تمام سیاسی ،سماجی و مذہبی جماعتیں شریک تھیں۔

اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ اس یخ بستہ سرد موسم میں جب انسان اور جاندار تک سوکھ جاتے ہیں ہم نے اس بلند چوٹیوں کی بیچ محبت کے پھول کھلتے دیکھے ہیں ، قربانی کی کلیاں چٹکتی دیکھی، اتحاد کی خوشبو پھیلتی دیکھی،عزم و ارادے کا چمن مہکتے دیکھا، حوصلوں کا سورج طلوع ہوتے دیکھا، امید کی کرنیں پھوٹتی دیکھیں، خوشیوں کی بہار آتے دیکھی، فتح کا سہرا سجتے دیکھا، نفرت کی راتیں ڈھلتی دیکھیں،وفاداری کا کونپل پھوٹتے دیکھا، سیادت کا چہرہ دمکتے دیکھتا ،شجاعت کا موسم آتے دیکھا،پیار کی گھٹائیں چھاتی دیکھی،جیت کا نغمہ گاتے دیکھا، غریب کا آنسو تھمتے دیکھا، مظلوم کی فریاد سنتے دیکھی اور ظلم کا محل گرتے دیکھا،ناانصافی کے قدم ڈگماتے دیکھے،نفرت کی دیواریں گرتی دیکھی، غرور کا بت گرتے دیکھا، حکمرانی کا تخت لرزتے دیکھا،سازشوں کی کشتی ڈوبتے دیکھی، حاکم کا چہرہ بجھتے دیکھا،فرقہ پرستی کا تراشیدہ بت چٹخ کے زمیں بوس ہوتے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔سال رفتہ کا دسمبر تو کتنا مہربان تھا تو میری زندگی میں پھر پلٹ آئے گا۔ اے 2017کا دسمبر تیرا اس عوام پر بہت احسان ہے ۔ تیرا لطف بہت عجیب تو لوٹ کے آنا ، تو لوٹ کے آنا۔۔۔ آخر میں اس تحریک کی جان اور عوامی قائد آغا علی رضوی کی نذر چند اشعار کیساتھ اجازت چاہوں گا۔

یہ تیرا جمال کامل، یہ شباب کا زمانہ
دل دوستان سلامت، دل دشمناں نشانہ
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ


تحریر: عبداللہ گانچھے
بشکریہ: ماہانہ افکار العارف

وحدت نیوز (سکردو) انجمن تاجران اسکردو کا وفد اسلام آباد میں وفاقی حکومت سے کامیاب مذاکرات اور غیر قانونی ٹیکس کی معطلی کےبعد اسکردو پہنچنے پر انکا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ انجمن تاجران کے استقبال کے لیے سینکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل ہزاروں افراد کا سمندر امڈ آیا۔ ریلی میں صوبائی حکومت کے خلاف اور انجمن تاجران و عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ ریلی شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی یادگار شہداء اسکردو پہنچ کر ایک عظیم الشان عوامی جلسے کی شکل اختیار کرگئی۔ استقبالی ریلی اور جلسے میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں تاجر تنظیموں کے علاوہ بلتستان ڈویژن کے چاروں اضلاع کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے رہنماوں اور عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ یادگار چوک پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل اور عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے چیئرمین آغا علی رضوی نے کہا ہے کہ عوام نے ووٹ دیکر نمائندوں کو وفاق سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے منتخب کیا تھا نہ کی حقوق غصب کرنے کے لئے ایوانوں میں بھیجا ہے۔ ٹیکس نفاذ کے خلاف آواز اٹھانا جی بی کونسل اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کا کام تھا۔ ان کی بجائے یہ کام عوام نے کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے منتخب نمائندے عوام کے جائز حقوق کا تحفط کرتے اور ٹیکس کے خلاف آواز اٹھاتے۔ لیکن الٹا ٹیکس کے نفاذ کی حمایت کی۔ میں نمائندوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ٹیکس ایکٹ 2012ء ٹیکس ایڈپشن ایکٹ کی معطلی کے بعد 2018ء میں نئے ایکٹ لانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، کونسل اور اسمبلی ممبران کے پاس موقع ہے کہ وہ اب بھی اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے عوامی حقوق کے دفاع کے لئے سامنے آئیں اور جی بی میں کسی بھی قسم کے ٹیکس کو لگنے نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے خلاف آواز اٹھانے والے قائدین اور جوانوں کو شیڈول فور اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائی کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ حکمران اور اعلٰی انتظامی سربراہان کان کھول کر سن لیں، اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے والے کسی بھی رہنماء یا جوان کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کی گئی تو گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام خاموش نہیں رہیں گے۔

اس موقع پر انجمن تاجران اسکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں گلگت بلتستان میں ٹیکس نفاذ کی کوشش تو دور کی بات سوچنا بھی نہیں، ورنہ یہ حالات نہیں رہیں گے۔ اگر جی بی میں دوبارہ سے کسی بھی شکل میں ٹیکس لگانے کی کوشش کی گئی تو تمام 10 اضلاع کے ہر چوک چوراہے اور سڑک میں ایسے دھرنے دیں گے، نہ کسی کی گاڑی چلے گی اور نہ کوئی بھی شخص حرکت کر سکے گا۔ ہم نے واضح طور پر حکمرانوں کو بتا دیا ہے کہ گلگت بلتستان میں کسی بھی شکل میں ٹیکس کا نفاذ قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں، ہم پاکستان کے عاشق ہیں، پاکستان ہم سے محبت کرے یا نہ کرے۔ ہم پاکستان سے محبت کرتے رہیں گے۔ بیوروکریسی کی خواہش تھی کہ انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کو تین ماہ تک جی بھی ہاوس میں بغیر کرائے کے رکھا جائے، لیکن ہم نے ان کی امیدوں پانی پھیر دیا۔ جی بی کونسل اور اسمبلی ممبران کی طرح عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے عیاشیاں کرنا ہم نہیں چاہتے۔ ان ممبران کونسل اور اسمبلی کو شرم آنی چاہیے جو ہم سے پوچھتے تھے کہ آپ کا مسئلہ کہاں پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن وزراء اور منتخب نمائندوں نے اس اہم عوامی ایشو کو حل کرنے کے لئے ہمارا ساتھ دیا اور بھرپور جدوجہد کی، ان کی کوششوں کو نہ سراہنا بھی زیادتی ہوگی۔

وحدت نیوز (سکردو) عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے چیئرمین اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے ٹیکس کے خلاف جاری احتجاجی دھرنے کے پندرہویں روز آج یادگار شہداء اسکردو سے خطاب کرتے ہوئے اسمبلی اراکین اور جی بی کونسل کے نمائندوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ تم لوگ چھپ کر دھمکی دینے کی بجائے سر بازار آجائیں اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں۔ ہم عوامی حقوق پر سمجھوتہ کرنے والے ہیں اور نہ ہی کسی خوف میں مبتلا ہونے والے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اتنے کمزور بھی نہیں کہ تمہاری دھمکیوں سے عوامی حقوق کے لیے جاری جدوجہد سے پیچھے ہٹ جائیں۔ فدا ناشاد، اکبر تابان، اشرف صدا، اقبال حسن اور کاچو امتیاز سن لو، ٹیکس ایشو پر تم لوگوں نے غداری کی ہے اور تمہارے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ دوسری طرف یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی کہ حکمرانوں کی طرف سے دھمکی آمیز ایس ایم ایسز موصول ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں آغا علی رضوی کا کہنا تھا کہ چند نمبرز سے دھمکی آمیز میسیجز موصول ہوئے ہیں اور ان نمبرز کو وقت آنے پر ظاہر کردوں گا۔ علاقے کے امن و امان اور میرے دوست، احباب کے جذبات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی کو بھی مسیج نہیں دیکھایا، تاہم وقت آنے پر ضرور ان غداروں کے اصل چہرے کو بے نقاب کروں گا۔

میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی رکن اسمبلی سے میرا ذاتی جھگڑا نہیں ہے اور عوامی مفاد پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ صحافیوں کے اصرار پر انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکمران جماعت کی طرف سے مناسب الفاظ میں پیغام بھی بھیجا گیا تھا، لیکن میں کسی سے ڈرنے والا نہیں ہوں۔ میری آرزو اور تمناء ہی یہی ہے کہ میں خطے کے تمام مسالک کو متحد کرنے کی راہ میں جان دے دوں۔ میںری دلی خواہش ہے کہ خطے کے اہلسنت، نوربخشی، اسماعیلی، اہلحدیث اور اہل تشیع سب بھائی بھائی بن جائیں اور اس کوشش میں میں اپنی جان دے دوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ غریب، محروم اور محکوم عوام کے حقوق کی راہ میں مرنا اور اتحاد بین المسلمین و وطن عزیز کے استحکام و سلامتی کی راہ میں مرنا سعادت ہے، جس کے لیے میں ہمہ وقت تیار ہوں۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) آغا علی رضوی ایک ایسی قیادت کا نام جو ہمیں ستر سال پہلے درکار تھی ۔مگر دیر آید درست آید کے مصداق آج میسر ہیں جو گلگت بلتستان کی عوام کی خوش قسمتی ہے ۔ستر سال سے تمام تر بنیادی انسانی ، آئنی ، قانونی ، معاشرتی ، معاشی حقوق سے محروم خطہ بے آئین ڈوگرہ راج سے آزادی کے پہلے دن سے ہی قیادت کے بحران کا شکار رہا ۔ سنجیدہ اور مخلص قیادت کے بحران ، اپنوں کی غداری اور میجر براون کی چالاکی نے کرنل مرذزا حسن خان کی قیادت میں ملنے والی آزادی کو سرادر عالم نامی ایک پولیٹیکل ایجنٹ کی جولی میں بلا کسی شرائط اور معاہدے کے ڈال دیا ، آج اس پٹواری کا نام بدل کر چیف سکریٹری رکھ دیا گیا ہے مگر حالات آج بھی وہیں کےوہیں ہیں ، آج بھی پورےجی بی کی سڑکوں پر بیٹھے عوام کے نمائندے اور وفاق کے جوتے صاف کر کے مراعات لینے والے چند نمائندہ نماء ایک دستخط کیلیئے اسلام اباد آنے پر مجبور ہیں اور کئی دن سے عوام اس انتظار میں سڑکوں پر ہین کہ گلگت بلتستان کے عوام کے انتخاب سے بالکل غیر متعقلہ وفاقی ممبر نیشنل اسمبلی کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ جس میں انکم ٹیکس اڈاہٹیشن ایکٹ کے خاتمے کی سفارش کی گئی ہے کا نوٹیفیکیشن وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے جاری ہو جائے۔ گلگت بلتستان کی 1947 سے بعد کی تاریخ سے شناسا لوگ جانتے ہیں کہ یہاں کی عوام نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے کبھی بھی اس طرح سڑکوں پر آ کر احتجاج نہیں کیا جس طرح 2013 میں گندم سبسڈی اور 2017 کے آخر میں اینٹی ٹیکس مومنٹ چلی ، ان دوںوں تحریکوں کی کامیابی سے یہ امید ہو چلی ہے کہ آنے والوں وقتوں میں ہم اپنے آئینی حقوق کیلئے میدان عمل میں اترنے کے قابل ہو رہے ہیں ، یہ بات بھی یہاں بتانا بہت اہم ہے کہ یہ دونوں تحریکیں بلتستان ریجن کی پیدار عوام کی وجہ سے کامیاب ہوئی اور ان تحریکوں کی کامیابی میں دیگر تمام تر عوامل اور بہت ساری مقامی پارٹیوں کے اتحاد عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کی کوششوں کے علاوہ ایک شخصیت کا کلیدی کردار ہے جن کا نام آغا علی رضوی حفظ اللہ ہے ۔

 گندم سبسڈی کی تحریک کی کامیابی ہو یا اینٹی ٹیکس موممنٹ کی کامیابی ہو دونوں کی کامیابی کا تمام تر کریڈٹ آگا علی رضوی کی قیادت کو جاتا ہے ، جس کا اعتراف عوامی ایکشن کمیٹی کے چئیرمین  اور انجمن تاجران کے چئیرمین سمیت سب کر چکے ہیں ، یہ بات بتانی انتہائی اہم ہے کہ آغا علی رضوی پر عوام کا دیوانہ وار اعتماد اس امر کا مظہر ہے کہ ان کی قیادت گلگت بلتستان کو اپنے تمام تر حقوق کے حصول ممکن بنا سکتی ہے ۔بڑی عجیت شخصیت کا مالک یہ سید زادہ نہ جانے کس دنیا سے آیا ہے جنہیں نہ اپنےگھر کی فکر ہے ، نہ اپنی صحت کی فکر ، عہد جوانی میں ہی شوگر اور بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود آغاصاحب کا دن رات عوام اور عوامی مسائل کے درمیان گزرتا ہے ۔ ہر مظلوم کی آیک آہ پر پہنچ جانا، چھوٹے سے چھوٹے مسئلے پر ڈٹ جانا ، کسی حکومتی دباو ، لالچ میں نہ آنا ان کی قیادت کے مخلص ہونے کے ثبوت ہیں ، نہ نام بنانے کی فکر ہے نہ کریڈٹ لینے کا شوق، نہ حکومتی بڑوں کے ساتھ مذاکرات کار بنے کا شوق ہے نہ کسی کے ساتھ فوٹو کچھوانے کا ، نہ ہار لگوانے کا شوق ہے اور نہ تالیاں بجوانے کا بس عوام کے درمیان رہ کر عوام کی طاقت سے عوام کے نام پر کھانے پینے والوں کے غرور و تکبرکو خاک میں ملانا ان کا مرغوب مشغلہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں جس طرح سے آغا صاحب کی عوام کے اندر پذیرائی ہے اسے دیکھتے ہوۓ گلگت بلتستان کے حقوق سے دلچسپی رکھنے والوں کو چاہیےکہ ان کے ساتھ جڑ جائیں اور ان کی اس صلاحیت کو جی بی کے محروم و مظلوم عوام کے حقوق کے حصول کیلئے استعمال کرے ، سید حیدر شاہ رضوی جیسی قیادت کو ہم نے بے قدری کی نذر کر دیا مگر اس سید زادے کو اگر ہم نے بے قدری کی بھینٹ چڑھا دیا تو پھر گلگت بلتستان کے حقوق کا خواب مزید سو سال تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مصلحت پسندی ۔ ذاتی مفادات ، لالچ اور وفاقی سیاسی پارٹیوں کے چاپلوسیوں کو چھوڑکر ایک بار اور صرف ایک بار اس سید زادے پر اعتماد کر کے دیکھیں ، آپ کے تمام تر حقوق آپ کے در پر خود آکر گریں گے ، خدا ہمیں نیک مخلص اور ایماندار قیادت اور ڈمی ، بزدل ، لالچی اور کرپٹ قیادت مین فرق کرنے کی توفیق عطا کرے۔


تحریر : انجینئر شبیر حسین

وحدت نیوز (اسکردو) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سربراہ و عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین علامہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ٹیکس کے خلاف جاری تحریک میں جی بی کے عوام نے ثابت کر دیا کہ یہاں کے غیور عوام کسی کی ساز ش میں آنے والے نہیں ہیں۔ چلاس سے داریل تانگیر اور ہنزہ سے کھرمنگ تک کے عوام نے جس اتحاد و ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا لائق فخر ہے۔ میں اس تحریک کے ادنی سے کارکرکن کی حیثیت سے اس تحریک میں حصہ لینے والے علماء، بزرگان، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنا ن کا انتہائی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے تاریخی ہڑتال اور لانگ مارچ کر کے حکومت کو واضح کر دیا کہ یہاں کے عوام باشعور ہو چکے ہیں اور کسی بھی حکمران کو ظلم کرنے نہیں دیں گے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ ٹیکس مخالف تحریک کے قائد غلام حسین اطہر کے خلوص و ثابت قدمی کو سلام پیش کرتا ہوں انکی قیادت کے نتیجے میں حکومت مذاکرات کی ٹیبل پر آنے کے لیے تیار ہوگئی اور مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے سبب لانگ مارچ کو روندو سے ختم کر کے اسکردو جانے کا فیصلہ ہوا ہے ۔بلتستان میں جب تک ٹیکس کی منسوخی کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوتا احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت کے مشکل ترین حالات میں استقامت دکھانے پر برادر عزیر مولانا سلطان رئیس اور انجمن تاجران کے صدر کو سلام پیش کر تا ہوں ۔ ان کی بصیرت کے سبب کسی قسم کی علاقائی ، مسلکی اور لسانی تعصبا ت کو ہوا دینے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کو مزید شیعہ سنی اور بلتی گلتی کے نام پر لڑاکر حکمرانی کرنے کا دور ختم ہو گیا ہے۔ آج تمام گلگت بلتستان کے مسالک ایک ہی گلدستے کے پھول ہیں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ جی بی کے عوام جی بی کو آئینی حصہ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے کو تیار رہیں ۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ گلگت بلتستان کو سی پیک میں بھی حصہ دلانے میں صوبائی حکومت ناکام ہوگئی ہے اور غلط بیانی سے کام لے رہی ہیں ۔ میں آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان کے نظریاتی سرحدوں کے امین جی بی کے عوام کو آئینی خودمختاری دی جائے اور سی پیک میں اس خطے کو بھر پور حصہ دیا جائے۔ پاکستان دشمن طاقتیں سی پیک سمیت جی بی کو آئینی حقوق دلانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں ۔ دشمن نہیں چاہتے کہ گلگت بلتستان اورپاکستان اقتصادی طور پر مضبوط ہو یہی وجہ ہے کہ سی پیک کے خلاف پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔ سی پیک میں حصہ ملنے سے گلگت بلتستان مزید مستحکم اور مضبوط ہو جائے گا۔ مضبوط گلگت بلتستان ہی مضبوط پاکستان کا ضامن بن سکتا ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ جی بی کو مضبوط کرنے کے لیے سی پیک میں حصہ دلانے کی بجائے مزید ٹیکس عائد کر کے عوام میں بے چینی پھیلا رہی ہے اور معاشی طور پر مزید کمزور ہو رہا ہے ۔ جی بی میں حالیہ دھرنون میں انڈیا مخالف اور پاکستان آرمی کے حق میں لگائے جانے والے نعروں نے ثابت کر دیا کہ یہاں کے عوام پاکستان کی دفاعی فرنٹ لائن ہے۔ یہاں کے عوام پاکستان کے دفاع کا ضامن ہے ۔

Page 1 of 7

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree