وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بلتستان ریجن کے فرض شناس پولیس آفیسر ڈی آئی جی فرمان کا تبادلہ قابل مذمت ہے۔ علاقائی میں خلوص نیت کے ساتھ اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے والے آفیسران کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے اور انہیں دلجمعی کے ساتھ کبھی خطے کی خدمت کرنے نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ریاستی اداروں پر اثر انداز ہو اور اپنا الو سیدھا کرے ۔ ریاستی اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کسی صورت ریاست کے مفاد میں نہیں ہے ۔ فرض شناس اور ایماندار افراد اگر حکمرانوں سے ڈیکٹیشن لینا چھوڑ دے تو انہیں دربدر کیا جاتا ہے۔ ڈی آئی جی فرمان نے بلتستان میں نہایت محنت لگن اور ایمانداری کے ساتھ ہر طرح کی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر پولیس جیسے اہم محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش ہے لیکن انہیں کام کرنے نہیں دیا جا رہا جو کہ افسوسناک ہے۔ انہیں فوری طور پر واپس لایا جائے۔

آغا علی رضوی نے کہا خطے میں عوام کی توہین کرنے والے چیف سیکرٹری کو تاحال رکھنا شرمناک ہے۔ ایف سی این اے جنرل اور جی بی کی عدالتیں نوٹس لیتے ہوئے اس چیف سیکرٹری کو فوری طور پر علاقہ بدر کرے ۔ ویڈیو ایڈیٹنگ کا الزام درست نہیں پوری ویڈیو دیکھنے کے بعد بھی چیف سیکرٹری کا رویہ شہنشاہوں والا اور عوام دشمن تھا۔ انہیں برداشت کرنے کا مطلب ہی عوام کو ریاست کے خلاف اکسانے کی کوشش ہوگی۔

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کےسکریٹری جنرل ژ آغا علی رضوی نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کہا کہ حاجی اکبر خان مرحوم پورے خطے کا عظیم سرمایہ تھے انکی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی اور فکر امام خمینی و نظریہ ولایت فقیہہ کی پرچار میں گزری ہے۔ آج گلگت بلتستان ایک عظیم پیروئے خمینی ، فکری، انقلابی، علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہو گئے۔ انکی وفات پر انکے خاندان اور پورا گلگت بلتستان کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ حاجی اکبر خان کی فکر و فلسفے کا مرکز ولایت علی اور ولایت فقیہہ تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نامساعد ترین حالات اور گٹھن مراحل میں بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور ولایت کی ترویج و اشاعت  میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیے۔ انکی ولایت کے حوالے سے نظریات غیر مبہم اور قاطعیت پر مبنی تھے ۔ وہ دور اندیش اور دیندار انسان تھے۔ دینی تحریکوں کے لیے انکی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انکی وفات سے جو خلا پیدا ہوگیا ہے اسے پر کرنا کبھی ممکن نہیں۔مرحوم باعمل تعمیر سوچ اورخطے میں دینی افکار کی سربلندی چاہتے تھے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے اور ذاتیات پر حملہ کر کے گلگت بلتستان کے ظالمانہ آرڈر کے خلاف جاری تحریک کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی بی آرڈر کے خلاف تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے حکومت علاقائی ، مسلکی اور دیگر تعصبات کو ہوا دینا چاہتی ہے۔ آج داریل تانگیر سے بلتستان تک کے عوام نے جب حکومت کے نام نہاد اصلاحاتی پیکیج کو مسترد کر دیا اور صوبائی حکومت کے چہرہ کو بے نقاب کیا تو انکی چیخیں نکل رہی ہیں۔ عوام اب باشعور ہوچکی ہے کسی دھوکے اور سازش کا شکار نہیں ہوسکتی ۔

انہوں نے مزید کہاکہ لیگی حکمران چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں سانحہ ماڈل ٹاون کا تکرار ہو لیکن عوام نے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تمام تر توانائیوںکو نام نہاد پیکیج کو زمین بوس کرنے اور اتحاد و اتفاق کی پرچار کے لیے صرف کریں، وفاقی سرپرستی کے خاتمے کے بعد حکمرانوں کی عقل ٹھکانے آجائیں گے۔ یہ پہلی بار نہیں بلکہ اس سے قبل بھی لیگی حکمران داعش کو بلواکر عوامی احتجاجات پر حملے کروانے کی دھمکیاں ریاستی اداروں کے سربراہان کے سامنے دے چکے ہیں۔ وفاق میں انکے قائد کے ممبی حملے کے متعلق بیان سے ہی واضح ہوگیا ہے کہ وہ ملک اور ریاستی کے کتنے خیرخواہ ہیں۔

 آغا علی رضوی نے کہا کہ گلگت اور بلتستان کو الگ کرنے کی کوشش بہت عرصے سے جار ی ہے لیکن ہر دفعہ عوام نے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اکائی بن کر ثابت کیا  ہے کہ اب لڑاو اور حکومت کرو والی پالیسی نہیں چلنے نہیں دیں گے۔ جی بی آرڈر 2018ء صوبائی حکومت کی عوام دشمن پالیسی اور وفاق کی کاسہ لیسی کا منہ بولتا  ثبوت ہے۔حکمران کاسہ لیسی میں حد سے گزر چکے ہیں اور یہ بھی بول چکے ہیں وہ کس طرح کی شرمناک دھندوں میں ملوث رہ چکے ہیں۔

وحدت نیوز(گلگت)  مشیر اطلاعات اور وزیر تعمیرات اپنے گریبان میں جھانکیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ وہ کس کھیت کے مولی ہیں۔مولانا سلطان رئیس اور آغا علی رضوی کے خلاف غم و غصہ سے نواز لیگ کی بوکھلاہٹ ظاہر ہورہی ہے۔سلطان رئیس اور علی رضوی گلگت بلتستان کے عوام کے حقیقی ترجمان ہیںجنہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوںسے خطے کے عوام کے دل جیت لئے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ ہم گلگت بلتستان کے عوامی کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اورآرڈر 2018 گلگت بلتستان کے عوامی امنگوں کے خلاف ہے جسے ہرگز قبول نہیں کرینگے۔نااہل وزیر اعظم کے نااہل کارندے اپنی رسوائی کو چھپانے کیلئے معزز علمائے کرام کے خلاف ہرزہ سرائی پر اتر آئے ہیں۔نواز لیگ جی بی کے عوام کو آئینی حقوق دلوانے میں ناکام ہوکر آرڈر 2018 کو نافذ کرنا چاہتی ہے جو ان کے بادشانہ مزاج کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور اس کی ٹیم عوام کے احتجاج کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتی اور علاقے کے عوام کو تقسیم کرنے کیلئے دھونس دھمکیوں اور مذہبی تعصب کا سہارا لے رہی ہے ۔گلگت بلتستان کا امن یہاں کے علماء اور عوامی ایکشن کمیٹی کی کاوشوں سے بحال ہوا ہے، حفیظ الرحمن کے اقتدار سے امن کو مشروط کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔گلگت والوں کا دماغ پھراکر کر بلتستان کو ہلادینے کی بات کرنے والے صاف صاف بتادیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نواز لیگ کی ہرسازش کا ڈٹ کرمقابلہ کرے گی اور گلگت بلتستان کے عوام کو جغرافیہ اور فرقے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنادے گی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجوزہ اصلاحاتی پیکج گلگت بلتستان کےمحب وطن عوام کی توہین ہے۔ نام نہاد اصلاحاتی پیکج سے واضع ہوتا ہے مسلم لیگ نون جمہوری اقدار سے نہ صرف نابلد ہے بلکہ آمرانہ اور بادشاہانہ سوچ کی حامل جماعت ہے ہم گلگت بلتستان کے عوام پر کسی صورت میں زور زبرردستی کے قانون کونافذ نہیں ہونے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ سید علی رضوی نے اسلام آباد مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری اپنے جاری بیان میں کیا ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مجوزہ پیکج میں وزیر اعظم کو سیاہ سفید کا مالک بنا دیا ہے،عدالتوں کو جس طرح پابند کیا گیا مہذب دنیا میں اس کی مشال نہیں ملتیواضع ہوا ن لیگ جمہوری اقدار سے نابلد اور امرانہ سوچ کی حامل ہے ۔آئینی اصلاحاتی پیکج گمراہ کن دستاویزات کا پلندہ اور گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام کی توہین ہے جسکو یکسر مستراد کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا اصلاحاتی پیکچ کے نام پر حقوق سے گلگت بلتستان کو غلامی کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے پیکچ میں وزیر اعظم کو اس خطے کے سفید و سیاہ کا مالک بنانے کی کوشش کی ہے جس خطے کے عوام کو جس خطے کے عوام کو وزیراعظم کے انتخاب کے عمل میں کوئی حق نہیں اور نہ ہی اس پارلیمنٹ میں کوئی جگہ موجود ہے جس کے زریعے وزیر اعظم کا انتخاب ہوتا ہے ایسے میں وزیر اعظم کو یہاں مسلط کرنا غیر آئینی اور غیر قانونی ہے ۔

آغا علی رضوی نے کہا نام نہاد اصلاحاتی پیکج پر جی بی کو عدالتوں کی جس انداز مین توہین کی ہے اس پر عدالتوں کو خاموش نہیں رہنا چاہیے اور سپریم کورٹ سے درس لیتے ہوئے اس پیکج کو منظر عام لانے والے حکمرانوں کا محاسبہ کرنا چاہیے کیوں کہ انہوں نے دانستہ طور پر عوام کی مینڈیٹ کی توہین کرنے اور عدالتوں مذاق بنانے کی کوشش کی نہایت افسوس ناک مرحلہ ہے کہ وفاقی حکومت یہاں کے عوام کے لئے ستر سالہ حب الوطنی کا صلہ مزید محرمیوں دھکیل کر دے رہی ہے جو کہ کسی صورت میں پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے صوبائی حکومت ایک عرصے سے یہاں کے عوام اور اسمبلی کو بااختیار بنانے کی قلعی اب کھلی گئی ہے اور واضع ہو گیا ہے مسلم لیگ کی صوبائی حکومت اس خطے کی ترقی کی خواہاں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی قاسہ لیسی کو اعزاز سمجھتی ہے صوبائی حکومت سے امید ہے ایسے لیگی رہنما بھی موجود ہونگے جو عوام پر ڈھائے جانے والے اس ظلم کی بے جاحمایت کرنے کی بجائے خطے سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اس پیکج کو مسترد کریں گئے اور اس کی آڑ میں نافذ کرنے والے ٹیکسز کو بھی مسترد کریں گئے۔

وحدت نیوز (سکردو)   مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئینی اصلاحاتی پیکج گمراہ کن دستاویزات کا پلندہ اور خطے کے لاکھوں عوام کی توہین ہے، جسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی پیکج کے نام پر حقوق سے محروم گلگت بلتستان کو غلامی کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہے۔ پیکج میں وزیراعظم کو اس خطے کے سفید و سیاہ کا مالک بنانے کی کوشش کی ہے۔ جی بی کے عوام کو نہ وزیراعظم کے انتخاب کے عمل میں کوئی حق ہے اور نہ ہی اس پارلیمنٹ میں کوئی جگہ موجود ہے جس کے ذریعے وزیراعظم کا انتخاب ہوتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم کو تمام تر اختیارات دینا غیرآئینی و غیرقانونی عمل ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ اس نام نہاد اصلاحاتی پیکج سے واضح ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نون جمہوری اقدار سے نہ صرف نابلد اور ناآشنا ہے، بلکہ آمرانہ و بادشاہانہ سوچ کی حامل جماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان کے عوام پر زور زبردستی کے قانون کو کسی صورت نافذ ہونے نہیں دیں گے۔ نام نہاد اصلاحاتی پیکیج میں جی بی کی عدالتوں کو جس طرح پابند کیا گیا ہے اسکی مثال مہذب دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ جی بی کی عدالتوں کی جس انداز میں توہین کی ہے۔ جی بی کی عدالتوں کو اس سلسلے میں خاموش نہیں رہنا چاہیئے اور سپریم کورٹ سے درس لیتے ہوئے اس پیکج کو منظر عام پر لانے والے حکمرانوں کا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ کیوں انہوں نے دانستہ طور پر عوامی مینڈیٹ کی توہین کرنے اور عدالتوں کو مذاق بنانے کی کوشش کی ہے۔ نہایت افسوسناک مرحلہ ہے کہ وفاقی حکومت یہاں کے عوام کی ستر سالہ حب الوطنی کا صلہ مزید محرومیوں میں دھکیل کر دے رہی ہے جو کہ کسی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ صوبائی حکومت کے ایک عرصے سے یہاں کے عوام اور اسمبلی کو بااختیاز بنانے کے دعووں کی قلعی اب کھل گئی ہے اور واضح ہوگیا ہے کہ مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت اس خطے کی ترقی کی خواہاں نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی کاسہ لیسی کو اعزاز سمجھتی ہے۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ صوبائی حکومت میں امید ہے ایسے لیگی رہنما بھی موجود ہونگے جو عوام پر ڈھائے جانے والے اس ظلم کی بیجا حمایت کرنے کی بجائے خطے سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اس پیکج کو مسترد کریں گے اور اس کی آڑ میں نافذ کرنے والے ٹیکسز کو بھی مسترد کریں گے۔ عوام دشمن فیصلے کے خلاف میدان میں آنے والے حکمرانوں کو عوام قدر کی نگاہ سے بھی دیکھیں گے اور تاریخ بھی انہیں اچھے ناموں سے پکارے گی۔ ایم ڈبلیو ایم جی بی کے رہنماء نے مزید کہا کہ ستر سالوں سے وفاقی حکومتوں نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ بھی نہیں دیا، جبکہ وطن عزیز کے استحکام و ترقی میں اس خطے کے انسانی و قدرتی وسائل کا عمل دخل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اب اس خطے کی تقدیر اور مستقبل کو اس عوام کے ہاتھ میں دینے کے لئے نہ صرف اس ظالمانہ پیکج کے خلاف تحریک کا آغاز کریں گے بلکہ اس خطے کے عوام کو بااختیار بنا کر دم لیں گے، مزید کسی بھی جماعت کو اس خطے کے عوام کے ساتھ مزید مذاق کرنے نہیں دیں گے۔ ملک بھر کے عام انتخابات کے ساتھ جی بی میں انتخابات جب تک نہ ہو وفاقی حکومت یہاں کی مینڈیٹ چراتی رہے گی اور من پسند کے فیصلے نافذ کرتے رہیں گے۔ جی بی اسمبلی کو جب تک آزاد و خودمختار نہیں بنایا جاتا اور وزیراعظم کے اختیارات کو محدود نہیں کیا جاتا، اس خطے میں خوشحالی کبھی نہیں آ سکتی۔ جس خطے کے عوامی نمائندوں کے ووٹ اور عوام کے ووٹ کی ضرورت وزیراعظم کو نہ ہو وہ کبھی عوام کے حقوق کا دفاع نہیں کریں گے۔

Page 1 of 9

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree