وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین نے اتحاد بین المومنین کی خاطر ایک مرتبہ پھر ایک بڑی قربانی دے دی ، گلگت حلقہ نگر 4کے ضمنی انتخاب میں مجلس وحدت مسلمین کے نامزد امیدوار ڈاکٹرعلی محمد اسلامی تحریک پاکستان کے نامزد امیدوار شیخ محمد باقر کے حق میں دستبردار، تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل علامہ سید علی رضوی نے اسلامی تحریک(شیعہ علماءکونسل) کی دعوت پر شیخ ہائوس میں پر یس کانفرنس کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے امیدوار برائے حلقہ نگر 4ڈاکٹر علی محمد کی اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار شیخ محمد باقر کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد علی نوری ، ڈاکٹرعلی گوہر، الیاس صدیقی ودیگر سمیت اسلامی تحریک پاکستان کے صوبائی رہنما علامہ شیخ مرزاعلی ، دیدار علی اور دیگر رہنما موجود تھے ۔

علامہ سید علی رضوی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ خطہ گلگت بلتستان کے عوام کو ہر ادوار میں اقتدار پر براجمان حکمرانوں نے مختلف حیلے بہانوں اور جھوٹے نعروں کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہے ۔عوامی حقوق کے حصول کیلئے جب بھی کوئی موثر آواز اٹھائی گئی اسے دبانے کی بھرپور کوشش کی گئی اور اپنے من پسند افراد کو اقتدار تک پہنچانے کیلئے ہر حربہ آزمایا گیا۔سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اپنے ایجنڈے اور منشور کو لیکر عوامی عدالت میں پیش ہوتے آئے ہیں اور گزشتہ جنرل الیکشن 2015 میں مسلم لیگ نواز کو بھاری مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار تک پہنچایا گیا۔بہت سارے اسباب و علل کے علاوہ مسلم لیگ نواز کی جیت میں ایک اہم سبب مذہبی جماعتوں کی آپس میں چپقلش کو قرار دیا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے بد ترین شکست سے دوچار ہوئی لیکن ان کے رہنمائوں نے مسلم لیگ نواز کی جیت کا ملبہ مذہبی جماعتوں کے سرتھونپ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الحمد للہ ملی خواہشات کے مطابق آج ملت تشیع کی دو نمائندہ جماعتیں قومی و ملی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کے عزم کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیںجو کہ ملت تشیع کیلئے ایک خوشخبری ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف حلقہ 4 نگر کے انتخابات کے حوالے سے ہے بلکہ تمام ملی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے عنوان سے ہے۔انشاء اللہ اس اتحاد کے ذریعے ملت تشیع کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں نے اپنے دور حکومت میں محض جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت کا جائزہ لیں تو ان کے دور حکومت میں لاشوں کے تحفے دیئے گئے،شاہراہ قراقرم پر درجنوں افراد کو شناخت کرکے قتل کردئیے گئے اور ستم ظریفی یہ کہ ان بزدل حکمرانوں نے کسی ایک واقعہ میں ملوچ قاتلوں کو گرفتار تک نہیں کیا بلکہ تشیع کو ہی مظالم کا نشانہ بناتے ہوئے شہداء کے لاشوں پر رونے کے جرم میں شیعہ اکابرین کو 16 ایم پی او کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا اور ملت تشیع کے وہ ادارے جو کہ پاکستان بننے سے اب تک سماجی کاموں میں مصروف تھے ان پر پابندیاں لگادی گئیں ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہگلگت بلتستان کے دیرینہ مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ سکردو روڈ ہے جو کہ تاحال وفاقی حکمران جماعتوں کی سیاست کی نذر ہے ۔سکردو کے عوام اور مسافر اس خونی سڑک پر سینکڑوں جانیں گنوانے کے باوجود عرصہ دراز سے ان پارٹیوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ستم بالائے ستم سابق حکمران جماعت پیپلز پاڑی کا سی ایم سکردو سے تعلق ہونے اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود سکردو کے عوام کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیااور اس دفعہ وفاقی بجٹ میں سکردو روڈ کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ بالآخر شیخ محمد حسن جعفری امام جمعہ والجماعت نے بلتستان ریجن کے ممبران اسمبلی سے اجتماعی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جس کی ہم بھرپور تائید کرتے ہیں۔

آغا علی رضوی نےمذید کہاکہ  مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور اسلامی تحریک پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کی تھی لیکن ساتھ ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کیاتھا کہ سیاسی بنیادوں پر اس قانون کا استعمال کرکے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا جائیگا اور آج وقت نے ہمارے خدشات کو ثابت کیا اور معروف علمائے کرام اور ملت کے اکابرین کو آج  دہشت گردوں کی صف میں کھڑا کیا گیا ہے جو کہ اس ملت کے ساتھ انتہائی مذاق ہے۔مجلس وحد ت مسلمین کے رہنما اور امام جمعہ والجماعت نومل اس وقت جیل میں ہیں اور دیگر علمائے کرام شیخ مرزا علی امام جمعہ والجماعت دنیور، شیخ شبیر حکیمی، عابد حسین و دیگر کو شیڈول فور میں رکھنا اس پرامن ملت کیساتھ انتہائی ظلم ہے جس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ہماراحکمرانوں سے سوال ہے کہ کالعدم جماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی کو ضلع دیامر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرنے کی اجازت کس نے دی جبکہ اسی لدھیانوی پر گلگت سٹی تھانے میں ایف آئی آر نمبر  29/15درج ہے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے اس کے باوجود صوبائی حکومت نے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے لدھیانوی کو ضلع دیامر کے حدود میں جلسہ کرنے کی اجازت دیکر نیشنل ایکشن پلان کی روح کو تڑپادیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شیعہ نشین علاقوں میں زمینوں کو حکومتی تحویل میں دیا گیا اور آج وہی لوگ عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے حق ملکیت کے نعرے لگارہے ہیں ۔اگر یہ لوگ واقعی اپنے ان نعروں میں سچے ہیں تو سینٹ میں پیپلز پارتی کی اکثریت ہے وہاں پر بل کیوں پیش نہیں کیا جاتا ۔اپنے دور اقتدار میں یوسف رضا گیلانی کے چلاس دورے کے موقع پر چلاس کے عوام کو مالکانہ حقوق دلوادیئے اور یہی آرڈر گلگت بلتستان بھر کے لئے کیوں نہیں کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کو جب بھی پذیرائی ملی ہے گلگت اور بلتستان ریجن سے ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا آئینی حقوق کا مسئلہ تاحال تعطل کا شکار ہے ائور یہ جماعتیں جب اقتدار میں ہوتی ہیں تو ان کو یاد نہیں رہتا  اور جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو پھر نعرے لگانا شروع کردیتے ہیں۔سی پیک گلگت بلتستان کا معاشی موت اور زندگی کا مسئلہ ہے اگر ہم مصلحت پسندی کا مظاہرہ کریں اوراس اہم منصوبے کے ثمرات اور سی پیک میں گلگت بلتستان کا حصہ حاصل نہ کرسکے تو آنے والی نسلیں ہمیں ہرگز معاف نہیں کرینگی۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان سی کے گیٹ وے پر ہونے کے باوجود اب تک کوئی بھی پراجیکٹ شامل نہیں ۔ہم صوبائی حکومت کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ اقتدار کے نشے میں سی پیک میں گلگت بلتستان کے مفادات کا سودا کیا تو تاریخ میں غدار قرار پائینگے اور حکومت پاکستا ن کو بھی بتادینا چاہتے ہیں کہ سی پیک میں کسی صورت گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ پاکستان کے وفادر رہے ہیں اور مشکل گھڑی میں یہاں کے بہادر جوانوں نے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں۔دیامر بھاشا ڈیم ، بونجی ڈیم جو کہ پاکستان میں انرجی کرائسس کے حل کا ضامن منصوبے ہیں ۔دیامر بھاشا ڈیم میں ضلع دیامر کی پوری آبادی لپیٹ میں آنے کے باوجود علاقے کے عوام پاکستان کیلئے قربانی دے رہے ہیں جبکہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کی ترقی کا ضامن منصوبہ ہے لیکن اس کے باوجود دیگر صوبوں کے پریشر میں آکر حکومتیں اس منصوبے کی تعمیر پر تیار نہیں۔حکومت کو چاہئے کہ گلگت بلتستان کے خلوص اور شرافت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔

ا ن کاکہنا تھا کہ ہمیں تعجب ہے کہ پیپلز پارٹی نگر کو اپنا گڑھ کیسے سمجھ رہی ہے اور نگر کے غیور عوام ان کو کیوں ووٹ دیں ۔کیا اس لئے ووٹ دیں کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں تاریخی کرپشن کی ہے اور ملازمتوں کو بیچا اور کیا اس لئے ووٹ دیں کہ محکمہ ایجوکیشن میں 500 سے زائد لوگ تین تین لاکھ روپے دیکراب بھی نوکری سے محروم ہیں۔کیا اس لئے ووٹ دیں کہ نگر کے ہر ایک گائوں میں ایک شہید آیا اور آج بھی ان کے قاتل نہ صرف گرفتار نہیں بلکہ ان قاتلوں کے ساتھ جنرل الیکشن میں ساز باز کی گئی۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ حلقہ 4 نگر میں دونوں مجلس وحدت مسلمین اور اسلامی تحریک پاکستان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کرتے ہیں اور محمد باقر تحریک اسلامی اور وحدت مسلمین کا مشترکہ امیدوار ہوگا اور عوام سے اپیل ہے کہ بھاری اکثریت سے ووٹ دیکر محمد باقر کو کامیاب کریں۔مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں سے اپیل ہے کہ وہ صف اول کا کردار ادا کرکے ملی بیداری کا ثبوت دیں ۔انشاء اللہ حلقہ 4 نگر میں ہونے والی اس اتحاد کے ثمرات نہ صرف گلگت بلتستان ہونگے بلکہ پورے پاکستان میں اس اتحاد کے دور رس نتائج حاصل ہونگے۔

واضح رہے کہ حلقہ نگر 4 میں آئندہ چند روز میں منعقدہ ضمنی انتخاب میں سیاسی جوڑ توڑ نے اس وقت دم توڑ دیا جب مجلس وحدت مسلمین نے قومی وملی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے امیدوار کو اسلامی تحریک کے امیدوار کے حق میں دستبردار کروانے کا اعلان کیا ، اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری ودیگر قائدین نے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سےملاقات میں نگر الیکشن میںاسلامی تحریک کے مقابل سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی آفر دی تھی اور ساتھ ہی پرکشش مراعات سمیت آئندہ قومی انتخابات میں ملک بھر میں سیاسی اتحاد کا عندیہ بھی دیا تھا ، جبکہ اسلامی تحریک پاکستان (شیعہ علماءکونسل )کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر علامہ عارف حسین واحدی نے بھی علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سےگذشتہ ہفتے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات میں ایم ڈبلیوایم کے امیدوارکی اسلامی تحریک کے حق میں دستبرداری کی اپیل کی تھی جس پر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مقامی تنظیمی عہدیداران کو اعتماد میں لینے کاوقت مانگا جبکہ دو رو ز قبل اسلامی تحریک کا صوبائی سطح کا وفد سابق وزیر پانی وبجلی دیدار علی کی سربراہی میں وحدت ہائوس گلگت تشریف لایا اور ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ آغاسید علی رضوی سے ملاقات میں باضابطہ طور پر نگر انتخاب میں اپنے امیدوار کی حمایت کی اپیل کی اور بعد ازاں پی پی پی کی تمام تر آفرزکو ٹھکراتے ہوئے ایم ڈبلیوایم نے اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا ، یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ایم ڈبلیوایم اور اس کی مرکزی قیادت جہاں وطن عزیز میں اتحاد بین المسلمین کے لئے ہمہ وقت کوشاں نظر آتی ہے اتحاد بین المومنین کیلئے بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ، اس سے قبل سولجر بازار کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھی ایم ڈبلیوایم نے اپنے دو نامزد اور ایک آزاد امیدوار کو اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار علی رضا لالجی کے حق میں دستبردار کروائے تھے۔

وحدت نیوز(سکردو) حاجی گام چوک سکردو کا نام سانحہ بابوسر میں شہید ہونیوالے قاری محمد حنیف کے نام پر رکھ دیا گیا۔  مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی سکریٹری جنرل اور معروف عالم دین علامہ سید علی رضوی کے ہاتھوں بورڈ کی تنصیب کی گئی ۔ بورڈ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اور اہالیان محلہ کی جانب سے لگایا گیا۔ تقریب میں اہالیان محلہ حاجی گام سمیت آئی ایس او پاکستان کے مرکزی سکریٹری نشر و اشاعت نسیم کربلائی، ڈویژنل صدر سید اطہر موسوی، مجلس وحدت مسلمین کے سکریٹری سیاسیات اور ماہر تعلیم حاجی محمد علی، سکریٹری نشر و اشاعت ایم ڈبلیو ایم میثم کاظم اور دیگر نے شرکت کیں۔ اس موقع پر علامہ سید علی رضوی نے شہید کی بلندی درجات کیلئے خصوصی دعائیں کی اور شہدائے بابوسر، شہدائے چلاس، شہدائے کوہستان اور دیگر شہدائے گلگت بلتستان کو زبردست خراج تحسین پیش کیں۔

وحدت نیوز(سکردو)  مجلس وحدت مسلمین گلگت  بلتستان کے صوبائی سکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے سانحہ چلاس کو پانچ سال گزرنے پر اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کی بدترین واقعے کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ سابق اور موجودہ حکومت سیاسی مقاصد کیلئے تو کسی بھی حد تک جانے سے دریغ نہیں کرتی، لیکن اتنے بڑے سانحے کے مجرموں کے خلاف کوئی ریاستی حرکت دیکھنے کو نہیں ملتی۔ موجودہ صوبائی حکومت پر امن اور محب وطن لوگوں کو تو بغیر کسی جرم کے شیڈول فور میں شامل ڈال کر پابند کرنے پر تلے ہوئے ہیں لیکن ان وحشی درندوں سے پوچھتا تک نہیں جنہوں نے تاریخ انسانیت کیبھیانک ترین مذہبی انتہا پسندی و دہشت گردی کے جرم کا ارتکاب کیا۔ عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ حکومت کی ان حرکات پر کڑی نظر رکھی جائے جوقوانین کا بے دریغ سیاسی استعمال تو کرتی ہے مگر لوگوں کو مسلکی منافرت کی بنیاد پر پہچاننے کے بعد گلے کاٹنے کے مرتکب مجرموں پر کوئی قانون نافذ نہیں کرتی۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے زیراہتمام اسکردو میں منعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم جی بی کے سربراہ آغا علی رضوی نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان میں دہشتگردی کی زد میں اسی ہزار بے گناہوں کی جانیں آئیں، ان میں سب سے زیادہ نشانہ پرامن اہلسنت اور شیعہ مکتب سے تعلق رکھنے والے بنے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف اہل تشیع نے 24 ہزارجانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پاکستان میں دہشتگردوں کے خلاف بھی سب سے پہلے اسی طبقے نے نعرہ بلند کرتے ہوئے ان ملک دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کا مطالبہ کیا اور ہر سطح پر دہشتگردی کے خلاف اٹھنے والے اقدامات کی اخلاقی معاونت کو فرض عین سمجھا۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ روز اول سے آج تک اہل تشیع کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس طبقے نے کبھی ریاست پر حملہ نہیں کیا اوردفاع وطن کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے رہے۔ لیکن آج اسلام آباد میں کلعدم دہشتگرد جماعتیں آزاد ہیں جبکہ اہل تشیع کو متدین علماءکو شیڈول فور میں ڈالا گیا۔ پاکستان کے نامور عالم دین حجة الاسلام شیخ محسن علی نجفی کی حکومتی سطح پر انکی حوصلہ افزائی کی بجائے انکی زبان بندی کی گئی، اکاونٹس کو منجمد کر دئیے گئے اور فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا جو کہ سر اسر ناانصافی اور ظلم ہے۔ ان کے علاوہ پاکستان کی نظریاتی اساسوں کی حفاظت کرنے والی شخصیت علامہ امین شہیدی جنہوں نے نہ صرف دہشتگردوں کے خلاف علم بغاوت بلندکیا بلکہ تمام مکاتب فکر کے علماءکرام میں اتحاد کے لیے عملی جدوجہد کےں جس کے سب قائل ہیں۔ انہوں نے ریاست کو نقصان پہنچانے والوں کو بے نقاب کرتے رہے اور اقبال و جناح کے پاکستان کو بچانے کی کوشش کرتے رہے مگر افسوس کہ آج ان کو بھی دہشتگردوں کے صف میں کھڑا کر کے ملی جذبات کو سخت ٹھیس پہنچایا گیا۔

 
آغا علی رضوی نے ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرامن اور دہشتگرد مخالف اہل سنت و اہل تشیع ایک طرف دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں تو دوسری طرف حکومتی نشانے پر۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت ظالم و مظلوم ، پرامن و فسادی، عالم و جاہل، محسن و غدار کو ایک نگاہ سے نہ دیکھیں۔ قومی ایکشن پلان کو اسکی روح کے ساتھ نافذ کرے، ایکشن پلان کی آڑ میں سیاسی انتقام لینے کا سلسلہ بن کیا جائے۔ دہشتگردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کیا جائے۔ کلعدم دہشتگردوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ پرامن محب وطن علمائے کرام کو شیڈول فورتھ سے نکالا جائے، پرامن علماءکرام، عوام اور دہشتگرد مخالف طبقے کو شیڈول فور سے نکالا جائے اور انہیں ملکی ترقی میں حصہ ڈالنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کے نام پر عوام کی زمینیں ہتھیانے کا سلسلہ بند کرے ورنہ سخت رد عمل دیا جائے گا۔ گلگت اسکردو روڈ کے نام پر عوام کے ساتھ مذاق بند کیا جائے۔ آئینی حقوق دینے کی بجائے مبصر کی حیثیت دے کر ٹرخانے کی کوشش نہ کرے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ حکومت مظالم کے خلاف گلگت بلتستان میں احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا اور حکومت کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوم الحسین پر پابندی عائد کرنا ناقابل برداشت ہے صوبائی حکومت اپنا قبلہ درست کرے اور مظالم کا سلسلہ بن کیا جائے۔

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے زیراہتمام علامہ شیخ محسن علی نجفی، علامہ امین شہیدی، حجت الاسلام شیخ مرزا علی، شیخ نیئر عباس مصطفوی، شیخ فدا حسین عابدی، علامہ مقصود علی ڈومکی، شیخ علی حیدر، شیخ محمد علی، الیاس صدیقی، سبطین شیرازی اور دیگر پرامن اور محب وطن پاکستانیوں کی زبان بندی، اکاونٹس منجمد کرنے، شہریت کی منسوخی، بلا جواز فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور دیگر مظالم و محرومیوں کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ یادگار شہداء اسکردو پر منعقد ہوا۔ جلسے میں گلگت، روندو، کھرمنگ اور شگر کے علماء نے شرکت کی۔ احتجاجی جلسے میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے اور حکومت کے مخالف شدید نعرہ بازی کی گئی، یہ عوامی اجتماع ملت تشیع کے خلاف جاری ریاستی جبرواستحصال کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوا،  اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم جی بی کے سربراہ آغا علی رضوی، ایم ڈبلیو ایم گلگت کے رہنماء شیخ علی حیدر، شیخ مبارک علی، آغا عباس موسوی، عبداللہ حیدری، سفیر عباس، شیخ حسن جوہری، ابراہیم اور شیخ احمد علی نوری نے خطاب کیا۔ ایم ڈبلیو ایم کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی جلسے میں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو گروپ، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دیگر جماعتوں کے رہنماوں نے شرکت کی۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف پاکستان آرمی کی جانب سے جاری آپریشن ضرب عضب کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ قومی سکیورٹی اداروں نے قومی ایکشن پلان کے ذریعے دہشتگردی کو روکنے کی کوشش کی، لیکن موجودہ حکومت کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں بھرپور سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے اور ریاستی سکیورٹی پلان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جو کہ حالیہ واقعات سے ثابت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز حکومت پاکستان کے لئے سکیورٹی رسک بن چکی ہے، اس حکومت نے ظالمانہ اقدامات کے ذریعے ملکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دہشتگرد جماعتوں کے ساتھ حکومتی شخصیات کے کھلے عام روابط اور ملاقات ایکشن پلان کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن پلان کا رخ پرامن علماء اور شہریوں کی طرف موڑا گیا، حکومت ملت کے تحفظات کو دور کرے۔ مقررین نے کہا کہ ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات جاری ہیں اور حکومتی سرد مہری لمحہ فکریہ ہے۔ کوئٹہ پولیس کالج پر حملہ ایکشن پلان پر سوالیہ نشان ہے۔ ملک بھر میں بالخصوص کراچی میں عزاداری کی مجالس پر تسلسل کے ساتھ حملے سکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں حکومت کا رویہ انتہائی جانبدارانہ اور متعصبانہ ہے۔ یوم الحسین اور پرامن علماء کرام پر پابندی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ گلگت اسکردو روڈ، آئینی حقوق، اکنامک کوریڈور سمیت دیگر مسائل میں بھی صوبائی حکومت اپنے آقاوں کی خوشنودی کی خاطر خطے کو مسائل اور محرومی میں دھکیل رہی ہے۔ حکومتی اپنی ظالمانہ پالیسی ترک کرکے ایسی پالیسی اپنائے، جس سے خطے میں امن و امان کی فضاء قائم ہو، بصورت دیگر احتجاجات کا نہ روکنے والا سلسلہ جاری رہے گا۔ احتجاجی جلسے کے آخر میں قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم الشان اجتماع پاکستان آرمی کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن کی حمایت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کو ملک گیر کیا جائے، دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن میں پاکستان آرمی کے شانہ بشانہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علامہ شیخ محسن علی نجفی، علامہ امین شہیدی سمیت دیگر سینکڑوں پرامن محب وطن پاکستانیوں کو فورتھ شیڈول سے نکالا جائے اور سیاسی و مذہبی انتقام کی بنیاد پر عائد بلاجواز پابندیاں ہٹائی جائیں۔ کراچی میں آئے روز عزاداری کی مجلسوں پر جاری دہشتگرد ی کے حملوں سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور دہشتگردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت کی خطہ دشمن پالیسیوں کی مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت اسکردو روڈ، بلتستان یونیورسٹی کی تعمیر یقینی بنائی جائے، آئینی حقوق کے نام پر عوام کے ساتھ مزید دھوکہ نہ کرے، اکنامک کوریڈور میں حصہ دیا جائے اور خالصہ سرکار کے نام پر عوام کی زمینوں کو ہتھیانے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ اجتماع میں اعلان کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں یوم الحسین ؑ پر حکومت کی جانب سے پابندی شرمناک عمل ہے، اس سے حکومتی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے، اس غیر قانونی پابندی کو ماننے کے لئے کسی صورت تیار نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کالعدم دہشتگردوں پر پابندی عائد کی جائے، بیلنس پالیسی کو ختم کیا جائے اور ملت کے پرامن محب وطن لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ احتجاجی جلسے میں کہا گیا کہ یہ نمائندہ اجتماع اعلان کرتا ہے کہ قومی ایکشن پلان پر جب تک ملت کے تحفظات دور نہ کئے جائیں احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کی کال پر ہزاروں افراد احتجاجی جلسے میں امڈ آئے۔ تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے شیخ محسن علی نجفی، علامہ امین شہیدی اور دیگر پرامن علمائے کرام کو شیڈول فور میں ڈالنے کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی۔ احتجاجی جلسے میں مجلس وحدت مسلمین کے کارکنان کے علاوہ دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں نے شرکت کی اور خطاب بھی کیا۔ یادگارشہداء اسکردو پر منعقدہ احتجاجی جلسے میں حکومت کے خلاف دن بھر شدید نعرہ بازی ہوئی اور صوبائی و وفاقی حکومت کے خلاف عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار بھی کیا۔ اسکردو سٹی کے تاجران نے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہڑتال بھی کی۔ ذرائع کے مطابق مجلس وحدت نے چند ہی روز پہلے اس جلسے کا فیصلہ کیا تھا اور ہنگامی حالت میں علامتی احتجاجی جلسے کی کال دی تھی لیکن مختصر کال پر عظیم الشان اجتماع نے صوبائی حکومت کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ہر دلعزیز عالم دین، مرد آہن، مرد میدان آغا علی رضوی نے حکومتی مظالم کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ امکان یہی ہے کہ شیخ محسن نجفی، علامہ امین شہیدی اور دیگر پرامن علمائے کرام کو گلگت بلتستان کے عوام میں بڑھتی تشویش کے سبب شیڈول فور سے خارج کر دیا جائے۔ اگر صوبائی حکومت نے ان احتجاجات کو مختلف حربوں کے ذریعے اور انتظامی چالوں کے ذریعے غیر موثر کرکے عوامی مطالبات کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی گئی تو شاید پورا بلتستان اپنے علمائے کرام کی اہانت پر حکومت کے خلاف نکل آئے اور حفیظ حکومت خطرے میں پڑ جائے۔ بلتستان کے عوام کی یہ خاصیت ہے کہ علماءکی توہین کسی صورت برداشت نہیں کرسکتی۔

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree