وحدت نیوز(سکردو) بلتستان انتظامیہ کی جانب سے ایک بار پھر عوامی اراضی پر زبردستی قبضہ جمانے کی کوشش آج ائیر پورٹ روڈ گمبہ اسکردو میں کی گئی۔ گمبہ اسکردو کے عوام عوامی حقوق کے پاسبان، جرائت و استقامت کا استعارہ آغا علی رضوی کی قیادت میں ڈٹ گئے۔ تفصیلات کے مطابق گمبہ تھانے کے ملحقہ عوامی زیرکاشت زمین پر ائیر سکیورٹی فورس نے اسکردو انتظامیہ کے اشارے پر قبضے کی کوشش کی۔ مقامی لوگوں کی مزاحمت پر ائیر سکیورٹی فورس کے جوان واپس چلے گئے، تاہم آغا علی رضوی اور گمبہ اسکردو کے جوانوں کا دھرنا اور عوامی اراضی کی پہرہ داری رات کے آخری پہر بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اسکردو انتظامی سربراہ ڈپٹی کمشنر اسکردو نے کل صبح دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔ کل صبح مذاکرات کامیاب نہ ہونے کی صورت میں ائیر پورٹ روڈ کی بندش سمیت بلتستان بھر میں احتجاج کی کال بھی دی جاسکتی ہے۔ اسلام ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین جی بی کے سربراہ آغا علی رضوی کا کہنا تھا ہے کہ لوکل انتظامیہ نے چھومک میدان کے تنازعے کے بعد معاہدے معاہدہ طے پانے کے باوجود دوبارہ خالصہ سرکار کے نام پر عوامی اراضی کو ہتھیانے کی کوشش لمحہ فکریہ ہے۔گلگت بلتستان میں ایک انچ زمین پر بھی کسی کو بغیر معاوضہ کے قبضے کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار ریاستی اداروں کی جانب سے خطے میں بے چینی پھیلانے کی کوشش سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی اراضی کو ہتھیانے کی کوشش آئینی اصلاحات کے نام پر عوام کیساتھ ہونے والے مذاق سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں ظلم ہو عوام کے ساتھ میدان میں حاضر رہیں گے۔

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس صوبائی سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی کی صدارت میں سکردو میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں خطے کے امن و امان اور دیگر صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آغا علی رضوی نے کہا کہ قاضی نثارکی جانب سے  اتحاد امت کے بیان کا پوری سچائی اور خلوص سے خیرمقدم کرتے ہیں یہ نعرہ ہمارا ہماری آرزو و ارمان اور خطے کے تابناک مستقل کی ضمانت ہے۔وحدت و اتحاد وقت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ دینی و اخلاقی فریضہ بھی ہے، ہم روز اول سے ہی اتحاد بین المسلمین کے داعی ہیں۔ سیرت نبویؐ، ارشادات  ائمہ کرام ؑ اور تعلیمات اسلامی کی اساس ہی وحدت و اخوت ہے۔ دنیائے اسلام میں سید جمال الدین افغانی کی اتحاد امت کے لیے کی جانے والی کوششوں کوآج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن مسلمانوں کی غفلت کے سبب ان کو کامیابی نہ ملنے کی وجہ سے  اسلام کا بڑا نقصان ہوا۔

 انہوں نے کہا کہ رہبر مسلمین جہاں امام خمینی حقیقی اتحاد امت کے داعی تھے انہوں نے آج سے دہائیوں قبل فرمایا تھا کہ اسلام کی کامیابی اتحاد امت میں پوشیدہ ہے۔ رہبر کبیر نے اسلام کے خلاف جاری سازشوں سے امت کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مسلمان ہاتھ کھولنے اور باندھنے کے جھگڑے میں مصروف ہیں جبکہ دشمن ہمارے ہاتھ کاٹنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم کے فرمودات کے مطابق اتحاد بین المسلمین کے داعی ہیں اور ہمارا دین مسلمانوں کے درمیان کسی بھی قسم کی نفرت اور تفرقے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہمارا مکتب مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلانے کو حرام سمجھتا ہے اور اس فعل کو گناہ کبیرہ قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت  بلتستان کے نامور اہلسنت عالم دین مولانا قاضی نثار کی جانب سے حالیہ دنوں میں دئیے گئے بیان کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور انہیں دل کی گہرائیوں سے یقین دلاتے ہیں کہ اسلام کی ترویج  اتحاد امت،خطے کی خوشحالی اور قیام امن کے لیے ہمیشہ کی طرح صف اول میں ہونگے اور انکے کندھے سے کندھا ملا کر اسلام اور ملک دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے فروعات میں مشترکات نوے فی صد ہے جبکہ اصول سو فی صد مشترک ہے۔ تمام مکاتب فکر کو باہم متحد ہو کر مشترکات پر جمع ہونا چاہیے اور اسلام دشمن طاقتون کو مل کرنہ صرف ناکام کرنا چاہیے بلکہ مسلمانوں کی صفو ں کے درمیان موجود فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر کو اپنی صفوں سے نکال باہر پھینکنا چاہیے۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ عالم اسلام میں فرقہ وایت کو ہوا دینے اور نفرتیں پھیلانے والوں کا کوئی مسلک نہیں ہے۔ بلتستان کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی پورے خطے اور پاکستان کے لیے نمونہ عمل ہے ۔ اس اخوت و بھائی چارگی کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ اتحاد و حدت کی راہ میں جہاں دیگر مکاتب فکر کے پیروکاروں کا پسینہ بہے گا وہاں ہمارا خون بہے گا۔ہم تمام مکاتب فکر کو اپنے وجود کا حصہ سمجھتے ہیں اور داریل سے کندوس تک کے عوام ایک ہی گلدستے کے پھول سمجھتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے سے نہ صرف پاکستان عالمی سطح پر ایک بھرپور معاشی طاقت بن کر ابھرا گا بلکہ اس کے ثمرات سے جی بی میں بھی معاشی استحکام آئے گااور اس اہم منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے ملک دشمن اور اسلام دشمن وقتیں متحرک ہیں اور افراتفری پھیلانا چاہتی ہیں۔ ایسے میں اسلام دشمن اور پاکستان دشمن قوتوں کو کچلنے اورمذہبی  و قومی ہم آہنگی کی فضاء کو تقویت دینے کے لیے ہم پوری قوت سے  میدان عمل میں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شیطان بزرگ امریکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے ہمسایہ ملک افغانستان کے سرحدوں علاقوں میں بھارت کے تعاون سے دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہے ہیں جس سے سی پیک کی شہ رگ گلگت بلتستا ن میں بھی خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ سکیورٹی اداروں اور عوام کو بیدار رہنے کی ضرورت ہے ۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سربراہ نے روندو میں جشن میلاد سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام علیؑ کی زندگی مینارہ نور اور ہدایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام علی ؑ کی زندگی ظالموں کی مخالفت اور مظلوموں کی حمایت میں گزری۔ انکی شہادت عدل کے قیام کے لیے جہدوجہد کا نتیجہ تھا ۔ مولا علی ؑ کی زندگی کا ہر پہلو انسانی نجات کا ضامن ہے۔آغا علی رضوی نے کہا کہ امام علی ؑ کی ولادت کا جشن منانے کا مقصد امام کی سیرت اور انکی زندگی کے اصولوں پر عمل کرنے کا عزم کرنا ہے۔ امام نے اپنی زندگی میں معاشرے کو ظالم و مظلوم میں تقسیم کر کے واضح کر دیا کہ اگر مظلوم غیر مسلم یا کافر بھی ہو تو اسکی حمایت میں جان کی بازی لگانی چاہیے اور ظالم چاہیے مسلمان ہی کیوں نہ ہو اس کی مخالفت سے باز نہیں آنا چاہیے۔

 آغا علی رضوی نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کو امام علی ؑ کے اس عظیم پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ حکومت کفر سے تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم سے نہیں۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ظلم اور جبر کے ذریعے عوامی حقوق چھین لیں گے یہ ان کی بھول ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت عوامی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کبھی گندم سبسڈی ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کبھی ٹیکس نافذ کیا جاتا ہے اور کبھی خالصہ سرکار کی آڑ میں عوامی اراضی چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہم کبھی بھی حکمرانوں کو ظلم کرنے نہیں دیں گے اور ظلم کی دیوار کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہو جائے گی چاہے کسی کو بھی ناگوار گزرے ۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ مظلوموں کو اس کا حق دینے کی تحریک شعور و آگاہی کے ساتھ شروع کی ہے اور اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں دینی پڑے گریز نہیں کریں گے۔

وحدت نیوز(سکردو) اسکردو گول میں یوم ولادت امام علیؑ کو منفرد انداز میں منایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جشن مولود کعبہ کے مسرت موقع پر گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کیک امام بارگاہ گول اسکردو میں کاٹا گیا۔ ذرائع کے مطابق ڈھائی سو پونڈ کے اس کیک کی لمبائی 16 فٹ اور چوڑائی 6 فٹ تھی۔ اس کیک کی تیاری کے لئے ماہرین کی ایک ٹیم اسکردو سے خصوصی طورپر بلائی گئی تھی۔ کیک کی تیاری پر ساٹھ ہزار روپے سے زائد کا خرچہ آیا۔ گلگت بلتستان کی تاریخ میں اس سے بڑا کیک کبھی تیار نہیں کیا گیا تھا۔ مہمانوں، شرکاء اور ارباب ذوق نے اس کاوش کو سراہا۔ بلتستان کے نامور عالم دین آغا علی رضوی کو اس پروگرام میں خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے نعروں اور صلوات کی گونج میں کیک کاٹا تو عجیب سماں بندھ گیا۔ یہ روح پرور مناظر دیکھنے کے لائق تھے۔ اس کیک کو سینکڑوں شرکاء محفل میں تقسیم کیے گئے۔ اس محفل میں حجت الاسلام سید محمد علی شاہ امام جمعہ و میر واعظ گول، نامور عالم دین حجت الاسلام شیخ اعجاز بہشتی، حجت الاسلام شیخ احمد نوری اور شیخ محمد ابراہیم ارشادی شریک تھے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نے اپنے بیان میں کہا کہ گلگت بلتستان میں زبردستی کا قانون نافذ ہونے ہرگز نہیں دیں گے۔ ایک خطے میں مختلف قوانین انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ گلگت اور بلتستان کے چند مقامات پر خالصہ کے نام پر زمینوں کو ہتھیانے کی

کوشش غیر قانونی عمل ہے۔ اگر حکومت کو ضرورت پڑتی ہے تو دیامر کی طرح  بلتستان اور گلگت کی زمینوں کا معاوضہ دیکر حاصل کرے اور یہ خالصہ سرکار والی اصطلاح کسی سرکاری افسر نے استعمال کی تو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ان کے خلاف غداری کا کیس دائر کریں گے۔کیونکہ خالصہ کے قانون کو تسلیم کرنا

انتہائی خطرناک عمل اور جنگ آزادی کو نہ تسلیم نہ کرنا اور اس خطے کو ڈوگرہ سے قبل سکھوں کی جاگیر تسلیم کرنے مانند ہے۔ اگر ریاستی ادارے کے افراد ایسے بیہودے نظریے کی پرچار کرے تو ملک دشمنوں کو کیا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے قبضے میں اسوقت سینکڑوں کنال اراضی پہلے سے موجود ہیں اگر

عوامی فلاحی امور کے لیے سنجیدہ ہیں تو ان اراضی کو استعمال میں لائیں اسکے علاوہ آئین پاکستان پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں رائج معاوضہ مقامی لوگوں کو دیکر زمین حاصل کرے۔ ریاستی طاقت کے زور پر عوامی اراضی پر قبضہ خطے میں بے چینی پھیلانے کی کوشش ہے جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ بلتستان کے انتظامی سربراہ کو شاید معلوم نہیں کہ گلگت بلتستان کو ہمارے آباو اجداد نے خون بہا کر ڈوگروں سے آزاد کرایا ہے ۔ یہ خطہ خیرات میں حاصل نہیں کیا کہ جس کے من میں آئے بانٹا پھرے۔ چھومک داس میں عوام نے رضاکارانہ طور پر  بلتستان یونیورسٹی کے لیے زمین بغیر معاوضہ دی ہے تو

انتظامیہ کو عوام کا احسان مند ہونا چاہیے نہ کہ بقیہ اراضی پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرے۔ انتظامی سربراہ عوام کا خادم ہے نہ کہ شہنشاہ ۔ انتظامی سربراہان کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اس خطے کو یہاں کے عوام نے پاکستان کے ساتھ بلامشروط الحاق کیا ہے اور اب بھی اس کی حیثیت متنازعہ ہے۔ متنا زعہ گلگت

بلتستان کی زمینوں پر قبضہ نہ صرف غیر قانونی عمل ہے بلکہ غیر شرعی بھی ہے۔ آئین پاکستان کی رو سے متنازعہ خطے میں اگر حکومت کو اراضی کی ضرورت پڑتی ہے تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق معاوضہ دینا چاہیے جبکہ ہم مطالبہ کر رہے کہ پاکستان میں رائج معاوضہ دے کر حاصل کرے۔ جس طرح گلگت بلتستان

کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کی اتھارٹی قانون ساز اسمبلی کے پاس نہیں بلکہ اس طرح یہاں کی زمینوں پر قبضے کے لیے لینڈ ریفارمز کے نام پر بنانے والے قوانیں بھی غیر قانونی ہے۔

 آغا علی رضوی نے کہا گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں جاری امتیازی سلوک اورعوام دشمن پالیسیوں کے خلاف پاکستان آرمی کے سربراہ کے نام کھلا خط لکھوں گا۔ اس خط میں حکومتوں اور انتظامیہ کی جی بی پر جاری مظالم کو بے نقاب کریں گے۔ آرمی چیف سے توقع رکھتے ہیں کہ دفاعی اہمیت کے حامل اس حساس

خطے مستقبل کو روشن اور مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے اور انتظامیہ کی لاقانونیت کے خلاف نوٹس لیں گے۔

وحدت نیوز (گلگت) مجلس وحدت مسلمین نے اتحاد بین المومنین کی خاطر ایک مرتبہ پھر ایک بڑی قربانی دے دی ، گلگت حلقہ نگر 4کے ضمنی انتخاب میں مجلس وحدت مسلمین کے نامزد امیدوار ڈاکٹرعلی محمد اسلامی تحریک پاکستان کے نامزد امیدوار شیخ محمد باقر کے حق میں دستبردار، تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل علامہ سید علی رضوی نے اسلامی تحریک(شیعہ علماءکونسل) کی دعوت پر شیخ ہائوس میں پر یس کانفرنس کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے امیدوار برائے حلقہ نگر 4ڈاکٹر علی محمد کی اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار شیخ محمد باقر کے حق میں دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد علی نوری ، ڈاکٹرعلی گوہر، الیاس صدیقی ودیگر سمیت اسلامی تحریک پاکستان کے صوبائی رہنما علامہ شیخ مرزاعلی ، دیدار علی اور دیگر رہنما موجود تھے ۔

علامہ سید علی رضوی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ خطہ گلگت بلتستان کے عوام کو ہر ادوار میں اقتدار پر براجمان حکمرانوں نے مختلف حیلے بہانوں اور جھوٹے نعروں کے ذریعے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا ہے ۔عوامی حقوق کے حصول کیلئے جب بھی کوئی موثر آواز اٹھائی گئی اسے دبانے کی بھرپور کوشش کی گئی اور اپنے من پسند افراد کو اقتدار تک پہنچانے کیلئے ہر حربہ آزمایا گیا۔سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے اپنے ایجنڈے اور منشور کو لیکر عوامی عدالت میں پیش ہوتے آئے ہیں اور گزشتہ جنرل الیکشن 2015 میں مسلم لیگ نواز کو بھاری مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار تک پہنچایا گیا۔بہت سارے اسباب و علل کے علاوہ مسلم لیگ نواز کی جیت میں ایک اہم سبب مذہبی جماعتوں کی آپس میں چپقلش کو قرار دیا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے بد ترین شکست سے دوچار ہوئی لیکن ان کے رہنمائوں نے مسلم لیگ نواز کی جیت کا ملبہ مذہبی جماعتوں کے سرتھونپ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الحمد للہ ملی خواہشات کے مطابق آج ملت تشیع کی دو نمائندہ جماعتیں قومی و ملی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کے عزم کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیںجو کہ ملت تشیع کیلئے ایک خوشخبری ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف حلقہ 4 نگر کے انتخابات کے حوالے سے ہے بلکہ تمام ملی مسائل کے حل کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنے عنوان سے ہے۔انشاء اللہ اس اتحاد کے ذریعے ملت تشیع کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائیگا۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں نے اپنے دور حکومت میں محض جھوٹ بولنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت کا جائزہ لیں تو ان کے دور حکومت میں لاشوں کے تحفے دیئے گئے،شاہراہ قراقرم پر درجنوں افراد کو شناخت کرکے قتل کردئیے گئے اور ستم ظریفی یہ کہ ان بزدل حکمرانوں نے کسی ایک واقعہ میں ملوچ قاتلوں کو گرفتار تک نہیں کیا بلکہ تشیع کو ہی مظالم کا نشانہ بناتے ہوئے شہداء کے لاشوں پر رونے کے جرم میں شیعہ اکابرین کو 16 ایم پی او کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا اور ملت تشیع کے وہ ادارے جو کہ پاکستان بننے سے اب تک سماجی کاموں میں مصروف تھے ان پر پابندیاں لگادی گئیں ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہگلگت بلتستان کے دیرینہ مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ سکردو روڈ ہے جو کہ تاحال وفاقی حکمران جماعتوں کی سیاست کی نذر ہے ۔سکردو کے عوام اور مسافر اس خونی سڑک پر سینکڑوں جانیں گنوانے کے باوجود عرصہ دراز سے ان پارٹیوں کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ستم بالائے ستم سابق حکمران جماعت پیپلز پاڑی کا سی ایم سکردو سے تعلق ہونے اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود سکردو کے عوام کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیااور اس دفعہ وفاقی بجٹ میں سکردو روڈ کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ بالآخر شیخ محمد حسن جعفری امام جمعہ والجماعت نے بلتستان ریجن کے ممبران اسمبلی سے اجتماعی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے جس کی ہم بھرپور تائید کرتے ہیں۔

آغا علی رضوی نےمذید کہاکہ  مجلس وحدت مسلمین پاکستان اور اسلامی تحریک پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کی حمایت کی تھی لیکن ساتھ ساتھ اس خدشے کا اظہار بھی کیاتھا کہ سیاسی بنیادوں پر اس قانون کا استعمال کرکے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا جائیگا اور آج وقت نے ہمارے خدشات کو ثابت کیا اور معروف علمائے کرام اور ملت کے اکابرین کو آج  دہشت گردوں کی صف میں کھڑا کیا گیا ہے جو کہ اس ملت کے ساتھ انتہائی مذاق ہے۔مجلس وحد ت مسلمین کے رہنما اور امام جمعہ والجماعت نومل اس وقت جیل میں ہیں اور دیگر علمائے کرام شیخ مرزا علی امام جمعہ والجماعت دنیور، شیخ شبیر حکیمی، عابد حسین و دیگر کو شیڈول فور میں رکھنا اس پرامن ملت کیساتھ انتہائی ظلم ہے جس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ہماراحکمرانوں سے سوال ہے کہ کالعدم جماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی کو ضلع دیامر میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرنے کی اجازت کس نے دی جبکہ اسی لدھیانوی پر گلگت سٹی تھانے میں ایف آئی آر نمبر  29/15درج ہے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے اس کے باوجود صوبائی حکومت نے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے لدھیانوی کو ضلع دیامر کے حدود میں جلسہ کرنے کی اجازت دیکر نیشنل ایکشن پلان کی روح کو تڑپادیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شیعہ نشین علاقوں میں زمینوں کو حکومتی تحویل میں دیا گیا اور آج وہی لوگ عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے حق ملکیت کے نعرے لگارہے ہیں ۔اگر یہ لوگ واقعی اپنے ان نعروں میں سچے ہیں تو سینٹ میں پیپلز پارتی کی اکثریت ہے وہاں پر بل کیوں پیش نہیں کیا جاتا ۔اپنے دور اقتدار میں یوسف رضا گیلانی کے چلاس دورے کے موقع پر چلاس کے عوام کو مالکانہ حقوق دلوادیئے اور یہی آرڈر گلگت بلتستان بھر کے لئے کیوں نہیں کیا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کو جب بھی پذیرائی ملی ہے گلگت اور بلتستان ریجن سے ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا آئینی حقوق کا مسئلہ تاحال تعطل کا شکار ہے ائور یہ جماعتیں جب اقتدار میں ہوتی ہیں تو ان کو یاد نہیں رہتا  اور جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو پھر نعرے لگانا شروع کردیتے ہیں۔سی پیک گلگت بلتستان کا معاشی موت اور زندگی کا مسئلہ ہے اگر ہم مصلحت پسندی کا مظاہرہ کریں اوراس اہم منصوبے کے ثمرات اور سی پیک میں گلگت بلتستان کا حصہ حاصل نہ کرسکے تو آنے والی نسلیں ہمیں ہرگز معاف نہیں کرینگی۔حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان سی کے گیٹ وے پر ہونے کے باوجود اب تک کوئی بھی پراجیکٹ شامل نہیں ۔ہم صوبائی حکومت کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ اقتدار کے نشے میں سی پیک میں گلگت بلتستان کے مفادات کا سودا کیا تو تاریخ میں غدار قرار پائینگے اور حکومت پاکستا ن کو بھی بتادینا چاہتے ہیں کہ سی پیک میں کسی صورت گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دینگے ۔ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ پاکستان کے وفادر رہے ہیں اور مشکل گھڑی میں یہاں کے بہادر جوانوں نے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں۔دیامر بھاشا ڈیم ، بونجی ڈیم جو کہ پاکستان میں انرجی کرائسس کے حل کا ضامن منصوبے ہیں ۔دیامر بھاشا ڈیم میں ضلع دیامر کی پوری آبادی لپیٹ میں آنے کے باوجود علاقے کے عوام پاکستان کیلئے قربانی دے رہے ہیں جبکہ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کی ترقی کا ضامن منصوبہ ہے لیکن اس کے باوجود دیگر صوبوں کے پریشر میں آکر حکومتیں اس منصوبے کی تعمیر پر تیار نہیں۔حکومت کو چاہئے کہ گلگت بلتستان کے خلوص اور شرافت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔

ا ن کاکہنا تھا کہ ہمیں تعجب ہے کہ پیپلز پارٹی نگر کو اپنا گڑھ کیسے سمجھ رہی ہے اور نگر کے غیور عوام ان کو کیوں ووٹ دیں ۔کیا اس لئے ووٹ دیں کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں تاریخی کرپشن کی ہے اور ملازمتوں کو بیچا اور کیا اس لئے ووٹ دیں کہ محکمہ ایجوکیشن میں 500 سے زائد لوگ تین تین لاکھ روپے دیکراب بھی نوکری سے محروم ہیں۔کیا اس لئے ووٹ دیں کہ نگر کے ہر ایک گائوں میں ایک شہید آیا اور آج بھی ان کے قاتل نہ صرف گرفتار نہیں بلکہ ان قاتلوں کے ساتھ جنرل الیکشن میں ساز باز کی گئی۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ حلقہ 4 نگر میں دونوں مجلس وحدت مسلمین اور اسلامی تحریک پاکستان سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا اعلان کرتے ہیں اور محمد باقر تحریک اسلامی اور وحدت مسلمین کا مشترکہ امیدوار ہوگا اور عوام سے اپیل ہے کہ بھاری اکثریت سے ووٹ دیکر محمد باقر کو کامیاب کریں۔مجلس وحدت مسلمین کے کارکنوں سے اپیل ہے کہ وہ صف اول کا کردار ادا کرکے ملی بیداری کا ثبوت دیں ۔انشاء اللہ حلقہ 4 نگر میں ہونے والی اس اتحاد کے ثمرات نہ صرف گلگت بلتستان ہونگے بلکہ پورے پاکستان میں اس اتحاد کے دور رس نتائج حاصل ہونگے۔

واضح رہے کہ حلقہ نگر 4 میں آئندہ چند روز میں منعقدہ ضمنی انتخاب میں سیاسی جوڑ توڑ نے اس وقت دم توڑ دیا جب مجلس وحدت مسلمین نے قومی وملی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے امیدوار کو اسلامی تحریک کے امیدوار کے حق میں دستبردار کروانے کا اعلان کیا ، اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سابق چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری ودیگر قائدین نے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سےملاقات میں نگر الیکشن میںاسلامی تحریک کے مقابل سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی آفر دی تھی اور ساتھ ہی پرکشش مراعات سمیت آئندہ قومی انتخابات میں ملک بھر میں سیاسی اتحاد کا عندیہ بھی دیا تھا ، جبکہ اسلامی تحریک پاکستان (شیعہ علماءکونسل )کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر علامہ عارف حسین واحدی نے بھی علامہ راجہ ناصرعباس جعفری سےگذشتہ ہفتے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات میں ایم ڈبلیوایم کے امیدوارکی اسلامی تحریک کے حق میں دستبرداری کی اپیل کی تھی جس پر علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مقامی تنظیمی عہدیداران کو اعتماد میں لینے کاوقت مانگا جبکہ دو رو ز قبل اسلامی تحریک کا صوبائی سطح کا وفد سابق وزیر پانی وبجلی دیدار علی کی سربراہی میں وحدت ہائوس گلگت تشریف لایا اور ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ آغاسید علی رضوی سے ملاقات میں باضابطہ طور پر نگر انتخاب میں اپنے امیدوار کی حمایت کی اپیل کی اور بعد ازاں پی پی پی کی تمام تر آفرزکو ٹھکراتے ہوئے ایم ڈبلیوایم نے اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کردیا ، یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ایم ڈبلیوایم اور اس کی مرکزی قیادت جہاں وطن عزیز میں اتحاد بین المسلمین کے لئے ہمہ وقت کوشاں نظر آتی ہے اتحاد بین المومنین کیلئے بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ، اس سے قبل سولجر بازار کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھی ایم ڈبلیوایم نے اپنے دو نامزد اور ایک آزاد امیدوار کو اسلامی تحریک کے نامزد امیدوار علی رضا لالجی کے حق میں دستبردار کروائے تھے۔

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree