وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے افغانستان اور سعودی عرب میں شیعہ نسل کشی کے دل دھلادینے والے سانحات پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش اور العوامیہ میں سعودی افواج کے ہاتھوں شیعہ نسل کشی پر عالمی قوتوں کی خاموشی قابل مذمت ہے،افغانستان کے علاقے میرزا اولنگ میں داعشیوں کے ہاتھوں شیعہ ہزارہ شہریوں کا بہیمانہ قتل عام انسانیت کی تذلیل ہے، نہتے شیعہ شہریوں کو گولیوں سے بھونا گیا، انہیں دروں سے نیچے پھینکا گیا ان کی خواتین کو اغواء کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ افغانستان اور سعودیہ میں جاری انسانیت سوز مظالم نا قابل بیان ہیں ، کیایہ سب ظالمانہ اقدامات عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی نہیں، افغانستان میں جاری شیعہ نسل کے اصل ذمہ دار وہاں کی حکومت، انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور دہشت گردی کے نام نہاد مخالف امریکہ اور اس کے حواری ہیں۔ میرزا اولنگ کے والی نے مرکزی حکومت کو پیشگی آگاہ کیا تھا کہ یہاں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہ پنپ رہے ہیں فوری اقدامات کیئے جائیں لیکن کابل حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی اور ایک انسانی المیئے نےجنم لیا ۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے العوامیہ میں آل سعود کی جارح افواج کے ہاتھوں بے گناہ شیعہ شہریوں کے قتل اورمساجد وامام بارگاہوں کی توہین کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور انہوں نے کہا کہ آل سعود مظلوم عوام کا کشت وخون کرکےقہر الہیٰ کو دعوت دے رہے ہیں ، انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی جانب سے افغانستان ، سعودیہ، یمن، بحرین ، کشمیر اور دیگر علاقوں میں انسانیت سوز مظالم پر مجرمانہ خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان تمام ملکوں کے مظلوم عوام کے ساتھ ہیں اور ان پر ہونے والے مظالم کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔وہ وقت دو رنہیں کے جب ان بے گناہ شہداءکو پاکیزہ لہو رنگ لائے گا اور آل سعود کے ناپاک اقتدار کے زوال کا باعث بنے گا اور یہ ظالم خدا کے قہر اور انتقام کا شکار ہوں گے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کی ایماء پر قطیف اور العوامیہ کے شہریوں پر ظلم وستم انتہائی قابل مذمت ہے۔  آل سعود کے اس وحشیانہ اقدام پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی ان کے دہرے معیار کی عکاسی کرتی ہے۔ سعودی عرب میں العوامیہ کے شہریوں کا قتل عام دراصل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اسی بیان کا تسلسل ہے جس میں وہ امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لئے زمینہ سازی کرنے والوں سے جنگ کا اعلان کر چکا ہے۔ آل سعود اس وقت دراصل آل یہود کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں کیونکہ امام مہدی کے ظہورسے دراصل آل یہود اور ان کے بہی خواہوں کو ہی خطرہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے بھی اس بربریت پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں کیونکہ یہ ممالک بھی وہیں بولتے ہیں یہاں ان کا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ ظلم پر خاموش رہنا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ممالک کا یہ طرز عمل قابل مذمت اور انسانیت دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار سید ناصر عباس شیرازی نے اللؤلؤة ٹی وی کی اردو سروس کے لئے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ ناصر شیرازی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے حکمرانوں کی اپنے سیاسی یا نظریاتی اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف سیاسی انتقامی اقدامات اور متعصبانہ پالیسیاں طویل عرصہ سے جاری ہیںاورایک عرصہ سے ظالم سفاک سعودی اہلکاروں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہو ئے ہیں۔ کبھی گرفتاریاں اور پھانسیاں تو کبھی ان کے گھروں کو تباہ اور ان کا قتل عام کر کے دل کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ماہ سے سعودی عرب کے مشرقی صوبہ قطیف میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف سعودی حکمرانوں کا معاندانہ اور بہیمانہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا جرم فقط یہ ہے کہ اس علاقے کے عوام، سیاسی، سماجی اور مذہبی ناانصافیوں کے خاتمے اور بنیادی حقوق دیئے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اسی مذہبی تعصب اورسیاسی انتقام کی بد ترین نشانہ شیعہ اکثریتی علاقہ العوامیہ کے مکین بھی ہے جو مسلسل ایک عرصہ سے سیکورٹی فورسز کے محاصرے اور ظلم و ستم کا شکار ہیں ۔  سعودی حکمرانوں سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف کے بنا پر سعودی عدالتی قتل کے ذریعے سزائے موت پانے والے شہید نمر باقر النمر کا تعلق  بھی اسی علاقہ سے تھا۔ مشرقی عربستان کا شیعہ اکثریتی علاقہ تیل کے ذخائر سے مالامال ہے۔ سنہ2011کے اوائل سے العوامیہ کے مکین آل سعود کے مظالم کے خلاف پر امن احتجاج کر رہے ہیں جنہیں سعودی حکام طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آل سعود حکمرانوں کی ہدایت پرایک مہینے سے بھی زائد عرصے سے شیعہ اکثریتی علاقہ العوامیہ فورسز کی فائرنگ کی زد میں  ہے۔ آل سعود کی فورسزعالمی طور پر ممنوعہ ہتھیار کا استعمال بھی کر رہی ہے۔ ناصر شیرازی نے کہا کہ العوامیہ کے مکینوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے پر امن سیاسی جدوجہد کرتے ہیں۔ گزشتہ ماہ سے سعودی سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ میں ریکارڈ پر آنے والی اب تک شہادتوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے۔ فائرنگ سے بچنے کی کوشش کرنے والے مکینوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہوتے وقت بھی فائرنگ کا مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قطیف کے نہتے شہریوں کو سورش زدہ علاقہ سے نکالنے میں مدد کرتے والے کئی افراد سعودی فوجیوں کی گولی کا نشانہ بن کر شہید ہو گئے۔ سعودی حکام نے العوامیہ کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔اب تک العوامیہ کے سینکڑوں باشندے آس پاس کے علاقوں میں پناہ لے چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آل سعود حکمران عوام کے جائز مطالبات پورے کرنے کے بجائے انہیں طاقت اور تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ درجنوں افراد کو بے بنیاد الزامات کے تحت سعودی حکومت پھانسی کے نام پر قتل کر چکی ہے۔ سعودی عرب میں 2017 کے آغاز سے کم از کم 66 افراد کو بے بنیاد الزامات کے تحت سزائے موت کے نام پر قتل کر چکی ہے جن میں گزشتہ تین ہفتوں میں موت کی سزا پانے والے 26 افراد بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں سعودی حکومتی الزامات کے تحت عدالت نے 6 دسمبر، 2016 کے فیصلے میں14 افراد کو موت کی سزا سناتے ہوئے انہیں غداری کا مجرم ٹہرایا تھا۔ ناصر شیرازی نے  کہا کہ ان افراد کو جن اقدامات مین سزا سنائی گئی وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق جرم قرار نہیں پاتے جن میں اپنے حقوق کے لئے پر امن احتجاج اور اپنے عیقدے کی ترویج شامل ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے اپنے مخالفین سے طاقت کے بے تحاشا استعمال کے ذریعے اعترافی بیان لئے جاتے ہیں اور ان بیانات کی بنا پر ان کو سزائے موت سنا دی جاتی ہے گئی جو کہ انصاف کے عالمی مسلمہ اصولوں کے بھی منافی ہے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے یوم انہدام جنت البقیع کے موقعہ پر میڈیا سیل سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اہل بیت اطہار علیہم السلام ،امہات المومنین اور صحابہ کرامؓ کی قبروں کی مسماری آل سعود کا وہ قبیح فعل ہے جس پر امت مسلمہ انہیں کبھی معاف نہیں کر ے گی۔جنت البقیع جنت معلیٰ کو بلڈوز کر کے سعودی عرب نے مشاہیر اسلام سے اپنی لاتعلقی کا اظہار1925 میں ہی کر دیا تھا۔ آج اسلام کے نام پر دنیا کا امن تباہ کرنے والی عالمی دہشت گرد تنظیم داعش اسی ایجنڈے کی پیروکار ہے۔شام اور عراق میں صحابہ کرام کی قبروں کو کھود کر اجساد مقدسہ کی توہین کرنے والوں کا یہ عمل آل سعود اور داعش کے تعلق کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یوم انہدام جنت البقیع پر عالم اسلام کو آل سعود کی جارحیت کے خلاف مشترکہ طور پر آواز بلند کرنی چاہیے۔یہود و نصاریٰ اپنے آلہ کاروں کے ذریعے مسلمانوں کے مقدسات کو نشانہ بنا کران ایمان کو جانچتے ہیں۔اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خاکوں کی اشاعت اور قرآن کریم جلائے جانے کے واقعات کا حوصلہ عالم اسلام کی کمزوری کے باعث ممکن ہوا ہے۔دنیا کی باطل قوتیں اسلام کے خلاف تیزی سے سر اٹھا رہی ہیں۔جومسلم ممالک یہود ونصاری سے دوستی کا دم بھرتے ہیں اور مسلم ممالک کے خلاف نفرت کے اظہار میں پیش پیش ہیں وہ امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی سازشوں کے مکمل شریک کار ہیں۔علامہ ناصر عباس جعفری نے مطالبہ کیا کہ جنت البقیع میں مسمار کی گئی تمام قبروں کی ان کی اصلی حالت میں لایا جائے۔دنیا بھرکے مسلم ممالک کی طرف سے جنت البقیع کی تعمیر کے لیے باقاعدہ تحریک شروع کی جائے اور اہل بیت اطہار علیہم السلام ،ازواج رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی قبروں کی فوری تعمیر کے لیے سعودی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے ۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ انہدام جنت البقیع پورے عالم اسلام کے منہ پر طمانچہ ہے، جنت البقیع کو تباہ کرنے والے ہی عالم اسلام کو تقسیم کرنیکی سازشوں میں مصروف ہیں اور یہی عناصر ظہور امام مہدی کے بھی دشمن ہیں، اہل بیت اطہار (ع)، ازواج مطہرات و اصحاب رسول (رض) کے مقدس مزارات کی تعمیر نو عالم اسلام کی مشترکہ ذمہ داری ہے، انہدام جنت البقیع جیسی دہشت گردی کے مرتکب آل سعود حرمین شریفین کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنانا چاہتے ہیں، پاکستان سمیت تمام عالم اسلام شعائر اللہ جنت البقیع کی تعمیر نو کے حوالے سے عالمی سطح پر عملی اقدامات کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دستہ امام حسن (ع) کے زیر اہتمام مسجد و امام بارگاہ شہدائے کربلا انچولی کراچی میں آٹھ شوال یوم انہدام جنت البقیع کی مناسبت سے منعقدہ مرکزی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کیا، بعد از مجلس جلوس عزا برآمد ہوا، جس نے شاہراہ پاکستان پر انہدام جنت البقیع کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اہل بیت اطہار (ع)، ازواج مطہرات و اصحاب رسول (رض) سمیت بزرگان دین کے مقدس مزارات کا تحفظ مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جو لوگ دین اسلام کا نام استعمال کرکے یہ مکروہ فعل انجام دے رہے ہیں، وہ عناصر اللہ کی رحمت سے دور اور دنیا کی لعنت کے مستحق ہیں، ان کا مقصد ملت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہدام جنت البقیع کے ذمہ دار برطانوی پیداوار آل سعود حضرت امام مہدی (عج) کے دشمن اور انکے ظہور میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے آل سعود عالم اسلام کو تقسیم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، جنہیں شیعہ سنی مسلمان اتحاد بین مسلمین کے ذریعے ناکام بناتے چلے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اہل بیت اطہار (ع)، ازواج مطہرات و اصحاب رسول (رض) سمیت بزرگان دین کے مقدس مزارات کی تعمیر نو تمام عالم اسلام پر فرض ہے، جنت البقیع عالم اسلام کا مشترکہ سرمایہ ہے، عالم اسلام کو جنت البقیع کی تعمیر کیلئے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کرنا ہونگے، مٹھی بھر آل سعود کی جانب سے جنت البقیع کا انہدام پورے عالم اسلام کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہدام جنت البقیع کے ذمہ دار آل سعود کا اقتدار اپنے آخری دن گن رہا ہے، جس سے نظریں ہٹانے کیلئے انہدام جنت البقیع جیسی دہشت گردی کے مرتکب آل سعود مدینہ منورہ و مکہ مکرمہ میں حرمین شریفین کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں، لیکن عالم اسلام کے غیور شیعہ سنی عوام آل سعود کو تاریخ دھرانے نہیں دیں گے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سمیت تمام عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ شعائر اللہ جنت البقیع کی تعمیر نو کے حوالے سے عالمی سطح پر آواز بلند کرے اور عملی اقدامات اٹھائے۔

وحدت نیوز(ڈی جی خان) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری تنظیم سازی سید عدیل عباس زیدی نے کہا ہے کہ آل سعود اپنی سازشوں کے پے در پے ناکامیوں کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں، پاکستان کے غیور شیعہ، سنی عوام کسی صورت پاکستان کو امام زمانہ (ع) کے دشمن سفیانی لشکر میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ غازی خان کی تحصیل کوٹ چھٹہ میں خیر العمل فاونڈیشن کی جانب سے دی جانے والے افطار ڈنر کے موقع پر علاقہ عوام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم ضلع ڈی جی خان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید انعام حیدر زیدی بھی موجود تھے۔

 عدیل عباس زیدی کا کہنا تھا کہ یہ اعزاز مجلس وحدت مسلمین کو حاصل ہوا ہے کہ اس کی اعلیٰ قیادت نے جنرل راحیل شریف کے سعودی فوجی اتحاد میں شامل ہونے کی مخالفت کی اور آج تمام ملکی سنجیدہ حلقہ یہ ماننے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ پاکستان کو کسی طور پر بھی سعودی اتحاد کا حصہ نہیں بننا چاہئے، آج صورتحال یہ پیدا ہوچکی ہے کہ راحیل شریف واپسی کا محفوظ راستہ ڈھونڈنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کو پنجاب حکومت نے یکسر نظرانداز کیا ہے، ڈیرہ غازی خان کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں لوگوں کو پینے کا میٹھا پانی بھی دستیاب نہیں جبکہ حکمران غیر ضروری پراجیکٹس پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔

دورہ ٹرمپ اور آل سعود

وحدت نیوز(آرٹیکل) حال ہی میں ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب اور وہاں موجود پچاس اسلامی ممالک کے سربراہان کوٹرمپ کے، " اسلام" کے موضع پر لیکچر نے خادم الحرمین شریفین کے نظریے اور حیثیت کو مسلمانوں کے سامنے واضح کردیا ہے۔اب مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ خادم الحرمین اور دفاع حرمین کے نعرے بلند کرنے والوں نے سب سے پہلے حرم کی تقدس اور تعلیمات اسلام کے خلاف قدم اٹھایا ہے اور پاکستانی عوام کے جذبات کو الگ مجروح کیا۔ آل سعود نے ایک ایسے شخص کو دعوت دی جو اسلام دشمنی میں اپنی مثال آپ ہے پھر وہ ایک ایسے ملک کا صدر ہے جس نے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کی بنیاد پر افغانستان اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ امریکہ ہی وہ واحد ملک ہے جس نے سب سے زیادہ اسرائیل کے ناجائز وجود کا دفاع کیا اور قبلہ اول "بیت المقدس" کی بے حرمتی اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگین کیا،۔اس کے علاوہ تقریبا تمام عالمی دہشت گردوں کی بیک بون بھی امریکن سی آئی اے ہے۔ ٹرمپ وہ صدر ہے جس نے آتے ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور اقدامات کیے ۔ مزید یہ کہ سر زمین حجاز میں جہاں خواتین کو پردے کے ساتھ گاڑی تک چلانے پر پابندی ہے وہاں ٹرمپ کی بیوی اور بیٹی بے حجاب تشریف لاتی ہیں اور خادم الحرمین اپنے تمام اکابرین کے ہمراہ ان کے اسقبال کرتے ہیں اور ان کے ساتھ رقص کی محفلیں سجاتے ہیں۔ سب سے اہم نقطہ یمن جنگ کے بعد سے اسلامی اتحادی افواج یا اسلامی نیٹو یا آل سعود کے بلیک واٹر کی حقیقت کھل کر سامنے آچکی ہیں اور مال دنیا کی خاطر ذلت برداشت کرنے والے سربراہان کے چہرے بھی بے نقاب ہوچکے ہیں۔آخری اہم نقطہ یہ کہ ہم پاکستانیوں کے لئے شرم کی بات ہے کہ ہمارے وزیر اعظم کو اس پوری کہانی میں کوئی کردار ہی نہیں دیا گیا اور جس شخص پر پورا پاکستان فخر کرتا تھا یعنی ہمارے جنرل ریال صاحب، معزرت کے ساتھ جنرل راحیل شریف صاحب کی حیثیت کا بھی بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ جنرل صاحب کو کس اسلامی اتحادی افوج کا سربراہ بنایا تھا وہ راز بھی عوام کے سامنے آشکار ہوگیا ہے۔

حجازوہ سر زمین ہے جہاں جہالت کی تاریکی میں سے نور اسلام روشن ہوا تھا، آج ایک دفعہ پھر اس سر زمین سے لشکر دجال بنانے کی خبریں آرہی ہیں، جہاں پہلے قتل و غارت اور لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں تھا وہاں حضرت محمد ؐ نے افکار اسلام سے سب کو بھائی بھائی بنا دیا تھا، آج اس مقدس زمین پر پھر سے بھائی کو بھائی سے لڑوانے کی تیاری ہو رہی ہے اورآل سعود، آل یہود کے دلوں کی آرزوں کو پورا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

آخر آل سعود ایسا کیوں نہ کریں ؟ آل سعود امریکہ ، برطانیہ اور اسرائیل کا کہنا کیوں نہ مانیں ؟ ان کی حکومت کی بنیاد ہی ان تینوں کے سہارے قائم ہے ۔جس نے آل سعود کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہو وہ ان ساری باتوں سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ ستمبر1969 میں سعودیہ کے بادشاہ فیصل نے واشنگٹن پوسٹ کو ایک انٹر ویو دیتے ہوئے کہا تھاکہ" ہم سعودی خاندان یہودیوں کے کزنز ہیں"اور اس بات کا ثبوت آج ہم سعودیہ کے بادشاہ سلمان اور محمد بن سلمان کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلوقات کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔آل سعود نے ہمیشہ عالمی طاقتوں کے سہارے حکومت کی ہے کیونکہ انہوں نے ظلم و جبر سے حکومت حاصل کی ہے اور اس ظالمانانہ حکومت کو قائم رکھنے کے لئے اسلام دشمنوں کا سہارا لینا ضروری ہے ۔لہذا سعودی حکومت کو برطانیہ کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم کرنے کا پہلا معاہدہ26 دسمبر1915 میں طے پایا تھا جس کے بدلے میں اُس وقت سعودیہ اور برطانیہ کے مابین200 معاہدات طے پائے جن کی لاگت17.5 بلین ڈالر تھی اور تیس ہزار برطانوی شہری سعودی عرب میں تجارتی اور دوسرے زرائع میں کام کرنے کا معاہدہ بھی شامل تھا۔سعودی حکومت اور برطانوی غلامی کے انداز کو جعفر البکی اپنے ایک کالم میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ:"سلطنت بر طانیہ کے دور میں سلطان نجد عبدالعزیز السعود عراق میں موجود برطانوی ہاکمشنر پرسی کاکس کے سامنے اس طرح عزت و احترام سے اپنے سر کو جھکا دیتے ہیں اورانتہائی عاجزی سے کہتے ہیں کہ آپ کا احترام میرے لئے میرے ماں باپ کی طرح ہے، میں آپ کے احسان کو کبھی نہیں بھول سکتا کیونکہ آپ نے مجھے اس وقت سہارا دیا اور بلندی کی طرف اٹھایا جب میں کچھ بھی نہ تھا میری کچھ حیثیت نہیں تھی، آپ اگر ایک اشارہ کریں تو میں اپنی سلطنت کا آدھا حصہ آپ کو دوں۔۔۔۔۔۔نہیں نہیں اللہ کی قسم اگر آپ حکم دیں تو میں اپنی پوری سلطنت آپ کو دینے کو تیار ہوں"۔عبد العزیز نے یہ سب باتیں اکیس نومبر1912کو العقیر کانفرنس میں اس وقت کہا جب سلطان نجد، سلطنت عراق اور سلطنت شیخین کویت کی سر حدوں کا تعین کیا جارہا تھا۔

دورہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی برطانیہ اور سعودیہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی طرح ہے بلکہ اس حوالے سے اس وقت ایک کارٹون بھی دنیا بھر میں مشہور ہوا ہے جس میں یہ دیکھا یا گیا ہے کہ ٹرمپ عرب شیخ یعنی سلمان سے گرم جوشی سے گلے مل رہے ہیں اور ٹرمپ کا ہاتھ گلے ملتے وقت عرب شیخ کی جیب میں ہے جس کا مقصد واضح ہے، چونکہ اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ مقروض ملکوں میں امریکہ بھی سر فہرست ہے اور تقریبا امریکہ کا ہر شہری42500 ڈالرز کا مقروض ہے، اس موقع پر آل سعود کی بیوقوفی اور آل یہود سے دلی لگاؤ نے امریکی معیشیت کو مضبوط کرنے کا کام کیا ہے۔امریکہ کے کچھ مطالبات تھے جو اس دورے سے مشروط تھے اور جب تک امریکہ کو اپنے مطالبات پورے ہونے کا یقین نہیں ہوا ٹرمپ نے دورے کا عندیہ نہیں دیا ۔امریکہ نے اس دورہ میں ایک تیر سے دو نہیں تین شکار کئے ہیں۔اول دورہ ٹرمپ سعودی حکومت کو110 ارب ڈالرز کا پڑا جس سے امریکی معیشیت کو فائدہ پہنچا اور اتنی بڑی تعداد میں دفاعی معاہدے سے امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے جان میں جان آئی ۔ دوم امریکہ کو خطے میں اپنی مفادات اور اسرائیل کی حفاظت کے لئے ایک ذمہ دار چوکیدار کی ضرورت تھی اس خواہش کو خادم الحرمین نے نہ صرف پورا کیا بلکہ ٹرمپ کے سامنے 50ممالک کے سربراہان کے سروں کو جھکا کر یہ ثابت کیا کہ صرف میں نہیں ہمارے پچاس غلام بھی اس چوکیداری کو تیار ہیں، جو ہر وقت آپ کے فرمان پر لبیک کہیں گے۔ تیسرا امریکہ اور اسرائیل نے آل سعود کے ہاتھوں دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے نام پر ایک ایسا فوجی اتحاد بنوایا (کرایے کے فوجیوں کا ٹولہ مرتب کیا)جن کا مقصد فقط مسلمانوں کے درمیان خون ریزی کو جاری رکھنا ہے اور اسرائیل کے ہر شمن سے مقابلہ کرنا ہے۔

لہذا آل سعود کی عالمی طاقتوں کے لئے غلامی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور ہمارے حکمرانوں کو بھی اس دوستی اور اتحاد میں اپنی اوقات کا صحیح اندازہ ہوگیا ہوگا۔ ہمارے حکمرانوں اب مزید ذلیل نہیں ہونا چاہیے کم سے کم اٹھارہ کروڑ عوام کی عزت کا خیال رکھنا چاہئے اور داؤ پر لگے ملکی عزت و وقارکو بچانا چاہیے۔ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، ساتھ ہی پاکستان کے دوست اور دشمن ملکوں کی لسٹ میں بھی رودوبدل کی ضرورت ہے، ہمیں اب سعودی عرب کی شادی میں پاکستان کو بیگانہ بنے کی ضرورت نہیں۔


تحریر۔۔۔ ناصر رینگچن

Page 1 of 11

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree