وحدت نیوز (ملتان) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مختار امامی نے کہا ہے کہ شیعیان حیدرکرار پُرامن قوم ہے، ہم نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ کسی طرح پاکستان کو امن کا گہواراہ بنایا جاسکے، اور پاکستان سے ہر قسم کی دہشتگردی کا خاتمہ ہو، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور پروفیسرز کو چن چن کر شہید کیا جا رہا ہے، پاکستان کے تمام ادارے چاہے وہ حکومتی ہو یاعسکری سب خاموش ہیں اور قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا جا رہا اور نہ اُنہیں سزائیں دی جارہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے جامعہ شہید مطہری ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علامہ قاضی نادر حسین علوی، مولانا ہادی حسین، مولانا مظہر عباس صادقی، مولانا علی رضا حسینی، مخدوم سید اسد عباس بخاری اور دیگر موجود تھے۔

 اُنہوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری گزشتہ بائیس دنوں سے اسلام آباد میں اپنے آئینی اور جائز مطالبات کے لیے بھوک ہڑتال کیے بیٹھے ہیں مگر حکومت ہٹ دھرمی کا شکار ہے۔ ہمارے و قانونی مطالبات جن میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ، ملک میں دہشت گردی کے خلاف بھرپور فوجی آپریشن، پاکستان میں موجود تمام مسلک اور مذاہب کے لوگوں کو تکفیری دہشتگردوں سے تحفظ فراہم کیا جائے، ملک بھر میں بانیان مجالس اور جلوس ہائے عزاء کے خلاف کاٹی گئی ایف آئی آر ختم کی جائیں، ذاکراین اور علمائے کرام پرپابندی کا فوری خاتمہ کیا جائے اور ناجائز طور پر جن شیعہ عمائدین کو شیڈول فور میں ڈالا گیا ہے اُنہیں فوری نکالا جائے۔ علامہ مختار امامی نے کہا کہ مسلکی بنیادوں پر پاکستان کی تقسیم کی سازش کے خلاف عملی اقدامات کیے جائیں، اُنہوں نے پنجاب حکومت کو متنبہ کیا کہ صوبے میں دہشت گردوں کو پروٹوکول دیا جا رہا ہے اور پُرامن شہریوں کو شیڈول فور میں ڈالا جا رہا ہے اگر حکومت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئی تو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دیں گے۔ اُنہوں نے ملتان انتظامیہ کو بھی متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علمائ، ذاکرین، مومنین کے خلاف کاروائیوں کے بعد اب ہمارے امام بارگاہوں، اور مساجد کو شہید کرنے کا سوچ رہی ہے اگر حکومت نے ایسا کوئی اقدام اُٹھایا تو پوری قوم سڑکوں پر ہوگی۔ ہم پاکستان میں امن کے داعی اور علمبردار ہیں ہمارے صبر کو ہماری کمزوری سے تعبیر کرنا کم عقلی ہوگی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) ملک کی 24 بڑی شیعہ تنظیموں نے رمضان کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔مجلس وحدت مسلمین کے احتجاجی کیمپ اسلام آباد میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں ہونے والی آل شیعہ کانفرنس میں کراچی ،لاہور،آزاد کشمیر، خیبرپختونخواہ ، بلوچستان،پارہ چنار، گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے کثیر تعداد میں علما، شیعہ رہنماوں اور عمائدین نے شرکت کی۔اجلاس دو گھنٹہ جاری رہا جس کے بعد رہنماوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس عزم کا اعلان کیا کہ ملک میں جاری دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، ریاستی جبر اور ظلم و بربریت کے خلاف علامہ ناصر عباس جعفری کے پر امن احتجاج پر حکومت کی طرف سے مکمل بے حسی کے بعد ہمارے پاس اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے علاوہ کو ئی آپشن موجود نہیں۔اس وقت ملک بھر میں حکومتی ایما پر ملت تشیع کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان کو ملت تشیع کے بے گناہ افراد کے خلاف استعمال کیا جارہا ۔ہمارے علما و ذاکرین پر پابندیاں لگا کر عزاداری کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پارہ چنار اور گلگت بلتستان میں ہمارے لوگوں کو ملکیتی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔پارہ چنار کے محب وطن افراد کی ایف سی کے ہاتھوں شہادت ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔مختلف شعبوں میں موجود ہمارے ماہرین کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔

رہنمائوں کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں حکومت کی ناک کے نیچے کالعدم جماعتیں اپنی ملک دشمن سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن قومی سلامتی کے ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ملک میں جاری اس ظلم و بربریت کے خلاف جنگ میں علامہ ناصر عباس تنہا نہیں بلکہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ملک کی ایک بڑی سیاسی و مذہبی تنظیم کے قائد کی بھوک ہڑتال کو آج 23روز گزر چکے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔ملت تشیع کے ساتھ حکومت کا یہ جارحانہ رویہ حکومت کی سیاسی ساکھ کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔ اجلاس میں تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ رمضان کے بعد پاکستان کے ہر شہر سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا۔ ہمارا یہ لانگ مارچ پاکستان کے اسی ہزار شہدا کے لیے ہے جو حکومتی نا اہلیوں کے باعث دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ہم پاکستان کے بیس کرور عوام کے مستقبل کے تحفظ اور ملک کی سالمیت و بقا کے لیے میدان میں نکلیں گے۔ہم نے دہشت گردوں گروہ سے قائد اقبال کے پاکستان کو آزاد کرانا ہے۔حکومت اورقومی اداروں میں موجود دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے اخراج تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ہماری اس تحریک میں ملت تشیع کے علاوہ شہدا کے خاندان ، سنی اتحاد کونسل کے کارکنان اور دیگر بریلوی افراد بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس میں شیعہ ایکشن کمیٹی پاکستان ،آئی ایس اوپاکستان، ا نجمن دعائے زہرا،انجمن ذوالفقارحیدری،امامیہ جرگہ،تحفظ عزاداری پاکستان،وحدت کونسل پاکستان،تحفظ حقوق جعفریہ پاکستان،شیعہ پولٹیکل پارٹی،جعفریہ سپریم کونسل کشمیر ،امامیہ علما کونسل،شیعہ کانفرنس بلوچستان ،،امامیہ جرگہ کوہاٹ،تحریک القائم،انصار الحسینؑ ،شیعہ شہریان پاکستان سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماوں نے شرکت کی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) ملک کی مختلف شیعہ جماعتوں نے کالعدم تنظیموں کی طرف سے اتوار کے روزوفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاجی ریلی کی کال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے نیشنل ایکشن پلان کوسرعام چیلنج کرناقرار دیا ہے۔بھو ک ہڑتالی کیمپ میں منعقدہ آپ پارٹیز شیعہ کانفرنس میں شریک شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ مرزا یوسف حسن سمیت دیگر شیعہ رہنماوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومتی سرپرستی میں دفاع پاکستان کے نام پر منعقد کی جانے والی اس ریلی کا مقصد نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مجلس وحدت مسلمین کے احتجاج کو سبوتاژکرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں کالعدم جماعتوں کی شرکت اس حقیقت کو آشکار کرہی ہے کہ حکومت آج بھی دہشت گرد گروہوں کی پشت پر کھڑی ہے۔ حکومت کی طرف سے مختلف متحارب جماعتوں کے کارکنوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کرنا قومی امن و سلامتی کو تباہ کرنے کی ایک بھیانک سازش ہے۔ حکومت کالعدم جماعتوں کی پشت پناہی کر کے عسکری اداروں کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔اگر کالعدم جماعتوں کی ریلی نے مجلس وحدت مسلمین کے گزشتہ 23 دنوں سے قائم پرامن بھوک ہڑتالی کیمپ میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو پھر ملک بھر میں حالات کی سنگینی کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ علامہ ناصر عباس صاحب کی روز اول سے یہ کوشش ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظور ی کے لیے قوم کو کسی آزمائش میں نہ ڈالا جائے لیکن حکومت کی غیر سنجیدہ ردعمل سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ حکومت اس احتجاج کو شاہراوں پر دیکھنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک بار شیعہ قوم شاہراوں پر آ گئی تو پھر حکومت کے خاتمے کا مطالبہ بھی ہمارے ایجنڈے میں شامل ہو گا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) شیعہ قتل عام، حکومت اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی خاموشی،وطن عزیزکی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم اور عزاداری مولا حسین علیہ السلام کے خلاف حکومتی پابندیوں اور سازشوں کیخلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی بھوک ہڑتال آج 23 ویں روز میں داخل ہو گئی ہے آج بھی بڑے پیمانے پر بعد از نماز جمعہ اہلیان اسلام آباد اور راولپنڈی کی بھوک ہڑتالی کیمپ آمد کا سلسلہ جاری رہا اور لوگوں نے مرد قلندر علامہ راجہ ناصر عباس سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تکفیریوں کی سرپرست حکومت کے خلاف اسلام آباد مارچ کی درخواست کی ،بروز ہفتہ پاکستان کی اہم شیعہ جماعتیں اور شخصیات اسلام آباد بھوک ہڑتالی کیمپ میں مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے اظہار یکجہتی کیلئے اجلاس کررہی ہیں تاکہ شیعہ نسل کشی کے خلاف شروع ہونیوالی اس تحریک کو مزید موثر بنایا جاسکے اور علامہ راجہ ناصر عباس سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گذشتہ 13مئی سے جاری اس احتجاجی بھوک ہڑتال میں مولانا حسن ظفر نقوی ، مولانا احمد اقبال رضوی ، مولانا اعجاز بہشتی ، مولانا اقبال بہشتی سمیت علما اور مومنین کی بڑی تعداد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے شانہ بشانہ اس احتجاج میں شامل ہیں جبکہ پاکستان کہ مختلف شہروں اور قصبوں میں بھی 30سے زائد مقامات پہ علامتی احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہیں جن کا مقصد اس مرد قلندر کے جرات مندانہ اقدام سے اظہار یکجہتی اور مطالبات کی حمایت ہے13 مئی کو اسلام آباد سے شروع ہونیوالی علامہ راجہ ناصر عباس کی یہ احتجاجی تحریک آج عالمی تحریک میں بدل چکی ہے اور آج براعظم امریکہ ، افریقہ ، مشرق وسطی اور یورپ کے 18سے زائد ممالک میں پاکستانی کمیونٹی اس بربریت کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔

وحدت نیوز(لاہور) وطن عزیز پاکستان کو آج بیرونی خطرات سے زیادہ اندرونی خطرات کا سامنا ہے۔ غیر ملکی دشمن قوتیں اپنے ایجنٹوں کا دائرہ وسیع کرکے ملکی مفاد کو نقصان پہنچانے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ ہمارے حکمران جو اس بحرانی دور سے نبرد آزمار ہونے کے قابل ہی نہیں ان کی نا اہلی سے استعماری طاقتیں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے سرگرم ہیں۔ سانحہ راولپنڈی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔بے گناہوں کی بلا جواز گرفتاریاں حکومتی بوکھلاہٹ ظاہر کر رہی ہیں ، انتظامیہ نے چار دیواری کے تقدس کی پامالی کا سلسلہ بند نہ کیا تو وزیر اعلیٰ ہا ؤس کے تقدس کی بھی گارنٹی نہیں دے سکتے ،ان خیالات کا اظہار علامہ عبدالخالق اسدی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پنجاب نے دیگر رہنماوُں،علامہ ابوذر مہدوی،علامہ امتیاز کاظمی،علامہ غلام عباس یزدانی ،علامہ حسن رضا ھمدانی کے ہمراہ لاہور صوبائی سیکرٹریٹ مجلس وحدت مسلمین پنجاب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔


علامہ اسدی کا کہنا تھا کہ سانحہ راولپنڈی کے حقائق پر پردہ ڈالنے اور شر پسندوں کو تحفظ دینے کیلئے پنجاب حکومت اور وفاق یکطرفہ کاروائیوں میں مصروف ہے۔وفاقی وزیرِ داخلہ اوروزیرِ قانون پنجاب کے شرپسندوں سے خفیہ ملاقاتیں اور ملت جعفریہ کے بے گناہ 300سے زائد نوجوانوں کی گرفتاری اس بات کی دلیل ہے کہ اس سانحے میں پہلے سے طے شدہ سازش کے تحت ملتِ جعفریہ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا اور ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔


اُن کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں پنجاب پولیس اخلاقی اور قانونی حدوں کو پار کررہی ہے۔ شیعہ گھروں پر اب یہ معلوم نہیں ہوتا کہ پنجاب پولیس چھاپہ مار رہی ہے یا کوئی ڈاکو لوٹنے آیا ہے۔ راولپنڈی پولیس چھاپے کی آڑ میں گھروں سے نقدی، قیمتی سامان، زیورات، موبائل فون اور دیگر قیمتی الیکٹرانک اشیاء لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ خواتین کی بے حرمتی ، چادر اور چاردیواری کے تقدس پامال کئے جارہے ہیں آخر ہمیں حکومت یہ بتائے کہ بے گناہوں سے ان کی کیا دشمنی ہے ان کا جرم یہ ہے کہ یہ ایک خاص مکتبہ فکرسے تعلق رکھتے ہیں؟ سانحہ راوالپنڈی شرپسندوں کے اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت کئے گئے اور اس کا مرکزی کردار مولوی اشرف علی اب بھی آزاد پھر رہا ہے ۔


پاکستان ہمارے آباؤ اجدادجو شیعہ اور سنی تھے نے مل کر بنایا تھا اور وہ لوگ جو قائدِ اعظم کو کافر اعظم کہتے تھے آج اس ملک کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں۔ یہاں دہشتگردوں کیخلاف بیان دیتے ہوئے حکومتی وزراء کہتے ہیں کہ ہم طالبان کیخلاف اس لئے نہیں بولتے کہیں ان کی دل آزاری نہ ہو جائے۔ اور محب وطن عوام کو ایک طرف چن چن کر ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری طرف قاتلوں سے ساز باز کرکے حکومت وقت ان کو پابند سلاسل کررہی ہے۔ ملت جعفریہ کے خلاف ایسے اقدامات ملکی مفاد میں نہیں ۔ ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ پنجاب حکومت ہمیں ہمارے قاتلوں کے بارے میں بتائے کہ انہی کے دور میں ملت جعفریہ کے شہداء جو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ان کے کیسز میں اب تک پیش رفت کیوں نہیں ہوئی؟


اس موقع پر علامہ ابوذر مہدوی مرکزی رہنما مجلس وحدت مسلمین نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا اُن کا کہنا تھاسانحہ ڈھوک سیداں میں جو پچھلے سال محرم ہی کے مہینے میں پیش آیا تھا اُن 50شہداء کے کیسز کو کیوں داخل دفتر کیا گیا۔ راولپنڈی میں لاپتہ 300افراد کو نہ تو کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے نہ ہی تھانوں میں ان سے متعلق معلومات ہیں۔ گلگت بلتستان کے سینکڑوں معصوم طلباء غائب ہیں نہ تو ان کا پتہ گھر والوں کو ہے نہ کالج اور ہوسٹل والوں کو۔ آخر گلگت بلتستان کے لوگوں کو 62سالہ محرومیوں کا تحفہ کافی نہیں تھا ؟جو ان کے معماروں کو بھی یہ سز ا دی جارہی ہے کہ آپ کے آباؤاجداد اور آپ لوگوں نے پاکستان سے وفا کیوں کی؟سانحہ راولپنڈی میں نذرِآتش ہونے والے 7امام بارگاہ ومساجد کے ملزمان دوسرے دن ہی رہا کردئیے گئے۔ اسی طرح چشتیاں میں دہشتگرد شیعہ مساجد و امام بارگاہ اور مارکیٹوں کو جلانے کے بعد اب تک وہی دہشتگرد الٹا شیعہ افراد کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ پولیس اور دہشتگرد مل کر شیعہ افراد کو ہراساں کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے میں مصروف ہے۔ ایسے حالات میں اب ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔اسی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے آل شیعہ پارٹیز کانفرنس بروز جمعہ6دسمبر کو طلب کر لیا ہے جس کے بعد ملک گیر مظاہروں سمیت دیگر لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree