وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) ولی امر مسلمین جہان اور رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ امام خامنہ ای نے حجاج بیت اللہ کے نام اپنے پیغام میں فلسطین کا دفاع اور گذشتہ ستر برس سے اپنے غصب شدہ وطن کی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ملت فلسطین کی مکمل حمایت اور مدد کو تمام مسلمانوں کی اہم ترین ذمہ داری قرار دیا ہے۔
 
 فارس نیوز ایجنسی کے مطابق  آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے خصوصی پیغام میں عالمی استعماری قوتوں کی جانب سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور دشمنی پیدا کرنے پر مبنی سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک کے سربراہان اور اہم سیاسی و مذہبی شخصیات پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد بین المسلمین کے قیام، مسلمان اقوام کو آگاہ کرنے اور اسلامی ممالک میں جاری شدت پسندی کی فوری روک تھام کیلئے موثر اقدامات انجام دیں۔ ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای کا حجاج کرام کے نام پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمان الرحیم
و الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین و آلہ الطاھرین و صحبہ المنتجبین۔
خداوند عظیم کا شکرگزار ہوں کہ اس سال بھی دنیا بھر سے مومنین کی بڑی تعداد کو حج ادا کرنے کی توفیق اور سعادت عطا فرمائی تاکہ وہ اس لذیذ اور جاری سرچشمے سے بہرہ مند ہو سکیں اور ایسے روز و شب خدا کے عظیم گھر میں بسر کر سکیں اور عبادت اور خشوع اور ذکر الہی میں گزار سکیں جن کی ہر مبارک گھڑی معجزہ گر اکسیر کی مانند قلوب کو منقلب اور جانوں کو پاکیزہ اور مزین کرنے صلاحیت رکھتی ہے۔

حج ایک رمز و راز سے بھرپور عبادت ہے اور بیت اللہ شریف، الہی برکات اور آیات الہی سے سرشار مقام ہے۔ حج ایک مومن، اہل خشوع اور غور و فکر کرنے والے بندے کو اعلی روحانی مقامات تک پہنچا سکتا ہے اور اسے ایک اعلی اور نورانی انسان بنا سکتا ہے۔ اسی طرح حج اسے ایک بابصیرت، شجاع، اہل عمل اور مجاہد شخص بنا سکتا ہے۔ اس بے مثال فریضے میں دونوں پہلو، روحانی اور سیاسی، انفرادی اور اجتماعی بہت زیادہ نمایاں اور واضح ہیں اور آج اسلامی معاشرہ ان دونوں پہلووں کا شدید محتاج ہے۔

ایک طرف مادہ پرستی کا جادو جدید آلات کی مدد سے انسانوں کو اغوا اور تباہ کرنے میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف عالمی استکباری نظام کی پالیسیاں مسلمانوں میں فتنہ انگیزی اور دشمنی کی آگ لگانے اور اس طرح اسلامی معاشروں کو بدامنی اور اختلاف کی دوزخ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حج، امت مسلمہ کو درپیش ان دونوں بڑی بلاوں کیلئے شفا بخش نسخہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حج، قلوب کو بھی تمام آلودگیوں سے پاک کر کے تقوی اور معرفت کے نور سے منور کرتا ہے اور آنکھوں کو بھی عالم اسلام کے تلخ حقائق پر کھولے جانے کا باعث بنتا ہے اور ان سے مقابلے کیلئے ارادوں کو مزید راسخ اور قدم کو مضبوط بناتا ہے جبکہ ہاتھوں اور اذہان کو بھی فعالیت کیلئے تیار کر دیتا ہے۔

آج اسلامی دنیا بدامنی کا شکار ہے۔ اخلاقی اور روحانی بدامنی اور سیاسی بدامنی۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری غفلت اور دشمنوں کا بے رحمانہ حملہ ہے۔ ہم نے مکار دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں اپنی دینی اور عقلی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا۔ ہم "اشدّآء علی الکفّار" کو بھی فراموش کر چکے ہیں اور "رحّمآءُ بینَھُم" کو بھی بھول چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ صیہونی دشمن عالم اسلام کے مرکز میں فتنہ گری میں مشغول ہے اور ہم فلسطین کی نجات پر مبنی اپنی یقینی ذمہ داری سے غافل ہو کر شام، عراق، یمن، لیبیا اور بحرین کی خانہ جنگی میں مصروف ہیں اور افغانستان، پاکستان وغیرہ میں دہشت گردی سے روبرو ہیں۔

عالم اسلام میں اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت اور سیاسی و مذہبی شخصیات کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ وحدت پیدا کرنے اور سب کو قومی و مذہبی ٹکراو اور دشمنی سے روکنے کی ذمہ داری، اقوام کو صیہونزم اور استکبار کی دشمنی اور غداری کے طور طریقوں سے آگاہ کرنے کی ذمہ داری، اسلامی ممالک میں جاری شدت پسندانہ اقدامات کی فوری روک تھام کی ذمہ داری جن کی تلخ مثالیں یمن میں جاری حادثات کی طرح آج پوری دنیا میں غم اور اعتراض کا باعث بن چکی ہیں، میانمار کے مظلوم مسلمانوں کی طرح ظلم و ستم کا شکار مسلمان اقلیتوں کا بھرپور دفاع کرنے کی ذمہ داری، اور سب سے زیادہ اہم یہ کہ فلسطین کے دفاع کی ذمہ داری اور ایسی ملت کی غیرمشروط حمایت اور مدد کرنے کی ذمہ داری جو گذشتہ ستر برس سے اپنے غصب شدہ وطن کی آزادی کیلئے جدوجہد میں مصروف ہے۔

یہ ہم سب کے کاندھوں پر اہم ذمہ داریاں ہیں۔ اقوام کو چاہئے کہ وہ اپنی حکومتوں سے ان ذمہ داریوں پر عمل پیرا ہونے کا مطالبہ کریں۔ اسی طرح سیاسی و مذہبی شخصیات پختہ عزم اور خلوص نیت سے انہیں انجام دینے کیلئے عملی کوشش کریں۔ یہ اقدامات دین خدا کی نصرت کا یقینی مصداق ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کے وعدے کی روشنی میں ان اقدامات میں مصروف افراد نصرت الہی سے بہرہ مند ہوں گے۔ یہ حج سے حاصل ہونے والے بعض درس ہیں اور مجھے امید ہے کہ ہم انہیں سمجھیں گے اور ان پر عمل پیرا ہوں گے۔

آپ سب کیلئے مقبول حج کی دعا کرتا ہوں، منی اور مسجد الحرام کے شہیدوں کی قدردانی کرتا ہوں اور خداوند متعال سے ان کے درجات میں بلندی کیلئے دعاگو ہوں۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
سید علی خامنہ ای
7 ذی الحجہ 1438۔ (29 اگست 2017)

وحدت نیوز(سکردو)  مجلس وحدت مسلمین ضلع سکردو کے سکریٹری جنرل شیخ فدا علی ذیشان نے دولت اسلامیہ (داعش)کی طرف اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان اور روضہ امام خمینی پر فائرنگ کے نتیجے میں درجن بھر افراد کی شہادتوں کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای جیسی بابصیرت اور شجاع قیادت کی موجودگی میں داعشی پٹاخہ بازی ایرانی عوام کو خوف زدہ نہیں کرسکتی، اسوقت دنیابھر کے مستضعفین چاہے وہ یمن میں ہو، فلسطین میں، شام، عراق یا لبنان میں ، کیلئے آواز اٹھانے والے اور انکے حق میں مستکبرین سے ٹکر لینے والا ایک اسلامی جمہوریہ ایران ہی ہے، جوایک طرف سامراجی طاقتوں سے دبایا نہیں جا رہا، تو دوسری طرف منافقین جہان کی آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دو طاقتیں کسی نہ کسی طرح سے اسلامی جمہوریہ کو سرنگوں کرنے کیلئے کوئی کسر رہنے نہیں دے رہا۔ اسی سلسلے کی کڑی حالیہ دنوں دولت اسلامیہ نامی درندوں کی جماعت کے ذریعے ایرانی پارلیمان اور روضہ امام خمینی کے باہر فائرنگ کے ذریعے خوف ہراس پھیلانا اور اسلامی جمہوریہ کو دنیا میں بدنام کرنا ہے۔

مجلس وحدت مسلمین کے ضلعی سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی کی زمام اس وقت بابصیرت ترین قیادت کے ہاتھوں میں ہیں جو کہ عراقی آمر کے ذریعے آٹھ سال تک جنگ کے باوجود بھی ثابت قدم رہے حالانکہ تب انقلاب ابتدائی دور میں اور بے شمار مسائل کا شکار تھا۔ اب چونکہ عالمی سامراج کے سامنے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے، ایسے میں اسطرح کے حرکات انقلاب اسلامی کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ ضرور ثابت کریگی ، کہ مسلمانوں کی ہمدردی سمیٹ کر پس پردہ ان درندہ صفت گروہو ں کو پالنے والے، ان کو چلانے والے اور انکو سپورٹ کرنیوالے کون ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں اور کس حد تک گر سکتے ہیں۔

وحدت نیوز(مانٹرنگ ڈیسک) رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حضرت امام خمینی کی برسی کے موقع پر انہیں شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش کیا اور فرمایا کہ اسلامی انقلاب امام خمینی کا سب سے بڑا ہنر تھا،اسلامی انقلاب اور امام خمینی کی شخصیت کو بار بار بیان کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگرانقلاب اور امام خمینی رح کی شخصیت کے بارے میں تحریف کا خطرہ پیدا ہوسکتاہے -

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ سماجی تبدیلی کے اعتبار سے جو تبدیلی رونما ہوئی وہ یہ کہ ایران کے معاشرے کو جو ایک غیر متحرک اور مغرب زدہ معاشرے میں تبدیل کردیا گیا تھا امام خمینی نے اس انقلاب کے ذریعے دوبارہ زندہ کیا اور ایران کی عظیم قوم کو اس کی شناخت دوبارہ عطا کی - انہوں نے امام خمینی کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ امام خمینی ایک پرکشش شخصیت کے مالک تھے اور ان میں پائی جانےوالی جذابیت کی وجہ ان کی صداقت اوراللہ پر ان کا توکل تھا -

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امام خمینی نے کسی کی پروا کئے بغیر اصل اسلام کو پیش کیا جس میں آزادی اور خود مختاری کا نعرہ دیا گیا تھا، ایسا اسلام جس میں نہ تو رجعت پسندی تھی اور نہ ہی تنزلی تھی اور یہی چیز نوجوانوں کے لئے بہت ہی پرکشش تھی ۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ امام خمینی نے جو نظریات پیش کئے ان میں آزادی و خود مختاری، سماجی انصاف کا قیام اور ایرانی عوام کا امریکا کے تسلط سے آزاد ہونا تھا - رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ دنیا کی ہر قوم کےنوجوان اغیار کے تسلط سے آزاد رہنا چاہتے ہیں، مثال کے طور پر آج سعودی عرب جیسے ممالک کے نوجوان بھی جن کی حکومتیں امریکا سے وابستہ اور طویل المیعاد معاہدے کئے ہوئے ہیں، آزادی اور اغیار کے تسلط سے رہائی کے خواہاں ہیں - یہی وجہ ہے کہ امام خمینی کی شخصیت اور ان کے ذریعے پیش کئے گئے نظریات انتہائی پرکشش ہیں ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے امریکی پابندیوں کے مقابلے میں ایران کو مضبو ط اور مستحکم بنانے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے فرمایا کہ حکام کو چاہئے کہ وہ اقتصادی میدان میں ملک کو ناقابل تسخیر بنادیں ۔ اور بین الاقوامی مسائل کے تعلق سے بھی سب کا موقف اور نظریہ ایک ہونا چاہئے - آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ماہ مبارک رمضان میں یمن، لیبیا اور شام میں ہمارے بھائی سخت مشکلات سے دوچار ہیں ۔

انہوں نے یمن اور بحرین میں سعودی عرب کی جارحیتوں اور مداخلتوں کی مذمت کرتے ہوئےفرمایا کہ سعودی حکام شب و روز یمن کے عوام پر بمباری کررہے ہیں لیکن اگر وہ بیس سال تک بھی یہ اقدامات کرتے رہیں پھر بھی انہیں یمن کے عوام پر کامیابی نصیب نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے لئے انتقام الہی کو اور زیادہ سخت کررہے ہیں - رہبرانقلاب اسلامی فرمایا کہ سعودی حکام اگر کسی قوم پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں تو ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکے گی بلکہ اس سے سعودی حکام مزید ذلیل ہوں گے آپ نے سوال کیا کہ کیوں ایک بیرونی حکومت کسی ملک میں اپنی فوج اتارے اور وہاں اپنی پالیسی مسلط کرے - رہبرانقلاب اسلامی نے شام کے بحران کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ اب جبکہ شام اور عراق میں جو داعش کی جائے پیدائش ہے داعش کا خاتمہ کیا جارہا ہے تو شام کے بحران کو سیاسی اور پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس سلسلے میں ایران کا موقف واضح اور شفاف ہے ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے امریکا جیسی بڑی طاقتوں کی ڈھٹائی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خود بھی یمن پر شب و روز بمباری کرتے ہیں اور یمن کے کوچہ و بازار اور مسجد و رہائشی مکانات پر بمباری کرنے اور یمنی عوام کا خون بہانے میں سعودی عرب کا ساتھ دیتے ہیں۔ آپ نےفرمایا کہ امریکی صدر عرب کے پست نظام حکومت کے ایوانوں میں جاتا ہے اور قبیلے کے سردار کے بغل میں کھڑے ہو کر رقص شمشیر کرتاہے اور پھر ایران میں چار کرورڑ رائے دہندگان کی شرکت سے ہونےوالے صدارتی انتخابات پر سوالیہ نشان لگاتاہے - آپ نے فرمایا کہ سعودی حکومت امریکا کے نئے صدر کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لئے اپنے بجٹ کا آدھا حصہ امریکا کے حوالے کرنے پر مجبور ہے - رہبرانقلاب اسلامی نے امریکا کے سلسلے میں امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے اقوال و نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج یورپی حکومتوں کے سربراہ بھی امریکا کو غیر قابل اعتماد قرار دے رہے ہیں جبکہ امام خمینی نے تیس پینتیس سال قبل فرمایا تھا کہ امریکا بڑا شیطان ہے اور اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا -

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین لاہور کے زیراہتمام انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ پر تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین لاہور علامہ حسن ہمدانی نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران نے استعماری قوتوں کے سامنے جرات اور بہادری سے ڈٹ کر مسلم امہ کیلئے ایک مثال قائم کی، امریکہ اور اسرائیل اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرکے مسلمانوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، انقلاب اسلامی ایران کی نڈر اور بابصیرت قیادت نے مسلمانوں کیخلاف ہونیوالی ہر سازش کا دلیرانہ مقابلہ کیا، دنیا بھر کے مظلومین کی حمایت کا پرچم بلند کرکے حقیقی معنوں میں مسلم اُمہ کی ترجمانی کی، آزادی کشمیر کی تحریک کی مکمل حمایت کرکے مظلوم کشمیری بھائیوں کا ہمیشہ سے ساتھ دیا اور کشمیر پر پاکستانی موقف کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کیلئے مظلوم فلسطینی عوام کا ہمیشہ سے ساتھ دیا اور فلسطینی مظلوموں کے خاطر ہر قسم کی استعماری قوتوں کی سازشوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور فلسطینی کاز کو دبنے نہیں دیا، دنیا بھر میں مظلوم فلسطینوں کی حمایت میں "یوم القدسِ" متعارف کروا کر یہود و نصاریٰ کے مظالم کا پردہ چاک کیا۔ انہوں نے کہا پاکستان اور ایران کی دوستی لازوال اور بے مثال ہے، دونوں ممالک کو مل کر مسلم امہ کے اتحاد اور خطے کو درپیش بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کی۔

وحدت نیوز (مانٹرنگ ڈیسک) ایرانی فضائیہ کے کمانڈروں اور اہلکاروں نے امام خمینی (رہ) کے ساتھ ایئر فورس کی تاریخی بیعت کے سالگرہ اور ایران کے "یوم فضائیہ" کے موقع پر آج صبح (19 بھمن بمطابق 07 فروری کو) رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ اس ملاقات میں ایران کی فضائیہ کے کمانڈر، افسر، پائلٹ اور خاتم الانبیاء ایئر ڈیفنس بیس کے اہلکار شامل تھے۔ اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کہ ایران کو صدر اوباما کا شکرگزار ہونا چاہئے، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کس وجہ سے صدر اوباما کا شکریہ ادا کریں؟ اوباما نے ایران کو کمزور کرنے کی سرتوڑ کوشش کی، ایران پر سنگین قسم کی پابندیاں عائد کرکے ایران کو نقصان پہنچایا، اگرچہ اوباما اپنی کوششوں میں ناکام رہے اور ملت ایران نے امریکی حکمرانوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سابق امریکی حکومت کا شکریہ اسلئے ادا کریں کہ انہوں نے ہم پر ہر قسم کی پابندیاں عائد کر دیں؟ ان کا اس لئے شکریہ ادا کریں کہ انہوں نے خطے میں داعش جیسی درندہ صفت تنطیموں کو پروان چڑھایا؟ ہم اس لئے شکریہ ادا کریں کہ اوباما حکومت نے ایران کے داخلی مسائل میں دخالت کرکے سال 88 شمشی کے فسادات کی کھل کر حمایت کی۔؟ یہ ساری مثالیں اس سابق امریکی حکومت کے کارنامے ہیں، جس نے مخملی نرم دستانوں میں آہنی پنچہ چھپا رکھا تھا۔

ایران کے سپریم لیڈر نے صدر ٹرمپ کے اس بیان پر جس میں انہوں نے کہا کہ ایرانی مجھ سے ڈریں، کہا کہ ایرانی قوم کسی سے ڈرنے والی نہیں ہے۔ انہوں نے 22 بھمن (انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کا دن) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم 22 بھمن کے دن ایک بار پھر امریکی دھمکیوں کا منہ توڑ جواب دے گی۔ رہبر معظم نے کنایہ آمیز لہجے میں کہا البتہ ہم صدر ٹرمپ کے شکر گزار ہیں، کیونکہ کہ انہوں نے اپنا اصلی چہرہ دینا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ 38 سالوں سے اسلامی جمہوریہ ایران امریکی تسلط پسندانہ رویوں، اقتصادی، سیاسی، اور سماجی غلط پالیسوں کو دنیا کے سامنے واضح کرتا آیا ہے، اب امریکہ نے اپنے حقیقی چہرے کو دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے اور وہ کیا چاہتا ہے۔ حال ہی میں امریکی امگریشن حکام کی جانب سے ایک 5 سالہ ایرانی بچے کو ہتھکڑیاں پہنانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی حقوق انسانی کیا ہیں، اب دنیا پر واضح ہوگیا، اللہ تعالٰی حضرت امام خمینی کو غریق رحمت کرے، وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں بار بار امریکی چال بازیوں اور شیطنت کی طرف لوگوں کو متوجہ کراتے رہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کو کسی بھی صورت میں امریکہ پر بھروسہ کرنے سے منع کیا اور آج امام راحل کی تمام فرمائشات سب پر واضح ہوگئیں ہیں۔

وحدت نیوز (مانٹرنگ ڈیسک) حرم اہلبیت اطہار ؑکی حفاظت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ایران کے سات شہید کمانڈوز کے اہل خانہ کے ساتھ ملاقات میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای نے فرمایا کہ شہدائے مدافع حرم پوری قوم کیلئے باعث افتخار ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے روضے کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے سات شہید کمانڈوز کے اہل خانہ اور لواحقین سے ملاقات میں شہدا کے اعلی و ارفع مقام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ شہداء نہ صرف فوج بلکہ پوری قوم کے لئے باعث افتخار ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ان شہداء کی تشیع جنازہ کے موقع پر بعض شہیدوں کی ازواج نے ایسے اعلی مفاہیم کی حامل باتیں کہیں جو مادی انسانوں کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔

آپ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ شہدائے حرم ہی تھے کہ جنہوں نے دشمن کو دھول چٹائی اور ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا فرمایا کہ اگر بدخواہوں اور فتنہ پروروں کو جو امریکہ اور صیہونی حکومت کے آلہ کار ہیں حرم حضرت زینب سلام اللہ تک پہنچنے سے روکا نہ گیا ہوتا تو تہران، فارس، خراسان اور اصفہان میں انہیں روکنا پڑتا۔ واضح رہے کہ شہدائے حرم ان شہیدوں کو کہا جاتا ہے جنہوں نے شام میں نواسی رسول حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے روضے کا دفاع اور حفاظت کرتے ہوئے راہ خدا میں اپنی جان قربان کر دی۔

Page 1 of 5

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree