وحدت نیوز (انٹرویو) علامہ ناصر عباس جعفری مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل ہیں، انہوں نے بہت ہی کم عرصہ میں قیام کرکے پاکستان میں ملت تشیع کے حقوق کی بازیابی کیلئے آواز بلند کی اور عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ علمی حوالے سے بہت مضبوط ہیں، اسکے علاوہ حالات حاضرہ کا بہت ہی زبردست تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں۔ ایران کی سرزمین قم المقدس میں دینی تعلیم حاصل کی، اتحاد بین المسلمین کیلئے بہت زیادہ کوششیں کی ہیں، یہی وجہ ہے کہ مجلس کے مرکزی پروگراموں میں اہل سنت جماعتوں کے قائدین موجود ہوتے ہیں۔ ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے  نے علامہ ناصر عباس جعفری سے موجودہ ملکی صورتحال اور مشرق وسطٰی کے حالات پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

سوال: سپریم کورٹ کا فیصلہ اور پاکستان کے سیاسی حالات پر کیا کہتے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میرا خیال ہے کہ پاکستان میں سیاسی بحران بڑھتا جا رہا ہے، جس کا کوئی حل سامنے نہیں آرہا، پاکستان کے دشمن ایک ہوچکے ہیں، نواز شریف اور لیگی حکومت کے اقدامات اس مادر وطن کو اور بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، اس وقت حکومت کون کر رہے ہیں اور کیسے چل رہی ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں، پوری حکومت کی توجہ فقط نواز شریف کو بچانے پر صرف ہو رہی ہے، ایک کرپٹ وزیراعظم کو اتنے مواقع دیئے جا رہے ہیں کہ وہ جو ملک کیخلاف کرسکتا ہے اور بول سکتا ہے، اسے بولنے دیا جا رہا ہے، کیا آج سے پہلے ایسے تھا؟، اس ملک کی قسمت کا فیصلہ کہاں ہو رہا ہے، کسی کو معلوم نہیں۔ اس بحران کو اتنا طول دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف سی پیک مکمل کرنا چاہتے ہیں، دوسری جانب یہ بحران بھی چل رہے ہیں۔

سوال: پاکستان کے حالات پر کیا کہتے ہیں، دہشتگردی ختم ہونیکا نام ہی نہیں لے رہی، ملک کو بحرانوں سے کیسے نکالا جائے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میرے خیال میں آج تک جو کچھ بھی ہوا وہ ہمارے خلاف ہوا، دہشتگردی کی وجہ سے پاکستان میں اسی ہزار پاکستانی شہید ہوئے ہیں، جس میں بیس ہزار صرف شیعہ شہید ہیں، جتنی بھی نسل کُشی ہوئی، اس میں اندرونی اور بیرونی سازش کار ایک پیج پر تھے اور ہیں، ان کے نشانے پر پاکستانی ہیں، یہ بھی مار کر پاکستان کو ہی کمزور کرنا چاہتے تھے، انڈیا کی مداخلت پاکستان میں سب کے سامنے ہے، خاص طور پر بلوچستان کے حالات سب پر واضح اور عیاں ہیں، بلوچستان ہر طرف سے حملوں میں گھرا ہوا ہے، دنیا بھر کی ایجنسیاں وہاں پر لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان کے اندر شیعہ اور سنی جیتنا آج قریب ہیں پہلے نہیں تھے، ہم جتنا قریب ہوں گے، اتنا ہی دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرسکیں گے، ہم اس وطن کو خوبصورت بنائیں گے اور اس کو آگے لے کر جائیں گے، بحرانوں سے نکالیں گے۔ یہ ہماری مادر وطن ہے، اس کو ہم نے بنایا تھا اور ہم ہی بچائیں گے۔

سوال: حکومت پاکستان سے کیا مطالبہ کرتے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میں تو یہ چاہتا ہوں پاکستان کے اندر یہ جو مسائل دن بہ دن آگے بڑھ رہے ہیں، چاہے وہ سیاسی ہوں، اخلاقی ہوں، سوشل ہوں یا سکیورٹی سے مربوط مسائل ہیں، یہ پاکستان کیلئے نہایت ہی خطرناک ہیں، میں پاکستان کی حکومت اور پاکستان سے محبت کرنے والوں سے عرض کرتا ہوں کہ پاکستان کو بچائیں اور جن لوگوں نے پاکستان پر حکومت کی اور جن کے پاکستان سے باہر بینک بیلنس ہیں، وہ خدارا پاکستان کو مسائل اور بحران سے نکالیں۔ بہت ہوگیا اب اس مادر وطن کو ترقی کے راستے پر ڈالیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم تو ڈوبے تمہیں بھی لیکر ڈوبیں گے۔ کچھ قوتیں پاکستان کے دشمنوں سے ملکر ملک کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔

سوال: پاک ایران تعلقات پر کیا کہتے ہیں، خاص طور پر آرمی چیف کے حالیہ دورہ ایران کی تناظر میں کیا دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں، پاکستان کو ایک سازش کے تحت کوشش کی گی تھی کہ اس کو اپنے ہمسایہ ممالک سے الگ کیا جائے، اس کے مشرقی اور مغربی سرحدوں پر مسائل ہوں اور اسے ایران سے دور رکھا جائے، یہ دشمن کا پلان تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو کمزور کرنے اور اپنی مرضی کے فیصلے پاکستان سے کرانے کیلئے سازش بنی گئی، دراصل یہ پاکستان کے دشمن طاقتوں کی کوشش تھی، آرمی چیف نے ایران کا دورہ کیا ہے، جو بہت زبردست بات ہے اور اب حالات بہتری کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں، ابھی آپ دیکھیں کہ جب ایران میں چاہ بہار بندرگاہ کا افتتاح ہوا تو اس میں پاکستان کے وزیر (حاصل بزنجو) کو بھی ساتھ کھڑا کیا گیا، اس سے دشمن کو پیغام گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اب پاکستان ترقی کی طرف جا رہا ہے، اگر ہماری سمت درست ہوگئی تو ہمیں اس راستے سے کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان، چین، ترکی، روس، عراق اور ایران ایک بلاک بن جائے تو افغانستان میں موجود فورسز کا بھی مقابلہ کیا جاسکتا ہے، اس سے پاکستان کی مشرقی سرحد کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے، اسی طرح پاکستان کا چین پر انحصار بھی ختم ہو جائے گا، پاکستان پر جو عالمی پریشر ہے، وہ بھی ختم ہو جائے گا اور یوں پاکستان بحران سے نکل جائے گا۔

پاکستان کو ایران کے ساتھ تعلقات کسی اور ملک کے ساتھ کمپرومائز نہیں کرنے چاہئیں، پاکستان کو اپنا قومی مفاد لیکر چلنا چاہیئے، اس کو سامنے رکھ کر اپنی قومی پالیسی ترتیب دینی چاہیئے، ابھی ایران کی طرف سے گیس پائپ لائن پاکستان کے بارڈر تک آئی ہوئی ہے، اگر یہ گیس پاکستان میں آجاتی ہے تو ہمارے توانائی کے مسائل حل ہو جائیں گے، پاکستان میں سستی گیس آجائے گی اور ہماری فیکٹریاں چل پڑیں گی۔ سی پیک پاکستان میں آرہا ہے، اگر پاکستان نے اپنا گھر ٹھیک نہ کیا تو بہت مشکلات سے دوچار ہو جائیگا، میرے خیال میں ایران پاکستان تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں، توانائی شعبہ میں اہم پیشرفت ہوسکتی ہے، پاکستان سے چین تک گیس پائپ لائن جا سکتی ہے، جس سے پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا، یاد رکھیں کہ پاکستان پانچ ارب لوگوں کو آپس میں ملاتا ہے، پاکستان اگر اچھے تعلقات بناتا ہے تو ایشیاء کو طاقتور بنائے گا اور خود بھی طاقتور ہوگا۔

سوال: آپ نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ملاقات کی اور مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، مجلس کیا کرنے جا رہی ہے۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: دیکھیں ہمارا اصولی موقف شروع دن سے واضح ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ ظلم ہوا ہے، ان کے چودہ افراد کا خون بہایا گیا ہے، خواتین کے منہ میں گالیاں ماری گئی ہیں، ان کو انصاف نہیں ملا، انہیں انصاف ملنا چاہیئے۔ اس معاملے پر ہم ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیا کسی اور ملک میں قاتل شخص وزیراعلٰی رہ سکتا تھا؟، جس وزیر قانون کے حکم پر یہ ہوا، وہ آج بھی صوبائی وزیر قانون ہے۔ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ نامزد ہوچکے ہیں۔ اب انہیں سزا ہونا باقی ہے۔ انہیں مظلوموں کی آہ لے جائیگی۔ اس وقت تمام اپوزیشن جماعتیں ماڈل ٹاون کے معاملے پر ہم آواز ہیں اور مجلس کی آواز بھی ساتھ ہے۔

سوال: ٹرمپ کے بیت المقدس سے متعلق بیان کے بعد کیا اتحاد بین المسلمین کو مزید فروغ دیکر قبلہ اول کے مسئلے کو مزید بہتر انداز میں اجاگر نہیں کیا جا سکتا، اس حوالے سے کیا کوششیں کی جاسکتی ہیں۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: میرے خیال میں ہم اگر آج اکٹھے نہیں ہوئے تو قبلہ اول مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا، مسلمانوں کو پوری دنیا میں اکٹھا ہونا چاہیے، امت مسلمہ اگر یکجا ہو جائے تو مسلم حکومتوں کو اپنی سمت درست رکھنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، یہ اتحاد خود امت مسلمہ کی عزت و وقار کے لئے لازم ہے اور امت کو جو خطرات لاحق ہیں، اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن نے ہمیں کہا ہے کہ ہم اتفاق اور اتحاد سے رہیں۔ وحدت اور اتحاد حکم قرآنی ہے، جس پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔

سوال: ٹرمپ کے اقدام کے بعد مشرق وسطٰی کی کیا تصویر بنے گی۔؟
علامہ ناصر عباس جعفری: اللہ نے ہمارے دشمنوں کو احمق قرار دیا ہے، قرآن میں ہے کہ انہوں نے بھی چال چلی اور اللہ نے بھی اپنی چلی، بہتر چال اللہ ہی چلنے والا ہے، اللہ کی طرف سے جو چالیں چلی جاتی ہیں، وہ مومنین کی طرف سے چلی جاتی ہیں، خدا نے ٹرمپ اور اس کے ساتھیوں کو رسوا کر دیا ہے اور پچھلے کئی سالوں کی انویسمنٹ پر پانی پھر دیا ہے، وہ کوشش کر رہے تھے کہ عرب کی اسرائیل سے توجہ ہٹا کر ایران کی جانب کر دی جائے اور ایران کو دشمن بنا دیا جائے، عرب ممالک کیلئے ایران کو اسرائیل سے بھی بڑا تھریٹ بنا دیا جائے، اسرائیل ایران دشمنی کو شیعہ سنی میں تبدیل کر دیا جائے، انہوں نے کوشش کی کہ فلسطین کے ایشو کو ہٹا کر ایران عرب کا ایشو بنا دیا جائے۔ یہی وجہ بنی کہ انہوں نے شام کو ڈسٹرب کیا، عراق کو تباہ کیا، داعش کو لایا ہی اسی کام کیلئے گیا تھا۔ یمن پر حملہ کرایا گیا۔ اسی طرح لبنان کے حالات خراب کئے گئے، سعد حریری سے استعفٰی دلوایا گیا، ایران کے ترکی سے اور ترکی کے ایران سے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ٹرمپ کے ایک عمل نے سب کچھ الٹ کر دیا، اب امت مسلمہ کا دوبارہ ترجیحی ایشو فلسطین بن گیا ہے، تمام ممالک اسرائیل کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے۔ دشمن نے اپنی چال چلی اور اللہ نے اپنی چال۔

وحدت نیوز(تہران) ولی امر مسلمین جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایرانی رضاکار فورس اور اس کے اعلی کمانڈروں سے ملاقات میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کو شکست دینا انقلاب اسلامی ایران کا معجزہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے 38 سال بعد ایسے جوانوں کی مختلف میدانوں میں موجودگی انقلاب کے معجزات میں شامل ہے جنہوں نے نہ امام خمینی کو دیکھا ، نہ دفاع مقدس کا دور دیکھا اور نہ ہی انقلاب کا زمانہ دیکھا ، اس کے باوجود ان کی مختلف میدانوں میں موجودگی انقلاب اسلامی کی معجزات میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی کے انہی جوانوں نے آج خطے میں امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے، امریکہ نے انقلاب اسلامی کی فکر کو خطے سے دور کرنے کے لئے بڑی بڑی سازشیں کیں لیکن امریکہ کی تمام سازشیں ناکام ہوگئی ہیں اور آج انقلاب اسلامی کی فکر نہ صرف خطے میں بلکہ انقلابی فکر عالمی سطح پر چھا گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے دہشت گرد تنظیم داعش کو انقلاب اسلامی اورخطے میں اسلامی مزاحمتی تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لئے عراق اور شام میں تشکیل دیا لیکن آپ جیسے غیور جوانوں نےاس امریکی کینسر کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ بعض لوگ غفلت کی بنا پر کہتے ہیں کہ امریکہ کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا لیکن ایرانی جوانوں نے ثابت کردیا ہے کہ امریکہ کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور امریکہ کے کبر و غرور کو چکنا چور کیا جاسکتا ہے، امریکہ اور اسرائيل بعض عرب ممالک کے سہارے خطے میں اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم میں امریکہ کے اتحادی عرب ممالک برابر کے شریک ہیں۔

ولی امر المسلمین نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے خطے میں امریکہ کی تمام پالیسیوں کو ناکام بنادیا ہے اور آئندہ بھی خطے میں امریکہ کی شوم پالیسیوں کا مقابلہ جاری رہے گا، امریکہ کا مقابلہ کرنے پر مبنی انقلاب اسلامی کا پیغام آج پوری دنیا میں پھیل چکا ہے اور دنیا کے گوشے گوشے میں آج امریکی صدر اور امریکی حکام کے پتلے جلائے جاتے ہیں اور امریکی پرچم کو نذر آتش کیا جاتا ہے کیونکہ امریکی پرچم دنیا میں ظلم ، تشدد ، دہشت گردی اور تسلط پسندی کا مظہر ہے۔

وحدت نیوز(انٹرویوبشکریہ روزنامہ اوصاف) باشعور لوگ جانتے ہیں کہ ہر وہ ملک جس میں قانون کی عمل داری نہ ہواور قوانین بھی جو بنتے ہیںان بنیادی اصول کے مطابق بنتے ہیں۔جو آئین کے اند ر ایک سوشل کنٹریکٹ کے تحت اس ملک کے تمام عوام اس کو قبول کرتے ہیں۔انہیں آرٹیکل کے تحت ہی تمام قانونی سازی کی جاتی ہے۔ادارے بنتے ہیں،سسٹمDevelop ہوتے ہیںاور دنیا میںجوایک سسٹم رائج ہے وہاںپر قوئہ مقننہ ،قوئہ عدلیہ ، قوئہ مجریہ ہوتی ہے۔ان تینوں قوئہ کا استدلال بہت اہم ہے۔کہ ایک دوسرے سے تصادم نہ کریں۔بلکہ اپنے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے اپنے کار پر عمل کرے۔پھر انہیں کے ذیل میں بعض ایسے ریاستی ادارے بھی وجود میں آتے ہیں۔جن کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت بھی ہے اور بعض انتظامی ادارے ہیں۔جن کاکام ملک کےاندر لوگوں کی جان ، مال، اور عزت کی حفاظت اور قانون کی عمل داری کرنا ہوتا ہے۔اب جب قانون کی عمل داری ہواور جتنے بھی ادارے ہیںوہ اپنے قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئےاپنی ذمہ داریوں کو انجام دیںتو میرے خیال میں مشکلا ت وجود میں نہیںآتی مسائل وہی جنم لیتے ہیںجہاں قانون شکنی شروع ہوتی ہے اور آئین اور قانون کو پائوں تلے روند دیا جاتا ہے،افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاںکبھی آئین کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں قانون کو بنانے والے اور نافذ کرنے والے ہی قانون کو پائوں تلے روند دیتے ہیں۔اس کی تحقیر اور مذمت کرتے ہیں۔اس کی حرمت اور تقدس کو پامال کرتے ہیںتو یہیں سے لوگوں کے اندر بھی جرأت اور حوصلہ پیدا ہوتا ہےاور پھر یہاں سے کرپشن ، فساد اور قانون شکنی کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میںامن و امان ہوں کرپشن نہ ہو،فساد نہ ہو ،ترقی ہو پیش رفت ہو۔ہم civilizedہوں ہم Culturalہو جائیں ہم مہذب ہو جائیںتو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم قانون کی عمل داری اور آئین کی تعین کردہ حدود کے اندر رہ کر اقدامات کریں۔اگر ہم کوئی ایسا اقدام کریں گے جو آئین کی حدود سے بالاتر ہو گا جو کوئی بھی ہوگا مشکلات کو پیدا کرے گا۔مشکلا ت کو حل نہیں کرے گا۔وہ بحران کو اور زیادہ بڑھائے گا بحران کو حل نہیں کرے گا۔چاہئے وہ technocratہوں۔چاہئے کوئی بھی ہو۔ کوئی بھی عمل جو قانون اور آئین کے دائرہ کار سے باہر ہو گا۔ وہ درست نہیں ہے،وہ ہمارے ملک کے اندر نہیں ہونا چاہیے ۔ہم کئی تجربے گذشتہ  70 سال کے اندرچکے ہیں۔ ہم نے کتنی بار قانون اور آئین کو پائوں تلے روندا ہے۔ نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ آئیں ہیں۔کہ ہم یہ کر دیں گے ، ہم سب ٹھیک کر دیں گے۔بالآخر خرابی اور بربادی کے سوا ہمیںکچھ نہیں ملا۔


پس جو بھی قد م اُٹھایا جائے وہ قانون اور آئین کے دائرے کے اندر رہتے اُٹھایا جائےقانون اور آئین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے بحرانوں کے حل کے لئے ضروری ہے۔

    1۔  ایک ایسا الیکشن کمیشن بنایا جائے جو بااختیار ہویعنی اس کے اندر کرپٹ اشخاص نہیں ہوں،بائیومیٹرک الیکشن ہونے چاہیں،بائیو میٹرک سسٹم لانا چاہیے۔
    2۔ آئین کی عمل داری ہونی چاہئے
    
اگر ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ کا اثر رسوخ افغانستان کے اندر کم کریں اور انڈیا کوCondemn کریں تو پاکستان ،چین روس،ایران،ترکی ان پر مشتمل ایک الائنس بن جائے۔جس کے نتیجے میں افغانستان میں امریکن اثر رسوخ کم ہو جائے گا اور انڈیا Condemnہوجائے گا اور پاکستان کا چائنا پر انحصار کرنا بھی کم ہو جائے گا۔ اب دنیا unipolar worldنہیں رہی بلکہ پاور کے اعتبار سےRe-shape ہو رہی ہے۔امریکن گلف میں آئے تھے۔دنیا کو Re-shape کرنے کیلئے وہاں یہ شکست کھا گے ہیںوہاں ان سے شام نہیں ٹوٹا، اگر شام ٹوٹتاتو شام ایشیاء کی بلڈنگ کی وہ اینٹ ہےجو اگر نکل جاتی توعراق ، ترکی ، ایران ، افغانستان، چائنا اور پاکستان نے بھی ٹوٹنا تھایعنی سنٹرل ایشیا ءپورے کا پورا تباہ و برباد ہو جاتاامریکن کو Western Asia میںResistance کے بلاک روس اور چائنا نے ملکر کائونٹر کیا۔UNO میںآٹھ ویٹو ہوئے ہیں جن میں سے چھ میں روس اور چائنہ اکٹھے ہیں ،اگر روس اکیلا بھی ویٹو کرتا تو بھی کافی تھا ۔لیکن چین بھی ساتھ ویٹو کر رہا تھا۔۔۔۔کیوں؟؟؟

چین کے سوریاکے اندر Economic Interests نہیں تھے۔Strategic Interestتھے۔چین کو پتہ تھا اگر سوریا ٹوٹا تو پھر بات چائنہ تک آئی گی۔لہذا چین بھی وہاں کھڑا ہو گیا اوUNOمیں ویٹو کرنا شروع ہو گیاجس کے نتیجے میں امریکن اور اسرائیل کو شکست ہو گی۔شکست کیسے کھائی ؟؟؟ ان کا خیال تھا کہ شام کی حکومت کو گرا کر ان ممالک کو توڑیں گے،سعودی عرب کو بھی توڑیں گےاور ان تمام اسلامی ممالک کو توڑ کر چھوٹے چھوٹے قطر اور کویت بنائیں گےجن میں اپنی مرضی کے حکمران لائیں گے۔ اور ان ممالک میں آپس میں اختلافات پیدا کریں گےکیونکہ مسلم ممالک کی پاور امریکہ اور اسرائیل کیلئے ایک بہت بڑاخطر ہ ہےجیسے کہ انہوں نے روس کوتوڑا او ر وہ روس کو اور مزیدتوڑنا چاہتے تھے،اسرائیل پر پہلے ہی بہت پریشر ہے۔وہ غزہ کے اندر فلسطینیوں کو کائونٹر نہیں کرپا رہاوہ حز ب اللہ کو کنٹرول نہیں کر پا رہا۔

 امریکہ اور اسرائیل نے جو داعش بنائی تھی سوریا کیلئے وہ اب منتقل کر رہے ہیں لیبیااور افغانستان میں تا کہ لیبیامیں افریقی ممالک مصر، الجزائر ،تیونس اوریمن کوDisturb کرے اور افغانستان میں داعشوں کے ذریعے افغانستان، چین، تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کوDisturbکریں۔انہی داعشوں کے ذریعے یہ سی پیک کو بھی Disturbکرنا چاہ رہے ہیں۔

    Weldonal نے اپنی تاریخ تمدن میں لکھا ہےکہ پاور ہمیشہ یورپ اور ایشیاء میںمنتقل ہوتی رہی ہےاور امریکہ میں Extention ہے یورپ کی جبکہ اب پاور ایشیاء کی طرف منتقل ہورہی ہے، ایشیاء میں جو پاور کا منتقل ہونا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ
    1۔     آبادی کے لحاظ سے بہت بڑا براعظم
    2۔    ری سورسس (ذرائع)کے لحاظ سے بہت ریچ ہے۔
    3۔     منڈی بہت بڑی ہے۔
    4۔     سکیل مین پاوردنیا کی بیسٹ پاور ہے۔
    5۔    لیبر سستی ہے۔
    6۔    دنیا کے جتنے بھی بڑے مذاہب ہیں ان کی پیدائش کی جگہ ایشیاء ہے( مسیحیت،یہودیت،اسلام،بدھ مت،ہندو مت)
        
اب امریکی یہ چاہتے ہیں کہ کائونٹر کریںایشیاء کی طرفShift of Power کو، پہلے مرحلے میں اسکو (Slow) آہستہ کریںپھر روک دیں ۔۔۔کیسے ؟؟؟ ایشیاء کو عدم استحکام کا شکار کریںایشیاHeart Point کو ڈسٹرب کیا جائے۔جس طرح انسان کے جسم میںHeart Point ہوتے ہیں یعنی دل ڈسٹرب ہوجائے تو سارا جسم ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ایشیاء کے Heart Point کون سے ہونگے؟جہاں ذرا سی بھی ہل چل ہوگی تو ساری دنیا متاثرہو گی،ایکHeart Point ایشیاء کا ویسٹرن ایشیاء تھاجہاں آئل ہے، جہاں ساری دنیا آئی ہےوہاں ڈسٹرب کیا جائے،جنوبی ایشیاءHeart Point ہے۔جہاں ساری دنیا آئی گی ، امریکہ،چائنا ،روس آئے گا۔ افغانستا ن اور شمالی کوریا ، مغربی کوریا بھی ایسا ہی ہے۔اس کو بھی ڈسٹرب کیا جائے۔کیسے؟؟؟ بعض جگہ پر تکفیریت کے ذریعے مذہبی انتہا پسندی کے ذریعے جہاں ممکن ہے،ویسٹرن ایشیا ء میں ممکن ہے اور جہاں یہ ممکن نہیں ہے وہاں نسلی فساد پیدا کریں اور آزادی کی تحریکیں چلیںاور اس کے علاوہ ممالک کے آپس کے اختلافات پیدا کرناجیسے پاکستان انڈیا، چائناانڈیا، پاکستان ایران،ایران ترکی، ترکی عراق، سوریاایران، سعودیہ ایران،چائنا فلپائن، نارتھ کوریا سائوتھ کوریا،کے اختلافات کو ہوا دی جائے۔تاکہ ایشیا ء کو ڈسٹرب کیا جائے،اتنا ڈسٹرب کیا جائے کہ یہ اس قابل نہ ہو کہ یہ دنیا کو لیڈ کر سکے۔

اب اس سارے منصوبے کو کیسے کائونٹر کیا جا سکتا ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیااب پاکستان ، چین ، روس ، ایران، ترکی اور عراق ملکر کر ایک الائنس بنالیں تو یہ کائونٹر ہو سکتا ہے۔ان ممالک کے فورم بننے چاہیں۔Asian Nation کے فورم بننے چاہئیں۔دانشوروں کے فورم بننے چائیں۔صحافیوںکے فورم بننے چائیں۔پارلیمنٹرینز کے فورم بننے چائیں۔ادیبوں کے فورم بننے چائیں۔شعراء کے فورم بننے چائیں۔ایشیاء لیول پر کوششیں ہونی چایئے، پاکستان ایشیاء کے اندر ہے پاکستان زبر دست جگہ پر ہے۔اللہ نے پاکستان کوGeo Political location دی ہے۔یہ وہ ملک ہے جو پانچ ارب انسانوں کو آپس میں ملاتا ہے۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کےEast اور North میں دنیا کی 40% فیصد آبادی ہے اور یہاں سے ہی روس اور ترکی کے راستے نکلتے ہیںجہاں پر آئل کے ذخائر موجود ہیں وغیرہ اب آپ خود ہی سوچیں جب یہ خطہ اتنا اہم ہے ۔تو آپ کو یاد ہو گاکہ برصغیر جب تقسیم نہیں تھا تو سکندر اعظم اُٹھتا ہے اور مکدونیہ سے یہاں آتا ہے۔مغل وہاں سے آئے،برطانیہ سے انگریز یہاں آئے۔ کیوں؟؟؟؟

برصغیر بہتRich تھا،دنیا کے بلند و بالا پہاڑ یہاں،عظیم دریا یہاں،سرسبز و شاداب زمینیں یہاںیہ خطہ بہتRich تھا لوگ یہاں آ کرقبضہ کرتے تھے لوٹتے تھے ۔انگریز کیو ں یہاں آئے تھے،اسی طرح پاکستان بہت اہم جگہ پر واقع ہے، اب اگر پاکستان مضبوط ہوتا ہے اور امریکن بلاک سے نکلتا ہے تو اس پورے ایشیا ء کو فائدہ ہےاور اگر پاکستان کمزور ہوتا ہے تو امریکہ کا National Interest اسی کامتقاضی ہے،جسطر ح روس کی ex-worldگوادراینڈHot Waterمیںا مریکن اورEuropean National Interest کوThreatsکرتی تھی،اسطرح چائنا کی ریچ ورلڈ گوادریہ بھی امریکن اورEuropean National Interest  کوThreatsکر تی ہے،اس کو کائونٹر کرنا چاہتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کمزور ہو وہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیںتاکہ پورا ایشیاء ہلتا رہے ڈاواں ڈول رہےیہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی فیصلہ ہو تا ہے چاہئے غلط ہو یا ٹھیک ہو اس میں امریکہ کا عمل دخل ہوتا ہے، کیونکہ ہمارے سیاستدانوں، بیوروکریٹ اور ٹیکنو کریٹس میں اتنا زیادہ امریکن اثر رسوخ ہے کہ جسکو کائونٹر کرنے کے لئے ہماری قوم کےاندر کوئی یک سوئی نہیں کہ ہم اس کو کائونٹر کر سکیں۔اب تو دشمن کی بھی شناخت اور پہچان ہمارے ملک کے اند ر نہیں ہے۔کوئی کہتا ہے انڈیا ہمارا دشمن ہے کوئی کہتا ہے انڈیا دشمن نہیں ہے مودی دشمن ہے،جو قوم اپنے دشمن کے مقابلے میں کنفیوژہو وہ اس کا کیسے مقابلہ کر سکتی ہےوہ تو شکست کھاتی ہےوہ تو سائے سے لڑتی رہتی ہے،کون دشمن ہے ہمارا انڈین اسٹیبلشمنٹ دشمن ہے یا مودی دشمن ہے؟ امریکہ دشمن ہے یا اسرائیل دشمن ہے،کون دشمن ہے ہمارا؟؟؟ اتنا زیادہ امریکن اثر رسوخ پایا جاتا ہے کہ اپنے دشمن کی پہچان کرنا مشکل ہے۔

سوال:سوریامیں امریکہ و اسرائیل کیسے ناکام ہوا؟

علامہ راجہ ناصرعباس: اصل ناکامی اس کو کہتے ہیں کہ جو وہ اہداف لے کر آیا تھا اس میں وہ اس میں ناکام ہواآپ دیکھ لیں پاکستان میں مسلکی لڑائی نہیں ہے،افغانستان میں مسلکی لڑائی نہیں ہےاگر یہاں مسلکی لڑائی ہوتی تو گلی گلی ، کوچہ کوچہ لڑائی ہوتی،امریکن نے اس پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی لیکن وہ ناکام ہوئے ہیں۔

سوال:آئندہ الیکشن میں آپ کی جماعت کا کیا رول ہوگا ؟

علامہ راجہ ناصرعباس :میں پاکستان کے آئین پر یقین رکھتا ہوںاور پاکستان کے آئین کی روشنی میں جو جمہوری جدوجہد ہے وہ ہمارے لئے ایک درست راستہ ہے۔لہذا ہم الیکشن سے تو کبھی بھی ہم اپنے آپ کو باہر نہیں کریں گے،اب الیکشن کے اندر اب جو بہترین صورت حال ہے وہ الائنس ہے۔عموماً پارٹیاں الائنس کرتی ہیں اگر الائنس نہ بھی ہوتا تو پھر بھی ہم الیکشن میں جائیں گے۔ہمارا مقصد ہے کہ پاکستان علامہ اقبال اور قائد اعظم والا پاکستان ہو،جہاں آئین اور قانون کی عملداری ہو، Discrimination کے خلاف اسٹینڈ لینے والے ہوںDiscrimination کو سپورٹ نہ کریں،پاکستان کو ایک مسلم پاکستان بنائیںاس کو انتہا پسند پاکستان نہ بنائیںجہاں تعلیم ،صحت اور ترقی کی راہیں کھلتی ہوںپاکستان میں مسلک کے نام پر کبھی بھی جماعتیں نہیں بننی چاہیں تھیں ہم مجبور ہوئے ہیں جماعت بنانے پرجب بسوں سے اُتار کر شناختی کارڈ چیک کر کے قتل کیا گیامساجد اور امام بارگاہوں میں بم بلاسٹ کیے گئےہمارے لوگوں کو پاراچنار میں محصور کیا گیااس وقت ہماری بات کوئی سننے کیلئے بھی تیار نہیں ہوتا تھامیڈیا میں کوئی ہماری خبر تک نہیں دیتا تھاکاش ریاست اپنی ذمہ داری ادا کرتی تو آج اس ملک میں مسلکی بنیادوں پر جماعتیں کبھی نہیں بنتی۔

جیسے پاکستان مسلم لیگ کوئی مسلکی جماعت نہیں تھی اور جو مسلک کی بنیادوں پر جماعتیں تھی وہ پاکستان بننے کے خلاف تھیں،پاکستان مسلم لیگ برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کر رہی تھی، اس میں تمام مسلمان شریک تھے حتیٰ غیرمسلم بھی اس میں شامل تھےاور جو جماعتیں برصغیر میں مسلکی بنیادوں پر بنی تھیں وہ تو پاکستان بننے کی مخالفت کر رہی تھیں، کاش ایسا نہ ہوتا ہمارے ملک کے اندر اور ہم نے جیسے پاکستان بنایا تھا ویسے ہی اسے آگے بڑھانے کی سیاسی جدوجہد کرتے ، ہم نے اس ملک کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، قومی ، مذہبی، لسانی بنیادوں پر ہم نے جماعتیں بنا کر پاکستان کو تقسیم کر دیا ، ریاست کہاں گئی، اس طرح کی جماعتوں اور گروہوں نے وہ جذبہ ختم کر دیا، کاش ہم دوبارہ وہ جذبہ اور ولولہ حاصل کر لیں جس کے تحت پاکستان بنا تھا، موجود ہ مسلم لیگ اس نہج پر نہیں ہے، اس کے سربراہ کو سپریم کورٹ نااہل قرار دیتی ہےاور پانچ ججز نے اتفاق رائے سے فیصلہ دیا اور آپ ان پر چڑھ دوڑے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ قانون جدوجہد کرتے، بھٹو کو پھانسی دی گئی تو اس کی بیٹی نے سیاسی جدوجہد کی، جن کا قانون پر ایمان ہوتا ہے وہ سختیاں جھیلتے ہیں، وہ قانون کو پاوں تلے نہیں روندتے ، مثال کے طور پر امام حسین علیہ السلام جب مکہ سے کربلا کی طرف جارہے تھے تو راستے میں انہیں حر کا لشکر ملا، امام حسین علیہ السلام نے انہیں پانی دیا، ان کے جانوروں کو بھی سیراب کیا، جینے کا حق ہر کسی کو ہے یہ ہے بنیادی انسانی حقوق پر عمل ،لیڈرشپ کارویہ یہ ہوتا ہے، یہ لوگ معاشرے کو لیکر آگے بڑھتے ہیں، اب ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان آنا ہی نہیں ہے،  یہ کیسے حکمران ہیں، باپ حکمرانی کرنے آئے گا، بیٹے آتے ہی نہیں ہیں، ہمارے عوام سادہ لوح ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ مالدار ہو گئے ہیں۔ حکومتی اسٹیل مل کمزور ہو گئی ہے ان کی طاقتو ر ہو گئی ہے۔ کتنا ظلم ہے کہ ستر سالوں میں ہمیں قوم نہیں بننے دیا گیا، حالانکہ ہم میں اس کی صلاحیت موجود ہے، کشمیر میں زلزلہ آیا تو لوگ کیسے نکل کھڑے ہوئے تھے ، لیکن ہمیں فوجی اور سیاسی حکمرانوں نے قوم نہیں بننے دیا۔

ہم مسلکی بنیادوں پر سیاست کے مخالف ہیں، ہم نے اہل سنت کے ساتھ قربتیں پیدا کیں، شیعہ سنی جھگڑے کو ختم کیا، ہم سیاست بھی ایسی نہیں کریں گے جو مسلکی ہو، کاش قائداعظم کی مسلم لیگ دوبارہ بن جائے۔ جب سے مجلس وحدت مسلمین بنی ہے ہم نے دھرنا دیا ہے، پتھر نہیں مارا۔  جب ہمارے لوگ زیادہ مر رہے تھے تو ایک امکان تھا کہ ملک میں عسکریت پسندی جنم لے گی،  ایم ڈبلیو ایم جب بنی تو ہم نے پہلے کہا کہ ہم نے ملک کے اندر اسلحہ نہیں اٹھانا اور اہم نے اس کی قیمت دی ہے، آئین اور قانون کی حکمرانی میں رہتے ہوئے کام کیا ہےاسلحہ اٹھانے سے بربادی ہوتی ہے۔

ہم اگر انتہا پسند ہوتے تو صاحبزادہ حامد رضا اور ڈاکٹر طاہر القادری کا ساتھ نہ دیتے، ضیاءاللہ بخاری شاہ صاحب اچھے دوستوںمیں سے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ۔۔۔
وطن سے محبت کی انتہا نہیں بھول سکتا ، جس دن پاکستان دو لخت ہوا، میرے والد ریڈیو کمنٹری سنتے تھے، اٹھتے تھے بیٹھتے تھے، دکھ کا اظہار کیا اور انہیں ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ میں تو اس دن یتیم ہو گیا تھا، جس دن پاکستان ٹوٹا۔
مسلک دین سمجھنے کا ذریعہ ہے نہ کہ انسان دین کے نام پر دوسروں کے گلے کاٹے۔

امام خمینی اسلحہ کے زور پر نہیں بلکہ عوامی طاقت کے بل بوتے پر انقلاب لیکر آئے۔

پارا چنار چار سال محاصرے میںرہا، چاروں طرف سے حملہ کیا جاتا تھا، ان کی ناموس محاصرے میں تھی، یہ مجلس وحدت مسلمین وہیں سے بنی،  اس تمام معاملے پر اخبار میں خبر نہیں چھپتی تھی اور صوبائی حکومت بھی بات نہیں سنتی تھی، وہ کہتے تھے پارا چنار چھوڑ دو کہیں اور پناہ لے لو،اب ایسی صورتحال میں کہ جب چار اطراف سے حملہ ہوگا آپ دفاع نہیں کریں گے،پاراچنار کے لوگ محب وطن اور پڑھے لکھے ہیں، پارا چنار کا لٹریسی ریٹ اسلام آباد کے برابر ہے، وہاں ہیروئن کی فیکٹریاں نہیں ہیں، یہ ایک ایسی ایجنسی ہے جہاں پاکستان کا جھنڈا لہراتا ہے، پاکستان کے خلاف کوئی کام نہیں ہوتا۔ فوج پر حملہ نہیں ہوتا، تذویراتی حوالوں سے بھی بہت اہم ہے تین اطراف میں افغانستا ن ہے، یہ علاقہ افغانستان کے اندر گھسا ہوا ہے،اس لئے طالبان اس علاقے کے باسیوں کو مار رہے تھے۔  اس علاقے کے لوگوں کا 1500 بندہ مارا گیا ہے۔

آج کی فرقہ واریت ضیاالحق کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے،  جمہوریت کے خلاف اقدام اٹھایا گیا، ایک خاص سوچ کے لوگوں کو پروان چڑھایا گیا۔ امریکہ نے پیسہ لگایا اور پاکستان کو تختہ مشق بنایا گیا۔ ملک میں علمائے کرام کو بے گناہ قتل کیا گیا ، یہ عالمی سازش اور ان کی Investmentہے۔

ٓٓٓانگریز نے مسلمانوں کی طاقت توڑنے کے لئے انہیں تقسیم کیا مسلم لیگ میں سنی اور شیعہ اکٹھے تھے توپاکستان بن گیا اسی وجہ سے انہیں آپس میں لڑوا دیا گیا تاکہ یہ طاقت نہ بن جائیں۔

پاکستان مسلم امہ میں ایک فعال ملک ہوا کرتا تھالیکن اسے اب مسائل میں الجھا دیا گیا ہے۔

سعودیہ کے ساتھ اگر ہمارے تعلقات اچھے ہوں گے تو ا س ریجن کافائدہ ہے، پاکستان اکیس کروڑ عوام کا ایک ایٹمی ملک ہے،  اس کے تعلقات کسی بھی ملک کے ساتھ خراب نہیں ہونے چائیں ۔

 سوال:کالعدم جماعتوں کا بڑا شوشا ہے ان کو الیکشن میں آنا چاہے یا نہیں؟
جواب: میں کہتا ہوں پاکستان کے آئین اور دستور پر عمل ہونا چاہے مثال کے طور پر ایک آدمی کو قتل کر دیا جاتا ہے جو شادی شدہ نہیں تھا
جس نے قتل کیا وہ شادی شدہ تھا اب اسلام نے کیا کہا اسکو سزا دو  پھانسی کی اب قاتل کے بیوی بچے بھی ہیںاگر اسکو پھانسی دی جائے تو اس کے بچے یتم ہو جائیں گے اور گھر اجڑ جائے گا اب اسلام جزوی چیزوں کو نہیں دیکھتا اسلام  As a whole دیکھتا ہے اسلام ہر بات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتا ہے اور قانون بنتا ہے ممکن ہے کسی ایک کو نقصا ن ہو لیکن As a whole پوری سوسائٹی کو فائدہ ہے قانون اور آئین کے مطابق عمل ہونا چاہئے نہ انصافیاں جرائم کو جنم دیتی ہیں۔

سوال: یہ فرقہ وارنہ جنگ کیوں ہوئی پاکستان میں اور دونوں طرف سے لٹریچر چھپا؟
علامہ راجہ ناصرعباس: پاکستان میںکبھی فرقہ ورانہ جنگ نہیں ہوئی البتہ فرقہ وارت ہوئی ہے اور اس کی بنیادضیاءالحق نے رکھی یہ پاکستان کی ڈیموکریسی کے خلاف ہوئی یہ افغان پالیسی کا رزلٹ ہے، انہوں نے مخصوص لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کیا ان کے لشکر بنائے پلان امریکہ کا تھا پیسہ دوسرے ملکوں کا تھا اور اجرا پاکستان نے کیا بر صغیر میں جب بر طانیہ آیا توحکومت مسلمانوںسے چھینی تھی جو مسلمانوں کا حق ہے اور مسلمانوں کو تقسیم کیا گیا اور یہ لٹریچربھی اس وقت چھپنا شروع ہوا ایک طرف کہتے تھے کہ فلاں کتاب لکھو ابھی کتاب پرنٹ نہیں ہوتی تھی اس کا مسودہ شیعہ دے دیا جاتا تھا کہ یہ آپکے خلاف لکھا جا رہا ہے جیسے ہی کتاب پرنٹ ہوتی تھی اس کا جواب بھی آجاتا تھا اہلسنت اور شیعہ کو تقسیم کر کے توڑا گیا مسلم لیگ میں شیعہ سنی ایک ساتھ تھے اسی وجہ سے مسلمانوں کو توڑا گیا اور فرقہ وانہ کتابیں برطانیہ کے آنے کے بعد پرنٹ ہوئی اورمجیب الرحمٰن شامی صاحب نے اپنے ایک پرگرام میں کہا یہ کتابیں انڈیا سے پرنٹ ہوتی ہیں اور ان پر ایڈریس کسی اور ملک کا ہوتا ہے ، پاکستان کے سعودیہ کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے چاہے اس سے خطے کو فائدہ ہو گا اگر کہیں حالت خراب بھی ہوئے تو پاکستان ٹھیک کر سکتا ہے پس پاکستان اکیس کروڑ عوام کا ملک ہے اور ایٹمی ملک ہے اس کا کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات کسی دوسرے ملک کے تعلقات کے ساتھ کمپرومیز نہیں ہونا چاہیے ایک سمجھ دار حکومت کی طرح سلوک کرنا چاہیے اور ان کو سیکھنا چاہے کون سی چیز میڈیا پر لانی ہے اور کون سی نہیں  ہزاروںمسائل ہوتے ہیں آپس میں حکومتوں کے۔

انٹرویو بشکریہ روزنامہ اوصاف اسلام آباد

وحدت نیوز(تفتان) مجلس وحدت مسلمین کے رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا رضوی (آغارضا) زائرین امام حسین ؑ کے آخری قافلے کے ہمراہ کوئٹہ سے تفتان بارڈر پہنچ گئے ہیں جہاں سے وہ بذریعہ سڑک اربعین حسینی ؑمیں شرکت کیلئے کربلا روانہ ہوں گے، آغا رضا نے وحدت نیوزسے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تفتان بارڈر پر اب تک پینتیس ہزار زائرین پہنچ چکے ہیں ،جن میں سے بیس ہزار سے زائد نے بارڈر کراس کرلیا ہے، جبکہ آئندہ دو روز میں باقی ماندہ زائرین بھی ایرانی حدودمیں داخل ہوجائیں گے،آغا رضا کے مطابق بلوچستان حکومت نے اربعین حسینی ؑ میں شرکت کیلئے پاکستان بھر سے فقط 140بسوں کی ایران میں داخلے کی اجازت دی تھی مگر اب تک 450کے قریب بسیں ایران میں داخل ہو چکی ہیں۔

 آغا رضا نے کہاکہ   میں نے خود ایک رات زائرین کے ہمراہ سڑک پر گزاری ان کے مسائل سنے اور ان مسائل کے حل کیلئے ایف آئی اے اور امیگریشن حکام سے ملاقات کی ، میں نے خود اپنی شناخت ظاہر کیئے بغیر لائن میں لگ کر امیگریشن کا عمل مکمل کروایاتاکہ زائرین کو درپیش مشکلات کا بخود ملاحظہ کرسکوں ، انہوں نے کہا کہ اس برس ریکارڈ زائرین زمینی راستے سے براستہ ایران کربلائے معلیٰ جا رہے ہیں، مختصرعملے اور سہولیات کی کمی کے باوجود ایف آئی اے کا عملہ شب وروز زائرین کو ایران روانہ کرنے میں مصروف ہے، جو کہ شفٹوں میں یہ ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں ، ایک روز میں پینتیس ہزار افراد کو بارڈر کراس کروانا ناممکنات میں سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے لیئے کوئٹہ سے نجف براہِ راست فلائٹ لیکر جانا کوئی مشکل کام نہیں تھالیکن اپنی قوم کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے گذشتہ برس کی طرح اس برس بھی میں نے زمینی سفر کو اہمیت دی تاکہ جس حد تک ممکن ہو زائرین کو درپیش مسائل کا حل نکال سکوں، اسی لیئے  میں کوئٹہ سے بلکل آخری قافلے کے ہمراہ تفتان بارڈر پہنچا ہوں، اس وقت کوئٹہ میں جو قافلے موجود ہیں یا تو ان کے ویزے کے مسائل ہیں یا بعض قافلہ سالار آگے جانا ہی نہیں چاہتے، انہوں نے کہا کہ قافلہ سالار اور زائرین گرامی قدر اگر نظم ضبط میں بہتری لائیں تو امیگریشن کے عمل میں تیزی آسکتی ہے جس طرح ایرانی امیگریشن میں زائرین نظم وضبط کا خیال رکھتے ہیں اس بات بھی خیال رہے کہ پاکستان سے زیادہ ایرانی امیگریشن حکام ایک زائرین پر وقت صرف کرتے ہیں ۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) عراق میں صدر پارٹی کے رہنما سید مقتدی صدر نے پچھلے اتوار (30 جولائی) کو اپنے سعودی عرب کے دورے میں سعودی امیر اورنئے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔اس ملاقات میں طرفین نے دونوں ملکوں کے درمیان موجود مسائل پر بات چیت کی ۔ اخباری ذرائع کے مطابق مقتدی صدر کا یہ دورہ سعودی عرب کی طرف سے رسمی دعوت کے نتیجے میں عمل میں آیا۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملکوں عراق-سعودی عرب کے تعلقات تعاون اور اعتماد کی فضا پر قائم نہیں تھے۔ 2003 سے اب تک عراق اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی رہی ہے۔ عراق میں  نظام کی تبدیلی پر سعودی عرب کچھ خوش نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ اس بات کی طرف بھی اشارہ ضروری ہےکہ سابق صدر صدام کے دور  میں بھی سعودی عرب اور عراق کے تعلقات کچھ اچھے نہیں رہےتھے۔

سعودی عرب کی عراق کے حوالے سے پالیسی پچھلے آٹھ سالوں میں (نوری مالکی کے دوسرے عہد حکومت اور حیدر عبادی کے دور میں) حیرت اور کشمکش پر مبنی رہی ہے۔ اور اب وہ چاہتا ہے عراق کے سیاسی میدان میں اس کا اہم کردار ہو۔ لیکن اب تک سعودی عرب نے عراق میں جتنی مداخلت کی ہے وہ  "منفی پہلو" سے ہی کی ہے جن کا مقصد علاقے میں عراقی حکومت کے مفادات کو نقصان پہنچانا تھا۔

اسی حوالے سے سابق وزیر اعظم نوری مالکی نے اپنے مختلف بیانات میں اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب نے دہشت گردوں اور عراقی اپوزیشن لیڈرز کو بہت زیادہ سپورٹ کیا ہے۔ اسی طرح عراق میں خودکش حملوں اوربم دھماکوں میں سعودی عرب کا ہاتھ رہا ہے۔

دوسری طرف نئے عراقی وزیر اعظم حیدر عبادی، جنہوں نے نور مالکی کے بعد 2014 میں اس عہدے کا حلف لیا تھا، نے ہمیشہ عراق سعودی عرب تعلقات کو بہتر بنانےاور اس میں موجود  سرد مہری کو توڑنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب نے دسمبر 2015 میں ، 25 سال کے بعد بغداد میں اپنی سفارت کھولی، اور ثامر سبہان کو نیا سفیر مقرر کیا۔ اس کے  دو مہینے بعد سعودی عرب نے صوبہ کردستان کے دار الحکومت اربیل میں قونصل خانہ بھی کھول لیا تھا۔

لیکن نئے سعودی سفیر کے بغداد پہنچتے  ہی عراق میں احتجاجات نے شدت پکڑ لی تھی۔ ان احتجاجات میں صدر پارٹی (مقتدی صدر)کے لوگ پیش پیش تھے۔ اسی طرح اربیل میں قونصل خانہ کھولنے کے بعد کردستان کی حکومت اور عراق کی مرکزی حکومت کے تعلقات بھی کشیدہ ہو گئے تھے۔

حیدر عبادی کی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجات میں سعودی سفیر سہبان کا کردار اہم تھا۔ اسی طرح حشد شعبی کے خلاف سعودی سفیر کے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا اورعراق کے سعودی عرب سے  سیاسی تعلقات بہت بگڑ گئے تھے۔عراقی عوام نے سفیر کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ کچھ عرصے بعد عراقی حکومت نے سعودی عرب سے اپنا  سفیر تبدیل کرنے اور سہبان کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی دوران اربیل میں موجود سعودی قونصل خانے نے کردستان اور مرکزی حکومت کے تعلقات بگاڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی حوالے سے عراق میں قطر کے سفیر "زاید سعید راشد کمیت الخیارین" نےڈیلی صباح کے ساتھ  اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا  کہ سعودی بادشاہ کے مشیر "عبد اللہ بن عبد العزیز بن محمد ربیعہ" نے کرد علاقے کا دورہ کیا تھا اور کردستان صوبے کے صدر مسعود بارزانی سے ملاقات کی تھی اور اربیل کے لیے بہت زیادہ مالی امداد کا بھی اعلان کیا تھا۔ اور پھر ربیعہ نے بارزانی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے تعلقات مقتدی صدر سے بہتر کریں تاکہ  اس طرح عراقی شیعوں میں پھوٹ ڈالا جا سکے۔

اس حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ ثامر سہبان، سابق عراقی سفیر، جو اس وقت سعودی وزارت خارجہ میں خلیجی ممالک کے امور کے وزیر ہیں، اس وفد میں پیش پیش تھا جس نے صدری تحریک کے رہنما  سید مقتدی صدر کا جدہ ائیرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا تھا۔

اس بات سے قطع نظر کہ مقتدی صدر کے  اس دورے کا مقصد کیا ہے، سعودی عرب کا عراق سے جارحانہ رویہ، عراق کے اندرونی معاملات میں سعودیہ کی منفی مداخلت اور دوسری طرف مقتدی صدرکا آل سعود خصوصا نئے ولی عہد پر حد سے زیادہ اعتماد عراق کے اندر نئی سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوں گے۔ اسی طرح سےان تمام چیزوں کا تعلق صدری تحریک  اور اس کے صدر مقتدی کے سیاسی مستقبل سے بھی ہے۔

دوسری طرف عبد المہدی نے اپنے ایک آرٹیکل میں کہا ہے کہ مقتدی کا سعودی عرب کا دورہ اگر کچھ حد تک دو طرفہ مسائل کے حل میں مددگار ہو، اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نئی فضا قائم کرے، اسی طرح خلیجی ممالک کے قطر کے ساتھ بحران کے حل، یمن جنگ کی روک تھام، بحرین کے بحران کا خاتمہ، ایران سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے مقتدی صدر اپنا کردار ادا کریں تو یہ دورہ مناسب وقت پر مفید  دورہ ہوگا۔

ترجمہ۔۔ عباس حسینی

وحدت نیوز(آرٹیکل) ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے، دنیا میں ہر جگہ دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں دشمن کا دوست ہمارا بھی دوست ہوتا ہے، دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے،  بھارت ہمارے پہلو سے اٹھا اوراس نے  عالم اسلام کے مرکز سعودی عرب پر کمندیں ڈال لیں،  نہرو کے زمانے سے لے کر آج تک، بھارت سعودی عرب کو مسلسل  اپنے جال میں پھنساتا گیا اور ہم سعودی عرب کی دوستی  کے جال میں جکڑتے گئے۔ ہمارے  حکمرانوں نے  کبھی ٹھہرکر یہ دیکھا ہی نہیں کہ ہم کن راہوں پر چل رہے ہیں!

جماعت الدعوۃ نامی تنظیم کے سربراہ حافظ محمد سعید اور ان کے چار قریبی ساتھیوں کی نظر بندی  کو  ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے،  یہ پابندی بھارت کی ضرورت تھی جو وہ براہ راست نہیں لگوا سکتا تھا ، یہ پابندی سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے   ان معائدوں کا نتیجہ ہے جن کی رو سے ۲۰۱۲ میں سعودی عرب نے  سید ذبیح الدین انصاری عرف ابو جندل کو ملک بدر کر کے بھارت کے حوالے کردیا تھا۔  یاد رہے کہ بھارت  نے ابوجندل کو  ۲۰۰۸ کے بمبئی حملوں اور  بعد ازاں پونا میں ہونے والے دھماکوں  کا ماسٹر مائنڈ  اور دیگر متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

بعد ازاں  چند سالوں کے اندر سعودی اور بھارتی ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے  سے  سعودی حکومت نے محمد اسداللہ خان عرف ابو سفیان،  اور  محمد عبدالعزیز کو بھی  گرفتار کیا تھا۔  قابل ذکر ہے کہ مذکورہ افراد کئی سالوں سے بھارت کو مطلوب تھے۔ بھارت کو مطلوب افراد میں سے ایک بڑا نام حافظ سعید صاحب کا ہے جن  کو ہماری سعودی نواز حکومت نے  پاکستان میں ہی نظر بند کر دیا ہے۔

ہمارے حکمرانوں نے بھارت کا دیرینہ مطالبہ تو پورا کردیا لیکن یہ نہیں سوچا کہ اس سے  تحریک آزادی کشمیر پر کیا اثرات مرتب ہونگے اور دہشت گردوں کو کیا پیغام پہنچے گا!؟

دہشت گرد اچھی طرح جان چکے ہیں حکومت کی طرف سے ان پر کوئی دباو نہیں، کسی کو فیس بک پیجز  سے اٹھا کر سزا دی جاتی ہے اور کسی کو کشمیر کاز پر سمجھوتہ نہ کرنے کی وجہ سے،  لیکن خود دہشت گرد چونکہ  بھارت کے بجائے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اس لئے ان کے لئے کسی قسم کی نظر بندی نہیں ہے۔

اس وقت   تقریباً پچیس لاکھ بھارتی  باشندےسعودی عرب میں  اور ستر لاکھ دیگر خلیجی ممالک میں  مشغول کار ہیں۔ سعودی عرب کے لئے ایشا کی منڈی میں بھارت سے بڑی مارکیٹ کوئی اور نہیں چنانچہ   سعودی آرامکو جو کہ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ہے، اس نے  بھارتی آئل ریفائنریوں میں  بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

اس وقت بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات فقط اقتصاد اور مشیشت تک محدود نہیں ہیں بلکہ    ان کے تعلقات کا دائرہ پالیسی افئیرز تک پھیل چکا ہے۔ بھارت سعودی پالیسیسز  کے اشتراک کی وجہ سے اب بھارت براہ راست بھی ہمارے حکمرانوں کو ڈکٹیٹ کر رہا ہے ، جیسا کہ  نریندر مودی کے قریبی دوست سجن جندال نے  وزیراعظم سے  مری میں خفیہ ملاقات کی۔

دوسری طرف  ہماری موجودہ حکومت نے سینٹ کو اعتماد  میں لئے بغیر جنر ل راحیل شریف کو سعودی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے لئے بھیج دیا۔ بھیجنا تو آسان تھا لیکن  اس وقت سعودی اتحاد کا یہ حال ہے کہ    خود وزیراعظم نواز شریف سعودی قیادت سے ملاقات کر کے ان کے باہمی اختلافات کو حل کرنے کے چکر میں ہیں۔ اس موقع پر  سیانے کہتے ہیں کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔

ہماری سعودی عرب کے نزدیک کیا اہمیت ہے،  اس کا اندازہ ،ریاض کانفرنس میں ہی سب کو ہوچکا ہے۔ البتہ یہ دورہ خلیجی ممالک کے اختلافات سے ہٹ کر بھی ،   اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ ریاض  کانفرنس میں   ہونے والی بے عزتی کو دھویا جاسکے اور عوام کو یہ کہا جا سکے  کہ دیکھو! دیکھو!  اب کی بار تو ہمیں  اچھی طرح لفٹ کرائی گئی ہے۔

اسلامی اتحاد کی آڑ میں  جنرل راحیل کو  سعودی عرب کی بارگاہ میں پیش کرنے والے حکمرانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس اتحاد کے نزدیک اب تو قطر بھی دہشت گرد ہے۔ یعنی جو بھی اسرائیل اور امریکہ کی غلامی سے انکار کرے وہ اس سعودی  اتحاد کی نگاہ میں دہشت گرد ہے اوراس کا سارا منفی  کریڈٹ پاکستان کو جا رہا ہے  چونکہ اس شرمناک اتحاد کی کمان ایک  پاکستانی ریٹائڑڈ جنرل کے پاس ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے  ایٹمی قوت ہونے اور پاکستان کی  بہادرآرمی کی وجہ سے پاکستان کا پوری دنیا میں ایک وقار تھا جو نا اہل حکمرانوں نے اس سعودی اتحاد پر قربان کردیا ۔

 اس وقت سعودی عرب کی حالت یہ ہے کہ  آج  سعودی عرب کی حکومت نے قطری حمایت یافتہ عالم دین یوسف القرضاوی کی تمام کتب پر سعودی عرب میں مکمل طورپر پابندی عاید کردی ہے۔  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قرضاوی کا کیا قصور ہے ؟ کیا قرضاوی  اب نعوذ باللہ کافر ہو گئے ہیں؟ کیا  کسی ملک کی مخالفت یا حمایت سے علما کا علم اور دین  بھی تبدیل ہوجاتاہے ؟

 یہ پابندی سراسر ،  ایک بزرگ  عالم دین اور علم دین کی توہین ہے۔  آخر ملکی و قومی  تعصب کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ،  عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کے وزیر تعلیم احمد بن محمد العیسیٰ نے تصدیق کی ہے کہ  معروف مصری  عالم دین  یوسف القرضاوی کی تمام کتب پر پابندی  لگا دی گئی ہے  اور اسکولوں اور جامعات کے نصاب سے ان کی تمام کتابیں  نکال دی گئی ہیں۔  نیز اس کے بعد ان کی کتب کی سعودی عرب میں طباعت و اشاعت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ کونسا اسلام ہے؟ کل تک  ایک عالم دین کی  کتابیں سعودی عرب کے سکولوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل تھیں ۔ آج سعودی وزارت تعلیم  کی طرف سے  ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یوسف القرضاوی کی کتب کو نصاب سے نکالیں اور لائبریریوں میں موجود ان کی کتب کو وہاں سے ہٹایا جائے۔

ممالک کے درمیان اختلافات ہوتے رہتے ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی سعودی عرب کی مخالفت کرے تو وہ اسلامی اتحاد سے بھی نکلے گا اور اسلام سے بھی نکل جائے گا۔

پاکستان کی موجودہ نااہل اور کرپٹ حکومت ، ایک طرف سے قطری خطوط کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور دوسری طرف سعودی عرب کی کھودی ہوئی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔

ایسے میں پوری پاکستانی عوام اور پالیسی ساز اداروں کو چاہیے کہ وہ لاتعلق ہو کر نہ بیٹھیں اور  اس ملک کو حکمرانوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھنے سے روکیں،  موجودہ  صورتحال   میں بین الاقوامی سطح پر عالمی لیڈروں کے  چہرے بے نقاب ہوتے جارہے ہیں ، ہمیں چاہیے کہ ہم بھی ان چہروں کو بحیثیت قوم اچھی طرح پہچان کر اپنی  ملکی و قومی پالیسیاں بنائیں اور حقائق کے مطابق فیصلے کریں۔

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Page 1 of 20

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree