وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن و آئی ایس او پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی کی عدم بازیابی اور پنجاب حکومت کی ظالمانہ و جابرانہ اقدامات کیخلاف نماز جمعہ کے بعد ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا، کراچی میں جامع مسجد المصطفیٰ عباس ٹاؤن، جامع مسجد حیدری اورنگی ٹاون، جامع مسجد حسین آباد ملیر برف خانہ، جامع مسجد امامیہ ڈرگ روڈ، جامع مسجد امام موسیٰ کاظم کورنگی کراسنگ، جامع مسجد بن قاسم، جبکہ مرکزی احتجاجی مظاہرہ جامع مسجد نور ایمان ناظم آباد کے باہر کیا گیا۔ احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مرزا یوسف حسین، علی حسین نقوی، علامہ مبشر حسن، مولانا صادق جعفری، مولانا علی انور، تقی ظفر، آئی ایس او کراچی ڈویژن کے صدر محمد یاسین، ثمر عباس، علامہ یعقوب صابری، میثم عابدی و دیگر نے کہا کہ بانیان پاکستان کی اولادوں کو دیوار سے لگانے والے سن لیں کہ ہمیں یقین ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس مملکت خداداد کو ہم نے بنایا تھا اور ہم ہی بچائیں گے۔ علمائے کرام و رہنماؤں نے کہا کہ ریاست کی سرپرستی میں پالے گئے ملک دشمن دہشتگرد ٹولہ آج وطن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، افغان جہاد کے نام پر ملک میں دہشتگردی اور کلاشنکوف کلچر درآمد کرنے والے آج ہماری حب الوطنی پر شک کر رہے ہیں، ہم اس وطن کے وارث ہیں، ہم پنجاب حکومت اور اس میں شامل دہشتگردوں کے سرپرست رانا ثنااللہ کے عزائم سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سید ناصر شیرازی مادر وطن کا باوفا سپوت ہے، اس کا جرم پاکستان میں اداروں کی تقدس کی بحالی اور اتحاد بین المسلمین کیلئے جدو جہد کرنا ہے، ہم مکتب اہلیبیتؑ کے پیروکار وں کو کوئی بھی دنیا کا ظالم و جابر حکمران جھکا نہیں سکتا، آج اس ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد حالات تبدیل نہ ہوئے، تو ہم شاہراہوں اور ایوانوں کا رخ کرینگے۔

علامہ مرزا یوسف حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثنااللہ اور شہباز شریف ملکی سالمیت کیخلاف سازش میں مصروف ہیں، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم سڑکوں اور حکومتی ایوانوں کا رخ کرے، ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم نے جس دشمن کا بھی پیچھا کیا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں کیلئے رسوا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں رانا ثنااللہ کالعدم تکفیری دہشتگردوں کا سہولت کار ہے، ناصر شیرازی کو دہشتگردوں کے ایماء پر رانا ثنااللہ نے اغوا کیا ہے، ہم ریاستی اداروں اور مقتدر قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملت جعفریہ کیخلاف انتقامی کاروائیوں کا نوٹس لیں۔ علی حسین نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت ہوش کے ناخن لے، جس قوم سے الجھنے کی کوشش کر رہے ہو، یہ وہ قوم ہے، جس نے چودہ سو سالوں سے یزید کا پیچھا نہیں چھوڑا، آل شریف کونسی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں، سید ناصر شیرازی ملت تشیع پاکستان کا رہنما ہے، ہم تمام شیعہ تنظیمیں، بانیان مجالس، عزاداران قومی جماعت مجلس وحدت مسلمین کے شانہ بشانہ ہیں اور ناصر شیرازی کی بازیابی کیلئے جس حد تک بھی جانا پڑے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور سپہ سالار افواج پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ناانصافی اور غیر قانونی اقدام کا نوٹس لیں اور ملک کو کسی نئے بحران کی طرف دھکیلنے سے بچائیں۔

وحدت نیوز (کوئٹہ ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے زیر اہتمام ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کی بلاجواز اور غیر قانونی گرفتاری کے خلاف جامع مسجد کلاں کوئٹہ کے باہر بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس سے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما علامہ سید ہاشم علی موسوی نے خطاب کیا، انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی کو پنجاب حکومت کی جانب سے ریاستی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے، انہوں نے عدلیہ کے تقدس کی خاطر رانا ثناءاللہ کے خلاف عدلیہ کا دروازہ کھٹکایا تھا جس کی سزا انہیں پنجاب کے گلو بٹوں کے ہاتھوں اغواء کرواکر دی گئی، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف جسٹس ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے لیئے اقدامات کریں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کے اغوا کے خلاف اسلام آباد،لاہور،ملتان،کراچی، کوئٹہ,سکردو،گلگت،سکھر اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں ایم ڈبلیو ایم ، آئی ایس اور مختلف شیعہ سنی تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔وفاقی دارالحکومت میں پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہواجس کی قیادت ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما نثار فیضی اور مولانا انصاری نے کی۔مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے خلاف اور ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کے نعرے درج تھے۔ شرکا نے پنجاب حکومت،شہباز شریف،رانا ثنا اللہ اور آئی جی پنجاب کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔مقررین نے کہا مجلس وحدت مسلمین ایک ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت ہے اورجماعت کے مرکزی سینئر رہنما ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کو اغوا کرکے حکومت پنجاب نے جس غنڈہ گردی اور سیاسی و مسلکی انتقام کا مظاہرہ کیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایم ڈبلیو ایم ایک پُرامن جماعت ہے جس کا ملکی استحکام، رواداری و بھائی چارے کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔اس جماعت نے ہمیشہ ایسی قوتوں کی مخالفت کی ہے جو ملک میں نفاق کا بیج بو کر وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔رانا ثنا اللہ اپنے بیانات کے ذریعے عدلیہ کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس کے خلاف ناصر شیرازی ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ میں پٹیشین دائر کر رکھی تھی جس پر انہیں انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے اغوا کرایا گیا ہے۔انہوں نے کہا ریاستی اداروں کو گھر کی لونڈی سمجھنے والے نا اہل حکمران اپنے انجام سے زیادہ دور نہیں ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی سابق وزیر اعظم کی رعونت کے عبرت ناک انجام سے سبق سیکھیں۔مقررین نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک ملک گیر مذہبی و سیاسی جماعت کے سینئر رہنما کے اغوا پرسوموٹو ایکشن لیتے ہوئے ذمہ دار اداروں کو طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا سیکورٹی اداروں کو دہشت کی علامت بنا کرعوام کو عدم تحفظ کا شکار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ملک میں قانون و آئین کی بجائے طاقت و اختیارات کی حکمرانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو پھر قانون کے نام پر قانون شکنی کرنے والے عناصر کے حوصلوں کو تقویت ملتی رہے گی۔

وحدت نیوز (رتودیرو، سکھر) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود علی ڈومکی کہا ہے کہ ملت تشیع ملک کی انتہائی پرامن محب وطن اور اتحاد کی داعی ملت ہے، ہمارے علمائے کرام سادات اور جوانوں کو ظالمانہ بیلنس پالیسی کے تحت اٹھایا جا رہا ہے، مجاھد ملت علامہ سید حسن ظفر نقوی تنہا نہیں پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔ جیل بھرو تحریک کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، صورتحال کا ادراک نہ کیا گیا تو ملک گیر تحریک چلے گی۔ علاوہ ازیں انہوں نے سکھر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مومنین گذشتہ کتنے مہینوں سے لاپتہ ہیں۔  جن کے بوڑھے والدین ارباب اختیار کےِ در  پر  باربار درخواست دیتے رہے مگر کوئی انہیں انصاف دینے کے  لئے آمادہ نہیں، ہم مختلف پروگراموں میں وقتاً فوقتاً بتاتے آرہے ہیں، پر آج تک انکا کوئی پتا نہیں چل پایا۔ علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ہم نے اج تک کسی مجرم کی حمایت نہیں نہ ہی آئندہ کبھی کسی مجرم حمایت کرینگے۔ مگر مظلوم کا ساتھ دینا ہمارا فریضہ ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کے ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ اگر کسی کو سزا دینی ہے تو وہ بھی آئین اور قانون کے مطابق  ہو۔ یہ نہیں ہوسکتا کے آپ کسی کو ماورائے قانون ماورائے عدالت اٹھائیں۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔  یہ ناقابل قبول ہےِ کہ آپ غیر قانونی طور پر کسی کو اٹھائیں اور اس کو پتا بھی نہ چلے کے اس کا قصور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہمارے حکمران اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کریں گے۔ ہمارے بزرگ عالم دین مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید حسن ظفر نقوی نے جیل بھرو تحریک کا آغاز کیا ہے، ہم اس کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اربابِ اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کو جلد حل کریں ورنہ ہم پورے سندھ میں احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔
اور جیل بھرو تحریک ملک گیر رخ اختیار کرے گی۔ سندھ میں اس وقت بھی ہزاروں عاشقانِ اہل بیت ع جیل جانے کے لئے تیار ہیں۔ پریس کانفرنس میں مجلسِ وحدت مسلمین ضلع سکھر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ احسان علی شر و دیگر ذمہ داران شریک ہوئے۔

وحدت نیوز(کراچی ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل،بزرگ شیعہ عالم دین علامہ سید حسن ظفر نقوی نے پاکستان میں ملت تشیع کے نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجاََ خوجا اثنا عشری مسجد کھارادارکراچی سے گرفتاری پیش کر دی اور مختلف شیعوں تنظیموں کی طرف سے ملک گیر جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا گیاہے۔گرفتاری دینے والوںمیں ایک اسیر کے نوے سالہ ضعیف باپ کے علاوہ  تصور حسین رضوی ایڈوکیٹ اوررضی حیدر رضوی بھی شامل ہیں۔گرفتاری سے قبل جبری گمشدگان کی بازیابی کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔جس میں گمشدہ افراد کے اہل خانہ سمیت مختلف شیعہ جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں چور ،ڈاکو، بھتہ خور اور جرائم پیشہ افراد کو ہر سطح پر تحفظ حاصل ہے جب کہ مظلوم عوام کو مسائل میںجھکڑا جا رہا ہے۔مقتدر اور با اختیار اداروں کے ہاتھوں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے ناقابل بیان واقعات رقم ہو رہے ہیں۔آئین و قانون کی پاسداری کا درس دینے والے کھلم کھلا قانونی شکنی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔بدعنوانی اور چوریوں کو چھپانے کے لیے آئینی ترامیم کی جا رہی ہیں۔بیس کروڑ عوام کے مسائل سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔ملت جعفریہ نے ہمیشہ حب الوطنی کو مقدم رکھا۔ہماری وطن سے محبت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ۔اپنے حقوق کے لیے آئینی و قانونی جدوجہد ہمارا شعار رہا ہے۔ملت تشیع کے نوجوانوں کی بازیابی آج کے بعد ہماری اولین ترجیح ہے۔ہم اپنے بچوں کی شکلیں دیکھنے کے لیے ترس گئے ہیں۔ہم آج تک نہیں بتایا جا رہا کہ آخر ہمارے نوجوان کہاں ہیں۔انہیں کیوں یرغمال بنایا ہوا ہے۔اگرا کسی پر غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کا الزام ہے تو  ملکی قانون کے مطابق عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے۔لوگوں کو گھروں سے اٹھا کر جبری طور پر غائب رکھنا آئین و قانون سے متصادم ہے۔ پاکستان میں اس جنگل کے قانون کی قطعاََ اجازت نہیں ۔اس غیر قانونی اقدام کے خلاف حکومت کی خاموشی ہر زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ریاستی ادارے لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو دھمکیاں دے رہے ہیں ،ملت جعفریہ اپنے نے گناہ اسیروں کی رہائی تک خاموش نہیں بیٹھے گی ،جیل بھرو تحریک پوری ملت جعفریہ کی تحریک ہے ،جیل بھرو تحریک  کا سلسلہ لاپتہ افراد کی بازیابی تک جاری رہے گا۔ ،ملت تشیع پُرامن لوگ ہیں ان کا  موازنہ دہشت گردوں اور قاتلوں کے ساتھ کرنا متعصبانہ طرز عمل اور ملک میں انارکی پھیلانے کی سازش ہے۔

انہوں نے کہا تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک ملت تشیع کا کردار کلیدی رہا ہے۔ ہمارے حکمران اس ملک کے وفاردار نہیں بلکہ وہ ملک دشمن قوتوں کے طرفدار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو فرقہ وارانہ ریاست بنانے کی کوشش حکومتی وزرا کی جانب سے کی جا رہی ہے۔علامہ حسن ظفر نقوی کی گرفتاری کے  موقعہ پر  مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ احمد اقبال رضوی،علامہ مختار امامی،مجلس علمائے شیعہ کے سربراہ  علامہ مرزا یوسف حسین،علامہ صادق رضا تقوی ، شیعہ علماء کونسل کے رہنما یعقوب شہباز،ہیت آئمہ مساجد و آئمہ جمعہ کے رہنما مولانا حیدر عباس،مولانا عقیل موسی،زاکرین امامیہ کے رہنما علامہ نثار قلندری،پیام ولایت فاونڈیشن کے رہنما نثار شاہ،صغیر عابد رضوی،علامہ نشان حیدر،علامہ مبشر حسن،حسن رضا سہیل،مولانا صادق جعفری،شفقت لانگا،راشد رضوی،مہدی عابدی،حسن مہدی سمیت دیگر شیعہ تنظیموں کے رہنما اور سینکڑوں مظاہرین موجود تھے۔

گرفتار شدگان کو پولیس وین کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ۔آخری اطلاعات آنے تک گرفتاری دینے والے افراد کو بغدادی تھانہ کراچی میں رکھا گیا ہے ۔گرفتاریوں کا یہ سلسلہ آج سے پورے ملک میں شروع کیا جا رہا ہے 13 اکتوبر کو مولانا احمد اقبال ساتھیوں سمیت جامعہ مسجد مصطفی عباس ٹاون کراچی سے گرفتاری دیں گے،بائیس اکتوبر کو ڈاکٹر علامہ عقیل موسی خراسان مسجد سے ساتھیوں سمیت گرفتاری دیں گے ،ستائیس اکتوبر کو مجاہد عالم دین مرزا یوسف حسین اور ساتھیوں کے ہمراہ جامعہ مسجد نور ایمان ناظم آباد سے گرفتاری دیں گے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرشیرازی  نے   قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحات بل کی منظوری اور کاغذات نامزدگی میں عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے شق میں تبدیلی کی شدید مذمت کی ہے، مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان  میں انہوں نے کہا ہے کہ عقیدہ  ختم نبوت جزایمان ہے، شق میں تبدیلی  کوئی بھی غیرت مند مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔     انہوں نے کہا کہ حکمران ٹولاایک مخصوص ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، مسلم لیگ ن  کی حکومت نے اپنے نااہل قائد کو دوبارہ پارٹی صدارت کے منصب تک پہنچانے کیلئے آئین کی دھجیاں اڑائی ہیں ، مسلم لیگ ن نے ترمیم کرکے ہمیشہ کیلئے چوروں، لٹیروں، ڈاکوئوں، قاتلوں کیلئے سیاسی میدان صاف کردیاہے، حالیہ آئینی ترمیم قرآن وسنت کی تعلیمات کے بھی برخلاف ہےجس پر تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو صدائے احتجاج بلند کرنا چاہئے۔

Page 1 of 38

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree