وحدت نیوز (کوئٹہ)  جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سپریم کورٹ کا نیا چیف جسٹس بننے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں،مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل کربلائی رجب علی ڈپٹی سیکریٹری جنرل کامران حسین ہزارہ نے اپنے بیان میں کہاہے کہ کوئٹہ واٹرسپلائی پروجیکٹ کی ناکامی کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ چونکا دینے والی ہے۔ کوئٹہ شہر کے عوام جو کئی سالوں سے شدید قلت آب کے مسئلے سے دوچار ہے اور ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور اپنی ضروریات زندگی کیلئے ہزاروں روپیوں کے عوض پانی خریدنے پر مجبور ہے لیکن ستم بالائے ستم کہ اُس وقت کے نام نہاد عوامی نمائندے جوآج بھی اسمبلی میں بیٹھ کر لوگوں کو کرپشن پر لیکچر دیتے نہیں تھکتے اپنے دور اقتدارمیں پانی کے مسئلے کے حل کیلئے جاری کردہ فنڈ کو بد ترین کرپشن کی نظر کرکے ناصرف اپنی جیبیں بھری بلکہ اُس سے بڑھ کر ٹینکر مافیا کی شکل اختیار کرکیعوام کے جیبوں تک کو نہیں بخشاگیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کئی سالوں سے اس مسئلے پر حکومت اور اداروں کی توجہ مبذول کراتے رہے ہیں کہ مشرف دور میں قلت آب کے مسئلے کے حل کیلئے جاری کردہ فنڈز میں بد ترین بد عنوانی ہوئی ہے اور عوامی پیسوں سے نا صرف کوئٹہ بلکہ بیرون ملک بڑی بڑی جائیدادیں بنائی گئی ہیں اور آج آڈیٹر جنرل کی رپورٹ سے ساری باتیں کل کر سامنے آگئی ہیں۔

بیان میں نیب اور عدالت سے بھر پور تقاضا کیاگیا ہے صوبہ بلوچستان اور کوئٹہ شہر جو بڑی تیزی سے قحط سالی کی طرف بڑھ رہا ہے پر رحم کرتے ہوئے عوامی مفاد کے اس مسئلے پر آڈیٹر جنرل کے رپورٹ کی روشنی میں بد عنوانی کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیں اور عوام کی لوٹی ہوئی پیسوں کی مکمل ریکوری کرکے ان پیسوں سے کوئٹہ شہر کے پانی کے مسئلے کو حل کیا جائیں۔

وحدت نیوز (آرٹیکل)عرب دنیا کے حکمرانوں اور اسرائیل کی قرابت میں آئے روز ہونے والا اضافہ جہاں ایک طرف فلسطینیوں کی بے مثال جدوجہد کو سبوتاژ کر رہا ہے وہاں ساتھ ساتھ اسرائیل کے لئے خطے میں کھلم کھلا بدمعاشی اور دہشت گردی کے راستے بھی کھول رہا ہے اور یہ دہشت گردی بالآخر خطے میں موجود اسرائیل کے قرابت دار عرب حکمرانوں کو بھی اپنی آگ میں لپیٹ لے گی۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمران اور بادشاہ اپنے انجام اور عاقبت سے بے خبر امریکہ و صہیونی کاسہ لیسی میں غرق ہو چکے ہیں۔سابق اسرائیلی سفارتکار دورے گولڈ کاکہنا ہے کہ اسرائیل عرب تعلقات کے بڑھتے ہوئے رحجان سے اسرائیل کی مشکلات میں کمی ہونے کا امکان پیدا ہو چکا ہے۔انہوں نے عرب دنیا اور اسرائیل کے مابین ملاقاتوں اور تعلقات کے راز کو افشا کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ملاقاتیں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ کئی برسوں کا تسلسل ہے اور اس طرح کی ملاقاتیں اسرائیل کے لئے کامیابی کی کنجی ہے۔اس تجزیہ نگار کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمران اور اسرائیل کے حکمران اب ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں لیکن ماضی میں کوئی بھی قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔سابق اسرائیلی سفارتکار کے تجزیہ کے مطابق عرب خلیجی حکمرانوں کی اسرائیل کے قریب آنے کی ایک وجہ اسرائیل اور ان عرب ممالک کا ایران مخالف ہونا ہے۔یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران پر قابو رکھنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ بھی خلیج میں امریکی اتحادیوں اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات کی زبردست حامی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں فلسطین اور اس کے عوام شدید خطرات سے لاحق ہو رہے ہیں، القدس خطرے میں ہے۔خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں، نئے اتحادوں اور صدر ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد کہ وہ اسرائیل عرب تنازعے کو ختم کرنے کے لیے اس ’صدی کا سب سے بڑا معاہدہ‘ کرانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، فلسطینیوں کی فکرمندی میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔

فلسطینیوں کو خطرہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اْن پر دباؤ بڑھانے کے لیے سعوی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی ریاستوں کی جانب دیکھ رہی اور یہ امریکی انتظامیہ فلسطینیوں کو ایک ایسے امن معاہدے پر مجبوراً رضامند کرانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے ان کے دیرینہ مطالبات پورے نہیں ہوتے۔فی الحال صرف مصر اور اردن ہی وہ عرب ممالک ہیں جو اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں۔اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن قائم کرنے کا عمل بہت پہلے رک چکا ہے لیکن گزشتہ سال اسے ایک اور دھچکا لگا۔وہ فلسطینی عوام جو مقبوضہ بیت المقدس کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانے چاہتے ہیں انھوں نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اسے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیاہے۔انھوں نے یہ کہہ کر واشنگٹن سے اپنے تعلقات ختم کر لیے کہ یہ قدم تصفیہ کرانے والے کسی منصف کا نہیں ہو سکتا۔لیکن اس کے باوجود مشرق وسطی کے لیے امریکہ کے ایلچی جیسن گرین بلاٹ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم کے عمان کے دورے کے حوالے سے پرجوش بھی ہیں۔اپنی ایک ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قدم ہماری امن کی کوششوں کے لیے نہ صرف مدد گار ہے بلکہ اسرائیل، فلسطین اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان استحکام اور خوشحالی کی فضا قائم کرنے کے لیے ضروری بھی ہے۔‘دوسری طرف عرب دنیا کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امن مذاکرات کی بحالی میں سعودی عرب کو جو کردار دیا گیا تھا وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد شکوک کا شکار ہو گیا ہے۔اس بیان میں بنیامن نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگرچہ خاشقجی کی ہلاکت ایک ’ہولناک" خبر تھی لیکن اس سے سعودی عرب کے اندر عدم استحکام پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اصل اور بڑا مسئلہ ایران ہے۔

بحرین نے اسرائیل کی جانب سے اس ’واضح موقف‘ کو اسی طرح سراہا ہے جیسا اس نے گذشتہ دنوں عمان کو اسرائیلی وزیر اعظم کی آمد پر سراہا تھا۔اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ عرب ممالک جلد ہی اسرائیل کو پوری طرح گلے لگا لیں گے، اس لیے فی الحال ہمیں دونوں فریقوں کے درمیان ایسے دعوت ناموں اور پرجوش انداز میں ہاتھ ملانے کے مناظر کو ہی کافی سمجھنا پڑے گا جن کے بارے میں ہم کل تک سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔اس تمام تر صورتحال پر اثر اب پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہو چکا ہے کہ جو ماضی میں پاکستانی حکمرانوں کی اسرائیلی عہدیداروں کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں خفیہ ملاقاتوں کی صورت میں سامنے آیا تھا تاہم دور حاضر میں تل ابیب سے پرواز کر کے آنے والا طیارہ کی اسلام آباد میں لینڈنگ ہو اور دس گھنٹے قیام ہو یا پھر سابق جنرل کا اسرائیل حمایت میں لیکچر یا پھر حکومتی جماعت کی رکن قومی اسمبلی کی طرف صہیونیوں کی حمایت اورا سرائیل کے لئے راہ ہموار کرنے جیسے بیانات اور تقریریں ہوں سب کے سب ریکارڈ پر موجود ہیں اور ایک نئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ایسے حالات میں خبریں یہ بھی آ رہی ہیں کہ اب پاکستان نے جن ممالک کیلئے ویزا پالیسی کا اعلان کیا ہے اس میں اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو بھی پاکستانی ویزا دیا جائے گا یہ انتہائی خطرے کی بات ہے اور پاکستان کے آئین اور نظیاتی بنیادوں سمیت بانیان پاکستان کی اساس سے انحراف کے مترادف ہے۔چونکہ پاکستان کی سیاست اور آنے والی حکومتوں کے حکمران عام طور پر امریکہ کے بعد سعودی عرب اور امارات کو اپنا سب سے بڑا پیشوا اور مسیحا مانتے ہیں تاہم اس مریدی میں یقیناًپاکستان پر انہی عرب ممالک کی طرف سے یہ دباؤ بھی ضرور ہو گا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کو نرم کیا جائے۔بہر حال خلاصہ یہی ہے کہ حالیہ دور میں فلسطینی اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں جو کہ مثالی ہے جبکہ عرب دنیا کے حکمران اسرائیل کے ساتھ قربتیں پیدا کر کے جس طرح سے نہ صرف فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی پیٹھ میں خنجر گھونپا جا رہاہے اور اس صورتحال سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے مسلم دنیا اور عالم انسانیت کا خطر ناک دشمن صہیونی جعلی ریاست اسرائیل ہے جو عنقریب ان عرب قرابت داروں کو بھی اپنے شکنجہ میں دبوچ ڈالے گی اور اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی۔مقالہ کے اختتام پر سابق پاکستانی جنرل غلام مصطفی کی بات کو دہراتا ہوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان تل ابیب میں بیٹھ کر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی چوکیداری بھی کر لے تب بھی یہ اسرائیلی پاکستان کو نہیں چھوڑے گا اور موقع ملتے ہی پاکستان کے خلاف اپنا ہر قسم کا وار کرے گا۔ اب پاکستان سمیت تمام عرب دنیا کے حکمرانوں کو چاہئیے کہ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہئیے۔ختم شد

تحریر: صابر ابو مریم   
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر
، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

وحدت نیوز (کراچی) سیکرٹری سیاسیات مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ سید علی حسین نقوی نے ایک بیان میں کہاہے کہ شیخ حسن جوہری صاحب کی گرفتاری گلگت بلتستان انتظامیہ کا ظالمانہ اقدام ہے،اس عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور سرکار سے شیخ حسن جوہری صاحب کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں،مولا نا حسن جوہری گلگت بلتستان کے حقوق کی موثر آواز اور جوانوں کے مقبول رہنما ہیںجو ہر قسم کی وابستگیوں سے بالاترہوکر ظلم،ناانصافی کے خلاف اور آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،وزیر اعظم پاکستان گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والی بے چینی اور احساس محرومی دور کرنے کے لیئے فوری ہنگامی نوعیت کے اقدامات کریں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) اہلیاں ضلع کرم پاراچنار نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عمائدین کرم نوجوانان اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال کی خستہ حالی ،اسٹاف کی کمی و سہولیات کی عدم دستیابی پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے نعرے لگائے اور احتجاجی بینرز اُٹھا رکھے تھے۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا مزمل حسین ،شبیر ساجدی اور یوتھ آف پاراچنار کے ذاکر طور ی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ریاست کے بنیادی حقوق میں تعلیم ، صحت ، بجلی او ر پانی میسر ہوتے ہیں۔مگر بد قسمتی سے پاراچنار کی عوام بعض اوقات سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم ان سہولیات سے بالکل محروم ہیں۔ پاراچنار میں تعلیم پرائیوٹ اداروں کے رحم وکرم پر ہے۔ سرکاری ادارے اپنی آخری سسکیاں لے رہے ہیں۔تحفظ کے نام پر بے شمار چیک پوسٹوں، تلاشیوں اور NIL دیکھا کر پارا چنار میں داخل ہونے سے عوام بے زار ہو چکے ہیں۔

خوش قسمتی سے کچھ دہائیاں پہلے ایک ہسپتال بنا کر دیا گیا۔لیکن افتتاح کے بعد کسی نے وہاں کا حال پوچھنا گورا نہیں کیا۔جو ساڑھے چھ لاکھ آبادی کے لئے قائم یہ اکلوتا ہسپتال ہر قسم کی بنیادی ضروریات سے عاری ہے۔کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر موجود نہیں MOs پر پورے ہسپتال کی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ ICU کیلئے جگہ مختص تو کردی گئی ہے لیکن امراض قلب جیسے موذی مرض کیلئے بھی نہ کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہے نہ ہی ICU میں کوئی بنیادی سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ گائنی میں صرف دو ڈاکٹر موجود ہیں جو دن رات ڈیوٹی میں مصروف رہی ہیں لیکن اتنی بڑی آبادی کو صرف دو ڈاکٹر ز کسی صورت کنٹرول نہیں کر سکتیں۔کسی ایمرجنسی کی صورت میں ڈھائی سو کلو میٹر دور پشاور تک مریض پہنچائے جاتے ہیں۔ اتنے لمبے سفر کے بعد کوئی قسمت سے ہی زندہ بچ پاتا ہے۔

جبکہ 10 میڈیکل آفیسر ، 09 اسپشلسٹ ڈاکٹرز، 04 فی میل میڈیکل آفیسرز ،08 چارج نرس، 02 ہیڈ نرس، 08 ٹیکنیکل سٹاف اور انکے علاوہ 30 سے زائد لوئر اسٹاف کی آسامیاں گزشتہ کئی سالوں سے خالی پڑی ہیں۔ان کے علاوہ MRI اورسی ٹی سکین جیسی ضروری مشینری بھی دستیاب نہیں۔ نہ کسی اسٹنڈرڈ لیبارٹری کی سہولت موجود ہے۔ 30 سے زائد ڈاکٹرز اسٹاف کی ضرورت والے ہسپتال کا پورا بوجھ صرف 6,7ڈاکٹروں کے کندھے پر ڈالا گیا ہے۔ جن کے پاس بنیادی تشخیص کی سہولت بھی نہیں ایسی صورت میں ان کے پاس پشاور ریفر کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا،پچھلے دھرنے کے بنیادی مطالبات میں اس ہسپتال کے اے کیٹگری تک اپ گریڈیشن بھی شامل تھی۔ چیف آف آرمی اسٹاف قمر باجوہ صاحب نے منظوری کا وعدہ بھی کیا تھا۔لیکن افسوس اگر ایک آرمی چیف بھی اپنا وعدہ پورا نہ کرے تو باقی گلہ کس سے کریں۔اپ گریڈیشن کے نام ایک ٹرامہ سنٹر بنا کر دیا گیا۔ لیکن وہ بھی خالی بت ہی اس ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیا گیا۔ہر روز عوام کے طرف سے مطالبات آتے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ بنیادی ضروریات کی فراہمی سرکار کی ذمہ داری ہے۔ اس بنیادی حق کیلئے بھی ہمیں سرکار کی منتیں کرنے پڑتی ہیں۔

اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے آج ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ
    ۱۔پاراچنار ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے احکامات جاری کیئے جائیں۔
    ۲۔ٹرامہ سنٹر فوراً عوام کی بہبود کیلئے کھول دیا جائے۔
    ۳۔DHQ ہسپتال اور باقی ضلع کرم کے دیگرBHU اورہسپتالوں میں اسٹاف کی کمی فوری طور پر پوری کی جائے۔
    ۴۔ بالشخیل سمیت تمام اراضی تنازعات کاغذات ِ مال کے مطابق جلد از جلد حل کیئے جائیں اور تجاوزات قائم کرنے والے افراد
         سے جلد از جلد اراضی رہا کروا کے اصل مالکان کے حوالے کیئے جائیں تاکہ علاقے کا امن برقرار ہو۔

    ہم اس احتجاجی مظاہرے کے ذریعے اپنے مطالبات کو احکام بالا تک پہنچاتے ہیں تاکہ ان پرفوری طور پر عمل در آمد کا حکم جاری کیا جائے۔
        
                       

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان (شعبہ خواتین) کی مرکزی کابینہ کا دو روزہ اجلاس وحدت ہاوس لاہور میں منعقد ہوا،اجلاس کی صدار ت مرکزی سیکریٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرانقوی نے کی ،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم پنجاب کے سیکریٹری جنرل علامہ سید مبارک علی موسوی نے کہاکہ اگر خواتین کی تنظیم مضبوط ہوجاتی ہے تو کوئی انھیں شکست نہیں دے سکتا، انقلاب اسلامی ایران میں خواتین کا کردار سب سے نمایاں ہے۔

تیسری نشست میں مجلس وحدت مسلمین (شعبہ خواتین ) کی مرکزی سیکرٹری جنرل اور رکن قومی اسمبلی محترمہ زھرا نقوی صاحبہ نے مرکزی کابینہ کی توسیع کی اور نئی شامل ہونے والی خواہران سے حلف لیا گیا ، تمام عہدیداران کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا،جن میں محترمہ تحسین شیرازی (ڈپٹی سیکرٹری جنرل) - محترمہ ام البنین (ڈپٹی سیکرٹری جنرل) - محترمہ معصومہ نقوی ( شعبہ امور تنظیم سازی ) -محترمہ نرگس سجاد (شعبہ سیاسیات و تربیت) -محترمہ عظمی تقوی (شعبہ نشرواشاعت) -محترمہ فرحانہ گلزیب (شعبہ فلاح و بہبود)   - محترمہ سیمی نقوی ( شعبہ اطلاعات و روابط) -محترمہ انیلا کرن (شعبہ ذاکرات)-محترمہ سائرہ ابراھیم (شعبہ جوانان) -محترمہ سمیرا نقوی (شعبہ تعلیم )-محترمہ قراةالعین (سیکرٹری مالیات) - محترمہ فرح دیبا (سیکرٹری شماریات)- محترمہ بتول رضوی ( سیکرٹری میڈیا سیل )  ان کیساتھ چار معاونین میڈیا سیل میں فرائض انجام دینگی۔محترمہ بینا شاہ (وحدت آفس سیکرٹری ) -محترمہ شبانہ میرانی (شعبہ تحفظ عزادای) - محترمہ  بشریٰ ( شعبہ مدارس)اپنی دیگر معاونین کے ہمراہ اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گی۔ محترمہ عدیلہ ( شعبہ اطفال )ان کے علاوہ شعبہ ورکنگ وومن کی مسئولیت محترمہ ڈاکٹر ردا فاطمہ کو دی گئی اور ان کیساتھ مزید چار معاونین کام کرینگی، محترمہ گلشن زیدی ، شعبہ تعلیم کی مسئولیت انجام دینگی اور ان کیساتھ بھی چار دیگر معاونین فرائض انجام دینگی۔ ۔۔۔~ معاونین کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

اجلاس کی چوتھی نشست کا آغاز محترمہ معصومہ نقوی نے تلاوت کلام پاک سے کیا، اس نشست میں مختلف علاقہ جات میں یونٹ سازی ، ڈویژن اور ضلع سازی کے امور پر تفصیلا ًبحث کی گئی ،نیز تنظیمی فعالیت کو تیز کرنے اور ہر شعبہ کو مضبوط بنانے کے لیے مشاورت کی گئی ، شعبہ خواتین کی سینیئر عہدیداران محترمہ معصومہ نقوی، محترمہ تحسین شیرازی ، محترمہ نرگس سجاد نے بھی کابینہ کی دیگر اراکین اور انکی معاونین کی اپنے تجربات کی بنیاد پر بھرپور راہنمائی کی،دو روزہ اجلاس کی پانچویں اور آخری نشست ،جس میں تنظیم کے نظم و ضبط تمام شعبہ جات میں معاونین بنانے اور کام کرنے کے حوالے سے سب شرکاء اجلاس نے اپنی اپنی آراء و تجاویز پیش کیں اور اس بات کا عزم کیا کہ اپنی تمام تر کوشش و قوت کو بروے کار لا کر ملت کے لیے خدمات انجام دینگے ، آخر میں مرکزی سیکرٹری جنرل خانم زھرا نقوی نے تمام شرکاء کی زحمات اور کوششوں کو سراہتے ہوے ان کا شکریہ ادا کیا۔

وحدت نیوز(قم) مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ قم المقدس کی جانب سے  مسجد اھل بیت علیھم السلام میںہفتہ وار علمی اور فکری نشست بعنوان ولایت فقیہ منعقد کی گئی۔اس نشست میں حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی کے استاد حجۃ الاسلام و المسلمین آقا مجید اشکوری صاحب نے اپنے لیکچر کو گذشتہ سے پیوستہ شروع کیا اور پچھلے درس کا خلاصہ بتانے کے بعد فرمایا:"اسلامی معاشرے کی امامت کی تھیوری کے مطابق کیسے شناخت کی جا سکتی ہے۔اس کی توضیح شیعہ مرجعیت اور لوگوں کے رابطے کے دوران تحول کی روش کو پرکھنے سے دی جا سکتی ہے۔میری مراد شیعہ مرجعیت سے یہ ہے کہ ایک وقت شیعہ مرجعیت امام معصوم کے ہاتھ میں ہے۔اور ایک وقت مجتہد جامع شرائط کے اختیار میں ہے۔ لوگوں سے مراد  ایک جغرافیائی وسعت یعنی ایک ملک کی ابادی ہے۔اب ہم تین قسم کے رابطے اور دور کی خصوصیات بیان کریں  گے۔ ایک قسم کا رابطہ،علمی ہے۔یہ دور ۱۰ قرن کا تھا۔صدر اسلام سے لے کر صفویوں کے سلسلے تک۔ اس ہزار سالہ دور کی خصوصیات یہ تھیں۔1- اس دور میں لوگ امامت کے مفہوم سے آشنا نہیں تھے۔امامت بعنوان ایک تھیوری۔2- اکثریت اہل سنت کی تھی۔3-حکومت اہل سنت کے پاس تھی۔خلفاء،بنی امیہ،بنی مروان،بنی عباس،عثمانی۔4- اس دوران شیعوں پر بہت سختی کی جاتی تھی۔اس سختی کے دور میں شیعہ مرجعیت کی کوشش تھی کہ لوگ امامت کی تھیوری سے آشنا ہوں۔اور اس کیلئے مختلف فرصتوں سے استفادہ کرتے تھے ۔مثلاً ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آل بویہ قدرت حاصل کر لیتے ہیں۔ اب شیعوں کیلئے تھوڑی فرصت مہیا ہوتی ہے۔اس دوران شیخ مفید بعنوان مجتہد فرصت پیدا کرتے ہیں اور حوزہ بغداد کو تشکیل دیتے ہیں جو پہلا شیعہ حوزہ کہلاتا ہے۔اس حوزہ بغداد میں شیخ مفید رہ ،سید مرتضی ، سید رضی، شیخ طوسی جیسے شاگرد تربیت کرتے ہیں۔شیخ مفید کی وفات کے بعد یہ حوزہ شیخ طوسی کے ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ آل بویہ ضعیف ہو جاتے ہیں۔یہاں تک کہ حوزہ بغداد کو آگ لگادی جاتی ہے اور شیخ طوسی رات کی تاریکی میں فرار ہو جاتے ہیں۔بس مغل،تیموریان،خواجہ نصیر الدین طوسی،ابن سینا وغیرہ  فرصت ایجاد کرتے ہیں اور کچھ علمی کام کر جاتے ہیں۔اس دورہ کو دورۂ محنت کہتے ہیں۔

استاد سید اشکوری نے دوسرے رابطہ کی خصوصیات کے بارے میں فرمایا:" اس رابطہ کو رابطہ مقلد اور مقلدی کہیں گے۔یہ دورہ دو قرن شامل ہے۔دورۂ صفویہ سے ،دورۂ افشاریہ،دورۂ زندیہ تا دورۂ اول قاچار،فتح علی قاجار۔اس دورہ کی خصوصیات یہ ہیں۔1- ایک مستقل شیعہ حکومت کی تشکیل۔شاہ اسمعیل صفوی۔ بعد میں یہ دربار عثمانی کو اپنا آئیڈیل سمجھتا ہے۔چونکہ خود کوئی سابقہ دار نہیں۔ اس دور میں اکثریت سنی تھے۔شاہ اسماعیل ایک سفر کرتا ہے مکہ کا۔وہاں اس کو بتایا جاتا ہے کہ جبل آمل لبنان سے یہاں ایک مجتہد آئے ہوئے ہیں ان کا نام تھا محقق کرکی۔محقق کرکی کو ایران آنے کی دعوت دی گئی۔ایران اکر محقق کرکی ،شیخ بہائی کے والد ،شیخ بہائی کے ساتھ ان فرصتوں سے فایدہ اٹھاتے ہیں اور حوزوں کی تشکیل اور شاگرد تربیت کرتے ہیں۔جیسے فیض کاشانی،علامہ مجلس اول ،علامہ مجلس دوم،ملا صدرا ان حوزوں میں تربیت پاتے ہیں۔یہ پورے علاقے میں پھیل جاتے ہیں اور شیعہ تربیت کرتے ہیں۔پچاس سال کے اندر ایران میں اکثر شیعہ ہیں۔بس یہ رابطہ مقلد اور مقلدی ہے۔خود یہ دورہ دو دوروں میں تقسیم ہوتا ہے۔1- منتشر مرجعیت۔اخباریوں اور حوزہ ہائے علمیہ کی حاکمیت کے سبب ۔اس دور میں اخباری ہمارے حوزوں میں غالب تھے۔زندیوں کے دور میں ایک اخوند مرحوم وحید بہیبانی ایک اصولی تحریک لیکر اٹھتے ہیں جو اخباریوں پر غالب آجاتے ہیں۔تقلید کو رواج ملتا ہے۔شیخ انصاری مرجع عام کے طور پر معروف ہوتے ہیں۔مرجیعت عامہ۔قاجاریوں کے دور میں ایران میں طاقت اور قدرت دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ایک سیاسی قدرت جو شاہ قاچار کے اختیار میں تھی اور ایک مذھبی طاقت جو شیخ انصاری کے پاس تھی۔
"استاد اشکوری نے تیسرے رابطہ کے بارے میں وضاحت فرمائی کہ:" تیسرا رابطہ ولائی ہے۔اب آہستہ آہستہ لوگ ان مفاہیم سے آشنا ہو رہے ہیں۔ یہ رابطہ فتح علی قاچار سے لیکر آج تک ،رابطہ ولائی کہلاتا ہے۔یہ رابطہ تین دوروں کو طے کرتا ہے۔دورۂ اول کو احکام کے اجراء کا عملی دور کہتے ہیں۔ جیسے اعلان جہاد۔دوسرے دورہ کو حوزۂ جعل حکم میں ولایت کا عملی دور کہتے ہیں۔تیسرے دورہ کو ساختار سازی یعنی ولائی نظام کہتے ہیں۔" آخر میں استاد حجۃالاسلام آقا سید مجید اشکوری نے حاضرین کو آئندہ لیکچر میں آنے سے  پہلے حضرت امام خمینی رہ کے وصیت نامے کے مقدمے کا مطالعہ کرنے کی تاکیدکی،یاد رہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ قم المقدس کی جانب سے مختلف موضوعات پر ہفتہ وار دروس کا سلسلہ جاری ہے جن میں علماء اور فاضل طلاب کی ایک کثیر تعداد شریک ہوتی ہے۔

Page 1 of 431

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree