وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کو عملی انداز میں انجام تک پہنچایا،پی ٹی آئی کے نامزد امیدواروں کی کامیابی میں ایم ڈبلیوایم نے مخلصانہ کردار اداکیا، پی ٹی آئی اور ایم ڈبلیوایم کے درمیان تعلقات وقتی نہیں دیر پا ہیں ، مستقبل میں بھی کراچی کی تعمیر وترقی میں ایم ڈبلیوایم کا تعاون چاہتے ہیں، ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور حلقہ پی ایس 111 سے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی عمران اسماعیل نے مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ مبشر حسن سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

عمران اسماعیل نے مزیدکہا کہپی ٹی آئی کی کامیابی میں ایم ڈبلیوایم کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایم ڈبلیوایم نے نا فقط حالیہ قومی انتخابات میں پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد میں بھرپور کرداراداکیا بلکہ گذشتہ این اے 246کے ضمنی انتخاب میں بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر میری بھرپور حمایت کی تھی اور انتخابی مہم میں بھی عملی کردار اداکیا تھا جسے میں کبھی فراموش نہیں کرسکتا ، اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ مبشر حسن نے عمران اسماعیل کو سندھ اسمبلی کی نشست پر شاندار کامیابی پر مبارک باد پیش کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایم ڈبلیوایم اور پی ٹی آئی آئندہ بھی ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی کیلئے ملک کر جدوجہد کریں گے ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) ڈی آئی خان میں وزیرستان طرز کے آرمی آپریشن کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ دہشت گردوں کا قلع قمہ کر کے علاقے کے امن کو یقینی بنایا جا سکے ان خیالات کا اظہاررہنما مجلس وحدت مسلمین علامہ غنضفعباس نے ڈی آئی خان میں جاری مسلسل ٹارگٹ کلنگ پرسربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی ملک گیر احتجاج کی کال پر نیشنل پریس کلب اسلام آباد کےباہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں امریکہ ، اسرائیل اور ہندوستان پاکستان کے اندر سیاسی ،اقتصادی اور امن وامان کی بحران کو پیداکرنا چاہتی ہے ڈیرہ اسماعیل خان پھر دہشتگرو ں کے نشانے پر ہے مسلسل ٹارگٹ کلنگ سے علاقے میں خوف ہراس کی فضا ہے ،معصوم لوگوں کا بے رحمانہ قتل عام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پختون خوا ہ کی پویس پر سوالیہ نشان ہے،ایم ایم اے دور کے بھرتی شدہ معتصب عناصر کی نشاندہی اور ان کی انکوائری کی جائے آئی جی کے پی کے سپریم کورٹ کے روبہ رو ڈی آئی خان میں فرقہ وارانہ کلنگ میں پولیس میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے ملوث ہونے کا اعترف کر چکے ہیں اداروں میں موجود یہ کالی بھیڑیں ڈیرہ اسماعیل خان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار ہیں یہ صرف معصوم لوگوں کے قاتل نہیں بلکہ وطن اور انسانیت کے دشمن ہیں نئی وفاق اور خیبر پختوانخوہ حکومت کے لئے اہم ترین ٹاسک ڈیر اسماعیل خان میں امن کا قیام اور دہشتگروں کا صفایا ہونا چاہیے ڈیرہ اسماعیل خان اور وطن عزیز میں دہشت گردوں کے حملوں میں عالمی داعش دہشت گرد اور تکفیری عناصر ملوث ہیں جو ملک دشمن غیر ملکی اداروں کے ایما پر وطن عزیز میں ناامنی اورعدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔

وحدت نیوز (آرٹیکل)  ویژنری شخصیات کا اکھٹ دھرنوں سے لیکر سیاست تک نئے پاکستان کے نعرے اور عزم کے ساتھ کامیابی ہونے والی جماعت پی ٹی آئی وزارت عظمی کے لئے نامزد امیدوار عمران خان سے ملاقات کے لئےامریکہ کے علاوہ بہت سے قابل الذکرممالک کے سفیر وں نے ملاقات کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔بات صرف سفیر کی نہیں بلکہ اس وقت امریکی اسٹیٹ ڈیپارنمنٹ کا رویہ بھی روکھا سا ہے تو عالمی بینک سے پاکستان کے لئے ممکنہ قرضے کو لیکر پہلے سے ہی امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پیمپیو نے تحفظات دیکھانے شروع کردیے ہیں ۔بات دراصل یہ ہے کہ امریکہ کی عمران خان یا پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی ذاتی مخاصمت تو نہیں ہے جو کچھ ہے وہ اس خطے کے بارے میں امریکی نئی پالیسی اور پاکستان بعنوان ریاست کے اس پالیسی کواپنے قومی مفاد کے خلاف سمجھنا ہے ۔لیکن گذشتہ دو جماعتوں کے بارے میں اس بات کا امکان موجود تھا کہ وہ کسی نہ کسی لیول پر امریکہ کے ساتھ کمپرومائز کرسکتیں تھیں جو اب ختم ہوچکا ہے ۔عمران خان کاسلوگن پاکستان کا استحکام اور بیرونی مداخلتوں کو قبول نہ کرنا ہے جسے وہ نیا پاکستان کے نام دے دہا ہے یقینا یہ نیا پاکستان کسی بھی اعتبار سے خطے اور خاص کر افغانستان و پاکستان کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کے بالکل مد مقابل کھڑا ہے ۔

کہا جاسکتا ہے کہ خان کی نوخیز حکومت امریکہ کے ساتھ بچ بچاو کی پالیسی کو ترجیح دے گی نہ تو وہ مزید خلش پیدا کرنا چاہے گی اور نہ ہی امریکہ کے قریب جانا چاہے گی کیونکہ دونوں صورتوں میں نئے پاکستان کی تشکیل کا بنیادی ہدف متاثر ہوسکتا ہے ۔عمران خان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ بہت سی قیادتی خامیوں کے باوجود وہ ایک ویژنری لیڈر ہیں اور اپنے مقصد کا پچھا کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں گرچہ ان میں افراد شناسی کو لیکر بڑی خامیاں پائی جاتیں ہیں جس کا تجربہ شائد وہ اپنی نجی زندگی میں بھی کرچکے ہیں ۔خان کے ساتھ پارلیمان سے ہٹ کر دو اور دینی ایسی قیادتیں موجود رہی ہیں جو بہت سے ایشوزمیں ان کی اچھی اتحادی شمار ہوتی ہیں اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ یہ دونوں قیادتیں ملک کے مستقبل کے بارے میں ایک ویژن رکھتی ہیں ۔علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اور علامہ راجہ ناصر عباس جعفری دو الگ مسلکوں سے تعلق رکھنے والی وہ شخصیات ہیںجو خاص مسلک کی نمایندگی رکھنے کے باوجودان کا ویژن وسیع اور ہمہ گیر ہے ۔

ان شخصیات کو دھرنے کے دوران بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ جو عمران خان کے ساتھ کھڑ ی تھیں اور شنید یہ بھی ہے کہ اس دھرنے کی درست مینجمنٹ اور بھونڈے اختتام سے بچانے میں ان سے ایک شخصیت کا انتہائی اہم کردار رہا ہے کہ جس کی دور رس نگاہیں کہتی تھی کہ اس کا نتیجہ سیاسی خودکشی کی شکل میں نکل آئے گا ۔علامہ قادری کے حالیہ انتخابات میں عدم شرکت اور زیادہ تر وقت بیرون ملک گذارنے کے سبب ہوسکتا ہے کہ کوئی بہت زیادہ کردار نئے پاکستان کی تشکیل میں دیکھائی نہ دے۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کہنے کو تو ایک مذہبی رہنما ہیں لیکن مذہبی رہنماوں کے بارے میں جو عام تاثر پایا جاتاہے اس سے بالکل الگ تھلگ ان کی شخصیت ہے ۔قرآن و سنت کے علوم پر وسیع اور گہری عمیق دسترس رکھنے کے علاوہ ایک دانشور اور مفکر ہیں کہ جن کی نگاہ ہمیشہ آنے والے حالات کو وقت سے پہلے پرکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے وہ نہ صرف اس خطے کے حالات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں بلکہ عالمی حالات پر بھی ان کہ گہری نگاہ ہواکرتی ہے ۔ان کا وسیع تر مطالعہ اور چار اہم زبانوں انگلش ،عربی فارسی اور اردو سے واقفیت کے ساتھ ساتھ پولیٹکل سائنس پر گرفت تو دوسری جانب تقریبا دس سالوں سے اپنی جماعت کی قیادت اور مختلف بحرانوں کے کنٹرول کی صلاحیت نے ان کی شخصیت کے کئی پہلو نمایاں کردیے ہیں ۔

ان کے بارے میں مشاہدات کچھ یوں ہیں کہ وہ سوچتے ہیں تو ایک پائے کے دانشور لگتے ہیں ،بحرانوں میں ایک زبردست لیڈر دیکھائی دیتے ہیں دینی حلقوں میں ایک زبردست عالم دین اور استاد و معلم جبکہ عام سماجی تعلقات میں ایک اچھے دوست ۔اس کی جماعت کے عام کارکن انہیں مرد قلندر اور خاک نشین کہتے ہیں کیونکہ وہ تمام تر پروٹوکولز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے کارکنوں میں جلد گل مل جاتے ہیں ۔گذشتہ روز دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے والی حمایت مظلومین کانفرنس میں جو کچھ ان اس خطےخاص کر پاکستان کے حالات کے بارے میں انہوں نے کہا وہ انتہائی قابل توجہ ہے ان کا کہنا تھاکہ جس سیاسی لیڈرشب کا پیسہ بیرون ممالک میں ہے اور ان کے مفادات ان ملکوں سے وابستہ ہیں وہ ان کی پالیسیوں کے آگے جھکنے پر مجبور ہونگے ۔’’ان کا پیسہ وہاں پر ہے یہ لوگ عالمی قوتوں کے آگے دبتے ہیں کیونکہ ان کی کمزوریاں ان کے پاس ہیں ۔ان کی کرپشن کی فائلیں ان کے پاس ہیں ،ان کے اربوں روپےوہاں پر ہیں ۔ لہذا یہ عالمی قوتوں کےnationals interest قومی مفاد کے لئے کام کرتے ہیں اور اپنے ملک کے قومی مفادات کے ساتھ سودے بازی کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان بحرانوں کا شکار ہے ‘‘پاکستان کے بارے میں جو کچھ انہوں نے کہا وہ موجود صورتحال میں انتہائی توجہ طلب ہے  ’’پاکستان ایشیا کا دل ہے پانچ ارب انسان کےcollectiviti  اکھٹ کا مرکز ہے ،پانچ ارب انسانوں کو آپس میں ملاتا ہے جہاں انرجی کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں اور جہاں deficiencyاور ضرورت ہے اور جہاں یہ چیز آپس میں ملتی ہے۔

ایشیا دنیا کا سب سے بڑابراعظم ہے ،وسائل کے اعتبار سے بھی آبادی کے اعتبار سے بھی تہذیبی اعتبار سے بھی ،لیبر بھی سستی ہے ۔ اہم مہارتوں کے اعتبار سے بھی اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی ایشیا میں ہیں ۔اور دنیا کے تمام بڑے مذاہب کا مرکز بھی ایشیا ہے ،یہودیت یہاں پیدا ہوئی، عیسائیت یہاں پیدا ہوئی اسلام یہاں پیدا ہوا ،ہندوازم ،بدھ ازم ،سیکھ ازم ،حتی کہ کیمونزم بھی ایشیا سے تعلق رکھتا ہے۔ ایشیا بہت امیر خطہ ہے ، طول تاریخ میں پاور ایشیا اور یورپ کے درمیان شفٹ ہوتی رہی ہے۔ اس وقت پاور کا سرکل ایشیا کی طرف آرہا ہے ۔امریکہ یورپ اور اس کے حامی اس طاقت کی منتقلی کو روکنا چاہتے ہیں۔ سست کرنا چاہتے ہیں اور اپنے غلبے کو باقی رکھنا چاہتے ہیں ۔اسی بنیاد پر ایشیا کے جو اہم حصے ہیں ان کو destabilize غیر مستحکم کررہے ہیں اور گریٹر میڈل ایسیٹ بنارہے ہیں ۔توجہ چاہتا ہوںمیں ان دنوں ایک کتاب پڑھ رہا ہوں a peace to end all peaceیعنی امن پورے امن کے خاتمے کے لئے یہ David Fromkin کی کتاب ہے جو امریکی ہے جس نے 1914سے لیکر 1922تک پہلی عالمی جنگ کے بارے میں یہ کتاب لکھی ہے ۔جس میں وہ لکھتا ہے یورپین یہ کہتے تھے کہ پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں ماڈرن میڈل ایسٹ پیدا ہوگا  اور وہ افریقی ممالک سے لیکر افغانستان اور وسطی ایشیا تک تھا جو دوسری جنگ عظیم میں اسرائیل بنے پر مکمل ہوا اور مسلمان ممالک چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہوگئے ۔

آپ دیکھ لیں افریقہ کے مسلمان ممالک سے لیکر وسطی ایشیا کے مسلمان ممالک یہ آبای آپس میں جڑی ہوئی ہے اور اس مسلمانوں کی طاقت کو توڑ دیا گیا ۔ان کے اندر کیمونسٹ مومنٹس شروع کی گئیں نیشنلسٹ مومنٹس شروع کیں گئی تاکہ اسلامی سوچ مرجائے اور یہ الگ الگ ہوجائیں ۔کوئی ایرانی نیشنلسٹ کوئی عراقی نیشنسلٹ کوئی ترک نیشنلسٹ کوئی عرب نیشنلسٹ ۔۔کیا کیا بن جائے دوستو اب جو گریٹر میڈل ایسٹ کی بات ہورہی ہے تو بالکل وہی علاقہ ہے جو پہلے ماڈرن میڈل ایسٹ کہلایا تھا یعنی مراکش سے لیکر افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک اس کو reshapeتشکیل نو کرناچاہتے ہیں اور اگر وہ reshape اس کی دوبارہ تشکیل نہ کرسکے تو امریکہ ٹوٹ جائے گا ،یورپ بھی ایسے نہیں رہے گا ‘‘۔اب اہم سوال یہ ہے عمران خان نئے پاکستان کے سامنے موجود ان مشکلات کا مقابلہ کرنےکے لئے کس قسم کی ٹیم کو لیکر میدان میں اترتے ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ جس وقت انہوں نے ولڈکپ جیتا تھا تو ٹیم انہوں نے خود تشکیل دی تھی اور اسے ایسے کھلاڑی میسر آئے تھے کہ جنہوںنے فتح دلانے میں کردار ادا کیا تھا تو کیا اس بار میدان سیاست میں بھی وہ ایک ایسی ٹیم تشکیل دے پاینگے ؟اور کیا اس وقت ان کے پاس اس قسم کی ٹیم موجود ہے ؟اگلے چھ ماہ ہی ہمیں عملی طور پر ان سوالات کا جواب فراہم کرینگے ۔۔۔ہمیں ایک بات یاد رکھنی ہوگی کہ نیا پاکستان کسی ایک شخص یا جماعت کی بس کی بات نہیں بلکہ پوری قوم کے مل جانے سے ممکن ہوگا اسی طرح عالمی طاقتوں کی پاکستان کو لیکر مزید دباو بڑھانے اور مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوشش بھی کسی ایک شخص یا جماعت کے سبب نہیں بلکہ ریاست پاکستان کیخلاف ہے لہذا پوری ریاست ہی ان موجودہ و ممکنہ بحرانوں کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔  


تحریروتحقیق: حسین عابد

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹریٹ شادمان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا کہ ہر سال کی طرح امسال بھی ایم ڈبلیو ایم کہ جانب سے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے 5 اگست بروز اتوار اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں شہید قائد علامہ عارف حسینی کی برسی کی مناسبت سے  حمایت مظلومین کانفرنس کا اہتمام کیا گیا ہے. کانفرنس میں پاکستان بھر سے تمام ہم خیال مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین شرکت کریں گے. علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ شہید قائد نے ہمیشہ پاکستانی قوم کو جوڑنے اور اتحاد کا درس دیا. اتحاد بین المسلمین کے لیے شہید کی کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں. ان کا کہنا تھا کہ 5 اگست کو ہونے والے اس  اجتماع میں دنیا بھر کے مظلوموں کے حقوق کے لیے طاقت ور آواز بلند کی جائے گی. دنیا بھر کے  مسلمانوں بالخصوص شام, یمن, فلسطین, کشمیر اور افریکہ کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں جن پر عالمی اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے.علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ حمایت مظلومین کانفرنس میں ان تمام مظلوم مسلمانوں کے لیے موثر آواز بلند کی جائے گی تاکہ دنیا کے ظالموں کو آئینہ دکھایا جا سکے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ سید مبارک علی موسوی نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ کانفرنس میں شرکت کے لیے پنجاب بھر کے مختلف شہروں سے سینکڑوں گاڑیاں قافلوں کی  صورت اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ پہنچیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان اپنے  شہید قائد سے محبت کا اظہار کرنے اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں , نگران حکومت کو چاہیے کہ سیکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کیے جائیں تاکہ کسی بھی پریشانی سے محفوظ رہا جا سکے. پریس کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین ضلع لاہور کے سیکرٹری جنرل علامہ سید حسن رضا ہمدانی ، مجلس وحدت مسلمین شعبہ عزاداری سیل کے چیئرمین مین سید خرم نقوی، رائے ناصر علی، امیر عباس مرزا، سید حسین زیدی، علمدار زیدی، سید سجاد نقوی و دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) الیکشن ۲۰۱۸ میں عمران خان واضح برتری کے ساتھ سب سے آگے ہے، انتخآبی نتائیج نے تمام سیاسی جماعتوں کے چاروں شانے چت کر دیے ہیں،اب عمران خان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی، کے پی کے اور وفاق میں اپنی حکومت تشکیل دے سکتا ہے۔ عمران خآن نے الیکشن کے بعد جو خطاب کیا ہےاورجس طرح اپنے مقصد کو پیش کیا یہ عوام کی امنگوں کے عین مطابق تھا، اس انتخابات کی سب سے بڑی کامیابی اور شفافیت کا ثبوت یہ بھی ہے کہ بہت سے پرانے اور بڑے بڑے کھلاڑی میدان سے آوٹ ہوگئے ہیں، ن لیگ، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے بعض حلقے جن کو ان تنظیموں کا گڑ سمجھا جاتا تھآ وہاں سے ان کو شکست ہوئی ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے انتخابات میں لاکھوں ووٹ لینے والوں کی حقیقت کیا تھی۔ اس الیکشن میں عوام کی واضح ترجمانی ہوئی ہیں، عوام نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہم پاکستان کے پرانے سیاسی نظام اور حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں جنہوں نے ہمیشہ جھوٹے وعدوں اور دعوں کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔

 اس الیکشن میں عوام نے بیداری اور ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اپنی قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال بھی کیا ہے اور پاکستان کے سیاسی نظام میں موجود وطن کے خائینوں کو عبرت ناک شکست دی ہے، جنہوں نے پاکستان کی معیشیت، امن و امان اور ہمارے مستقبل کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ یہاں پر ایک بات ہمیں فراموش نہیں کرنی چاہِے کہ اس انتخابات کی شفافیت اور پُرامن طریقے سے کامیابی ہونے میں ہماری سیکورٹی اداروں کی خصوصا پاک فوج، رینجرز اور پولیس کے جوانوں کے خون بھی شامل ہیں جنہوں نے کراچی سے لیکر وزیرستان تک سیاسی جماعتوں کی عسکری وینگز اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکز کو تباہ کر دیا تھا جس کی بدولت کچھ ناخوشگوار واقعات کے سوا پورا ملک پُر امن رہا اور انتخابات بھی وقت پر اپنے ہدف تک پہنچ گئے۔

یہاں میرا مقصد عمران خان کی حمایت کرنا نہیں ہے لیکن مجھے یہ کہتے ہوِئے بھی کوئی قباحت نہیں ہوتی ہے کہ موجودہ دور کے تمام سیاسی رہنمائوں سے بہتر اب تک تو عمران خان ہی ہے، ہم پُرانے سیاستدانوں کو کئی بار آزماچکے ہیں لہذا اب عمران خان کو بھی موقع دینا چاہئے۔

عمران خان الیکشن تو جیت گئے ہیں لیکن یہ اس کی کامیابی نہیں ہے اصل کامیابی انتخابات جیتنا نہیں بلکہ اپنے کئے گئے وعدوں کو پورا کر کے دیکھا نے میں ہے۔ پی ٹی آئی کی بائیس سالہ سیاست میں سخت ترین امتحان اب شروع ہوا ہے،عوام نے اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح انجام دیتے ہوئے پی ٹی آئی کو اقتدار کی کرسی سونپی ہے اور امید ہے کہ وہ عوام کے امیدوں پر پانی نہیں پھیرینگے۔

اس وقت پی ٹی آئی کو اندرونی و بیرونی طور پر بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، اندورونی طور پر پہلی ذمہ داری اور چیلنج یہ ہے کہ وزارات کی قلم دان کن کن کو سونپی جائے جو عمران خان اور عوام کے وژن کو سامنے رکھ کر، زاتی مفادات سے ہٹ کر، ملک و قوم کی ترقی کے لئے کام کریں، دوسری ذمہ داری استقامت کا مظاہرہ کرنا اور اندورونی چپقلش سے دور رہنا ہے۔

بیرونی طور پر پہلی مشکل سیاسی مخالفین کی ہے، تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے پی ٹی آئی کی مخالفت کے لئے ساز باز شروع کر دی ہیں تاکہ عمران کو حکومت بنانے میں اور چلانے میں رکاوٹ پیدا کر سکیں ۔ دوسری مشکل پاکستان کی معیشیت کا ہے۔ پاکستان کے قرضے اور پٹرو ڈالر کو کنٹرول کرنا ہے، جب تک پٹرو ڈالر اور قرضوں کے تناسب کو حل نہیں کرینگے عوام کو رلیف نہیں دیا جاسکتا جو کہ بہت بڑا چیلنج ہے۔ تیسرا چیلنج دہشت گردوں اور ملک کے دشمن عناصر کو قابو کرنا ہے۔ چوتھا چیلنج ہمسایہ ممالک سے تعلقات اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بیلنس کرنا ہے۔ لیاقت علی خان سے لیکر اب تک ہماری خارجہ پالیسی یک طرفہ رہی ہے اور وطن عزیز کی مفادات کو ذاتی مفادات اوراقتدار کے لئے قربان کیا گیا ہے۔ اس وقت دنیا کے افق پر پاکستان کی خارجہ پالیسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے خصوصا جب عالمی طاقتوں میں پاور شفٹنگ، سوفٹ وار اور معیشت کی جنگ چل رہی ہے تو دوسری طرف شام، یمن میں جنگ جاری ہے تو تیسری طرف مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر بھی روز بہ روز گمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے وطن عزیز کے مفادات اور پالیسیوں کو واضح اور بیلنس کرنا چاہئے تاکہ ہم دنیا میں طاقتور ہو کر ابھر سکیں۔

یہاں پر ہمارے اوپر یعنی پاکستانی عوام اور جوانوں پر ایک اور بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم نے سالوں کی جدوجہد کے بعد آج ایک نئی پارٹی کو اس کے اچھے اہداف کی بناء پر اقتدار تک لے پہنچایا ہے، اب اس پارٹی اور ہمارے منتخب کردہ نمایندوں سے کام لینا بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ کس طرح اُن کے ذریعے ہم اپنے معاشرتی، سیاسی، سماجی اور دیگر مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ ان حالات میں ہمیں بیدار رہنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ جب بھی کوئی معاشرہ اچھآئی اور ترقی کی طرف جاتا ہے تو اس کے دشمن متحرک ہو جاتے ہیں تاکہ ان کے درمیان انتشار، بدنظمی، بے اعتمادی اور فساد کی فضاء کو قائم کرسکیں۔ ان حالات میں اگر ہم بیدار نہیں رہے تو ہمارے دشمن کامیاب ہو جاینگے اور ہماری محنت و قربانی ضائع ہوجائے گی لہذا ہمیں اپنے چاروں طرف اپنوں اور غیروں دونوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا کام ووٹ دیکر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گھر بیٹھ جانا نہیں ہے بلکہ معاشرتی و حکومتی کاموں میں ہاتھ بٹانا اور دشمنوں کی سازشوں پر کڑی نظر رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں کبھی مشکلات، ناکامیوں اور خطرات سے نہیں ڈرنا چاہئے۔ لہذا اگر ہم نے پاکستان کے مستقبل کو بہتر بنانا ہے تو مل جل کر اتحاد و اتفاق کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور جو کوئی ہمیشہ کوشش و تلاش کی حالت میں رہتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ ایک دن ایسا ضرور آتا ہے کہ خدا اس کو اس کے کئے کی جزا دیتا ہے اور کبھی اس کی کوشش کو ناکام ہونے نہیں دیتا۔


تحریر ۔۔۔ناصر رینگچن

وحدت نیوز(گلگت) پرامن الیکشن کا انعقاد پاکستانی عوام کی فتح ہے ،عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا ہے۔سٹیٹسکو جماعتوں کی تاریخی شکست سے ملک میں بڑی تبدیلی آئی ہے،امید ہے آنیوالی حکومت محروم طبقات کی نمائندگی کرتے ہوئے ستر سالہ محرومیوں کا ازالہ کرے گی۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سیکریٹری سیاسیات غلام عباس نے پاکستان تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو کرپٹ مافیا کے خلاف ان کی پانچ سالہ جدوجہد کا صلہ ملا ہے، نئی حکومت عوام کے امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے عدل وانصاف کے قیام کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ الیکشن میں عوام نے باریاں لینے والی جماعتوں کو دھتکار دیا ہے جو جمہوریت کے نام پر عوام کا استحصال کرتے رہے ہیں اور ملکی وسائل کو لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لایا جائے اور قوم کا سرمایہ ہڑپ کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں کس دیا جائے بصورت دیگر صرف چہرے بدلنے سے ملک ترقی نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے آنیوالی حکومت کیلئے ایک بڑا پیغام بھی دیا ہے اور اگر تحریک انصاف کی قیادت کرپشن کے خلاف اپنے بیانیے پر قائم نہیں رہتی تو آئندہ ان کا بھی وہی حشر ہوگا جو دوسروں کا ہوا ہے۔

Page 1 of 422

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree