انقلاب مگر کیسے!؟

وحدت نیوز (آرٹیکل)  انقلابیوں کو انقلاب ھرگز برا نہیں لگتا لیکن ناسمجھ ، جذباتی اور دو نمبر انقلابی بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔ آج جن دہشتگردوں نے عراق وشام کو تباہ کیا سب کے سب انقلاب کے دعویدار تھے۔ امام کعبہ کی برکتوں سے بھی انقلابی لوگ میدان میں از سر نو فعال ہوئے ہیں ۔ اور شیخ صبحی طفیلی مزاج سپر انقلابی بھی ہر جگہ پائے جاتے ہیں ۔جو اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے انقلاب اور رھبران انقلاب وبانیان حکومت جمھوری اسلامی کے فرامین واقوال اور مواقف واقدامات کی تاویلیں اور توجیہات اپنی مرضی سے کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اور دوسری طرف دشمنان مقاومت وبیداری اور استعماری واستکباری طاقتیں بیرونی واندرونی محاذوں پر حملہ آور ہیں۔ انقلاب ومقاومت کے دشمن کم علم اور  نا آگاہ عوام ، بالخصوص جذباتی نوجوانوں کے ذریعے  ہمارے راھبران مقاومت وانقلاب اور انقلابی شخصیات کی کردار کشی پر پوری توانائی صرف کر رہے ہیں۔ اور اسی طرح ایم آئی 6 کے ایجنٹ ہوں یا سی آئی اے کے آلہ کار یا موساد و را کے تنخواہ دار ان سب کا بھی  ہدف اور نشانہ فقط اور فقط پیروان ولایت وخط مقاومت وبیداری ہیں۔اس لئے خط ولایت ومقاومت وانقلاب کے پیروکاروں کو یہ حساس مسائل بڑی حکمت ودانشمندی کے ساتھ بیان کرنے ، ایک دوسرے کی تحقیر وتذلیل اور کردار کشی کی بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے ، مشترکہ زبان تلاش کرنے اور  افہام وتفہیم سے مسائل کو سلجھانے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔

کوئی بھی انقلابی اور رہبر کا پیرو نظام ولایت سے نہیں گھبراتا بلکہ وہ تو ہر قسم  کی قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے۔ لیکن اختلاف اسلوب اور موقف کو سمجھنے میں ہے۔ اور رھبریت کی  براہِ راست  راھنمائی سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔  لیکن ایک دوسرے کے متعلق شائستہ زبان اور مہذبانہ تعبیرات ہی ہمیں قریب رکھ سکتی ہیں۔ اور احترام متبادل افہام وتفہیم ایجاد کرنے کا پہلا زینہ ہے۔ جتنا بھی اختلاف نظر ہو اور فکری فاصلے پیدا ہو جائیں تب بھی مشترکہ راھیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔  اور شبھات کا ازالۃ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن تہمت  اور الزام تراشی ہمیشہ بند گلی کی طرف لے جانے والے راستے ہیں۔آئیے کچھ دیر کے لئے سوچتے ہیں کہ ہم پاکستان میں کس طرح کی تبدیلی اور انقلاب چاہتے ہیں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ یہ بحث اپنی جگہ پر قائم ہے کہ پاکستان کا نظام کہ جس کے دستور  میں واضح بیان ہے کہ اسکے تمام تر قوانین قرآن وسنت کے مطابق ہو نگے  یا مخالف نہیں ہو نگے تو کیا ایسے نظام کو مطلقاً طاغوتی کہنا درست ہے یا نہیں ؟یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان اور شیعان  پاکستان کے وجود کے دشمن جو تاسیس پاکستان کی تحریک سے لیکر آج تک تکفیریت کا پرچار کرنے  والے ہیں  اور سیاسی لبادے میں انکے سہولت کار جو  پاکستان دشمن قوتوں کے ھاتھوں میں کھیل بھی رھے ہیں اور دوسری جانب اس نظام کے اسٹیک ہولڈرز بھی بنے ہوئے ہیں نیز ہمیں ہمیشہ غیر کا ایجنٹ ، غیر پرست ، پراکسی وار کا حصہ اور دشمن نظام ثابت کرنے کی کوشش کرتے رھتے ھیں۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ  جب ہم پاکستان کے نظام کو طاغوتی نظام کہتے ہیں تو دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے دشمنوں کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور لوگوں کو تبدیلی اور حقیقی انقلاب سے مایوس کرکے پاکستان کی دشمنی پر ابھار رہے ہوتے ہیں۔

عام طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ موجودہ فاسد اور طاغوتی نظام کا حصہ بننا ملت پاکستان بالخصوص مظلوم ملت تشیع کے لئے راہ نجات ہے یا نہیں ؟اصل سوال یہ نہیں بنتا کہ  ہمیں موجودہ  نظام کا  حصہ بننا چاھیے یا نہیں  بلکہ یہ  ایک روشن سچائی ہے کہ جس نظام کو طاغوتی اور فاسد کہا جارہا ہے  وہ تو  اپنی جگہ پر قائم ہے  اور پورے ملک کے باشندے چاھتے ہوئے یا نہ چاھتے ہوئے اس کے تحت اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ کوئی نظام مصطفی کی بات کر رہا ہے اور کوئی شریعت کا نظام لانا چاہتا ہے اور کوئی خلافت قائم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ چنانچہ سوچنا یہ چاہیے کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے لئے نجات کا راستہ کیا ہے؟1-آیا ہم شیعیانِ حیدر کرار  اس موجودہ  فاسد نظام کو  ہی مضبوط کریں؟ج - کوئی ہوشمند اور عاقل شیعہ ، ظلم وفساد کے نظام کی تقویت نہیں چاھتا۔ البتہ چند ایک نکات پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصا جس ملک میں شیعہ مسلمان (نظام امامت وولایت پر ایمان رکھنے والے) نسبتا اقلیت میں ہوں اور شیعہ مخالف مسلمان (جو نظام خلافت پر ایمان رکھتے ہوں) اور  انکی اکثریت ہو تو کیا عوام نظام خلافت چاہیں گے یا نظام امامت وولایت ؟نظام امامت و ولایت پر اعتقاد اور یقین رکھنا تو ضروریات دین میں سےہے لیکن عملی طور پر یہ نظام ولایت و امامت موجودہ  صورتحال میں کیسے نافذ ہو گا۔ ؟اس  نظام کے نفاذ کا کا روڈ میپ کیا ہو گا ؟ اقلیت کیسے اپنی مرضی کا نظام قائم کرے گی؟ یا پھر زبردستی اور طاقت کے ذریعے  یا کوئی اور معجزہ نما  راستہ  موجود ہے؟ہمیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ ہمارے مذہب میں اور ہمارے مراجع کرام کے نزدیک  اپنے عقیدے کا نظام قائم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال جائز بھی ہے یا نہیں۔ ؟

یہ بھی قابلِ غور نکتہ ہے کہ اس ملک میں  لوگوں کو  نظام امامت کے لئے زبردستی  کرنے کے لئے اکسانا در اصل نظام خلافت کے حامیوں کو شہ دینے اور ابھارنے  کے مترادف تو نہیں!؟۔اسی طرح یہ   بھی شوچنا چاہیے کہ کیا اکثریت کو  اخلاقاً اور شرعاً یہ حق نہیں کہ وہ نظام خلافت قائم کرے۔؟پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا متروک شدہ  نظام خلافت سے بہتر نہیں کہ ایک جمھوری اسلامی نظام قائم کیا جائے۔ ؟مندرجہ بالا سوالوں اور اس ضمن میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والے دیگر سوالوں کے مدلل اور عام فہم جوابات تفصیل کے ساتھ بیان کرنے اور اصلح نظام کے لئے عوام کو آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔2-دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم شیعیان پاکستان اس نظام کا مکمل بائیکاٹ کریں ، سول نافرمانی کریں ، مثلا ٹیکس ادا نہ کریں،قوانین کو ماننے سے انکار کر دیں، نوکریوں کو چھوڑ دیں، عدالتی فیصلے قبول نہ کریں،  اس نظام کے تحت اسکولوں اور کالجوں یونیورسٹیوں میں اپنے بچے نہ بھیجیں،وغیرہ وغیرہاس میدان میں اترنے کے بھی دو طریقے ہو سکتے ہیںا- مسلح جدوجہد کریں۔ اور اس نظام کے سقوط  تک جہاد کریں۔ اور زمام اپنے ھاتھ میں لے لیں۔  2- پر امن عوامی جدوجہد کریں اور اس نظام کو کمزور کریں تاکہ ظلم وفساد سے نجات حاصل ہواور اکثریتی عوامی حمایت سے اس کومرحلہ وار بدلنے پر کام کریں اور نعم البدل لائیں۔یعنی عوامی انقلاب لا کر یکسر نظام بدل دیں۔3-اب پھر یہ سوال ابھرتا ہے کہ جب تک عوامی انقلاب لانے کا مرحلہ طے نہیں ہوتا تو کیا اس وقت تک معاشرے وعوام اور نظام سے کٹ جائیں ؟ ۔  یا اس سوسائٹی کے اندر رہتے ہوئے اپنے آپ کو اجتماعی ومعاشی وفرھنگی وسیاسی لحاظ سے طاقتور بنائیں۔ ؟

تحریر۔۔۔۔حجۃ الاسلام ڈاکٹر سید شفقت شیراز ی

وحدت نیوز (لاہور) مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ مبارک موسوی نے مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی کے ہمراہ صوبائی سیکرٹریٹ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 13مئی کو مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام ملک گیر یوم مردہ باد امریکہ منایا جائے گا پنجاب بھر کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی جائیں گی لاہور پریس کلب سے اسمبلی ہال تک ریلی نکالی جائے گی جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء عمائدین شریک ہو نگے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی رہنما ایم ڈبلیوایم سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ انسانیت کے دشمن اسرائیل اور امریکہ نے قبلہ اول کو صہیونی غاصب ریاست کا دارالخلافہ قرار دے کر مسلمانوں کی قلب پر وار کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ہم اس غاصب صہیونی ریاست اور عالم انسانیت کے دشمن امریکہ کے خلاف آواز بلند کریں اور ظالم قوتوں کیخلاف برسرپیکار مظلوم مسلمان بھائیوں کا ساتھ دیں،اسی طرح کشمیر میں بھارت کے ظالم حکمران اور افواج کی جانب سے مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی کیخلاف بھی آواز اٹھانا اور غاصب ہندوستان سے کشمیری بھائیوں کو آزاد کروانے کے لئے جدوجہد کرنا بھی ہم پر فرض ہے 13مئی کو ملک گیر یوم مردہ باد امریکہ منایا جائے گا ذرائع ابلاغ میں موجود انسانیت دوست اہل قلم سے گذارش ہے کہ اس احتجاجی تحریک کی کوریج کو یقینی بنا کر مظلومین جہاں کی داد رسی میں اپنا کردار ادا کریں،انہوں نے کہا کہ ہم مملکت خداداد پاکستان کے حکمران سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امریکہ اور اسکے حواریوں کے بلاک کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیں اس منحوس بلاک نے پاکستان کے عوام کو سوائے دہشت گردی فرقہ واریت اور قتل و غارت گری کے کچھ نہیں دیا ہمیں اب حقیقی دشمنوں کو پہچاننا ہوگا،امریکہ اور اسکے اتحادی حواری کسی کادوست نہیں یہ انسانیت دشمنوں کا ایک بلاک ہیں۔

وحدت نیوز (کراچی)  جعفرطیار سوسائٹی ملیر میں تجاوزات کے خلاف ہونے والے حالیہ آپریشن سے متاثرہ پریشان حال مکینوں کی بحالی اور مکانات کی تزین وآرائش میں تعاون اور مالی امداد کی فراہمی کے لئے مجلس وحدت مسلمین ضلع ملیر کی جانب سے مرکزی روڈ پر دو روزہ ریلیف کیمپ کا قیام کردیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں متاثرین کی آمد کا سلسلہ اورکوائف کی جمع آوری کا عمل تیزی سے جاری ہے،اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے رہنما مولانا نشان حیدر سمیت دیگر بھی موجود تھے،جبکہ جناب محمود اختر نقوی نے بھی ریلیف کیمپ کا دورہ کیا، انشاءاللہ 11مئی بروز جمعہ مجلس وحدت مسلمین کے پرزور مطالبے پر سندھ حکومت اور سماجی شخصیت جناب محمود اختر نقوی کی جانب سے متاثرین میں Rs.20000 فی گھرانہ نقد تقسیم کیئے جائیں گے لہذا تمام ضرورت مند متاثرین اپنی قانونی دستاویزات کے ہمراہ آج بروز بدھ 9مئی رات 9تا 12 بجےتک مجلس وحدت مسلمین کے ریلیف کیمپ سے رجوع کریں،واضح رہے کہ جعفر طیار وحسنین سوسائٹی کے فقط ان متاثرہ مکینوں میں امدادی رقوم تقسیم کی جائیں گی جن کے کوائف آج رات تک جمع ہوسکیں گےاور ان کے کوائف مکمل جانچ ہڑتال کے بعد درست قرار پائیں گے۔

وحدت نیوز(مانترنگ ڈیسک) کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ نسل کشی کیخلاف صوبائی دارلحکومت کے متعدد مقامات پر تیسرےروزبھی احتجاجی دھرنے جاری رہے۔ چار روز قبل جمالدین افغانی روڈ پر فائرنگ سے دو شیعہ ہزارہ مسلمانوں کی شہادت کے بعد کوئٹہ کے متعدد مقامات پر احتجاجی دھرنے دیئے جا رہے ہیں۔ مرکزی احتجاجی دھرنا مغربی بائی پاس، کوئٹہ پریس کلب، بلوچستان اسمبلی اور آئی جی آفس کے سامنے چار مقامات پر تیسرے روز بھی احتجاجی دھرنے جاری رہیں۔ احتجاجی دھرنے کے شرکاء کا مطالبہ ہے کہ پاک افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ آکر شیعہ ہزارہ نسل کشی کے مکمل خاتمے کی یقین دہانی کرائیں۔ احتجاجی دھرنوں میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء و صوبائی وزیر قانون سید محمد رضا، امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید محمد داؤد آغا، سابق ایم این اے سید ناصر علی شاہ، ہزارہ سیاسی کارکن کے رہنماء طاہر خان ہزارہ اور پرنسپل جامعہ امام صادق علامہ محمد جمعہ اسدی سمیت دیگر رہنماء شریک ہے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جلیلہ حیدر ہزارہ ایڈوکیٹ کے زیرقیادت ساتھیوں سمیت پاک افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے کوئٹہ آنے تک تا دم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ مذکورہ دھرنوں سے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہوچکا ہے، جس کی بناء پر وزیراعلٰی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء سید محمد رضا سمیت دیگر ہزارہ رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے دھرنوں کو ختم کرنے کی درخواست کی۔ ہزارہ قوم کے اکابرین نے آرمی چیف کے کوئٹہ آنے تک احتجاجی دھرنوں کو ختم کرنے سے انکار کر دیا۔

وحدت نیوز (کوئٹہ)  شیعہ ہزارہ نسل کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کے رکن وصوبائی وزیر قانون آغا سید محمد رضا کی زیر قیادت بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرناجاری ہے، کچھ دیر قبل  وزیر بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور دیگر صوبائی وزراءکے ہمراہ احتجاجی دھرنے میں شرکت کی ،اس موقع پر انہوں نے مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا اور ایم ڈبلیوایم کے رہنما اور صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور آغاسید محمد رضا سے ملاقات کی، اس موقع پر ، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے آغا رضا سے دھرنے ختم کرنے کی اپیل کی، آغا رضا نے مسائل کے حل اور مطالبات کی منظوری تک دھرنے

ختم نا کرنے کا اعلان کیا۔

وحدت نیوز (آرٹیکل)  طعنے کلیجہ کھا جاتے ہیں،جملے انسانوں کو مار دیتے ہیں اور الفاظ کردار کو نگل جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ انسانیت کے دشمن اپنے دفاع کے لئے ایسے جملے استعمال کرتے ہیں جن سے لوگ مایوس اور اولاِ آدم ناامید ہو جاتی ہے، کبھی کہاجاتا ہے کہ  اب تو زمانہ ہی برا ہے، کبھی کہاجاتا ہے کہ سب ایک جیسے ہیں کبھی کہاجاتا ہے کہ یہاں کون پاک صاف رہ گیا ہے۔۔۔ یہ جملے نہیں بلکہ شیطان کےترکش کے تیر ہیں، جب تک اس دنیا میں ظلم ہوتا رہے گا ، اس وقت تک مظلوم قیام کرتا رہے گا، یہ دنیا کی  کسی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک کے مندر میں آ صفہ کے ساتھ ریپ ہو یا دنیا کی کسی  اسلامی جمہوریہ  کے کسی تہہ خانے میں کسی  زینب کے ساتھ درندگی ہو،  یمن میں ننھے بچوں کا دانہ پانی بند کیا جائے ،  شام میں نوجوان نسل پر زبردستی دہشت گردوں کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی جائے اور یا پھر کابل میں ایک ووٹر رجسٹریشن سنٹر کے باہر خود کش حملہ کر کے ستاون افراد کو ہلاک کر دیا جائے ، یہ سب  انسانیت کے خلاف جرائم ہیں ، فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ مجرموں کو باقاعدہ کچھ ممالک نے اپنی ضرورت کے لئے ٹریننگ دی ہے اور کچھ مجرم وقتی طور پر کسی  منفی جذبے کے تحت جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مجرموں کو مجرم مانا جائے اور یہ تسلیم کیا جائے  کہ جس طرح ہندوستان کے کسی مندر میں کسی بچی کے ساتھ ریپ کرنا جرم ہے اسی طرح یمن کے بچوں پر جارحیت بھی جرم ہے، جس طرح پاکستان کے کسی تہہ خانے میں زینب نامی بچے کے ساتھ درندگی کرنے والا وحشی درندہ ہے اسی طرح  افغانستان، عراق اور شام میں بھی داعش اور طالبان کا  عزّت دار اور پر امن خاندانوں پر شب خون مارنا اور ناموس کی دھجیاں بکھیرنا بھی قابلِ مزمت ہے۔ ہمیں چند لمحوں کے لئے مشرق و مغرب کی تقسیم اور فرقوں کی حدود سے اوپر آکر یہ سوچنا ہوگا کہ سعودی عرب نے امریکہ و اسرائیل کے ساتھ مل کر اب تک پاکستان و افغانستان و عراق و شام و یمن میں مسلمانوں کے لاشیں زیادہ گرائی ہیں یا کسی عالمی جنگ میں کسی  کافر ملک نے  اس قدر مسلمانوں کا قتل عام کروایا ہے!؟ اسی طرح  طالبان، القاعدہ، داعش، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسے دہشت گردوں کی سعودی عرب نے سرپرستی کی ہے یا کسی کافر ریاست نے!؟

تفصیلات کے مطابق  کابل میں ہونے والے حالیہ خوفناک  خود کش دھماکے میں ستاون سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور  زخمیوں کی تعداد 119  سے عبور کر چکی ہے ، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے-اس واقعے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔ فرض کریں کہ اگر اس حملے میں ہلاک ہونے والے سب لوگ کافر بھی ہوں تو کیا داعش بنانے والوں کو اس قتلِ عام کا ثواب پہنچ رہا ہے!؟ یہ حقیقت اب کسی سے  ڈھکی چھپی نہیں کہ اب نئی حکمت عملی کے تحت  اس وقت داعش ، القاعدہ اور طالبان بنانے وا لے لبرل لوگوں کے لشکر تیار کرنے نکلے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو کام داعش اور القاعدہ کا ہے ویسا ہی یونیورسٹیوں کے طالب علموں سے بھی لیا جانے لگا ہے ۔ ملکی سلامتی، علاقائی امن اور خطے کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے لئے قریبی تعلقات قائم کرے اور اس منطقے کے سارے ممالک ایک مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ دہشت گردی اور انسانیت سوز جرائم کا توڑ کریں۔

پاکستان و افغانستان کو اپنے ہمسایہ ممالک سے مل کر عربی اور غربی دہشت گردی کا توڑ کرنا ہوگا۔ مغربی اور عربی ممالک نے افغانستان و پاکستان میں مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ  دہشت گردی کا بیج بویا ہے،  اب اس دہشت گردی کے مقابلے کے لئے پاکستان و افغانستان کو مقامی سطح پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر ایک بلاک تشکیل دینا چاہیے جو اس دہشت گردی کا مقابلہ کرے۔ یہ سوچنا کہ  اب تو زمانہ ہی برا ہے، یا  سب ایک جیسے ہیں یا یہ کہنا  کہ یہاں کون پاک صاف رہ گیا ہے۔۔۔اس طرح کی باتیں  لوگوں کی ہمت اور حوصلے کو کم کرنے کے حربے ہیں۔پاکستان و افغانستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل کر آج بھی   اپنے درمیان   حائل خلیج کو عبور کر سکتے ہیں اور عربی و غربی طاغوت کو دندان شکن شکست دے سکتے ہیں۔ بے شک انسانوں کو ناامید کرنا اور شیاطین کے چنگل سے نکلنے کے لئے  جدوجہد سے منحرف کرنا یہ شیطانوں کا ہی کام ہے۔

دنیا میں جب تک سورج طلوع ہوتا رہے گا، خیر و شر ، حق و باطل اور انسانیت و شیطانیت کے درمیان معرکہ جاری رہے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس گروہ میں شامل ہیں، لوگوں پر ظلم کرنے اور  انہیں ناامیدکرنے والے گروہ میں یا مظلوموں کی ہمت بڑھانے اور انہیں حوصلہ دلانے والے گروہ میں۔

 

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Page 1 of 419

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree