وحدت نیوز(جامشورو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کی شوریٰ کا دو روزہ سہہ ماہی اجلاس مرکز تبلیغات وتعلیمات اسلامی جامشورومیں منعقد ہوا ، علامہ مختارامامی کی زیر صدارت اجلاس میں مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری ، رکن شوریٰ عالی علامہ حیدرعلی جوادی، علامہ احمد اقبال رضوی ، مہدی عابدی سمیت دیگرمقررین نے خطاب کیا، اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ 27مارچ کو بھٹ شاہ میں عظیم الشان عوامی جلسہ عام منعقد کیا جائے گا،جس میں وادی مہران کے ہزاروں غیرت مند شہری شرکت اور  شیعہ سنی علمائے کرام وقائدین خطاب کریں گے،اجلاس میں سال گذشتہ کی تنظیمی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا گیا، اجلاس میں شریک تمام اضلاع نے اپنی اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کی، علامہ ناصرعباس جعفری نے اپنے خطاب میں کہا کہ تھر میں انسانیت سسک رہی ہے، حکمران خواب غفلت کا شکار ہیں، علامہ مختارامامی اپنی ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر تھر کے قحط متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں ، ضروریات کا جائزہ لے کر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور مزید ضروریات کی رپورٹ مجھے ارصال کریں ،انہوں نے کہا کہ پارٹی الیکشن نزدیک ہیں کسی تنظیمی عہدیدار کو کنونسنگ کی اجازت نہیں ، یہ عمل غیر اخلاقی وغیر شرعی ہے، ایم ڈبلیوایم میں کسی قسم کی دھڑے بندی کی کوئی گنجائش نہیں ،انہوں نے ایم ڈبلیوایم ضلع مٹیاری کے سیکریٹری جنرل مولانا اخترعباس اور انکی ٹیم کو ضمنی الیکشن میں شاندار کارکردگی پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکر ٹری جنرل علامہ مختار امامی ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل عالم کربلائی اور سیکریٹری امور سیاسیات عبداللہ مطہری نے کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری کی جاری ٹارگٹ کلنگ اورراولپنڈی تھانہ نیو ٹاون کے علاقے میں پولیس کے ہاتھوں دو نوجوانوں بھائیوں کی ہلاکت پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اگر دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو پھر بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے ٹھکانوں پر بھرپور آپریشن کرے۔دہشت گردی کے یہ مراکز پاکستان کی سالمیت و بقا کے خلاف سخت خطرہ ہیں۔ ضرب عضب کا دائرہ کارکو پھیلا کر ملک کے ہر اس کونے تک وسعت دی جائے جہاں جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔وحدت ہاؤس کراچی سے جاری اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے سہولت کار ان گھناونی سرگرمیوں میں معاون کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب تک انہیں تختہ دار پر نہیں لٹکایا جاتا تب تک ملک میں امن کا قیام ممکن نہیں۔علامہ مختار امامی کا راولپنڈی میں پولیس کے ہاتھوں دونوجوان بھائیوں کی ہلاکت پرکہنا تھا کہ پنجاب میں پولیس گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات عوام میں عدم تحفظ کے احساس کو تقویت دے رہے ہیں۔ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے جب شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے شروع کر دیں گے تو پھر ملک میں امن وسکون قائم نہیں رہ سکے گا۔پولیس انتظامیہ کا یہ طرز عمل ادارے کے تقدس کو پامال کرتا جا رہا ہے۔باوردی اہلکاروں کا یوں بے گناہ شہریوں کو سر عام فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دینا پولیس کا اپنے اختیارات سے تجاوزکرنے کا واضح ثبوت ہے۔نواز حکومت میں سانحہ ماڈل ٹاون اور سانحہ ڈسکہ کے بعد پولیس نے ایک بار پھر بربریت کی جو مشق دوہرائی ہے وہ انتہائی دلخراش اور قابل مذمت ہے۔اگر حکومت ماضی میں ایسے عناصر پر آہنی ہاتھ ڈالتی تو آج ایک بیوہ ماں کو دو نوجوان بیٹوں کی لاشیں نہ دیکھنی پڑتیں۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان وراولپنڈی کے واقعات کے خلاف سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے اعلیٰ پولیس افسران کو عدالت عالیہ میں طلب کریں اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کالعدم جماعتوں اور صوبائی حکومت کی جانب سے ناقص سکیورٹی انتظامات کے خلاف بھی فوری الیکشن لیا جائے۔

وحدت نیوز(خیر پور) خیرپور کے نواحی قصبے پریالومیں کالعدم تکفیری جماعت کے دہشت گردوں نے اندھادہند فائرنگ کر کے  پیام ولایت فاونڈیشن کےصوبائی رہنما  سید عباس شاہ کو بے دردی سے شہید کردیا، عباس شاہ کے بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئےمجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مختار امامی ، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری جنرل عالم کربلائی اور صوبائی سیکریٹری تربیت علامہ نشان حیدر ساجدی نے کہا ہے کہ خیر پور تکفیری دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، بارہا سندھ حکومت کوخیر پور کی حساسیت اور تکفیری عناصر کی بڑھتی ہوئی فعالیت سے آگاہ کیا گیا لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، عباس شاہ کا قتل خیر پور میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، پہلے بھی بے شمارجوان ، علماء، اکابر تکفیری دہشت گردوں کی بھینٹ چڑ ھ چکے ہیں ، رہنماوں نے پاک آرمی  سے مطالبہ کیا کے خیر پور سمیت سندھ بھر میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اور موثر اقدامات بروئے کار لائےاور آپریشن ضرب عضب کا دائرہ فقط وزیرستان تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سندھ بھر میں ان ملک دشمن ، انسان دشمن دہشت گردوں کا تعاقب کیا جائے۔

وحدت نیوز( کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی اپیل پر سانحہ پشاور میں معصوم بچوں کی شہادت کیخلاف ملک کے دیگر شہروں کی طرح سندھ بھر میں اور کراچی میں مختلف مقامات پر احتجاج اور چراغاں کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نوابشاہ، حیدرآباد، سکھر، ماتلی، خیرپور ناتھن شاہ، دادو، ٹنڈو محمد خان سمیت کراچی میں جعفر طیار سوسائٹی، راشد منہاس روڈ اور نمائش چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ و چراغاں کیا گیا ۔ احتجاج مظاہروں سے خطاب علامہ مختار امامی، مولانانشان حیدر، علامہ مبشر حسن، علی حسین نقوی، سید رضا جلالوی، احسن عباس رضوی،عالم کربلائی اور آصف صفوی سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

 

اپنے خطاب میں رہنماؤں نے کہا کہ سانحہ پشاور ملکی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے،پشاور میں ہونے والے ظلم و بربریت پر انسانیت بھی شرماگئی ہے، اس سنگین سانحے نے عالمی سطح پر اسلام ، پاکستان اورمسلمان کا چہرہ داغ دار کیا، پشاور اسکول پر حملے میں وہی سوچ ،نظریہ اور کردار ملوث ہے جو چودہ سوسا ل قبل کربلا میں موجود تھا، معصوم ، نہتے اور بے قصور بچوں پر حملوں کی ابتدا میدان کربلا سے ہوئی، سانحہ پشاور میں شہید ہونے والوں کا بچوں کا نہ تو کوئی سیاسی و مذہبی شناخت نہیں تھی، ان کی شناخت حسینی اور ان کے قاتلو ں کی شناخت یزیدی ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ حکومت پر سے عوام کا اعتبار مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے، اٹھارہ کروڑ عوام کا اگر خدا کے بعد کسی پر بھروسہ اور تحفظ کی امید ہے تو وہ فقط پاک فوج ہے، پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ در اصل پاکستان کے دفاع پر حملہ ہے،شہید ہونیوالے بچے پاکستان کا مستقبل اور معمار تھے۔ دشمنان اسلام امت مسلمہ میں جہالت کے قائل ہیں، اس سانحے میں شہیدہونے والے اساتذہ کا جرم معاشرے سے جہالت کا خاتمہ اور علم کے نور کا پھیلاؤ تھا۔ آخر میں انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وطن عزیزاور اس کے غیرت مند بیٹوں کے خون سے آلود چہروں کا بے نقاب کیا جائے اور جلد از جلد سر عام ان سفاک دہشت گردوں کو سر عام اسی انداز میں واصل جہنم کیا جائے جیسے انہوں نے معصوم بچوں اور بیگناہ شہریوں کو درندگی کا نشانہ بنایا۔

وحدت نیوز (کراچی) عشرہ محرم الحرام ایام عزا مجلس و جلوسوں میں تعینات سیکورٹی اہلکار وں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ واہگہ باڈر دہشتگردی اور مساجد و امام بارگاہوں پر دہشتگردی کرنے والی کالعدم جماعت کی حمایت کرنے والی دینی جماعتوں اور مدارس کے خلاف فوری آپریشن کیا جائے ۔، حکومت اورریاستی ادارے شہر کراچی کے مختلف علاقوں میں قائم کالعدم جماعتوں اور ان کی بغل بچہ تنظیموں کے خلاف کاروائی کرئے ۔ عشرہ محرم الحرام کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے زریعہ شہید و زخمی ہونے والے عزاداران اور سکیورٹی اہلکاروں کے ورثہ سے اظہارہمدردی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مجلس و حدت مسلمین کے صوبائی سیکر ٹری جنرل علامہ مختار امامی اور ایم ڈبلیو ایم مرکزی عزاداری سیل کے رہنماء علی حسین نقوی نے ایم ڈبلیوایم مرکزی عزاداری سیل کے اجلاس میں خطاب کے دوران کیا ۔اجلاس میں علامہ حسن ہاشمی ،علامہ مبشر حسن ،علامہ علی انور،اصغر عباس زیدی،ڈاکٹر مڈثر حسین،انجینئر رضا نقوی،آصف صفوی اور ایم ڈبلیو ایم عزاداری سیل کرا چی کے ڈسٹرکٹ ذمہ داران نے شر کت کی اجلاس میں ایم ڈبلیو ایم عزاداری سیل کی کارکردگی بلخصوص شہر کے مختلف علاقوں میں عشرہ محرم الحرام کے دوران مجا لس و جلوس عزاء کی سکیورٹی و دیگر امور کامجموعی جا ئزہ لیا گیا۔

 

 علامہ مختار امامی کا کہنا تھا کہ محرم الحرام میں مجلس و جلوس پر تعینات سیکورٹی اہلکار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور کراچی کے مختلف علاقوں بشمول عائشہ منزل آئی آر سی مسجدو امام بارگاہ ،گلستان جوہر مسجد وامام بارگاہ وحدت مسلمین، مسجد وامام بارگاہ مدینتہ العلم نیپا چورنگی پر دہشتگردوں کی جانب سے کیئے جانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں واقعات میں شہید ہونے والی کم سن بچی بتول زہراء ،سمیت ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے والے ایم ڈبلیو ایم کے ہمدرد واجد حسین شاہ اورزخمی ہو نے والے عزاداران اور سکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔

 

علامہ مختار امامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام واقعات میں ملو ث دہشت گردوں کی گرفتاری عمل میں لائی جائے اور ان تمام واقعات کی رپورٹ پیش کی جائے اور اس کی تشہیر میڈیا کے زریع عوام تک کی جائے اور ان دہشتگردوں کو سر عام پھانسی دی جائے،آخر میں علامہ مختار امامی نے ایام عزاء کے پہلے عشرہ کے دوران سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات پر حکومت سندھ سمیت تمام سیکورٹی ایجنسی کو خراج تحسین پیش کیا،اور کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ دوران محرم و صفر مجالس و جلوس عزاء حکومت اور سکیورٹی اداروں کا اسی طرح تعاون جاری ہے گا ۔

وحدت نیوز(کراچی) کراچی میں جاری شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردوں کی عدم گرفتاری کے خلاف سندھ بھر میں بشمول حیدر آباد، دادو، بدین، ٹنڈو محمد خان، نواب شاہ، خیر پور، سکھر، شکار پور، لاڑکانہ ، جیکب آباد سمیت گھوٹکی اور متعدد مقامات پر مجلس وحدت مسلمین کے تحت ’’یوم سوگ‘‘ منایا گیا اورجمعہ نماز کے اجتماعات کے بعد احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں جبکہ مرکزی احتجاجی مظاہرہ کھارادر کراچی میں کیا گیا۔احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی کراچی میں بڑھتی ہوئی شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ کراچی کو امن و امان کا گہوارہ بنانے کے لئے کراچی میں بھی وزیرستان طرز کا بے رحمانہ فوجی آپریشن کیا جائے اور شہر کراچی میں موجود ملک دشمن اور اسلام دشمن دہشت گرد گروہوں اورا ن کی سرپرست نام نہاد مذہبی جماعتوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن عمل میں لایا جائے ، مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینزر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی مردہ باد، فرقہ واریت مردہ باد سمیت شیعہ سنی اتحاد اور شہداء کے قاتلوں کی گرفتاری سمیت کراچی میں فوجی آپریشن کے مطالبات درج تھے۔

 

احتجاجی مظاہرے سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کے رہنماؤں مولانا باقر زیدی،علامہ فرقان حیدر عابدی ، علی حسین نقوی، مولانا علی انور جعفری اور علامہ مبشر حسن ، آصف صفوی سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ شہر کراچی میں امن و امان قائم کرنے میں پوری طرح ناکام ہو چکی ہے لہذٰا شہر کراچی میں بڑھتی ہوئی بد امنی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث کالعدم دہشت گرد گروہوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بے رحمانہ فوجی آپریشن نا گزیر ہو چکا ہے، ان کاکہنا تھا کہ نہ جانے کیا بات ہے کہ اچانک سے شہر کراچی میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا آغاز کر دیا جاتا ہے یا پھر لسانی بنیادوں پر معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومت سمیت حکومت میں موجود سیاسی جماعتیں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں بشمول جمعیت علمائے پاکستان، سنی تحریک، جمعیت علمائے اسلام(ف) اور دیگر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کو زبانی بیان بازی کے بجائے عملی اقداما ت کے لئے آگے آنا ہو گا اور ہم اپیل کرتے ہیں کہ شہر کراچی میں فوجی آپریشن کے مطالبے کی حمایت کی جائے۔

 

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماؤں نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پہلے شہر میں علامہ عباس کمیلی صاحب کے فرزند علامہ علی اکبر کمیلی کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ٹھیک تین دن کے اندر مفتی نعیم صاحب کے داماد کو دہشت گردی میں قتل کر دیا گیا ، رہنماؤں نے علامہ علیا کبر کمیلی سمیت مولانا مسعود اور شہر میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے والے تمام شہداء کے قاتلوں کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر دہشت گردوں کو فی الفور گرفتار کر کے منظر عام پر نہ لایا گیا تو احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں، انہوں نے مفتی نعیم کو ان کے داماد کی ٹارگٹ کلنگ پر بھی تعزیت پیش کی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

 

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی دفتر پر پولیس اور رینجرز کی جانب سے کی جانے والی بے جا چڑھائی او ر کارکنوں کی گرفتاری پر بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کارکنوں کو فی الفور رہا کیا جائے بصورت دیگر ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔واضح رہے کہ مجلس وحدت مسلمین کراچی کے زیر اہتمام کراچی میں شیعہ عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ملیر برف خانہ، عباس ٹاؤن، نارتھ کراچی سمیت انچولی اور متعدد مقامات پر جمعہ نماز کے اجتماعات کے بعد احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree