وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان نے میڈیا سیل سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ دور حاضر میں مہنگائی، بے روزگاری بے جا اور غلط رسومات کیوجہ سے خصوصا''  تنگ دست اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کیلئے بر وقت گھر بسانا شادی کرنا نہایت مشکل ہو چکا ہے۔ بروقت شادی بیاہ نہ ہونے کیوجہ سے بہت سے شرعی، معاشرتی اور نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔نوجوانوں کی اسی فطری ضرورت اور مالی مشکلات کے پیش نظر کوئٹہ کے مخیر حضرات کے تعاون سے حسب روایات ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنماو امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی ،مرکزی رہنما و سابق وزیر قانون سید محمد رضا ،سیکریٹری جنرل کربلائی رجب علی ،ڈپٹی سیکریٹری جنرل کامران حسین ،معاون سیکرٹری جنرل سید عباس اور پوری کابینہ ممبران اور بزرگوں کی کوششوں سے انشاء اللہ گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی بہ مناسبت عید مباہلہ زیر اہتمام مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن شعبہ فلاح و بہبود بمقام گورنمنٹ یزدان خان ہائی سکول بتاریخ 4 ستمبر 2018 کو 12 ویں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

ان اجتماعی شادیوں کے تسلسل سے اب تک کئی جوڑے خوشحال زندگی گزار رہے ہیں جن کا تعلق مختلف مسالک اور عقائد بلکہ مختلف برادریوں سے بھی ہیں۔ایسے اقدامات کا مقصد نوجوان نسل کی شادی کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرکے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کوئٹہ ڈویژن گذشتہ کئی سالوں سے اجتماعی شادیوں کا انعقاد کرتی آئی ہے جس سے برادار اقوام میں مذہبی ھم آہنگی اور برادرانہ تعلقات کو فروغ حاصل ہوا ہے۔

اجتماعی شادیوں میں شریک تمام جوڑوں کو مختصر جہیز بھی دیئے جائیں گے۔ جس میں فریج، واشنگ مشین،سلائی مشین، چولہا، کمبل،استری،ڈنر سیٹ اوردیگر کیچن کا سامان ظروف وغیرہ شامل ہوں گے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ بلوچستان کے ڈپٹی سکریٹری جنرل کیپٹن حسرت اللہ چنگیزی، صوبائی رہنما علامہ ولایت حسین جعفری، کوئٹہ ڈویژن کے سکریٹری جنرل سید عباس علی، ڈیٹی سکریٹری جنرل رجب علی، حاجی عمران علی ہزارہ، رشید علی طوری، کامران حسین ہزارہ، ضلعی سکریٹری جنرل جعفر علی جعفری، ضلعی ڈپٹی سکریٹری جنرل فدا حسین ہزارہ، ودیگر زمہ داران نے اپنے مشترکہ بیان میں حکومت اور انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں پھنسے ہوئے زائرین کی تفتان روانگی کا جلد از جلد انتظام کیا جائے۔ زائرین وطن عزیز کے گوشہ و کنار سے نواسہ رسولﷺ کی زیارات کیلئے اس وقت کوئٹہ شہر میں مشکلات کے شکار ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے ہر سال جان بوجھ کر زائرین کیلئے مسائل پیدا کئے جاتے ہیں۔ عراق میں داعش کا خطرہ ہونے کے باوجود بھی زائرین کو ایسی مشکلات درپیش نہیں آتی۔ لیکن کوئٹہ سے تفتان کا سفر زائرین کیلئے عذاب بن چکی ہے۔ کیا ہمارے سیکیورٹی ادارے اور حکومت عراقی سیکیورٹی اداروں سے بھی پیچھے رہ گئی ہے۔ سیکیورٹی کا مسئلہ پوری دنیا میں ہے لیکن کوئی بھی ملک اپنی ہی عوام کو اس طرح سے تنگ نہیں کرتی اس وقت تقریباً 400 بسیں اور ہزاروں زائرین کوئٹہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن حکومت نے صرف 140 بسوں کو اس سال لے جانے کا شرط لگائی ہے۔ جو ایک غیر منطقی اور غیر آئینی شرط ہے۔ حکومت اور انتظامیہ جلد از جلد تمام زائرین کی تفتان روانگی کا بندوبست کریں۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) گزشتہ دنوں کوئٹہ میں دہشتگردوں کی جانب سے لوکل بس میں شناخت کے بعد چار خواتین کو شہید کر دیا گیا تھا جو کہ قابل مذمت واقعہ ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے رہنماؤں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور گزشتہ روز علمدار روڈ مائلو شہید چوک سے شہداء چوک تک ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جسکی قیادت مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی عہدیداران نے کی۔ ریلی کا مقصد صوبائی حکومت کو حرکت میں لانا تھا تاکہ حکومت دہشتگردوں کے خلاف اقدامات اٹھاتے ہوئے تکفیری عناصر کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کرے۔ ریلی میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے اپنی بیداری کا ثبوت دیا اور اس افسوسناک واقعہ پر غم و غصے کا اظہار کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ احتجاج میں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما علامہ ہاشم موسوی، کوئٹہ ڑویڑن کے سیکریٹری جنرل عباس علی، ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ ولایت حسین جعفری، سیکریٹری روابط اور کونسلر رجب علی، کونسلر عباس علی، کونسلر سید مہدی اور دیگر اراکین نے بھی شرکت کی۔ مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹریٹ سے جاری شدہ بیان میں ترجمان محمد ھادی جعفری نے کہا ہے کہ تکفیریت ایک ایسی عفریت ہے جس کی وجہ سے سفاک، درنرہ صفت دہشت گرد پیدا ہو رہے ہیں تکفیری عناصر کے ظلم و ستم سے کوئی طبقہ حتیٰ خواتین اور بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔  دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تکفیری سوچ کا خاتمہ ضروری ہے۔ گزشتہ دنوں رونماء شدہ واقعے نے تکفیری دہشتگردوں کے خوفناک چہرے سے پردہ اٹھا لیا ہے اور دنیا یہ جان چکی ہے کہ یہ وہ عناصر ہے جو محظ ظلم کر سکتے ہیں۔ ترجمان ھادی جعفری نے کہا کہ اسلام تو امن و محبت کا دین ہے، اس دین میں ہمیں بچوں سے شفقت کا درس ملتا ہے، یہاں جنگ کے دوران بھی عورتوں اور بچوں کیلئے الگ حکم ہوتا ہے انہیں قتل نہیں کیا جاتا، یہ تکفیری عناصر خود کو مسلمان کہہ کر اسلام کا نام بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تکفیری عناصر طاغوت کے آلہ کار ہے جو اپنے آقاؤں کے حکم پر عمل کرکے انہیں خوش کرنے کی کوشش رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں کو لگام دینے اور تکفیری تسلسل کو روکھنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان تشکیل تو دے دی گئی مگر یہ پلان اپنے اہداف کو حاصل کرتا نظر نہیں آرہا ہے، حکومت بلوچستان کو چاہئے کہ نیشنل ایکشن پلان کو بروئے کار لائے۔ صوبے میں جتنے بے گناہ افراد شہید ہوئے ہیں انکے قاتلوں کو سزا دلا کر، انہیں انصاف دلائے اور تکفیری عناصر کو انکے منتقی انجام تک پہنچائے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے شعبہ کھیل کی جانب سے رمضان المبارک میں فٹبال ٹورنامنٹ کا آغا زکیا گیا تھا،جو کامیابی سے اپنے تکمیل کو پہنچا۔ 20جولائی کو شہید ماسٹر رضا فٹبال ٹورنامنٹ کا فائنل میچ کھیلا گیا جسے دیکھنے کیلئے ایم پی اے آغا رضا سمیت فٹبال کے سینکڑوں شائقین قیوم پاپا فٹبال گراؤنڈ پہنچے۔ اس موقع پر ایم پی اے آغا رضا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ معاشرے کی فلاح کیلئے کھیلوں کو فروغ دینا ایک اچھا اقدام ہے، کھیل میں دلچسپی نوجوانوں کو لاتعداد معاشرتی برائیوں سے نجات دلا سکتی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے میڈیا سیل سے جاری شدہ بیان میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء اور صوبائی اسمبلی کے رکن آغا رضا نے کہا ہے کہ کھیل کے اعتبار سے صوبے میں ایسے بے شمار ہنر مند افراد موجود ہیں جو اپنے مہارت کو بروئے کار لاکر ملک کا نام روشن کرنا چاہتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی ہماری ترقی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کھیل کے میدان میں نام کمانے والوں اور اس سے وابسطہ افراد کی حوصلہ افزائی کی گئی تو ہمارا صوبہ ملک کے باقی صوبوں کو کھیل کے اعتبار سے پیچھے چھوڑ دیگا۔ حکومت کو چاہئے کہ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح اسے بھی اہمیت دے اور کھیل کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے شعبہ کھیل کی جانب سے ماہ رمضان المبارک کے موقع پر ’’شہید ماسٹر رضا فلڈ لائٹ فٹبال ٹورنامنٹ‘‘ کے نام سے فٹبال کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں علاقے کے عوام نے اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کرکے ہماری حوصلہ افزائی کی اسکے علاوہ ان اقدامات سے کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کھیل کے فروغ میں بے حد سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے، صوبے بھر میں لا تعداد کھلاڈی موجود ہیں جو کسی نہ کسی کھیل میں قابلیت رکھتے ہیں ۔ ایم پی اے آغا رضا کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں کھیل اور اس سے وابسطہ افراد کو جس طرح کچھل دیا گیا ہے ہنر مند افراد آگے نہیں آپاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھیل کے فروغ کیلئے ایک نظام ترتیب نہ دینے کے باعث، کھلاڈی اپنے ہنر کو نہیں نکھارپا رہے ہیں ۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور کھلاڈیوں کی حوصلہ افزائی سے وہ سب افراد سامنے آئیں گے جو مختلف کھیلوں میں ماہر ہیں حکومت کو چاہئے کہ کھیلوں سے وابسطہ افراد کو قومی اور عالمی میدانوں میں کھیلنے کے مواقع فراہم کرے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے زیر اہتمام نویں اجتماعی شادی کا اہتمام یزدان خان ماڈل ہائی اسکول کے سبزہ زار پر کیا گیا ، جس میں 20 جوڑوں کی اجتماعی شادی کروا دی گئی، اس اجتماعی شادی کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں 2جوڑوں کا تعلق مسیحی برادری، 5کا تعلق اہلسنت اور 13کا تعلق اہل تشیع سے تھا، اس طرح یہ خوبصورت گلدستہ سجا کر ایم ڈبلیوایم کوئٹہ ڈویژن نے بین المسالک ہم آہنگی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے ۔ تقریب کی مہمان خصوصی ڈپٹی سپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ حمید درانی تھیں جبکہ دیگر مہمانان گرامی میں ایم ڈبلیوایم کے رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا ، علامہ ہاشم موسوی سمیت مختلف سیاسی وسماجی شخصیات اورتمام دولہا اور دلہنوں کے عزیز واقارب نے شرکت کی، ایم ڈبلیوایم کی جانب سے تمام نوبیہاتہ جوڑوں میں جہیز بھی تقسیم کیا گیا۔

ڈپٹی سپیکر محترمہ راحیلہ حمید درانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایم ڈبلیوایم کی جانب سے منعقدہ اجتماعی شادی کی نویں تقریب میں شرکت میرے لیئے افتخار کا باعث ہے، یہ تقریب نہ فقط ایک شادی ہے بلکہ تمام مذہب اور مسالک کے درمیان اتحاد کا مرکزبھی ہے، میں اس شاندار تقریب کے انعقاد پر ایم ڈبلیوایم کے قائدین کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں کہ جو بلوچستان میں امن ومحبت کے قیام میں ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے۔

ایم ڈبلیوایم کے رکن بلوچستان اسمبلی سید محمد رضا نے اپنے خطاب میں کہاکہ مجلس وحدت مسلمین بلاامتیاز رنگ و نسل، انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتی ہے، ہم نے آٹھ اجتماعی شادیوں کے ذریعے سینکڑوں افراد کی شادیاں کروائی جس کا عملی ثبوت اجتماعی شادی کی شاندار تقریب ہیں ،جس میں تمام برادر اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں، ان لوگوں میں بڑی تعداد ایسے افراد جو شادی کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر تھے، اور الحمداللہ اس بار نویں اجتماعی شادی کا اہتمام کیا گیا، جس میں مختلف مسالک، مذاہب اور اقوام کے افراد شامل ہیں، نویں اجتماعی شادی میں بھائی چارگی اور اتحاد کا بہترین نمونہ پیش کیا گیا، جس میں اہل تشیع کے علاوہ اہل سنت سے تعلق رکھنے والے اور عیسائی برادری کے جوڑے بھی اجتماعی شادی کا حصہ ہیں ۔

ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما اور امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی نے کہاکہ ہم اللہ کے بے حد شکرگزار ہیں کہ اللہ نے ہمیں اپنے بندوں کی خدمت کا موقع دیا اور اس کار خیر کا ذمہ ہمارے سپرد کیا ۔ اجتماعی شادی میں ہر زبان و مذہب کے لوگ شریک ہوئے جو اس بات کا ثبوت یہ کہ ہم نے ہر مذہب، مسلک اور زبان کے لوگوں کو برابر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رشتہ ازدواج میں بندھنا ایک ایسا نیک کام ہے جو انسان کے ایمان کی تکمیل کا سبب بنتی ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ معاشرے کے موجودہ رسوم و رواج نے شادی کو ایک غریب انسان کیلئے بے حد مشکل بنا دیا ہے، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے دو اقدامات اٹھائے پہلا اقدام شادیوں کے اخراجات میں کمی لانے کیلئے لوگوں کے شعور کو بیدار کیا تاکہ لوگ ان فضول خرچوں کے نقصانات سے گریز کریں ، عوام سے گزارش کی کہ وہ فضول رسم و رواج کے خاتمے میں ہمارا بھرپور تعاون کرے اور دوسرا اقدام اجتماعی شادی کی صورت میں اٹھایا گیا اور اللہ کے فضل و کرم سے یہ اقدام معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کا باعث بنا اور اس کے ساتھ ساتھ ہی اجتماعی شادیوں کا سلسلہ بھی آگے بڑھتا رہے گا۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے رہنما اور کونسلرحلقہ نمبر10کربلائی عباس علی نے کہا ہے کہ معاشرے کے رکن کی حثیت سے ہم سب پر کئی ذمہ داریاں عائد ہیں۔ جن میں سے ایک اخوت و بھائی چارگی کا فروغ ہے۔ اتحاد ہمارے درمیان امن اور ملک کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔ اسلام امن کا دوسرا نام ہے اور اسلام کے تمام پروکار یعنی مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہے تو ہمیں اسلامی اصولوں کو مد نظر ر کھ کر اتحاد کو قائم رکھنا ہوگا۔ جس سے ہمارے درمیان نہ صرف تفرقہ ختم ہوگا بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی اور تمام نظریاتی مسائل ختم ہو جائیں گے۔ خداوند یہی چاہتا ہے کہ اسکے تمام بندے ایک دوسرے کے ساتھ امن سے زندگی بسر کرے۔ اگر ہم اللہ کے نیک بندے ہونے کے دعویدار ہیں تو آخر کونسی بات ہے جو ہمیں اللہ کے حکم کی پاسداری سے روکھتی ہے۔ اسلامی اصولوں کی پیروی سے ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

انہوں نے مذید کہا کہ ہماری جماعت اس وقت امن کی بقا ء کیلئے اتحاد بین المسلمین کو سب سے ضروری سمجھتی ہے۔ہم نے کبھی بھی رنگ و نسل یا مذہب کے بنیاد پر تقسیم بندی نہیں کی بلکہ ہر رنگ و نسل اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی مدد کی ان کی خدمت کی اور ان کیلئے جتنا ممکن تھا کام کیا۔ ہم نے ہمیشہ تمام مذاہب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے اور اتحاد بین المسلمین کیلئے کام کیا ہے. اپنے اہل سنت بھائیوں کے ساتھ کہی بار ہم ایک ساتھ رہے ہیں چاہے عید میلاد النبی کی بات آئی ہو یا کہ ان کے ساتھ ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کی ہم ہمیشہ ان کے ساتھ اتحاد میں پیش پیش رہے ہیں۔ہمارے مرکزی قائدین نے قومی سطح پر اہل سنت سے وابسطہ لوگوں کا ساتھ بھی دیا ہے اور ہماری جماعت انکے حمایت یافتہ بھی ہے جو کہ ہماری امن پسندی کی دلیل ہے۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ عوام کو بھی چاہئے کہ وہ شر پسند عناصر کو پہچانے اور ان کے باتوں سے کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھے اور ساتھ ہی ساتھ ہمارے اہل سنت بھائیوں سے بھی اچھا رویہ رکھے اور اتحاد بین المسلمین قائم کرنے میں اپنا حصہ ڈالے۔

Page 1 of 3

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree