وحدت نیوز (آرٹیکل)عرب دنیا کے حکمرانوں اور اسرائیل کی قرابت میں آئے روز ہونے والا اضافہ جہاں ایک طرف فلسطینیوں کی بے مثال جدوجہد کو سبوتاژ کر رہا ہے وہاں ساتھ ساتھ اسرائیل کے لئے خطے میں کھلم کھلا بدمعاشی اور دہشت گردی کے راستے بھی کھول رہا ہے اور یہ دہشت گردی بالآخر خطے میں موجود اسرائیل کے قرابت دار عرب حکمرانوں کو بھی اپنی آگ میں لپیٹ لے گی۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمران اور بادشاہ اپنے انجام اور عاقبت سے بے خبر امریکہ و صہیونی کاسہ لیسی میں غرق ہو چکے ہیں۔سابق اسرائیلی سفارتکار دورے گولڈ کاکہنا ہے کہ اسرائیل عرب تعلقات کے بڑھتے ہوئے رحجان سے اسرائیل کی مشکلات میں کمی ہونے کا امکان پیدا ہو چکا ہے۔انہوں نے عرب دنیا اور اسرائیل کے مابین ملاقاتوں اور تعلقات کے راز کو افشا کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ملاقاتیں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ کئی برسوں کا تسلسل ہے اور اس طرح کی ملاقاتیں اسرائیل کے لئے کامیابی کی کنجی ہے۔اس تجزیہ نگار کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمران اور اسرائیل کے حکمران اب ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں لیکن ماضی میں کوئی بھی قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔سابق اسرائیلی سفارتکار کے تجزیہ کے مطابق عرب خلیجی حکمرانوں کی اسرائیل کے قریب آنے کی ایک وجہ اسرائیل اور ان عرب ممالک کا ایران مخالف ہونا ہے۔یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایران پر قابو رکھنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ بھی خلیج میں امریکی اتحادیوں اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات کی زبردست حامی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں فلسطین اور اس کے عوام شدید خطرات سے لاحق ہو رہے ہیں، القدس خطرے میں ہے۔خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں، نئے اتحادوں اور صدر ٹرمپ کے اس وعدے کے بعد کہ وہ اسرائیل عرب تنازعے کو ختم کرنے کے لیے اس ’صدی کا سب سے بڑا معاہدہ‘ کرانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، فلسطینیوں کی فکرمندی میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔

فلسطینیوں کو خطرہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اْن پر دباؤ بڑھانے کے لیے سعوی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی ریاستوں کی جانب دیکھ رہی اور یہ امریکی انتظامیہ فلسطینیوں کو ایک ایسے امن معاہدے پر مجبوراً رضامند کرانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے ان کے دیرینہ مطالبات پورے نہیں ہوتے۔فی الحال صرف مصر اور اردن ہی وہ عرب ممالک ہیں جو اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں۔اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن قائم کرنے کا عمل بہت پہلے رک چکا ہے لیکن گزشتہ سال اسے ایک اور دھچکا لگا۔وہ فلسطینی عوام جو مقبوضہ بیت المقدس کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانے چاہتے ہیں انھوں نے صدر ٹرمپ کی طرف سے اسے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیاہے۔انھوں نے یہ کہہ کر واشنگٹن سے اپنے تعلقات ختم کر لیے کہ یہ قدم تصفیہ کرانے والے کسی منصف کا نہیں ہو سکتا۔لیکن اس کے باوجود مشرق وسطی کے لیے امریکہ کے ایلچی جیسن گرین بلاٹ اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم کے عمان کے دورے کے حوالے سے پرجوش بھی ہیں۔اپنی ایک ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قدم ہماری امن کی کوششوں کے لیے نہ صرف مدد گار ہے بلکہ اسرائیل، فلسطین اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان استحکام اور خوشحالی کی فضا قائم کرنے کے لیے ضروری بھی ہے۔‘دوسری طرف عرب دنیا کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امن مذاکرات کی بحالی میں سعودی عرب کو جو کردار دیا گیا تھا وہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد شکوک کا شکار ہو گیا ہے۔اس بیان میں بنیامن نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگرچہ خاشقجی کی ہلاکت ایک ’ہولناک" خبر تھی لیکن اس سے سعودی عرب کے اندر عدم استحکام پیدا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اصل اور بڑا مسئلہ ایران ہے۔

بحرین نے اسرائیل کی جانب سے اس ’واضح موقف‘ کو اسی طرح سراہا ہے جیسا اس نے گذشتہ دنوں عمان کو اسرائیلی وزیر اعظم کی آمد پر سراہا تھا۔اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ عرب ممالک جلد ہی اسرائیل کو پوری طرح گلے لگا لیں گے، اس لیے فی الحال ہمیں دونوں فریقوں کے درمیان ایسے دعوت ناموں اور پرجوش انداز میں ہاتھ ملانے کے مناظر کو ہی کافی سمجھنا پڑے گا جن کے بارے میں ہم کل تک سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔اس تمام تر صورتحال پر اثر اب پاکستان پر بھی پڑنا شروع ہو چکا ہے کہ جو ماضی میں پاکستانی حکمرانوں کی اسرائیلی عہدیداروں کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں خفیہ ملاقاتوں کی صورت میں سامنے آیا تھا تاہم دور حاضر میں تل ابیب سے پرواز کر کے آنے والا طیارہ کی اسلام آباد میں لینڈنگ ہو اور دس گھنٹے قیام ہو یا پھر سابق جنرل کا اسرائیل حمایت میں لیکچر یا پھر حکومتی جماعت کی رکن قومی اسمبلی کی طرف صہیونیوں کی حمایت اورا سرائیل کے لئے راہ ہموار کرنے جیسے بیانات اور تقریریں ہوں سب کے سب ریکارڈ پر موجود ہیں اور ایک نئے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ایسے حالات میں خبریں یہ بھی آ رہی ہیں کہ اب پاکستان نے جن ممالک کیلئے ویزا پالیسی کا اعلان کیا ہے اس میں اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو بھی پاکستانی ویزا دیا جائے گا یہ انتہائی خطرے کی بات ہے اور پاکستان کے آئین اور نظیاتی بنیادوں سمیت بانیان پاکستان کی اساس سے انحراف کے مترادف ہے۔چونکہ پاکستان کی سیاست اور آنے والی حکومتوں کے حکمران عام طور پر امریکہ کے بعد سعودی عرب اور امارات کو اپنا سب سے بڑا پیشوا اور مسیحا مانتے ہیں تاہم اس مریدی میں یقیناًپاکستان پر انہی عرب ممالک کی طرف سے یہ دباؤ بھی ضرور ہو گا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کو نرم کیا جائے۔بہر حال خلاصہ یہی ہے کہ حالیہ دور میں فلسطینی اپنی جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں جو کہ مثالی ہے جبکہ عرب دنیا کے حکمران اسرائیل کے ساتھ قربتیں پیدا کر کے جس طرح سے نہ صرف فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی پیٹھ میں خنجر گھونپا جا رہاہے اور اس صورتحال سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے کے لئے مسلم دنیا اور عالم انسانیت کا خطر ناک دشمن صہیونی جعلی ریاست اسرائیل ہے جو عنقریب ان عرب قرابت داروں کو بھی اپنے شکنجہ میں دبوچ ڈالے گی اور اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو گی۔مقالہ کے اختتام پر سابق پاکستانی جنرل غلام مصطفی کی بات کو دہراتا ہوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان تل ابیب میں بیٹھ کر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی چوکیداری بھی کر لے تب بھی یہ اسرائیلی پاکستان کو نہیں چھوڑے گا اور موقع ملتے ہی پاکستان کے خلاف اپنا ہر قسم کا وار کرے گا۔ اب پاکستان سمیت تمام عرب دنیا کے حکمرانوں کو چاہئیے کہ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہئیے۔ختم شد

تحریر: صابر ابو مریم   
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر
، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

وحدت نیوز (کراچی) سیکرٹری سیاسیات مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ سید علی حسین نقوی نے ایک بیان میں کہاہے کہ شیخ حسن جوہری صاحب کی گرفتاری گلگت بلتستان انتظامیہ کا ظالمانہ اقدام ہے،اس عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور سرکار سے شیخ حسن جوہری صاحب کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں،مولا نا حسن جوہری گلگت بلتستان کے حقوق کی موثر آواز اور جوانوں کے مقبول رہنما ہیںجو ہر قسم کی وابستگیوں سے بالاترہوکر ظلم،ناانصافی کے خلاف اور آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،وزیر اعظم پاکستان گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والی بے چینی اور احساس محرومی دور کرنے کے لیئے فوری ہنگامی نوعیت کے اقدامات کریں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) گلگت بلتستان کے حقوق کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر غور کیلئے اسلام آباد میں اہم اجلاس کا انعقاد ہوا۔ اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے سربراہ و سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم جی بی آغا علی رضوی، جی بی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر غلام عباس، جی بی اوئیرنیس فورم کے سپیکر حاجی زرمست خان اور اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی محمد شفیع نے شرکت کی۔ اجلاس میں باہمی مشاوت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ جی بی کے حقوق کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرکے جدوجہد کیا جائیگا، اس سلسلے میں کل اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ادهورے  فیصلے کو مایوس کن قرار دیا گیا۔ گلگت بلتستان کے سیاسی رہنماوں کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو متنازعہ قرار دینے کے بعد متازعہ علاقوں کے حقوق کا تعین نہ کرنا فیصلہ کے ادهورے پن کی نشانی ہے۔  اجلاس میں پاکستان کے زیرانتظام مختلف متنازعہ علاقوں کے حوالے سے مختلف سلوک پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے عالم دین شیخ حسن جوہری کی بلاجواز گرفتاری کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نیشنل پریس کلب اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان کے ہمراہ جی بی سپریم کونسل کے سربراہ ڈاکٹر غلام عباس، جی بی تھنکرز فورم کے سپیکر حاجی زرمست خان،جی بی اوئیرنیس فورم کے رہنما سمیت بلتستان کے جوانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر احتجاج مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے آغا علی رضوی نے کہا کہ بلتستان انتظامیہ ایک عرصے سے خطے کے حالات خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ شیخ حسن جوہری کی گرفتاری ایک شخص کی گرفتاری نہیں بلکہ پوری قوم کی تذلیل اور صنف علماء پر حملہ ہے۔ انہیں فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو پورے بلتستان میں احتجاجی تحریک کی کال دی جائے گی اور انتظامی سربراہ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ شیخ حسن جوہری پر ہاتھ ڈال کر انتظامیہ نے سنگین غلطی ہے، جسے کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں عوام اور علماء سے گزارش کرتا ہوں کہ شیخ حسن جوہری کی گرفتاری کے خلاف پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع کرے۔ موجودہ انتظامی سربراہان ہوش کے ناخن لے اور فوری طور پر مسئلے کا حل نکالے۔ علماء کو پابند سلاسل کرنے کے نتیجے میں خطے میں ہونے والی بے چینی کا اصل ذمہ دار مقامی انتظامیہ ہے۔ ہم متنبہ کرتے ہیں کہ انتظامیہ بے جا عوام کو تنگ کرنے اور علماء کی زبان بندی کی کوشش نہ کرے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) دہشت گردی کا ناسور اس خطہ ء ارضی سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا،بس تھوڑا وقفہ ہوتا ہے اور پھر کوئی بڑی واردات سب کو ہلا بلکہ جگا دیتی ہے،پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کو اضلاع میں بدل دیا گیاہے مگر ابھی تک اس پہ بہت کام ہونا باقی ہے ابھی تو ابتدائی مراحل ہیں،اسی لیئے ہم ان کو ایجنسی کے طور پہ ہی لے رہے ہیں،اورک زئی ایجنسی جو ضلع کوہاٹ اور ہنگو سے منسلک ہے اس میں میں اہل تشیع کے ایک مدرسہ و مرکز کے ساتھ جمعہ بازار میں ہونے والے بم دھماکے نے ایک بار پھر یہ بتلا دیا کہ دہشت گردی کا جن ابھی تک بوتل سے باہر ہے اور جو دعوے کیئے جاتے ہیں وہ بس اخباری و کاغذی کاروائی سمجھی جائے،اورک زئی ایجنسی واحد قبائیلی ایریا ہے جس کی سرحد افغانستان سے نہیںملتی،عمومی طور پہ ہم نے دیکھا ہے کہ کسی بھی قبائلی ایریامیںہونے والے بم دھماکوں سے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد ہمسایہ ملک یعنی افغانستان سے حملہ آوار ہوئے ،یہاں تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ،یہاں کسی بھی طرف سے سرحد افغانستان سے نہیں ملتی ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ایجنسی میں بھی دوسری ایجنسیز کی طرح اس مائنڈ سیٹ کی حمایت اور سہولت کاری موجود ہے جو پاکستان بھر میں بم دھماکوں اور دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے،ہماری مراد طالبان ہیں جو کسی بھی شکل میں سامنے آتے رہتے ہیں کبھی طالبان تحریک کے نام سے تو کبھی کسی اور گروہ کے نام سے ،حقیقت میں ان کا کام ہی ان کی پہچان ہے اور وہ ہے بے گناہوں کا قتل عام اور اس ملک کے در و دیوار کو ہلا کے رکھ دینا،اس کے اداروںکو کمزور ثابت کرنا اور ریاست پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پہ سامنے لانا تاکہ دنیا اس ایٹمی ملک کو پریشرائز کر سکے کہ وہ ایک کمزور اور غیر ذمہ دار ریاست ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کاہونا دنیا کو خطرات سے دوچار کر سکتا ہے ۔

اورک زئی ایجنسی کے علاقے کلایہ کے جمعہ بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں 35کے قریب لوگ شہید ہوئے جن میں دو ہندو بھی شامل ہیں،جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی پچاس کے لگ بھگ ہے جن میںکچھ کی حالت نازک بھی ہے ،یاد رہے کہ کلایہ کی اس جگہ جہاں بم دھماکہ ہوا ہے ایک مدرسہ انوار اہلبیت ؑ ہے جہاں جمعہ کا اجتماع ہوتا ہے اور جمعہ کے بعد بڑی تعداد میںلوگ خریداری کرتے ہیں،یہ بازار اور مدرسہ کافی قدیم ہیں،راقم الحروف کو پہلی بار یہاں 1988ء میں جانے کا اتفاق ہوا تھا اور ہم ایک ماہ تک ادھر ایک دینی تربیتی ورکشاپ کے سلسلہ میں مقیم رہے تھے اس وقت صرف مدرسہ ہوتا تھا اور بعد ازاں تو مدرسہ سے منسلک اسکول بھی بنایا گیا،یہ شیعہ اکثریتی علاقہ ہے ،اور یہیں سے علامہ عارف الحسینی کے بزرگوں نے ہجرت کی اور کرم ایجنسی میں جا کے آباد ہوئے ،اب بھی یہاں ان کا خاندان نمایا ںمقام و احترام رکھتا ہے ،جبکہ اورک زئی کے اسی علاقے میں علامہ عارف الحسینی کے بڑے بزرگ معروف عرفانی و ادبی شخصیت میاں انورشاہ کا بھی مزار ہے جو اہلسنت کی آبادی والی طرف ہے ،شائد اس وقت اس کا کنٹرول حکومت کے پاس ہے۔اورک زئی ایجنسی میں اس سے قبل بھی شدت پسند عناصر کی طرف سے مختلف حملے کیئے جاتے رہے ہیں اور دیگر ایریاز کی طرح یہاں پر بھی طالبان نے اپنے قبضہ کی پوری کوشش کی ہے یہاں سے سکھ کمیونٹی کے لوگوں کو اغوا اور بے دخل کیا گیا جو یہاں کے قدیمی رہائشی تھے،اسی طرح اہل تشیع پر بھی جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی گئی اور اہل تشیع کی گاڑیوں کو روڈ سائیڈ بم دھماکوں سے اڑایا گیا۔جبکہ انہی عناصر نے کوہاٹ اور ہنگو میں بھی دہشت گردی کے ذریعے اہل تشیع کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ،مگر یہاں کے غیرت مند قبائل نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں ان کے ارادوں میں ناکامی سے دوچار کیا۔

جس دن اورک زئی ایجنسی میں نمازیوں اور غریب قبائلیوں کو نشانہ بنایا گیا اسی دن کراچی میں چینی قونصلیٹ پر بھی ایک دہشت گردانہ حملہ کیا گیا،فائرنگ اور بم دھماکوں میں دو پولیس اہلکار،دو کوئٹہ سے آئے باپ بیٹا اور تین مسلح دہشت گرد مارے گئے،یہ حملہ اس حوالے سے ہولناک اور خطرناک رہا کہ پہلی بار بلوچ علیحدگی پسندوں نے فدائی سٹائل میں کاروائی کی ،اور دہشت گردوں کی باقاعدہ فلم بنا کر نشر کی بالکل داعش اور طالبان حملہ آوروں کی طرح انہیں تیار کیا گیا اور ان کی ٹریننگ کی ویڈیو بھی جاری کی گئی،کسی کو شک نہیں ۃونا چاہیئے کہ اس حملے کے مقاصد کیا تھے اور اس کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہو سکتی ہیں، بلوچ علیحدگی پسند بھارت اور مغربی ممالک میں کھلے عام پھرتے ہیں ،کچھ افغانستان میں بھی پناہ لیئے ہوئے ہیں ان کا مقصد پاکستان اور چین کے تعلقات کو خراب کرنا اور سی پیک جس سے پاکستان کو بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں کو نقصان پہنچانا ہے،بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی این ڈی ایس اس وقت پاکستان کے خلاف مشترکہ منصوبوں پہ کام کر رہی ہیں ،یہ کاروائی بھی دراصل انہی کی کارستانی ہے جو کسی بھی صورت میں پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے ۔

کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں دہشت گردی اسلحہ و منشیات کی ریل پیل دراصل اٖفغان پناہ گزینوں کی دین ہیں جن کی بدولت پاکستان گذشتہ چالیس برس سے عذاب بھگت رہا ہے،پاکستان نے روسی حملے کے بعد اسی کی دہائی کے شروع میں افغانوں کو برادر ہمسایہ مسلم ملک کے مہاجرین کے طور پہ قبول کیا چالیس لاکھ افغان پاکستان میں پناہ گزین ہوئے اور آج تک ہمارے حکمران انہیں اپنے ملک اور وطن بھیجنے میں ناکام نظر آتے ہیں ان افغانوں نے پاکستان میں وسیع پیمانے پر کاروبارا ور شادیاں کر رکھی ہیں اور اب ان کی اگلی نسلیں یہاں کی شہریت کی حامل ہو چکی ہیں،ان کو واپس بھیجنا تقریبا ناممکن ہو چکاہے ،کے پی کے اور بلوچستان کے پختون قبائل کو ان کے ووٹس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے لہذا وہ کسی بھی طور ان کو واپس بھیجنے کے حق میں نہیں ہیں ان کا تعلق دینی جماعتوں سے ہو یا قوم پرستوں سے  اس مسئلہ میںسب کی ایک ہی بات ہے اس مسئلہ میں سب یک جان ہیں،لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والے ان افغانوں سے جان چھڑوانے کا مطالبہ اب زور پکڑ چکا ہے،پاکستان کے گوش و کنار میں ہونے والی دہشت گردی کے پس پردہ بھی انہی عناصر کا ہاتھ ہے ہمارے خفیہ اداروں نے کتنے ہی کیسز میں ان کی نشاندہی کی ہے اور دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ملا ہے،چاہے وہ آرمی پبلک سکول پشاور کی دلخراش داستان ہو یا پاکستان کے خلاف برسر پیکار نام نہاد کمانڈرز اور طالبان قیادت کے قیام و طعام کا بندوبست ہو،سب ہی افغانستان میں بیٹھ کے پاکستان پہ حملہ آوار رہے،اس وقت بھی عالمی طاقتیں پاکستان اور اس خطے کو سبوتاژ کرنے کیلئے داعش کی سرپرستی کر رہی ہیں،داعش کو افغانستان میں لا کے بٹھایا اور بنایا گیا ہے اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ ان کے کیمپ قائم کیئے گئے ہیں ،اورک زئی ایجنسی میں ہونے والے حملے کو بھی داعش کے نام سے قبول کیا گیا ہے جبکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کاروائی عالمی ایجنڈے کا حصہ تھی،وہ قوتیں جو داعش کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہیں انہی کی طرف سے کلایہ بم دھماکہ( جسے خود کش کہا جا رہا ہے )کیا گیا ہے اور کراچی میں ہونے والی چینی قونصلیٹ کی دہشت گردی سے بھی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مسلح بلوچ علیحدگی پسند اور نام نہاد مذہبی و فرقہ وارانہ دہشت گرد اپنے اصل آقا کی چھتری تلے جمع ہو چکے ہیں اور پاکستان کے خلاف برسر پیکار ہیں،ہمارے سیکیورٹی اداروں اورحکمرانوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے ہر واقعہ کے پس پردہ در اصل ایک ہی دشمن ہے جو کہیں بلوچوں کو استعمال کر رہا ہے تو کہیں اسلام کے نام پر بد ترین دھبہ سفاک دہشت گردوں کو ،انکا نام بی ایل اے ہو یا داعش،لشکر جھنگوی ہو یا طالبان سب ایک ہی تھالی کے کچے چھٹے ہیں ان کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے اور ملک کو ان کے شر سے بچایا جائے،ہمارا پیارا ملک اور اس کے باسی ایک عرصہ سے امن،شانتی،سکون اور شادمانیوں کو دیکھنے کو ترس گئے ہیں،ان بجھے چہروں پر خوشی و مسرت کی علامات نظر آنے کو آنکھیں ترس گئی ہیں،اب اس پاک دھرتی سے شر اور فساد کا خاتمہ ہو جانا چاہیئے اس کیلئے ردالفساد کے نام سے میدان سجایا جائے یا ضرب عضب کے نام سے،دہشت گردی کا خاتمہ ہمارے اداروں اور حکومتوں کی پہلی ترجیح ہونا چاہیئے ورنہ ہم اسیطرح مارے جاتے رہینگے۔

 تحریر: ارشادحسین ناصر
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کو ئٹہ ڈویژن میڈیا سیل سے جاری ہونے والی ایک بیان میںایم ڈبلیوایم کے رہنما علامہ شیخ ولایت جعفری نے کہا ہے کہ مخلوط کانسرٹ پروگرام کی مغربی روش کیخلاف ہے جس سے زن و مرد کے درمیان خصوصا نو جوان نسل کے بچوں اور بچیوں کے درمیان فاصلوں میں کمی آئیگی بے حیائی کیوجہ سے آج معاشرے شرح طلاق بڑھ چکا ہے ایک صالح معاشرے کی تشکیل کیلئے اخلاقی اقدار کو نہیں بھولنا چاہیئے معاشرے کو مختلف طریقوں سے اخلاقی پستی کی طرف جانے کی کوشش کی نہ صرف شدید مذمت کرتے ہے بلکہ نسل نو کی فکری اور اخلاقی تربیت کیلئے موثر علمی و اخلاقی پروگرام ترتیب دیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ وطن قوم اور بزرگ ہستیوں کیلئے ملی نغمہ اور قصیدہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن مخلوط موزیکل کانسرٹ میں لہو لہب  اور شور پر مبنی میوزیکل پروگرام سے معاشرے کوبہ تدریج اخلاقی پستی کی طرف لے جانے کی اجازت نہیں دے سکتے اور نہ کسی مدحوش کی ذاتی خواہش کو ثقافت کا نام دے سکتے ہے قوم دوستی کی آڑ میں ثقافتی چہرے کو مسخ نہیں ہونے دیں گے سیاسی پارٹی کی طرف سے ایسے پروگرام کا انعقاد افسوس ناک ہے۔


           

Page 1 of 871

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree