وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت  بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل پر ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل امجد شعیب کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام پر لگائے گئے سنگین الزامات اور توہین کے خلاف غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آرمی میں جگہ ملنے والے ایسے افرادپاکستان آرمی کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ ان جیسوں نے ملکی سالمیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ وطن عزیز پاکستان کے مختلف اداروں میں ایسی کالی بھیڑیںاب بھی موجود ہیں جنکی وجہ سے ملک دہشتگردوں کے چنگل میں ہے اور بیرونی ممالک بلخصوص امریکی ظالمانہ پالیسوں میں جکڑا ہوا ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان کی سرزمین اس ملک کے پچاسی ہزار بے گناہ عوام و سکیورٹی اداروں کے شہداء کے خون سے رنگین ہوئی ہے اس میں ایسے احمق یا سازشی افراد کا کارنامہ ہے۔ موجودہ خودساختہ دانشور کی گفتگو سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ اس ضیا ء مائنڈ سیٹ کا پیروکار ہے جنکی عاقبت نااندیشی اور غیروں کے آلہ کار بننے کے سبب طالبان جیسی ملک دشمن جماعت بنی اور ملک بحرانوں میں داخل ہوا۔

 آغا علی رضوی نے کہا کہ اس ناعاقبت اندیش ضیاء الحق کے فرزند کے خلاف فوری طور آئی ایس پی آر ایکشن لے اور تمام چینلز پر پابندی عائد کرانے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے عوام سے معافی دلائیں۔ ان کے سبب ملک کے حساس ترین سرحدی علاقے میں جہاں کے سپوت نے ہمیشہ دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر جنگ لڑ ی ہے بحران پیدا ہورہا ہے اور منفی طاقتوں کو جگہ مل رہی ہے۔ جبکہ یہاں کے جوانوں نے ہی پاکستان آرمی کا نام روشن کیا اور کرگل جنگ سے لے کر دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز میں جانیں دیں ان سب شہداء کے خون اور غازیوں کے توہین کے مرتکب اس نام نہاد فکر کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن دشمن کے آلہ کار ہونے کا الزام ناقابل برداشت ہے۔اس خود ساختہ تجزیہ کار کو شاید معلوم نہیں کہ پورے ملک میں آزادی سیاسی جدوجہد کے بعد حاصل کی تھی جبکہ گلگت بلتستان واحد خطہ ہے جہاں کے عوام نے ڈگرہ فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی اور اس آزادی میں ہمارے اسلاف نے جانیں دیں ہیں۔ معرکہ کرگل میں انڈیا کے قلب دراس کی پہاڑی چوٹیوں پر سبز ہلالی پرچم لہرایا ہے تو بلتی سربازوں نے لہرایا ہے۔ کتنی دکھ کی بات ہے کہ پاکستان آرمی جیسے اہم ادارے میں زندگی گزارنے والا شخص شاید بیرونی اشارے پر نمک حرامی کا مرتکب ہواہے اور اس بلتی قوم پر الزام لگاتا ہے جنہون نے کبھی ریاستی اداروں پر حملہ نہیں کیا۔

انہوں نے مزیدکہاکہ جی ایچ کیو، مہران ائیر بیس، مناوا پولیس ٹریننگ سنٹر ، آرمی پبلک سکول سمیت ریاست کے دیگر حساس مقامات اور اثاثوں پر سینکڑوں حملے میں ملوث افراد بلتی ہے نہ طالبان بنانے والے بلتی ہیں اور نہ ہی راء کے چیف سے مل کر سستی شہرت کی خاطر کتاب لکھنے والا بلتی ہے ۔ اسی طرح گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں اسماعیلی برادری کی خدمات ہیں انکے خلاف باتیں سمجھ سے بالا تر ہیں۔ہم آرمی چیف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس نام نہاد جنرل کو لگام دیا جائے اور قومی توہین پر عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ملکی سالمیت کے ساتھ کھیلنے کی ہمت نہ ہو۔ ہماری پاکستان کے ساتھ وابستگی نظریاتی بنیادوں پر ہے نہ کہ خوف یا لالچ میں ۔ پورے ملک میں گلگت بلتستان کے عوام سے زیادہ کوئی محب وطن نہیں ستر سالہ محرومی کے باوجود جذبہ حب الوطنی میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن کمی نہیں ۔ اس کے باوجود ایسے الزامات وہ بھی پوری قوم پر ناقابل برداشت ہے امید ہے کہ فوری طور آئی ایس پی نہ صرف اس شخص کے حالیہ بیان سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے بلکہ یہاں کے عوام کے جس طرح جذبات مجروح ہوئے ہیں اس کا ازالہ بھی کرائیں گے اور اس نام نہاد دانشور پر تمام ٹی چینلز پر پابندی عائد کریں گے اور گلگت بلتستان کے قوم سے معافی دلائیں گے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمرا ن خان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کو 22واں وزیر اعظم منتخب ہونے پر اپنی اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے دلی مبارک باد پیش کی ہے، مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری تہنیتی پیغام میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کا سادہ اکثریت سے قائد ایوان منتخب ہونا ملک کے لئے نیک شگون ہے، امید کرتے ہیں کہ عمران خان پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے قوم سے کیئے گئے اپنے وعدوں کو عملی جامع پہنائیں گے، ملک کو درپیش چیلنجزخصوصاًدہشت گردی،کرپشن، مہنگائی ، بے روزگاری اور توانائی اور پانی کے بحران کے حل کیلئے فوری توجہ دیں گے، کسی بھی قسم کے دبائوسے آزادخارجہ وداخلہ پالیسی کی تشکیل وطن عزیزکی سلامتی و استحکام کیلئے ناگزیر ہے ، جس کیلئے نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کو گٹھن فیصلے کرنا ہوں گے۔

وحدت نیوز (جیکب آباد)  جشن آزادی کی مناسبت سے مجلس وحدت مسلمین جیکب آباد اور المصطفی اسکائوٹس کے زیراہتمام جشن آزادی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں تنظیمی کارکن اور عوام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ زندہ قومیں اپنی آزادی اور استقلال کی قدر کرتی ہیں۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح اور حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال رح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے انتھک جدوجہد کی اور انگریز سامراج بوڑھے استعمار برطانیہ کی غلامی سے اس ملک و قوم کو آزاد کیا۔ ہم جدوجہد آزادی کے ان شہداء کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں انگریز سامراج سے آزادی کی راہ میں قربانیاں دیںاور ہم شہدائے پاک وطن کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو مملکت خداداد پاکستان کی بقاء اور سالمیت کے لئے شہید ہوگئے۔

 انہوں نے کہا کہ قائد کے پاکستان کو تکفیری دھشت گردوں سے خطرہ ہے جو داعش طالبان اور لشکر جھنگوی کے نام پر معصوم اور مظلوم عوام کا خون بہاتے ہیں۔ جو دشمن کے آلہ کار بن کر پاک فوج اور پولیس کے جوانوں پر حملہ کرتے ہیں۔ دھشت گردی اور کرپشن کا خاتمہ کرکے ملک کو ترقی دی جا سکتی ہے۔ آخر میں قومی ترانہ پڑھا گیا اور المصطفی اسکائوٹس کے جوانوں نے قومی پرچم کو اسکاوٹس سلامی پیش کی۔ آخر میں علامہ سیف علی ڈومکی کے خطاب اور دعا کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی

وحدت نیوز (آرٹیکل) افکار شہید حسینی کو زندہ رکھیں (امام خمینی)1980 کا سال تشیع پاکستان کی طاقت کا مظہر تھا ، اس سال کو اسلام آباد  میں  ملت تشیع پاکستان نے ایک عظیم کنونشن  کا انعقاد کیا۔ یہ کنونشن ہی تشیع پاکستان کی جدید تاریخ کا سنگِ بنیاد ثابت ہوا۔یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب  ہماری قوم اندرونی اختلافات کے باوجود ایک ہی قیادت کے زیر سایہ متحد تھی. چنانچہ  قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین کے حکیمانہ وجراتمندانہ اقدامات سےاس  ملت کو ایک عظیم کامیابی نصیب ہوئی . آج ہمیں ضرورت ہے کہ اس عظیم تاریخی کنونشن کے پسِ منظر کو جانیں اور موجودہ حالات میں اس سے رہنمائی حاصل کریں۔اس دور میں پاکستان کی متشدد مذہبی جماعتوں کے تعاون سے فوجی انقلاب کامیاب ہوچکا تھا اور جنرل ضیاءالحق جوکہ خود بھی فکری لحاظ سے ایک متشدد مذہبی خیالات کا حامل تھا اس نے قائد اعظم اور اقبال کی فکر  کی مخالف جماعتوں اور تنظیموں مثلا  جمعیت علماء اسلام ( سابقہ جمعیت علماء ھند ) اور جماعت اسلامی  کو سرکاری سرپرستی سےخوب نوازا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پاکستان جس کو اسلامی جذبے کے تحت شیعہ اور سنی مسلمانوں نے ملکر بنایا تھا اس کو رسمی طور پر ایک خاص مذھب ومسلک کا پاکستان بنانے کی کوشش کی گئی جسے وہ شیعہ قیادت کے بر وقت اقدام کی وجہ سے رسمی شکل تو نہ دے سکے لیکن عملی طور پر انکے اقتدار میں نفوذ کی وجہ سے کچھ ایسی ہی صورتحال بن گئی.پس یہ جان لیجئے کہ  یہ قیام اس سوچ اور فکر کے خلاف تھا. جس کی سربراہی اس وقت کے ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے پاس تھی.پھر علامہ مفتی جعفر حسین کی وفات کے بعد جب قیادت علامہ سید عارف حسین الحسینی نے سنبھالی تو قوم عملی طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی. اور ایک دھڑا علامہ سید حامد علی موسوی صاحب کی قیادت کا اعلان کر چکا تھا اور دوسرے دھڑے نے بطور قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی قیادت پر اتفاق کیا تھا. قائد شہید نے اپنے اخلاص وتقوی ، حکمت وبصیرت اور جرتمندانہ اقدامات سے قوم میں ایک نئی روح پھونکی اور ملت کے اندر قومی شعور ، جوش و  ولولہ اور سیاسی بصیرت کو  اجاگر کیا. دوسری طرف باہمی اختلافات کو ختم کرنے کے لئے ملت کی ہر بااثر شخصیت کے پاس بھی گئےاور بارہا علامہ سید حامد علی موسوی صاحب سے ملاقات کرنے کی کوشش بھی کی نیز باہمی اختلافات کے خاتمے کے لئے ہر قسم کی قربانی  کا عندیہ بھی دیا. ان کی اس معتدل روش ، اخلاق وکردار اور شجاعانہ وجراتمندانہ اقدامات سے ملت کی اکثر تنظیمیں اور ادراے انکی قیادت کے زیر سایہ آ گئے۔

 انھوں نے تشیع پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملت کے اپنے مستقل سیاسی تشخّص کی بات کی  اور انہیں سیاسی طور پر مضبوط اور طاقتور کرنے کا عہد کیا اور بھر پور انداز سے سیاسی عمل میں شمولیت پر زور دیا. انہوں نے اپنی  ہم وطن سیاسی قوتوں کے ھمراہ ایوانوں میں اپنے ترجمان ونمائندگان بھیجنے اور وزارتیں حاصل کرنے کی ترغیب دی ۔ یوں سیاسی طور پر سرزمین پاکستان پر ایک ایسا سیاسی نظام لانے کا اعلان کیا جو شیعہ اور سنی سب مسلمانوں کے لئے قابل قبول ہواور ضیاء الحق کی اتحادی جماعتوں  یعنی جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے نظرئیے کو مسترد کیا. پہی شہید کے  وہ افکار ونظریات تھے جنہیں زندہ رکھنے کی امام خمینی نے اپنے تعزیتی بیان میں پاکستانی قوم کو تاکید کی تھی اور یہی انکی روش تھی کہ آج تیس سال گزر جانے کے باوجود ملت کا ہر فرد انہیں یاد کرتا ہے.یقیناً  اگر انہیں شہید نہ کیا جاتا تو آج پاکستان کا سیاسی نقشہ کچھ اور ہوتا اور آج   کسی بھی مسلک اور مذھب کو محرومی کا احساس نہ ہوتااور پاکستان دنیا کے نقشے پر اتحاد بین المسلمین اور مکتب تشیع کے مابین وحدت کا ایک قابل تقلید مظھر اور بہترین نمونہ ہوتا.گذشتہ تقریباً دس سال سے شہید قائد کے معنوی فرزند ملک بھر سے اور بیرون ملک بھی مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہیں۔

شہید قائد کے یہ معنوی فرزند  ملت کو ہر لحاظ سے طاقتور بنانے اور وطن عزیز کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے مخلص و بابصیرت اور بہادر وشجاع عالم باعمل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی سربراہی میں میدان عمل میں کوشاں ہیں اور حکمرانوں کے پریشر اور شکنجوں مقابلہ کر رہے ہیں نیز تکفیریوں کے تیروں اور حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں. قائدشہید کے وارث ان مخلص اور نڈر افراد کو اس وقت قوم کی حمایت کی ضرورت ہے۔قوم ضرور غوروفکر کرے کہ 25 جولائی 2018 کو ووٹ کسے دینا ہے!؟ہماری قوم کے ہر باشعور شخص سے اپیل ہے کہ وہ مندرجہ زیل امور پر خاص توجہ دے:1- گھر سے نکل کر موثر انداز  میں الیکشن میں حصہ لیں اور اپنا قیمتی ووٹ ضرور کاسٹ کریں. چونکہ یہہماری قومی تاریخ کا تسلسل اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔2- مہر لگاتے وقت ذاتی وعلاقائی اور مذھبی تعصب کی بنا پر نہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر مقادات کو مد نظر رکھیں۔

کسی پاکستان دشمن قوت کے ایجنٹ اور وطن کے خائن اور چور کو ووٹ نہ دیں خواہ اس پارٹی کا آپکے علاقے میں الیکشن کا امیدوار خود قدرے بہتر ہی کیوں نہ ہو. یہ کل پارلیمنٹ میں انکی بالا دستی کا سبب بن سکتا ہے.3 - کرپشن وتکفیریت مافیا سے نجات حاصل کرنے کے لئے اور ان  پر پارلیمنٹ کا راستہ تنگ کرنے کے لئے پاکستان بھر میں بالعموم انتخابی نشان (( بلہ ))پر مھر لگائیں.4 - اپنے پارٹی کے تشخّص کی حفاظت اور اپنی آواز کو پارلیمنٹ ہاؤسسز میں پہنچانے کے لئے اور ملت کو سیاسی طور پر طاقتور بنانے کیلئے اپنے انتخابی نشان ((خیمہ)) پر مہر لگائیں5- تکفیریت کا راستہ روکنے کے لئے اور محب وطن قوتوں کو پارلیمنٹ تک پہنچانے کے لئے جس جس علاقے میں آزاد امیدواروں اور مختلف اتحادیوں نے ہماری با بصیرت لیڈرشپ سے  انتخابی الائنس کا اعلان کیا ہے وہاں پر (( گھڑا ، گھوڑا )) یا جو بھی انتخابی نشان ہے اس پر مہر لگائیں.


 پاکستان زندہ باد              وطن عزیز پائندہ باد

تحریر:  ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

وحدت نیوز(اسلام آباد) امن دشمن عناصر بیرونی اشاروں پر پاکستان و افغانستان میں بد امنی پھیلا رہے ہیں،سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا دکھ کی اس گھڑی میں افغان سفیر کو  خصوصی تعزیتی پیغام بھی پہنچایا گیاگذشہ روز کابل میں تعلیمی ادارے میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت اور بےگناہ شہادتوں پر دلی تعزیت کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی پولیٹیکل سیکرٹری سید اسد عباس نقوی نے اسلام آباد میں ایم ڈبلیو ایم  وفد کے ہمراہ قائم مقام افغان سفیر زرتشت شمس سے ملاقات میں کیا۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں جس کی مثال دنیا میں کہں نہیں ملتی ۔کئی دہائیوں سے جاری جنگ میں ہزاروں شہری جانبحق ہوئے  کابل کے تعلیمی مرکز پر ہونے والے دہشگردانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں بیرونی قوتیں خطے کو ناامن اور ترقی سے دور رکھنا چاہتی ہیں کابل حملے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں دکھ کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام اپنے ہمسایہ برادر ملک کی عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔ اس موقع پر کابل تعلیمی مرکز پر حملے میں شہید ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی کی گی ۔ افغان قائم مقام سفیر نے دکھ کی اس گھڑی میں ایم ڈبلیو ایم کے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی عوام میں اخوت و بھائی چارے کا گہرا رشتہ ہے پاکستان نے افغان مہاجرین کے لئے بے مثال خدمات انجام دی ہیں اور ایم ڈبلیو ایم جیسی مثبت قوتوں کا اس خطے میں قیام امن میں کلیدی کردار ہے مجلس وحدت مسلمین کے وفد میں مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم علامہ اقبال بہشتی ،علامہ عبدالخالق اسدی ،نثار فیضی ،سیدمحسن شہریاراور حسن کاظمی موجود تھے  ۔

وحدت نیوز (کراچی) 71ویں جشن آزادی پاکستان کے موقع پر مجلس وحدت مسلمینکےوفد نے مزار بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ پر حاضری  دی، اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے پولیٹیکل سیکریٹری سید علی حسین نقوی، کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنر ل مولانا صادق جعفری، مولانا نشان حیدرمولانا اظہر حسین نقوی، مولانا اسحاق قرائتی،مولانا عباس کمیلی،مولانابشیر انصاری،ناصرحسینی، میر تقی ظفر، حسن رضا سمیت بڑی تعدادمیں علمائے کرام، تنظیمی عہدیداران و کارکنان موجود تھے، ایم ڈبلیوایم کے وفد نے مزار قائد پر فاتحہ خوانی اور پھول چڑھائے،جبکہ وطن کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کیلئے خصوصی دعا بھی کی۔

Page 1 of 229

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree