وحدت نیوز(کراچی) ملیر کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ، ضلع ملیر کا شمارشہر قائد کے کثیر آبادی والے ضلع میں ہوتاہے، برسراقتدار جماعتوں نے عوام کو صرف دھوکا دیا ہے، تبدیلی کا راگ الاپنے والوں نے کامیابی کے تین ماہ گذرجا نے کے باوجود نا ہی کوئی خاطر خواہ کارنامہ انجام دیا نا ہی کسی ترقیاتی منصوبے کا آغاز کیا، 23دسمبر کے دن یوسی 11کے باشعور عوام روٹی کپڑا اور مکان کے جھوے نعرے لگانے والوں اور چوروں، لٹیروں اور بھتہ خوروں کو مسترد کردیں گے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے نامزد اور حمایت یافتہ امیدوار برائے وائس چیئرمین یوسی 11جعفرطیار سید عارف رضا زیدی نے مختلف مقامات پر کارنرمیٹنگز اور مختلف شخصیات سے ملاقاتوں کے موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کیا۔

دریں اثناءعارف رضازیدی نے ایم ڈبلیوایم کے وفد کے ہمراہ عماریاسر سوسائٹی میںمعروف اہل سنت عالم دین مولانا سلیم اللہ سے ملاقات کی یوسی 11کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا، مولانا سلیم اللہ نے عارف رضا زیدی کی انتخابی حمایت کا اعلان کیا اور اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایاہے، عارف رضا زیدی نے جعفرطیار سوسائٹی کی مختلف ماتمی انجمنوں اور سنگتوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں اپنی انتخابی ترجیحات سے آگاہ کیا، ملیر جعفرطیار کی ماتمی انجمن لشکر عباس ماتمی سنگت کے بانی ندیم بھائی ،انجمن تنظیم امامیہ کے صدر قیصر جعفری اور فقرہ کمیٹی ماتمی سنگت باب الحوائج غازی ٹاون کے فیصل بھائی نےبھی عارف رضازیدی کے وژن اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں سے متاثرہوکر ضمنی بلدیاتی انتخاب 2018 میں مجلس وحدت مسلمین کے حمایت یافتہ امیدواربرائےوائس چیئرمین یونین کونسل 11جعفرطیار سوسائٹی ملیر سید عارف رضا زیدی کی مکمل حمایت کا اعلان کیااور اہلیان یوسی 11سے نڈر، انسان دوست ،بے لوث ،مخلص ، ایماندار، پہاڑ جیسے عزم وحوصلے کے حامل , عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار سید عارف رضاز یدی کوپہاڑ کے نشان پر ووٹ ڈال کر کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔

وحدت نیوز (خیرپور) مجلس وحدت مسلمین ضلع خیرپور کی جانب سے ضمنی بلدیاتی انتخاب برائے چیئرمین یوسی راھوجاکے لئے لکھمیرلوڈرو کو امیدوار نامزد کیاہے، تفصیلات کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے فعال کارکن برادر لکھمیرلوڈرو ایم ڈبلیوایم ضلع خیرپور کی تائید وحمایت سے سیب کے نشان پریوسی راھوجاکے چیئرمین کی نشست پر  الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے انتخابی نشان خیمہ کی درخواست کی مگر بوجوہ انہیں سیب کا نشان دیا گیا۔

صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ مقصودڈمکی اور صوبائی پولیٹیکل سیکریٹری علی حسین نقوی نےکہاہے کہ تمام دوست ان کی کامیابی کے لئے دعا کریں اور متعلقہ ضلع کے تنظیمی ساتھی ان کی کامیابی کے لئے باقاعدہ طور پر ان کی انتخابی مہم میں سپورٹ کریں،انشاءاللہ یوسی  راھوجاکے ووٹرز 23دسمبر کو سیب کے نشان پر مہر لگاکر ایم ڈبلیوایم کے حمایت یافتہ نڈربے باک اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار  امیدوار لکھمیرلوڈرو کو کامیاب بنائیں گے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما نامزد امیدوار حلقہ پی بی 26 سید محمد رضا نے کہا ہے کہ نام نہاد قوم دوست فاشسٹ پارٹی اپنے ہی قوم کیلئے مشکلات کھڑی کرنے میں اب بھی پیش پیش ہے ۔سیاسی نظریاتی اختلاف کیلئے دلیل و منطق کا ہونا ضرروی ہے لیکن انکے پاس جھوٹ کے سوا کچھ کہنے کو ہی نہیں فاشسٹ نام نہاد قوم دوست پارٹی نے خدمت کے بجائے قومی تشخص کو مشکوک بنانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے مسلسل متنازعہ نمائندوں کو پارٹی ٹکٹ دینا خدمت نہیں قوم سے خیانت کے مترداف ہے۔

آغا رضا نے کہا کہ ہزارہ قوم کے سپوتو کا مادر وطن کی دفاع کیلئے لا زوال قربانیاں تاریخ کا حصہ ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک مفاد پرست لیبرل ٹولہ اپنی ذاتی مفادات کیلئے اس تاریخ کو مسخ کرنے کے درپے ہے۔

ضمنی الیکشن پی بی 26 کے باشعور عوام اپنی ووٹ کی طاقت سے ان مفاد پرست عناصر کو شکست دیں گے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان اتحاد بین المسلمین کے داعی واحد دینی سیاسی جماعت ہے۔

جابر بن حیان

وحدت نیوز(آرٹیکل) جابر ابن حیان دنیا کے عظیم دانشمندوں میں سے ایک ہے جو علم کیمیاء میں نہ فقط عالم اسلام میں بلکہ غیر مسلموں کے درمیان بھی مشہور  ہے۔وہ نہ فقط علم کیمیاء میں فوق العادہ تھے بلکہ فلسفہ ،منطق اور طب ،نجوم ریاضیات اور فلکیات اور دوسرے علوم میں بھی صاحب نظر تھےلیکن انہیں زیادہ شہرت علیم کیمیاء میں ملا۔برتعلیموجابر کے بارے میں کہتے ہے: جابر بن حیان کا علم کیمیا میں مقام وہی ہے جو مقام ارسطو کو منطق میں ہے ۔سارتون ان کو ایک عظیم دانشمند قرار دیتے ہے جس کی شناخت قرون وسطی میں علم کے میدان میں ہوئی  ۔جابر نے علم کیمیا میں جدید اسلوب استعمال کر کے نئے علوم میں اضافہ کر دیا اور اس کو علم موازین کہلائے ۔ بہت سارے اختراعات اور کشفیات کی جابر کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔جابر کی ولادت اوررحلت کی تاریخ جابر کے زندگی کے دوسرے زاویوں کی طرح مبہم رہ گیا ہے۔لیکن 158 سے 198کے درمیان جابر اس دنیا سے چلے گئے جو نقل ہوئی ہے ۔جابر کی محل ولادت اور وہ جگہ جہاں جابر نے بچپن گزاری ہے اختلاف پایا جاتا ہے ۔بعض اس کو کوفی اوربعض خراسانی سمجھتے ہے۔ابن ندیم کہتے ہے: کہ جابر ذاتا خراسانی تھا ۔ویل دورانت کہتے ہے:جابر کوفہ کے کسی داروساز کا بیٹا تھا اور وہ طبابت میں مشغول رہتا تھا اور اپنے اکثر اوقا ت تجربہ گاہ میں گزار تا تھا۔مذہب کے اعتبار سے جابر مکتب تشیع سے تعلق رکھتا تھااور وہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے خاص روابط رکھتے تھے۔ہولیمارد اس کے بارے میں کہتے ہے:جابر امام صادق علیہ السلام کے خاص شاگرد اور قریبی دوستوں میں سے تھے اور انکی راہنمائی میں  جابر نے علم کیمیا کوجو اسکندریہ کے زمانے میں ایک افسانے کی طرح مقید تھے آزاد کرا دیے۔اور اس راستے میں کماحقہ اپنے مقصود تک پہنچ گئے اسی لئے جابر کانام ہمیشہ اس فن کے بزرگان جیسے بویل،پریستلی،دلاویز اور دوسرے مشہور دانشمندوں کے ساتھ لئے جاتے  ہے۔جابر اپنے اکثر کتابوں میں اس بات کی یقین دہانی کی ہے کہ  اس نےاپنے علوم  امام صادق علیہ السلام سے حاصل کئے ہیں۔چوتھی صدی کی ابتداء ہی میں جابر کے وجود کے بارے میں شک و تردید کرنے لگے اور بعض نے سرے سے جابر کی وجود سے انکار کرنا شروع کیا۔ابن ندیم جو چوتھی صدی کے درمیانی عرصے میں زندگی کی ہے جابر کے بارے میں کہتے ہے:بعض اہل علم اور کتاب بیجھنے والے [جو اہل علم تھے]کہتے ہیں کہ جابر کا  کوئی اصل اور حقیقت نہیں ہے ۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر جابر کا وجود فرض بھی کر لیں تو کتاب  الرحمۃکے علاوہ اور اسکی کوئی تصنیف نہیں ہے اوردوسرے جتنے بھی تصنیفات ہے وہ دوسروں نے لکھی ہے لیکن جابر کی طرف کی نسبت دی گئی ہے۔لیکن  وہ خود ایک استدلال کے ذریعے ان باتوں کو رد کر تاہے۔وہ لکھتےہیں : کون  حاضر ہے کہ سخت محنت و کوشش کرے اور  دو ہزار صفحوں  پر مشتمل ایک کتاب لکھے جس کے لئے وہ اپنی ساری توانائی صرف کرے اور تمام زحمتیں اٹھائے اور اس کے بعد کتاب کی نسبت کسی اور شخص کی طرف دے ۔چاہے دوسرا شخص وجود رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔بہر حال یہ عمل ایک قسم کی جہالت ہے اور کوئی بھی  عاقل اس کام کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔جیسے پل کرواس مستشرق ا تریشی جابر کے وجود کے میں بارے میں شک کرتے ہے۔لیکن جابر کا نام قدماء کے کتابوں میں آیا ہے جیسے ابن ندیم ،حسن بن بسطام بن شاپور،ابوبکررازی،محمد بن علی شلمغانی،ابوحیان توحیدی وغیرہ۔ان سب کے کتابوں میں جابر کا نام دیکھنے کو ملتا ہے جو خود جابر  کے وجود کی دلیل ہے ۔ کہ جابر نامی ایک شخص موجود تھا جوفاضل اور دانشمند تھا۔جس نےدوسری صدی میں حکومت عباسی کے عہد سلطنت میں زندگی کی ہے ۔مکتب تشیع میں سے دوازدہ امامی جابر کو دوازدہ امامی قرار دیتے ہے جب کہ اسماعلیہ اسے اسماعیلی سمجھتے ہے ۔
سید ابن طاووس[م664]کتاب مفرج المہموم میں بعض شیعہ افراد کا نام لیتے ہے جو علم نجوم سے آگاہی رکھتے تھے لکھتےہیں: کہ ان میں سے ایک جابر ابن حیان ہے کہ امام صادق علیہ السلام کاخاص صحابی تھا۔شیعوں کے درمیان مسلمات میں سے ہے کہ جابر شیعہ اور دازدہ امامی تھا۔سید امین اعیان الشیعہ و آقای بزرگ تہرانی کتاب الذریعۃ فی تصانیف الشیعۃ میں جابر کا باقاعدہ نام لیتے ہیں اور انکی تصنیفات کا ذکر کرتے ہیں۔لیکن کچھ ایسے شواہد بھی ہے جو جابر کو اسماعیلی قرار دیتاہے۔جیسے سید ہبہ الدین شہرستانی کتاب الدلایل و المسائل میں کہتے ہے کہ جابر اسماعیل کی امامت کا قائل تھا۔لیکن انہوں نے اپنے اس ادعا  پر دلیل پیش نہیں کیا ہے ۔بعض کا خیال ہے کہ جابر نے اپنے کتابوں میں ظاہر وباطن اور عدد سات کا استعمال کیا ہے اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جابر اسماعیلی تھالیکن اسماعیلیہ مذہب اپنے مبانی کو جابر کی وفات سے نصف صدی بعد آغاز کیا ہے ۔بنا برین یہ بات صحیح نہیں ہے۔اندیشہ اسماعلیان دوسری صدی ہجری میں یعنی عصر جابر میں ایک سادہ اندیشہ تھا۔لیکن یہ بات کہ ان کے کلام میں ظاہر و باطن موجود ہے اس طرح کے تاویلات سے اس کے عقیدہ کو اسماعیلی قرار نہیں دے سکتا چونکہ ان میں سے بعض تعابیر قرآن کریم میں بھی موجود ہے ۔
جابر کی بہت ساری تصانیفات ہے جو تقریباتین ہزار نو سو کے لگ بھگ ہے ۔جابر کی کتابوں میں سے کتاب الجمع،کتاب الاستتمام کتاب الاستیفاد وکتاب التکلیس کا لاتین میں ترجمہ ہو اہے اور مغربی مفکرین اس سے استفادہ کر رہے ہیں اور بعض کتابیں جو چھپ چکی ہے وہ یہ ہے کتاب الاسطقس،الکمال،البیان،النور الاوجاء،الشمس ،الایجاح،اور کتاب الملک وغیرہ ہے۔
ابتداء میں مسلمانوں کی توجہ الکیمی یعنی مصنوعی سونا بنانے یا سونے کے لئے اکسیر حاصل کرنےکی طرف تھی۔اس میں جدید کیمیاء کا علم ظاہر ہوا ۔حقیقت بھی یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاں کیمیاء گری محض سونا بنانے تک محدود نہ تھی بلکہ اس کے ساتھ ادویہ سازی ،معدنیات ،ارضیات اور دفاعی صنعتوں میں علم کیمیاء کے استعمال کی سخت ضرورت لاحق ہوتی تھی ۔اس لئے مسلمان کیمیاء دان زیادہ تر زورعموما علم کیمیاء پر دیتے تھے۔
لاطین میں جس کیمیاء دان کو گیبر کہا گیا ہے وہ یہی جابر ابن حیان  ہے اسے تجربی کیمیاء کا بانی مانا جاتا ہے ۔وہ کیمیاء کے تمام تجرباتی عملوں سے واقف تھے اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ کیمیاء میں سب سے زیادہ ضروری شئے تجربہ ہے جوشخصاپنے علم کی بنیاد تجربے پر نہیں رکھتا وہ ہمیشہ غلطی کرتا  ہے ۔پس اگر کیمیاء کا صحیح علم حاصل  کرنا چاہتے ہو تو تجربوں پر انحصار کرو اورصرف اس علم کو صحیح جانو جو تجربے سے سچ ہو جائے ۔ایک کیمیاء دان کی عظمت اس بات میں نہیں ہے کہ اس نے کیا پڑھا ہے بلکہ اس بات میں ہے کہ اس نے کیا کچھ تجربے سے ثابت کیا ہے ۔
اس لحاظ سے جابر پہلا کیماء دان ہے جس نےمادے کو عناصر اربعہ کے نظریے سے نکالا ۔قدیم عرب میں گندھک پارہ اور نمک تین بنیادی عناصر قرار دئے جاتے تھے ۔گندھک مادے کی ایسی خصوصیت مانی جاتی تھی جن سے اس میں بارودی کیفیات پیدا ہو جاتی ہے ۔نمک
سے عربوں کے ذہن میں عناصرکی وہ خصوصیت تھی جس کی بنا پر چیزیں آگ سے محفوظ رہتی تھی ۔نمک اس شئے کو بھی کہتے تھے جو مختلف عناصر کوپھونکنے ،جلانے اور کشتہ بنانےکے بعد پاقی رہ جاتی ہے یعنی نمکیات موجودہ سالٹس تھے ۔پارہ دو دہاتوں کی انفرادی خصوصیت کو واضح کر نے کے لئے استعمال ہو تا تھا ۔مثلا سونےمیں انتہائی خالص پا رے کی مقررہ مقدار شامل ہوتی ہے ۔
جابر ابن حیان  نے اس کے متعلق کہا کہ تمام دھاتوں کے بنیادی اجزاء وہی ہے جو جس کی مناسبت سے سونا وجود میں آتا ہے۔اگر کسی معمولی دھات کو سونے میں تبدیل کرنا ہو تو یہ ضروی ہے کہ اسے غیر مطلوبہ آمیزشوں سے پاک کیا جائےاور چند جزی اجزاء کو شامل کیا جائے تو سوناوجود میں آتا ہے ۔جابر کے اس نظریے کا تصور اس زمانے میں خواہ کچھ بھی ہو لیکن یہ نظریہ آج بھی اسی طرح تابندہ ہے کہ تمام دھاتوں کے بنیا دی اجزاء جوھر یا ان کے ذرات وہی ہے جو سونے کے ہیں ۔اگرچہ اس زمانے میں کیمیاء دان سونا بنانے کےجنون میں مبتلا تھے لیکن جابر اس حقیقت کاقائل تھے کہ تجرباتی طور پر تانبے کو سونے میں تبدیل کرنا محض وقت ضایع کرانا ہے ۔اسی کا عقیدہ تھا کہ مادی دنیا میں ایک ضابطہ کار فرما ہے اس لئے ہر شئے کی نوعیت ایک مخصوص مقدار کی تابع ہے ۔چنانچہ اس نے ایک کتاب المیزان لکھی ہے۔
جابر ابن حیان پہلا شخص تھا جس نے موادکے تین حصوں میں درجہ بندی کی،نباتات ، حیونات اور معدنیات ۔بعد از آں معدنیات کو بھی تین گروہوں میں تقسیم کیا پہلے گروہ میں بخارات بن جانےوالی اشیاء رکھیں اور انہیں روح یا عرق کا نام دیا ۔دوسرے گروہ میں آگ پر پگھلنے والی اشیاء مثلا دھاتیں اور تیسرے گروہ میں ایسی اشیاء جو گرم کرنےپر پھٹک جائیں اور سرمہ بن سکتی تھی ۔ پہلے گروہ میں گندھک ،سنکھیا ،پارہ،کافور اور نوشادر شامل ہے ۔عربی میں نوشادر[امونیم کلورائیڈ]کا نام پہلی بار جابر کی تصنیفات میں دیکھا گیا ہے۔جابر کیمیاء کے متعدد امور پر قابل قدر نظی و تجربی معلومات رکھتے تھے ۔اس کا  یہ نظریہ کہ زمین پر وجود میں آنے والی اشیاء ستاروں اور سیاروں کے اثر کا نتیجہ ہے ،آج بھی نیا اور اچھوتا ہے ۔جابر نے کئی کیمیائی مرکبات مثلا بنیادی لیڈکار بونیٹ،آرسینگ سلفائیڈ اور انیٹیمینس سلفائیڈاور الکحل کوخالص کرنا ،شورے کے تیزاب[نائیٹرک ایسڈ]نمک کے تیزاب[کلورک ایسڈ]اور فاسفورس سے دنیا کو پہلی بار روشناس کرایا اوراس نے دو عملی دریا فتیں بھی کیں  ایک تکلیس کشتہ کرنا یعنی آکسائیڈ بنانا اور دوسرا تحلیل یعنی حل کرنا ۔
کیمیاء کے فنی استعمالات پر اس کے بیانات بہت اہم ہے ۔مثلا فلزات کی صفائی ،فولاد کی تیاری ،پارچہ بافی اورجلد  کی رنگائی ،وارنش کے ذریعے کپڑے کو ضد آب بنانا ،لوہے کو زنگ لگنے سے محفوظ رکھنا ،شیشے کو مینگا نیز ڈائی آکسائیڈ  سے رنگین بنانا ،آئرن پائرٹ سے سونے پر لکھنا اورسرمے سے ایسٹک ایسڈبنا نا وغیرہ ۔
امریکی سائنس دان پروفیسر فلپ جابر ابن حیان کو یوں خراج تحسین پیش کرتے ہے: کیمیاء گری کے بے سود انہماک سے جابر نے اپنی آنکھیں خراب کر لی لیکن اس حکیم اور عظیم دانشور نے کئی چیزیں ایجاد کی اور اصل کیمیاء کی بنیاد رکھی ۔اس کا گھر تجربہ گاہ بنا ہو اتھا ۔


حوالہ جات:
۱۔ کتاب الخلدون العرب،ص ۱۶،۱۷۔
۲۔ایضا،ص۱۹۔
۳۔اعیان الشیعہ  ج۱۵،ص۱۱۵۔تاریخ تمدن ،ج۱۱،ص۱۵۹۔تاریخ الاسلام السیاسی،ص ۲۶۱، الفھرست ص۵۰۰۔
۴۔ الفہرست،ص ۵۰۔تاریخ تمدن،ج۱۱،ص۱۵۹۔
۵۔ ملھم الکیمیاء،تلخیص ص ۳۳،۴۲۔
۶۔الفہرست،ص ۴۹۹
۷۔ایضا
۸۔معجم الادبار،ج۵،ص۶۔
۹۔  اعیان الشیعہ،ج۱۵،ص۱۱۸۔الذریعہ ج۵،ص۲۰۔
۱۰۔تاب الامام صادق[ع]،ابو زھرہ،ص ۱۰۱۔
۱۱۔تناظرات اسلامی ساءنس۔ڈاکٹر عطش درانی.
۱۲۔ اسلام کے عظیم سائنس دان۔حفیظ  اللہ منظر.


تحریر:محمد لطیف مطہری کچوروی

وحدت نیوز(کراچی) اہلیان یوسی 11جعفرطیار آزمائے ہوئوں کو آزماکر اپنا ووٹ ضائع نا کریں، تینوں بڑی برسراقتدار جماعتوں نے یہاں سے مختلف الیکشنز میں کامیابی حاصل کی لیکن عوامی مسائل کے حل کیلئے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا، عوامی کھوکھلے نعروں اور دعووں سے دھوکا نا کھائیں، ہم نے بغیر اقتدار واختیار کے علاقے میں بلاتفریق انسانی خدمت کے مختلف منصوبوں پر کام کیا ہے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین مجلس وحدت مسلمین کے نامزد امیدواربرائےوائس چیئرمین یونین کونسل 11جعفرطیار ملیر سید عارف رضا زیدی نےرابطہ مہم کے سلسلے میں مسجد خدیجتہ الکبریٰ سروے نمبر 417جعفرطیار سوسائٹی میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے ایم این اے ، پیپلز پارٹی کے ایم پی اے اور متحدہ قومی موومنٹ کے ناظم نے اب تک یوسی 11کے عوام کی مشکلات اور مسائل کے حل کیلئے کوئی خاطر خواہ کارنامہ انجام نہیں دیا، ٹوٹی سڑکیں، گندگی کے ڈھیراور سیوریج کا تباہ حال نظام 40برس سے یوسی 11کے عوام کام مقدر بنا ہواہے، یونین کونسل کا دفتر پیدہ گیری کا مرکز بناہواہے، عوام کو بنیادی سہولیات کی آسان فراہمی کے ادارے میں رشوت خوری کا بازار گرم ہے،ہم انشاءاللہ کامیاب ہو کر اس ظالمانہ طرز سیاست کا خاتمہ کریں گے اور یونین کونسل 11کو مثالی علاقہ بنائیں گے۔

قبل ازیں مجلس وحدت مسلمین کے نامزد امیدواربرائےوائس چیئرمین یونین کونسل 11جعفرطیار ملیر سید عارف رضا زیدی نےرابطہ مہم کے سلسلے میں وفد کے ہمراہ خطیب وپیش امام مسجد وامام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ جعفرطیار سوسائٹی علامہ سید ذوالفقار جعفری اور پرنسپل جامعتہ الاطہار علامہ شیخ مہدی علی دانش سے ملاقات کی اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کےمرکزی رہنما سید علی احمر زیدی، ڈویژنل رہنمااحسن عباس رضوی، ضلعی رہنما شعیب رضا، سعید رضا ، رضا علی ودیگر بھی موجود تھے، ایم ڈبلیوایم کے رہنماؤں نے علامہ سید ذوالفقار جعفری اورعلامہ مہدی علی دانش کے ساتھ علاقائی صورت حال اور آمدہ ضمنی انتخاب برائے یوسی 11جعفرطیار پر تفصیلی گفتگو کی اوروائس چیئرمین کی نشست پر ایم ڈبلیوایم کے امیدوار عارف رضا زیدی کی حمایت کی اپیل کی، علامہ ذوالفقار جعفری اور علامہ مہدی علی دانش نے ایم ڈبلیوایم کے نامزدمیدوار عارف رضا زیدی کی نافقط حمایت کا اعلان کیا بلکہ اپنے مکمل تعاون کا بھی یقین دلایا، انہوں نے ایم ڈبلیوایم کے سوسائٹی کے عوام کے لئےخدمات کو سراہا اور عارف رضا زیدی کی کامیابی کیلئے تہہ دل سے دعا کی۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے مرکزی رہنما و نامزد امیدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ پی بی 26 میں مختلف کارنر میٹنگ میں شرکاء سے خطاب کے دوران آغا رضا نے کہا کہ ہزاروں شہداء دینے کے بعد بھی مکتب تشیع اتحاد کی واحد دینی سیاسی جماعت ہے۔  ایم ڈبلیو ایم اتحاد امت کے داعی جماعت ہے۔  انہوں نے ہزارہ ٹاون بروری بلاک 1 کرنل یونس روڑ اور بشیر ٹاون میں اہلیان محلہ کی طرف سے بلائی گئی کارنرز میٹنگ سے خطاب کیا۔

آغا رضا نے کہا کہ ہزارہ قوم صوبہ بلوچستان میں تقسیم پاک و ہند سے پہلے آباد تھے، برٹش دور کے ہزارہ پائنئرز سے لیکر اب تک اس دھرتی کی دفاع میں پیش پیش ہے۔اب بھی دفاع وطن میں اپنے دیگر برادر اقوام کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہے اور ہر وقت حاضر رہینگے۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ قوم کی خدمات تمام شعبہ جات زندگی میں روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی ایک شخص کی ذاتی فکر و خیال یا فاشست پارٹی پالیسی کو پوری قوم سے منسوب کرنا ناانصافی اور خلاف منطق ہے۔

شرکانے گزشتہ دور حکومت کے دوران سابق وزیر قانون سید محمد رضا صاحب کی بہترین کارکردگی، مجموعی عوامی افکار کی نمائندگی اور ترقیاتی خدمات کے اعتراف میں بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔

Page 1 of 250

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree