وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے زیر اہتمام ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء سید ناصر عباس شیرازی کے اغواء کے خلاف آل پارٹیز پریس کانفرنس کا انعقاد پریس کلب اسکردو میں ہوا۔ جس کی صدارت ایم ڈبلیوا یم جی بی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ احمد علی نوری نے کی، آل پارٹیز پریس کانفرنس میںامامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلتستان ڈویژن کے صدر سعید شگری،پاکستان تحریک انصاف جی بی کے رہنماء چیئرمین احمد علی، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء عبدا للہ حیدری ، آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنماء حاجی منظور یولتر،جی بی یوتھ الائنس کے چیئرمین شیخ حسن جوہری، گلگت بلتستان تھنکرز فورم کے سپیکر حاجی رزمست خان، بلتستان یوتھ الائنس کے رہنما علی شفاء سمیت درجنوں کارکنان شریک تھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم جی بی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ پریس کانفرنس ملک بھر میں ملت کے جعفریہ کے بے گناہ افراد کی جبری گمشدگی اور ماورائے آئین گرفتاریوں پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتی ہے اور  پنجاب حکومت کی جانب سے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنماء سید ناصر عباس شیرازی کے اغواء کو ریاستی دہشتگردی اور آپریشن ردالفساد پر سوالیہ نشان قرار دیتی ہے۔ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ  ناصر شیرازی سمیت دیگر جبری گمشدگان کا اغواء ماورائے آئین اور جمہوری اقدار کے منافی ہے پاکستان کی معزز عدلیہ کی بار بار اصرار کے باوجود مغوی کو عدالت میں پیش نہ کرنا عدالت کے ساتھ مذاق اور توہین عدالت کے مترادف ہے۔ناصر شیرازی کو اغواء کر کے پنجاب حکومت نے ریاستی دہشتگردی کی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لاہور کی اہم شاہراہ سے ایلیٹ فورس کی گاڑی میں آکرمسلح اہلکاروں کی جانب سے ناصر شیرازی کو اغواء کرنا اور اس پر حساس اداروں کی جانب سے لاعلمی کا اظہار جہاں ان اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے وہیں ملکی سا  لمیت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب میں ریاستی اداروں کی رٹ یا تو مکمل طور پرختم ہو چکی ہے یا پنجاب حکومت کی ایماء پر ماورئے آئین و قانون عمل کرنے پر مجبور ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں انہیں فوری طور پر رہا کرنے میں چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف اپنا کردار ادا کرے۔ علاوہ از یں ملک بھر میں ماورائے آئین و عدالت جبری گمشدگی کا سلسلہ انتہائی تشویشناک ہے انہیں فوری طور پر بازیاب کرکے آئین کی عملداری کو یقینی بنائی جائے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا  کہ آئین پاکستان کی رو سے سیاسی جدوجہد تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں سمیت تمام مذاہب کا بنیادی حق ہے۔ یہ ملک ان تمام مذاہب و مسالک کے ہیں جنہوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور آج پاکستان میں موجود ہیں۔ اقبال و جناح کے پاکستان میں نظریات کی بنیاد پر دیوار سے لگانے کی کوشش ملک دشمنی ہے۔ ہم ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کو ناکام بنا کر تمام مسالک و مذاہب کو انکی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ پاکستان کی عدالت عالیہ کو فرقہ وارنہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والے نام نہاد وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو برطرف کر کے انہیں سخت سزا دی جائے۔
 
انہوں نے کہا کہ گلگت  بلتستان میں پرامن علمائے کرام کو شیڈول فور میں ڈال کر برابری کی کوشش کی گئی ہے انہیں شیڈول فور سے نکالا جائے بلخصوص یمن جنگ میں آرمی کو دھکیلنے کی حکومتی کوشش کے خلاف احتجاج پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء شیخ نیئر عباس کو قید کرنا سراسر ناانصافی اور غنڈہ گردی ہے انہیںفورا رہا کیا جائے۔ عوام کی جان ، مال ، عزت و آبرو کی حفاظت اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے لہٰذا بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے ریاستی ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر میں نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنے کی بجائے اسکی روح کے ساتھ نافذ کرکے دہشتگردوںاور سہولت کاروں کو عبرتناک سز ا دی جائے۔آج جی بی سمیت ملک بھر نیشنل ایکشن ایکشن پلان کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہورہا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت  بلتستان میں آئینی حقوق کے بغیر ٹیکس کا نفاذ غیر آئینی عمل ہے یہاں پر عائد تمام ٹیکسز کو واپس لے کر سٹیٹ سبجیکٹ رول سمیت متنازعہ خطے کے حقوق کو بحال کیے جائیں یا باقاعدہ آئینی حصہ بنایا جائے۔اورگلگت  بلتستان میں خالصہ سرکاری کی آڑ میں عوامی زمینوں پر قبضے کا سلسلہ ختم کیا جائے اور سی پیک میں جی بی کو بھی مناسب حصہ دیا جائے۔پریس کانفرنس کے شرکاء نے مزید کہا کہ ناصر عباس شیرازی سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی تک حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو اپنی حکومت کے لیے استعمال کرنے والوں کا تعاقب جاری رکھیں گے اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما اور آئی ایس او پاکستان کے رکن مرکزی نظارت سید ناصر شیرازی ایڈووکیٹ کی عدم بازیابی اور پنجاب حکومت کی بے حسی کے خلاف پریس کلب کراچی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی،جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی،مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے سربراہ علامہ مرزا یوسف حسین اورآئی ایس او کے صدرمحمد یاسین سمیت مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی،شرکا نے پنجاب حکومت،شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے خلاف زبردست نعرہ بازی بھی کی۔

مقررین نے کہا کہ ایک ملک گیر سیاسی و مذہبی جماعت کے سینئر رہنما کو بیس روز قبل اغوا کیا گیاجس کے ذمہ دار رشہباز شریف،حمزہ شریف اور رانا ثنا اللہ ہیںCTD کے ذریعے ناصر شیرازی کو اغوا کرایا گیا اورآج بھی وہ سی ٹی ڈی کی غیر قانونی قید میں ہیں۔اس ملک میں جنگل کاقانون ہے،شریف خاندان نے وطن عزیز کو سلطنت شریفہ میں بدل دیا ہے، عدالتی احکامات کے باوجود ناصر شیرازی کی بازیابی کو پولیس انتظامیہ نے جان بوجھ کر معمہ بنایا ہوا ہے۔پنجاب پولیس آئین و قانون کی پاسداری کی بجائے شہباز شریف کی تابعداری کا حق ادا کرر ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ناصر شیرازی کی بازیابی میں دانستہ تاخیر ملت تشیع کے اضطراب میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ ہم نے اپنے حقوق کے لیے ہمیشہ آئینی راستہ اختیار کیا۔ناصر شیرازی کا جرم محض یہ تھا کہ انہوں نے اعلی عدلیہ کو فرقہ واریت کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش پر رانا ثنا اللہ کے خلاف پٹیشن دائر کی اور لاپتا افراد کی بازیابی اور ملک میں آئین کی بالادستی کی بات کی۔انہیں ریاستی اداروں کے ذریعے اغوا کر کے ملت تشیع کو دبانے کی کوشش دیوانے کا خواب ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ظالم حکمرانوں کے خلاف ہماری رآئینی جدوجہد اسی عزم و استقامت کے ساتھ جاری رہے گی۔ملک میں تکفیری اور کالعدم مذہبی جماعتوں کو حکومت پنجاب کی مکمل حمایت حاصل ہے جب کہ محب وطن طاقتوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔رانا ثنا اللہ حکومتی صفوں میں رہ کر کالعدم جماعتوں کی کھلم کھلا سرپرستی کر رہے ہیں جو ملک و قوم کے ساتھ سنگین غداری ہے۔ شریف خاندان نے وطن عزیز کو سلطنت شریفہ میں بدل دیا ہے۔ان خائن اور کرپٹ ملک دشمن حکمرانوں کہ دن گنے جاچکے ہیں۔کارکنان اور عوام جاتی امراء لاہور کے گھیراو کی تیاری کریں،نواز شریف کی طرح شہباز شریف اور پنجاب کے صوبائی وزرا بہت جلد انصاف کے کٹہرے میں نظر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک لوٹنے والوں کو صرف سزائیں دینا کافی نہیں بلکہ ملک و قوم کی لوٹی ہوئی رقم کی ایک ایک پائی ان سے وصول ہونی چاہیے تاکہ ملک ترقی و استحکام کی جانب سفر کر سکے۔

شرکا نے شہباز شریف اور رانا ثنا اللہ کے پُتلوں کو بھی نذر آتش کیا۔مقررین نے وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، اور چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے گزارش کی ہے کہ پنجاب حکومت کی اس لاقانونیت کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ناصر شیرازی کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اور ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی،سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ناصر شیرازی کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔۔مذہبی شخصیات میں مولانا حید عباس،مولانا عقیل موسی،علامہ مبشر حسن،علامہ صادق جعفری،علامہ احسان دانش،علامہ اظہر نقوی اور محمد یاسین سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی کابینہ سپریم ادارہ شوریٰ عالی اور امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا مشترکہ اجلاس سربراہ ایم ڈبلیوایم پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی زیر صدارات منعقد،اجلاس میں مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان انصر مہدی و دیگر رہنماوں کی شرکت،اجلاس میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی کی پنجاب حکومت کے ہاتھوں جبری گمشدگی اور عدم بازیابی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا،اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان،وزیراعظم پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس غیر قانونی اقدام کیخلاف نوٹس لیں،اجلاس میں 24 نومبر کو لاہور میں آل پاکستان شیعہ پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا،قومی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اہم لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا،مشترکہ اجلاس میں فیصلہ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ ایم ڈبلیوایم پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ ن لیگ کے نااہل حکمران ملک کو انتشار کی طرف لے جا رہے ہیں،مقتدر اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس نازک صورت حال میں ایسے غیر قانونی اقدامات کیخلاف اپنا کردار ادا کریں،ملت جعفریہ کو حب الوطنی اور امن پسندی کی سزا دی جارہی ہے،سید ناصر شیرازی ایک قومی سیاسی مذہبی جماعت کے اہم رہنما ہیں،اگر ایسی شخصیات کو تحفظ دینے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکام ہیں تو عام عوام کا اللہ ہی حافظ ہے،ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس ایجنڈے کے پیچھے بین القوامی قوتیں ملوث ہیں،ہم مملکت خداداد پاکستان کو کسی بھی عرب ریاست کی کالونی نہیں بننے دینگے،پاکستان کی سالمیت کو خطرہ امریکہ اور ان کے اتحادیوں سے ہے،سید ناصر شیرازی اس مادر وطن کا باوفا بیٹا ہے،وہ ہمیشہ ملک دشمنوں کیخلاف سینہ سپر رہے،انکو اسی جرم کی پاداش میں عرب ممالک اور انڈیا کے کاسہ لیسی کرنے والے حکمران جماعت نے اغوا کیا ہے،پنجاب حکومت ہوش کے ناخن لے اور ملت جعفریہ کیخلاف محاذ کھولنے سے باز رہے،ہمیں ظلم جبر سے دبانے کی کوشش کرنے والے ہماری تاریخ سے نا بلد ہیں،ہم چودہ سو سال سے اپنے دشمن کو رسوا کرتے آرہے ہیں اور آئندہ بھی کسی دشمن کو سراُٹھانے اجازت نہیں دینگے۔

اجلاس سے مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان انصر مہدی نے بھی خطاب کیا، انہوں نے کہاسید ناصر شیرازی کی جبری گمشدگی کے ایجنڈے کو انشااللہ جلد بے نقاب کریں گے،ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس غیر قانونی عمل کیخلاف کاروائی کریں اور ملک کو کسی نئے بحران کی طرف دھکیلنے سے روکیں،پنجاب حکومت اس ظلم کی ذمہ دار ہے،ہم کسی بھی صورت اس ظالمانہ اقدامات کو قبول نہیں کریں گے،اور سید ناصر شیرازی کی بازیابی کے لئے آخری حد تک جائیں گے،پوری ملت جعفریہ حکومت وقت کی اس ظالمانہ اقدامات کیخلاف مجلس وحدت مسلمین کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) اب اس بات پر کسی قسم کا کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا ہے کہ امریکہ اس خطے میں چین کے مقابلے میں بھارت کوکسی بھی حال میں آگے لانا چاہتا ہے اور یقیناًبھارت کے جارحانہ قسم کے عزائم کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ امریکی یہ کوشش اسلام آباد سے افغانستان تک کے مسائل کو سخت متاثر کرسکتے ہیں ،یہاں اہم ترین سوال یہ ہے کہ امریکی بھارتی ان عزائم کے مقابلے کے لئے اور پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو بچانے کے لئے کیا کرنا چاہیے اور پاکستان کیا کرسکتا ہے ؟کہا جاسکتا ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں بھارت نے اقتصادی طور پر کافی بہتری حاصل کی ہے اور اسی بہتری کے زعم میں بھارت خطے میں اپنے عسکری اور سیاسی جارحانہ عزائم کی تکمیل چاہتا ہے اس کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں پولیس مین کا کردار ادا کرے ۔

بھارت کے امریکہ کے ساتھ پر گذرتے لمحے گہرے سے گہرے ہوتے ہوئے روابط بھی اس کے اعتماد میں اضافہ کررہا ہے جبکہ امریکہ کو چین کے بڑھتے ہوئے اثررسوخ کو روکنے کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر مسائل کے لئے بھارت کو استعمال کرنا چاہتا ہے ،امریکی سیکرٹری خارجہ کا حالیہ دورہ جنوبی ایشیا اور بھارت کے حق میں دہرایا جانا والا بیان اس بات کی واضح دلیل ہے،امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’افغانستان کےبارےامریکی اسٹرٹیجی میں بھارت کا مرکزی کردار ہے اور دونوں ممالک مضبوط اقتصادی رشتے میں جڑ تے جارہے ہیں ‘‘امریکی سیکرٹری خارجہ نے جہاں ایک طرف چین پر تنقید کی وہیں دوسری جانب عالمی امن کے لئے بھارت کے کردار کی تعریف بھی کی ۔

اس سے قبل افغانستان اور پاکستان کے امور امریکی خصوصی ایلچی ایلس ویلز نے کھل کر کہا تھا کہ بھارت امریکہ کا ایک اہم اسٹراٹیجک پارٹنر ہے اور خطے کی امن وسلامتی کی لئے بھارت کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے ،ویلز کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ بھارت کوایسے حساس نوعیت کے فوجی سازوسامان سے لیس کرنا چاہتا ہے جو اس سے قبل اس نے اپنے کسی بھی اتحادی کو نہیں دیے ۔جبکہ اسی سال جون کے مہینے میں امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کے موقعے پر بھارت وزیراعظم مودی اور ٹرمپ میں جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والے ڈرون طیاروں کی فروخت کا بات چیت طے ہوئی تھی ،جس کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے پاکستان کے شدید تحفظات کا کھل کر اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی طاقتوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے بھارت کو ڈرونز کی فراہمی کا مطلب خطے میں طاقت کے توازن میں بگاڑ پیدا کرناہے ،اس قسم کے اسلحے کی فراہمی سے بھارت کے جارحانہ عزائم کو تقویت ملے گی ۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مائیکل کولنس نے کہا تھا کہ امریکہ کے لئے روس سے زیادہ چین سے خطرہ ہے ۔چین کے مشرق و جنوبی سمندر میں بڑھتی ہوئی عسکری اور سول مومنٹ ،پاکستان بنگلہ دیش اور میانمار کے ساتھ اس کے مزید گہرے ہوتے روابط اور وسیع اقتصادی پروجیکٹس امریکیوں کو کھٹک رہے ہیں چین کے پیسفک سے لیکر براعظم افریقہ تک اقتصادی ،سیاسی اور عسکری اثرات پھیلتے جارہے ہیں جبکہ ان علاقوں میں امریکی اثر ورسوخ ایک حدتک کم ہوتا جارہا ہے امریکی چینی اس پھیلتے اثر رسوخ کو روکنے کے لئے بھارت کو شہ دینے کے ساتھ ساتھ اسے پولیس مین کے کردار کا لالچ بھی دے رہا ہے ،امریکہ نے گذشتہ دس سالوں میں بھارت کو پندرہ ارب ڈالر کا اسلحہ بھی فروخت کیا ہے جبکہ آنے والے سات سالوں میں امریکہ بھارت میں تیس ارب ڈالر کے فوجی منصوبوں کا بھی پلان رکھتا ہے ۔

اس کے علاوہ امریکہ بھارت اور جاپان نے اس سال جولائی میں خلیج بنگال میں مشترکہ عسکری مشقیں بھی کیں ہیں جبکہ اسی دوران چین اور بھارت میں سرحدی تنازعے پر کافی کشیدگی بھی پیدا ہوئی تھی ،اسی سال اگست کے مہینے میں امریکی صدر ٹرمپ نے افغانستان اور پاکستان کے بارے میں اپنی نئی پالیسی کا اعلان کردیا ،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس کی پالیسی وقت سے زیادہ حالات پر انحصار کرتی ہے ٹرمپ یہ کہنا چاہتا تھا کہ افغانستان میں موجود امریکی افواج کی واپسی وہاں کے حالات کے مطابق ہوگی ،ٹرمپ نے کھل کر پاکستان پر الزامات لگائے جبکہ پاکستان خود ہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور سب سے اہم اور کامیاب آپریشن دہشتگردوں کیخلاف پاکستان کرتا جارہا ہے ۔
ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر الزامات کی ایک وجہ افغانستان میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے ساتھ ساتھ بھارت کواپنے ایجنڈوں کے لئے راضی رکھنا تھا ۔

امریکی سیکرٹری خارجہ کی پاکستان آمد پر جس انداز سے پاکستان نے اسے ویلکم کیا اس نے امریکہ پر مزید واضح کرہی دیا ہوگا کہ پاکستان کے اہم اتحادی ہونے کے امریکی کھوکھلے نعروں کی حقیقت پاکستان جان چکا ہے ،اس پر رہی سہی کسر پاکستان کی وزارت خارجہ اور ذمہ داروں کے بیانات نے پوری کردی ،پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں مزید بہتری لانے کی ضرورت کے ساتھ ساتھ پالیسی کو مرتب کرتے وقت امریکی خوشی یا ناراضگی کو بالا ئے طاق رکھنا ہوگا،یہ بات واضح ہے کہ امریکہ سمیت تمام سامراجی قوتوں کو پاکستان کی ایٹمی طاقت و صلاحیت ایک آنکھ نہیں بہاتی اور نہ ہی وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان جیسا ملک آگے بڑھے لہذا تاریخ نے ہمیں ایک ایسے نادر موڑ پر لاکر کھڑا کردیا کہ ہے کہ ہم باجود سیاسی و معیشتی مشکلات کے خود کو امریکی بلاک سے نکالیں جو در حقیقت ایک طوق کی مانند ہماری گردن پر بوجھ بننا ہوا ہے ۔

امریکی بلاک سے نکلنا یقیناًپاکستان کے لئے آسان نہیں ہوگا لیکن قوم میں اس قدر تونائی ہے کہ وہ اس نادر اور سنہری تبدیلی کی خاطر آنے والی مشکلات کو سہہ سکتی ہے ۔
وزیر خارجہ خواجہ آصف کو یہ کہنا بلکل درست ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں اپنے مفادات کومقدم رکھے گے ،خواجہ آصف نے یہ بات بھی سو فیصد درست کہی ہے کہ مستقبل میں بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں زیادہ خوشگواری کا امکان نہیں ،امریکہ آج یہاں ہے لیکن کل نہیں ہوگا علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی امن کو یقینی بنائے گے اور شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کو بھرپور طریقے سے استعمال کرے گے ،پاکستان کے حق میں سب سے اچھا یہی ہوگا کہ وہ خود کو نہ صرف امریکہ بلکہ امریکی بلاک سے فاصلے پر رکھے اور علاقائی و ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید بہتر کرے ،علاقائی ممالک سے تعاون ابھرتے چین اور روس کے ساتھ مزید بہتر تعلقات پاکستان کو انڈو امریکہ عزائم سے بچنے میں مدد فراہم کرے گا لیکن خدا نخواستہ پاکستان پھر سے امریکی ایجنڈوں کو حصہ بنتا ہے تو پھر نہ صرف چین جیسے اہم ترین دوست اور علاقائی ممالک سے ہاتھ دھونا پڑے گا بلکہ خطے میں بھارتی بالادستی کی امریکی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی ۔

تحریر۔۔۔حسین عابد

وحدت نیوز(اسلام آباد) بلوچستان ایک مرتبہ پھر بے گناہوں کی مقتل گاہ بناہے، کوئٹہ میں ایس پی انویسٹی گیشن محمد الیاس کو ان کی اہلیہ اور معصوم بچوں سمیت قتل اور تربیت میں 15نہتے مزدوروں کا قتل عام بربریت کی بدترین مثال ہے،دشمن ممالک کوبلوچستا ن کا امن کسی صورت نہیں بھاتا، پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ان کی آنکھ کا کانٹا ہےجو انہیں بہت چبھتاہے، ان خیالات کا اظہارمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے بلوچستان کے شہر کوئٹہ اور تربت میں ہونے والے دہشت گردی کے دواندھوناک سانحات پر اپنے تعزیتی بیان میں کیا ۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ایس پی محمد الیاس کو ان کے اہلیہ اور بچوں اور تربیت میں روز گار کی تلاش میں سرگرداں نہتے مزدوروں کو شناخت کرے بس سے اتار کرمارنے کا دکھ، افسوس اور غم ہم بہترمحسوس کرسکتے ہیں ،گذشتہ تین دھائیوں سے پاکستان کی گلی کوچوں، بازاروں اور درباروں میں محب وطن شیعہ سنی عوام کو چن چن کر نشانہ بنایاگیا، اسی بلوچستان میں ہمارے ہزارہ شیعہ بھائی بہنوں کو بسوں سے شناختی کارڈ دیکھ کر اتارا گیا اور گولیوں سے بھونا گیا، ہم نے اس وقت بھی شور مچایا اور قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن صاحبان اقتدار اور ریاستی اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تھی،اگر کل ہمارے احتجاج پر کان دھر لیئے جاتے توآج نوبت یہاں تک نا آتی۔

ان کامذید کہناتھاکہ پاک فوج نے کافی حد تک بلوچستان میں امن وامان کے قیام کیلئےکوششیں کیں، آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے مطابق کالعدم جماعتوں کے خطرناک دہشت گرد ماضی قریب میں قاصل جہنم ہوئے ، دہشت گردوں کی بعد کمین گاہیں بھی تباہ کی گئیں لیکن  پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھارت ، اسرائیل ، امریکہ اور خلیجی ممالک کی آنکھ کا کانٹا ہےجو انہیں  بہت تکلیف دیتا ہے، بلوچستان میں ہونے ماضی میں ہونے والی شیعہ نسل کشی اور اب سکیورٹی افسران اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کا قتل عام ایک ہی سازش کی کڑی ہے، علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کوئٹہ میں ایس پی محمد الیاس ،ان کے اہل وعیال اور تربیت میں میں شہید ہونے والے15 بے گناہ مزدوروں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے ، ان کاکہناتھاکہ مجلس وحدت مسلمین دکھ کی اس گھڑی میں شہداءکے خانوادگان کے غم میں برابر کی شریک ہے ، انہوں نے بارگاہ ایزدی میں دعا کی وہ تمام شہداءکو اپنے جوار میں محشور فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل عنایت فرمائے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) قانون اور شعور کا گہرا تعلق ہے، انسان جتنا باشعور ہوتا ہے اتنا ہی قانون پسند بھی۔ ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ طالبا ن  اور داعش سے نفرت کرو، اس لئے کہ وہ قانون شکن ہیں، وہ ملک اور دین کی بدنامی کا باعث ہیں، وہ خواتین کو کوڑے مارتے ہیں ، وہ لوگوں کو اغوا کرتے ہیں اور وہ۔۔۔

ظاہر ہے ہر محب وطن پاکستانی ، اپنے ملک اور آئین کی بالادستی کے لئے طالبان  اور داعش کے خلاف کمر بستہ ہے لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ قانون شکنی اگر جرم ہے تو پھر سرکاری لوگوں کے ذاتی عقوبت خانوں کو کیا نام دیا جائے!

 قانون سے کھلواڑ اگر بے شعوری کی دلیل ہے تو لوگوں کا ماورای قانون اغوا اور لاپتہ ہونا کس بات پر دلالت کر رہا ہے!

 ملک اور دین کی بدنامی اگر قبیح ہے تو پھر ائیر پورٹ پر خواتین کی پٹائی کر کے کونسی نیک نامی کمائی گئی ہے!

خواتین کو کوڑے مارنا اگر قابلِ مذمت ہے تو پھر کسی مستور کو برہنہ کر کے گلی کوچوں میں پھرانے کو کیا کہا جائے!!!

گزشتہ دنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں  تھانہ چودہوان کی حدود میں گرہ مٹ کے کچھ مسلح افراد نے ذاتی دشمنی کے باعث مخالف خاندان کی 16 سالہ بچی شریفاں کو اس وقت ننگا کر کے گائوں میں گھومنے پر مجبور کر دیا جب وہ جوہڑ سے پانی بھر کے گھر واپس آ رہی تھی۔

غنڈوں نے مدد کے لئے چیختی ہوئی اس  برہنہ بچی کو کسی سے چادر تک نہ لینے دی،  شیطانیت ایک گھنٹے تک رقص کرتی رہی لیکن پولیس یا ہمارے انتہائی حساس اداروں کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی۔

یہ سب ُاس صوبے میں ہوا جس میں غیرت اور مذہب کے نام پر قتل کرنے کو بہادری سمجھا جاتا ہے۔  اور جہاں کچھ عرصہ پہلے مشال خان کو توہین مذہب کا الزام لگا کر بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔

اسی صوبے میں   ایک گھنٹے تک  مسلمان بچی کو برہنہ کرکے  اس پر  تشدد کیا جاتا رہا لیکن   کسی کے مذہب کی توہین نہیں ہوئی، کسی جہادی کی رگِ جہاد نہیں پھڑکی، کسی مُلّا نے ایک مسلمان بچی کی آبرو بچانے کے لئے کوئی فتوی نہیں دیا، کسی مسجد کے سپیکر سے کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، کسی تنظیم کے جیالے اپنے دیس کی بیٹی کی ناموس بچانے کے لئے میدان میں نہیں اترے، جی ہاں اور اس ایک گھنٹے میں کسی قانونی ادارے کے نزدیک ملک میں کسی قسم کی کوئی قانو ن شکنی نہیں ہوئی۔

جب بچی کے ورثاء تھانے رپوٹ درج کرانے گئے تو  وہاں پر کوئی طالبان یا داعش کے کارندے  ڈیوٹی پر نہیں تھے بلکہ ہمارے قانون کے محافظ براجمان تھے، جنہوں نے باثر ملزمان کے ساتھ مل کر لڑکی کے خاندان کو دباو میں لانے کے لئے اس کے  بھائی پر بھی ایک مقدمہ درج  کر لیا ۔

چونکہ یہ سب کچھ کرنے والے طالبان، القاعدہ یا داعش نہیں ہیں لہذا یہ سب کچھ برا بھی نہیں ہے۔ دوسری طرف صحافیوں پر حملوں اور تشدد کا سلسلہ بھی جاری ہے تو چونکہ یہ سب کچھ طالبان ، القائدہ یا داعش کی ریاست میں نہیں ہو رہا لہذا ہمارے ہاں  اس کے ہونے میں کوئی قباحت بھی نہیں سمجھی جاتی۔

قباحت تو تب ہے کہ جب طالبان کے اذیت کدوں میں کسی پر ٹارچر کیا جائے لیکن اگر  کسی سرکاری ٹارچر سیل میں جمشید دستی جیسے کسی شخص پر بچھو چھوڑے جائیں تو یہ قانون، مذہب  اور آئین کے عین مطابق ہے۔

اسی طرح اسی طرح  معروف سیاستدان ، ناصر شیرازی ایڈوکیٹ کو لاپتہ ہوئے آج کئی دن گزر چکے ہیں،  چونکہ انہیں لاپتہ کروانے میں وزیر قانون  کا ہاتھ ہے لہذا یہ گمشدگی بھی قانونی ہے اور اس میں دینی، شرعی اور قانونی اعتبار سے کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ویسے بھی تو اِ س مُلک میں  ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔

آپ خود دیکھ لیجئے ! برما اور کشمیر کی بیٹیوں کی ناموس کے لئے گلے پھاڑ پھاڑ کر رونے والے مولوی حضرات کے اپنے دیس میں ایک نوعمر مسلمان بچی کے ساتھ جو سلوک ہوا، اس پر کسی مولانا کے اشک نہیں گرے، کسی مولوی نے جہاد کی بات نہیں کی کسی مفتی نے کفر کا فتوی نہیں دیا۔۔۔

اور عجب اتفاق ہے کہ سیاسی عناصر جس طرح مشال خان کے قتل میں ملوث تھے اُسی طرح ڈی آئی خان کے واقعے میں بھی غنڈوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

اب یہ بھی خبریں ہیں کہ ایم ایم اے بحال ہو رہی ہے یعنی  مولویت و جمہوریت رسمی طور پر پھر سے ایک ہو رہے ہیں۔ اچھا ہے  ایسا ہی ہونا چاہیے چونکہ ہمارے ہاں رائج مولویت اور جمہوریت کی لوح محفوظ پر  عوام کی تقدیر میں یہی کچھ لکھا ہے۔  

عوام کے ساتھ جو مرضی ہے ہوتا رہے، حوا کی بیٹی گھنٹوں برہنہ پھرائی جاتی رہے یا سالوں، ٹارچر سیلوں میں بچھو چھوڑے جائیں یا سانپ، کسی وکیل پر تشدد ہو یا صحافی پر ، اس پر کبھی بھی ہمارا  مقامی مذہبی ٹھیکیدار  یا  سیاستدان  نہیں بولے گا۔

ہمارے ہاں دین اور قانون کے ساتھ یہ کھلواڑ چلتا رہے گا چونکہ یہی ہمارے ہاں کی مولویت اور جمہوریت ہے۔

 

 

تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Page 1 of 135

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree