وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے اپنے وعدوں سے انحراف کیا جارہا ہے، غریب عوام کی مشکلات ختم کرنے کی بجائے مہنگائی،اشیائے خوردونوش اور پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ قابل مذمت ہے، ریاست مدینہ کے دعویدار عوام کو ریلیف فراہم کریں ، عوام کی چیخیں نکالی جارہی ہیں،حکومت عوام پر رحم کرے ، مہنگائیاور پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ واپس لیا جائے ، حکومت عوام کش پالیسی نہ اپنائے ، بیروزگاری ہی بدامنی،قتل وغارت اور دہشتگردی کا سبب بن رہی ہے، حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ کرپٹ حکمرانوں سے عوام کا پیسہ واپس لیا جائے گا، اب تک کسی ایک کرپٹ حکمران سے رقم وصول نہیں کی گئی، ریاست امیر اور غریب کے لیے ایک ہی قانون بنائے ، امیر کو ضمانت ملنا اور غریب کو بیرکوں میں چکی پیسنا ریاست مدینہ کا قانون نہیں کہلایا جاسکتا۔

ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ مرکزی کنونشن سے واپسی پر صوبائی سیکرٹریٹ میں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل سلیم عباس صدیقی، مہر سخاوت علی، صوبائی ترجمان ثقلین نقوی،سیدوسیم عباس زیدی، ندیم عباس کاظمی، اسد عباس عسکری، ضیغم عباس اور دیگر موجود تھے۔ میڈیا کو جاری بیان میں صوبائی ترجمان ثقلین نقوی کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کا صوبائی کنونشن 27,28اپریل کو ملتان میں منعقد ہوگا جس میں نئے صوبائی سیکرٹری کا انتخاب کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران صوبائی کابینہ کے افراد اور سینیئرز نے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی، صوبائی سیکرٹری سیاسیات مہر سخاوت علی ور صوبائی ترجمان ثقلین نقوی کو ''حسن کارکردگی شیلڈ''ملنے پر مبارکباد دی، واضح رہے کہ مرکزی کنونشن کے اختتام پر تین سال کے دوران اعلیٰ کارکردگی کے حامل کارکنان اور رہنمائوں کو اعزازی شیلڈز تقسیم کی گئیں ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین کے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کومجلس وحدت مسلمین پاکستان کا ایک مرتبہ پھر مرکزی سیکریٹری جنرل منتخب ہونے پر مبارک باد کے پیغامات، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری چوتھی مرتبہ بھاری اکثریت کے ساتھ آئندہ تین سال کے لئے مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل منتخب کر لئے گئے ہیں ،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے دوبار ہ سیکریٹری جنرل منتخب ہونے پر مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے فون پر مبارک باد کے پیغام دیئے ہیں، ترجمان وزیر اعظم پاکستان ندیم افضل چن ،اعجاز چوہدری سمیت ملی یکجہتی کونسل،سنی اتحاد کونسل ،پاکستان عوامی تحریک اور آئی ایس او کے قائدین نے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے انتخاب پر اسے ایم ڈبلیوایم کے کارکنان کا اپنے قائد پرغیر متزلزل اعتمادکا مظہراورمجلس وحدت مسلمین کے لئے خوش آئندقراردیا، قائدین نے اپنے پیغامات میں نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ مجلس وحدت مسلمین ملکی سلامتی و استحکام میں روز اول کی طرح آئندہ بھی علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی سربراہی میں کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شعبہ امور خارجہ کے تحت قم ، مشہد، نجف ، کویت اور یوکے کے عہدیداران نےپہلی بار مجلس وحدت مسلمین کے سالانہ تنظیمی کنونشن میں شرکت کی ،ایم ڈبلیوایم اوورسیز چیپٹرزکے عہدیداران نے کنونشن میں اپنی تین سالہ کارکردگی رپورٹس پیش کیں اورنئے مرکزی سیکریٹری جنرل کے انتخاب کےلئے رائے شماری میں بھی حصہ لیا، اس موقع پرجامعہ امام صادقؑمیں ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس میں بیرون ممالک قائم نمایندہ دفاتر کے مابین مضبوط رابطے, پالیسیوں اور فعالیت میں ہماہنگی اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے اھداف کے حصول کے لیے ہر ممکنہ علمی, فکری و اخلاقی مدد کو بہتر سے بہتر بنانے پر غور کیا گیا. شعبہ امور خارجہ کے ذیلی دفاتر کی اس میٹنگ میں شریک نمایندوں نے ایکدوسرے کے علمی, فکری و دیگر منصوبہ جات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس عنوان سے ایکدوسرے کی تجاویز زیر بحث لائی گئیں۔

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی تنظیمی کنونشن کے موقع پر منعقد ہونے والی اس میٹنگ میں دفتر شعبہ امور خارجہ کے مسوول مولانا شیخ ضیغم عباس, کویت اور خلیج کے لیے سیکرٹری امور خارجہ کے معاون سید شہباز حسین شیرازی, مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نمایندہ دفتر قم المقدس کے معاون سیکرٹری مولانا سید حسنین جعفر زیدی, یورپ-یوکے میں قائم نمایندہ دفتر کے سیکرٹری جنرل مولانا مشرف حسینی, مشہد مقدس میں قائم نمایندہ دفتر کے معاون سیکرٹری مولانا ظہیر حسین مدنی, نجف اشرف میں قائم نمایندہ دفتر کے معاون سیکرٹری مولانا امتیاز حسین نجفی اور قم المقدس میں قائم نمایندہ دفتر کے سابق سیکرٹری جنرل حجت الاسلام گلزار احمد جعفری صاحب نے شرکت کی۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے میڈیا سیل سے جاری بیان میں ڈویژنل سیکریٹری جنرل کربلائی رجب علی نے کہاہے کہ آج ساری دنیا میں مسلمانوں کے عمومی زوال کا بڑا سبب یہ ہے کہ اپنے سر چشمہء حیات سے ان کا رشتہ کمزور ہو گیا ہے۔ اُنھوں نے اس کا قانونی نظام کو سرد خانے میں ڈال دیا ہے ، جو نہ صرف ان کی زندگی و تشخص کو ضمانت فراہم کرتا ہے۔ بلکہ ساری انسانیت کی حیات و ارتقاء کا راز بھی اس میں پوشیدہ ہے ۔ لیکن مسلمان اپنا مقام بھول گئے، انھیں اپنی حقیقت کا عرفان نہ رہے، کہ وہ کس خدائی منصب اور خدائی نظام کو لے کر اس انسانی دنیا میں آئے ہیں۔ بلکہ وہ دنیا کی دوسری قوموں کی طرح مادہ پرستی، دنیا طلبی کے میدان میں کود پڑے، دوسروں کو جگانے والی قوم خود سو جائے۔

انہوںنےمزیدکہاکہ کاش کوئی ایسی صورت پیدا ہوتی کہ مسلمان پھر اپنے گھر کی طرف پلٹیں۔ اپنا کھویا ہوا خزانہ واپس لیں۔انھیں ایسی آنکھ نصیب کہ وہ ہیرے موتی اور کنکر پتھر میں فرق محسوس کرسکیں اور پوری بصیرت کے ساتھ جان سکیں کہ انسانوں کا بنایا ہوا نظام کبھی خالق و کائنات کے عطا کردہ قانونی نظام کا ہم پلہ نہیں ہوسکتا۔ جرم و سزا کا اسلامی فلسفہ اور اسلامی قانون معاشرے میں عدل و انصاف اور امن و سلامتی کا ضامن ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی قانون انسانی معاشرے کی فلاح کا ضامن ہے اور اس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ اس ضمن میں ہمیں اسلامی قانون کے مزاج کو اپنے پیش نظر رکھنا بہت مفید ہوگا۔ اس طرح اسلامی قانون کی افادیت اور اہمیت کو ہم اور اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اسلامی قانون میں تمام اقوام عالم اور دنیا کے ہر خطے کی نفسیات اور طبعی میلانات کی رعایت رکھی گئی ہے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جانثاران مہدی عج کنونشن کے دوسرے روز شرکاءسے خطاب کرتے ہوئےایم ڈبلیوایم کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ طاغوتی طاقتیں کربلا کے پیروکاروں سے خائف ہیں،پاکستان میں ملت جعفریہ کی سیاسی و مذہبی طاقت کو توڑنا ملک و اسلام دشمن عناصر کاہمیشہ ہدف رہا ہے،مجلس وحدت مسلمین سیاسی سماجی اخلاقی معاشرتی نظام کی درستگی اور دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے میدان عمل میں آئی ہے۔ہم قائد شہید عارف حسینیؒ کی اس فکر کے پیروکار ہیں جو عالم استعمار کے خلاف للکار تھی۔شہید عارف حسینی ؒکی شخصیت کو اگر قوم شناخت کر لیتی تو آج ملت تشیع کے حالات مختلف ہوتے۔تشیع کے دشمن یہ نہیں چاہتے تھے کہ ملک میں کوئی خمینی پیدا ہو اس لیے انہوں نے عظیم قائد کو شہید کر ا دیا،شہید قائد کے بعد وطن عزیز میںتکفیریت کا بیج بویا گیا، امریکہ اور آل سعود کی پاکستان کے معاملات میں براہ راست مداخلت کا خمیازہ دہشت گردی کے عفریت کی صورت میںسامنا آیا،ملک میں اہل تشیع کی نسل کشی کی گئی۔

انہوںنے مزیدکہاکہ ہمارابسوں سے اتار کر شناختی کارد دیکھ کر قتل عام ہوا،سانحہ عاشور راولپنڈی کا فتنہ کھڑا کیا گیا تاکہ اس کا سارا ملبہ ہمارے بے گناہ مومنین پر گرایا جائے جائے اور عزاداری پر پابندی لگائی جائے ،اس سارے حالات کے باوجود ہماری جماعت اور قوم نے استقامت کامظاہرہ کیا ہے ،ہم نے دوٹوک انداز میں باور کرایا کہ وطن و اہل وطن ،دین و مذہب ،ثقافت ،سماج و معاشرت کے خلاف کسی سازش کو قبول نہیں کیا جائے گا، خون کے آخری قطرے تک ملک و اسلام کی حفاظت کرتے رہیں گے ،بیرونی مداخلت کی سنگینی کا ہر محب وطن پاکستانی کو بخوبی ادراک ہے،اگر پاکستان امریکہ سے قطع تعلق کا اعلان کر لے تو امریکہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔اب اس ملک میں خادم الحرمین کی صورت میںنیا فتنہ کھڑا کیا جارہا ہے،ہمیں مجلس وحدت مسلمین کو مضبوط کرنا ہے اور زیادہ مستحکم بنانا ہے ۔خدمت کرنے کا بہترین وقت مشکلات میں کام کرنا ہے تاکہ ہمارا تنظیمی ڈھانچہ مضبوط ہو تاکہ داخلی و بیرونی فتنوں کا مقابلہ کیا جائے ۔ہمیں اس ملک میں غالی و مقصر کے فتنے سے باہر نکلنا ہے۔ہمیں کسی ایسے فتنے کا حصہ نہیں بننا ہے ہمارا عقیدہ وہی ہے جو مراجع ومجتہدین کا عقیدہ ہے اور ہم اندرونی و بیرونی مشکلات کا سامنا کریں گے اور اپنے سیٹ اپ کو مضبوط کر یں گے ۔

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے مزید کہاکہ ہمیں یونٹ سے لیکر مرکز تک تنظیم سازی و تربیت کی ضرورت ہے اور بلخصوص ہمیں اپنے نوجوانوں کو دیکھنا ہے ۔ہمیں سیاسی ،سماجی،معاشرتی،اجتماعی حوالوں سے جوانوں پر کام کرنا ہے ۔خواتین کی تربیت بھی بہت اہمیت کی حامل ہیں اپنے اپنے علاقوں میں خواتین کے سیٹ اپ کو مضبوط کریں ۔مساجد امام بارگاہوں ،مدارس و ذاکرین ،ماتمی انجمنوں ،بانیان مجالس کے ساتھ روابط کومضبوط کریں ۔مسلسل تہذیب نفس کرنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اپنے دفاتر کو روحانی بنانا ہوگا ۔دعا و مناجات تربیتی نشستیں جاری رکھنی ہوگی۔تکفیری عناصر گروہوں کے ساتھ کسی فورم پر نہیں بیٹھا جائے گا ،جب تک وہ اپنی تکفیر کو ختم نہ کر دیں اور پاکستان میں بسنے والے تمام مکاتب فکر کا احترام کریں اور اپنے فعل کی معافی مانگیں ،آئین پاکستان میں تکفیر کو تعزیراتی جرم قرار دیا جائے،
،وارثان شہدائے کے خون کا حساب دیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے ہر فورم پرمسنگ پرسن کے حوالے سے آواز اٹھائی اور ان کی رہائی کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں ۔ہماری جدوجہد ظہور امام عج کی زمینہ سازی ہے۔اگر مسنگ پرسن واپسی کے معاملات بات چیت کے زریعہ حل نہیں ہوئے تو پھر احتجاج کے دیگر آئینی طریقوں پر عمل کیا جائے گا، مسنگ پرسن کا مسئلہ حل نہ ہوا تو دوبارہ بھوک ہڑتال پر بیٹھ سکتا ہوں، ڈی آئی خان خیبر پختون خواہ ،بلوجستان،سندھ، سمیت ملک کے دیگر حصوں میں شیعہ کلنگ کے حوالے حکومت سے اپنا موقف دوٹوک رکھتے ہیں اورا س پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ہم گلگت و بلتستان کے حقوق کیلئے ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ہم ملک میں ہر مظلوم کی آواز بنیں گے اور ظالموں کے خلاف جدو جہد کریں گئے ۔ہم نظام ولایت فقیہ سے جڑےہیں اور اس کے سائے میں اپنے کاموں کو لیکر چلیں گے۔5اگست کو شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی پر عظیم الشان اجتماع منعقد کیا جائے گا۔

وحدت نیوز(اسلا م آباد) وفاقی حکومت جمہوری ہے ،ڈکٹیٹر شپ کو فروغ نہ دیا جائے۔ اظہار رائے کی آزادی عوام کا قانونی و آئینی حق ہے ۔انصاف حکومت دوہرے معیارات پر مبنی رویہ ترک کرئے۔ سعودی ولی عہد بن سلمان کی پاکستان آمد پر سوشل میڈیا پر احتجاج کرنے والوں کی ایف آئی اے سے تحقیقات کروانے کی مذمت کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہا رمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نےایم ڈبلیوایم کےسالانہ مرکزی کنونشن کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہو ں نے کہا کہ یہ جمہوری اقداراور آئین کے خلاف ہے کہ شہریوں کی اظہاررائے کی آزادی کو سلب کیا جائے اور انہیں سرکاری مشینری کے زریعے ڈرایا دھمکایا جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔تحریک انصاف خود کو اظہار رائے کی آزادی کی علمبردار جماعت کہلواتی ہے اور دوسری جانب پر امن احتجاج کرنے والی عوام پر طاقت کا استعمال کرنا اور انہیں دھمکانا تحریک انصاف کی پالیسی کے منافی ہے جسے ہر گز ملت جعفریہ قبول نہیں کرے گی۔علامہ احمد اقبال نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور ایف آئی اے کی جانب سے ایم ڈبلیو ایم و دیگر شیعہ جماعتوں اور صحافیوں کے خلاف نوٹیفیکشن کو واپس لیا جائے ۔

Page 6 of 160

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree