آخر غریب کس طرح بات کرتا!

وحدت نیوز (آرٹیکل) ایک آدمی کو بات کرنے والا طوطا بہت پسند تھا ایک دن وہ پرندہ فروش کے پاس گیا اور ایک خوبصورت بات کرنے والا طوطا خرید لایا ایک دن گزر گیا لیکن طوطے نے ایک حرف نہیں بولا اگلے دن وہ دوکاندار کے پاس آیا اور کہنے لگا بھائی صاحب جو طوطا میں خرید کے لے گیا تھا وہ تو ایک حرف بھی نہیں بولتا اور تم تو کہہ رہے تھے کہ وہ بات کرتا ہے؟ دکاندار نے پوچھا کیا طوطے کے پنجرہ میں آئینہ ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں کیوں؟ دکاندار نے کہا طوطہ جب آئینہ میں اپنا عکس دیکھتا ہے تو بات کرنے لگتا ہے۔ خریدار ایک آئینہ لے کر گیا اور ایک روز بعد پھر واپس آیا کہنے لگا بھائی آئینہ نصب کردیا تھا طوطہ پھر بھی بات نہیں کرتا۔ دکاندار نے کہا کیا پنجرہ میں سیڑھی ہے؟ اس نے کہا نہیں دکاندار نے کہا بے وقوف طوطا تو سیڑھیوں کا عاشق ہے اسی لئے وہ کچھ نہیں بول رہا۔ خریدار کچھ غصے کی حالت میں واپس گیا اور آگلے دن پھر غصے کی حالت میں واپس آیا، دکاندار نے جب خریدار کو دیکھا تو اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا فورا سوال کر ڈالا کیا طوطے کے پنجرہ میں جھولا ہے؟ اس نے غصے میں جواب دیا نہیں، دکاندار نے کہا بس مسلۂ ہی حل ہوگیا طوطا تو جھولا جھولتے ہوئے بات کرتا ہے، خریدار کچھ کہہ نہ سکا اور ایک جھولا خرید کر واپس ہوا۔ چوتھے روز خریدار روتے ہوئے دکاندار کے پاس گیا اور کہنے لگا طوطا مرگیا میرا طوطا مر گیا۔۔۔ دکاندار نے جب اس کی حالت دیکھی تو دلاسہ دیتے ہوئے پوچھا کیا تمھارے طوطے نے مرتے ہوئے بھی کوئی بات نہیں کی؟؟ اس نے روتے ہوئے جواب دیا کیوں نہیں اس نے بات کی۔ دکاندار نے پوچھا کیا بات کی ، طوطے نے کیا بولا؟؟ خریدار نے کہا طوطے نے مرنے سے پہلے انتہائی ضعیف آواز میں مجھ سے پوچھا کیا اُس دکان پر طوطوں کے لئے کھلونوں کے علاوہ کوئی کھانے پینے کی چیزیں نہیں تھی ۔۔۔؟!

وطن عزیز میں بھی عوام اور حکمرانوں کے درمیان کچھ ایسے ہی رشتے قائم ہیں۔ قومی اسمبلی میں وزارت برائے منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے جمع کرائی جانے والی ایک دستاویز کے زریعے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 29.5 فیصد حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ جو تعداد کے تناسب  سے تقریبا ساڑھے پانچ کروڑ افراد بنتی ہے۔ دستاویز ات کے مطابق اس طریقے کار کے تحت پاکستان میں غربت کی لکیر کو ہر فرد کے ماہانہ خرچہ 3030 روپے مقرر کیا گیا جس کے تحت اگر کسی شخص کی ماہانہ آمدن 3030 روپے سے کم ہے تو اس کا شمار خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں ہوگا۔اس حساب کے مطابق جن لوگوں کی روزانہ آمدن ایک ڈالر سے زیادہ ہے انہیں غربت کی لکیر سے اوپر قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی معیار کے حساب سے بات کی جائے تو 3030کے بجائے 5000 یا تقریبا 600 روپے ماہانہ کمانے والے افراد غربت کی لکیر سے باہر ہونگے اور اس لحاظ سے پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد دگنی ہوجائے گی۔اب غربت کی وجہ سے ایک فیملی پر کیا کیا اثرات پڑھتے ہیں یہ تو ہم سب ہی جانتے ہیں،کھانے پینے سے لیکرتعلیم،شادی غرض ہر چیز پر ہی اثر انداز ہوتی ہے یہاں تک کہ زندگی اور موت کا بھی مسئلہ بن جاتی ہے، لوگ اپنے لخت جگر کو چند پیسوں کے عوض بیچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، قابل لائق اور زہین بچے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔۔۔اور ایسی ہی ناجانے کتنی مشکلات سامنے آتی ہیں ۔۔ھر قدم پھونک پھونک کے اٹھانا پرھتا ہے۔۔اور آج کل کے حالات میں بین الااقوامی خط غربت کے حساب سے بھی پاکستان میں کوئی کماتا ہے تو وہ صرف 12گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے آنے والے بل کی نظر ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر اس غربت سے صرف بچوں کی زندگیوں پر پڑھنے والے اثرات کو دیکھیں توہماری انکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ملکی آبادی کا 69فیصد حصہ غذا کے حوالے سے غیر محفوظ ہے اور عام طور پر لوگوں کی غذا کا بڑا حصہ روٹی پر مشتمل ہوتا جب کہ گوشت ،پھل،ڈیری مصنوعات کا استعمال بہت کم ہوتا ہے، یوں ملک کی تقریبا ستر فیصد آبادی کو صحت مند قرار نہیں دیا جاسکتا۔اُوپر سے لوگوں کی بڑی تعداد ایسی گندم کا استعمال کر رہی ہے جس میں بیکٹریا موجود ہیں اور اس سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں "خواتین اور بچوں کی نصف آبادی غذا میں وٹامن موجود نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کا شکار ہیں، اور بچوں میں ہونے والی اموات میں سے 45فیصد اموات نامکمل غذا کی وجہ بتائی جاتی ہے"۔ یہ غربت کی وجہ سے پڑھنے والے اثرات پر ایک چھوٹی سی رپورٹ ہے۔

اب اگر ہم اپنے حکمرانوں کی جانب دیکھیں تو عوام کی بھوک ،پیاس،غربت کے حقیقی درد سے کوسوں دور وزیر اعظم صاحب ملتان میں میٹرو کا افتتاح کرتے ہوئے کہتے ہیں " میٹرو بنے سے قبل طالب علم، نوجوان اور غریب افراد کتنی مشکل سے سفر کرتے تھے اور کتنا کرایہ دے کر جاتے تھے ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے۔۔۔!! "
بلکل صحیح فرمایا ہے جناب وزیر اعظم صاحب (میں بذات خود میٹرو کا مخالف نہیں۔۔لیکن اہم مہم بھی کوئی چیز ہے۔۔اور میٹرو۔۔!کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں کچھ نہ ہونے سے میٹرو ہی صحیح) آپ ابھی یہ سوچ رہے ہیں اور ہم تو سوچ رہے تھے کہ تین دفعہ وزیر اعظم بنے کے بعد تو ملتان کیا پاکستان بھر سے غربت کا خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا، آپ تو سفر کی مشکلات کا ذکر کر رہے ہیں ہم تو وی آئی پی پروٹوکول سے کوئی غریب بیمار زندہ بچ کے ہسپتال پہنچ جائے تو شکر ادا کرتے ہیں،آپ تو کرایوں کی بات کرتے ہیں ہم تو 24گھنٹوں میں ایک وقت کی عزت کی روٹی مل جائے اور زندہ رہے تو خوشی خوشی میلوں پیدل چلنے کو تیار ہیں۔آپ تو کہتے ہیں پاکستان کے ہر شھر کو خوبصورت بنائیں گے، بلکل درست بات کی آپ نے لیکن ہم کہتے ہیں اس شہر کو خوبصورت بنانے سے پہلے یہاں بسنے والوں کو خوبصورت بنے کے موقعے فراہم کیے جائیں، آپ بیروزگاروں کا کچھ سوچیں تو ہم خود اپنے اپنے گلی کوچوں ،سڑکوں اور شہروں کو خوبصورت بنائیں گے۔ آپ نے 28 ارب 88 کروڑ کی لاگت سے ملتان میٹرو تعمیر کروایا ہے یقیناًبڑی رقم ہے قابل تعریف ہے آپ کا بہت بہت شکریہ لیکن اگر آپ اس میں سے صرف دس ارب ملتان کے جوانوں اور بچوں کی تعلیم پرخرچ کرتے، دس ارب غریب عوام پراور پانچ ارب سے ٹرانپورٹ کا نظام درست کرواتے تو یہ شھر جنت بنتا اور 3 ارب 88 کروڑ بھی آپ کی آف شورز ایکاونٹز میں جمع ہو جاتا یوں عوام بھی خوش ہوتے اور آپ کو بھی فائدہ پہنچتا کم از کم اگلے الیکشن میں آپ ملتان میں پیسے بہانے اور گلوبٹ کو میدان میں اتارنے کی زحمت سے بچ جاتے ۔۔۔


تحریر۔۔۔۔۔۔ ناصر رینگچن

وحدت نیوز (ہری پور) مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام ہری پور میں سانحہ پاراچنار اور کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں صوبائی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم علامہ اقبال بہشتی نے خصوصی شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے حکومت اور دہشتگردوں کیخلاف بھرپور نعرہ بازی کی، اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی رہنماء علامہ سید وحید عباس کاظمی، علامہ ذوالفقار حیدری، نیئر عباس جعفری اور دیگر نے شرکت کی۔ علامہ اقبال بہشتی نے شرکائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تلک ظلم ہو گا، ہم صدائے احتجاج بلند کرتے رہیں گے، پاراچنار میں ہونے والے وحشیانہ قتل عام کیخلاف آج ساتویں روز بھی خیبر پختونخوا کے بعض شہروں میں مجلس وحدت مسلمین کی کال پر عوام نے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔

جگہ خالی ہے۔۔۔

وحدت نیوز (آرٹیکل) دنیا میں ہر شخص کامیاب ہونا چاہتا ہے، ایک صاحب  اپنے ایک دوست کی کامیاب گھریلو زندگی پر بہت رشک کرتے تھے۔  ایک دن انہوں نے اپنے دوست سے پوچھ ہی لیا کہ بھائی آپ کی کامیاب اور خوشگوار گھریلو زندگی کا راز کیا ہے!؟ ان کے دوست نے گلا صاف کرنے کے بعد کہا کہ ہماری کامیاب گھریلو زندگی کا راز یہ ہے کہ ہم نے کاموں کو آپس میں تقسیم کر رکھا ہےکاموں کو تقسیم کرنے کا طریقہ انہوں نے یہ بتایا کہ میں تو چھوٹے موٹے کاموںمیں الجھتا ہی نہیں، چھوٹے موٹے کام میری بیگم صاحبہ کرتی ہیں اور بڑے بڑے کام میں خود کرتا ہوں۔

انہوں نے خود ہی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے چھوٹے کام مثلا دکانوں سے سودا سلف خریدنا،کھانا پکانا،گھر کی صفائی کرنا،کپڑے دھونا، بچوں کو پڑھانا،۔۔۔یہ سب کام صبح سے شام تک  بیگم صاحبہ کرتی ہیں۔ جبکہ  بڑے بڑے کام  مثلا بی بی سی سننا،اخبار پڑھنا، سیاستدانوں کے بیانات کا موازنہ کرنا، پارٹیوں کے حالات پر نگاہ رکھنا وغیرہ یہ سب کام  صبح سے شام تک میں خود کرتا ہوں۔

ہمارے ملک کے سیاستدانوں کی کامیابی کا راز بھی یہی ہے کہ انہوں نے بھی کاموں کو تقسیم کررکھا ہے، چھوٹے موٹے کام عوام کے ذمے ہیں اور بڑے بڑے کام ہمارے سیاستدان خود کرتے ہیں۔ چھوٹے موٹے کام مثلا  محنت کرنا، تعلیم حاصل کرنا، میرٹ کی امید رکھنا،   نوکری کی تلاش کرنا، روزگار کے لئے مواقع ڈھونڈنا، جلسے جلوسوں میں دھمال ڈالنا، وقت پر پانی اور بجلی کے بل جمع کروانا۔۔۔ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام عوام کے ذمے ہیں لیکن  بڑے بڑے کام مثلا پانامہ لیکس  پر بیانات دینا، وکی لیکس کا تجزیہ کرنا، سوئس بینک اکاونٹس وغیرہ جیسے بڑے بڑے مسائل ہمارے حکمرانوں کے ذمے ہیں۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ   جس ملک میں زرداریوں کے گھوڑے مربے کھاتے ہیں اسی ملک میں عام لوگوں کو ڈاکٹر جعلی سٹنٹ ڈال دیتے ہیں۔ جس وقت ایک شہر میں لوگ شریف برادران کے جلسے میں آئی لو یو کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں ، اسی وقت ایک دوسرے شہرمیں ایک پولیس والا ایک رکشہ ڈرائیور کو ڈنڈے مار کر لہو لہان کردیتا ہے، جن دنوں ہمارے وزیراعظم کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی بات کررہے ہوتے ہیں ،انہی دنوں ہمارے ہاں سے سوشل ایکٹوسٹ اغوا ہونے لگتے ہیں، جس حکومت میں حکمران بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، اسی حکومت میں برقیات والے لوگوں کو بغیر میٹر ریڈنگ کے بل بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں کا عام آدمی  وزیر اعظم کے جلسے میں نعرے لگانے، بلاول کے پنڈال میں دھمال ڈالنے اور عمران خان کے دھرنے میں بھنگڑا ڈالنے کے بعد پھر سے اپنے بچوں کو  ٹاٹ سکولوں میں بھیجنے، غیرمعیاری تعلیم دلوانے، گندہ پانی  اور کیمیکل ملا دودھ پلانے پر مجبور ہے۔

ہمارے لیڈر چھوٹے موٹے کاموں میں پڑتے ہی نہیں، کوئی سیاستدان فرسودہ تھانے ، کچہری  اور پٹواری کلچرکے خلاف کھلی کچہری نہیں لگاتا،کوئی لیڈر منشیات اور کلاشنکوف کے خاتمے کو اپنے ایجنڈے میں قرار نہیں دیتا،  کوئی غیر معیاری نظام تعلیم کے خلاف لانگ مارچ نہیں کرتا، کوئی  انسانوں کو آلودہ غذا کھلانے، گندہ پانی  اور دودھ پلانے  کے خلاف دھرنا نہیں دیتا، کوئی دہشت گردی کی ٹریننگ دینے والے مدارس کے خلاف ہڑتال نہیں کرتا۔

اس ملک میں جس کے پاس پیسہ،منصب  یا اقتدار ہے وہ  کامیاب ہے، وہ جو چاہے کرلیتا ہے، وہ ائیر مارشل سے سیاسی رہنما بن جاتاہے، وہ چیف آف آرمی اسٹاف سے صدر پاکستان بن جاتا ہے، وہ  دہشت گرد اور نادہندہ  ہونے نیز جعلی اسناد کے باوجود اسمبلیوں میں پہنچ جاتاہے۔

یقین جانیے!پاکستان بننے کے بعد بھی پاکستان کا عام آدمی وہیں کھڑا ہے جہاں قیام پاکستان سے پہلے کھڑا تھا اورپاکستان میں ایک ایسے لیڈر کی جگہ آج بھی خالی ہے جو  فرقے کے بجائے اسلام کی بات کرے، جو صوبے کے بجائے ملک کی خاطر لڑے ، جو  تنقید کے بجائے تعمیر کر کے دکھائے، جو بھنگڑوں کے بجائے شعور عام کرے، جو کرسی کے بجائے انصاف کی خاطر اٹھے اور جو  اقتدار کے بجائے اقدار کی خاطر قربان ہوجائے۔ایک ایسے رہنما کی جگہ تو آج بھی خالی ہے ،اب دیکھنا یہ ہے کہ  کیا ہے کوئی جو اس خالی جگہ کو پر کر سکے!!!؟


تحریر۔۔۔نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے زیر اہتمام شہر قائد میں بڑھتی ہوئی شیعہ ٹارگٹ کلنگ و ملک بھر میں دہشتگردی کے سانحات کے خلاف کراچی سمیت صوبے بھر میں یوم سیاہ منایا گیا، اس سلسلے میں سندھ کے مختلف اضلاع کراچی،شکارپور،خیر پور، جیکب آباد،سجاول، بدین،لاڑکانہ،شہدادکوٹ میں بعد نماز جمعہ احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کیئے گئے،کراچی میں مرکزی احتجاجی مظاہرہ جامع مسجد نور ایمان ناظم آباد کے باہر کیا گیا، جبکہ جامع مسجد حیدری اورنگی ٹاو ن، جامع مسجد دربار حسینی برف خانہ ملیر، جامع مسجد ایم ایریا کورنگی و دیگر جامع مساجد کے باہر بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنماو ں مولانا مرزا یوسف حسین، مولانا مقصودعلی ڈومکی ،مولانا مبشر حسن، مولانا علی انور جعفری، مولانا نشان حیدر، مولانا صادق جعفری، مولانا احسان دانش، مولانا غلام محمد فاضلی، مولانا دوست علی سعیدی،مولانا محمد نقی حیدری، مولانا  اختر علی طاہری،مولانا محمد علی شر، مولانا مجاہد سعیدی،بشیر شاہ نقوی، مولانا نادر شاہ، مولانابہارمیمن،منور جعفری اور  دیگر علمائے کرام نے کہا کہ شہر میں بڑھتی ہوئی شیعہ ٹارگٹ کلنگ کراچی آپریشن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ناکام میں بدلنے اور امن و امان کی فضاءکو خراب کرنے کا باعث بن رہی ہے، شہر بھر میں ملت جعفریہ کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں میں اضافے کی بڑی وجہ کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے کھلے ہوئے دفاتر، جلسے، جلوس، سرگرمیاں اور عہدیداران و کارکنان کی آزادانہ فعالیت ہے، جس نے ایک طرف تو حکومت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور دوسری جانب دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔

 علمائے کرام نے کہا کہ آخر حکمرانوں و ریاستی اداروںکو کالعدم تنظیموں کی کھلے عام سرگرمیاں نظر نہیں آتیں، کیا وجہ ہے کہ اب بھی دہشتگرد عناصر کے حوالے سے اچھے اور برے کی تمیز باقی رکھی ہوئی ہے، آخر قانون و آئین سے بالاتر وہ کون سی قوت ہے، جو کالعدم دہشتگرد جماعتوں کے خلاف نتیجہ خیز کارروائیوں میں رکاوٹ کا باعث ہے، چند سیاسی فوائد کے حصول کی خاطر ملک دشمن عناصر کے ساتھ حکومت کی بے جا لچک نے آج ملک کے ہر شہری کو غیر محفوظ کر رکھا ہے، بلند و بانگ حکومتی دعوو ں کے کچھ ہی دیر بعد کوئی نیا سانحہ رونما معمول بن چکا ہے، ملک دشمن عناصر کے ساتھ لچک نے ملکی سالمیت و بقاءکو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ علمائے کرام نے مطالبہ سے کیا کہ سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر کراچی میں بڑھتی ہوئی شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا نوٹس لیں، دہشتگردی کے واقعات میں ملوث عناصرکو فوری گرفتار کیا جائے، کالعدم دہشتگرد تنظیموں، انکے سیاسی و مذہبی سہولت کاروں اور دہشتگردی میں ملوث نام نہاد مدارس کیخلاف مو ثر حکمت عملی کے تحت فیصلہ کن آپریشن کا آغاز کیا جائے، دہشتگرد عناصر کے بجائے محب وطن شیعہ مسلمانوں کی بلاجواز گرفتاریوں و اغوا کے سلسلے کو فی الفور بند کروایا جائے، دہشتگردی کی شکار ملت جعفریہ پر بیلنسنگ پالیسی کے ذریعے ستم توڑنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سنٹرل پنجاب کے تنظیمی دورے کے آخر ی روز آج(28جنوری) کو لاہور پہنچیں گے،وہ لاہور میں ورکرز اجلاس سے شاہدر اور غازی آباد میں خطاب کریں گے،علامہ راجہ ناصرعباس جعفری ایم ڈبلیوایم شعبہ خواتین ونگ کے زیر اہتمام تقریب سے ٹاون شپ میں بھی خطاب کریں گے،سہ پہر 4:30 بجے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صوبائی سیکرٹریٹ شادمان لاہور میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب اور ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے خصوصی ملاقات بھی کریں گے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کے زیر اہتمام پارہ چنار میں دھماکے اور کراچی میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف پرنس روڈ سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے اپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا , ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما اور امام جمعہ کوئٹہ علامہ ہاشم موسوی کہا کہ ایک سازش کے تحت پارہ چنار کی سر زمین کو لہولہان کرکے درجنوں کی تعداد میں نہتے عوام کو شہید اور زخمی کیا گیا حکومت کی جانب سے پارہ چنار کے عوام کو تحفظ اور طبی سہولیات فراہم کرنے میں مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے , لگتا ہے کہ حکومت پارہ چنار کے محب وطن  عوام کو  اپنا نہیں سمجھتی کیونکہ اپنوں کے لیے انسان کے دل میں درد ہوتا ہے لیکن حکمرانوں کے دل میں پارہ چنار کے عوام کے لئے کوئی درد نہیں پایا جاتا ۔ پارہ چنار  ایک حساس علاقہ ہے جو تین اطراف سے افغانستان میں گھرا ہوا ہے اور یہاں کے عوام کی اکثریت شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ مسلسل طالبان اور داعش جیسی عالمی دہشتگرد تنظیموں کے نشانے پر ہے اسی طرح  افغانستان میں انڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے را اور خاد بھی اسے پاکستان سے الگ کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں اور اس علاقے  کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

انہو ں نے مزید کہا کہ پارہ چنار کے  محب وطن غیور عوام نے صبر اور جرائت کا مظاہرہ کرتے ہوئے  ہمیشہ سے ان سازشوں کو از خود بغیر کسی امداد کے ناکام بنایا ہے یہ علاقہ اس سے پہلے بھی تقریباً پانچ سال تک تکفیری دہشتگردوں کے محاصرے میں رہا لیکن وہاں کی عوام نے بے مثال قربانیاں دے کر مادر وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کرتے ہوئے دہشت گردوں کو شکست دی ۔ افسوس کیساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اب سیکورٹی اداروں اور حکومت کی طرف سے ان کے قانونی دفاع کے آلات کو ان سے چھینا جا رہا ہے جس سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں وہاں کی عوام اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اس اقدام سے داعش , طالبان اور انڈیا کی طرف سے پارہ چنار میں ایک بڑے قتل عام کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے لہذا حکومت اور ادارے وہاں کے قبائل سے چھینے گئے دفاعی آلات جلد از جلد واپس کرتے ہوئے ان خدشات کا ازالہ کریں, اسی طرح کراچی میں مسلکی بنیادوں پر شروع ہونے والے ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کی جائے اور تکفیری دہشتگردوں کے خلاف بھر پور آپریشن کرکے انکا خاتمہ کیا جائے ۔

Page 8 of 143

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree