The Latest

ترکی اور شام کی سرحد کے قریب واقع ترک قصبے میں شامی سرحد سے فائر کئے گئے راکٹ سے پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد ترکی نے بھی جوابی کارروائی کے طور پر شامی علاقے میں کچھ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔۔
اطلاعات کے مطابق شامی سرحدسے فائر ہونے والے راکٹ سے ترکی میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ابھی یہ بات واضح نہیں کہ یہ گولے شامی افواج کی جانب سے فائر کئے گئے ہیں یا پھر شدت پسندوں کی جانب سے لیکن شام میں عسکری مداخلت کا بہانہ تلاس کرنے والی تمام قوتیں اس وقت اسے بہانہ بنارہی ہیں اور ایک بڑے حملہ کا سوچ رہی ہیں ترکی نیٹو کے معاہدے کے سبب نیٹونے فورا میٹنگ کال کی ہے جبکہ نیٹوکی میٹنگ کی کال کے جواب میں روس نے خبردار کیا ہے کہ بے بنیاد بہانوں سے شام میں مداخلت کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا
واضح رہے کہ شام میں داخل ہونے والے شدت پسندوں میں سے اکثر ترکی کی ٹرینگ کیمپس میں تربیت پاتے ہیں اور پھر ترکی انہیں شام تک پہنچنے کی پوری مدد فراہم کرتا ہے

mwm.larkana.womans29 ستمبر بروز ھفتہ مجلس وحدت مسلمین لاڑکانہ شعبہء خواتین کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی امام بارگاہ درگاہ جاڑل شاہ بخاری سے پریس کلب تک نکالی گئی۔ ریلی میں مومنات نے زینبیٔ کردار ادا کرتے ہوئے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

جامعہ ام المومنین خدیجۃ الکبریٔ کی پرنسیپال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسلام کا سب سے بڑا دشمن ہے، یہ توہین آمیز فلم بناکر رسولِ خدا ص کی شان میں گستاخی کرنا اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر امریکہ اس فلم سے لا تعلقی کا اظھار کرتا ہے تو اس فلم میں ملوّث لوگوں کو سزا کیوں نہیں دیتا۔ اس گھنونی حرکت کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ اور حکومت سے مظالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں ورنہ ہمارے یہ احتجاجات جاری رہیں گے۔ ہم حسینی ہیں اور حسینی کبھی بھی رسول اللہ ص کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔
مجلس وحدت مسلمین صوبہء سندھ کی مسعول خواھر سلمیٰ علوی نے خطاب کرتے ہوئے آمریکا کی اس گستاخانہ حرکت کی سخت لفطوں میں مذمت کی اور کہا کہ طاغوت نے ہم حسینیوں اور کنیزانِ زینبؑ کی غیرت کو للکارا ہے۔ سن لو یزیدیو ہم تمھاری کسی بات سے ڈرنے والے اور خاموش رہنے والے نہیں ہیں۔ ہم حق کی بات کرتے ہیں اور باطل کے دشمن ہیں۔
اے زرداری تو خود کو شیعہ کہلاتا ہے۔ شیعہ تو عاشقِ رسول ص ہوتا ہے، مگر تیری غیرت کہاں گئی؟ کیوں تم نے آمریکا سے اپنی یاری ختم نہیں کی۔ جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ اور پیپلز پارٹی حکومت اپنے اھلِ وطنوں سے غداری کرتی آئی ہے۔ شیعہ کی نسل کشی ہو رہی ہے، آئے روز درجنوں مومنین شھید کیے جا رہے ہیں۔ اے زرداری اس بار تو کس منہ سے ووٹ مانگے گا۔
اے حسینیو عہد کرو کہ کسی ظالم پارٹی کو ووٹ نہیں دینا، اس بار ووٹ بس حسینؑ کا ہے۔

ملی یکجہتی کونسل نے امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لیے 11 اور 12 نومبر کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں دو روزہ "اتحاد امت کانفرنس" منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس میں امام کعبہ سمیت مصر، ایران، سوڈان، لیبیا، تیونس، یمن کے دینی جماعتوں کی قیادت کو دعوت دی جائے گی۔ دعوت کی ذمہ داری ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ قاضی حسین احمد جبکہ کنونشن کے ناظم اعلیٰ کی ذمہ داری سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل حافظ حسین احمد کے سپرد کی گئی۔ ملکی تاریخ کے اس پہلے اجتماع میں تمام دینی جماعتیں، تمام مدارس اور مشائخ عظام شرکت کریں گے۔

ملی یکجہتی کونسل کے صدر سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ مختلف مسالک کے فروعی اختلاف کو کم کرنے اور قرآن اور صاحب قرآن کی توہین روکنے کے لیے پوری امت مسلمہ کو قدر مشترک اور درد مشترک پر جمع کیا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کونسل کے سیکرٹریٹ اسلام آباد میں میں ہونے والے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس کی صدارت قاضی حسین احمد نے کی۔ اجلاس میں علامہ سید ساجد علی نقوی، حافظ حسین احمد، ثاقب اکبر، علامہ اصغر عسکری، پیر عبد الشکور نقشبندی، ڈاکٹر عابد رؤف اورکزئی، مفتی امیر زیب، حافظ عبدالرحمن مکی، خالد محمود عباسی، آصف لقمان قاضی، نذیر احمد جنجوعہ، سید عزیر حامد شریک تھے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل و مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے بتایا کہ قاضی حسین احمد کی ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ امام کعبہ، موتمر عالم اسلامی، عرب لیگ، او آئی سی کے ذمہ داران سے رابطے کریں گے اور ان کو دو روزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دیں گے۔ حافظ حسین احمد اس پوری کانفرنس کے ناظم اعلیٰ ہوں گے اور وہ آج سے پاکستان کی مختلف جماعتوں، مدارس سے رابطے اور ملاقاتیں گے۔ اس سلسلے میں جمعرات سے لاہور میں ملاقاتوں کا شروع کر دیا جائے گا۔

شامی شہر حلب میں ہونے والےدہشت گردانہ بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ شامی سرکاری ذرائع نے 27 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے بقول ان سلسلہ وار دھماکوں میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد تقریباً سو ہے۔ آبزرویٹری نے مزید بتایا کہ چار بم دھماکوں میں ایک آفیسرز کلب اور ایک ہوٹل کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ حلب میں موجود ایک تنظیم کے مطابق یہ
خود کش حملے تھے۔
واضح رہے کہ شام میں دنیا بھر سے دہشت گرد تنظیموں کو جمع کیا گیا ہے تاکہ شامی اسرائیل مخالف حکومت کو گرایا جاسکے وزیرستان سے لیکر افریقہ اور یورپ تک دہشت گردوں کو امریکہ کی خفیہ ایجنسیاں اور بعض عرب ممالک جیسے قطر سعودی عرب اور ساتھ میں ترکی ان شدت پسندوں کو اکھٹا کرنے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان کی تاریخ ان میں سے کس ملک میں دہرائی جائی گی کیونکہ شام کے حالات کے کسی بھی کروٹ لینے کے بعد آستین کے سانپ کا اگلا نشانہ پالنے ولا ہی ہوتا ہے

mwm.musqمجلس وحدت مسلمین کے فلاحی ادارے خیر العمل فائونڈیشن کے زیر اہتمام ریان پورہ تحصیل فیروز آباد ضلع شیخوپورہ میں مسجد امام حسین (ع) کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ ضلع جعفر آباد میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیا گیا۔
اس تقریب مجلس وحدت پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی بھی شریک تھے نیز ضلعی عہدہ داران اور خیرالعمل فاونڈیشن کے سیکرٹریز بھی موجود تھے

ملی یکجہتی کونسل سندھ نے کراچی سمیت ملک میں ٹارگٹ کلنگ، شیعہ سنی کی بنیاد پر بے گناہ لوگوں کے قتل عام کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے حکومتی نااہلی، کراچی کا امن خراب کرنے اور اسے امریکی ایجنڈا قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو گرفتار، مقتولین کے ورثاء کو معاوضہ اور علماء کرام سمیت شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ یہ بات ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو اور جنرل سیکرٹری سینیٹر ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے قباء آڈیٹوریم میں ملاقات کے بعد میڈیا کو جاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہی۔ دونوں رہنماﺅں نے ملاقات میں ملک کی موجودہ صورتحال، باہمی امور اور خصوصاً کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، شیعہ سنی رہنماﺅں کے قتل اور امت کیخلاف ہونے والی سازشوں پر تبادلہ خیال کیا اور طے کیا کہ ملی یکجہتی کونسل امت کے اتحاد کو فروغ دینے کیلئے ایک موثر تنظیم ہے جس میں تمام مسالک کے علماء کرام و مشائخ شامل ہیں۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور سیکریٹری اطلاعات مجاہد چنا بھی موجود تھے۔

ملی یکجہتی کونسل سندھ کے رہنماﺅں نے شیعہ و سنی مسلک کے جوانوں و بزرگوں کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اسلام دشمن قوتوں کا ایجنڈا قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی مسلک کے نام پر امت کو تقسیم کرنے والی سازشوں کو اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام مسالک کے لوگ ایک دوسرے کا احترام اور بڑے عرصے سے اتحاد و یکجہتی کے ساتھ رہ رہے ہیں مگر منظم سازش کے ذریعے فرقہ واریت کو فروغ دیکر امت کے اتحاد کو پارہ پارہ اور ملک میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ رہنماﺅں نے زور دیا کہ حکومت مقتولین کو معاوضہ، قاتلوں کو گرفتار علماء کرام و شہریوں کو تحفظ فراہم کرکے امن و امان کی صورتحال یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے۔

balochitan.shia.killingمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی و مذہبی قوتوں کی باہمی مشاورت سے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے، شدت پسندی کے رحجان کو ختم کیے بغیر علاقہ میں امن کا قیام ممکن نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عسکری اور سیاسی قوتیں مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں

اسلام مخالف فلم کے خلاف مذہبی گروہوں کے احتجاج اورریلیوں میں جلانے کے لیے امریکی جھنڈوں کی مانگ میں اضافہ ہونے سے نوید حیدرکے پرنٹنگ کے کام کو چار چاند لگ گئے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ مہینے سے امریکہ میں بنائی جانے والی دل آزار فلم کے خلاف جاری مظاہروں میں اب تک کم از کم بیس افراد ہلاک جب کہ بڑے شہروں میں جلاؤ گھراؤ کےدوران سرکاری و نجی املاک کو بھی کروڑوں روپوں کا نقصان پہنچا ہے۔

تاہم اس نقصان سے ہٹ کر نوید کا کاروبارخوب چمک رہا ہے۔ وہ ان دنوں سیکڑوں کی تعداد میں امریکی جھنڈے بنا کر بیچ رہے ہیں، جنہیں غصے میں بپھرے مظاہرین ریلیوں میں نذر آتش کرتے ہیں۔

راولپنڈی کی ایک مخدوش عمارت میں واقع پینا فلکس پرنٹرز کے دفترمیں نوید ایک مینیجر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں فلم کے خلاف احتجاج شروع ہونے پرہی انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ گاہکوں کا رش بڑھنے والا ہے۔

سیاہی کی بھپکوں سے بھرے اپنے دفتر کے چھوٹے سے کمرے میں خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے نوید کا کہنا تھا کہ جب بھی اس قسم کے مظاہرے ہوتے ہیں ان کے کاروبار میں معمول سے دس گنا زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

سائز اور کوالٹی کے اعتبار سے یہ جھنڈے عموماً دو سو سے پندرہ سو پاکستانی روپے میں فروخت ہوتے ہیں۔

احتجاجی مظاہروں کی حالیہ لہرمیں نوید اپنے تیار کردہ امریکی جھنڈوں کی زبردست فروخت اور بعد ازاں ٹی وی پر مظاہروں میں ان کے نذر آتش ہونے کے مناظر سے خوش ہیں۔

پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافے سے جھنڈوں کے بازار میں بھی رش بڑھ جاتا ہے۔

جھنڈے فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان جذبات میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ عوامی رائے کے مطابق اب پاکستان کے روایتی حریف سمجھے جانے والے پڑوسی ملک ہندوستان کی جگہ امریکہ نے ‘دشمن نمبر ون’ کی جگہ لے لی ہے ۔

راولپنڈی کے ایک بازار میں جہاں گاہک امریکی جھنڈوں کی خریدای میں مصروف تھے، وہاں ایک جھنڈے فروخت کرنے والے دکان دار ندیم محمود شاہ نے بتایا کہ انہیں ہندوستان کے جھنڈے بیچے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہے۔

شاہ کی دکان میں تین گز لمبے اور چوڑے امریکی جھنڈے کی قیمت پندرہ سو پاکستانی روپے ہے۔ یہ جھنڈے اس ضمانت کے ساتھ فروخت کیے جاتے ہیں کہ اس کا کپڑا باآسانی آگ پکڑ لیتا ہے۔

واضح رہے کہ مظاہرین کی خواہش ہوتی ہے کہ انہیں ایسا جھنڈا دیا جائے جو باآسانی نذر آتش کیا جا سکے۔

ایک سی فوڈ ریستوان میں بطورویٹر کام کرنے والے عاصم کے خیال میں کسی بھی مظاہرے میں امریکی جھنڈے جلانا لازمی جزو ہے۔ عاصم رواں ماہ چار جھنڈے جلا چکے ہیں۔

بائیس سالہ عاصم کے مطابق انہیں امریکی جھنڈے جلانے سے خوشی ملتی ہے۔

‘ یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ اظہار کے کسی بھی دوسرے طریقے کی طرح یہ بھی جذبات کے اظہار کا ایک انداز ہے’۔

جھنڈے جلانے والوں میں سے اکثریت کا تعلق کسی نہ کسی سیاسی جماعت یا مذہبی گروہ سے ہوتا ہے۔

ملک کی ایک بڑی مذہبی تنظیم جماعت اسلامی کے اسلام آباد میں ایک عہدے دار ساجد عباس نے بتایا کہ ان کی تنظیم مظاہروں میں امریکہ اوراسرائیل کے جھنڈے فراہم کرتی ہے تاکہ ‘ ہم اپنا غصہ ریکارڈ کرواسکیں’۔

عباس نے بتایا کہ ان کے مختلف پرنٹرز کے ساتھ معاملات طے ہیں اور وہ ان پرنٹرز کو جھنڈے بنانے کے لیے کپڑا بھی فراہم کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور امریکہ کی جانب سے کالعدم قراردی جانے والی جماعت الدعوہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس مظاہروں میں استعمال کے غرض سے امریکہ اوراسرائیل کے جھنڈے بنانے کے لیے ایک ‘خصوصی ٹیم’ موجود ہے۔

اسلام آباد میں واقع تنظیم کے ایک عہدے دار آصف خورشید نے بتایا کہ اس طرح انہیں ایک جھنڈا پچاس سے ساٹھ روپے میں مل جاتا ہے۔

اسی طرح، حالیہ مظاہروں میں متحرک نظر آنے والی شیعہ تنظیم مجلس وحدت المسلمین اپنے طالب علم کارکنوں کے ذریعے پرنٹرز سے جھنڈے حاصل کرتی ہے۔

لاہور میں تنظیم کے ترجمان مظہر شگری کے مطابق اس طریقہ کار سے وہ ایک گھنٹے میں پانچ سو جھنڈے تک جمع کرلیتے ہیں۔شکریہ ڈان نیوز

یونان میں معاشی بدحالی کے بعد تارکین وطن پر حملوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور ان حملوں میں پاکستانی بھی نشانہ بن رہے ہیں۔
یونان میں پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار اور وہاں مقیم کئی پاکستانی یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ حملے دائیں بازو کی سخت گیر قوم پرست جماعت گولڈن ڈان کے حمایتی کرتے ہیں۔
اس جماعت کا یہ نعرہ ہے کہ یونان صرف یونانیوں کا ہے اور غیر ملکی وہاں سے باہر نکل جائیں۔
یونان میں تارکین وطن کی تعداد دس لاکھ ہے جن میں سے لگ بھگ ایک لاکھ پاکستانی ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو وہاں غیر قانونی طور پر رہتے ہیں۔
’پولیس تعاون نہیں کرتی، وہ رپورٹ درج نہیں کرتے اس کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کی رپورٹ ہی درج نہیں ہوتی ہے۔‘

گولڈن ڈان نے اس سال جون میں ہونے والے انتخابات میں چھ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے
جمال شاہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ چار مساجد پر بھی حملے کرنے کی کوشش کی گئی اور اگست کے اوائل میں منہاج القرآن کے مرکز اور مسجد کی دیواروں پر اسلام اور پیغمر اسلام کے بارے میں نازیبا الفاظ لکھے گئے تھے جس کے خلاف ہزاروں پاکستانیوں نے چوبیس اگست کو مظاہرہ بھی کیا تھا۔
اکثر پاکستانی یہی الزام لگاتے ہیں کہ یہ حملے گولڈن ڈان کے حمائیتی کرتے ہیں۔
اس سال جون میں یونان میں ہونے والے انتخابات میں دائیں بازوں کی سخت گیر جماعت گولڈن ڈان نے چھ اعشاریہ نو فیصد ووٹ حاصل کیےجس کی بنیاد پر انھیں تین سو کی پارلیمان میں اٹھارہ نشتیں ملیں۔
یونان میں پاکستان کے سفیر عرفان الرحمان راجہ کا کہنا ہے کہ یہ جماعت خود کو نیو نازی بھی کہتے ہیں اور یہ انھیں نظریات کی حامل ہے جو نازی جرمنی سے منسوب کیے جاتے ہیں۔
پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ نازی جرمنی کے نظریات پر چلتے ہوئے یہ بھی یہی نعرہ لگاتے ہیں کہ یونان صرف یونانیوں کا ہے اور غیر ملکیوں کو باہر نکالو۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی نصب العین کے تحت انھوں نے غیر ملکیوں پر سختی شروع کردی ہے۔
’مسئلہ یہ ہے کہ پولیس اور سیکرٹ سروس کے بہت سارے اراکین ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔جب کوئی واقعہ ہوتا ہے پولیس ایک تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے، یہ سب (تارکین وطن) کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے وہ زیادہ ٹارگٹ بنتے ہیں‘۔
پاکستانی سفیر عرفان الرحمان راجہ
"مسئلہ یہ ہے کہ پولیس اور سکرٹ سروس کے بہت سارے اراکین ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔جب کوئی واقعہ ہوتا ہے پولیس ایک تماشاہی کا کردار ادار کرتی ہے، یہ سب (تارکین وطن) کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے اسلیے وہ زیادہ ٹارگٹ بنتے ہیں"
پاکستانی سفیر عرفان الرحمان راجہ نے کہا کہ غیرملکیوں پر اگست کے اوائل سے حملے شروع ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ وہ حتمی طور پر نہیں بتاسکتے کہ کتنے پاکستانیوں پر حملے ہوئے البتہ ایک اندازے کے مطابق دو ماہ کے دوران پینتیسں سے چالیس پاکستانیوں پر حملے ہوئے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے تصدیق کی کہ پاکستانی اپنے وطن واپس جا رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی کی وجہ صرف حملے ہی نہیں بلکہ یونان کی خراب معاشی صورت حال بھی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دو ماہ کے دوران ان کے سفارتخانے نے واپس جانے والے ساڑھے تین سو پاکستانیوں کو پاس جاری کیے ہیں۔ (خبر ماخوز از بی بی سی اردو

mwm.mashhadسیکریٹری جنرل عقیل حسین خان کی خصوصی دعوت پر پاکستان سے آےَ وکلاء نے دفتر مجلس وحدت مسلمین شعبہ مشھد مقدس کا دورہ کیا۔جھان وکلاء کو مجلس وحد ت مسلمین کے اغراض و مقاصد اور اھداف کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
حجۃالاسلام عقیل حسین خان نے وکلاء کو پاکستان میں اور دوسرے ممالک میں مجلس وحدت مسلمین کی فعالیت کے بارے میں آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ الحمدللہ اس وقت مشھد مقدس کے ساتھ ساتھ قم المقدسہ ،سوریہ لبنان اور نجف اشرف کے علاوہ یورپ میں بھی مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ جات فعالیت انجام دے رہے ہیں۔اور بیرون ملک مقیم پاکستانی شیعہ حضرات سے مسلسل رابطہ میں ہیں اور ان کے مسائل اور انکے حل کے لئے کوشاں ہیں۔اسکے علاوہ محبت اور اخوت کے فروغ کے لئے سیمینار اور پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
وکلاء سے بات چیت کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین شعبہ مشھد کے ترجمان حجۃالاسلام۔۔۔۔عارف حسین تھہیم نے کہا ہمارا راستہ اہلبیت علیہم السلام کا راستہ ہے اور جب انسان اہلبیت کے راستہ پر آتا ہے تو اسے کامیابی ملتی ھے۔ آپ امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں آئے ہیں ۔یہاں خوش نصیب ہی آ سکتا ھے۔ ہم کو یہاں معرفت سے زیارت کرنی چاہیے اور معرفت یہ ہے کہ امام کی زیارت واجب الاطاعہ معصوم امام سمجھ کر کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں مومن میں تین خصلت ہونی چاہیں ۔ا۔اللہ ستارالعیوب ہے اور مومن میں بھی یہ خصلت ہونی چاہیے2۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ والی خصلت ہونی چاہیے ۔3۔مومن میں امام معصوم والی خصلت ۔کہ تمام مشکلات اور سختیوں میں صبر کرنا چاہیے کیونکہ کبھی سختیاں امتحان ہوتی ہیں جن سے گزر کر انسان کامیاب و کامران ہو سکتا ہے۔
پاکستان سے آئے ہوئے مہمان آقائی عقیل عباس صاحب نے پاکستان میں مجلس وحدت مسلمین کی فعالیت اور پاکستان کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔
وکلاء نے اپنے ایران اسلامی کے اس دورہ کو بڑا مفید قرار دیا اور کہا اس سے پہلے ہمیں اسلامی جمہوریہ ایران سے اتنی واقفیت نہیں تھی لیکن اب ہم مطمئن ہیں کہ دنیا کی کوئی طاقت ایران اسلامی کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔اس کے علاوہ وکلاء نے یہ عہد کیا کہ آیندہ ہم سےجتنا ممکن ہو سکا قوم و ملت کی خدمت کرینگے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree