Print this page

ملک میں قانون کی عملداری ہوتی تو آج کم سن زینب جنسی تشدد کا شکار نہ ہوتی، الیاس صدیقی

12 جنوری 2018

وحدت نیوز (گلگت) ملک میں قانون کی عملداری ہوتی تو آج کم سن زینب جنسی تشدد کا شکار نہ ہوتی۔یہ کوئی ایک واقعہ نہیں اس سے قبل جنسی تشدد کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن قاتل ہرمرتبہ سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ایک اسلامی ملک میں اس طرح کے واقعات کا پے درپے ہونا ریاست کیلئے شرمناک عمل ہے۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی نااہلی نے ملک کو بدترین مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔کرپٹ اور بدمعاش لوگ جب اقتدار سنبھالتے ہیں تو قانون پر عمل درآمد ختم ہوجاتا ہے اور قانون کی عملداری نہ ہونے سے جرائم پیشہ افراد حوصلہ مند ہوتے ہیں۔ملک میں انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے تو اس قسم کے واقعات رونما ہی نہ ہوتے۔قصور کی معصوم زینب کے دلسوز واقعے نے انسانیت کا سر شرم سے جھکادیا ہے۔

انہوں نے کہا پنجاب حکومت گڈگورننس کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ جرائم پنجاب میں رونما ہورہے ہیں اور ان جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کوئی وزیر یا ایم این اے کررہاہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی جائے اور ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو۔معصوم زینب کی عصمت دری اور قتل نے پنجاب حکومت کے منہ پر کالک مل دی ہے اور اس ظلم و بربریت پر احتجاج کرنے والوں کو گولیوں کا نشانہ بناکر پنجاب حکومت نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ظالموں کے ساتھ ہے۔

مماثل خبریں

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree