وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں قائد شہید علامہ سید عارف حسین حسینی پاکستان کے خمینی اور عظیم قائد تھے جنہوں نے دین اسلام کی انقلابی تعلیمات کی روشنی میں جدوجہد کی۔ آپ فکر خمینی رح کے مبلغ اور قوم کو سیدھی راہ دکھانے والے تھے۔

 قائد شہید علامہ عارف حسین حسینی کی 32 ویں برسی کے موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان ہر سال کی طرح اس عظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ملک گیر برسی کا اہتمام کر رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ قائد شہید کے پاکیزہ افکار و نظریات کی علمبردار جماعت ہے۔

 انہوں نےکہا کہ بزدل دشمن اس غلط فہمی کا شکار تھا کہ عارف حسین حسینی کے قتل سے ان کے انقلابی افکار ختم ہو جائیں گے مگر عارف حسینی آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ 32 سال بعد بھی کروڑوں پاکیزہ انسانوں کے دلوں میں عارف الحسینی آج بھی زندہ ہے حسینی افکار آج بھی باطل کے لئے موت کا پیغام ہے۔

انہوں نےکہا کہ سامراج دشمنی اسلام دشمن استکباری قوتوں کے مقابل ڈٹ جانا قوم میں شعور اور بصیرت ایجاد کرنا اور پھر ملت کو نظام ولایت و امامت سے متصل کرتے ہوئے نائب امام خمینی بت شکن کی اطاعت پر آمادہ کرنا قائد شہید کے عظیم اور ناقابل فراموش اقدامات تھے۔ آپ نے ضیائی آمریت کے ساتھ ساتھ آل سعود کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا عارف الحسینی صدیوں تک اپنے پاکیزہ افکار اور الہی تعلیمات کے ساتھ زندہ رہے گا ہم اپنے خدا سے عہد کرتے ہیں کہ اس عظیم قائد کی راہ اور الہی جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔

وحدت نیوز(آرٹیکل) پانچ اپریل 2020 کی تازہ رپورٹ کے مطابق ابتک دنیا بھر میں کرونا وائرس کی کنفرم تشخیص ہونے والوں کی تعداد بارہ لاکھ سے زیادہ (1,202,433) ہے اور مرنے والے پونے پینسٹھ ہزار (64,729) افراد۔ سب سے زیادہ متاثرین امریکا میں رپورٹ ہوئے جنکی تعداد 311301 افراد ہیں جبکہ سب سے زیادہ اموات اٹلی میں 15,362 افراد کی ہوئیں جہاں کنفرم وائرس لگنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار افراد سے زیادہ ہے۔ جبکہ اسپین میں ایک لاکھ پچیس ہزار کے قریب افراد میں وایریس کنفرم ہوچکا ہے جہاں بارہ ہزار کے قریب افراد اس وبا کی نذر ابتک ہوچکے ہیں۔ یورپ کی دیگر ترقی یافتہ ممالک میں سے جرمنی کے 86 ہزار کے قریب افراد میں وایریس کنفرم ہیں اور گیارہ سو سے زیادہ اموات ہوچکیں، فرانس میں ستر ہزار کے قریب پازیٹیو کیسز اور  ساڑھے سات ہزار اموات، برطانیہ کے اندر 42 ہزار کے قریب پازیٹیو کیسز اور چار ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ بیلجیئم ، سوئٹزرلینڈ ، نیدرلینڈز، پرتگال، آسٹریا، سوئیڈن، ناروے وغیرہ کے نمبر انکے بعد آتے ہیں۔

ایشین ممالک میں سب سے زیادہ وایریس کے مثبت کیسز ابتک چائینہ میں سامنے آئے ، جہان آفیشل فیگر تقریبا 83 ہزار کی ہے ابتک چائنہ میں 33 سو سے کچھ زیادہ اموات رپورٹ ہوچکیں۔ دوسرے نمبر پر ایران آتا ہے، جہاں 56 ہزار کے قریب افراد کے وایریس کے ٹیسٹ مثبت آئے اور ساڑھے 34 سو افراد کی اموات ہوئیں۔ ترکی تقریبا 24 ہزار مثبت کیسز  اور پانچ سو اموات کیساتھ تیسرے ، کوریا سوا دس ہزار مثبت کیسز اور پونے دو سو اموات کیساتھ چوتھے، جبکہ اسرائیل تقریبا 8 ہزار مثبت کیسز اور 43 اموات کیساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ ایشیائی ممالک میں ملائشیا، جاپان، فلپائن اور انڈیا کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے جہاں ابتک 28 سو کے قریب افراد کے مثبت ٹیسٹ رپورٹ آچکے اور 40 اموات ہوچکیں۔

براعظم جنوبی امریکہ کے ممالک میں مجموعی طور  پر اکیس ہزار افراد کے وایریس ٹیسٹ مثبت آئے اور سات سو افراد کی اموات ہوچکیں، اس میں سب سے زیادہ برازیل سے  نو سو مثبت کیسز اور ساڑھے تین سو اموات شامل ہیں۔ شمالی امریکی ممالک میں امریکا کے بعد کینیڈا 14 ہزار مثبت کیسز اور اڑھائی سو اموات کیساتھ دوسرے نمبر ہے۔ اوشین ممالک میں سے سب سے زیادہ آسٹریلیا کے اندر چھے ہزار مثبت کیسز رپورٹ ہوئے جہاں 34 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک ہزار مثبت کیسز کیساتھ نیوزی لینڈ دوسرے نمبر ہے۔ براعظم افریقہ کے مماک اس دوران دیگر ممالک کی نسبت محفوظ ہیں۔ مجموعی طور پر افریقی ممالک میں نو ہزار افراد کے وایریس ٹیسٹ مثبت آئے جبکہ چار سو کے قریب افراد ہی کیلئے یہ وبا جان لیوا ثابت ہوا۔

 مجموعی طور پر پوری دنیا میں 212929 افراد کرونا وایریس کا کنفرم شکار ہوچکنے کے بعد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

ان حقائق سے واضح ہے اس وقت تمام ترقی یافتہ سمجھے جانے والے ممالک اس وائرل وبا کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ تمام ٹیکنالوجی، سائنسی و اقتصادی ترقی، دوسرے غریب ممالک پر جمانے والے رعب و دبدبے کے باوجود جدید دنیا اس وایریس کے علاج میں ابتک ناکام، اور بڑے بڑے تحقیقی ادارے ویکسین کی تیاری میں شب و روز کوشاں ہیں۔ اقتصادی دنیا کے سب سے بڑے نام چائنہ کو تین ماہ لگے، تمام سماجی و اقتصادی اور تعلیمی دیگر سرگرمیوں سے ڈیڑھ ارب کی آبادی کو روک کر وائرل وبا کو پھیلنے سے روکنے میں بظاہر کامیابی مل سکی، جبکہ امریکا اور یورپ سمیت دیگر ممالک بھی چائینیز کے طریقہ کار کو اپنا کر اس وبا کی روک تھام کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ اربوں ڈالر تحقیقی و طبی اداروں، سیکیورٹی اور خوراک وغیرہ پر خرچ کرنے پر دنیا مجبور ہے تاکہ مزید لوگوں کو اسکا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔ اسلحہ فیکٹریوں، جنگی الات، فوجی مشقوں اور دیگر ممالک پر سبقت لیجانے کیلئے سالہا سال سے کئے جانیوالے اخراجات اسوقت کسی بھی ملک کے کام آنے سے قاصر ہے۔ بڑے ممالک تک کے طاقتور ترین شخصیات اور بزنس ٹائیکون اپنے تمام تر اختیارات اور مال و متاع کے باوجود اپنی صحت کیلیے فکر مند ہیں، انکے دولت و طاقت کی انبار کی بجائے احتیاطی تدابیر ہی انہیں اس جان لیوا مرض سے محفوظ رکھنے کا آسرا ثابت ہوچکا ہے۔ ایسے میں غریب ممالک کے عوام احتیاط نہ کرے تو اور کیا کرے! سو خدارا احتیاط کیجئے۔ اپنے ساتھ اپنے عزیزوں کیلئے احتیاط، ملک و قوم کیلئے اور عالم انسانیت کیلئے احتیاط۔۔۔۔


تحریر: شریف ولی کھرمنگی

وحدت نیوز (کوئٹہ) بسلسلہ ولادت با سعادت حضرت امام علی رضا علیہ السلام و بی بی فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ویڈیو کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس کا عنوان تھا انسانی فضائل و کمالات میں اہل بیت کا کردارکانفرنس سے پاکستان کے جید علماء کرام اور دانشور حضرات نے خطاب کیا۔ کانفرنس کے آغاز میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ قرآن کریم نے جن اعلیٰ انسانی اقدار اور اخلاق کا ذکر کیا ہے۔ اس کا عملی نمونہ اہل بیت رسول اللہ ص کا کردار ہے۔ آل محمد نے اپنے کریمانہ اخلاق اور کردار کے ذریعے لوگوں کو اعلی انسانی فضائل اور کمالات سے روشناس کرایا۔ آل محمد کے کردار میں علم و حلم سخاوت و شجاعت عفو و درگذر اور ایثار جیسی اعلی قدریں موجود ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی سیکرٹری جنرل اور رکن پنجاب اسمبلی محترمہ سیدہ زھراء نقوی نے کہا کہ امام علی رضا علیہ السلام اعلی کردار اور کریمانہ اخلاق کے مالک تھے۔ حضرت فاطمہ معصومہ ع کے کردار میں سیدہ کائنات خاتون جنت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے کردار کی خوشبو آتی ہے۔  

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے ممتاز عالم دین علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ اہل بیت اور قرآن کریم امت مسلمہ کے درمیان دوگرانقدر نعمتیں ہیں۔ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آخری خطاب میں فرمایا تھا کہ میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسرے اہل بیت اور یہ ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پہ آ کے مجھ سے ملیں۔ قرآن کریم نے جن  اعلی انسانی فضائل کا ذکر کیا ہے ان کا عملی نمونہ حضرت محمد مصطفی ص اور حضور کے اہل بیت کے کردار میں نظر آتا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہلسنت کے جید عالم دین مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا کہ امام علی رضا علیہ السلام اپنے دور کے بہت بڑے عالم دین اور عظیم مفسر قرآن اور محدث تھے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ثاقب اکبر نے کہا کہ امام عالی مقام سے نیشابور کے مقام پر مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے جو حدیث مبارکہ نقل کی ہے اسے سلسلہ الذھب کا نام دیا گیا۔

 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل خانہ فرھنگ کوئٹہ جناب سید حسین تقی زادہ واقفی نے کہا کہ امام علی رضا علیہ السلام کے ایام ولادت کو عشرہ کرامت کے طور پر منایا جاتا ہے جب کہ سیدہ فاطمہ معصومہ یوم ولادت پر پوری دنیا میں ڈاٹرز ڈے یعنی یوم دختر بیٹی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کانفرنس میں ممتاز عالم دین علامہ غلام حسنین وجدانی، پیر سید حبیب اللہ شاہ چشتی، کونسل جنرل آقائے درویش وند نے خصوصی شرکت کی۔ جبکہ معروف شاعر جناب ظفر عباس ظفر نے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

وحدت نیوز (پشاور) مجلس وحدت مسلمین صوبہ خیبر پختونخوا کے سیکریٹری جنرل علامہ سید وحید عباس کاظمی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ درحقیقت دہشتگردوں نے ایک مرتبہ پھر حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، وہاں کی معاشی سرگرمیوں کے مرکز کو نشانہ بنانے کا مقصد دہشتگردوں کی جانب سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ انہوں نے کوئی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ حکومتی وزراء کے مطابق اس کارروائی میں ہندوستانی ہاتھ ملوث ہوسکتا ہے اور درحقیقت اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری فورسز نے دہشتگردوں کے اس حملہ کو ناکام بنایا، جانی نقصان پر ہمیں بہت افسوس ہے، لیکن حکومت کو اس حوالے سے چوکنا رہنا ہوگا۔ ابھی ملک کورونا کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں دہشتگردوں کا دوبارہ سر اٹھانا خطرناک ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض نادیدہ قوتوں کی کوشش ہے کہ ملک میں کسی نہ کسی طرح افراتفری پھیلائی جائے، ملک میں دہشتگرد اور فرقہ پرست ایک مرتبہ پھر منظم ہوتے نظر آرہے ہیں۔ حکومت کو ایسے عناصر پر نظر رکھنی چاہیئے کہ کونسے ایسے عناصر ہیں، جو ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ حکومت کی جانب سے اب تک اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پاکستان میں فرقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام مختلف فورمز پر ایک ساتھ ہیں اور ان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن اصل ذمہ داری حکومت کی ہے، اگر حکومت نے ڈھیل دی تو حالات خراب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بالشخیل مسئلے کا واحد حل کاغذات مال کی روح کے مطابق زمینوں کی تقسیم ہے، ہمارے لوگ تو عرصہ دراز سے کہہ رہے کہ کاغذات مال کے مطابق اس مسئلہ کو حل کیا جائے۔ ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کسی اور کی زمین ہمارے لوگوں کو دی جائے، نہ ہی ہمارے لوگ ایسا چاہتے ہیں، بلکہ جو جس کا حق ہے، اسے دیا جائے۔ قبائل کے مزاج سے آپ واقف ہیں، وہ اپنا حق کسی کو نہیں چھیننے دیتے۔ طوری قبائل کی زمینیں کاغذات مال کے مطابق ان کے حوالے کی جائیں اور یہی اس کا پرامن حل ہے۔ مقامی سول اور عسکری انتظامیہ اس حوالے سے اپنا رول ادا کرے اور جتنا جلدی ممکن ہو، حقداروں کو ان کا حق دیا جائے۔ اس حوالے سے ہمارے مقامی قائدین بھی گاہے بگاہے حکومت کو متوجہ کرتے رہے ہیں، گذشتہ دنوں پاراچنار میں دھماکہ ہوا اور زمین کا مسئلہ۔ پاراچنار کے لوگوں کو شدید تشویش ہے، وہ پریشان ہیں کہ کیونکہ ان پر دوبارہ زمین تنگ کی جا رہی ہے۔

وحدت نیوز(کراچی)شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے سیکریٹری مالیات، تنظیم عزاداری پاکستان کے جوائنٹ سیکریٹری اور انجمن امامیہ ملیر کے جنرل سیکریٹری حکیم سیدمسلم رضا عابدی انتقال کرگئے۔ مرحوم شیعہ قومیات میں انتہائی فعال شخصیت تھے، ان کی دینی وملی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اس المناک واقعے پرمجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل علامہ صادق جعفری نے کہا ہے کہ حکیم سید مسلم رضا عابدی کی رحلت پر اہل خانہ اور لواحقین کو تعزیت پیش کرتے ہیں، دکھ کی اس گھڑی میں اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، خداوند متعال سے دعاگو ہیں کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔

وحدت نیوز(کراچی) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علی حسین نقوی اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کے الیکٹرک" کراچی میں اجارہ داری اور غنڈہ گردی کی علامت بن چکا ہے۔عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کی بجائے آئے روز ایک نئی مشکل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔کے الیکٹرک نے شہر 550 میگا واٹ کا شاٹ فالٹ بتا کر عوام کو بے وقوف بنایا ہے اور شہر کی عوام سے کھربوں روپے کمائے ہیں قومی احتساب بیورو اس کی تحقیقات کرے ۔دوسری جانب وزارت توانائی، بجلی کے اس بحران کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو ٹہراتی ہے جبکہ کے الیکٹرک اپنے ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے فرنس آئل کی کمی کو بنیاد بتا کرپوری صفائی سے خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ اپنے مدعا کس کے سامنے پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کے الیکٹرک ایک خود سر ادارہ ہے جو حکومت سمیت کسی کا بھی حکم ماننے کو تیار نہیں۔عوام کو ایک ایسے منہ زور مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو جب دل چاہے بجلی بند کر دے اور جتنی رقم چاہے عوام کے بلوں میں ڈال دے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے کے الیکٹرک کو لگام نہ دی تو پھر عوام گھروں سے باہر نکل کر احتجاجی مظاہروں سمیت تمام قانونی و آئینی آپشنز کواستعمال کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کے الیکٹرک اپنے نظام کو اپ گریڈ کرے تاکہ بجلی کی طلب و رسد میں توازن پیدا کیا جا سکے۔اس ادارے کو چاہیے کہ وہ اپنی ملازمین کی اخلاقی تربیت پر زور دیتے ہوئے انہیں یہ باور کرائیں کہ ان کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے ۔اپنے کردار و عمل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش ہر گز نہ کی جائے کہ کے الیکٹرک عوام پر اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔

انہوں نے کہا صوبائی حکومت کی غیر ضروری لچک نے کے الیکٹرک کے من مانی کرنے والے افسران کے حوصلے بلند کر رکھے ہیں۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ صوبائی حکومت کی کون سی دکھتی رگ کے الیکٹرک کے ہاتھ میں ہے جس کی وجہ سے حکومت نے کے الیکٹرک کی زیادتیوں کے باوجود خود پرخاموشی طاری کر رکھی ہے۔وفاقی اور صوبائی اگر عوامی مسائل کو اسی طرح نظر انداز کرتی رہیں تو پھر ملک بھر کے عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر ہوں گے۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکٹرک کی نا انصافیوں کے خلاف سختی سے نوٹس لیتے ہوئے عوامی مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔وفاقی حکومت میں موجود کالی بھیڑیں چینی بحران سمیت پیٹرول بحران میں ملوث ہیں حالیہ پیڑول کی قیمتوں میں رات و رات اضافہ کر کے عوام پر پیڑول بم گرایا دوسری جانب کے الیکٹرک کو فرنس آئل کی فراہمی کی مد میں کھربوں روپے منافع پہچایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کے اس مافیا کے پیچھے وفاقی و صوبائی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ان کالی بھڑوں کو آشکار کیا جائے ۔کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف نیب انکائری کا مطالبہ کرتے ہیں ۔گزشتہ سالوں میں کے الیکٹرک کی لاپر واہی سے جاں بحق ہونے والے شہریوں کے اہل خانہ کو عدالتی فیصلے کے باوجود انصاف نہ نہیں ملا کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ نا اہل انتظامیہ کے ذمہ داروں کو فوری گرفتار کیا جائے۔

آخر میں ہم آج پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردی ملکی معیشت حملہ ہےپاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشتگردی میں بھارتی نمک خوار دہشتگرد ملوث ہیں حکومت کو دہشتگردوں کے خلاف سابقہ کامیاب کاروائیوں کی طرح سخت آپریشن کاسلسلہ جاری رکھنا ہوگا۔حملے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ کے درد میں شریک غم ہیں۔سیکورٹی اہلکاروں کی موثر کاروائی کے نتیجے میں پاکستان دشمن عناصر کو ناکامی ہوئی دہشتگردی کے واقعے میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی ہےواقعے میں زخمی سیکورٹی اہلکاروں کی جلد از جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں۔کانفرنس میں کراچی ڈویژن کے سیکرٹری جنرل صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، میر تقی ظفر، زین رضوی، سبط اصغر، احسن عباس، حسن رضا سمیت دیگر موجود تھے۔

Page 1 of 1503

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree