وحدت نیوز (جیکب آباد) حکیم الامت مصور پاکستان حضرت علامہ اقبال رح کے 82 ویں یوم وفات کے موقع پر مدرسہ خاتم النبیین ص میں منعقدہ درسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ علامہ اقبال رح نے برصغیر کے مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا اور انہیں انگریزوں اور ہندووں کی غلامی سے نکال کر ایک ایسی آزاد اور خودمختار مملکت کا خواب دکھایا جو اسلام کے زریں اصولوں پر عمل پیرا ہو۔

 علامہ اقبال رح نے امت مسلمہ کو قرآن کریم کی روشن تعلیمات سے روشناس کراتے ہوئے عالم مغرب اور سامراجی طاقتوں کے منحوس عزائم کو بے نقاب کیا۔ پاکستان کی سربلندی کے لئے ضروری ہے کہ اسے افکار اقبال کی روشنی میں چلایا جائے۔ علامہ اقبال رح کے افکار کو وطن پاکستان کے آئین اور دستور کا درجہ ملنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اس قوم کے محسن ہیں ان کے افکار تعلیمات ہمارے لئے رہنما اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ حکیم الامت کے یوم وفات پر ان سے عہد کرتے ہیں کہ جس پاکستان کا خواب انہوں نے دیکھا تھا اسے شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے ایک آزاد خودمختار خوشحال پاکستان تعمیر کریں گے۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ رمضان المبارک رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا مہینہ ہے۔امت مسلمہ اپنے نفس کی پاکیزگی کے لیے اس ماہ میں عبادات کاخصوصی اہتمام کرتی ہے اس لیے سارا سال اس مقدس ماہ کا انتظار رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بار رمضان المبارک ایسی آزمائش کی گھڑی میں آ رہاہے جس میں ہماری ذمہ داریاں اور واجبات پہلے سے سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئے ہیں۔لاک ڈاؤن کے باعث نادار اور مفلس افراد کو گھریلو مشکلات کا سامنا ہے۔ایسے گھرانے جو تنگدستی میں گزر بسر کر رہے ہیں انہیں ضروریات زندگی کی اشیا مہیا کر کے رمضان میں دہرا ثواب کمایا جا سکتا ہے۔ہر صاحب استطاعت کو چاہیے کہ وہ اپنے گرد و نواح میں ایسے گھرانوں کو نظر میں رکھے ۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اس سے بچاؤ کا واحد حل احتیاط ہے۔ ہمیں باہمی رابطوں میں ان ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے جن کی طبی ماہرین باربار تاکید کر رہے ہیں۔عبادات اور مذہبی رسومات پر عمل ہمارے ایمان کا حصہ ہے تاہم جب انسانی زندگی کو خطرہ ہو تو مذہبی معاملات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لچک اور گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان میں عبادات اور عزاداری کے پروگراموں کے دوران کورونا سے بچاؤ کی تدابیر پر عمل کر کے اپنے آپ اور دوسروں کو اس جان لیوا مرض سے بچایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کورونا سے بچاؤ کے لئے حکومتی اقدامات کی پیروی کو تمام مراجع عظام نے واجب قرار دے رکھا ہے۔ اس سلسلہ میں ملت تشیع کی کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے۔رمضان المبارک کے دوران سیکورٹی کے معاملات بھی غیرمعمولی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ہمارے ملک کو ایک ہی وقت میں بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وطن عزیز میں موجود منفی عناصر شرپسندی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ایسی صورتحال میں سیکورٹی اداروں کو چوکس رہنا ہو گا۔

وحدت نیوز(گلگت)مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے ترجمان و سابق چیئرمین بلدیہ گلگت محمد الیاس صدیقی نے کہا ہے کہ ایک طرف کرونا وائرس کی وجہ سے پورے جی بی میں لاک ڈاؤن ہے، مگر لاک ڈاؤن کی آڑ میں کرپشن اور من پسند لوگوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے، گذشتہ روز محکمہ برقیات میں من پسند ٹھیکیداروں کو پری کرکے 43 کروڑ کا ٹھیکہ 64 کروڑ میں دیا گیا ہے جبکہ محکمہ ورکس میں بھی اسی طرح من پسند لوگوں کو نوازنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ چیف سیکرٹری صورتحال کا نوٹس لیں اور مذکورہ ٹھیکوں کے ٹینڈر کو منسوخ کریں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکمران فنڈز کمی کا رونا روتے ہیں تو دوسری طرف من پسند لوگوں کو نوازنے کیلئے کروڑوں کے ٹھیکے دیئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی دو ماہ کی باقی مدت میں کرپشن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پیسے بٹورنے کے چکر میں ہیں، جبکہ عوام صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے اضلاع سے علاج کی غرض سے گلگت کا رخ کر رہے ہیں، گلگت کے ہسپتالوں کی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت گلگت شہر اور دیگر اضلاع کے ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے کی بجائے پلوں کا ٹینڈر کروا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی ترجیحات میں عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا شامل ہی نہیں بلکہ حکمران ترجیحات میں زیادہ زیادہ مال بنانا ہے۔

وحدت نیوز(لاہور)میں خداوند متعال سے دعا گو ہوں کہ آپ دوستوں پر رحمت کا سایہ رکھے اور آپ اپنی تمام تر صلاحیتیں دین مبین دین اسلام اور پاکستانیوںکی بہتری اور خوشحالی کے لیے استعمال کر رہے ہوں گے کیونکہ خداوند متعال نے آپ کو اہم منصب سے نوازا ہے اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ آپ اپنے منصب سے ناانصافی نہیں کریں گے۔    

محترم صاحبان ! ملکی حالات کی وجہ سے کافی عرصہ سے خاموش تھا اور اس بحث کو شروع نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جب آج چیزیں حد سے بڑھ گئیں اور مجھ سے صبر نہیں ہو رہا لہٰذا میں نے ضروری سمجھا کہ آپ کو ان چیزوں کی طرف متوجہ کیا جائے تاکہ کوئی داد رسی ہو جائے میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ مختلف ممالک سے لوگوں کو اپنے ملک واپس آنے کی اجازت دے دی ہے اور لوگ اب دیگر ممالک سے پاکستان آ سکیں گے میں ان تمام پاکستانیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے پاکستان واپسی پر خوش آمدید کہتا ہوں اور اس بات پر بھی مسرت کا اظہار کروں گا کہ ان کو کورنٹائن سینٹرز کے بجائے ہوٹل میں لے جایا جائے گا اور وہاں پر ہی ان کے ٹیسٹ ہوں گے اور دو دن کے اندر اندر جن میں ٹیسٹ منفی آجائے گا ان کو گھروں میں بھجوا دیا جائے گا یہ بہت ہی خوبصورت تجویز ہے اس طرح بیماری سے بھی محفوظ رہا جا سکے گا اور حکومتی وسائل اور مشینری پر بھی بوجھ کم سے کم آئے گا میں اس سارے عمل کو سراہتا ہوں اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایک شخص جہاز میں آئے گا یا دو سو تین سو افراد جہاز میں اکٹھے آئیں گے، اگر اکٹھے آئیں گے تو کیا ایک سے دوسرا بندہ انفیکٹڈ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ ابھی تک جو سٹڈیز کرونا پر ہوئے ان کے مطابق تو انفیکٹڈ ہونا ممکن ہے۔    

محترم صاحبان! پاکستان میں جب ایران سے زائرین آئے تو ملک کے اندر ایک شور مچا کے ایران سے کرونا پاکستان آیا اور پاکستان کے حکومتی آفیشلز سیاستدان اور میڈیا نے اس پر اپنے اپنے مزاج کے مطابق بیانات جاری کیے لیکن ہماری طرف سے برداشت کیا گیا اور ہم نے اخلاقی طریقہ سے اس کو روکنے کی کوشش کی خداوندمتعال نے بھی مدد کی اور تبلیغی جماعت کے کیسز آنے شروع ہو گئے اگرچہ ہم ان کے لئے بھی دعا گو ہیں ہم ان کا بھی احترام کرتے ہیں لیکن ان کے دفاع کے لیے سپیکر پنجاب اسمبلی کھل کر سامنے آئے اور وزیراعلی نے بھی خصوصی ہدایات جاری کر دیں ہم نے بھی خاموشی کو ہی بہتر جانا اور فرقہ پرست عناصر کی اس سازش کو ناکام بنایا۔    

جناب عالیٰ! بات یہ ہے کہ جب ایران سے زائرین پاکستان آئے تو یہ شورشرابہ بھی مچایا کہ ایران نے توز بردستی ان کو ایران سے نکال دیا جب کہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کی یہ پالیسی ہرگز نہ تھی لوگ جو کہ پاکستانی تھے اور اپنے ملک میں آنا چاہتے تھے جو ان کا بنیادی حق ہے۔لیکن جناب حکومت میں موجود چند عناصر کی نااہلی کی وجہ سے تفتان بارڈر کو مینج نہ کیا  اور ان کو نہ تو SOPs کے مطابق کورنٹائن کیا گیا اور نہ ہی ان کو گھروں میں بھجوایا گیا نتیجہ کچھ لوگ انفیکٹڈ ہوگئے اگر وہاں پر بھی دو دن رکھ کر منفی ٹیسٹ والے کو گھر بھجوا دیا جاتا تو یہ ایشو نہ بنتا اور ملک میں فرقہ وارانہ عناصر کو موقع سے فائدہ نہ اٹھانے دیا جاتا۔    

اس کے بعد ہوا یہ کہ جناب ان کوصوبائی ہیڈکوارٹرز میں کورنٹائن کیاگیابیس دن تفتان بٹھانے کے بعد ان کو پھرلاک اپ کر دیا گیا اور ان کے پہلی دفعہ ٹیسٹ ہوئے اب ہمیں تو SOPs بتائے گئے اور جن پر عمل بھی کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ تفتان میں زائرین کے ٹیسٹ نہیں ہوئے جبکہ ان زائرین کے پاس ایران کی ٹیسٹ رپورٹ بھی موجود تھی جن میں اکثریت کے پاس نیگیٹیو رپورٹ تھی جب دوبارہ ٹیسٹ لئے گئے تو مثبت آئے ان کو الگ کر دیا گیا اور نیگٹیو افراد کو کہا گیا کہ آپ کو ابھی 14 دن دوبارہ پورے کرنے ہیں 14 دن بعد دوبارہ ٹیسٹ ہوں گے اب دوبارہ ٹیسٹ میں کوئی پازیٹیو آگیا تو بھی اگلے 14 دن اور اگر کوئی پازیٹیو نہیں آیا تو پھر گھروں کو بھجوا دیا گیا لیکن یہاں ایک اور کہانی شروع ہوگئی ان کے گھروں کے باہر نوٹس آویزاں کئے گئے اور ان سے ایک ایک لاکھ کا شورٹی بانڈ لیا گیا کہ وہ گھر میں رہیں گے اور اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے جبکہ گھر کے باہر دو پولیس مین کی ڈیوٹی لگادی گئی حکومت میں موجود چند عناصر کی نااہلی کی وجہ سے کورنٹائن سنٹرز وائرس پروڈکشن سنٹرز بن گئے۔    

صاحبان! اب آخر میں بس یہ وضاحت چاہتا ہوں کہ حکومت کا ڈبل سٹینڈرڈ کیوں؟    

اگر زائرین کو کورنٹائن سنٹر میں رکھا گیا تو دوسرے ممالک سے آنے والے ہوٹلوں میں کیوں؟    

اگر زائرین کو 14 14 دن کے تین سے چار کورنٹائن پیریڈ پورے کرنے ہیں تو یہ آنے والے افراد 14 دن کا ایک کورنٹائن بھی پورا نہیں کریں گے اور دو سے تین دن میں اپنے گھروں میں چلے جائیں گے اور کوئی پہرابھی نہیں۔کیا ہم پاکستان میں سیکنڈ سٹینڈرڈ ہیں؟ کیا یہ ریاست کی پالیسی ہے؟ یا ریاست میں موجود متعصب فرقہ وارانہ عناصر اپنی گیم کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں؟۔کیا وائرس کی مختلف اقسام ہیں؟جو افراد کو دیکھ کے ظاہر ہوتی ہیں اور افراد کے بدلنے سے سٹینڈرڈ بدل جاتے ہیںSOPs تبدیل ہو سکتے ہیں۔    

آخر میں میرا مطالبہ ہے کہ سارے عمل کی افواج پاکستان اور سول ایجنسیز کے معزز اور غیر متعصب نیک اور دیانتدار افسران سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ہزاروں زائرین امام حسینؑ سے ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ ہوسکے ورنہ یہ حقائق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ناسور بن جائیں گے اور فرقہ پرست متعصب شدت پسند پاکستان مخالف دشمنوں کے اعلی کار اپنے مذموم مقاصد حاصل کرلیں گے اور ملک کو ایک دفعہ پھر فرقہ ورانہ جنگ میں دھکیل دیں گے۔

انصاف کا طالب
ڈاکٹر افتخار حسین نقوی
ڈائریکٹر پنجاب المجلس ڈیزاسٹرمنیجمنٹ سیل
ڈپٹی سیکریٹری جنرل
مجلس وحدت مسلمین پنجاب

وحدت نیوز(حیدرآباد)المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل حیدرآباد کی اب تک کارکردگی رپورٹ کے حوالے سے سیکریٹری جنرل ضلع حیدرباد ایڈوکیٹ رحمان رضا اور انچارج  سیل سید صفدر عباس عابدی کی قیادت میں میٹینگ ہوئی جس میں یونٹ 10 لطیف آباد کے ڈپٹی سیکریٹری سید وسیم رضوی کوضلع حیدرآباد کی المجلس ڈزاسٹر مینجمنٹ سیل میں ممبر کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاہ ضلعی شوریٰ کا اجلاس بلوانے کا اعلان کردیا ہے۔تمام یونٹس کے ذریعہ سے مستحق گھرانوں میں راشن تقسیم کیا جائیگا۔

کرونا سے اموات کی صورت میں غسل، کفن اور تدفیں کا بندوبست کرنے کے لیئے المجلس کی ٹیم تشکیل دی گئی ہےجو کہ مولانا عمران علی جعفری کی رہنمائی میں کام کریگی. اور مستحق کے لیئے کفن کا بندوبست بھی تنظیم کی طرف سے کیا جائیگاجبکہ اسپتالوں میں مریضوں کے تیمارداروں اور مسافروں کے لیئے نیاز کی صورت میں کھانا تقسیم کیا جائیگا۔

وحدت نیوز(ملتان) مجلس وحدت مسلمین کے ذیلی ادارے المجلس ڈیزاسٹر منیجمنٹ سیل کے پلیٹ فارم سے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں ہزاروں افراد میں راشن بیگ، ماسک گلوز تقسیم کیے گئے اس کے علاوہ مختلف مساجد اور امام بارگاہوں میں جراثیم کش اسپرے بھی کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے ملتان سے جاری بیان میں کیا۔

ملتان سے جاری بیان میں علامہ اقتدار نقوی کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں المجلس ڈیزاسٹر منیجمنٹ سیل کے پلیٹ فارم سے لاک ڈائون سے متاثرہ غریب، نادار، مستحق اور سفید پوش خاندانوں کی مدد کا سلسلہ جاری ہے۔ علامہ اقتدار نقوی نے کہا کہ ملک بھر میں پانچ ہزار سے زائد والنٹیئر مشکل کی اس گھڑی میں قوم کی مدد کررہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت تک ساٹھ ہزار سے زیادہ خاندانوں میں راشن تقسیم کیا جا چکا ہے، اُنہوں نے مزید کہا کہ انشاء اللہ ماہ رمضان میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ 

Page 17 of 1504

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree