The Latest

DUAEARFAمجلس وحدت مسلمین لاہور کے زیر اہتمام دعائے عرفہ کا اجتماع بیکھے وال موڑ گلشن زہراؑ میں منعقد ہوا جس میں لاہور بھر سے کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ دعائیہ اجتماع میں تمام مکاتب فکر کے لوگ شریک تھے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے دعائے عرفہ کی تلاوت کی۔ اجتماع کے موقع پر روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے۔ ہر مسلمان اشک بار آنکھوں سے اللہ رب العزت سے اپنے گناہوں کی بخشش اور وطن عزیز پاکستان اور مسلمانوں خصوصاَکشمیر اور فلسطین کے حق میں خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
دعائیہ اجتما ع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ امین شہید ی نے کہا کہ مسلمانوں کی تمام مشکلات کا حل صرف اور صرف خدا بزرگ و برتر سے مضبوط روابط اور اس رب کریم کے سامنے جھکنے سے ہی ہو گا۔ استعماری طاقتیں مسلمانوں سے خوف زدہ ہی اسی لئے ہیں کہ مسلمان خدا کے سوا کسی کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ ہم سے یہی طاقت یعنی دعا اور مناجات کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم میں سے ہر مسلمان کو چاہیے کہ ایسے اجتماعات زیادہ سے زیادہ منعقد کریں اور لوگوں کو قرب الہیٰ کی دعوت دی

ایران نے ائیر ٹیکسی کا آغاز کردیا

ایران نے اپنے صوبے آذربائجان سے دیگر شہروں اور دیہاتوں کے لئے ائیرٹیکسی کا آغاز کیا یہ ائیر ٹیکسی دن میں کئی بار انتہائی سستے کرائے پر مختلف شہروں اور دیہاتوں کے درمیان رفت وآمد کرے گی 
ایرانی آذربائجان صوبے کے گورنر کا کہنا تھا کہ عنقریب اس ائیر ٹیکسی کے دائرہ کار کو بڑھادیا جائے گا انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ائیرٹیکسی میں پرائیوٹ سیکٹر کے لئے سرمایہ کاری کا مواقع موجود ہیں اور ان کے تعاون سے اس انتہائی سستی ائیرٹیکسی کو دیگر شہروں اور دیہاتوں تک پھیلانے میں مدد ملے گی 
یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد سرویس ہوگی جو اس وقت کسی بھی ایشائی ملک میں موجود نہیں جبکہ کے صرف چند ایک ممالک میں محدود پیمانے پر ائیرٹیکسی اور چاٹر طیاروں کا روحجان موجود ہے

افغانستان میں نماز عید کے اجتماع میں خودکش حملے میں کم از کم 37 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں صوبائی پولیس چیف عبدالخالق اقصائی بھی شامل ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شمالی افغانستان کے صوبے فریاب کے شہر میمنہ میں خودکش حملہ آور نے نماز عید کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 37 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہوگئے۔ صوبہ فریاب کے ڈپٹی گورنر عبدالستار باریز کے مطابق شہر کی مرکزی مسجد میں جیسے ہی نماز عید ختم ہوئی نامعلوم خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

ہلاک ہونے والوں میں عام شہری، پولیس و انٹیلی جنس اہلکار شامل ہیں۔ فوری طور پر کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ 2001ء میں افغانستان میں امریکی جارحیت اور طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد طالبان نے ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر توجہ مرکوز کرلی تھی اور شمالی علاقہ نسبتاً پرامن تصور کیا جاتا تھا، تاہم انہوں نے اب شمالی علاقوں میں بھی اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

raza taqvi1مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن ڈسٹرکٹ ملیر کی جانب سے مرکز سے موصول شدہ ہدایات کی روشنی میں 15 تا 25 اکتوبر عشرہ ناموسِ رسالت (ص) کا انعقاد کیا گیا۔ اس حوالے سے ضلع کے مختلف یونٹس میں مجالس کے پروگرام منعقد کئے گئے۔ کھوکراپار یونٹ، جعفر طیار یونٹ، اسٹیل ٹاؤن یونٹ، کورنگی یونٹ، حسین آباد یونٹ، فیوچر کالونی یونٹ اور غازی ٹاؤن یونٹ میں مجالس اور دروس کے پروگرام منعقد کئے گئے جس میں مختلف علمائے کرام اور سینئر تنظیمی ساتھیوں نے خطاب فرمایا اور شہید ناموس رسالت (ص) سید علی رضا تقوی کی عظیم شہادت کے فلسفے پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ 19 اکتوبر کو مرکزی امام بارگاہ جعفر طیار سوسائٹی سے موٹر سائیکل ریلی بعنوان ’’ لبیک یا رسول اللہ (ص) ریلی ‘‘ نکالی گئی جو ضلع بھر کا گشت کرنے کے بعد واپس مرکزی امام بارگاہ جعفر طیار سوسائٹی پر آکر اختتام پذیر ہوئی۔

Dua.arafa.mwmمجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ملک کے تمام چھوبڑے شہروں اور دیہاتوں میں آج یوم عرفہ کے دن سید الشہداء ،نواسہ رسول حضرت امام حسین ع کی تعلیم دی گئی دعاعرفہ کی اجتماعی تلاوت کا اہتمام کیا ہے 
اس نورانی اور پر فیض دعاکے بڑے اجتماع کراچی ،لاہور، بھکر،جہلم ،ملتان،فیصل آباد،پنڈی اسلام آباد،کوئٹہ پیشاور میں ہونگے 

لائیو دعا پرفیض عرفہ امام حسین ع کی مبارک دعا

مجلس وحدت مسلمین لاہور کے زیر اہتمام" روز عرفہ "کے موقع پر امت مسلمہ خاص طورپر کشمیر ، فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں اور وطنmwm.lhr01
 عزیز پاکستان کی سلامتی کے لئے" دعائے عرفہ" کا پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ جس میں تمام مکاتب فکر کو مد عو کیا گیا ہے۔ دعا عرفہ کی تلاوت و خصوصی دُعا مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی صاحب کرائیں گے اس پرفیض روحانی دعا کی محفل میں آپ لائیو شامل ہوسکتے ہیں

mwm.ratodiaro21 اکتوبر بروز اتوار مجلس وحدت مسلمین لاڑکانہ کے تحصیل رتوڈیرو میں عشرہ ناموسِ رسالت اور شہید ناموس رسالت کےچہلم کے سلسلے میں مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس مرکزی امام بارگاہ بڑا علم پاک پہ منعقد کی گئی، جسے مولانا شاھد عبّاس شمسی نے خطاب کرتے ہوئے رسولِ خدا ﷺ کی شان میں گستاخی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے  اسے عالم اسلام کے خلاف یہود و نصرای کے بگڑے ہوئے افراد کی سازش کہا انہوں نے یوم عشق رسول اللہ پر احتجاج کے بجائے بلوے کرنے والوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں اور نام نہاد مسلمان جو مسلمانوں کے بھیس میں اسلام اور مسلمانوں کی تذلیل کر رہے
ہیں ان کو پہچاننے کے لئیے عوام کو بیدار رہنے کی ھدایات دیں۔ مجلس میں عزاداروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ مجلس وحدت مسلمین تحصیل رتو ڈیرو کے سیکریٹری جنرل برادر عزادار حسین اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولانا ذولفقار سومرو کے علاوہ علائقہ کی معتبر شیعہ شخصیت سیّد الطاف حسین شاہ صاحب نے بھی شرکت کی

khamena.hajjحجاج کرام کے نام رہبر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای  کا پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد اللہ رب العالمین و صلوات اللہ و سلامہ علی الرسول الاعظم الامین وعلی آلہ المطہرین المنتجبین و صحبہ المیامین۔
رحمتوں اور برکتوں سے معمور موسم حج آن پہنچا اور اس نے ان خوش قسمت لوگوں کو جنہیں اس نورانی منزل کی باریابی کا شرف حاصل ہوا ہے، فیض الہی سے روبرو کر دیا ہے۔ یہاں ہر لمحہ اور ہر مقام آپ حجاج کی ایک ایک فرد کو روحانی و مادی ارتقاء کی دعوت دیتا ہے۔ اس مقام پر مسلمان مرد و زن، فلاح و نجات کی دعوت الہی پر صدائے لبیک بلند کرتے ہیں۔ یہاں ہر ایک کو برادری، یگانگت اور پرہیزگاری کی مشق کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔ یہ تعلیم و تربیت کا مرکز، امت اسلامیہ کے اتحاد و عظمت و تنوع کی جلوہ گاہ اور شیطان و طاغوت سے پیکار کا میدان ہے۔ خدائے حکیم و قدیر نے اسے وہ مقام قرار دیا ہے جہاں مومنین اپنے مفادات کا مشاہدہ کریں گے۔ جب ہم چشم بصیرت اور نگاہ عبرت کو وا کرتے ہیں تو یہ وعدہ ملکوتی ہماری انفرادی و سماجی زندگی کی تمام وسعتوں کا احاطہ کر لیتا ہے۔

مناسک حج کی انفرادی خصوصیت دنیا و آخرت کی آمیزش اور انفرادیت و اجتماعیت کا آپس میں ضم ہو جانا ہے۔ ہر طرح کی آرائش سے عاری پرشکوہ خانہ کعبہ، ایک ابدی و استوار محور کے گرد دلوں اور جسموں کا طواف، نقطہ آغاز سے نقطہ اختتام کے درمیان منظم اور پیہم سعی و جستجو، عرفات و مشعر کے نجات بخش میدانوں کی سمت عمومی روانگی، اس محشر عظیم میں پیدا ہونے والی خضوع کی کیفیت جو دلوں کو صفا و شادابی عطا کرتی ہے، شیطان کے مظہر پر عمومی یلغار، اس موقعہ پر ہر جگہ، ہر رنگ اور ہر قسم کے لوگوں کا ان تمام اسرار آمیز اور معانی و علامات ہدایت سے لبریز مناسک میں ایک دوسرے کے قدم سے قدم ملا کے چلنا، اس پرمعنی و پرمغز عبادت کی انفرادی خصوصیات ہیں۔

یہی مناسک ہیں جو دلوں کو یاد الہی سے ربط دیتے اور قلب انسانی کو نور تقوی و ایمان سے منور بھی کرتے ہیں، انسان کو شخصی حصار سے باہر لاکر امت اسلامیہ کی رنگارنگ اجتماعیت میں ضم بھی کر دیتے ہیں، لباس تقوی سے بھی اسے آراستہ کر دیتے ہیں جو گناہوں کے زہر آلود تیروں کے سامنے ڈھال کا کام کرتا ہے، اس کے اندر شیطانوں اور طاغوتوں پر حملہ آور ہونے کا جذبہ بیدار کرتے ہیں۔ اس مقام پر پہنچ کر حاجی اپنی آنکھ سے امت اسلامیہ کی وسعتوں کی جھلک دیکھتا اور اس کی صلاحیت و توانائی سے آگاہ ہوتا ہے، مستقبل کے تئيں پرامید ہو جاتا ہے اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے خود کو آمادہ پاتا ہے، اگر توفیق و نصرت الہی اس کے شامل حال ہو جائے تو پیغمبر عظیم الشان سے اپنی بیعت اور اسلام سے اپنے مستحکم میثاق کی تجدید کرتا ہے، اپنی اور امت کی اصلاح اور کلمہ اسلام کی بلندی کے لئے اپنے اندر عزم راسخ پیدا کرتا ہے۔

یہ دونوں باتیں یعنی اپنی اصلاح اور قوم کی اصلاح، دو دائمی فریضے ہیں۔ اہل تفکر و تدبر کے لئے فرائض دینی میں غور و خوض اور بصیرت و خرد سے کام لینے کی صورت میں اس کا طریق کار تلاش لینا دشوار کام نہیں ہے۔ اصلاح نفس کا آغاز شیطانی خواہشات کے خلاف جد و جہد اور گناہوں سے اجتناب کی سعی سے ہوتا ہے اور اصلاح امت کا آغاز دشمن اور اس کے منصوبوں کی شناخت اور اس کی ضربوں، فریبوں اور دشمنیوں کو بے اثر بنانے کے لئے مجاہدت سے۔ پھر یہ عمل مسلمانوں اور مسلم اقوام کے دلوں، زبانوں اور ہاتھوں کے باہمی رابطے سے تقویت پاتا کرتا ہے۔

موجودہ دور میں عالم اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ایک کہ امت اسلامیہ کی تقدیر و سرنوشت سے جس کا گہرا تعلق ہے، شمالی افریقا اور خطے میں رونما ہونے والے انقلابی تغیرات ہیں جو تا حال کئی بدعنوان، امریکا کی فرمانبردار اور صیہونزم کی مددگار حکومتوں کے سقوط اور اسی قسم کی دیگر حکومتوں کے تزلزل کا باعث بنے ہیں۔ اگر مسلمانوں نے اس عظیم موقعے کو گنوا دیا اور اسے امت اسلامیہ کی اصلاح کی راہ میں استعمال نہ کیا تو وہ بہت بڑے خسارے میں جائیں گے۔ اس وقت جارح و مداخلت پسند سامراج ان عظیم اسلامی تحریکوں کو منحرف کر دینے کے لئے پوری طرح حرکت میں آ گیا ہے۔

ان عظیم قیاموں میں مسلمان مرد و زن، حکمرانوں کے استبداد اور امریکا کے تسلط کے خلاف جو قوموں کی تحقیر و تذلیل اور جرائم پیشہ صیہونی حکومت کے ساتھ ساز باز پر منتج ہوا ہے، اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے موت و زندگی کی اس عظیم لڑائی میں اسلام، اسلامی تعلیمات اور اسلامی نعروں کو اپنا سفینہ نجات مانا ہے اور ببانگ دہل اس کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ مظلوم فلسطینی قوم کے دفاع اور غاصب حکومت کے خلاف جہاد کو اپنے مطالبات میں سر فہرست قرار دیا ہے۔ مسلم اقوام کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے امت اسلامیہ کے اتحاد کی دلی خواہش کا اعلان کیا ہے۔
یہ ان ملکوں میں عوامی قیاموں کے بنیادی ستون ہیں جہاں حالیہ دو برسوں میں عوام نے آزادی و اصلاح پسندی کا پرچم لہرایا اور انقلاب کے میدانوں میں جسم و جان کے ساتھ قدم رکھا ہے۔ یہی چیزیں عظیم امت اسلامیہ کی اصلاح کی بنیادوں کو مضبوطی و پائيداری عطا کر سکتی ہیں۔ ان اساسی اصولوں پر ثابت قدمی ان ملکوں میں عوامی انقلابوں کی فتح کی لازمی شرط ہے۔
دشمن انہیں بنیادوں کو متزلزل کر دینے کے در پے ہے۔ امریکا، نیٹو اور صیہونزم کے بدعنوان مہرے کچھ لوگوں کی غفلت و سادہ لوحی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم نوجوانوں کی طوفانی تحریک کو منحرف کر دینے، انہیں اسلام کے نام پر ایک دوسرے سے دست و گریباں کر دینے اور سامراج مخالف اور صیہونیت مخالف جہاد کو عالم اسلام کی گلیوں اور سڑکوں پر اندھی دہشت گردی میں تبدیل کر دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تا کہ مسلمانوں کا خون ایک دوسرے کے ہاتھوں سے ‌زمین پر بہے، دشمنان اسلام اپنی مسدود راہوں کو کھول سکیں اور اسلام اور اس کے مجاہدین بدنام اور ان کی شبیہ مسخ ہو جائے۔

اسلام اور اسلامی نعروں کے خاتمے کے سلسلے میں مایوس ہو جانے کے بعد انہوں نے اب مسلم فرقوں کے درمیان فتنہ انگیزی کا رخ کیا ہے اور شیعہ خطرے اور سنی خطرے کی سازشی باتیں کرکے امت اسلامیہ کے اتحاد کے راستے میں رکاوٹیں ایجاد کر رہے ہیں۔ وہ علاقے میں اپنے زرخرید عناصر کی مدد سے شام میں بحران پیدا کرتے ہیں، تاکہ قوموں کی توجہ اپنے ممالک کے حیاتی مسائل اور گھات میں بیٹھے خطرات سے ہٹا کر اس خونریز مسئلے پر مرکوز کر دیں، جسے انہوں نے خود عمداً پیدا کیا ہے۔ شام میں خانہ جنگی اور مسلمان نوجوانوں کا ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل عام وہ مجرمانہ عمل ہے جو امریکا، صیہونزم اور ان کی فرمانبردار حکومتوں کے ہاتھوں شروع ہوا ہے اور اس آگ کو مسلسل ہوا دی جا رہی ہے۔ کون باور کر سکتا ہے کہ مصر، تیونس او لیبیا کی سیاہ رو آمریتوں کی حامی حکومتیں اب شام کے عوام کی جمہوریت پسندی کی حامی بن گئی ہیں؟ شام کا قضیہ اس حکومت سے انتقام لئے جانے کا قضیہ ہے جس نے تین دہائیوں تک اکیلے ہی غاصب صیہونیوں کا مقابلہ اور فلسطین و لبنان کی مزاحمتی تنظیموں کا دفاع کیا ہے۔

ہم شام کے عوام کے طرفدار اور اس ملک میں ہر طرح کی بیرونی مداخلت اور اشتعال انگیزی کے مخالف ہیں۔ اس ملک میں کوئی بھی اصلاحی اقدام خود وہاں کے عوام کے ہاتھوں اور خالص ملی و قومی روشوں سے انجام پانا چاہئے۔ یہ بات کہ عالمی تسلط پسند عناصر اپنی تابع فرمان علاقائی حکومتوں کی مدد سے کسی ملک میں بحران کھڑا کر دیں اور پھر اس ملک میں بحران کے نام پر خود کو ہر مجرمانہ کارروائی کا مجاز جانیں، بہت بڑا خطرہ ہے۔ اگر علاقے کی حکومتوں نے اس پر توجہ نہ دی تو انہیں بھی اس استکباری عیاری میں اپنی باری آنے کا منتظر رہنا چاہئے۔

بھائیو اور بہنو! موسم حج، دنیائے اسلام کے حیاتی مسائل پر غور و فکر کا موقعہ ہے۔ علاقے کے انقلابوں کا مستقبل اور ان انقلابوں سے زخم کھانے والی طاقتوں کی ان انقلابوں کو منحرف کر دینے کی کوششیں، انہی مسائل میں شامل ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان نفاق پیدا کرنے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں انقلابی ملکوں کو بدگمانی میں مبتلا کر دینے کی خائنانہ سازشیں، مسئلہ فلسطین، مجاہدین کو تنہا اور فلسطین کے جہاد کی شمع کو خاموش کر دینے کی کوششیں، مغربی حکومتوں کی اسلام دشمنی پر مبنی تشہیراتی مہم، پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ملکوتی بارگاہ میں گستاخانہ حرکت کا ارتکاب کرنے والوں کی ان کی جانب سے حمایت، بعض مسلم ممالک میں خانہ جنگی اور ان کے حصے بخرے کر دینے کے مقدمات، انقلابی قوموں اور حکومتوں پر مغربی تسلط پسند طاقتوں سے ٹکراؤ کا خوف بٹھانا اور اس توہم کی ترویج کہ ان کے مستقبل کا انحصار انہی جارح طاقتوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے پر ہے، اسی قسم کے دوسرے اہم اور حیاتی مسائل ان اہم ترین مسائل میں ہیں جن کے بارے میں حج کے اس موقعے پر آپ حجاج کرام کی ہمفکری اور ہمدلی کے زیر سایہ تدبر و تفکر کرنے کی ضرورت ہے۔
بیشک نصرت و ہدایت خداوندی، جانفشانی کرنے والے مومنین کو امن و سلامتی کی راہ سے آشنا کرے گی۔ والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا..»
والسلام عليكم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
سيّد علي خامنہ ای

go-makkahمیدانِ عرفات خطبہ حج:تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اے لوگو اللہ سے ڈرتے رہو، تقویٰ اور ہدایت کی راہ اپناوٴ، اے لوگو، قیامت کے دن سے ڈرتے رہو، اللہ سے ڈرتے رہو اور ہدایت اختیار کرتے رہو، اسلام کاپیغام توحیدکاپیغام ہے، توحیدکاپیغام ہے کہ اللہ کی عبادت کریں اورکسی کی نہیں، اللہ ایک ہے اوراس کاکوئی شریک نہیں، اللہ اپنی ذات اورصفات میں واحدہے، ہماری زندگی اورہماری موت اللہ کے لیے ہے، اسلام کا پیغام سب سے افضل ہے، مسلمان کاحق ہے کہ وہ توحید پر کاربند رہے۔ خطیب جج نے کہا کہ خودکشی حرام ہے، خودکشی کرنے والے کی مغفرت نہیں ہوگی، مسلمان اللہ کے ساتھ کسی کوہرگزشریک نہ ٹھہرائیں، مومن کی نشانی ہے کہ اس کی ذات سے کسی مسلمان کوکوئی نقصان نہیں پہنچتا، اپنے درمیان اختلافات کم کرو، اللہ کی توحید اپنا کر ہی ہم اس دنیا میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ خطبہ حج میں انہوں نے فریا کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہیں کیاجائے گا، دین وہی ہے جونبی کریم نے دیا، اس دین میں نہ قبیلہ ہے نہ خاندان، ہمیں ہرطرح کے تشدد کو روکنا ہوگا، ہمیں اپنے اخلاق کو سنوارنے کے لیے محمدص کی سنتوں کو اپنانا ہوگا، امت مسلمہ میں اخلاقی برائیاں پیداہوگئی ہیں، تمام وسائل کو اگر جمع کرلیا جائے تو مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے، معاشی اور اقتصادی مسائل بھی مسلمان مل کر ہی حل کرسکتے ہیں، سیاسی مشکلات کا حل بھی مسلمان مل کرنکال سکتے ہیں۔ عالم اسلام کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مفتی اعظم نے کہا کہ آج عالم اسلام مسائل اورمشکلات سے گھرا ہوا ہے، تمام مسائل سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کے احکامات پر عمل کیا جائے، حکمران شریعت پر عمل کرنے کے لیے حالات سازگار بنائیں، مسلمان اپنے تجربات اور وسائل ایک دوسرے کے ساتھ بانٹیں،مسلمان عقیدہ توحید پرچلتے ہوئے اپنی اولادکی پرورش کریں، جادو امت مسلمہ کااہم مسئلہ ہے، اس نے لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کردیا ہے اللہ سے ڈریں اورتقویٰ اختیارکریں، اسلام سب سے بہترین ضابطہ اخلاق ہے، مسلمانوں کوچاہیے کہ اگر وہ ترقی کرناچاہتے ہیں تو ٹیکنالوجی کی طرف جائیں، مسلمانوں بقاکے لیے ایسا کرنا بہت ضروری ہے، امت مسلمہ غربت کا شکار ہے، اس میں ترقی کے لیے باہمی یکجہتی اوراخوت کوفروغ دینا ہوگا، وسائل کومسلمانوں کی ترقی اور بہبود پر خرچ کرنا چاہیے، مسلمانوں کو پورے وسائل سے استفادہ اوران میں اضافہ بھی کرناچاہیے، مال حلال ذریعے سے کمایا جائے اور ایسے خرچ کیاجائے جیسے ہمیں حکم دیاگیاہے۔

کراچی میں کھالوں پر تصادم کا خطرہ خفیہ ادارے

کراچی میں قربانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کرنے پر بڑی خونریزی کا خطرہ ہے۔ خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت کو رپورٹ ارسال کردی ہے۔ عید کے موقع پر سیکورٹی ہائی الرٹ رکھنے کیلئے آج (بدھ) اہم اجلاس ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق تفصیلتا کے مطابق خفیہ اداروں نے حکومت کو رپورٹ دی ہے کہ کراچی میں عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے معاملے پر بڑی خونریزی کا خطرہ ہے۔ سیاسی ومذہبی جماعتیں اور کالعدم تنظیمیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ کھالیں جمع کرنے کیلئے سرگرم ہوگئی ہیں اور اس سلسلے میں 20 سے زائد علاقوں کو ایک دوسرے کیلئے نوگو ایریا بنادیا گیا ہے اور ان علاقوں میں داخلی وخارجی راستوں پر رکاوٹیں بھی کھڑی کردی گئی ہیں۔ جن علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے ان میں اورنگی ٹاؤن، میٹروول، قائدآباد، ابوالحسن اصفہانی روڈ، سہراب گوٹھ، گلستان جوہر، کھارادر، لیاری، چاکیواڑہ، نیو کراچی، گلشن اقبال، گلبرگ، لانڈھی، کورنگی، ملیر کے علاقے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان علاقوں میں کالعدم تنظٰمیں اور سیاسی ومذہبی گروپس اپنے کارندوں کو مسلح کررہے ہیں تاکہ طاقت کے زور پر قربانی کے جانوروں کی زیادہ سے زیادہ کھالیں جمع کی کاسکیں۔ اس مقصد کیلئے شہر کے حساس علاقوں میں عید پر امن قائم رکھنے کیلئے سیکورٹی پلان ترتیب دینے کی غرض سے پولیس کا اہم اجلاس آج ہوگا جس مین حساس علاقوں میں پولیس کا گشت موثر بنانے کیلئے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی تھانوں کی حدود میں مختلف جماعتوں کے کارکنان نے اپنے اپنے علاقوں کے داخلی اور خارجی راستوں پر رکاوٹیں لگا کر پورے پورے علاقوں کیلئے صرف ایک ہی داخلی اور خارجی راستہ بنادیا ہے جس کے سبب ایسے علاقوں میں صرف ایسی تنظیم کے کارکنان کا قبضہ ہوگا جنہوں نے راستے میں رکاوٹیں لگائی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے 26 پولیس اسٹیشن کی حدود میں میٹھادر، کھارادر، عیدگاہ، نیپیئر، گارڈن، نبی بخش، بریگیڈ، فیروز آباد، محمود آباد، پی آئی بی، شارع فیصل، شاہ فیصل کالونی، ماڈل کالونی، سعود آباد، الفلاح، قائد آباد، لانڈھی، عوامی کالونی، کورنگی صنعتی ایریا، نارتھ ناظم آباد، پاپوش، ناظم آباد، حیدری، تیموریہ، نیو کراچی، بلال کالونی پولیس اسٹیشن شامل ہیں۔ ان علاقوں میں سیاسی، مذہبی، لسانی اور کالعدم تنظیم کے کارکنان کے درمیان خونریز تصادم کا خطرہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں کسی حد تک پولیس کی مداخلت ضرور ہوگی تاہم جن علاقوں میں رکاوٹیں لگائی گئی ہیں ان علاقوں میں پولیس عید کے تینوں دن کسی قسم کی مداخلت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ ذرائع کے مطابق دھمکیوں کی وجہ سے عوام شدید خوف وہراس میں مبتلا ہیں اور قربانی کی کھالوں پر عید کے دنوں میں بڑے تصادم اور خون خرابے کا خدشہ ہے۔ عیدالاضحیٰ پر اس حوالے سے سندھ پولیس نے ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے۔ ضابطہ اخلاق پر دستخط کرنے والی سیاسی، مذہبی، سماجی تنظیموں اور مدارس کو کھالیں جمع کرنے کی اجازت ہوگی اور اس کیلئے وہ کمشنر کراچی سے پیشگی اور تحریری اجازت حاصل کریں گے جو ان کی گاڑیوں پر آویزاں ہوگی جبکہ کارکن اپنے پاس رکھیں گے۔ کسی سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیم سمیت مدارس کی انتظامیہ کو کھلے مقامات پر کیمپ لگا کر اور اعلانات کرکے کھالیں جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکار کھالیں جمع کرنے والے کارکنان اور ان کی گاڑیوں کو سیکورٹی فراہم کریں گے۔ عید کے ایام میں دفعہ 144 کے دوران اسلحہ لے کر چلنے کیلئے خصوصی طور پر جاری ہونے والے اجازت نامے منسوخ کردیئے جائیں گے اور ہر قسم کا اسلحہ، لاٹھی، ڈنڈے اور سلاخیں لے کر چلنے پر بھی پابندی ہوگی۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree