The Latest

hafizجامعتہ المنتظر لاہور کے پرنسپل کا اسلام ٹائمز سے خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ شیعہ علماء کونسل اور مجلس وحدت مسلمین میں اتحاد ممکن ہے۔ اس وقت حقیقتاً دیکھا جائے تو دونوں جماعتوں میں کوئی بہت بڑی لڑائی نہیں، یعنی یہ نہیں کہ جلسہ کوئی ہو رہا ہو۔ دھواں دھار تقریریں کرکے ایک دوسرے کو رگڑا پلایا جائے، ایسا نہیں ہے۔ تھوڑا بہت تو ہوتا رہتا ہے، جیسے لطیف اشارے تو کر دیتے ہیں۔ یہ علامت ہے سیز فائر کی۔ جس قوم میں سیز فائر ہو، وہاں اتحاد بڑے آرام سے ہوسکتا ہے۔
آیت اللہ حافظ ریاض نے مزید کہا کہ مولانا شہید سید عارف حسین الحسینی کی شخصیت جاذب تھی، جوان آدمی تھے، نجف اشرف میں آئے تو ان کی مونچھیں بھی نہیں آئی تھیں۔ تو وہاں بھی متحرک رہے۔ جب میٹنگز ہوئی تھیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میں جب کنونشن ہوا تھا۔ اس میں ان کا کردار بہت اچھا اور نمایاں تھا۔ یعنی جوان آدمی پہلی دفعہ ظاہر ہوا۔ سامنے نکلا کہ کنونشن ہونا چاہیے ہمیں جلوس نکالنا چاہیے۔

کچھ علاقے کے لوگ ایسے تھے کہ کہتے تھے کہ اگر گولی چل گئی تو کیا ہوگا۔ کون ذمے داری لے گا۔ لیکن شہید عارف الحسینی شد و مد سے کہتے رہے اور علماء کی نظر میں نمایاں ہوگئے۔ کسی کا پتہ تو نہیں ہوتا کہ کس ذہن کا ہے۔ تو بھکر کنونشن میں آواز آئی کیوں نہ علامہ عارف الحسینی کو قائد بنا دیا جائے۔ پھر قصر زینب میں ہم پانچ چھ آدمی بیٹھے تھے۔ مولانا جواد ہادی بھی ساتھ تھے۔ مولانا شیخ علی مدد مرحوم تھے۔ مولانا صفدر حسین مرحوم تھے، میں تھا، مولانا کرامت علی شاہ صاحب، وزارت حسین نقوی صاحب بھی تھے۔ بات چیت ہوئی۔

پہلے علامہ عارف الحسینی سے بات چیت ہوئی کہ آپ قیادت قبول کریں، وہ قبول نہیں کر رہے تھے۔ ہم نے کہا کہ اگر تو قبول نہیں کرتے تو آپ نائب بن جائیں۔ لیکن شیخ علی مدد نے کہا کہ نیابت وغیرہ نہیں۔ میں تو چاہتا ہوں کہ یہ قیادت مکمل قبول کریں۔ تو وہاں پانچ چھ آدمیوں نے مشورہ کیا، انہین قائل کیا اور یقین دہانی کروائی کہ ہم آپ کی حمایت کریں گے، تو پھر یہ اس وقت قائد بن گئے۔ اور یہ خیال ہمارا تھا کہ یہ آدمی کام کرسکتا ہے۔ اعتماد پیدا ہونا شروع ہوا۔ اس کنونشن سے۔ انہوں نے پورے ملک کا دورہ کیا۔ انہوں نے پورے ملک کو اکٹھا کیا۔ ذاکرین، خطباء اور واعظین جیسے مفتی جعفر حسین کے زمانے میں اکٹھے ہوئے، ان کے زمانے میں بھی اکٹھے ہوگئے تھے۔ تو انہوں نے بہترین کام کیا۔

syria

شام میں حلب شہر میں شدت پسندوں کی شکست کے بعد اب عالمی سطح پر اس خطرے کی جانب متوجہ کیا جارہا ہے کہ شدت پسند اپنی شکست کے بعد

کیمیکل اسلحہ استعمال کرسکتے ہیں
روئٹرز نیوز نے چنددن قبل ہی اپنی ایک روپورٹ میں تصاویر کے توسط سے ثا بت کیا تھا کہ شام میں شدت پسندوں کے پاس کیمیکل اسلحہ موجود ہے جو انہوں نے لیبیا سے حاصل کیا ہے 
جبکہ دیگر زرائع کے مطابق یہ کیمیکل اسلحہ امریکی ساخت کا ہے جس سے لگتا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے شدت پسندوں کودیے جانے والی خاص امداد کا حصہ ہے
اس وقت کیونکہ شدت پسند دارالحکومت دمشق سے لیکر صنعتی شہر حلب تک شکست کھا چکے ہیں تو اس بات کاخطرہ بڑھ چکا ہے کہ شدت پسند اپنے اہداف کے حصول کے لئے کیمیکل اسلحے کا استعمال کریں 
خاص کر کہ شدت پسند اب تک عام آبادی کو اپنے لئے ڈھال کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں اور فوج کے گھیرے میں پھنسنے کے بعد شدت پسندوں نے آبادی پر حملے کئے ہیں 

shabqader

مرکزی آفس مجلس وحدت مسلمین پاکستان میں شب قدر اور شب ضربت امیر المومنین مولا و آقا امام علی ع کی مناسبت سے مصائب پڑھے گئے اور شب 

قدر کے اعمال بجالائے گئے 
مشترکہ طور پر انجام پانے والے عمل قرآنی میں دفتر کے عملہ سمیت مدارس کے بعض طلبہ نے بھی شرکت کی جبکہ عمل قرآنی کی سعادت میڈیا منیجر کو حاصل ہوئی
روح پرور ماحول کے ساتھ مرکزی آفس کے عملے نے شب قدر کی رات کو دعا و مناجات میں گذاری اور عالم وطن عزیز کی سلامتی سمیت عالم اسلام میں بھائی چارگی اور خاص کر رہبر مسلمین کی درازی عمر کیلئے میں دعائیں مانگیں گئیں

abumarzoq

فلسطینی تنظیم حماس کے نائب صدر موسی ابومرزوق نے مصری ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شام میں جاری دہشت گردی کے بارے میں ایک بار پھر ایک ایسا بیان دیا ہے جو کم و بیش اس سے قبل حماس کے سربراہ خالد مشعل کئی بار دے چکے ہیں 
ابومرزوق کا کہنا ہے اس کے باوجود کی شام میں بے گناہوں کاخون بہایا جارہاہے حماس کی اخلاقیات موجودہ شامی نظام کے ساتھ سابقہ دوستی کی پاسداری پر مجبور کرتیں ہیں 
یعنی شام میں جاری دہشت گردوں کے خلاف شامی افواج کی کاروائیوں کو ابو مرزوق بے گناہوں کا خون بہانا کہتے ہیں اور دوسری جانب وہ حماس کی اخلاقیات کی پاسداری کی بات بھی کر رہیں صاف صاف ظاہر ہے کہ عین اس وقت کہ جب شام پر عالمی استعماری یلغار ہورہی ہے تو حماس نے دمشق کو چھوڑ دیا اور قطر اور مصر میں پناہ لی۔
ابو مرزوق سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ کیا ان کے اس عمل کو حماس کی اخلاقیات اچھا سمجھتیں ہیں؟
جو کچھ عالمی دہشت گردوں کی جانب سے خطے کے واحد اسرائیل مخالف ملک کے ساتھ کیا جارہا ہے کیا حماس اس کی مذمت کرتی ہے؟
کیا حماس شام میں جاری دہشت گردانہ کاروائیوں کو قطر کی طرح بیداری کی تحریک سمجھتی ہے یا پھر استعماری سازش ؟اگر ان کے خیال میں شام میں ڈکٹیٹرشب ہے تو پھر جہاں نے انہوں پناہ لی ہے یعنی قطر میں جمہوریت ہے؟
حقیقت تو یہ ہے کہ شام میں جب سے امریکہ اسرائیل اور کچھ عرب ممالک نے خطے میں تحریک مزاحمت کو کمزور کرنے کے لئے سازش شروع کی ہے حماس نے اپنا اصولی موقف اختیار کرنے کے بجائے ایک ایسا قدم اٹھایاہے جس کا فائدہ صرف شام میں موجود دہشت گردوں اور ان کے آقاووں کو ہوتا ہے 
ابومرزوق نے اپنی اسی گفتگومیں شاید حماس کی جانب سے اس وقت شام میں دفتر کھولے جانے کے اعتراض کا قبل از وقت جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس وقت ہم نے دیکھا کہ شام میں پناہ کی شکل میں جو آسانیاں تھیں وہ کسی اور عرب ملک میں نہ تھیں 

ameen

چینوٹ میں رات گئے پنجاب حکومت کے پالتو سفاک کرایے کے قاتل ملک اسحاق اور اسکے ٹولے نے شب ضربت امام علی ؑ میں آنے والے عزاداروں
 کوزودکوب کیا اور شیعہ کافر کے نعرے لگائے ان نفرت انگیزیوں کے خلاف چینوٹ کے اہل تشیع سراپا احتجاج ہوئے اور اس مسجد کے سامنے دھرنا لگا یا جس میں پنجاب حکومت کے کرایے کا قاتل بیٹھا ہواتھا اسی اثنامیں نامعلوم افرادکی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی 

رات گئے مقامی پولیس اور دھرنے میں شریک عزادارو ں کے درمیان مذاکرات ہوئے شرکاء دھرنے کا مطالبہ تھا کہ شرپسندوں اور مذہب اہلبیت ع کے توہین کے مرتکبین کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے جو آخر کار مقامی پولیس نے بادل ناخواستہ ایف آئی آر کاٹی لیکن حسب عادت بیلنس کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے بے گناہ عزاداروں کے خلاف بھی ایف آئی آر کاٹی اور اس ایف آئی آر میں معروف دانشور اور عالم دین مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی صاحب کے خلاف بھی دھرنے کے شرکاء سے خطاب ،نقص امن،اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر کاٹی ہے 
ملک بھر میں اہل سنت اور شیعہ علماء و دانشور چینوٹ انتظامیہ کی اس انوکھی ایف آئی آر پر حیرت زدہ ہیں اور اس کی مذمت کر رہے ہیں 
یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ پنجاب حکومت کے قانون کس طرح قانون کو دہشت گردوں کے حق میں استعمال کرتا ہے گذشتہ دنوں زرائع ابلاغ نے اپنے ٹاک شوز میں یہ بات واضح کردی تھی کہ دہشت گردوں کو مالی سپورٹ کون کرتا ہے اور کس نے دہشت گردوں کو جیل سے آزادی دلائی ہے 

karachiiftar

ایم ڈبلیو ایم کراچی ضلع ملیرکی جانب سے قرآن کانفرنس و دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے سیاسی میدان میں وارد ہونے سے قومی سطح پر ملت تشیع اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو رہی ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن ڈسٹرکٹ ملیر کی جانب سے 5 اسٹار لان جعفر طیار سوسائٹی میں قرآن کانفرنس و دعوت افطار کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ عالی کے چیئرمین مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین، صوبہ سندھ کے سیکریٹری جنرل مولانا مختار امامی اور ڈسٹرکٹ ملیر کے سیکریٹری جنرل سجاد اکبر زیدی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل محمد مہدی، ڈویژن کابینہ کے اراکین، صابر کربلائی ( ترجمان فلسطین فاؤنڈیشن )، توفیق الدین ( امیر جماعت اسلامی ضلع ملیر )، راؤ محمد اقبال ( ڈی ایس پی ملیر )، اعجاز زیدی ( صدر جعفر طیار سوسائٹی ) و دیگر مہمانان گرامی بھی موجود تھے۔

salahudin

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قیام کے نتیجے میں ملت تشیع میں قومی، سیاسی، سماجی حوالوں سے موجود طویل جمود کا خاتمہ ممکن ہوا۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ عالی کے سربراہ حجتہ السلام و المسلمین مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین، صوبائی سیکریٹری جنرل مولانا مختار احمد امامی اور ضلعی سیکریٹری جنرل سجاد اکبر زیدی نے ایم ڈبلیو ایم ڈسٹرکٹ ملیر کیجانب سے 5 اسٹار لان جعفر طیار سوسائٹی میں منعقدہ قرآن کانفرنس و دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم کے سیاسی میدان میں وارد ہونے سے قومی سطح پر ملت تشیع اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قیام کے نتیجے میں ملت تشیع میں قومی، سیاسی، سماجی حوالوں سے موجود طویل محرومیوں کا ازالہ ممکن ہوا ہے۔

مولانا مختار امامی نے کہا کہ قرآن فقط ایک کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مسلمان تعلیمات قرآن پر عمل پیرا ہوکر اپنی تمام اجتماعی، سیاسی، معاشرتی اور انفرادی مشکلات سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ سجاد اکبر زیدی نے تقریب میں شریک تمام مہمانان گرامی مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین، مولانا مختار امامی، محمد مہدی، صابر کربلائی (ترجمان فلسطین فاؤنڈیشن)، توفیق الدین (امیر جماعت اسلامی ضلع ملیر)، راؤ محمد اقبال (ڈی ایس پی ملیر)، اعجاز زیدی (صدر جعفر طیار سوسائٹی) اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

maqsood

فلسطین فاونڈیشن بلوچستان کے زیر اہتمام کوئٹہ میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا عنوان "فلسطین فلسطینیوں کا وطن" تھا۔ کانفرنس کی صدارت علامہ مقصود علی ڈومکی نے کی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر کمانڈر خدائیداد خان مہمان خاص تھے۔ کانفرنس سے جمہوری وطن پارٹی نظریاتی کے
مرکزی رہنماء محمد یوسف نوتیزئی، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ سید ہاشم موسوی، بلوچ قوم پرست رہنما میر عبدالروف ساسولی، ممتاز عالم دین آقا مبشری نے خطاب کیا۔

کانفرنس میں مشہد حرم مطہر رضوی کے ممتاز بین الاقوامی قاری قرآن کریم جناب مہدی شجاع نے تلاوت کلام پاک کا شرف حاصل کیا۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نےکہا کہ آزادی فلسطین کی منزل قریب ہے اور اقوام عالم اسرائیل غاصب کے خلاف متحد ہورہی ہیں۔ کوئٹہ کی سر زمین کے غیور فرزندان اسلام نے آزادی بیت المقدس کے لئے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کیا۔ ان پاکیزہ صفت روزہ داروں کا خون ناحق اسرائیل کی بربادی کا باعث ہوگا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ANP کے مرکزی نائب صدر کمانڈر خدائیداد خان نے کہا کہ عرب دنیا میں برپا ہونے والے انقلاب نوید آزادی ہیں۔ ہم تحریک آزادی فلسطین کے حامی ہیں۔ اس موقعہ پر نور زہراء نےترانہ پڑھی

alquds

مجلس وحدت مسلمین ضلع لاہور کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد اقبال کامرانی نے القدس کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوم القدس کو یوم اللہ قرار دیا گیا ہے، ہر مسلمان پر فرض ہے کہ قبلہ اول کی آزادی کے لئے آواز بلند کرئے اور استعماری قوتوں سے اظہار نفرت اور بیزاری کرے۔ القدس کمیٹی کے ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہر مکتب فکر کے لوگوں کو دعوت دیں اور اس دن کی اہمیت سے آگاہ کریں تاکہ جمعۃ الوداع کو تمام مسلمان یک زبان ہو کر قبلہ اول کی آزادی کے لئے آواز اٹھائیں۔

انہوں نے پنجاب حکومت، ضلعی انتظامیہ اور پی ایچ اے سے مطالبہ کیا کہ یوم القدس کے تشہیری مہم کو مٹانے اور اشتہارات کی بے ادبی سے باز رہیں کیونکہ یہ تشہیری مہم کسی کی ذاتی نہیں بلکہ صرف اور صرف قبلہ اول اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے لاہور میں یوم القدس کے دعوتی بینرز اور پینا فلیکس آویزاں کئے ہیں جنہیں پی ایچ اے کے ارکان نے ہٹانے کی کوشش کی ہے ہم ان پر واضح کرتے ہیں کہ یہ ہمارا ملی فریضہ ہے بطور مسلمان ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت میں آواز بلند کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پی ایچ اے کے اہلکار فلسطینی بھائیوں سے اپنی محبت کے اظہار کے طور پر ہمارے بینرز اور پینا فلیکس کو نہیں چھیڑیں گے۔ اس موقع ایم ڈبلیو ایم لاہور کے ترجمان مظاہر شکری نے کہا کہ امام خمینی (رہ) کے حکم سے آج پوری دنیا کے غیرت مند مسلمان اپنے فلسطینی بھائیوں سے اظہار یک جہتی کرتے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب پوری دنیا میں امت مسلمہ متحد ہو کر اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دے گی۔ مظاہر شگری نے کہا کہ اگر مسلمان متحد ہو کر ایک ایک بالٹی بھی اسرائیل کی جانب بہا دیں تو یہ اس پانی میں غرق ہو کر تباہ ہو جائے گا۔

breaking-newsآج شب جبکہ دنیا رسول اکرم ص کے چچازاد بھائی امیر المومنین حضرت علی ع کی شب ضربت کی رات پر سوگوار ہے تو دوسری طرف چینوٹ میں بدنام زمانہ سفاک قاتل اور تفرقہ انگیز شخص ملک اسحاق اور اس کے حامیوں عزداری کے لئے آنے والے عزاداروں کو راستے میں پکڑ کر زودکوب کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی مسجد میں شرپسند اور نفرت انگیز گفتگوکرتے ہوئے منافرت انگیز نعرے لگائے جس پر چینوٹ کے عزادار سرپااحتجاج ہوئے اور شرپسندی کی جانے والی مسجد کے باہر جمع ہوے اور دھرنا لگا دیا چند گھنٹوں کے دھرنے کے بعد انتظامیہ حرکت میں آگئی عزاداروں کا مطالبہ تھا کہ شرپسندوں اور تشدد کرنے والوں کو فورا گرفتار کیا جائے نیز بدنام زمانہ سفاک قاتل ملک اسحاق کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے گرفتار کیا جائے بڑی تگ دو کے بعد آخر کار ڈی پی او چینوٹ کے ساتھ مذاکرات شروع ہوئے مذاکراتی ٹیم میں مولاناسید حیدرنقوی مدرس جامعہ بعثت۔سید اخلاق الحسن صوبائی سیکرٹری سیاسیات مجلس وحدت،سید افتخار حیدرشاہ ضلعی سیکرٹری جنرل مجلس وحدت ،سید عاشق بخاری،ضلعی کابینہ ممبر مجلس وحدت ،شامل تھے اس مذاکراتی ٹیم نے انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جو آخری اطلاعات تک جاری تھے 

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree