The Latest

بلتستان میں وزیر اعلی گلگت بلتستان کی جانب سے انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ سکردو شہر سے نکل کر خپلوضلع گانچھے پہنچ گیا
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گانچھے کے محکمہ صحت کے چھ ملازمین کو اس بات پر انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے جلسے میں شرکت کی تھی
چار نرسنگ اسسٹنٹ ،ایک ڈرائیور اور ایک گریڈون کے ملازم کو برطرف کیا گیا ادھر اطلاعات کے مطابق مختلف دیگر محکموں کے ملازمین کے خلاف بھی کاروائیوں کی دھمکیاں دی جارہی ہیں
دوسری جانب مہدی شاہ کی نااہلیوں کے سبب گلگت بلتستان میں پی پی پی کی عوامی مقبولیت کا گراف دن بدن گرتا جارہا ہے جس کے سبب جیالوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے ادھر وزیر اعلی کے حلقے میں آئے روز ہنگامے اور بدامنی کے سبب عوام کا جینا دوبھر ہوچکا ہے اپوزیشن رہنما فدا محمد ناشاد کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کا حلقہ بلتستان کا لیاری بنتاجارہا ہے ۔

ترکی کی ریپبلک پیپلزپارٹی کے صدر نے ترکی حکومت کو خبردار کیاہے کہ شام کے خلاف ہونے والی بین الاقوامی سازش کا حصہ نہ بنیں انہوں نے مزید کہا کہ استعماری طاقتیں ترکی کو شام کے مقابلے میں جنگ کے لئے لاکر کھڑا کرنا چاہتیںاور یہ جنگ کسی دلدل سے کم نہیں جس سے پیچھا چھوڑانا ترکی کے لئے بڑا مشکل ہوگا
ترکی اخبار حریت سے گفتگو کرتے ہوئے اوغلو کا کہنا تھا کہ میں حکومت کو خبردار کرچکا ہوں کہ وہ خود کو مشرق وسطی کے دلدل سے بچاکے رکھے انہوں نے مزید کہا کہ شام کے بارے میں ترکی کی پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جس کی اصل وجہ کوتاہ فکری اور علاقائی سیاست سے متاثر ہوکر پالیسی مرتب کرنا ہے
واضح رہے کہ اس وقت شام میںداخل ہونے والے شدت پسند وں کی ایک بڑی تعداد ترکی کے باڈر کو استعمال کرتی ہے جبکہ شام کئی بار ترکی پر الزام لگا چکا ہے کہ وہ شام دہشت گردی کروالے عسکریت پسندوں کی تربیت کرتا ہے
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ترکی اس وقت مشرق وسطی میں جاری امریکی اور اسرائیل سیاست کا ایک مہرہ بن چکا ہے

انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ برما میں روہینگیا مسلمان قبائل کے قتل عام کے وقت سرکاری فوج اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور اس دوران مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور بڑے پیمانے پر مسلم خواتین کی آبروریزی کی گئی۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق برما میں حکومتی اہلکاروں نے جون میں اقلتیی مسلمانوں کے خلاف تشدد کی مہم چلائی جس کے نتیجے میں برما میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔
بنکاک میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈویڑن کے ڈپٹی ڈائریکٹر فل رابرٹسن نے بتایا کہ ابھی بھی برما کی حکومت رکھائین کے علاقے میں مسلمانوں کو ہراساں کررہی ہے۔
فل رابرٹسن کا کہنا ہے کہ برما کی حکومت نے امدادی کارکنوں اور صحافیوں کومتاثرہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی۔
برما کے علاقے رکھائین میں بدھوں نے مسلمانوںکے کئی مکان تباہ کئے اور ہزاروں افراد بے گھر جبکہ برما کے صدر کے مطابق اس فرقہ وارنہ مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ یا تو مسلمانوں کو ملک بدر کیا جائے یا مہاجر کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے۔

امریکی ٹی وی چینل این بی سی اور سی این این کے مطابق امریکی صدر اوبامانے اس خفیہ دستاویزپر دستخط کردیے جسے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے پیش کیا تھا
اس خفیہ دستاویز پر دستخط کے بعد امریکی خفیہ ایجنسی اور دیگر ان کی حلیف ایجنسیاں شام مخالف بیرونی شدت پسندوں کو ہر قسم کی مدد دینگی
تاکہ خطے میں اسرائیل مخالف واحدعرب حکومت کو گرایا جاسکے العالم نیوز کے مطابق ان ٹی وی چینلوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ شدت پسندوں کو یہ امداد کیسے اور کب سے ملنے لگے گی
ادھر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت امریکہ اسرائیل اور بعض عرب ممالک اگرچہ مکمل طور پر شام مخالف شدت پسندوں کی حمایت کر رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب امریکہ اور اس کے حمایتی شام میں وسیع پیمانے پر بدامنی پھیلانے کا کوئی نیا منصوبہ رکھتے ہیں
واضح رہے کہ اس وقت شام میں ترکی اور اردن کے راستے سے داخل ہونے والے شدت پسند گروپس نے دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے

متحدہ قومی مومنٹ کا وفد آنے والے دنوں میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی آفس کا دورہ کریگا
وفد کی قیادت حیدر عباس رضوی کرینگے وفد مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی قیادت کے ساتھ ملاقات کریگا اور اس ملاقات میں دوطرفہ باہمی دلچسپی کے امور سمیت ملکی موجودہ صورت حال پر گفتگو ہوگی اس ملاقات میں مجلس وحدت کی مرکزی قیادت اور شعبہ سیاسیات کے سیکرٹری جنرل بھی شامل ہونگے اور یہ ملاقات مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی آفس میں انجام پائی پائے گی

مادر وطن اندرونی و بیرونی خطرات میں گھری ہے۔ حکمران طبقہ کرسی بچاؤ ماٹو پر عمل پیرا ہے۔ ملک کو غربت، بیروزگاری، مہنگائی،انرجی کرائسز، بیرونی مداخلت جیسے مسائل نے گھیر رکھا ہے۔ بلوچستان کے حالات کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ جو جماعت بھی پاکستانیت،ملکی وقار، عالم اسلام کی سربلندی، معاشرے میں مشرقی اقدار کے احیاء کے لئے عملی میدان میں اترے گا مجلس وحدت مسلمین پاکستان اس کی بھرپور حمایت کرے گی۔ پاکستانیت کو محور بناتے ہوئے کسی بھی سیاسی جماعت سے الحاق کر سکتے ہیں۔ 
پاکستان مسلم لیگ ہم خیال گروپ کے وفد نے سنیٹر سلیم سیف اللہ کی سربراہی میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی مرکزی قیادت کے ساتھ ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال سمیت آئندہ الیکشن کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ مادر وطن کو اندرونی و بیرونی خطرات میں گھری ہے۔ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے عوام خود کشیوں اور خود سوزیوں پرمجبور ہیں۔ لوڈ شیڈنگ نے عوامی پریشانیوں میں اور زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ملک کی کوئی سیاسی جماعت اس وقت وطن عزیز میں پاکستانیت اور حب الوطنی کے فروغ کے لئے عملی اقدامات نہیں کر رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان ہر اس جماعت کی ہر سطح پر حمایت کرنے کو تیار ہے جو پاکستانیت، حب الوطنی، ملکی وقار ،وطن عزیز کی سالمیت و خودمختاری اور بیرونی مداخلت کے لئے عملی میدان میں اترے گی اس کی حمایت کریں گے۔علامہ جعفری نے کہا کہ پاکستانیت کو اپنا منشور بنا کر پاکستانیت پر کسی بھی سیاسی جماعت سے الحاق کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سنیٹر سلیم سیف اللہ نے کہا کہ ملکی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہم مستقبل کے حوالے سے کچھ زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ میری 35سالہ سیاسی سفر میں اتنے زیادہ حالات پہلے کبھی خراب نہیں ہوئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محب وطن تمام سیاسی قوتیں مل کر ملک کوبحرانوں سے نکالنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ سنیٹر سیف اللہ نے کہا کہ ہمارا یہاں آنا اسی سلسلے کی کڑی ہے کہ الیکشن سے قبل ایسی جماعتوں کا الائنس بنے کہ جو عوامی کسمپرسی خاتمے اور ملکی سالمیت و خودمختاری کے حوالے سے ایک سا نظریہ رکھتی ہیں اورملکی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر کام کرنا چاہتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف بجٹ خسارہ اور غیر ملکی قرضوں کی بات سنتے یا کر رہے ہیں جبکہ موجودہ حکمرانوں نے اندرونی قرضوں کے جس بوجھ تلے عوام کو دبا دیا ہے اس کے بارے میں ابھی کوئی نہیں سوچ رہا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا منشور وطن دوستی، انسانی قدروں کے احیاء، امن پسندی، بین المذاہب ہم آہنگی اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے ساتھ ظلم کے خاتمے پر مبنی ہے۔ ایم ڈبلیو ایم کے وفد میں مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے علاوہ ،مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمدامین شہیدی، مرکزی شوریٰ عالی رکن علامہ اقبال بہشتی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات علی اوسط رضوری، ڈپٹی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ اصغر عسکری جبکہ مسلم لیگ ہم خیال کی طرف سے سنیٹر سلیم سیف اللہ کے ساتھ ہمایوں اختر، میجر عباس، فواد ملک، میاں عاطف اور پرویز علی شامل تھے۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ملکی وقار و سالمیت، وطن دوستی، معاشرے میں مشرقی اقدار کے احیاء کے لئے ملک کر کام کریں گے۔ 

مجلس وحدت مسلمین ملتان کے سیکرٹری جنرل علامہ اقتدار حسین نقوی نے بزرگ عالم دین علامہ سید علی الموسوی کے انتقال پرملال پر اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ بزرگ عالم دین کی وفات سے پیدا ہونیوالا خلا صدیوں میں پورا ہوگا۔ آغاسید علی الموسوی کی شخصیت کو شیعہ جماعتوں کی ماں کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔علامہ موسوی شہید قائد اور ڈاکٹر نقوی کے قریبی رفقا میں سے تھے ، یہی وجہ تھی کہ ان سے ان شخصیات کی خوشبو آتی تھی۔ علامہ سید اقتدار حسین نقوی نے کہا کہ آغا علی الموسوی کی وفات سے پوری قوم یتیم ہو گئی ہے۔ خداوند متعال ان کے لواحقین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے۔

پاکستان مسلم لیگ ہم خیال کا وفد اپنے چیئرمین حامد ناصر چٹھہ کی قیادت میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قائدین سے ملاقات کر رہا ہے۔ پی ایم ایل (ہم خیال) کے دیگر رہنماؤں میں سنیٹر سلیم سیف اللہ، ہمایوںاختر، میجر عباس، میاں عاطف اور سابق وزیر پرویز علی شامل ہیں جبکہ اس ملاقات میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وفد کی سربراہی مرکزی سیکرٹری جنرل ناصر ملت علامہ ناصر عباس جعفری جبکہ دیگر قائدین میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی ، مرکزی سیکرٹری امور سیاسیات سید علی اوسط رضوی، مرکزی شوریٰ عالی کے رکن علامہ اقبال بہشتی اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ اصغر عسکری شامل ہیں۔اس ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی، مذہبی صورتحال پر گفتگو ہو گی۔ یاد رہے کہ قبل ازیں پی ایم ایل (ہم خیال) کے رہنماؤں کی لاہور میں ایک ملاقات ہو چکی ہے۔ جس کے بعد مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹریٹ اسلام آباد میں (بدھ) شام ساڑھے چھ بجے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی قائدین اور پاکستان مسلم لیگ ہم خیال کے قائدین کی مشترکہ پریس بریفنگ ہو رہی ہے۔

mwm flagپاکستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی کا پشت پناہ اسرائیل ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ اسرائیل شام پر حملے کی بیوقوفی کرے گا، لیکن ہماری خواہش ہے کہ اسرائیل ایک مرتبہ یہ بیوقوفی کرے۔2006 کی جنگ اسرائیل کے منہ پر طمانچہ تھی، ہم مسئلہ القدس سے غافل نہیں رہ سکتے۔ مغربی و عرب میڈیا شام کے حالات کو بگاڑ کر پیش کر رہا ہے۔ ترکی کی شام میں دخل اندازی ترکی کی سالمیت کے خلاف ہے۔ ان خیالات کا اظہار حزب اللہ لبنان کے سیاسی امور کے انچارج ڈاکٹر احمد ملی اور حزب اللہ کی القدس کمیٹی کے انچارج ڈاکٹر حیدر دقماق نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے ڈویژنل دفتر میں منعقدہ دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کراچی کی شوری کے اراکین اور فلسطین فانڈیشن پاکستان کے ممبران کے علاوہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے صدر محمد منہال رضوی بھی اپنی کابینہ کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈاکٹر احمد ملی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسئلہ القدس ہم سب کا مسئلہ ہے، ہم اس مسئلے سے غافل نہیں رہ سکتے، میں فلسطین فانڈیشن کے اراکین کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ہمیں پاکستان میں اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی غرض سے دعوت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مشترکہ دشمن امریکہ و اسرائیل ہے، اس دنیا میں اور بالخصوص پاکستان میں فرقہ واریت کی اصل وجہ اسرائیل ہے۔ رفیق حریری کے قتل کے بعد اسرائیل نے بہت کوشش کی کہ لبنان میں فرقہ واریت کو عام کیا جائے اور سعد حریری نے بھی ان سے تعاون کیا، لیکن حزب اللہ کی مثبت حکمت عملی نے اسرائیل اور اس کے لبنان میں موجود ایجنٹوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بیت المقدس آزاد ہو تو ہمیں داخلی سطح پر کسی سے نہیں الجھنا ہے۔ ہماری ساری توجہ عالمی استعمار کو کمزور کرنے کی جانب ہونی چاہیئے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر احمد ملی نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ اسرائیل شام پر حملے کی بیوقوفی کرے گا۔ لیکن ہماری خواہش ہے کہ اسرائیل ایک مرتبہ یہ بیوقوفی کرے۔ اس وقت مغربی و عرب میڈیا شام کے مسئلے کو بگاڑ کر پیش کر رہا ہے۔ شام کے عوام کی اکثریت شامی حکومت کے ساتھ ہے اور حزب اللہ بھی شام کی اخلاقی و سیاسی حمایت جاری رکھے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طیب اردگان کے تمام بیانات بھی ہوا میں ہیں، ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے، ترکی کی شام میں مداخلت خود ترکی کی سالمیت کے خلاف ہے۔ حزب اللہ کے سیاسی امور کے انچارج نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای دنیا کی واحد شخصیت ہیں کہ جنہوں نے شام کے مسئلے پر ایک واضح اسٹینڈ لیا ہے اور ان کی اس شجاعت کی بدولت چین اور روس بھی ابھی تک شام کے مسئلے پر امریکہ و دیگر طاقتوں کے سامنے کھڑے ہیں۔آخر میں ایم ڈبلیو ایم کراچی کے سیکریٹری سیاسیات اصغر عباس زیدی نے مہمانوں کو اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے نائب سربراہ نے شام کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے بارے میں مغربی اور بعض عربی ذرائع ابلاغ کے گمراہ کن پروپیگنڈ کے باوجود شامی حکومت اور عوام کی کامیابی یقینی ہے اور لبنان میں 33 روزہ جنگ اور غزہ میں 22 روزہ جنگ میں سامراجی طاقتوں کی دو شکستوں کے بعد شام میں سامراجی طاقتوں کی تیسری شکست یقینی ہے ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree