وحدت نیوز (گلگت)  عوام نے باریاں لینے والی جماعتوں کے مک مکا کی سیاست کو دفن کردیا جبکہ عام انتخابات میں بری طرح شکست کھانے کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو میثاق جمہوریت کی یاد ستانے لگی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کو بھاری مینڈیٹ ملنے پر دیرینہ دشمنی دوستی میں بدل چکی ہے۔مرکزی سطح پر زرداری نواز مک مکا کے صوبائی سطح پر بھی اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کےڈپٹی سیکریٹری جنرل عارف قنبری نے کہا ہے کہ ملک کو دیوالیہ کرنے والے مفاد پرست سیاسی مداریوں کا ایک ہونے سے ثابت ہوگیا کہ یہ دونوں جماعتیں میثاق کرپشن پر گامزن ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میثاق کرپشن کے ذریعے دونوں جماعتوںنے طے کرلیا تھا کہ جس جماعت کو باری ملے وہ کرپشن کے مزے لوٹے اور اپوزیشن کی جماعت صرف لفظی وار کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکے گی لیکن بد قسمتی سے اس مرتبہ عوام نے ان جماعتوں کی سیاست کو دفن کردیا تو یہ سارے شکست خوردہ آپس میں بہن بھائی بن گئے۔تاریخ گواہ ہے کہ مسلم لیگ نواز کو جب بھی مشکل وقت آن پڑا تو پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے تسلسل کا بہانہ بناکر ان کی حکومت بچائی۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کا کیا موقف ہوگا جو مسلم لیگ نواز کو ملک دشمن اور کالعدم جماعتوں کے سرپرست سمجھتے تھے۔وہی آصف زرداری جو شہباز شریف کو ناسور سمجھتے تھے اور پنجاب میں ان کی سیاست کو دفن کرنا کا ارادہ رکھتے تھے ان کی جماعت شہباز شریف کو وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ دینے کا کیا جواز رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ان جماعتوں کے مابین گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی مک مکا کا فیصلہ ہوچکا ہے ،پیپلزپارٹی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں محض لفظی وار کرے گی۔پاکستانی عو ام نے ان جماعتوں کے اصلی چہرے کو دیکھ کر انہیں مسترد کیا ہے اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں بھی باریاں لینے والی جماعتوں کا صفایاہوجائیگا۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماو مرکزی سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی نے کہا ہے کہ بروقت شفاف الیکشن کرانے کے عمل سے جموریت مضبوط ہوگی، الیکشن سے قبل ہی دھاندلی کا وایلا مچانے والے اپنی شکست سے خائف ہیں احتساب کا عمل سخت اوربے رحمانہ ہونا چاہیے اور اس ضمن میں بلاتفریق احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے عام انتخابات کے سلسلے میں پنجاب او رسندھ میں مجلس وحدت مسلمین نے تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا ہے پاکستان کو قائد اعظم اورعلامہ اقبال کا پاکستان بنانے کیلئے مجلس وحدت مسلمین اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ،اسلامی پاکستان ہی ہماری منزل ہے ان خیالات کا اظہار انھوں نے مرکزی الیکشن سیل کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماو مرکزی سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی نے کہا کہ جموریت کا تسلسل خوش آئند ہے عوامی سطح پر بھی شعوربلندہوتاجارہا ہے سیاسی پارٹیوں میں بھی سیاست دان جمہوری کلچر کو پروان چڑھائیں تاکہ سیاسی جماعتوں کے اندربھی سلیکشن کے بجائے انتخابی عمل سے نظریاتی کارکنا ن آگے آسکیں ،انھوں نے کہا کہ احتسا ب کے عمل کو مذیدسخت اوربے رحم بنایا جائے اور احتساب سب کا بلا تفریق کیا جائے کرپشن کی لعنت کو جڑسے اکھاڑنے کیلئے اب بے رحمانہ احتساب وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اوراحتسابی کٹہرے میں سب کولایاجائے ہمار املک غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیاہے ہرحکومت قرضے اتارنے کے بجائے مذیدقرضوں کو بوجھ ملک پر ڈال دیتے ہیں ایسے میں سخت اقدامات کرنا ہونگے۔

وحدت نیوز (انٹرویو)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی پیشہ کے اعتبار سے قانون دان ہیں اور لاہور ہائیکورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں۔ قبل ازیں وہ ایم ڈبلیو ایم میں مرکزی سیکرٹری سیاسیات کے عہدے پر بھی کام کرچکے ہیں۔ ناصر شیرازی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر بھی رہ چکے ہیں، جبکہ انکا بنیادی تعلق پنجاب کے معروف ضلع سرگودھا سے ہے۔ انہوں نے تاریخ، بین الاقوامی تعلقات اور قانون میں ایم فل کیا ہے۔ آئی ایس او پاکستان کی مرکزی صدارت کے دوران متحدہ طلبہ محاذ کی قیادت بھی کرتے رہے ہیں۔ سید ناصر شیرازی ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار ہیں، وہ اپنی تحریر و تقریر میں حقائق کی بنیاد پہ حالات کا نہایت درست اور عمیق تجزیہ پیش کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انٹرنیشنل ریلیشنز اور کرنٹ افیئرز سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں انہیں بڑی پذیرائی حاصل ہے۔ انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے سیاست میں نمایاں خدمات سرانجام دیں، ملت جعفریہ میں سیاسی شعور بیدار کرنے میں بھی ناصر شیرازی کا اہم کردار رہا ہے، شیعہ سنی وحدت کیلئے بھی انکی خدمات انتہائی نمایاں ہیں۔ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے مجلس وحدت کی سیاسی پالیسی اور آئندے کے لائحہ عمل پر ایک مفصل گفتگو کی ہے، جو پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

سوال: اس بار الیکشن مین ایم ڈبلیو ایم کی سیاسی پالیسی کیا ہے۔؟

ناصر عباس شیرازی: مجلس وحدت مسلمین شروع دن سے چار نکاتی سیاسی پالیسی پر عمل پیرا ہے، نمبر ایک جب تک اپنا وزن نہ ہو، آپ کے اپنے الیکٹیبلز نہ ہوں اور آپ کا ووٹ بینک نہ ہو تو کوئی آپ کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا، لہذا ایک ہدف یہ ہے کہ پاکستان کے منتخب حلقوں میں اپنا وزن بنانا ہے، ایم ڈبلیو ایم کا ووٹ بینک بنانا ہے۔ میں سیٹ جتینے کے بات نہیں کر رہا ہے، لیکن یہ سیٹ جیتنے کی طرف ایک کام ہے۔ ایک سیاسی ویژن یہ ہے کہ ہم نے تکفیریوں کو اسمبلیوں میں نہیں پہنچنے دینا۔ خواہ وہ لوکل سطح کے ہوں یا عالمی سطح کے تکفیریوں کے سپورٹرز اور اتحادی ہوں۔ تیسرا ہدف یہ ہے کہ مثبت لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجا جائے، یعنی جو مکتب اہل بیت سے تعلق رکھتے ہوں یا حتیٰ اہل سنت حضرات میں سے اچھے اور مثبت لوگ ہوں، انہیں اسمبلیوں میں بھیجا جائے۔ ہمارا یہ بیانیہ مسلک سے بالاتر ہوکر ہے۔ خواہ شیعہ ہوں یا اہل سنت لیکن جو پاکستان کے بیانیہ کو سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں، انہیں سپورٹ کریں گے۔ ایک اور اہم بات یہ بھی کہ ہماری پالیسی کا حصہ ہے کہ اگر ہم کسی جماعت کو سپورٹ کرتے ہیں اور کسی حلقے میں ایک تکفیری امیدوار کو شکست دینے کا مسئلہ آئے گا تو ہم اس امیدوار کو سپورٹ کریں گے، جو مضبوط ہوگا، تاکہ تکفیریوں کی راہ میں رکاوٹ بنا جا سکے۔

سوال : مجلس کس سیاسی جماعت سے اتحاد کرنے جا رہی ہے یا اس بار بھی اپنی شناخت کیساتھ الیکشن لڑینگے۔؟

ناصر عباس شیرازی: دیکھیں کوئی بھی جماعت ہو، اسے الائنس کی سیاست کرنا پڑتی ہے۔ الائنس کی صورت میں آپ کے تحرک میں اضافہ ہوتا ہے، آپ کی مشکلات میں کمی واقع ہوتی ہے اور وہ جو کم مارجن سے سیٹ ہارنی ہوتی ہے، وہ مارجن ختم ہو جاتا ہے۔ ہماری بھی خواہش ہے کہ کوئی الائنس بنے، وہ الائنس کسی ہم فکر جماعت کے ساتھ ہو، اس الائنس کی بنیاد سیٹس نہیں ہیں، بنیاد پاکستان کا بیانیہ ہے، جہاں ہم مثبت تبدیلی لا سکیں، ایسا الائنس جس سے طالبانائزیشن اور تکفیریت کا خاتمہ ہو، آزاد خارجہ پالیسی تشکیل پائے، سوسائٹی میں رواداری پیدا ہو، پاکستان کو عربی یا غربی کالونی نہ بننے دے، ان مذکورہ بنیادوں پر کسی جماعت کے ساتھ اتحاد ہوسکتا ہے۔ ان بنیادوں پر الائنس کی سیاست ہو۔ ہماری تمام تر سیاست کا محور دین ہوگا۔ دینی مفاد کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ اگر ایسا کہین نظر آیا تو ہم الگ نظر آئیں گے۔ پاکستان کو آزاد اور قدرت مند ملک بنانے کے لئے کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

سوال : سنا ہے کہ پی ٹی آئی کیساتھ سیاسی معاملات حتمی مراحل میں داخل ہوچکے ہیں۔ اس بات میں کس حد تک حقیقت ہے۔ اگر ہے تو اسکی تفصیلات بیان کرنا چاہیں گے۔؟

ناصر عباس شیرازی: کیونکہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے، جب تک چیزیں دو جمع دو چار کی طرح واضح نہ ہوں یا فائنل نہ ہوجائیں، ان چیزوں کو بیان کرنا مناسب نہیں ہے۔ باقی اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم پی ٹی آئی کے قریب ہیں، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے اچھی میٹنگز ہوئی ہیں۔ بیانیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان شاء اللہ چیزوں کو فائنل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ چیزیں ذہن میں رکھتے ہوئے کہ 100 فیصد چیزوں کا حصول نہیں ہوا کرتا، لیکن چیزوں کا مثبت سمت میں جانا زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ ہم اپنی شناخت بھی باقی رکھنا چاہتے ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ جگہوں پر پاکستان تحریک انصاف ہمارے امیدواروں کے حق میں سرنڈر کرے۔ وہاں مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار الیکشن میں حصہ لیں۔ ان شاء اللہ ہمیں توقع ہے کہ پنجاب اسمبلی میں بھی داخل ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن یہ چیزیں ابھی کیونکہ حتمی نہیں ہیں، اس لئے فی الحال ہم وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

سوال : مجلس وحدت کا پی ٹی آئی جیسی جماعت سے اتحاد اور دوسری جانب ایک شیعہ جماعت کا ایم ایم اے کا حصہ بننا، اسکے کیا اثرات مرتب ہونگے، اس سے شیعہ ووٹ تقسیم نہیں ہوگا۔؟

ناصر عباس شیرازی: دیکھیں یہ میرا بھی سوال ہے کہ ایم ایم اے کے مضبوط ہونے سے کون مضبوط ہوگا؟، یقیناً یہی جواب ہے کہ مولانا فضل الرحمان جو ایم ایم اے کو لیڈ کر رہے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم پی ٹی آئی کے ساتھ جاتے ہیں اور سیٹ ایڈجسمنٹ کرتے ہیں تو تحریک انصاف مضبوط ہوگی، لیکن کیونکہ تحریک انصاف کا لوکل حوالے سے اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے موقف ہمارے قریب تر اور بہتر ہے، میرا خیال ہے کہ اگر اوپر کی سطح پر ڈاکٹرائن اور پالیسی درست ہو تو نیچے بھی وہی پالیسی نظر آتی ہے۔ اس اختلاف کے ساتھ کہ پی ٹی آئی کو ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں کوئی زیادہ بہتر رول ادا نہیں کرسکی۔ وہاں پر بھی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری رہا ہے، پی ٹی آئی کو جس طرح رسپانس دینا چاہیے تھا نہیں دیا۔ لیکن جب ہم اس کا ایم ایم اے کے دور سے موازنہ کرتے ہیں تو جو مکتب اہل بیت نے ایم ایم اے کے دور میں ایام گزارے ہیں، اس سے خوف آتا ہے، اس کی نسبت یہ دور غنیمت لگتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان چیزوں کا جب موازنہ کرتے ہیں تو ایسا کوئی قدم نہیں اٹھنا چاہیئے، جس سے تکفیری مضبوط ہوں۔

بدقسمتی سے مولانا فضل الرحمان صاحب بعض اوقات ان تکفیریوں کے شیلٹر رہے ہیں۔ اس حوالے سے میرے کچھ سوالات بھی ہیں، وہ یہ کہ مولانا فضل الرحمان نے ڈاکٹر عاصمہ جو ذاتی وجوہات کی بنیاد پر قتل ہوئیں، ان کی پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی۔ شام کے معاملے پر پاکستان نے قردارداد کی مخالفت کی تو مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ میں باقاعدہ تقریر کی اور کہا کہ مجھے شرم آرہی ہے کہ پاکستان نے شام میں لڑنے والے مجاہدین کے لئے آواز بلند نہیں کی، لیکن مولانا نے پاکستان میں طالبانائزیشن کے خلاف آواز بلند نہیں کی، انہوں نے اپنے حلقے میں قتل ہونے اہل تشیع کے حوالے سے ایک بیان پارلیمنٹ میں نہیں دیا، حتیٰ اخبارات میں بھی نہیں آیا، مذمت تو دور کی بات ہے۔ وہ اپنے حلقے میں قتل ہونے والے شیعوں کے گھر نہیں گئے، حتیٰ تعزیت تک نہیں کی۔ جب یہ سب کچھ نہیں ہوا تو ظاہر ہے کہ ہر کسی کو اپنے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ میں کسی کے فیصلے پر تنقید نہیں کرتا، لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ ہمیں ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہیئے، جس سے تکفیری مضبوط ہوں، ان کے مدارس مضبوط ہوں، یہ ہمیں سوٹ نہیں کرتا۔

سوال: بیورو کریسی میں ہونیوالی تبدیلی سے مطئمین ہیں، آزاد، شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کیلئے مزید کیا اقدامات ہوسکتے ہیں۔؟

ناصر عباس شیرازی: دیکھیں بیورو کریسی میں تبدیلی مثبت قدم تو ہے لیکن چونکہ خود الیکشن کمیشن میں بیوروکریسی تبدیل نہیں ہوتی، الیکشن کمیشن تبدیل نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن میں مسلم لیگ نون کے نامزد کردہ افراد موجود ہیں۔ لہذا ان کے ہوتے ہوئے آزاد الیکشن ہوتے ہوئے مشکوک نظر آتے ہیں۔ یہ بیوروکریسی کے تبادلے تو کرسکتے ہیں لیکن ان کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کرسکتے۔ ایک مدت ہوئی ہے کہ 35 سال سے بیوروکریسی کو چلایا جا رہا ہے، لہذا بڑی تبدیلی کی توقع رکھنا کہ یہ اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کرے گی، ناممکن نظر آتا ہے۔ البتہ یہ تبادلے مثبت چیز ہے۔

سوال : ایم ایم اے بھی الیکشن میں وارد ہے، اس سے مجلس کے امیدواروں پر کوئی فرق پڑسکتا ہے، جیسے کوئٹہ میں لیاقت ہزارہ کو آغا رضا کے حلقے سے کھڑا کیا گیا ہے۔؟

ناصر عباس شیرازی: دیکھیں 2013ء کے الیکشن میں یہ واحد سیٹ تھی جہاں مکتب اہل بیت کے ماننے والوں نے کامیابی حاصل کی، بہت ساری طاقتوں اور گروہوں کی کوشش ہوگی کہ یہاں سے مکتب اہل بیت کا ماننے والا کامیاب نہ ہو۔ اگر اس کے لئے ایم ایم اے کا پلیٹ فارم یا جھنڈا استعمال ہو رہا ہے، یہ بہت ہی بدترین بات ہوگی اور یہ وہ کم از کم دلیل ہے، جس کی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ ایم ایم اے مکتب اہل بیت کے ماننے والوں کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ یہاں سے ایم ایم اے کا نمائندہ اسمبلی میں نہیں جا سکتا، لیکن یہ ہمارے ووٹ خراب کرسکتے ہیں۔ یہ وہی ہدف ہے جو ہمیں کبھی نون لیگ کی سپورٹ میں گلگت بلتستان میں دیکھنا پڑا اور اب یہاں دیکھنا پڑ رہا ہے۔ ہم ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرکے جوان ہوئے ہیں۔ ان شاء اللہ مجلس کے دوست بصیرت سے اس کا مقابلہ کریں گے۔ یہ ذہن میں رہے کہ پاکستان میں مذہبی سیاسی جماعت کے عنوان سے جن کو مکتب اہل بیت کی نمائندگی کا شرف حاصل ہے، اس عنوان سے ایم ڈبلیو ایم ایک سیاسی جماعت کے طور پر میدان کے اندر ہے۔

سوال: یمن کے حالات کو کس طرف جاتا دیکھ رہے ہیں۔؟
ناصر عباس شیرازی: یمن میں انسانی المیہ تاریخی اور بدترین ہے، سب سے زیادہ قحط اور غربت یمن میں ہے، اس وقت 16 ممالک کا اعلانیہ اتحاد اور 40 ملکوں کا غیر اعلانیہ اتحاد ملکر یمنیوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔ بدترین طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، سویلین آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، کیونکہ سویلین نے حوثیوں کی حمایت کی ہے، اس لئے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عربی اور غربی دونوں الائنس اس وقت یمنیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا ہدف یہی ہے کہ یمنی عوام کی مزاحمت کو ہر صورت کچلا جائے۔ ان شاء اللہ یہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ ممکن ہے کہ عارضی طور پر ان کی فتوحات بھی ہوں، لیکن اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ ان عالمی طاقتوں کا بھرم کھل جائے گا، آل سعود کو بدترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی طاقتوں کا اسلحہ فروخت ہوتا رہے گا، چالیس رکنی فوجی اتحاد جو راحیل شریف کی قیادت میں ہے، اس کا چہرے بھی دنیا کے سامنے آجائے گا۔ یہ فلسطین اور کشمیر پر نہیں بولتے۔ ان شاء اللہ یمن دنیا کی آنکھیں کھولے ہوگا، یمن مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کے خواب کو چکنا چور کرے گا۔ اس وقت یمنیوں کو دو بحرانوں کا سامنا ہے، نمبر ایک اقتصاد ہے اور دوسرا ملٹری تھرٹ ہے، انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو شعب ابی طالب میں محصور سمجھتے ہیں، ہم سرنڈر نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم کربلا والوں کے بیٹے ہیں۔ شاعر نے اسی لئے کہا تھا:

چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو
بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا

یہ بندوقوں کی فتح نہیں ہوگی، کردار کی فتح ہے، چند دنوں میں جتنی اموات ہوئی ہیں، جس طرح اسٹریٹیجک فتح ملی ہے، یہ آل سعود کے لئے واضح پیغام ہے۔ اللہ یمنیوں کی مدد کر رہا ہے، یہ پوری دنیا کے لئے پیغام ہے کہ کسی قوم کو طاقت اور اسلحہ سے دبایا نہیں جاسکتا، اگر ملت کھڑی ہو جائے تو اس کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ اگر ہم پاکستانی بھی یہ فیصلہ کرلیں تو ان شاء اللہ مغرب، امریکہ اور سعودیوں کی کالونی نہیں بن سکتے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نےلیہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ معاشی،سیاسی و سماجی بحرانوں کے ذمہ دار سیاسی فرعون ،معاشی قارون اورمذہبی بلعم باعورا ہیں۔یہ استحصالی طبقہ ہے جو غریب کوسر نہیں اٹھانے دیتا۔ ایم ڈبلیو ایم ملک میں بسنے والے ہر فرد کے یکساں حقوق پر یقین رکھتی ہے۔قانون کی عمل داری نہ ہونے کانتیجہ عوامی استحصال کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ملک میں قانون کے نفاذ کی بجائے قانونی شکنی کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ ہر شعبے میں قانون شکن عناصر متوسط طبقے اور عام شہریوں کے لیےمشکلات اور اذیت کا باعث بنے ہوئے ہیں۔جو قوتیں ارض پاک کو مسلکوں کا ملک بنانے کی متمنی ہیں انہیں اپنے ناپاک عزائم میں شکست اٹھانا پڑے گی۔ہم تعصب ،تقسیم اور تفریق کی دیواروں کو گرانے کے لیے پورے عزم کے ساتھ میدان میں موجود رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنائے بغیر ملک و قوم کی ترقی ممکن نہیں۔اقربا پروری اور نا اہل افراد کی کلیدی عہدوں پر تعیناتی نے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے ۔عام انتخابات میں باصلاحیت نوجوان قیادت کو ملک کی بھاگ دور سنبھالے کا موقعہ دیا جانا چاہیے۔سیاست میں خاندانی اجارہ داری کاخاتمہ ہونا چاہیے۔کیا پاکستان کی مائیں ایسا کوئی بچہ پیدا نہیں کر سکتیں جو وطن عزیز کی سیاسی سطح پر قیادت کرے۔ملک کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو امریکہ کے دباؤ کا عوامی امنگوں اور قومی وقار کے مطابق جواب دے سکے ۔۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پرعالمی پریشر بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنےکے لیے خطے کی ضرورت کے مطابق پائیدارپالیسیاں طے کرنا ہوں گی جو نتیجہ خیز ثابت ہوں ۔ پاکستان،چین،روس، ترکی، ایران اورعراق پر مشتمل ایسا اتحاد تشکیل دیا جائے جو خطے کی سلامتی کے معاملات کا نگران ہو۔ یہ اقدامات پاکستان کو نا صرف مستحکم کرنے بلکہ خود انحصاری میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

انہوں نےکہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے سرائیکی صوبے کا قیام انتہائی ضروری ہے ۔ملک میں نظام حکومت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جدوجہد اور انتخابات کے علاوہ اور کوئی راستہ عوام یا ملک کے مفاد میں نہیں۔ہم ریاست میں آئینی اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے۔مختلف سیاسی جماعتیں الیکشن میں اتحاد کے لیے ہم سے رابطے میں ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) شام پر امریکہ کا وحشیانہ حملہ قابل مذمت ہے، ایک اسلامی ملک پر امریکی سامراج کی جارحیت کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ، امریکہ کایہ ظالمانہ اقدام اقوام متحدہ کے قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے ، ایک مشکوک قسم کے اقدام کے بعد کے جس کے نتیجے میں ادلب شہر میں زہریلی گیس کا حملہ ہوا اور سینکڑوں شہری مارے گئےاور اس کا الزام شامی حکومت پر لگاکرایک ایسے فضائی اڈے کو نشانہ بنایاجانا جہاں سے داعشی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں عمل میں آتی تھیں یہ دہشت گردوں کی بھرپور حمایت ہے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے گذشتہ روز شام پر امریکہ کے فضائی حملے خلاف سماجی رابطے کی ذرائع پر اپنے مذمتی بیان میں کیا ۔

انہوں نے کہا کہ  سعودیہ اور ترکی جیسے بعض نام نہاد اسلامی ممالک نے اس امریکی جارحانہ اقدام کی حمایت کی ہےوہ بھی قابل مذمت ہے،شام پر امریکی حملہ اور سعودیہ واسرائیل کی حمایت انکےباہمی گٹھ جوڑ کی واضح دلیل ہے، یہیں سے آل سعود کی خطے کے لئے ترجیحات اور اہدافات واضح ہو جاتے ہیں ، آل سعود اسرائیلی بلاک کا حصہ ہیں، عالمی صہیونی اژم کے نوکر ہیں ، ہمارے حکمرانوں کو بھی سوچنا چاہئے کہ آل سعود جوکہ صہیونی اژم کے حامی اور امریکہ کے غلام ہیں ان کے بنائے گئے اتحاد میں جاناکس حد تک عاقلانہ اقدام ہے اور پاکستان کے حق میں کس حد تک مفید ہو سکتا ہے، یہ سراسر پاکستان کے لئے نقصان دہ ہے، پاکستان کے عوام بالعموم اہل تشیع بالخصوص اور اہل سنت کی بڑی تعداداس اتحادمیں شمولیت کی بھر پور مخالفت کرتی ہے، یہ اقدام پہلے ہی سے پولرائزیشن کے شکار پاکستانی معاشرے کو مذید تقسیم کردے گا ،لہٰذا گذشتہ روز مشرق وسطیٰ ، گلف اور ویسٹرن ایشیاء کے اندر امریکہ کی جانب سے ہونے والے جارحانہ اقدامات اور سعودی حکومت کی جانب سے ان کی حمایت ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہیں ، اس طرح کے احمقانہ الائنس میں شمولیت سے گریز کیاجائے، یہ پاکستان کے باشعور عوام کی آراء کے خلاف ہےجوکہ اس کی مذمت کرتے ہیں ،ناپسند کرتے ہیں اور اسے پاکستان کے حق میں نقصان دہ سمجھتے ہیں ۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے سندہ یونائیٹڈپارٹی کے مرکزی صدر سابق ڈپٹی اسپیکر سید جلال محمود شاہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سندہ کی سیاسی صورتحال پر غور و خوص کیاگیا۔ اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث سر زمین سندہ اور ملک بھر میں ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں، ہم دہشت گردی کو ناسور سمجھتے ہوئے ملک بھر میں دہشت گردی کے اڈوں ،تربیتی مراکز اور سہولتکاروں کے خلاف بھرپور آپریشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے باوجود دھشت گرد تنظیموں کے جھنڈے اور نفرت انگیز سرگرمیاں ریاستی اداروں کے کردار پر سوالیہ نشان ہیں، ہم سندہ میں مذہبی رواداری کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہر قسم کی نفرتوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔سندہ حکومت نے سانحہ شکارپور اور جیکب آباد کے متاثرین سے جو وعدے کئے وہ تاحال پورے نہ ہوئے ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سندہ گورنمنٹ سانحے کے زخمیوں کا مکمل علاج کراتے ہوئے معاہدے پر عمل کرے۔

اس موقع پر سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ سندہ یونائیٹڈ پارٹی 26 فروری کودھشت گری، انتہا پسندی اور کرپشن کے خلاف سندہ سطح کا اجتماع کررہی ہے۔سندہ دھرتی اولیائے کرام اور صوفیاء کی سر زمین ہے جس نے ہمیشہ امن و محبت اور احترام انسانیت کا پیغام دیا ہے،ہم وادی مہران میں دہشت گردوں کی سہولتکار کالعدم جماعتوں کی سر گر میوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

Page 1 of 5

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree