وحدت نیوز(انٹرویو) ملک اقرار حسین کا بنیادی تعلق پنجاب کے علاقہ دینہ ضلع جہلم سے ہے، وہ اسوقت مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری روابط کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں، ملک صاحب کا شمار ایم ڈبلیو ایم کے تاسیسی رہنماوں میں ہوتا ہے، اسکے علاوہ وہ سماجی اور فلاحی امور میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ رواں ماہ کے آخر میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا سالانہ تین روزہ مرکزی کنونشن منعقد ہونے جا رہا ہے، ملک اقرار حسین صاحب کو اس کنونشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، اسلام ٹائمز نے اس کنونشن کی مناسبت اور ڈی آئی خان ٹارگٹ کلنگ و نیوزی لینڈ سانحہ سے متعلق ملک اقرار حسین کیساتھ ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)
 
سوال: ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں صورتحال روز بروز ابتر ہو رہی ہے، یہاں قتل و غارت گری کیوں رک نہیں پا رہی اور ایم ڈبلیو ایم اس حوالے سے کیا کوششیں کر رہی ہے۔؟
ملک اقرار حسین: سب سے پہلے تو آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں موقع دیا، جہاں تک ڈی آئی خان کا مسئلہ ہے تو اس حوالے سے ہمارے کچھ بنیادی اہداف ہیں، پاکستان میں جب ہم نے ملی اعتبار سے جدوجہد کا آغاز کیا تھا تو شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) نے ہمیں بڑا بنیادی اصول دیا تھا، انہوں نے فرمایا تھا کہ ہم ہر ظالم کے مخالف ہیں، چاہے وہ شیعہ ہی کیوں نہ ہو اور ہر مظلوم کے حامی ہیں چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اسی اصول کو سامنے رکھ کر آج تک جدوجہد کرتے رہے ہیں، گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ظلم ہوا ہے، مجلس وحدت مسلمین نے کراچی سے خیبر تک ہر موقع پر اپنا رول پلے کیا ہے، ڈی آئی خان کی بات کی جائے تو گذشتہ دس بارہ سال سے وہاں حالات خراب ہیں، ہم اس حوالے سے اداروں کیساتھ بیٹھے ہیں، صوبائی حکومت سے بات ہوئی ہے، حکومتی کمیٹی کیساتھ مسئلہ کو اٹھایا ہے۔

ایک چیز انہیں بھی کلئیر ہے اور ہمیں بھی واضح ہے کہ چند سالوں کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس اور بعض اداروں میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی بھرتیاں کی گئیں، ٹارگٹ کلنگ کی یہ کارروائیاں اسی مائنڈ سیٹ کا ہی نتیجہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب جبکہ ایک نئی حکومت آئی ہے، عمران خان صاحب ایک نئے ویژن اور نئے پاکستان کا نعرہ لگا کر آئے ہیں تو ہم ان کے وزراء اور دیگر حکومتی مسئولین کو یہ باور کروا رہے ہیں کہ ڈی آئی خان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ الحمد اللہ وہاں سے بھی رسپانس مثبت ہے، لیکن چیزیں کہیں نہ کہیں خراب ہو رہی ہیں، کچھ کالی بھیڑیں ایسی ہیں کہ جو نہیں چاہتیں کہ پاکستان اور بالخصوص ان علاقوں میں جہاں اہل تشیع قدرت مند ہیں، امن قائم ہوسکے۔ آنے والے دنوں میں سیکرٹری داخلہ سے ہماری ملاقات ہے اور مزید اس مسئلہ پر ہم کوششیں جاری رکھیں گے۔
 
سوال: گذشتہ دنوں نیوزی لینڈ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، ابھی تک تو امریکہ اور مغرب مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیتے رہے ہیں، اس مخصوص واقعہ کے پس پردہ کیا محرکات ہوسکتے ہیں۔؟
ملک اقرار حسین: سب سے پہلے تو میں ان شہداء کے لواحقین کو تعزیت پیش کرتا ہوں، ہماری ہمدردیاں ان خاندانوں کیساتھ ہیں، ان شہداء کے لئے ہم دعاگو ہیں۔ نیوزی لینڈ انتہائی پرامن ملک ہے، بظاہر یہ اسی انٹرنیشنل ٹرائیکا کی کارستانی ہے، امام خمینی (رہ) نے فرمایا تھا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی شیطانیت ہوتی ہے، اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ نیوزی لینڈ کا واقعہ بھی اسی استکباری ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے کرایا گیا ہے، استکبار بعض اوقات اپنے ہی لوگوں کا نقصان کراکر اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے، جسطرح کہ نائین الیون کا واقعہ کہ انہوں نے خود کیا اور پھر اس کے ردعمل میں مسلم ممالک پر چڑھ دوڑے، جبکہ بعض اوقات وہ براہ راست اپنے مخالفین کو نشانہ بناتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ آسٹریلوی نژاد باشندہ انہی قوتوں کا آلہ کار ہے، چاہے القاعدہ ہو، چاہے طالبان کی شکل میں ہوں، چاہے داعش کی شکل میں ہو، یہ سب امریکہ اور اسرائیلی ایجنسیوں سے منسلک ہیں، دہشتگردی کی جتنی بھی شکلیں ہیں، وہ قابل مذمت ہیں۔
 
سوال: 29 مارچ سے مجلس وحدت مسلمین کا سالانہ کنونشن منعقد ہونے جا رہا ہے، ہمارے قارئین کو ذرا اس تنظیمی کنونشن کے پس منظر سے آگاہ کیجیئے گا۔؟
ملک اقرار حسین: اس کنونشن کو جانثاران امام عصر (عج) کنونشن کا نام دیا گیا ہے، ویسے تو سالانہ طور پر ہمارا پروگرام ہوتا ہے، جسے ہم شوریٰ عمومی کے اجلاس کے عنوان سے منعقد کرتے ہیںو تاہم تین سال بعد مجلس وحدت مسلمین کے اہم ترین عہدہ مرکزی سیکرٹری جنرل کا انتخاب ہوتا ہے، اس اجلاس کو ہم کنونشن کا نام دیتے ہیں۔ لہذا اس عنوان سے یہ کنونشن بہت اہم ہے، اس کنونشن کے ذریعے ہم ان جمہوری قوتوں کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ جو ہر وقت جمہوریت کا راگ الاپتی ہیں کہ درحقیقت جمہوری اقدار کو فروغ دینے کیلئے کردار ہم ادا کر رہے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ پارٹی چیئرمین، صدر یا سربراہ تاحیات نہیں ہونا چاہهئے، یہ ہمارے دستور میں بھی شامل ہے، یہی جمہوریت کا بھی حسن ہے کہ پورے ملک سے شوریٰ عمومی کے اراکین ہر تین سال بعد مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے میر کاررواں کا انتخاب کرتے ہیں۔

اس کے ذریعے ہم یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ ہم موروثیت کے قائل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس کنونشن کی دوسری اہم چیز کہ پاکستان میں اتحاد و وحدت کے فروغ کیلئے ہم ہر سطح پر کردار ادا کرتے رہے ہیں، اس کنونشن کا آخری سیشن انتہائی شایان شان ہوگا، جس میں ملک بھر کی سیاسی و مذہبی قیادت کو آن بورڈ لیا جا رہا ہے، تمام ملی و قومی تنظیموں کو بلایا جا رہا ہے، اس میں علمائے کرام شامل ہیں، دانشور حضرات، صحافی، سیاسی و مذہبی رہنماوں کو دعوت دی جا رہی ہے، کنونشن کے آخر میں وحدت اسلامی کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی شریک ہونگی، اس کنونشن سے ملک بھر میں وحدت و اخوت کا پیغام جائیگا۔
 
سوال: اس کنونشن کے سلسلے میں اب تک تیاریوں اور رابطہ مہم کی کیا صورتحال ہے۔؟
ملک اقرار حسین: اسلام آباد میں 29 مارچ سے 31 مارچ تک یہ تین روزہ کنونشن منعقد ہوگا، اس حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں، بنیادی انتظامات کو حتمی شکل دی جاچکی ہے، جہاں تک رابطہ مہم کا تعلق ہے تو ہمارے مرکزی ذمہ داران، صوبائی ذمہ دران، دفاتر کے احباب اور اضلاع کے دوست کراچی سے خیبر تک دعوت کا عمل بھرپور طریقہ سے جاری ہے۔ امید ہے کہ آنے والے ایک دو دنوں تک ملک بھر سے وہ افراد جن کو اس کنونشن میں شریک ہونا ہے، سب تک ہمارا دعوت نامہ اور پیغام پہنچ جائے گا۔
 
سوال: یہ کنونشن گذشتہ کنونشنز جیسا ہوگا یا پھر اس بار کوئی نیا پہلو سامنے لایا جا رہا ہے۔؟
ملک اقرار حسین: ظاہر سی بات ہے کہ ہر جماعت اور سسٹم کے ابتدائی مراحل ہوتے ہیں، مجلس وحدت مسلمین بھی اپنا ابتدائی سفر طے کرچکی ہے اور اب تک لگ بھگ ایک دہائی کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس میں ہمارے بہت تجربہ کار اور نظریاتی لوگ شامل ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان سیاسی طور پر ایک اہم رول ادا کرے گی، اس کے علاوہ مذہبی طور پر جو کہ ایک خواب تھا کہ ہم ملی اخوت اور اتحاد و وحدت کی طرف بڑھ سکیں، اس عنوان سے بھی ان شاء اللہ کامیابیاں سمیٹیں گے۔ امید ہے کہ نئے سیکرٹری جنرل کا جو انتخاب ہوگا اور نئی کابینہ آئے گی، وہ پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں کام کرسکے گی۔ لوگوں میں بہت محبتیں اور دلچسپیاں ہیں، جہاں بھی ہم جاتے ہیں، وہاں لوگ بہت محبتوں کا اظہار کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کنونشن کب اور کیسے منعقد ہونے جا رہا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین کی عوام کیساتھ وابستگی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔
 
سوال: ملت تشیع کے بعض طبقات اکثر یہ گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ شیعہ جماعتیں آپس میں متحد نہیں ہوتیں، اس کنونشن میں کیا شیعہ جماعتوں اور اکابرین کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔؟
ملک اقرار حسین: جی بالکل، اس حوالے سے ہم تمام ملی جماعتوں، اکابرین، مدارس کو دعوتیں دے رہے ہیں، ماتمی سنگتوں، مقامی تنظیموں کو بھی دعوتیں دے رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ یہ کنونشن ملی اعتبار سے اتحاد و اخوت کا گلدستہ ثابت ہوگا۔
 
سوال: اس کنونشن کے حوالے سے اپنے تنظیمی مسؤلین، کارکنان اور دیگر کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
ملک اقرار حسین: اس حوالے سے میں تمام مسئولین کو یہ کہنا چاہوں گا کہ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں، اس میں ہماری سنگین ذمہ داریاں ہیں، ہمیں چاہیئے کہ شرح صدر کیساتھ ملت کے تمام طبقات کو اپنے قریب کریں، کہیں پر بھی ایسا پیغام نہیں جانا چاہیئے، جس سے کسی کی دل آزاری ہو، ملت کو متحد کرنے کیلئے آگے بڑھیں، ملت اور پاکستان کی بھی اسی میں بقاء ہے کہ ہم ملکر آگے بڑھیں، اسلام اور پاکستان دشمن قوتوں کو ہم ٹف ٹائم دے سکیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے تحت ملک بھر میں یوم دفاع مادر وطن کے موقع پراحتجاجی ریلیوںاور مظاہروں کا انعقاد ، یوم دفاع مادر وطن سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس کے اعلان پرمنایا گیا، ریلیو ں کا مقصد حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاک افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ہندوستان کی جنگی جارحیت کی مذمت اور مقبوضہ کشمیر کے مظلو م کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ملک بھر کے تمام اضلاع اور اہم شہروں لاہور،کراچی ،کوئٹہ، پشاور،اسلام آباد ،آزاد کشمیرسمیت گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں سینکڑوں مقامات پر دفاع مادر وطن ریلیاں نکالی گئیں کئی شہروں میں بھارتی وزیر اعظم مودی کے پتلے بھی نظر آتش کئے گئے ۔

سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کایوم دفاع مادر وطن منانے کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ ہندوستانی جارحیت کے خلاف پورے ملک کی عوام اپنے وطن کے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تمام سیاسی و دینی قیادت اس حساس مرحلے پر متحد ہے۔ وطن سے عشق ہمارے دین اور ایمان کا حصہ ہے مادر وطن پر جان نثار کرنا ہر پاکستانی اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے۔ہم دنیا کی کسی بھی طاقت کو وطن عزیز کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے،بھارت امریکہ اور اسرائیل دنیا کی امن کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے،جذبہ شہادت سے سرشار یہ غیور قوم دشمن کے ہر مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے ہمہ وقت سر بکف تیار ہیں وطن کی سلامتی و استحکام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے ۔

اسلام آباد میں بھی ملک بھر کی طرح دفاع مادر وطن ریلی کا انعقاد کیا گیا جوکہ جامع مسجد اثناءعشری جی سکس ٹو سے نکل کر چائینہ چوک تک گئی۔ ریلی میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی ریلی کے شرکا ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم تھامے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتے رہے ریلی سے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی قائدین نے خطاب کیا، سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم ضلع اسلام آباد علامہ حسنین شیرازی کا اپنے خطاب میںکہنا تھا کہ دشمن کی گیڈر بھبکیوںکے جواب میں پاک فوج کے اقدام نے قوم کا مورال بلند کر دیا ہے اب اور بھی زیادہ حوصلے و جرت سے مقابلہ کرنے کو تیار ہیں۔

مرکزی سیکرٹری روابط ملک اقرار حسین کا ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کو اس نازک اور اہم مرحلے پراندازہ ہو گیا ہے کہ دنیا میں ہمارے دوست اور دشمن ملک کون سے ہیں۔جب تک ہم معاشی طور پرمضبوط نہیں ہونگے اور ہر معاملے میں قومی وقاراور مفاد کو مقدم نہیں رکھیں گئے ہمارے ساتھ کوئی بھی ملک کھڑ انہیں ہو گا۔ہمیں ایک قوم بن کر ملک کی ترقی اور سربلندی کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی اس موقع پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے۔ ایم ڈبلیو ایم ضلع راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل علامہ سیداکبر کاظمی کا کہنا تھا کہ مادر وطن کی حفاظت کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گئے۔مجلس وحدت مسلمین کا ہر کارکن مادر وطن کی ترقی کیلئےکوشاں اور حفاظت کے لئے تیار ہے ۔

وحدت نیوز(اسلام آباد)وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے شیعہ مکتب فکر کی توہین اور اس پر سنگین الزامات پر مبنی نوٹیفکیشن کے اجراءپر ملت جعفریہ کے شدید غم وغصے ، مجلس وحدت مسلمین کےسربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کے وزیر اعظم عمران خان سےنوٹس لینے کے مطالبے اور مرکزی پولیٹیکل سیکریٹری سید اسدعباس نقوی کے وفاقی حکومت سے بھرپوراحتجاج ، خدشات اور اعتراضات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر ٹویٹ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کی طرف سے جاری مبینہ نوٹیفکیشن کے مواد کا سختی سے نوٹس لے لیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وزارت داخلہ کی جانب سے نوٹیفکیشن مخصوص طبقے کیلئے جاری کیا گیا، جس میں ایک خاص مکتب فکر کا ذکر کیا گیا ہے، جس کا وزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ایسے موقع پر نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہاہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ہم اس مندجہ زیل متنازعہ نوٹیفکیشن کا جائزہ لے رہے ہیں جوکہ ہماری حکومت کی پالیسی میں شامل ہی نہیں ہے،پاکستان سب کاہے اور سب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی آوازبلند کرے اورنئے پاکستان میں کسی کویہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کے مسلک یا عقیدے کی بنیادپر اسے چیلنج کرے ۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) حلقہ پی بی 26کوئٹہ کے ضمنی انتخاب میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ ڈویژن کی جانب سے کارکنان ، عہدیداران اور معززین کے اعزازمیں عصرانے کا اہتمام کیا گیا ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر قانون آغا رضا نےکہاکہ با شعور سیاسی جد و جہد میں ہی آبرو مندانہ زندگی کا راز پنہاں ہے،ضمنی الیکشن پی بی 26 ہزارہ ٹاون میں دوسری اور مجموعی طور پر پورے حلقے میں تیسری پوزیشن لینا بڑی کامیابی ہے،مجلس وحدت مسلمین پاکستان وطن عزیز پاکستان میں تمام مکاتب فکر کے درمیان عملی اتحاد کی داعی دینی سیاسی جماعت ہے، ضمنی الیکشن پی بی 26 میں ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے نامزد امیدوار سید محمد رضا (آغا رضا ) پر عوامی اعتماد اس حلقے کی سیاسی بصیرت کی دلیل اور بھر پور عوامی تائید عوامی بیداری کا ثبوت ہے،خصوصا چیف آف ہزارہ قبائل جناب محترم سردار سعادت علی خان، ہزارہ ٹاون سے ملحقہ تمام محلوں عوام الناس سیاسی شخصیات علماء کرام بزرگ اکابرین سب ٹرائب سیاسی سماجی شخصیات نوجوانوں خواتین ماوں بہنوں بیٹیوں اور مخلص کارکنوں کے مشکور ہے جنہوں نے 40 دنوں کی کم وقت میں انتھک محنت کیں اعتماد کا اظہار کیا اور اپنی سیاسی بیداری کا ثبوت دیا ،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قائدین صوبائی کابینہ ڈویژنل اقر ضلعی عہدہ داروں کی طرف سے تمام ووٹرز سپورٹرز اور کارکنوں کے بے حد مشکور ہیں،جنہوں نےبھر پور تعاون اور حمایت کا اعلان کیا ۔

وحدت نیوز (کراچی) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر میں عید میلادالنبی ﷺ کے جلوسوں کا پُرتپاک استقبال کیا گیا،درودوسلام اور لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے نعرے ہر طرف فضا میں گونجتے رہے۔اتحاد بین المسلمین کے اس فقیدالمثال مظاہرےکو شیعہ سنی علما کی طرف سے زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد علمائے کرام اور عمائدین نے جشن عید میلاد النبی کے جلوسوں میں بھرپور شرکت کی۔ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کی جانب سے شہر کے 50سے زائد مقامات پر استقبالیہ کیمپ اور سبیلوں کا اہتمام بھی کیا گیا ۔

کراچی میں نمائش چورنگی ،محمود آباد،بلدیہ ٹاؤن،انچولی،نیو کراچی،گلشن اقبال،گلستان جوہر ،ملیر جعفر طیار سوسائٹی،کھوکھراپار،لانڈھی ،کورنگی،بن قاسم ٹائون ،اسٹیل ٹاؤن سمیت مختلف علاقوںمیں مجلس وحدت مسلمین کے عہدیداران اور علمائے کرام نے جلوس ہائے میلاد مبار ک کے شرکاءکاوالہانہ استقبال کیا، ان پر گل پاشی ، مشروبات اور نیاز سے ان کی تواضع کی اور مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں، جبکہ گلشن وقار بن قاسم ٹائون میں ایم ڈبلیوایم کی جانب سے جلوس میلاد النبیﷺ بھی نکالاگیا جس میں شیعہ سنی علمائے کرام نے خطاب کیا جبکہ تمام مسالک کےافراد نے بڑی تعدادمیں شرکت کی،مرکزی استقبالیہ کیمپ سولجر بازارمیں صوبائی سیکریٹریٹ کے باہر لگایا جہاں سیکریٹری جنرل کراچی ڈویژن علامہ صادق جعفری نے شرکائے جلوس میلاد کو خوش آمدید کہا، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سابق سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار سمیت دیگر سیاسی وسماجی شخصیات نے ایم ڈبلیوایم کے استقبالیہ کیمپ کا خصوصی دورہ کیا اور ایم ڈبلیوایم کے رہنمائوں کے ہمراہ شرکائے جلوس کو سبیل پیش کی۔

مختلف مقامات پر استقبالیہ کیمپوں اور جلوسوں میں ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما علامہ سید احمد اقبال رضوی، ڈویژنل رہنما علامہ صادق جعفری، علامہ مبشر حسن، علامہ علی انور جعفری، علی حسین نقوی،ناصرحسینی، علامہ نشان حیدر، علامہ غلام محمد فاضلی، میر تقی ظفر، احسن عباس رضوی، عارف رضا زیدی سمیت دیگر رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک مرتبہ پھر شیعہ سنی مسلمانوں نے جشن میلاد النبیؐ مل کر مناکر دشمنان اسلام کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیاہے، نواسہ رسول ؐ امام حسین ؑ کا غم اور رسول خداؐ کی ولادت کا جشن امت مسلمہ کی مشترکہ میراث ہے، مملکت خداداد پاکستان کے حکمران اور سیاست دان اگر رسول کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں تو ملک کو درپیش مشکلات اور دہشت گردی جیسے عفریت سے مکمل چھٹکارہ ممکن ہے ۔

رہنمائوںنے کہاکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پیغمبر اعظم ﷺ کی یوم ولادت کے مناسبت سے ملک بھر میں۱۲ تا۱۷ ربیع الاول تک ہفتہ وحدت منانے کا اعلان بھی کیا ہے جس کی پر نور محافلوں کا آغاز کر دیا گیاہے، سرورکائنات رحمت للعالمین کی ذات اقدس ہی مسلم امہ کے درمیان مرکزِوحدت ہے۔ عید میلادالنبی ﷺ کے جلوسوں میں جس اتحاد و یگانگت کے ساتھ شیعہ سنی عوام شریک ہوئے اس سے بخوبی اس بات کا انداز لگا یا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں شیعہ سنی یک جان اور متحد ہیں،نفرت اور دہشت گردی پھیلانے والوں کا دونوں مکتب سے کوئی تعلق نہیں،ماہ ربیع الاول کے ان بابرکت ایام میں جس عملی وحدت کا مظاہرہ دیکھنےمیں آیا یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ فرقہ پرستوں کو اپنے مذموم عزائم میں شکست ہوئی ہے،،دہشت گرد دراصل ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر مسلمانوں کو آپس میں دست و گریبان کرکے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری حفظہ اللہ نے عراقی ویزا کے حصول میں پیش آمدہ مشکلات کے حوالے سے آج بروز جمعرات سہہ پہر عراقی حکام خصوصا عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کو خط لکھا ہے جس میں اسلام آباد میں قائم عراقی سفارت خانے کی طرف سے ویزا کے صدور میں تعطل کا فوری نوٹس لینے کا کہا اور زائرین حضرت ابا عبداللہ کے چہلم امام حسین (ع) پر سفر میں ہر ممکنہ تعاون و سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا. علاوہ ازیں مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ امور خارجہ کے سیکرٹری ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے دیگر متعلقہ عراقی حکام خصوصاعراقی وزیر خارجہ ڈاکٹر ابراہیم جعفری سے رابطہ کیا اور ویزا کے صدور میں مشکلات کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ اور اس عنوان سے پاکستان سے چہلم امام حسین (ع) پر شرکت کرنے والے لاکھوں زائرین حضرت ابا عبداللہ الحسین (ع) کی تشویش اور پریشانی سے آگاہ کیا. عراقی حکام کی طرف سے ویزا کے صدور میں تعطل کو جلد از جلد برطرف کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

علامہ راجہ ناصرعباس کی جانب سے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کو لکھے گئے خط میں کہاگیاہےکہ ہم رسول اللہﷺ اور ان کے خانوادے سے جنون اور عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں پاکستانی زائرین کربلائے معلیٰ اور نجف اشرف کی زیارات سے مشرف ہونے کیلئے ہوائی اور زمینی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ گذشتہ کئی ادوار سے پاکستان میں موجود عراقی سفارت خانہ زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کرتا رہا ہے، مگر اس برس حد درجہ سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، پاکستانی زائرین نے اس سال اربعین امام حسین ؑ پر جانے کیلئے اپنی تیاری پچھلے سالوں کی آسان ویزہ پالیسی کو دیکھتے ہوئے کی مگر ویزہ کے اجراء میں رکاوٹوں اور دشواریوں کے باعث ان کا زیارتی پروگرام متاثر ہورہا ہے ۔

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے خط کے اآخر میںعراقی وزیر اعظم حیدر العبادی سے گذارش کی کہ آپ  فی الفور اسلام آباد میں قائم عراقی سفارت خانے کو ضروری ہدایات جاری کریں کہ وہ زائرین امام حسین ؑ کو ہنگامی بنیادوں پر ویزہ جاری کریں، زائرین ابا عبداللہ الحسین ؑ کی مشکلات حل کرنے کی بدولت خدا آپ کو اجر عظیم دے اورآپ پر اپنی برکتیں نازل فرمائے، میں آپ کے مثبت اور فوری جواب کا منتظر رہوں گا۔

Page 1 of 98

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree