وحدت نیوز(لاہور) مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ سید مبارک علی موسوی کا اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے یمن مخالف ووٹ دینے پر گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا کہ ایم ڈبلیوا یم نے انتخابات میں اور اس سے قبل مختلف تحریکوں میں تحریک انصاف سے بیلنس خارجہ پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا تھا ۔ جبکہ پاکستان نے یمن ایشیو پر فریق بن کر ظلم کا ساتھ دیا ہے، جس سے دنیا میں پاکستان کا امیج خراب ہوا ہے اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پاکستان اقوام متحدہ میں دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ دکھاتا ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے اور دوسری جانب یمن میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کی تحقیقات کے مخالف ووٹنگ میں حصہ لیتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی دوغلے پن کا شکار ہے جس پر شاہ محمود قریشی صاحب کو وضاحت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم نے ہر فورم پر دنیا کے ہر مظلوم کے حق میں آواز اٹھائی اور اسی طرح ان ایشوز کو اٹھاتے رہیں گے، اور یہی کربلا کا درس ہے۔ علامہ مبارک علی موسوی کا مزید کہنا تھا کہ مظلوم چاہے کشمیرکے ہوں ، فلسطین یا یمن کے ہوںہمیں نیوٹرل رہتے ہوئے دنیا کے تمام مظوموں کا ساتھ دینا ہو گا۔

وحدت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین صوبہ بلوچستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ ظفرعباس شمسی نے یو م یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہاکہ ہندستان کشمیر کی عوام پر ستر برس سے ظلم ڈہا رہا ہےِ کوئی دن ایسا نہیں جس دن کوئی کشمیری قتل نا ہوتا ہو کسی نا کسی بہانے سے ہندستان کشمیریوں کا قتل عام کرتا رہتا ہے ،کشمیر میں آبادی کے تناسب تبدیل کیا جا رہا ہے حکومت ہندستان ملک کی دوسری ریاستوں سے ہندؤں کو لا کر کشمیر میں آباد کررہی ہے تاکہ کشمیرکی اصل آبادی( جو کہ مسلمانوں کی آبادی ہے ) کوکم کیا جا سکے اور دنیا کو بتایا جا سکے کہ کشمیر میں اکثریت ہندو کی ہے نا کہ مسلمانوں کی اور یہ کہ کشمیری اپنا حق خود ارادیت سے محروم ہو جائیں اور ہندستان آبادی کا تناسب اس لیے بھی تبدیل کر رہا ہے کہ اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے گی ،کشمیریوں سے پوچھا جائے گا کہ تم کشمیری پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہو یا ہندستان کے ساتھ  اور یاد رہے کہ  یہ قرارداد ہندستان نے اقوام متحدہ میں خود پیش کی تھی مگر اب وہ اس اپنی پیش کردہ قرارداد سے انکار کرتے ہوئے کشمیر میں رائے شماری نہیں کرنے دیتا ،اقوام متحدہ بھی رائے شماری کرانے سے گریزاں ہے جس پر کشمیری احتجاج کر رہے ہیں توہندستان کشمیریوں پر ظلم و ستم کرتے ہوئے ان کا قتل عام کر رہا ہے ۔

انہوں نے اقوام متحدہ  سے اپیل کی کہ وہ ہندستان کو روکے کہ وہ کشمیریوں کا قتل عام بند کرے ،قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے مگر پاکستان کے حکمران ہندستان سے وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے کشمیریوں کی جو امداد کرنی چاہیے تھی وہ نہیں کرتے بلکہ ہندستان کے وزیر اعظم سے دوستی چاہتے ہیں مگر کشمیریوں سے نہیں ،یہی وجہ ہے کہ 70 سال گزر چکے ہیں اب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا ،پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے الجھانے میں برطانیہ نے بھی کردار ادا کیا ہے اس لیے کہ برطانیہ نے یہ قانون تجویز کیا تھا کہ جس ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت ہو گی وہ ریاست پاکستان میں شامل کی جائے گی مگر جب کشمیر کی باری ائی تو ہندستان نے کشمیرپر فوج کشی کی تب برطانیہ نے چپ سادھ لی کشمیر کو پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا نہیں کہا باوجود اس کے کہ کشمیری کہتے رہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ شامل ہوں گے برطانیہ نے یہ سب اس لیے کیا کہ پاکستان . ہندوستان سے الجھا رہے اور ملک ترقی نا کر سکے ،انشااللہ ایک دن ائے گا کشمیر بنے گا پاکستان ،مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ ہے ان کی سیاسی اور اخلاقی امداد کرتی رہے گی اور میں حکومت پاکستان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ منافقت چھوڑ کر کشمیریوں کی سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی مدد کرے ۔

وحدت نیوز(جیکب آباد) آئی ایس او کے زیراہتمام ملک گیر یوم احتجاج کے سلسلے میں جیکب آباد میں علامہ مقصودعلی ڈومکی، علامہ سیف علی ڈومکی، سید احسان شاہ بخاری، اللہ بخش اور حبدار علی ابڑو کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ جیکب آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین سندہ کے سیکریٹری جنرل علامہ مقصودعلی ڈومکی نے کہا کہ اقوام متحدہ میں امریکہ کو شکست فاش ہوئی جو اس بات کی دلیل ہے کہ امریکہ اور اس کا پاگل صدر اقوام عالم کی نظر میں منفور ہوچکا ہے۔ نام نہاد سپر پاور، امریکہ کی عالمی تنہائی قابل دید ہے، اپنی شکست سے خائف امریکہ اقوام عالم کو دھمکیاں دیکر خوفزدہ کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جس دن امریکی غلامی سے نکلا ہم اس دن یوم جشن منائیں گے۔ امریکہ کی ایڈ کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہیں، فقط امریکہ پاکستان میں دھشت گردی اور شیطانی منصوبے ختم کرے ،تو پاکستان خوشحال ملک بن سکتا ہے۔ ریاست پاکستان اور پاک فوج کی جانب سے امریکہ کو دوٹوک جواب دینے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں، امریکہ سے تعلقات نے ہمیں دھشت گردی اور نحوست کے تحفے دیئے۔ امریکہ کے خلاف پاکستان کی ریاست ، اداروں اور عوام میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے، حکومت جرئت کا مظاہرہ کرے۔اس موقع پراحتجاجی مظاہرے سے سید احسان شاہ بخاری، آئی ایس او رہنما اللہ بخش اور حبدار علی ابڑو نے بھی خطاب کیا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ القدس پر امریکی فیصلے کو اقوام متحدہ نے مسترد کر کے یہ باور کرایاہے کہ اقوام عالم امریکہ کی غلام نہیں بلکہ اپنے فیصلوں میں خود مختار ہیں۔ امریکہ کے اپنے اتحادی ممالک کی طرف سے بھی امریکی فیصلے کی مخالفت کی گئی جس سے سپر پاور کے زعم میں مبتلا اس ملک کو اپنا اصلی چہرہ نظر آگیا ہے۔انہوں نے کہادنیا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یروشلم پر اسرائیلی اجارہ داری قطعی قابل قبول نہیں۔دانشمندی اور بصیرت کا تقاضہ یہی ہے کہ امریکہ اس معاملے میں خاموشی اختیار کر لے۔امریکہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی ہٹ دھرمی عالمی امن کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ،اسرائیل اور بھارت مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں ۔ کسی بھی معاملے میں ان پر قطعی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔مسلم ممالک کو اپنی مضبوطی کے لیے اپنا ایجنڈاخود تشکیل دینا ہو گا۔دنیا کی دیگر طاقتوں کے اسلامی ممالک سے تعلقات باہمی مفادات پر مبنی ہیں جو بین الاقوامی ضرورت بھی ہے اور تقاضا بھی تاہم عالمی برادری سے تعلقات کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت ہمیشہ برادرانہ رہتی ہے۔ ہمیں ان برادرانہ تعلقات کو مضبوط کرنا ہو گا تاکہ امت مسلمہ کی سالمت و بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں قرار داد کی بھرپور حمایت کے بعد بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو امریکہ واپس لے۔اقوام عالم کے اس اصولی موقف کو بلاچوں چراں تسلیم کرنا ہی اخلاقی تقاضہ ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے متعصبانہ طرز عمل نے متنازع شخصیت بنا دیا ہے۔اگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو پھر بہت جلد امریکہ کے اندر سے ان کے خلاف تحریکیں شروع ہو جائیں گی۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنر ل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ بیت المقدس کے مسئلہ پر جنرل اسمبلی میں مخالفت کرنے والے ممالک کو ا مریکہ کی طرف سے دھمکی امریکی جارحانہ عزائم کی نشاندہی کرتی ہے۔امریکہ دوستی کے لبادے میں چھپا ہوا عالم اسلام کا بدترین دشمن ہے۔یہود و نصاری کا واحد ہدف امت مسلمہ کو مغلوب کر کے انہیں اپنے زیر اثر رکھنا ہے۔دنیا بھر کے مسلمان اس استعماری ایجنڈے کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں۔عالم اسلام کو اپنی سالمیت اور بقا کے لئے امت واحدہ بننا ہوگا۔ تمام مسلم ممالک کے لئے اب ذاتی اختلافات اور رنجشوں کو بھلا کر یکجا ہونے کا وقت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے حواری طاقت کے بل بوتے پر عالم اسلام کو زیر کرنا چاہتے ہیں۔ان شیطانی طاقتوں کو ایمانی قوتیں اپنے اتحاد و وحدت کے ہتھیار سے شکست سے دوچار کر سکتی ہیں۔اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سعودی عرب سمیت تمام ممالک کوبھی واضح موقف اختیار کرنا ہو گا۔جومسلم ممالک یہود و نصاری کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر نے کی جرات نہیں رکھتے انہیں مسلمان کہلانا زیب نہیں دیتا۔انہوں نے کہا اب امت مسلمہ کی بیداری کاوقت آ گیا ہے۔عالمی سطح پر باوقار فیصلے ہی عالم اسلام کے تشخص کی حفاظت کے ضامن ہوں گے۔مسلمان ہونے کی دعویدار جو مقتدر قوتیں عالم اسلام کے مفادات کو نظر انداز کر کے ذاتی تعلقات کو اولیت دیں گی تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

وحدت نیوز(لاہور) مشرق وسطیٰ میں ذلت آمیز شکست کے بعد امریکہ اور اسکے اتحادی بوکھلاہٹ کا شکار ہے،وقت آگیا ہے کہ پاکستان استعماری قوتوں کے سامنے جذبہ ایمانی کے ساتھ ڈٹ جائیں اور دو ٹوک جواب دیں،پاکستان کی سلامتی وبقا کا تقاضہ ہے کہ امریکن بلاک کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیا جائے،ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سنٹرل پنجاب کے رہنماوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ عسکری تنہائی کا شکار ہندوستان اور تباہ حال افغانستان ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،پاکستان کے غیور عوام مادروطن کیخلاف دشمنوں کے سازش سے بخوبی واقف ہیں،کسی بھی امریکی،بھارتی اور افغانی جارحیت کو پاکستانی قوم برداشت نہیں کریگی۔

علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم اے جیسے اتحاد کو مقدس الائنس نہیں کہا جاسکتا،موجودہ نظام میں ہر شخص طاقت کا رسیا اور اقتدار کا بھوکا ہے،پاکستان میں سیاسی نہیں سرداری نظام رائج ہے،ہم ایسے کسی اتحاد کی حمایت نہیں کریں گے جس سے دین اور مذہب بدنام ہو،ہم سیاسی مقاصد کے لئے دینی اقتدار کو پامال کرنے کی نہ کسی کو اجازت دیں گے نہ ہی اسے جائز سمجھتے ہیں،متحدہ مجلس عمل کے سابقہ دور میں انتہا پسندی کو سب سے زیادہ فروغ ملا،وقت کا تقاضہ ہے کہ سیاسی فرعونوں،معاشی قارونوں اور مذہبی بلعم بعوروں کے شر سے مادرطن کی حفاظت کریں۔

Page 1 of 6

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree