وحدت نیوز(کوئٹہ) چہلم سید الشھداء ع تشیع کی کرامت کا نام ہے یہ اجتما ع اور اسکی برکات اقوام وملل میں تشیع کے چہرے کو واضع کرتے ہوئے ولی العصر ع کی عالمی تحریک کی  طرف ایک قدم ہے ان خیالات کا اظہارمجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ خواتین کی مرکزی رہنما محترمہ سیدہ نرگس سجاد جعفری نے کوئٹہ میں زائرین کے ایک اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ ملت تشیع کمزور ملت کانام نہیں ہے، عزاداری اور زاواری ابا عبداللہ ع کی راہ میںحائل رکاوٹوں کو ہٹانا بھی جانتے ہیں،فیصل رضا عابدی کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پابند سلاسل کیا گیا ہےاسکا جرم محب وطن شہری ہونا ہے۔

وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء وامام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا ہے کہ حکومت اس بات کی پابند ہے کہ وہ تمام شہریوں کو بنیادی مساوی شہری حقوق فراہم کرنے میں اپنا کردار کریں۔ حتٰی کہ اس ملک کا قانون وطن عزیز میں بسنے والے تمام اقلیتوں کو ان کے اعتقادات کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی کی ضمانت دیتی ہے، لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس سال پورے پاکستان کے مختلف شہروں سے ہزاروں کی تعداد میں آنے والے زائرین کو بلوچستان میں داخلے کے بعد بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہیں۔ کوئٹہ پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں سے آنے والے زائرین سے پولیس این او سی طلب کرکے انہیں بلوچستان کے کئی علاقوں میں گھنٹوں روک دیتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز جیکب آباد بائی پاس سے آگے بلوچستان کے حدود میں کراچی سے تعلق رکھنے والی زائرہ زبیدہ خانم کو بہیمانہ طور پر پولیس کی گاڑی سے کچل کر قتل کر دیا گیا، جس کی خبر نے معاشرے کے ہر با ضمیر فرد کے دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ واقعے کے بعد زائرین کی مسلسل سولہ گھنٹوں تک احتجاج کے بعد واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر مملکت شہر یار آفریدی زائرین کو در پیش مسائل کے حل کے حوالے سے کوئٹہ اور تفتان کا دورہ کرکے صوبائی حکومت کو واضح احکامات جاری کر چکے ہے کہ زائرین کے آمد ورفت کے سلسلے میں کسی قسم کی دشواری ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، لیکن افسوس کہ وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ کے ان احکامات کے برعکس آج بھی زائرین کو نہ صرف بلوچستان میں داخلے کے وقت مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کیا جاتا ہے، بلکہ ملک بھر سے کوئٹہ آنے والے ہزاروں زائرین کو کوئٹہ اور تفتان میں ہفتوں تک روک کر اذیت سے گزارا جاتا ہے۔ یہاں پر یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ دنیا بھر کی حکومتیں سیاحت کے فروغ کے لئے موثر اقدامات کرتے ہیں، کیونکہ سیاحت کے فروغ سے ملکی اقتصاد پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، لیکن تعجب ہے کہ ہمارے یہاں سیاحت کے فروغ کیلئے مناسب اقدامات کرنے کے بجائے کوئٹہ آنے والے ہزاروں زائرین کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔ ہم وزیراعلٰی بلوچستان جناب جام کمال خان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے مشیر سیاحت سے زائرین کے متعلق جاری کردہ اپنے پارٹی کے بے منطق بیان کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کریں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت بلوچستان زائرین کو درپیش مسائل کے حل اور کوئٹہ تفتان روٹ پر زائرین کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے فوری سنجیدہ اقدامات کریں۔

وحدت نیوز(کرم ایجنسی) مجلس وحدت مسلمین سمیت کرم بھر کی مذہبی تنظیموں نے فیصل رضا عابدی کی گرفتاری، یمن پر سعودی عرب کی بمباری، کوئٹہ اور تفتان میں پھنسے ہزاروں زائرین کی حالت زار نیز لاپتہ افراد کی بازیابی کے سلسلے میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کی، جس سے تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین جعفری، نائب صدر مولانا عابد حسین، انجمن حسینیہ کے قائم مقام سیکرٹری کونین علی، مجلس علمائے اہلبیت کے رہنما مولانا باقر حسین حیدری ، مجلس وحدت مسلمین ضلع کرم کے قائم مقام سیکریٹری جنرل مولانا مزمل حسین سمیت دیگر تمام علاقائی مذھبی تنظیموں کے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مولانا یوسف جعفری نے مولا حسین علیہ السلام کے اس فرمان سے پریس کانفرس کا آغاز کیا، "ہر ظالم کے ساتھ جنگ کرو اور ہر مظلوم کی مدد کرو"۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا یوسف نے کہا کہ ہم نے تحریک حسینی کے پلیٹ فارم سے جبکہ دوسری تنظیموں نے اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اپنے علاقے، اپنے وطن عزیز پاکستان حتٰی کہ دنیا بھر کے مظلومین کے حق میں اپنی آواز بلند کی ہے، اور بلند کرتے رہیں گے۔ خواہ وہ مظلوم، کشمیر کے ہوں یا برما کے، فلسطین میں ہوں یا لبنان میں۔ شام میں ہوں یا یمن میں۔ ہم نے جلسے جلوس اور میڈیا کے ذریعے انکی آواز میں ہمیشہ اپنی آواز ملائی ہے۔ انہوں نے میڈیا کی توجہ چار اہم نکات کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ آپکے توسط سے ہم ذمہ دار اداروں اور انتظامیہ سے احتجاج کرتے ہیں کہ ان مندرجہ نکات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کریں۔

فیصل رضا عابدی کی بلا جواز گرفتاری کو پاراچنار سمیت پاکستان بھر کی ملت تشیع کسی صورت میں برداشت نہیں کرسکتی۔ ذمہ دار قوتیں واضح کریں کہ فیصل رضا نے وہ کونسا جرم کیا ہے، جس کی بنا پر انہیں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ ملک کی دولت لوٹی ہو، یا ملک دشمن کسی سرگرمی میں ملوث ہوں تو اسے برسرعام عوام کے سامنے لایا جائے، نہیں تو انہیں شیعہ حقوق کے تحفظ کی خاطر آواز اٹھانے کی سزا نہ دی جائے۔ نہ ہی ایسی حرکتوں کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ کوئٹہ اور تفتان میں پھنسے ہزاروں زائرین امام حسین علیہ السلام کو فوری اور بلا تاخیر اجازت دیکر اپنی منزل کی جانب روانہ کیا جائے۔ نیز اس اہم ٹرانزٹ روٹ کے تحفظ کیلئے بنیادی اقدامات اٹھاتے ہوئے اس مسئلے کا ابدی حل نکالا جائے۔ زائرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا فوری نوٹس لیا جائے، نہیں تو شیعہ عوام کے ساتھ غیر پاکستانیوں جیسا سلوک کرنے کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ زائرین کو ہفتوں کوئٹہ اور ہفتوں تک تفتان میں کھلے آسمان تلے زبردستی روکنا انسانی حقوق نیز پاکستانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جس کی وجہ سے اب تک درجن بھر زائرین کربلا پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے ہیں۔ چنانچہ زائرین کو بلا تاخیر کانوائے کا پےدرپے بندوبست کراتے ہوئے مشکلات سے نجات دلائی جائے۔

مولانا یوسف کے بعد انجمن حسینیہ کے قائم مقام سیکرٹری کونین حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین سالوں سے سعودی عرب کے توسط سے یمن پر امریکہ اپنے بموں اور بارود کی برسات کرا رہا ہے۔ جسکے نتیجے میں ایک کروڑ سے زائد یمنی باشندے شدید متاثر ہو چکے ہیں۔ ہزاروں بچے اور خواتین موت کی نذر ہو چکے ہیں۔ لاکھوں خواتین، بچے اور عام افراد بھوک اور افلاس کا شکار ہو کر جنگلی گھاس کھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہی نہیں، آئے روز ہسپتالوں، اور سکولوں کو نشانہ بناکر مریضوں اور بچوں کا اجتماعی قتل عام کیا جارہا ہے جوکہ ناقابل برداشت ہے۔ چنانچہ حکومت نیز اقوام متحدہ سے گزارش ہے کہ انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے یمن پر تین سال سے جاری چڑھائی روک دی جائے اور یمن کے معاملات کو یمن کے عوام پر چھوڑ دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ چار سالوں سے ملت تشیع کے ہزاروں افراد لاپتہ ہیں۔ انکا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں کرایا جارہا۔ گھر والے انکے لئے نہایت پریشان ہیں۔ ہاں کسی فرد پر کوئی جرم ثابت ہو تو اسے بے شک انصاف اور عدالت کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائے اور اسکے خلاف قانونی کارہ جوئی کی جائے۔ تاہم جبر و تشدد سے کام لینا اور سالوں تک لاپتہ رکھنا پاکستانی قانون کے زمرے میں نہیں آتا۔

آخر میں انہوں سول اور فوجی انتظامیہ نیز متعلقہ تمام ذمہ دار اداروں سے پر زور مطالبہ کیا کہ مندرجہ بالا نکات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ملت تشیع کو درپیش تمام مسائل و مشکلات کا فوری ازالہ کیا جائے۔ وقفہ سوالات کے دوران صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں مولانا مزمل حسین نے کہا کہ پتہ نہیں فیصل رضا نے وہ کونسا گناہ کیا جو قابل بخشش نہیں، جبکہ یہاں تو ہزاروں فوجیوں سمیت لاکھوں عوام کے قاتل اور ملک دشمن عناصر آزاد پھر رہے ہیں۔ یہاں اورنگزیب فاروقی، احمد لدھیانوی، فضل الرحمان اور خادم رضوی جیسے افراد بھی کھلے عام پھر رہے ہیں، جنہوں نے عدالت کی توہین سے لیکر ہمیشہ سے ملک دشمن پالیسی کو فالو کیا ہے۔ انہوں نے کہا خادم رضوی نے جج کو کنجر کہا۔ فضل الرحمان نے یوم آزادی کو یوم سیاہ کہتے ہوئے ملک دشمنی کا ثبوت دیا۔ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں مولانا باقر علی حیدری نے کہا کیا فیصل رضا عابدی کا گناہ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان سے زیادہ ہے۔ جنہوں نے لاکھوں افراد کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی، آج وہ پاکستان کے اہم اداروں کے ساتھ گھومتا پھرتا ہے۔

وحدت نیوز(قم) مجلس وحدت مسلمین شعبہ امور خارجہ نے اپنے ایک بیان میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے امسال اربعین حسینی کے موقع پر اپنے پروگرامز اور فعالیت کا اعلان کیا ہے،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے شعبہ امور خارجہ کے ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر سید ابن حسن نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ امسال مجلس وحدت مسلمین پاکستان نجف اشرف اور کربلائے معلی میں سید الشہداءؑ انٹرنیشنل کانفرنسز منعقد کرے گی جس میں دنیا بھر سے تشریف لانے والے پاکستانی زائرین حضرت ابا عبداللہ الحسین اور قومی و بین الاقوامی شخصیات شریک ہوں گی۔

 ان کے کہناتھاکہ اس سلسلے کی پہلی کانفرنس 15 صفر بوقت 10 بجے دن نجف اشرف شارع رسول پر واقع حسینیہ باقر شریف قریشی میں منعقد ہو گی جس کی میزبانی کے فرائض مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ نجف اشرف انجام دے گا،اس سلسلے کی دوسری کانفرنس 21 صفر بوقت 2:30 بجے ظہرحرم امام حسین (ع) میں واقع خاتم الانبیاء کانفرنس ہال میں منعقد ہو گی جس کی میزبانی کے فرائض مجلس وحدت مسلمین شعبہ یورپ انجام دے گا، ان بین الاقوامی کانفرنسوں میں دنیا بھر سے تشریف لانے والے پاکستانی زائرین کے علاوہ قومی و بین الاقوامی شخصیات شریک ہوں گی۔

 مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ان کانفرنسوں میں خصوصی شرکت فرمائیں گے،اس کے علاوہ مجلس وحدت مسلمین کے ذیلی شعبہ جات قم المقدس و نجف اشرف کی طرف سے اربعین واک کے دوران دو مختلف مقامات پر موکب شہدائے پاکستان کے نام سے ثقافتی اسٹالز لگائے اور ان پر زائرین حضرت ابا عبداللہ الحسین (ع) کی خدمت کی سعادت حاصل کی جائے گی، موکب شہدائے پاکستان نجف اشرف نزد شارع مدینہ مولانا خاور عباس شاہ صاحب کی مسوولیت میں فعالیت کرے گا، جبکہ موکب شہدائے پاکستان  کے نام سے نجف سے کربلا کے راستے میں ستون نمبر 1120 پر ثقافتی اسٹال لگایا جائے گا جس میں پاکستانی شہداء کی تصویری نمائش کا اہتمام کیا جائے گا،مجلس وحدت مسلمین کے متعلقہ شعبہ جات کے مسوولین و کارکنان مولانا جان علی حیدری صاحب کی مسوولیت میں یہاں زائران حضرت ابا عبداللہؑ کی میزبانی کا شرف حاصل کریں گے۔

علاوہ ازیں مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ امور خارجہ حسینی ثقافت کی ترویج اور اشاعت کے کارخیر میں شریک ہونے کے لیے امسال عراق اور ایران (زاہدان) خصوصی ثقافتی ٹیمیں اعزام کر رہا ہے جو مختلف مواکب اور مقامات پر جاکر حسینی ثقافت کی ترویج و اشاعت کے لیے پہلے سے طے شدہ فعالیت انجام دیں گیں،مجلس وحدت مسلمین ہمہ وقت زائرین حضرت ابا عبداللہ الحسین (ع) کی خدمت کے لیے حاضر ہے، دوران سفر اربعین پیش آنے والی مشکلات کے حل یا سفر اربعین سے متعلقہ راہنمائی یا مجلس وحدت مسلمین کے پروگرامز کی تفصیلات کے لیے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی دفتر اسلام آباد, قم المقدس, مشہد مقدس اور نجف اشرف کے دفاتر اور متعلقہ مسوولین کے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں۔


مرکزی دفتر اسلام آباد مولانا ضیغم عباس صاحب: +92 334 4663575
دفتر شعبہ قم المقدس کے مسوول مولانا عادل علوی صاحب: +989356560461
دفتر شعبہ مشہد کے مسوول مولانا عقیل عباس خان صاحب:+989158937810
شعبہ نجف اشرف کے مسوول مولانا خاور عباس شاہ صاحب: +9647713649420
مواکب و ثقافتی اسٹالز کے مسوول:امور خارجہ کے میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا جان علی حیدری صاحب:+989388669413
امام حسین (ع) انٹرنیشنل کانفرنسز کے مسوول:حجت الاسلام والمسلمین مشرف حسینی صاحب:+447946453006
حجت الاسلام والمسلمین غلام حر شبیری صاحب: +353 85 207 2572

وحدت نیوز(آرٹیکل) نبوت ختم ہوگئی، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ عالمین کے آخری نبی اور اسلام تمام زمانوں کے لئے آخری دین ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے وصال کے بعد دینِ اسلام کی حفاظت اور تبلیغ کے لئے مسلمانوں کے ہاں بارہ اماموں کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ صحیح بخاری،صحیح تر مذی،صحیح مسلم ،صحیح ابی داؤد اور مسند احمد وغیرہ میں ایسی احادیث موجود ہیں  جو نبوت کے بعد خلافت و امامت کے وجود پر دلالت کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر،اہل سنت کی مشہور ترین کتاب صحیح بخاری میں اس سلسلے میں  یوں آیا ہے کہ ”جابر بن سمرة“کہتے ہیں  کہ میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فر مایا:

”یکون اثنا عشرامیراً۔فقال کلمة لم اسمعھا فقال ابی انہ قال۔کلھم من قریش۔“ (صحیح بخاری ،ج۹،کتاب الامقام،ص۱۰۰)

”میرے بعد بارہ امیر ہوں گے۔اس کے بعد ایک جملہ فر مایا کہ میں سن نہ سکا ۔میرے والدنے مجھے کہا کہ پیغمبر نے فر مایا تھا :”وہ سب قریش میں سے ہیں “

نبوت کے بعد امامت کا تصور ختمِ نبوت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے اور یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ کذاب اور جھوٹا ہے۔

نظریہ امامت پر سارا جہانِ اسلام متفق ہے اور یہ امامت کی تفصیل  ہے کہ امام کو کیسا ہونا چاہیے؟ امام کا انتخاب کیسے ہوگا؟  امام معصوم ہوگا یا غیر معصوم وغیرہ وغیرہ۔۔۔

جہانِ اسلام کے معروف ترین اور مقبول ترین آئمہؑ میں سے ایک حسین ابن علیؑ ہیں۔ آپ کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی آپ سے عشق و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ سے عشق و عقیدت رکھنے والے جانتے ہیں کہ    ۶۱؁ ھ میں دینِ اسلام کی حفاظت کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر عائد ہوئی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام ، دینِ ملوکیت بن چکا تھا، دینِ بادشاہت بن چکا تھا، ملوکیت و بادشاہت کسے کہتے ہیں عصرِ حاضر میں اس کا نپا تلا جواب آپ کو خصوصی طور پر  مولانا مودودی ؒ اور یاپھر شیخ الحدیث  ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملے گا۔

حسین ابن علیؑ نے اکسٹھ ھجری میں دینِ اسلام کی اصلی تعلیمات کی حفاظت کے لئے  اپنی ذمہ داری کو اداکیا، اگر اس وقت حضرت امام حسینؑ کی جگہ خود پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ بھی  ہوتے تو وہ وہی کچھ کرتے جو حسینؑ ابن علی نے کیا ہے اور یزید ابن معاویہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ بھی وہی کچھ کرتا جو اس نے  حسین ابن علیؑ کے ساتھ کیا ہے۔ چونکہ نبی اکرم ﷺ بھی اگر چہ تنِ تنہا رہ جاتے لیکن وہ  ہر گز کسی کو یہ اجازت نہ دیتے کہ وہ دینِ اسلام کو ملوکیت و بادشاہت میں تبدیل کرےاور یزید کبھی  دینِ اسلام کو ملوکیت میں تبدیل کئے بغیر چین سے نہ  بیٹھتا۔

حضرت امام حسینؑ نے  ملوکیت سے ہیبت زدہ  ایک ایسی فضا میں قیام کیا کہ جہاں لوگ  ملوکیت کو باطل سمجھتے ہوئے بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔

دوسری طرف امام حسینؑ یہ جانتے تھے کہ اگر اس وقت دینِ اسلام کی حقیقی شکل اور تعلیمات کی حفاظت نہ کی گئی تو عالمِ بشریت ظہورِ اسلام سے پہلے والے زمانے یعنی زمانہ جاہلیت کی طرف پلٹ جائے گا، اسلامی قوانین لغو ہوجائیں گے اور اولاد آدم بھٹکتی پھرے گی ۔ چنانچہ آپ نے ہر قیمت پر دینِ اسلام کو بچانے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے اعوان و انصار کو تہہ تیغ ہونا پڑا لیکن اسلام کی تعلیمات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گئیں۔ جب آپ کی شہادت اور  قربانی کی خبر جہانِ اسلام میں پھیلی تو  لوگ نفسیاتی طور پر اس سے شدید متاثر ہوئے ۔ آپ کے قیام کی سب سے پہلی تاثیر یہ سامنے آئی کہ لوگوں کے اندر سے موت کا خوف ختم ہوگیا اور لوگ باطل کو باطل اور غلط کو غلط کہنا شروع ہوگئے جس کی وجہ سے جہانِ اسلام کے اطراف و کنار میں مختلف قیام سامنے آئے۔

اس قیام ، قربانی اور شہادت کی دوسری تاثیر یہ سامنے آئی کہ لوگوں نے اہلبیت ؑ سے عشق و محبت کا اظہار دوبارہ سے شروع کردیا اور یوں جگہ جگہ جہاں پر  امام حسینؑ کی قربانی کا ذکر ہوتا وہیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی تبلیغ بھی ہوتی اور   یزید  نے دینِ اسلام میں جوانحرافات ایجاد کئے تھے ان کا بھی ذکر ہوتا۔

ہم ناصبیوں کی بات نہیں کرتے ، ناصبیوں کے علاوہ مجموعی طور پرمسلمانوں  نے دو طرح سے اس قربانی کو دیکھا ، کچھ  نے اس قربانی سے ہمدردی ، عشق اور درد کا رشتہ قائم کیا اور کچھ نے اس سے ہمدردی ، عشق اور درد کے ساتھ ساتھ تعلیم اور درس کا ناطہ بھی جوڑا۔

بالکل ایسے ہی جیسے اگر پانچ بچوں کا باپ فوت ہوجائے تو ان میں سے ہر ایک کا رد عمل مختلف ہوتا ہے، کوئی مہمانوں اور تعزیت کے لئے آنے والوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، فاتحہ پڑھتا ہے، اپنے باپ کی باتیں دہراتا اور مہمانوں کو سناتا ہے، دوسرا صرف روتا اور پیٹتا ہے، تیسرا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، چوتھے کی نیند ختم ہوجاتی ہے اور پانچواں قبرستان میں جا کر قرآن خوانی کرتا رہتا ہے۔ یہ پانچوں اپنی اپنی طرز پر اور اپنی اپنی نفسیات کے مطابق اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلا ں مرحوم کا زیادہ سگا بیٹا ہے اور فلاں کو زیادہ غم ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ سبھی کو غم ہے اور سبھی مرحوم کے حقیقی بیٹے ہیں۔

اسی طرح امام حسینؑ بھی تمام علام اسلام کے رہبر و رہنما اور محسن  ہیں اور سارے مسلمان ، آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کی شہادت کے موقع پر اپنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، جذبات کا یہ اظہار مختلف نوعیت کا ہوتا ہے ، کسی کی مظلومانہ شہادت پر جذبات کا اظہار ایک فطری امر ہے۔

فطری امر ہونے کی وجہ سے غیر مسلم بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں اور یوں پوری دنیا مل کر حسین ابن علی ؑ کو سلام پیش کرتی ہے۔دنیا کا ہر منصف مزاج انسان یہ سمجھتا ہے کہ آج اگر دنیا میں اسلام کی تعلیمات اور نام و نشان باقی ہے تو یہ امام حسینؑ کی قربانی کا نتیجہ ہے۔

 بقول شاعر

ڈوب کر پار اتر گیا اسلام

آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے

(یگانہ)


تحریر:نذر حافی

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری حفظ اللہ نے یوم عاشورمحرم الحرام 1440ھ کے موقع پر عالم اسلام کے نام اپنے پیغام میں کہاکہ امام حسین ؑان ہستیوں میں سے ہیں جن پر اللہ نے انعام کیاہے، اما م حسین ؑیقیناًصادقین میں سے ہیں، جن کا ہمیں ساتھ دینا چاہئے، جن کی معائیت میں ہمیں چلنا چاہئے،جن کی ہمیں ہمراہی کرنی چاہیے،کربلا ہمیں ہمت، حوصلہ، شجاعت اور جرائت دیتی ہے،آج ہمیں میدان میں حاضر رہنے کی ضرورت ہے ، فرعونوں، یزیدوں اور شدادوں کے خلاف، کربلا میں چند افراد کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ کربلا عدل وسچائی، انسانی شرافت اور اقتدار کو قتل کیاگیا، کربلا میں امام حسین ؑکے اصحاب وانصارکاگلانہیں کاٹا گیابلکہ سچائی کا گلا کاٹا گیا، جو لاشیں کربلا کے میدان میں پامال ہوئیں وہ عدل وانصاف کی لاشیں تھیں، یہ جن مخدرات عصمت وطہارت کو رسن بستہ کیا گیا دراصل یہ انسانی غیرت ، حمیت اور کرمت کو رسن بستہ کیا گیا،وفا اور حیاءکو قتل کیا گیا۔

علامہ راجہ ناصرعباس نے کہاکہ امام عالی مقامؑکا قیام پوری عالم انسانیت اور بشریت کیلئے تھا، ان کاقیام مخصوص لوگوں ، حالات یا علاقےکے حوالے سے نہیں تھابلکہ تاقیام قیامت ہر شخص کیلئے تھا، امام حسین ؑکا قیام ہمیں بتلاتاہے کہ تم اکیلے ہی کیوں نا ہوں، قلیل تعدادمیں ہی کیوں ناہوتمہیں مایوس نہیں ہونا چاہئے، گھبرانا نہیں چاہئےبلکہ ہرحال میں اٹھا چاہئے ، قیام کرنا چاہئے ،ظلم کے مقابلے میں فریاد بلند کرنی چاہئے،اگر حجرت کرنی پڑے تو حجرت کرنی چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ عاشوراکربلامیں امام حسین ؑکی قربانی کی اوج اورمعراج ہے،عاشورامیں ہمارے کیلئے بے شمارپیغامات پوشیدہ ہیں ،عاشورامیں ہمارے لیئے ہدایت کا عظیم زخیرہ موجود ہے،کربلا ، عاشورااور شہادت امام حسین ؑہمیں ظلم سے نفرت سکھاتی ہے، یہ ہمیں دعوت دیتی ہے تم عدل کے نفاذکیلئے اٹھو، ظلم کے خلاف، خود خواہی کے خلاف اٹھو، اپنی خواہشات میں توازن لائو، امام ؑنے واضح فرمایاتھاکہ یزید کی بیعت ذلت ہے جسے میں کسی صورت قبول نہیں کروں گا، فرار اختیار نہیں کروں گا۔

انہوں نے مزید کہاکہ کربلا کی طرف سفرحقیقت میں تمام انسانی فضیلتوں کی طرف سفر ہے، یہ عاشقانہ سفرہے،یہ عارفانہ سفرہے ، جو عاشوراکی طرف ہے جو مولاحسین ؑکی طرف ہے،آج سب سیاہ پوش، مردوزن سیاہ پوش ہیں،کربلا ضیافت بلاکا نام ہے، یہاں مشکلات سے ٹکرانے کا حوصلہ ملتاہے،یہاں ہمت ملتی ہے یہاں شعور اور بصیرت ملتی ہے،کربلائی اور عاشورائی بصیرت کے ذریعے انسان تاریخ کے تمام کے تمام یزیدوں اور فرعونوں کو پہچان لیتاہے،ان کے مکروہ چہرے سے نقاب اتارلیتاہے۔

آخرمیں انہوں نے کہاکہ ہرسال کربلا اور عاشوراہمیں نیاءجوش وولولہ اور جذبہ دیکر جاتے ہیں،ہمیں نئی زندگی دیکرجاتے ہیں ،انشاءاللہ بیداری کایہ سلسلہ جاری رہے گا اور ایک ضرور آئے گاجب اس دنیا سے ظلم مٹ جائے گا،عدل کا نفاذہوگا، پوری بشریت منتظر ہے کہ کب وہ امام حسین ؑکی نسل کریمہ سے تعلق رکھنے والاوہ امام زمان عج آئے گااور دنیا کو عدل وانصاف سےپر کرے گا، تاریخ ایک حساس مرحلے میں داخل ہوچکی ہے،آج عزاداری اور عاشوراکے اجتماعات خصوصاًاربعین کا فقید المثال جلوس ہمیں روز بروز ظہور امام زمان عج سے نذدیک ترکررہاہے، جلد وہ وقت آئے گاکہ جب ہمارا امام عج یا لثارات الحسین ؑکی صدابلند کرکے خانہ کعبہ سے نکلے گاتودنیا بھرسے عشاق کے قافلے اس سے ملیں گے اور دنیا بھرسے ظالموں کو شکست فاش دیکر اللہ کی زمین پر اللہ کی حکومت قائم کریں گے۔

Page 1 of 2

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree