وحدت نیوز(کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین کے رہنمااوروزیر قانون بلوچستان آغاسید محمد رضا کی کوششوں سے زائرین کیلئے کوئٹہ میں نئے کمپلیکس اور تفتان بارڈرپر پاکستان ہائوس کی توسیع کیلئے مجموعی 400ملین روپے کی منظوری دیدی گئی ہے، تفصیلات کے مطابق بلوچستان کی صوبائی حکومت نے مالی بجٹ سال 2018-19میں آغا رضا کی سفارش پر زائرین مقامات مقدسہ کی مشکلات کے پیش نظر کوئٹہ میں ایک نئے کشادہ اور سیع وعریض زائرین کمپلیکس کی تعمیر کیلئے 300ملین اور تفتان میں گذشتہ سال تعمیر ہونے والے  پاکستان ہائوس کی توسیع کیلئے 100ملین روپے کے فنڈز کی منظوری دیدی ہے،آغا رضا نے وحدت نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ میں تعمیر ہونے والا کمپلیکس جدید سہولیات سے آراستہ ہوگا، جس میں ہزاروں زائرین کے قیام و طعام کے انتظام سمیت وسیع وعریض پارکنگ ایریا ، مارکیٹ ، مسجد ودیگر سہولیات ایک ہی چھٹ تلے دستیاب ہوں گی، جہاں سکیورٹی کا بھی موثر انتظام ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومت کی جانب سے میری گذارش پر تفتان بارڈر پر گذشتہ برس قائم ہونے والے پاکستان ہائوس کی توسیع کیلئے بھی 100ملین روپے کے مزید فنڈز کی منظوری سےدیدی گئی ہے، جس کے نتیجے میں زائرین کربلا ومشہد کو درپیش مشکلات کے تدارک ممکن ہوسکے گا۔

وحدت نیوز(کوئٹہ)  مجلس وحدت مسلمین کے رہنمااور صوبائی وزیر قانون بلوچستان آغا سید محمد رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان ہمیشہ سے مظلومین اور شھداء کے ورثاء کے ساتھ ہم آواز ہو کر پاکستان میں اور خاصکر کوئٹہ میں امن و امان اور محبت، بھائی چارہ کے حصول کیلئے کوششیں کرتی رہی ہے۔ ہزاروں اپاہج اور ہزاروں گھرانے کی بربادی اور ہزاروں یتیم اور بیوہ کے سلسلے میں بارہا احتجاج اور دھرنوں سے جب بات نہ بنی تو مجبوراً ہماری قوم اور خاص کر شھداء کے لواحقین کو فوج کے دروازے پر دستک دینا پڑا ہماری قوم کا یہ مطالبہ رہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کوئٹہ تشریف لائیں اور اس مسئلہ کو حل کریں اور ایم ڈبلیو ایم کی مرکزی اور لوکل قیادت نے اپنی روایات کے مطابق اپنے لوگوں کا بھر پور ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ شھداء کے لواحقین کے آرمی چیف کو بلانے کے مطالبے کو لے کر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا ۔ اسی لئے ہمارے مرکزی قائد جناب علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے پاکستان بھر میں احتجاجی کالز اور صوبائی وزیر آغا رضاکے صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنہ دینے کا نتیجہ فوراً برآمداور وفاقی وزیرداخلہ کو کوئٹہ آکے ایم ڈبلیو ایم کی قیادت سے مزکرات کرنا پڑا۔

 لیکن جس طرح پہلے دن سے ہم نے یہ کہا تھا کہ ہمارا اپنا کوئی ذاتی ایجنڈا یا مطالبہ نہیں بلکہ جو کہ شہداء کے لواحقین کا مطالبہ تھا وہی ہمارا بھی رہا،پھر ہمارے مرکزی قائد علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے آرمی چیف کے ساتھ مسلسل رابطوں کے نتیجے میںیکم مئی کی رات وہ کوئٹہ تشریف لائے اور اِن کی ملاقات کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ عمائدین سے ہوئی جس میں انہوں نے کوئٹہ کے شیعہ ہزارہ قوم کے عمایدین اور علماء کو یقین دہانی کروائی کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے بھرپور کوشش ہوگی کہ آئندہ کوئی ناگوار واقع پیش نہ آئے۔ انکی یقین دہانی کے بعد ہزار شیعہ علماء، عمائدین دھرنوں اور احتجاجات کے اختتام کا اعلان کر دیا۔ ہم مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے پاکستان کے غیور عوام جنہوں نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہمارا ساتھ دیا اور خصوصا ہماری ان ماؤں، بہنوں،بیٹیوں کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے دن رات انتہائی نا مسائد حالات میں صبر و استقامت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اپنی موقف پر ڈٹی رہی،اور ہم اپنے قوم کے بزرگوں ،جوانوں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے ان دھرنوں کو کامیاب بنایا۔ہم چیف آف آرمی سٹاف جناب قمر باجوہ، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو، صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، کمانڈنٹ سدرن کمانڈ جنرل عاصم باجوہ، آئی جی پولیس معضم جاء انصاری، آئی جی ایف سی جنرل ندیم انجم اور دیگر فوجی افسران کا شکریہ ادا کرتے ہیںاور اسطرح جناب چیف جسٹس کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے از خود نوٖٹس لیکرہماری مظلومیت کو سنا گرچہ کہ یہ گلہ بھی ان سے کرتے ہیں کہ سوموٹو ایکشن لینے میں انہوں نے کافی دیر کی۔اس موقع پر ایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما علامہ سید ہاشم موسوی، کربلائی رجب علی، کیپٹن(ر) حسرت اللہ چنگیزی اور رشید علی طوری بھی

وحدت نیوز (کوئٹہ)  کوئٹہ میں منگل کی شام کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ہنگامی دورے پر صوبائی دارالحکومت پہنچے۔ کوئٹہ کے ہنگامی دورے کا مقصد شہر کے امن و امان سے متعلق بگڑتی ہوئی صورتحال کو قابو کرنے اور شیعہ ہزارہ اکابرین سے ملاقات کرنا تھا۔ کوئٹہ میں گذشتہ دنوں شیعہ ہزارہ مسلمانوں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین اور دیگر تنظیموں کے تحت مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنے دیئے گئے تھے۔ احتجاجی مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ آرمی چیف کے کوئٹہ آنے تک احتجاجی دھرنوں کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ شیعہ ہزارہ مسلمانوں کے مطالبے کی روشنی میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ پہنچے اور کمانڈر سدرن کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر میں شیعہ ہزارہ اکابرین سے خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیراعلٰی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ، آئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم سمیت دیگر اعلٰی عہدیداران موجود تھے۔

شیعہ ہزارہ اکابرین میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء و وزیر قانون بلوچستان سید محمد رضا، ہزارہ قومی جرگے کے سربراہ قیوم علی چنگیزی، امام جمعہ کوئٹہ علامہ سید ہاشم موسوی، پرنسپل جامعہ امام صادق علامہ محمد جمعہ اسدی، ایچ ڈی پی کے کوہزاد علی ہزارہ، سابق ایم این اے سید ناصر علی شاہ، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید محمد داؤد آغا اور ہزارہ سیاسی کارکن کے طاہر خان ہزارہ شامل تھے۔ ملاقات کے دوران شیعہ ہزارہ برادری کے اکابرین نے چیف آف آرمی اسٹاف کے سامنے اپنے تحفظات رکھے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ قوم کو آئندہ مکمل تحفظ فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ پاک افواج کے سربراہ کی یقین دہانی کے بعد شیعہ ہزارہ اکابرین نے احتجاجی دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا۔

وحدت نیوز (کوئٹہ)  تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کچھ دیر قبل کوئٹہ پہنچ گئے ہیں، کورہیڈ کوراٹر میں جنرل قمر باجوہ کی مجلس وحدت مسلمین کے رہنما اور صوبائی وزیر قانون آغا رضا سمیت دیگر ہزارہ عمائدین سے ملاقات جاری ہے، جس میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور، ، وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی، کمانڈر سدرن کمانڈ میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ اور دیگر اعلیٰ و سول حکام بھی موجود ہیں ،جبکہ شیعہ عمائدین میںایم ڈبلیوایم کے مرکزی رہنما علامہ سید ہاشم موسوی، علامہ جمعہ اسدی، کوئٹہ یکجہتی کونسل کے سربراہ عبد القیوم چنگیزی، سابق ایم این اے ناصرشاہ ودیگربھی شریک ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان میں کہاگیاہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ پہنچ چکے ہیں جہاں وہ امن وامان کی صورتحال پر اعلیٰ سول عسکری حکام سمیت ہزارہ قوم کے عمائدین سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں سے کوئٹہ شہر میں شیعہ ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافے کے خلاف مجلس وحدت مسلمین اور ہزارہ قوم کی جانب سے چار روز سے کوئٹہ کے چارمختلف مقامات پر احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے، خانوادہ شہداءکا مطالبہ ہے کہ آرمی چیف پاراچنار کی طرح خود کوئٹہ آئیں اور ہمارے زخموں پر مرہم رکھیں ، خانوادہ شہداء سے اظہار یکجہتی اور ان کے مطالبات کی حمایت میں مجلس وحدت مسلمین کے رہنما اور صوبائی وزیر قانون آغا رضا نے بھی گذشتہ دو روز سے بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا دیا ہواجہاں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے ان سے ملاقات کی اور دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی جسے آغا رضا نے خانوادہ شہداء کے دھرنا ختم کرنے اور آرمی چیف کی کوئٹہ آمد سے مشروط قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

بعد ازاں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے پرزور عوامی مطالبے کے بعد آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے فوری طور پر کوئٹہ پہنچنے کی درخواست کی جس کے بعد آرمی چیف کوئٹہ پہنچ چکے ہیں، امید ظاہر کی جاری ہے آرمی چیف خانوادہ شہدائے کوئٹہ کی داد رسی کریں گے، ان کے پیاروں کے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں گے۔

وحدت نیوز (اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی طرف سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ کو خط بھیج دیا گیا خط میں درخواست کی ہے کہ بلوچستان میں شیعہ ہزارہ کی منظم انداز میں نسل کشی جاری ہے جسے روکنے کے لیے بلاتاخیر اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ خط گزشتہ روزآرمی چیف کو بھیجا گیا ہے ۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے اندر دہشت گردی کی کاروائیوں میں سرگرم عناصراپنے مذموم عزائم کوجارحانہ انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔مسیحی برادری اور اقلیتیں بھی دہشت گردوں کے اہداف میں شامل ہیں۔ان دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث عناصر اپنی بربریت کا کھلم کھلا اعتراف بھی کرتے ہیں۔اس کے باوجود ان کی آزادنہ نقل و حرکت حیرت اور تشویش کا باعث ہے۔کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے علاوہ مسیحی و لسانی بنیادوں پر بھی عوام کو ہر روز ٹارگیٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے جس طرح گزشتہ سال پارہ چنار سانحہ کے بعد وہاں پہنچ کر مظلوم عوام کی داد رسی کی اور فوری ایکشن لیا جس کے مثبت نتائج ہم آج تک دیکھ رہے ہیں ایسی طرح کوئٹہ جاکر عوام کی داد رسی کریں اور ان کے مسائل کو سنیں کیونکہ وہ آپ سے ہی واحد امید رکھتے ہیں کہ آپ ان کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔خط میں انہوں نے آرمی چیف سے یہ بھی درخواست کہ کوئٹہ کے راستے ایران اور عراق جانے والے زائرین کو بلوچستان میں جو سفری خطرات اور مشکلات درپیش ہیں وہ بھی فوری حل کے متقاضی ہیں۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مرکزی کابینہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں ہزارہ برادری کی نسل کشی میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ بلوچستان اہل تشیع کی قتل گاہ بن چکا ہے۔ ملت تشیع کے ڈیرھ ہزار سے زائد افراد اب تک شہید کیے جا چکے ہیں۔زخمیوں کی تعداد بھی کئی ہزاروں میں ہے۔دہشت گردی کے مختلف واقعات میں پولیس ،سیکورٹی فورسز اور شیعہ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگز کی گئی جن کی ذمہ داری داعش نے قبول کی جبکہ ہمارے حکمران ملک میں داعش کی موجودگی سے انکاری ہیں۔جو قومی سلامتی کے حساس معاملات سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ کوئٹہ کے مظلوم لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے ملکوں سے پناہ لی جا رہی ہے۔بلوچستان کی سرزمین پر ہزاروں افراد کے قاتل آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔حکومت نام کی کوئی چیز وہاں پر موجود نہیں۔

انہوں نے کہا ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے سی پیک منصوبے کے دشمن ہیں۔وہ پاکستان کو کسی بھی اعتبار سے مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے۔یہی عناصر بلوچستان کے حالات خراب کر رہے ہیں۔انہوں نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس لیں اور وہاں جا کرشہدا کے لواحقین سے ملیں تاکہ انہیں داد رسی ہو۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جب تک بلوچستان کا دورہ کرکے سخت احکامات صادر نہیں کرتے تب تک وہاں امن کا قیام ممکن نہیں۔اگر وہاں کے لوگوں کے زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا ان کے اضطراب میں اضافہ ہو گا۔بلوچستان سے دہشت گردی کی اٹھنے والی تازہ لہر پر اگر قابو نہ پایا گیا تو ایک بار پھر یہ پورے ملک میں پھیل سکتی ہے۔انہوں نے کہ صحافیوں اوردانشوروں سمیت ہر باشعور طبقے کو بلوچستان کے شیعہ ہزارہ کی حمایت میں آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے رکن صوبائی اسمبلی ،وزیر قانون آغا رضا کے دھرنے کو ان کے درد دل کا نام دیتے ہوئے کہا کہ قوم کے لیے ان کے بے لوث اور مخلصانہ جذبات لائق داد و تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی معاملات پر حکمرانوں کی کمزور گرفت کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اپنے جائز حقوق کے لیے بھی ایک وزیر دھرنے دینے پر مجبور ہے۔

Page 1 of 24

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree