وحدت نیوز (اسکردو ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکریٹری جنرل آغا علی رضوی نے یوم القدس کے موقع پر یادگار شہدا ء پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالم انسانیت اور عالم اسلام کی جانب سے مذمت کرنے کا وقت ختم ہوچکا ہے اور اب عملی اقدامات کا وقت آچکا ہے۔ ستر سالوں سے قبلہ اول غاصب صیہونیوں کے قبضے میں ہے اور بے گناہ فلسطینیوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ اسرائیل جارحیت و مظالم کو روکنے کے مسلمانوں کو متحد ہو کر فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں کا ساتھ دینا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب پر خنجر کی مانند ہے۔ اسرائیل ایک ایسا ناسور ہے جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ لاحق ہے بلکہ عالم انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ ستر سالوں سے مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ او آئی سی بھی مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ نظر نہیںآتی۔ اسرائیلی مظالم پر خاموش رہنے اور اسرائیل کے ساتھ خفیہ طور پر سفارتی تعلقات قائم رکھنے والے نام نہاد اسلامی ممالک کا ہاتھ بھی مظلوم فلسطینیوں کے خون سے رنگین ہے۔پاکستان کو بھی عالمی سطح پر سرائیل پر دباو بڑھانے اور مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یوم القدس یوم مستضعفین جہان ہے اور فلسطین مسلمان مزاحمت و مقاومت کا استعارہ ہے۔ انکی مزاحمت سے پوری دنیا کے مظلومین کو درس حریت و مقامت ملتا ہے۔ آج کشمیر کے مظلومین ہو یا یمن و بحرین کے مظلومین ان سب کے لیے فلسطین مزاحمت کے لیے سر مشق ہے۔ انکی نہ تھکنے والی جدوجہد سے دوسرے مظلومین کے لیے توانائی ملتی ہے۔ آج فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ دنیا کے بھر مظلومین کے حق میں آواز بلند کرنا یوم القدس کا اصل فلسفہ ہے۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ ہمیں فلسطین کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ انڈیا جہاں اسرائیل کا اتحادی ملک ہے وہیں ہندوستان جنوبی ایشیا ء میں اسرائیل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ہندوستان کی ظالمانہ تاریخ بھی ستر سالوں پر محیط ہے۔ امریکہ و اسرائیل جنوبی ایشیا ء میں اپنے ایجنڈے ہندوستان کے ذریعے مکمل کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی آمد پر ہندوستانی عوام نے احتجا ج کر ے اپنی ریاست کو پیغام دیا کہ عوام انسانیت پر جاری مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

وحدت نیوز (سکردو)  عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ایم ڈبلیو ایم سیکرٹریٹ اسکردو میں منعقد ہوا، جس میں آغا علی رضوی، غلام شہزاد آغا، نجف علی، خواجہ مدثر، محمد علی دلشاد، شیخ کر یمی ،ایڈووکیٹ عقیل، مبشر رضوی,آصف اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے خلاف پورے خطے میں بھرپور اور سخت احتجاج کا آغاز 25 مئی سے کیا جائے او ر پورے جی بی کو جام کیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کے سربراہ حفیظ الرحمان مکمل طور پر وفاق کا نمائندہ بن چکا ہے اور جی بی کے عوام کے ساتھ غداری پر اتر آیا ہے۔ 25مئی سے کالے قانون کے خلاف جی بی میں دنگل سجایا جائے گا اور حکمرانوں کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ موجودہ نام نہاد اصلاحاتی پیکیج کو منظور کرنے کی اگر کسی قسم کی غلطی کی گئی تو جی بی میں جس طرح کی بے چینی اور مسائل پیدا ہوں گے اس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

 عوامی ایکشن کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کسی صورت کالے قانون کو نافذ ہونے نہیں دیں گے۔ جی بی آرڈر عوام کی ساتھ سنگین مذاق اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اس ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھا جائے گا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے کہا کہ حکومت خطے کی مجموعی صورتحال کو خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ ریاستی ادارے خطے کی حساسیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے جی بی آرڈر جیسے کالے قانون کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام کھلا ختم لکھ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں جی بی کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے آرمی چیف سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ خطے کو محرومی سے نکالنے، مسائل کو حل کرنے اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ آغا علی رضوی کی جانب سے لکھے گئے خط کا متن کچھ یوں ہے:

محترم جناب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب
السلام علیکم!
آج ہم اس ریاستی ادارے کے سربراہ سے مخاطب ہو رہے ہیں، جو وطنِ عزیز پاکستان کے استحکام و سلامتی کے ضامن اور اسکی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں۔ ہم سیاسی جماعتوں، وفاقی حکومتوں اور سول بیوروکریسی کی ستر سالہ عدم توجہی اور ناانصافیوں کے بعد مایوس ہو کر جذبۂ حب الوطنی سے سرشار گلگت بلتستان کے محروم و مجبور عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے آپ کی توجہ پاکستان کے اس عظیم خطے کے مسائل کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں، جو دفاعی، ثقافتی، اقتصادی، جغرافیائی، نظریاتی اور سیاحتی نکتۂ نگاہ سے وطنِ عزیز کا حسین و جمیل چہرہ ہے۔ قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ اس خطے کے انسانی وسائل بھی پاکستان کے لئے عظیم سرمایہ ثابت ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان کی آزادی کے بعد اس خطے کے عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت بے سر و سامانی کے عالم میں نظریاتی بنیادوں پر ڈوگرہ راج کے خلاف مسلسل جدوجہد کرکے آزادی حاصل کی اور سبز ہلالی پرچم تلے زندگی گزارنے کو اعزاز سمجھا اور آج تک یہی اعزاز اس خطے کے لئے طرۂ امتیاز ہے اور رہے گا۔ ملک پر آنے والے سخت حالات چاہے معرکۂ سیاچن ہو، معرکۂ کرگل ہو یا دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشز، یہاں کے سپوتوں نے ملک و قوم کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں اور آج بھی اس خطے کا بچہ بچہ پاکستان کا محافظ اور جانثار ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کی مذہبی رواداری، امن پسندی اور تہذیب و ثقافت پاکستان کا روشن چہرہ ہے۔ گلگت بلتستان میں موجود بین المسالک ہم آہنگی، اخوت و بھائی چارہ پوری دنیا کے لئے روشن مثال ہے۔

محترم آرمی چیف صاحب! گلگت بلتستان کے عوام گذشتہ ستر سالوں سے پاکستان سے الحاق کی تحریک چلا رہے ہیں اور یہ دنیا کی پہلی تحریک ہے، جو کسی ملک سے الحاق کے لئے چل رہی ہے، مگر تاہنوز اس خطے کو پاکستان کا مکمل آئینی حصہ نہیں بنایا گیا۔ دوسری طرف وفاقی سیاسی جماعتوں، حکومتوں اور بیوروکریسی کی طرف سے یہاں کے عوام کو تعلیمی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور شعوری طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں خطے کو درپیش تعلیمی اور صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے پاکستان آرمی کے چند ادارے متحرک ہیں، جو کہ قابل ِ تحسین مگر آبادی کے تناسب کے حساب سے ناکافی ہیں۔ اعلٰی تعلیمی ادارے، پروفیشنل تعلیمی ادارے، میڈیکل و انجینئرنگ کالجز کا فقدان اور سکولوں میں معیارِ تعلیم کا اطمینان بخش نہ ہونا افسوسناک ہے۔ اسی طرح صحت کا شعبہ بھی مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے اور پورے خطے میں کوئی معیاری ہسپتال موجود نہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات اور معیار بھی غیر تسلی بخش ہیں۔ پورے خطے میں کسی میگا پروجیکٹ پر بھی کام نہیں ہو رہا، جو یہاں کے ہزاروں اعلٰی تعلیم یافتہ بیروزگار جوانوں کے روزگار کا ذریعہ بن سکے۔ اس خطے کے عوام کی ایک بڑی تعداد پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہے، جبکہ خطے میں دنیا کے سب سے بڑے صاف پانی کے ذخائر گلیشیرز کی شکل میں موجود ہیں اور یہاں سے نکلنے والا دریا آدھے پاکستان کو سیراب کرتا ہے، لیکن اِسی خطے کی اراضی بنجر و غیر آباد ہے۔

وطنِ عزیز پاکستان میں جاری توانائی کے مسائل کا نہ صرف حل اس خطے سے ہوسکتا ہے بلکہ اس خطے میں موجود ہزاروں میگاواٹ توانائی کے امکانات ملکی معیشت کو بھی سنبھالا دے سکتے ہیں، مگر تعجب یہ ہے کہ ابھی تک خود یہاں بجلی و پانی کے بحران کا سلسلہ رُکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس وقت گلگت اسکردو روڈ کی تعمیر کا کام پاکستان آرمی کی نگرانی میں جاری ہے اور توقع یہ ہے کہ اس کی معیاری اور بروقت تکمیل خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پائے گی۔ ایک طویل عرصے سے کرگل لداخ روڈ بند ہے جبکہ مظفر آباد اور لاہور سے سرحد کے آر پار منقسم خاندان آپس میں مل سکتے ہیں اور تجارت کرسکتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کے ساتھ یہ امتیازی سلوک جاری ہے۔ ہم آپ کی توجہ اس بات کی طرف بھی مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ اس خطے کو ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک رکھا گیا اور اسی آڑ میں یہاں ناانصافیاں عروج پر رہیں۔ یہاں کے عوام اخلاقی، دینی اور سیاسی طور پر مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں اور کشمیر کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، لیکن یہاں کی مسلمہ متنازعہ حیثیت کے باوجود نہ صرف کشمیر میں رائج قوانین لاگو نہیں بلکہ متنازعہ علاقوں کے وہ قانون جو خطے کی مضبوطی اور ترقی کا ضامن ہے، بھی لاگو نہیں ہے۔ یہاں غیر قانونی طور پر سٹیٹ سبجیکٹ رُول کو ختم کرکے نوتوڑ رُول ایکٹ نافذ کیا گیا ہے اور اب جب چاہے، اس کی آڑ میں عوامی اراضی کو ہتھیا لیا جاتا ہے اور اس میں شرمناک پہلو یہ ہے کہ یہاں کی عوامی اراضی پر قبضہ کرنے کے لئے ادارے خالصۂ سرکار کے قانون کا سہارا لیتے ہیں، جو کہ جنگِ آزادی کی توہین اور اس خطے کے پاکستان سے الحاق کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ کسی بھی ادارے کو اراضی کی ضرورت ہو تو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے ذریعے زمین حاصل کی جاسکتی ہے، لیکن یہاں جبر کے ذریعے عوام میں بے چینی پھیلانے کی کوشش ہوتی ہے اور اس سلسلے میں آئینِ پاکستان کی بالادستی اور عوامی حقوق کے لئے قانونی و عوامی جدوجہد کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جاتا ہے۔

ہمیں انتہائی مسرت ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے ضامن منصوبے سی پیک کا ایک تہائی کے قریب حصہ شاہراہ گلگت بلتستان سے گزرتا ہے اور یہ نہ صرف پاکستان کے لئے گیم چینجر منصوبہ ہے بلکہ اس سے خطے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اس اہم منصوبے پر دشمن طاقتوں کی بھرپور نگاہیں ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ یہ اہم معاشی منصوبہ خدا نخواستہ ناکام ہو جائے، اس کے سدباب کے لئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس اہم پروجیکٹ کے تحفظ کے لئے جی بی کے عوام کھڑے ہیں اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کا جانبدار اور افسوسناک رویہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس عظیم منصوبے میں محروم و مجبور اس خطے کے عوام کے لئے متناسب حصہ نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف جب سے سی پیک کا منصوبہ یہاں سے گزرا ہے، کبھی گندم سبسڈی کو ختم کرکے، کبھی پرُامن علماء اور عوام کو شیڈول فورتھ میں ڈال کر، کبھی ناجائز ٹیکس نافذ کرکے اور کبھی خالصۂ سرکار کے نام پر عوامی حساس ایشوز کو چھیڑ کر خطے میں بے چینی پھیلانے کی حکومتی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جو کہ کسی طور ملکی مفاد میں نہیں ہیں۔ دوسری طرف اس حساس خطے میں گراس رُوٹ لیول تک مغربی اداروں کی رسائی ہے، جو کہ خطے کی تہذیب و ثقافت اور پاکستان کی نظریاتی و دفاعی پوزیشن کے لئے بھی کسی خطرہ سے کم نہیں۔

ہم تمام حکومتوں سے مایوس ہوکر پاکستان آرمی جو کہ ہر مشکل وقت میں وطنِ عزیز کا سہارا رہی ہے، سے توقع رکھتے ہیں کہ خطے کی حساسیت، دفاعی و تزویراتی اہمیت کے پیشِ نظر یہاں کی مکمل آئینی حیثیت کا تعین یا سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی سمیت متنازعہ علاقہ کے تمام حقوق کی فراہمی، سی پیک میں متناسب حصہ، کرگل لداخ روڈ کی واگزاری، دیامر بھاشا ڈیم کی مکمل رائیلٹی، اعلٰی تعلیم و صحت کے اداروں کا قیام، خالصۂ سرکار کے نام پر عوامی اراضی کی بندر بانٹ کا خاتمہ، ترقیاتی منصوبوں کے اجراء اور اداروں میں جاری بدعنوانی کا خاتمہ کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔
وطن عزیز پاکستان کی سلامتی اور پاک فوج کی سربلندی کی نیک تمناوں کے ساتھ۔


والسلام
آغا علی رضوی
سیکرٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان

وحدت نیوز (سکردو)  یوم پاکستان کی مناسبت سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کی جانب سے عظیم الشان یوم پاکستان کانفرنس پی ٹی ڈی سی کے ٹو موٹل اسکردو میں ہوئی۔ یوم پاکستان کانفرنس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں کے علاوہ علماء، زعماء اور عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یوم پاکستان کانفرنس سے اسماعیلی مکتب فکر لوکل کونسل کے صدر رحمت علی، پاکستان تحریک انصاف کی رہنماء آمنہ انصاری، عوامی ایکشن کمیٹی کے محمد علی دلشاد، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء عبداللہ حیدری، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ شیخ احمد نوری، فدا حسین، صحافی برادری سے عالم نور، انجمن تاجران بلتستان کے صدر غلام حسین اطہر اور مجلس وحدت کے صوبائی سربراہ آغا علی رضوی نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ یوم پاکستان کے منانے کا مقصد شہداء سے تجدید عہد کرنا اور ملکی سلامتی و استحکام کے لئے جدوجہد کرنے کا عزم کرنا ہے۔ جی بی کے عوام نے یہاں پر موجود ڈوگرہ راج کو اسلامی نظریہ حیات کی وجہ سے مار بھگایا اور سبز ہلالی پرچم کے نیچے زندگی گزارنے اور آزادی کی فضاء میں سانس لینے کو فخر جانا۔ پاکستان میں سب سے سے زیادہ محب وطن یہاں کے عوام ہیں اور کبھی یہاں کے عوام نے ریاست کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ وطن عزیز کے دفاع میں یہاں سے سپوت سینہ سپر ہیں چاہے وہ معرکہ کرگل ہو یا دہشتگردوں کے خلاف آپریشن۔ جی بی کا بچہ بچہ محب وطن ہے اور پاکستان کی سلامتی کا ضامن ہے۔

مقررین نے کہا کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ یہاں کے حساس ایشوز کو چھیڑ کر خطے میں بے چینی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے ملک دشمنوں کے ایجنڈے کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے سی پیک یہاں سے گزارنے کا فیصلہ ہوا ہے کبھی گندم سبسڈی کو چھیڑ کر عوام اور خطے میں بے چینی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی یہاں غیر قانونی ٹیکس عائد کیا جاتا ہے، کبھی فورتھ شیڈول کے ذریعے یہاں کے محب وطن عوام کے جذبہ حب الوطنی کو مشکوک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اب خالصہ سرکار کے نام پر عوامی اراضی پر قبضہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور وفاقی حکومتوں سے یہاں کے عوام یکسر مایوس ہو چکے ہیں پاک افواج کے سربراہ، سپریم کورٹ کے سربراہ اور ریاستی ادارے گلگت بلتستان کی محرومیوں اور عوام پر جاری مظالم کا نوٹس لیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ سی پیک میں گلگت بلتستان کو بھرپور حصہ دیا جائے سی پیک جیسے اہم پروجیکٹ میں جی بی کو محروم رکھنا لمحہ فکریہ ہے۔ جی بی کی ترقی و خوشحالی پاکستان کی خوشحالی کا باعث بن سکتی ہے۔

یوم پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جی بی کی ایک ایک انچ اراضی عوام ہے اور کسی صورت عوامی اراضی پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔ انتظامیہ حساس خطے میں بے چینی پھیلانے سے باز رہے۔ تمام مکاتب فکر مل کر گلگت بلتستان اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیتے رہیں اور پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے صف اول کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم جی بی کے سربراہ آغا علی رضوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی حفاظت و سلامتی کے لیے صف اول کردار ادا کرتے رہیں گے اور عوامی حقوق کی جدوجہد ہر صورت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج آزادی کی فضاو ں میں سانس لے رہے ہیں تو یہ پاکستان کی وجہ سے ہے اور پاکستان خدا کی طرف سے ایک عظم نعمت ہے۔ اس ملک میں مودی کے یاروں کو کوئی جگہ نہیں۔ جی بی کے عوام کی حب الوطنی مشکوک قرار دینے والے اصل میں ملک کے غدار ہیں۔ ہم پاکستان سے محبت کسی خوف یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ اسے اپنی ماں دھرتی سمجھتے ہیں، جس پر سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ملک اس وقت جن مشکلات کا شکار ہیں، اسکی وجہ نااہل حکمرانوں کی وجہ سے ہے ورنہ یہ خطہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہے۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت نہیں بلکہ یہاں کے عوام اور خدائی طاقت محفوظ رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کے عوام حصول حقوق کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد برقرار کریں اور حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

وحدت نیوز (سکردو)  مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ شیخ احمد نوری نے اسکردو میں منعقدہ یوم پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوم پاکستان یوم تجدید عہد اور یوم ایفائے عہد ہے۔ یوم پاکستان ہمیں وطن کی سربلندی اور استحکام کی خاطر سرگرم عمل رہنے اور اقبال و قائد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ پاکستان میں بسنے والے غیور اہل سنت اور اہل تشیع نے اپنا سب کچھ لٹا کر اس مملکت کو حاصل کیا ہے، اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے انتظامی اداروں میں موجود دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے افراد کو واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں اور ریاستی دشمنوں کا گھیرا تنگ کریں۔ ہمیں دہشتگردوں کا نہیں بلکہ اقبال و جناح کا پاکستان چاہیئے۔ گلگت بلستتان نے اقبال و جناح کے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔ حقیقی محب وطن شہریوں کو تعصبات کی بنیاد پہ الجھانے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ ہمارا ماضی گواہ ہے کہ ہم اس وطن کے باوفا بیٹے، حقیقی فرزند اور اس کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں محافظ ہیں۔ ہماری حب الوطنی کو مشکوک نگاہ سے دیکھا جانا وطن عزیز سے خیانت کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی بہتری، شہریوں کی فلاح، وحدت کے فروغ اور ملک کے استحکام کے لئے ہم جانوں کا نذارانہ پیش کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔

وحدت نیوز (سکردو) پاکستان تحریک انصاف کی رہنماء آمنہ انصاری نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان جی بی کے زیراہتمام منعقدہ یوم پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آغا علی رضوی مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے اس قوم کے بچے بچے کو حق لینے کا سبق سکھایا۔ ہمیں آپ کی قیادت پہ فخر ہے اور آپ نے جو بھی تحریک چلائی اس کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی قوم پر مشکل آئی آغا علی رضوی اٹھ کھڑے ہوئے۔ آمنہ انصاری نے کہا کہ میں آغا علی رضوی سے مخاطب ہوکر اعلان کرتی ہوں کہ خالصہ سرکار کا ایشو ہو یا کوئی اور مسئلہ، آپکی قوم کی یہ بیٹی دیگر غیرت مند بیٹیوں کے ہمراہ ہر میدان میں آنے کے لئے تیار ہے۔ حکومت خالصہ سرکار کے نام پر عوام پر ظلم کرنا بند کرے۔ میں بذات خود ان زمینوں کی حفاظت کے لئے پہرہ دینے کیلئے تیار ہوں، جن زمینوں کو انتظامیہ ہتھیانہ چاہتی ہے۔ کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ جی بی کے عوام کے حقوق کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہوں گی اور صوبائی حکومت کے مظالم پر کبھی خاموش نہیں رہ سکتی۔

Page 1 of 5

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree