وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان سیکریٹری جنرل علامہ آغا علی رضوی نے جامعہ مسجد امامیہ سکردومیں جشن مولود کعبہ کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ اور کمشنر نے ٹھیکیداروں کو پال رکھا ہے، چیف انجنیٸر عوام کے پیسوں سے احکامات دیتے ہیں مگر کام نہیں کرتے، عوام کو مساٸل کا سامنا مگر محکموں میں نااہل افسر کام نہیں کر رہے،جو جو منصوبے خراب ہورہے ہیں وہ افسروں اور ٹھیکیداروں کی نا اہلی کی وجہ سے ہیں، ٹھیکیدار اور ان کے ناقص کام کو منظور کرنے والے افسر ان نا اہلیوں کے ذمہ دار ہیں، ہم ان سے جواب طلب کرتے ہیں،عوام ان افسروں اور ٹھیکیداروں کے گریبان پکڑ سکتے ہیں،ہم حق کی بات کرتے رہیں گے،بچہ بچہ ان نا اہلیوں کیخلاف کھڑے ہونے کیلٸے آمادہ ہیں،کام کرو ہمیں تنگ مت کرو۔

وحدت نیوز(سکردو ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستا ن کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی کی محکمہ برقیات کے ایکسئین اور آری سے ملاقات ہوئی اور شہر میں جاری بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنا احتجاج نوٹ کرایا۔ آغا علی رضوی نے سکردو شہر میں اعصاب شکن لوڈشیڈنگ جاری ہے تجارتی پیشہ افراد کے کاروبار ٹھپ ہے جبکہ طالب علموں کے امتحانات کے دن شروع ہوچکے ہیں۔ ایسے میں بجلی کا بحران انتہائی افسوسناک ہے۔ محکمہ برقیات کے سربراہان سے آغا علی رضوی نے بجلی کی تقسیم و ترسیل منصفانہ بنیادوں پر کی جائے اور شہر کو بجلی کے بحران سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ایکسئین واٹر اینڈ پاورنے کہا کہ سکردو شہر میں بجلی کی کمی دور کرنا ہماری اولین ترحیح ہے او ر اس سلسلے میں بھرپور اقدامات کر رہے ہیں ۔

 انہوں نے کہا لوڈشیڈنگ کے باعث عوام سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہنگامی طور پر اقدامات کر کے بجلی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کریں گے بصورت دیگر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دن کے وقت تمام کاروباری مراکز کو جبکہ رات کے وقت گھروں کو بجلی کی ترسیل یقینی بنائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں وی آئی کلچر ختم جائے تاکہ عوام میں احساس محرومی نہ بڑھیں۔ صوبائی حکومت محکمہ برقیات فوری طور شہر کو درپیش مسائل حل کرے اگر بجلی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

وحدت نیوز(سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ احمد علی نوری نے وفد کے ہمراہ کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل احسان محمود خان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان افواج کے اہم سربراہان موجود تھے۔ ملاقات میں آغا علی رضوی نے علاقائی اور ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے حال ہی میں پاک بھارت کشیدگی کے موقع پر پاکستان آرمی کی زمینی، فضائی، انٹیلی جنس اور میڈیا وار میں واضح برتری اور بہترین حکمت عملی پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے گلگت بلتستان کا ہر فرد پاکستان آرمی کے پشت پر ہے۔ جی بی کے عوام کی رگوں میں جذبہ حب الوطنی اور فدا کاری کوٹ کوٹ کر ہے۔ عوامی کا جذبہ حب الوطنی کسی خوف، ڈر یا مفادات کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ نظریاتی بنیاد پر ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ستر سالوں میں ملک کے حکمرانوں اور اداروں نے یہاں کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے، عوام کو حقوق دلانے اور خطے کو استحکام کی راہ پر گامزن کرانے کے لیے کبھی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھائے۔ یہاں کے عوام کے حب الوطنی کا صلہ مایوسی اور محرومی کی صورت میں دی گئی۔ ہم پاکستان کا آئینی حصہ بنانے کے لیے جدوجہد کسی صورت جاری رکھیں گے۔ گلگت بلتستان کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ مضبوط اور مستحکم گلگت بلتستان ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔ سیاسی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔

آغا علی رضوی نے کہا کہ ملکی سالمیت کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں جی بی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرانے اور یہاں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پاکستان آرمی صف اول میں ہوگی۔ گلگت اسکردو روڈ کی معیاری اور بروقت تعمیر، سی پیک میں حصہ، تعلیمی مسائل، صحت کے مسائل، ترقیاتی مسائل، توانائی کے مسائل اور دیگر عوامی مسائل کو حل کرنے میں پاکستان آرمی بھی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ اس موقع پر کمانڈر ایف سی این اےنے وفد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کا فخر ہے۔ یہاں کے عوام نے ہر محاذ پر پاکستان کے استحکام و سلامتی کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ یہاں کے جذبہ حب الوطنی کی معترف ساری دنیا ہے۔ ملکی استحکام و سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دنیا نے پاکستان آرمی کی طاقت و حکمت کا اعتراف کرلیا ہے۔ پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر جنگ عوام کے شانہ بشانہ لڑی جائے گی۔ گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی کے لیے پاکستان آرمی کا کردار صف اول کا ہوگا۔

وحدت نیوز(اسلام آباد) گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے عالم دین شیخ حسن جوہری کی بلاجواز گرفتاری کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سیکرٹری جنرل آغا علی رضوی نیشنل پریس کلب اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان کے ہمراہ جی بی سپریم کونسل کے سربراہ ڈاکٹر غلام عباس، جی بی تھنکرز فورم کے سپیکر حاجی زرمست خان،جی بی اوئیرنیس فورم کے رہنما سمیت بلتستان کے جوانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر احتجاج مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے آغا علی رضوی نے کہا کہ بلتستان انتظامیہ ایک عرصے سے خطے کے حالات خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ شیخ حسن جوہری کی گرفتاری ایک شخص کی گرفتاری نہیں بلکہ پوری قوم کی تذلیل اور صنف علماء پر حملہ ہے۔ انہیں فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو پورے بلتستان میں احتجاجی تحریک کی کال دی جائے گی اور انتظامی سربراہ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ شیخ حسن جوہری پر ہاتھ ڈال کر انتظامیہ نے سنگین غلطی ہے، جسے کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں عوام اور علماء سے گزارش کرتا ہوں کہ شیخ حسن جوہری کی گرفتاری کے خلاف پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع کرے۔ موجودہ انتظامی سربراہان ہوش کے ناخن لے اور فوری طور پر مسئلے کا حل نکالے۔ علماء کو پابند سلاسل کرنے کے نتیجے میں خطے میں ہونے والی بے چینی کا اصل ذمہ دار مقامی انتظامیہ ہے۔ ہم متنبہ کرتے ہیں کہ انتظامیہ بے جا عوام کو تنگ کرنے اور علماء کی زبان بندی کی کوشش نہ کرے۔

وحدت نیوز (انٹرویو)  حجت الاسلام آغا سید علی رضوی کا تعلق اسکردو نیورنگاہ سے ہے۔ وہ حوزہ علمیہ قم اور مشہد کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ گلگت بلتستان میں انقلابی تحریکوں کے سرخیل رہے ہیں۔ انجمن امامیہ بلتستان میں تبلیغات کے مسئول کے طور بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انقلابی فکر کے حامل جوانوں اور عوام میں ان کی مقبولیت غیر معمولی ہے۔ انہیں پورے خطے میں مقاومت و شجاعت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تمام ملی اور قومی بحرانوں میں عوام کی نطریں ان پر ہوتی ہیں۔ سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں وہ گرفتار بھی ہوئے، تاہم حکومت عوامی ردعمل کے سبب فوری طور پر رہا کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ جی بی میں گندم سبسڈی کے خاتمے کیخلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک میں بنیادی اور مرکزی شخصیت انکی ذات تھی اور انہوں نے حکومت کو عوامی تائید سے بارہ روزہ تاریخی دھرنے کے بعد سبسڈی بحال کرنے پر مجبور کیا۔ موجودہ مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت میں انجمن تاجران کیجانب سے غیر قانونی ٹیکس کے خلاف سولہ روزہ دھرنے میں بھی وہ صف اول کا کردار ادا کرتے رہے اور اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ عوامی حقوق کیلئے ہمہ وقت اور ہر حال میں میدان میں رہنے کے سبب خطے کے عوام انکے معترف ہیں۔ عوامی حقوق کے لئے جدوجہد کے سبب انہیں شیڈول فور میں بھی ڈالا ہوا ہے۔ اسوقت عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان سمیت مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کی مسئولیت بھی انکے کندھوں پر ہے۔ مقبول عوامی لیڈر آغا علی رضوی سے ایک بین الاقوامی خبررساں ادارےنے علاقائی صورتحال پر ایک اہم انٹرویو کیا ہے، جو اپنے محترم قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

سوال: گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور دیگر حقوق کیلئے آپ مصروف عمل ہیں، بتائیں اس راہ میں کیا کیا رکاوٹیں ہیں۔؟
آغا علی رضوی: دیکھیں! گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین میں رکاوٹیں مختلف سطح پر ہیں۔ ایک رکاوٹ یو این سی آئی پی کی چارٹر ہے، جس کے مطابق جی بی کو متنازعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس قضیہ میں انڈیا اور کشمیر دونوں شامل ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ پر اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں کے عوام نے مسلح جدوجہد کے بعد آزادی کے پرچم گاڑ دیئے اور ڈوگرہ فوج کو بھگانے کے بعد یہاں کے انتظامات پاکستان کے پولیٹیکل ایجنٹ کے ہاتھ میں دے دیئے، اس کے باجود اسکی متنازعہ حیثیت کیسے قائم رہتی ہے؟ معاملہ کچھ بھی ہو اس وقت کے حکمرانوں نے جی بی کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ اس میں سب سے بڑی غلطی ہی اقوام متحدہ کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہے کہ جس میں گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ تسلیم کیا گیا اور مسئلہ کشمیر کا حل استصواب رائے کے ذریعے کرانے کا فیصلہ ہوا، تب سے اب تک جی بی کو لٹکایا ہوا ہے۔

پاکستان اقوام متحدہ سے استصواب رائے کے لئے وقت کا تعین کراتا تب بھی مسئلہ حل تھا، خیر یہ ایک سفارتی کمزوری تھی۔ اقوام متحدہ کے بعد پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور حکمران بھی اس سلسلے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے ہیں۔ وفاقی سیاسی جماعتوں نے کبھی بھی سنجیدہ سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور جی بی کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آزادی کے ابتدائی دنوں میں اگر اس معاملے کو کسی کنارے تک پہنچانے کی کوشش کرتے تو جی بی اور کشمیر دونوں پاکستان کا مسلمہ حصہ ہوتے۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے اس مسئلے کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لئے عالمی سطح پر کوشش کرے اور ان مسائل کو حل کرے۔

سوال: جب آپکا سمجھنا یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور انڈیا بھی گلگت بلتستان اور کشمیر کے مسئلے میں فریق ہیں، تو ایسے میں تو آئینی صوبے کا مطالبہ کیا بےجا نہیں۔؟
آغا علی رضوی: دیکھیں! آپ کو عرض کروں کہ ہمارا ذمہ دار اداروں سے ہمیشہ یہی مطالبہ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا باقاعدہ آئینی صوبہ بنایا جائے۔ اس کا واضح مطلب یہی ہےکہ مسئلہ کشمیر کے تصفیے کے لئے بھی حکومت سنجیدہ کوشش کرے۔ ایک قوم کی تقدیر کے فیصلے میں تین نسلیں گزر گئیں، بتایا جائے مزید کتنے سال انتظار کرائیں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام عالم سے مدد مانگیں اور اس مسئلہ پر انڈیا کو اور اقوام متحدہ کو مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ خود بنیادی انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے تو اس میں پاکستان حق رکھتا ہے کہ وہ خود اقدام اٹھائے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے قوانین پر عملداری کے لئے ان پر عالمی سطح پر دباو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر مناسب کوشش کرے تو استصواب رائے کے لئے یعنی اقوام متحدہ کے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کرانا مشکل نہیں۔

دوسری بات یہ عرض کرتا چلوں کہ جب اقوام متحدہ کے فیصلے پر عملدرآمد کے مطالبے کے ساتھ یہ واضح کیا جائے کہ اگر اقوام متحدہ اپنے فیصلے نہیں کرا سکتے تو اس مسئلے پر پاکستان اپنے موقف کے مطابق کوئی اقدام اٹھائے گا اور اس کے بعد عملی طور پر کچھ اٹھانا بھی چاہیئے۔ اس سلسلے میں پاکستان آئین میں ترامیم کے ذریعے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ جیسے انڈیا نے اپنے مقبوضہ علاقوں میں متنازعہ حیثیت کے حقوق کے ساتھ وہ حقوق بھی دئیے جو دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ اگر گلگت بلتستان کے عوام کو دیگر شہریوں کے برابر حقوق نہیں دے سکتے تو متنازعہ خطے کو حقوق کا مطالبہ یہاں کے عوام کا آئینی اور قانونی حق ہے۔

سوال: گذشتہ دنوں آپ نے کشمیر کی قیادت سے ملاقات بھی کی اور دیکھا یہ گیا ہے کہ کشمیری قیادت گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کیلئے آمادہ نہیں اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ کشمیر کی قیادت کیوجہ سے جی بی کو آئینی حقوق نہیں دیئے جا سکتے، اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے۔؟
آغا علی رضوی: مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمارا موقف شروع دن سے واضح ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں نے کشمیر کے مسئلے پر کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور نتیجے میں ستر سال بیت گئے۔ ان ستر سالوں میں کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی تو یقیناً یہ مسئلہ حل ہوا ہوتا۔ ہم دنیا کے ہر مظلوم کے حامی ہیں، چاہے وہ فلسطین میں ہو، عراق میں ہو، یمن میں ہو یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو۔ لہٰذا یہ حقیقت ہے کہ کشمیری بھی مظلوم قوم ہے، بالخصوص مقبوضہ کشمیر کے جوانوں اور ماں بہنوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل نکلے اور ان مظلوموں کی داد رسی ہو۔ دوسری جانب گلگت بلتستان کے حوالے سے کشمیر کی چند قیادتیں تحفظات رکھتی ہیں۔ ان کا سمجھنا ہے کہ اگر جی بی کو پاکستان کا آئینی حصہ بنایا گیا تو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف کمزور پڑ جائے گا۔

اس سلسلے میں چند قیادتوں سے ہماری ملاقات ہوئی اور ان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جی بی آئینی حصہ بنے تو بھی اس سے نہ فقط کشمیر کاز کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف مضبوط تر ہو جائے گا۔ گلگت بلتستان کے انضمام کے بعد کشمیر کے انضمام بھی عمل میں آ سکتا ہے۔ اب کشمیر کی قیادتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے آواز بلند کریں۔ ستر سالوں سے محروم اس خطے کے کسی بھی ایشو پر کشمیر کی قیادتوں نے کبھی آواز بلند نہیں کی۔ اب جی بی کو حقوق ملنے جا رہے ہیں تو اس کے مخالف کسی طور مناسب نہیں۔ چند سیاسی رہنماوں کی وجہ سے جی بی کے عوام اور کشمیر کے عوام کے درمیان بھی فاصلہ پیدا ہونے سے ملکی مفاد کا نقصان ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہوشیاری کے ساتھ بات کرنی چاہیئے۔ پہلے کی طرح آج بھی کشمیر کے عوام کو پاکستان جس طرح کے سیٹ اپ دے یا پاکستان کا پانچواں صوبہ بھی ڈیکلیئر کرے تو ہم مخالفت نہیں کریں گے۔

سوال:گلگت بلتستان کے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے اور یہ بات سامنے آرہی ہے کہ عبوری صوبہ نہیں دیا جائیگا جبکہ ریفامز کے نام پر کوئی سیٹ اپ دیا جائیگا، جسکے بعد اگر اسکی مخالفت کی گئی تو توہین عدالت سمجھے جانے کا امکان ہے، ایسے میں آپکی جماعت جی بی کے آئینی حقوق کی جنگ کیسے لڑیگی۔؟
آغا علی رضوی: سب سے پہلے تو چیف جسٹس آف پاکستان کے شکرگزار ہیں کہ جنہوں نے خود اس علاقے کا دورہ کرکے یہاں کی حب الوطنی کو تسلیم کیا اور خطے کی محرومی کو ختم کرنے کے لئے ایکشن لیا۔ انہوں نے عوام کی امنگوں کیمطابق جی بی کو حیثیت دینے، محرومیوں سے نکالنے کے لئے کردار ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ اس وعدے پر جی بی کے عوام کی نگاہیں سپریم کورٹ کی طرف جمی ہوئی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے فیصلے میں گلگت بلتستان کو باقاعدہ قومی دھارے میں شامل کر کے خطے کو محرومی اور مایوسی سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ ساتھ ہی یہ عرض کرتا چلوں کہ اگر یہ فیصلہ عوامی امنگوں کے برخلاف آئے اور عوام اس خطے کو پاکستان کا آئینی حصہ بنانے کے لئے کرنے والی ہر جدوجہد نہ صرف توہین عدالت نہیں ہوگی بلکہ نظریہ پاکستان کے عین مطابق اور آئینی عمل ہوگا۔

میں یہ واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ خطے کو مستقبل میں پاکستان کا مکمل آئینی حصہ بننا ہے، جس کے لئے جدوجہد ہمیشہ جاری رہے گی۔ اگر پاکستان خود گلگت بلتستان کو آئینی تحفظ نہ دے تو جی بی میں بننے والے بڑے منصوبوں پر عالمی طاقتوں کا موقف مضبوط ہو جائے گا اور ملک کا بڑا نقصان ہوگا۔ ایک متنازعہ خطے پر بین الاقومی سطح کے منصوبے یا معاہدے کے خلاف عالمی طاقتیں بالخصوص امریکہ اور انڈیا آواز بلند کرسکتا ہے۔ اس لئے ہمارا رونا یہ ہے کہ ان خطوں کو محرومیوں سے نکالنے عالمی دباؤ سے آزاد کرانے اور پاکستان کے استحکام کے لئے آئینی دھارے میں شامل کیا جائے۔

سوال: ایک طرف آپ صوبائی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہیں اور آپکی جماعت مسلم لیگ نون کی سخت مخالف ہے تو دوسری طرف انکے رہنماؤں اور حکومتی شخصیات سے روابط کا نیا سلسلہ چل پڑا ہے، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔؟
آغا علی رضوی: دیکھیں! کسی بھی سیاسی جماعت سے مخالفت اصولوں اور نظریاتی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کی بات کریں تو گلگت بلتستان میں انکی حکومت پر سب سے زیادہ تنقید ہم نے ہی کی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ انکی انتقامی سیاست، عوام دشمن فیصلے اور غیر جمہوری رویئے ہیں۔ جیسے جی بی کے محروم و مجبور عوام پر ٹیکس کا پہاڑ توڑنے کی کوشش کی، اسی طرح آرڈر 2018ء جو کہ ایف سی آز طرز کا آمرانہ حکم نامہ تھا، اس کے نفاذ کی کوشش کی، یہاں کی عوامی زمینوں پر ناجائز قبضے کی کوشش کی، عوامی فنڈز اور منصوبوں کی غیر منصفانہ تقسیم کی۔ ان وجوہات کی بنا پر اصولی طور پر ہم اب بھی مخالف ہیں اور مخالفت کرتے رہیں گے۔ تاہم جیاں تک ان سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی بات ہے تو میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مخالفت کے باوجود حفیظ الرحمٰن جی بی کا ایک فرد ہے اور جی بی کے عوام کے حقوق کے لئے اور محرومیوں سے نکالنے کیلئے کسی بھی فرد سے ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔

اس سلسلے میں جی بی سے مربوط ہر فرد کو ساتھ لے کر ہی ہم جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔ ستر سالوں سے ہماری محرومی کی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم سیاسی، مذہبی، مسلکی، علاقائی اور لسانی تقسیمات میں پڑے رہے جس کی وجہ سے ہمیں حقوق نہیں ملے۔ اب ایک تاریخی موڑ آرہا ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام جماعتوں کو مل کر جی بی کے حقوق کے لئے ایک آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی سلسلے میں ہم نے تمام جماعتوں اور ہر طرح کی شخصیات سے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایک بیانیے پر سب کو لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سوال:گلگت بلتستان کے عوام ایک طرف حب الوطنی کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو دوسری طرف حقوق کے نہ ملنے کا رونا روتے ہیں، حالانکہ پاکستان کے دوسرے صوبوں کی نسبت گلگت بلتستان کی صورتحال بہت بہتر ہے، ایسے میں خاموش رہنا کیا حب الوطنی کے جذبے کے عین مطابق نہیں۔؟
آغا علی رضوی: پاکستان آرمی کے گلگت بلتستان کے سربراہ ہی کے جملے کو لے لیں تو بات واضح طور پر سمجھ میں آ جائے گی۔ ایف سی این اے جنرل جو کہ نہایت عوام دوست اور خطے سے ہمدردی رکھنے والے انسان ہیں، انہوں نے کئی فورمز پہ یہ آواز بلند کی ہے جو ہم کئی عشروں سے بلند کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کا پاکستان سے سر دھڑ کا رشتہ ہے۔ یعنی جی بی کو پاکستان کے وجود میں سر کی حیثیت حاصل ہے۔ جب سر ہی جھکا ہوا ہو تو کیسے وجود کے رتبے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا سر بلند سے بلند تر ہو، اس کے لئے جی بی کی تعمیر و ترقی ضروری ہے۔ جی بی کی ترقی اور تشخص نہ صرف جی بی کی ترقی ہے بلکہ پاکستان کے استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ جی بی کی دفاعی اہمیت، جغرافیائی اہمیت اور تاریخی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن منصوبہ سی پیک کا ایک بڑا حصہ اس خطے سے گزر رہا ہے، جس پر دشمن کی نگاہیں بھی جمی ہوئی ہے۔

اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم جیسا اہم منصوبہ بھی اس علاقے میں تکمیل ہورہا ہے۔ آپ کو عرض کرتا چلوں کہ اگر جی بی پر توجہ دی جائے تو بڑی آسانی کے ساتھ ملک کے توانائی کے بحران کا حل بھی اسی خطے سے نکل سکتا ہے، جبکہ منفی طاقتیں چاہتی ہیں کہ کسی طرح نظریاتی یا سیاسی اعتبار سے یہ خطہ پاکستان سے دور ہو، لہٰذا ہم یہ جدوجہد کر رہے ہیں اور ان قوتوں سے بھی مقابلہ کرتے ہیں جو منفی پروپیگنڈوں کے ذریعے عوام میں مایوسی پھیلا رہے۔ ان سب کا واحد حل یہی ہے کہ اسکو شناخت دی جائے ساتھ میں اس خطے کو اتنا مضبوط کیا جائے کہ جس کے نتیجے میں پاکستان مضبوط سے مضبوط تر ہو۔ رہی بات دوسرے علاقوں سے موازنے کی تو میں آپ سے ایک مختصر سوال کرنا چاہتا ہوں کہ قومی کی ترقی کا انحصار سب سے زیادہ تعلیم پر ہوتا ہے، آپ بتائیں کہ اس خطے میں کتنی یونیورسٹیاں ہیں جو ہائیرایجوکیشن کمیشن کے معیار کے مطابق پہلی پچاس یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہو، کتنے میڈیکل کالجز ہیں، کتنے انجینئرنگ کالجز ہیں، کتنے ٹیکنیل کالجز ہیں، کتنی زرعی یونیورسٹیاں ہیں۔ اسی موازنے کے بعد آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کیوں ہم حقوق کی بات کرتے ہیں۔

وحدت نیوز (سکردو) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نئے سال کو خوشحال سال قرار دینے کے لیے تمام ریاستی اداروں کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مقننہ، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام مل کر جدوجہد کرے اور اپنے اپنے دائرے میں مثبت کردار ادا کرے تو پاکستان ہر طرح کے مسائل سے نکل سکتا ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ وطن عزیز ترقی، استحکام اور پیشرفت کی طرف گامزن ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی آزاد و خودمختار اور نظریہ پاکستان کے تحت ترتیب دی جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ تبدیلی والے پاکستان میں گلگت بلتستان کے عوام کی نظریں بھی عدالت اور موجودہ حکومت پر ہے۔ ستر سالوں سے یہاں کے عوام آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ گلگت بلتستان کو عوامی امنگوں کے مطابق حقوق دئیے جائیں۔ گلگت بلتستان کی ترقی و استحکام پاکستان کی ترقی و استحکام کا ضامن ہے۔ یہاں کے وسائل سے پورے ملک کا معاشی بحران ختم ہوسکتا ہے، لیکن اس خطے پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے عوام نہایت کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ موجودہ حکومت سے عوام کی بڑی توقعات ہیں انہیں چاہیے کہ عوامی مسائل کے حل اور خطے کو محرومی سے نکالنے کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دلانے اور محرومیوں سے نکالنے کیلئے جی بی اسمبلی سمیت کوئی بھی آگے بڑھے ہم انکے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

Page 1 of 11

مجلس وحدت مسلمین پاکستان

مجلس وحدت مسلمین پاکستان ایک سیاسی و مذہبی جماعت ہے جسکا اولین مقصد دین کا احیاء اور مملکت خدادادِ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے عملی کوشش کرنا ہے، اسلامی حکومت کے قیام کے لیے عملی جدوجہد، مختلف ادیان، مذاہب و مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا فروغ، تعلیمات ِقرآن اور محمد وآل محمدعلیہم السلام کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کے ذکر و افکارکا فروغ اوراس کاتحفظ اورامر با لمعروف اور نہی عن المنکرکا احیاء ہمارا نصب العین ہے 


MWM Pakistan Flag

We use cookies to improve our website. Cookies used for the essential operation of this site have already been set. For more information visit our Cookie policy. I accept cookies from this site. Agree